علم و تحقیق کا المیہ - جاوید احمد غامدی

علم و تحقیق کا المیہ

 

اس معاشرے میں ہر چیزگوارا کی جاتی ہے، لیکن علم و تحقیق کا وجودکسی حال میں گوارا نہیں کیا جاتا۔ لوگ بے معنی باتوں پر داددیتے، خرافات پر تحسین و آفرین کے نعرے بلند کرتے، جہالت کے گلے میں ہار ڈالتے اور حماقت کی راہ میں آنکھیں بچھاتے ہیں، مگر کسی علمی دریافت اور تحقیقی کارنامے کے لیے، بالخصوص اگر وہ دین سے متعلق ہو تو ان کے پاس اینٹ پتھر کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا۔
یہاں سب سے بڑا مرض عامیانہ تقلید کا مرض ہے۔ ہر وہ چیز جسے لوگوں نے اختیار کیا ہوا ہے؛ جو پہلے سے چلی آ رہی ہے؛ جس سے لوگوں کے جذبات وابستہ ہیں؛ جو ان کی شناخت بن گئی ہے؛ جو اب ان کے لیے ایک روایت کی حیثیت رکھتی ہے، وہ اگرچہ کتنی ہی غلط کیوں نہ ہو اور اس نے حقیقت کا چہرہ کتنا ہی مسخ کیوں نہ کر دیا ہو اور وہ اللہ کے کسی صریح حکم اور اس کے رسول کی کسی واضح سنت کے خلاف ہی کیوں نہ ہو، لوگ اس پر کوئی تنقید سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ انھیں اس بات سے کوئی دل چسپی نہیں ہوتی کہ کہنے والے نے اپنے نقطۂ نظر کے حق میں دلیل کیا پیش کی ہے۔ ان کی ساری تگ و دو کا محور صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح اپنی اس روایت کو بچانے میں کامیاب ہو جائیں۔ چنانچہ وہ تنقید کرنے والے کے دلائل سے گریز کر کے، اس کے کلام میں تحریف کر کے، اس کے مدعا کو تبدیل کر کے، اس کی شخصیت کو مجروح کر کے، اس کا مذاق اڑا کر، غرض یہ کہ ہر طریقے سے حق کو باطل اور باطل کو حق بنا دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس معاملے میں سب سے برا رویہ ان لوگوں کا ہوتا ہے جو بس شدبد علم کی بنا پر مذہبی پیشواؤں کی صف میں شامل ہونا چاہتے ہیں اور اپنے آپ کو ان سے زیادہ ان کے عقائد و نظریات کا محافظ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص اخنس بن شریق کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ وہ اصلاً قبیلۂ ثقیف سے تعلق رکھتا تھا، لیکن اس بات کا مدعی تھا کہ وہ بنی زہرہ میں سے ہے۔ چنانچہ جاہلی روایات کی حفاظت میں وہ ان لوگوں سے کہیں زیادہ سرگرم ہوا جو خود ان روایات کے امین تھے۔
اس طرح کے لوگ چونکہ احساس کہتری کے مریض اور خوداعتمادی سے محروم ہوتے ہیں، اس وجہ سے دوسرے مذہبی پیشوا اگر کسی رائے کو غلط کہیں تو یہ اسے گمراہی کہتے ہیں، وہ اسے گمراہی قرار دیں تو یہ اسے فتنہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انھیں اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ حق کیا ہے اور باطل کیا؟ وہ جہاں جاتے، جو کچھ پڑھتے اور جس سے ملتے ہیں، اپنی شخصیت کی تعمیر کے لیے کچھ مسالہ تلاش کرنے اور اپنی سیادت کے لیے کوئی راستہ ڈھونڈنے کے سوا انھیں کسی چیز سے دل چسپی نہیں ہوتی۔ وہ بحث میں بھی علمی محاکمے کا طریقہ اختیار نہیں کرتے، بلکہ اپنا سارا زور لینا، پکڑنا، جانے نہ دینا کی قسم کے نعرے بلند کر کے مذہبی پیشواؤں کو اس بات کی طرف متوجہ کرنے پر صرف کرتے ہیں کہ علم و تحقیق کی ہر شمع جس قدر جلد ممکن ہو بجھا دی جائے۔ وہ اگر زندگی کے کسی مرحلے میں کبھی کسی ایسے شخص کی صحبت میں چند دن گزار لینے کی غلطی کر بیٹھتے ہیں جو یوحنا بپتسمہ دینے والے کی طرح اونٹ کے بالوں کا لباس پہنتا، ٹڈیاں اور جنگلی شہد کھاتا اور بادشاہوں کی طرح کلام کرتا ہے تو باقی زندگی اس تشویش میں گزار دیتے ہیں کہ لوگ کہیں انھیں بھی اس مرد حر کا ہم نوا نہ سمجھ لیں۔ وہ ہر دوسرے تیسرے دن ایک برأت نامہ شائع کرتے ہیں کہ لوگو، آگاہ رہو۔ میں اگرچہ کبھی مسیح کا ساتھی تھا، لیکن اب تم اسے صلیب دینا چاہتے ہو تو وہ جو مرغ کے دوبار اذان دینے سے پہلے تین مرتبہ اس کا انکار کرے گا، وہ میں ہی ہوں۔
ان کی شخصیت ایک عجیب مجموعۂ تضادات ہوتی ہے۔ وہ اپنے پیرووں کے سامنے بڑی شان کے ساتھ دعویٰ کرتے ہیں کہ انھوں نے جو رائے قائم کی ہے، دلیل کی بنا پر قائم کی ہے۔ چنانچہ کوئی شخص اگر دلیل سے ان کی رائے کو غلط ثابت کر دے گا تو وہ بغیر کسی تردد کے اپنی غلطی ماننے کے لیے تیار ہوں گے، لیکن جب کوئی شخص ان کے نقطۂ نظر کے خلاف برہان قاطع لے کر ان کے سامنے آ جاتا ہے تو بے تکلف فرماتے ہیں: میاں، دلیل کی حیثیت تو بس ایک لونڈی کی ہے جس سے جو خدمت لینا چاہو گے، وہ بجا لائے گی۔ اصلی تبدیلی تو دل کی تبدیلی ہے، اور اس کی بارگاہ میں دلیل کی کیا حیثیت ؟ وہ لوگوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ بغیر کسی تعصب کے ان کی بات سنیں، لیکن جب ان کا کوئی پیرو بغیر کسی تعصب کے دوسرے کی بات سننا چاہتا ہے تو ان کا غضب لاوے کی طرح ابلتا اور خود ان کے وجود کی ساری غلاظتوں کو ان کے سامنے ڈھیر کر دیتا ہے۔ وہ دوسروں کو درس دیتے ہیں کہ برے گمانوں سے بچو اور کان لگانے اور ٹوہ میں رہنے سے احتراز کرو، لیکن اپنے کسی مخالف کی کردار کشی کے لیے انھیں اگر کسی تنکے کا سہارا ملنے کی بھی توقع ہو تو وہ اس کے لیے ہر پتھر کو الٹنے اور ہر وادی کو قطع کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔
لیکن اس پر شکایت کا کیا محل؟ اس معاشرے میں جہاں صدیوں سے تحقیق و اجتہاد کی حیثیت ایک شجرممنوعہ کی رہی ہے؛ جہاں وہ لوگ بھی جو بظاہر اہل دین اور ارباب دانش سمجھے جاتے ہیں، علم کے جواب میں جہالت اور استدلال کے جواب میں ابتذال کی روش اختیار کرتے ہیں؛ جہاں بات کو سننے اور سمجھنے کے بجائے قائل کا نفسیاتی تجزیہ کرنے سے لوگوں کو زیادہ دل چسپی ہوتی ہے؛ جہاں ہر وہ چیز جس پر دوچار صدیاں گزر جائیں، مقدس ہو جاتی ہے؛ جہاں صحیح اور غلط کا معیار بالعموم لوگوں میں پذیرائی ہوتا ہے، وہاں اس سے بہتر کسی رویے کی توقع آخر کی ہی کیوں جائے؟
تاریخ گواہی دیتی ہے کہ دنیا کی بڑی بڑی حقیقتیں بالعموم اسی طرح کے ماحول میں مرسح عالم پر نمودار ہوئی ہیں۔ یہ رویے نہ یوحنا و مسیح کی دعوت میں سد راہ بن سکے، نہ ابن حزم اور ابن تیمیہ سے ان کا مقام چھین سکے، نہ سقراط کی حکمت سے دنیا کو محروم کر سکے، نہ کوپرنیکس اور گلیلیو کی دریافتوں کو چھپانے میں کامیاب ہو سکے۔ علم و تحقیق کی شمع ہمیشہ اسی طرح روشن رہی ہے اور آنے والے زمانوں میں بھی، اگر اللہ نے چاہا تو اسی طرح روشن رہے گی۔

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت ستمبر 2006
مصنف : جاوید احمد غامدی
Uploaded on : Jan 11, 2017
1008 View

Leave a comment