حضرت ابوہریرہ کی روایت حدیث اور حضرت عمر - امین احسن اصلاحی

حضرت ابوہریرہ کی روایت حدیث اور حضرت عمر

 

سوال: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا وہ واقعہ جس میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انھیں ایک چپت رسید کی تھی، یہ ظاہر کرتا ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کچھ محتاط آدمی نہیں تھے۔ اس کے باوجود ان سے اس قدر احادیث کیوں مروی ہیں؟
جواب: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جو تنبیہ فرمائی، اس سے آپ نے جو نتیجہ نکالا ہے، وہ میرے نزدیک صحیح نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ایک آدمی بڑا ہی محتاط ہو، لیکن اس کے باوجود اس سے کوئی غفلت ایسی ہو جائے جس کی بنا پر وہ تنبیہ کا سزاوار قرار پائے۔ اسی طرح اس بات کا بھی امکان ہے کہ جس بات پر اس کو تنبیہ کی گئی ہے، اس میں وہ حق بجانب ہو، لیکن کسی غلط فہمی یا شدت احتیاط کی بنا پر اس کو تنبیہ کی گئی ہو۔
میں تو آپ کے بالکل برعکس اس واقعہ سے روایت و حفاظت حدیث کے بارے میں دو نہایت اہم حقائق تک پہنچا ہوں:
ایک تو یہ کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جس طرح امت کے سارے ہی معاملات میں نہایت محتاط اور بیدار مغز تھے، اسی طرح احادیث کی حفاظت و صیانت کے معاملے میں بھی وہ نہایت بیدار مغز اور محتاط تھے۔ ان کی شدت احتیاط کا یہ عالم تھا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جیسے صحبت یافتۂ نبی شخص کی کسی روایت پر بھی جب انھیں ذرا شک گزر گیا ہے تو ان کو تنبیہ کرنے سے بھی وہ باز نہیں رہے ہیں۔ ایک ایسے بیدار مغز اور محتاط شخص کے متعلق یہ گمان کس طرح کیا جا سکتا ہے کہ وہ اس معاملہ میں کسی کو بھی بخش سکتا ہے۔ اول تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے رعب و دبدبہ کے ہوتے کسی کو ان کے زمانہ میں یہ جرأت ہی نہیں ہو سکتی تھی کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی غلط بات منسوب کرے، لیکن اگر کوئی ایسی جرأت کر بیٹھتا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کی خبر لیے بغیر کب رہتے۔ ظاہر ہے کہ احادیث کا بیش تر حصہ اسی دور میں نقل و روایت میں آ کر اہل علم کے حلقوں تک پہنچ گیا ہے۔ اس محتاط دور کی روایات کے متعلق کون یہ گمان کر سکتا ہے کہ یہ عجمی سازشوں کے نتیجہ کے طور پر ظہور میں آ گئی ہیں۔
دوسری حقیقت یہ واضح ہوتی ہے کہ حضرت ابوہریرہ بڑے ہی صاحب کردار، بڑے ہی صاحب اعتماد اور نہایت ہی ذمہ دار راوی ہیں۔ اگر وہ کوئی ایسے ویسے راوی ہوتے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ایک ہی ڈانٹ کے بعد ان کا حوصلہ پست ہو جاتا اور وہ روایت حدیث کا نام بھی نہ لیتے۔ لیکن آپ جانتے ہیں کہ انھوں نے پورے تسلسل کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے لے کر بنی امیہ کے ابتدائی دور تک اس خدمت دین کو جاری رکھا اور ایک لمحہ کے لیے بھی اپنے کام میں سست نہیں پڑے۔ اپنے کام میں یہ استقامت اور وہ بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے بیدارمغز اور سخت گیر خلیفہ کے دور میں وہی شخص دکھا سکتا ہے جسے اپنے کام پر پورا پورا اعتماد ہو، یہاں تک کہ وہ اپنی ہر روایت حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے نقاد کی کسوٹی پر پرکھوانے کے لیے بھی ہر وقت تیار ہو۔ ایک عام راوی جو بے سوچے سمجھے روایت کرنے کا عادی ہو، یہ اخلاقی جرأت نہیں دکھا سکتا تھا کہ ایسے شدید نقادوں کے سامنے بالکل بے جھجک اپنی روایت پیش کر سکے۔ یہ وہی شخص کر سکتا ہے جسے اپنے علم و حافظہ پر بھی اعتماد ہو، اپنی سچائی پر بھی اعتماد ہو اور ساتھ ہی وہ علم نبی سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو بھی اچھی طرح سمجھتا ہو۔
(تفہیم دین ۷۵)

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت مارچ 2015
مصنف : امین احسن اصلاحی
Uploaded on : Aug 11, 2017
725 View