آج کا دور کیا ہے؟ - ابو یحییٰ

آج کا دور کیا ہے؟

 

تاریخ بتاتی ہے کہ یہ پیش گوئی حرف بحرف پوری ہوئی اور موجودہ دور میں تو دنیا پرستی کا یہ فتنہ اپنی انتہا پر پہنچ گیا ہے۔ عصر حاضر میں مال و دنیا بلاشبہ سب سے بڑی قدر بن چکے ہیں۔ مذہب اور اہل مذہب لوگوں کو اس فتنہ سے کیا بچاتے وہ خود اس کی لپیٹ میں آ گئے۔ آخرت کی زندگی کا وہ تصور جسے لوگوں تک پہنچانے کے لیے تمام نبی آئے اور دو عظیم امتیں اٹھائی گئیں، تمام انسانی معاشروں بالخصوص مسلمانوں کے اندر سے رخصت ہو چکا ہے۔
اس صورتحال کا آغاز یورپ میں نشاۃ ثانیہ کے عمل سے ہوا۔ چرچ کے جبر اور انتہا پسندانہ رویے کے خلاف جو ردعمل ہوا اس کے نتیجے میں نہ صرف معاشرے پر اہل مذہب کی گرفت ختم ہوگئی بلکہ خود مذہب اور مذہبی تصورات پر سوالات اٹھائے جانے لگے۔ خدا، آخرت اور وحی جیسے بنیادی اور معقول مذہبی تصورات اسی طرح معاشرے میں غیر سائنسی قرار پائے جس طرح یہ عقیدہ سائنسی بنیادوں پر رد کیا گیا کہ زمین کائنات کا مرکز ہے۔
دوسری طرف مغربی معاشروں میں فکر و عمل کی حریت، فرد کی آزادی اور ذوق حسن و جمال کا چلن عام ہوگیا۔ اس کے ساتھ صنعتی دور میں سائنسی ایجادات کی کثرت نے زندگی کوبیحد تیز، آسان اور خوبصورت بنادیا۔ ریل، کار، بجلی، ٹیلیفون، سینیما اور ان جیسی دیگر ایجادات نے اُس دور کے انسان کو اپنا اسیر بنا لیا۔ اسے یقین ہوگیا کہ حقیقت وہ نہیں جو مذہب ہمارے سامنے رکھتا ہے بلکہ حقیقت صرف وہ ہے جو دنیا کی رنگینیوں کی صورت میں ہمیں نظر آ رہی ہے۔ اس نے محسوس کیا کہ سائنس اس کے ہر مسئلہ کو حل اور ہر مشکل کو دور کر سکتی ہے۔ وہ ناقابلِ علاج امراض میں شفا بن سکتی ہے۔ سردی کو گرمی اور گرمی کو سردی میں بدل سکتی ہے۔ اندھیرے کو روشنی اور غربت کو امارت میں تبدیل کر سکتی ہے۔ فاصلوں کو گھٹا سکتی اور انسانی قوت کو بڑھا سکتی ہے۔ غرض سائنس نے انسان کی ان تمام کمزوریوں کو دور کر دیا ہے جن کی بنا پر اسے مذہب کی ضرورت پڑتی تھی۔ مذہب توہم پرستی کے سوا کچھ نہیں جو زمانۂ قدیم کے ناواقف انسان نے اپنے دکھوں کی دوا کے طور پر ایجاد کر لیا تھا۔
ان حالات میں جب مذہب، خدا اور آخرت جیسے تصورات اپنی معنویت کھو چکے اور دنیا بہت رنگین و دلکش ہوگئی تو کیسے ممکن تھا کہ مغرب کا انسان دنیا پرست نہ بنتا۔ انیسویں صدی کا یہ دنیا پرست مغربی انسان صرف یورپ تک محدود نہ تھا بلکہ اپنی سائنسی برتری کے بل بوتے پر پوری دنیا کا حاکم بھی بن چکا تھا۔ چنانچہ حاکموں کے اثرات محکوم اقوام پر پڑنے لگے۔ تاہم متعدد وجوہات کی بنا پر دنیا پرستی کی یہ یلغار مدھم پڑ گئی۔ جن میں مشرقی معاشروں کی روایت پسندی، ایک ایک فرد تک پہنچ کر اس کے ذہن کو مسخر کرنے والے میڈیا کی عدم موجودگی، دو عالمی جنگوں کے بعد مغربی قوت کی کمزوری، بیسویں صدی کی سائنسی دریافتوں کا اثباتِ مذہب وغیرہ نمایاں ہیں۔
اس عرصہ میں انکار مذہب سے متعلق اہل مغرب کی سوچ تو نہ بدلی مگر اس میں ایک بنیادی تبدیلی آ گئی۔ دراصل مغربی معاشروں میں پیدا ہونے والے بعض مسائل خصوصاََ دو جنگوں کی تباہ کاریوں نے مغربی انسان کے سائنس پر اعتقاد کو کمزور اور مذہب کی اہمیت و ضرورت کو اجاگر کر دیا۔ خود جدید سائنسی دریافتیں مذہبی تصورات کے حق میں دلائل فراہم کررہی تھیں۔ پھر مذہب مخالف سوویت یونین سے مقابلہ کرنے اور کمیونزم کا زور توڑنے کے لیے مغربی اقوام نے مذہب کے فروغ میں ہی عافیت محسوس کی۔ چنانچہ بیسویں صدی کے نصف آخر میں مذہب سے متعلق ان کا نقطۂ نظر بہت سخت نہ رہا۔ وہ اس کی آسمانی حیثیت تسلیم کرنے پر تو تیار نہ تھے البتہ انہوں نے اسے معاشرتی زندگی کا ایک ناگزیر اور مفید جز مان لیا۔
چنانچہ عبادت گاہیں بننے لگیں لوگ بڑی تعداد میں مذہب سے دوبارہ وابستہ ہونے لگے۔ اہل مذہب کو معاشرے میں اہم مقام حاصل ہونا شروع ہوا۔ مقتدر طبقات مذہب کی اہمیت تسلیم کرنے لگے۔ لیکن مذہب کا یہ فروغ محض ایک ثقافتی مظہر کے طور پر تھا۔ مذہب کا اصلی مقصد یعنی آخرت کی کامیابی اس نئے دور میں بالکل بھی پیشِ نظر نہ تھا۔ چنانچہ مقصدِ زندگی دنیا پرستی ہی رہا اور مذہب بھی ایک اچھی دنیوی زندگی کا حصہ بن گیا۔ جس کا مقصد یہ تھا کہ جدید انسان جب مادی تفریحات سے اکتا جائے تواس کے لیے ایک روحانی تفریح بھی ہونی چاہیے۔ جن انسانوں کو مادی لذتوں میں سکون نہیں ملتا انہیں مذہب کی غیر مادی دنیا میں ایک جائے پناہ مل جائے۔ چنانچہ مغربی تہذیب میں فلم، موسیقی، سیر و تفریح، جنس اور شراب کی طرح مذہب بھی سکون حاصل کرنے کا ذریعہ بن گیا۔ اس طرح دنیا پرستی کے خلاف یہ آخری ڈھال بھی باقی نہ رہی۔

________

 
بشکریہ: ریحان احمد یوسفی

مصنف : ابو یحییٰ
Uploaded on : Feb 12, 2016
654 View