شیعہ سنی فسادات کا مسئلہ - امین احسن اصلاحی

شیعہ سنی فسادات کا مسئلہ

  

شیعہ اور سنیوں میں محرم کے موقع پر جو فسادات ہوئے ہیں، ان سے ایک صاحب فہم کے لیے یہ اندازہ کر لینا کچھ مشکل نہیں رہا ہے کہ اگر ہمارے ارباب حل و عقد فساد کے حقیقی اسباب کا پتا لگانے میں ناکام رہے اور صرف اوپر کی لیپ پوت یا صرف فوج اور پولیس کے ذریعہ سے انھوں نے آیندہ کے خطرات کے سدباب کی امید باندھ لی تو یہ ایک ایسی غلطی ہو گی جس کی تلافی پھر کسی بھی دوسرے طریقہ سے نہ ہو سکے گی۔ یہ حقیقت واضح ہو چکی ہے کہ ان فسادات کے اسباب نہ تو سرسری ہیں، نہ وقتی، نہ محدود، بلکہ ان کے اثرات بہت دور تک پھیلے ہوئے ہیں اور یہ بڑے زوردار ہیں۔ اس وجہ سے حکومت کا فرض ہے کہ حالات کے مزید پیچیدہ ہونے سے پہلے پہلے اس معاملہ میں نہایت حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرے اور وقتی سکون سے کسی غلط فہمی میں پڑے بغیر صورت حال کا وہ علاج اختیار کرے جو اس کا مستقل اور پایدار علاج ہے۔
اگر فسادات کی مذمت اور رواداری کی مدح و منقبت سے صورت حال کی اصلاح کی کوئی امید ہوتی تو ہم بھی اس خدمت کو بڑے شوق سے انجام دے دیتے، لیکن ہم جانتے ہیں کہ اب معاملہ لفظی مدح و ذم کے حدود سے بہت آگے نکل گیا ہے اور حکومت کی تدبیر و تدبر کا محتاج ہے، اس وجہ سے ہم حکومت ہی سے کہتے ہیں کہ وہ اپنے فرض کو پہچانے اور اس کو ادا کرے۔ جہاں تک رواداری کے مبہم وعظ کا تعلق ہے، وہ اگر ہم کہیں بھی تو ہم نہیں جانتے کہ اس سے کس کو فائدہ پہنچے گا۔ ہماری آواز اگر کچھ پہنچ سکتی ہے تو سنیوں ہی تک پہنچ سکتی ہے اور وہ شاید ہمارے اس وعظ کے محتاج نہیں ہیں۔ جہاں تک اہل بیت کی عقیدت و محبت کا تعلق ہے، یہ چیز ان کے ایمان و عقیدے کا جزو ہے۔ اس کو بتانے اور سکھانے کی ان کو ضرورت نہیں ہے، بلکہ اس معاملہ میں تو وہ دوسروں کی دیکھا دیکھی اس کے شرعی حدود سے آگے بڑھ کر بدعت اور غلو کے حدود میں داخل ہو چکے ہیں۔ آج تعزیوں کے جلوسوں اور عزا کی مجالس کی رونق بڑھانے میں سنیوں کے عوام تو درکنار ان کے علما تک حصہ لیتے ہیں اور دانستہ یا نا دانستہ ان صحابہ رضی اللہ عنہم پر یہ تبرّا کے بھی مرتکب ہوتے ہیں جنھوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا ساتھ نہیں دیا۔ پڑھے لکھے، بلکہ علم دین کے دعوے دار سنیوں تک کا حال یہ ہے کہ وہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بے تکلف امام حسین علیہ السلام لکھتے اور کہتے ہیں، حالاں کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے لیے امام کا لقب خالص شیعی تصور کا حامل ہے جس کے جواز کی اہل سنت کے ہاں کوئی گنجایش نہیں۔ اسی طرح علیہ السلام کا لفظ بھی صرف انبیا کے لیے مخصوص ہے، لیکن سنی حضرات اس کو بے تکلف حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے لیے لکھتے اور بولتے ہیں۔ تاریخ کے معاملہ میں بھی اہل سنت کے بہت سے علما تک پر محض اہل بیت کی عقیدت کے تحت شیعی نقطۂ نظر اس قدر غالب ہے کہ جن حقیقت شناسوں نے ان کی اس غلطی کی اصلاح کی کوشش کی، ان پر ان سنی حضرات ہی نے فوراً ناصبیت کا فتویٰ جڑ دیا۔ ایسے حالات میں سنیوں کے سامنے اگر ہم رواداری کا مزید وعظ کہیں تو یہ چیز تحصیل حاصل ہی ہو گی۔ رہا شیعہ حضرات کا معاملہ تو ان سے ہم کچھ کہنے کے پوزیشن میں نہیں ہیں، البتہ حکومت کے سامنے یہ ظاہر کرنا ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ سنیوں کے جذبات حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور دوسرے صحابہ و صحابیات اور ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم اجمعین کے معاملہ میں حددرجہ نازک ہیں، وہ ان بزرگوں کو مسلم طور پر اپنے لیے نمونۂ ہدایت اور ان کی محبت کو ذریعۂ نجات سمجھتے ہیں۔ بالخصوص حضرات شیخین رضی اللہ عنہما تو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ملت اسلامیہ کے دو ایسے ستون ہیں جن کے اوپر ہمارے نزدیک بناے ملت قائم ہے۔ اس وجہ سے کسی باایمان سنی کے لیے ان کی کسی قسم کی توہین برداشت کر سکنا ناممکن ہے اور اس معاملہ میں کسی قسم کی رواداری برتنا کفر و نفاق ہے۔ اس حقیقت کے پیش نظر شیعہ سنی فسادات کے سدباب کے لیے سب سے زیادہ ضروری چیز یہ ہے کہ ان بزرگوں کی توہین کے تمام امکانات کا حتمی طور پر سدباب کر دیا جائے۔ یہ ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ہمارے اس مطالبہ کا تعلق حضرات شیعہ کی نجی مجالس و محافل سے نہیں ہے۔ وہ اپنی نجی مجالس میں جو چاہیں کریں اور کہیں، لیکن پبلک میں اس قسم کی کسی حرکت کی گنجایش کسی کے لیے بھی نہیں ہونی چاہیے۔
یہ ظاہر کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے کہ ہمارے یہی جذبات حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا، حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور تمام اہل بیت رضی اللہ عنہم اجمعین کے لیے بھی ہیں۔ ان کی محبت بھی ہمارے لیے جزوایمان ہے۔ ہم ان کی محبت کے غیرمشروط طور پر پابند ہیں۔ شیعہ حضرات کا رویہ حضرات شیخین اور دوسرے صحابہ کے معاملہ میں خواہ کچھ ہی رہے ہمارا رویہ اہل بیت رسالت کے معاملہ میں کبھی بدل نہیں سکتا۔ اگر ہمارے سینے ان کی محبت سے خالی ہو جائیں تو یہ ایمان سے خالی ہو جانا ہو گا۔ ہر سنی اس معاملہ کی نزاکت کو اچھی طرح سمجھتا ہے، اس وجہ سے اس کا سوال ہی نہیں پیدا ہو تا کہ کسی اشتعال انگیز سے اشتعال انگیز موقع پر بھی کوئی سنی اہل بیت اطہار کی شان میں کوئی نازیبا کلمہ کہہ سکے۔ کہہ سکنا تو درکنار اس کا تصور بھی کر سکے، خلوت ہو یا جلوت۔
ہمارے نزدیک اصل بنیادی مسئلہ یہی ہے جس کا حل سوچنا ہے۔ اور یہ کام اب حکومت ہی کے کرنے کا ہے۔ عملاً اس کے لیے کیا تدابیر اختیار کی جا سکتی ہیں یا کرنی چاہییں، اس بارے میں ہم اپنی طرف سے کوئی مشورہ دینا نہیں چاہتے۔ اس سلسلہ میں بعض مفید اور معقول تجویزیں اخبارات میں آئی ہیں، وہ حکومت کے علم میں ہیں۔ حکومت اگر سنجیدگی کے ساتھ اس مسئلہ کو حل کرنا چاہے گی تو ان تجاویز سے بھی فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ اور ان کے علاوہ بھی بعض موثر شکلیں اختیار کی جا سکتی ہیں۔
(تفہیم دین ۱۶۷۔۱۶۹)

____________

بشکریہ ماہنامہ اشراق
تحریر/اشاعت اکتوبر 2015ء

 

مصنف : امین احسن اصلاحی
Uploaded on : Mar 10, 2016
2843 View