اہل ذمہ کا فقہی تصور اور دور جدید کے اجتہادات - عمار خان ناصر

اہل ذمہ کا فقہی تصور اور دور جدید کے اجتہادات

 

کلاسیکی روایت کے مطابق غیر مسلموں کے ساتھ اسلامی ریاست کے تعلق کی آئیڈیل صورت عقد ذمہ ہی ہے جس میں ان پر جزیہ کی ادائیگی اور دیگر شرائط کی پابندی لازم ہو اور وہ کفر واسلام کے اعتقادی تناظر میں اہل اسلام کے محکوم اور ان کے مقابلے میں ذلیل اور پست ہو کر رہیں۔ فقہا کے نزدیک یہ اصول تمام غیر مسلموں پر لاگو ہوتا ہے، خواہ وہ جنگ کے نتیجے میں مفتوح ہوئے ہوں یا صلح کے کسی معاہدے کے تحت مسلمانوں کے زیرنگیں آئے ہوں یا دار الحرب کی شہریت سے دستبردار ہو کر دار الاسلام میں قیام پذیر ہونا چاہتے ہوں۔ تاہم یہ تصور فقہی اورنظری بحثوں میں زندہ رہنے کے باوجود، خلافت عثمانیہ کے ایک بڑی اور مستحکم سیاسی طاقت کے طور پر رونما ہونے کے بعد بتدریج تغیر پذیر ہوتا چلا گیا۔ سلطنت عثمانیہ نے بدلتے ہوئے عالمی حالات اور سیاسی وقانونی تصورات کے تحت جہاں یورپی جمہوریت کے دوسرے بہت سے تصورات کو اپنے نظام میں جگہ دی، وہاں سلطنت کی غیر مسلم رعایا کے لیے مذہب اور نسل کی تفریق کے بغیر مساوی شہری اور مذہبی حقوق سے بہرہ مند ہونے کا حق بھی تسلیم کیا اور مختلف معاہدوں میں یورپی طاقتوں کو اس کی باقاعدہ یقین دہانی کرائی۔ (دیکھیے: الدکتور عبد العزیز محمد الشناوی، ’الدولة العثمانیة دولة اسلامیة مفتری علیہا‘ ، 1/96-98۔ ماجد خدوری، مقدمہ کتاب السیر للشیبانی۔ معاہدئہ پیرس کے متن کے لیے، جو 30 مارچ 1856 ءکو طے پایا، ملاحظہ ہو:

http://www.polisci.ucla.edu/faculty/wilkinson/ps123/trea)

عثمانی خلیفہ سلطان عبد المجید اول نے 18 فروری 1856ءکو ”خط ہمایوں“ کے نام سے ایک فرمان جاری کیا جس کے تحت ’جزیہ‘ کے پرانے قانون کو، جو غیر مسلموں کے دوسرے درجے کے شہری ہونے کے لیے ایک علامت کی حیثیت رکھتا تھا، ختم کر کے اس کی جگہ ”بدل عسکری“ کے نام سے ایک متبادل ٹیکس نافذ کیا گیا جو اقلیتوں کی مساوی شہری حیثیت کے جدید جمہوری تصورات کے مطابق تھا۔ (Norman Stillman, The Jews of Arab Lands in Modern Times, http://www.nitle.org/)

خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد دنیا کے سیاسی نظام میں رونما ہونے والی تبدیلیوں نے مسلمانوں کے غلبہ اور تفوق اور اس کے تحت پیدا ہونے والے قانونی وسیاسی تصورات کو بالکل تبدیل کر دیا ہے۔ بیسویں صدی میں یورپی نو آبادیاتی نظام کے خاتمے کے بعد مسلمانوں کی جو قومی ریاستیں وجود میں آئیں، ان میں سے کسی میں بھی، چاہے وہ مذہبی ریاستیں ہوں یا سیکولر، غیر مسلموں کو ’اہل ذمہ‘ کی قانونی حیثیت نہیں دی گئی اور نہ ان پر جزیہ نافذ کیا گیا ہے۔ ان میں سعودی عرب، ایران، اور طالبان کی ٹھیٹھ مذہبی حکومتیں بھی شامل ہیں۔ پاکستان میں بھی، جہاں اسلام مملکت کا سرکاری مذہب اور قانون سازی کا اعلیٰ ترین ماخذ ہے، غیر مسلموں کو ’اہل ذمہ‘ قرار نہیں دیا گیا اور نہ اہل علم کی جانب سے اس کا مطالبہ ہی کبھی سامنے آیا ہے، حتیٰ کہ سید سلیمان ندوی، مولانا مفتی محمد شفیع اور سید ابو الاعلیٰ مودودی جیسے اہل علم نے بھی اپنی تحریروں میں نظری طور پر جزیہ کے قانون کی وضاحت کرنے کے باوجود جب 1952ءمیں 31 سرکردہ علما کے ساتھ مل کر اسلامی ریاست کے لیے رہنما 22 دستوری نکات مرتب کیے تو ان میں غیر مسلموں کی قانونی حیثیت پر گفتگو کرتے ہوئے ’جزیہ‘ کا کوئی ذکر نہیں کیا۔

معاصر تناظرمیں اسلامی ریاست کے عملی ڈھانچے اور اس کے خط وخال کو موضوع بحث بنانے والے اہل علم نے بھی بالعموم اس موقف سے اتفاق کو ضروری نہیں سمجھا اور یہ نقطہ نظر عام ہے کہ جدید اسلامی ریاستوں میں غیر مسلموں کی حیثیت ’اہل ذمہ‘ کی نہیں ہے، چنانچہ ان پر جزیہ عائد کرنے پر اصرار نہیں کیا جا سکتا، تاہم اس نقطہ نظر کے ترجمان اہل علم کے ہاں روایتی فقہی تصور سے اختلاف کی بنیاد کے حوالے سے مختلف رجحانات دکھائی دیتے ہیں۔ مثلاً ایک نقطہ نگاہ یہ ہے کہ عقیدہ ومذہب کی بنیاد پر اسلامی ریاست کے باشندوں کے مدنی حقوق میں امتیاز کا رویہ مخصوص تاریخی اسباب کا نتیجہ تھا اور سیدنا عمر نے اس وقت کی معاصر اقوام میں محکوم ومفتوح قوموں کے لیے رائج قانونی نظام ہی کو اہل ذمہ پرنافذ کر دیا تھا۔ (سید سلیمان ندوی، ”کیا اسلام میں تجدید کی ضرورت ہے؟“، مشمولہ ”اسلامی تہذیب وثقافت“، 1/104، شائع کردہ خدا بخش اورئنٹل پبلک لائبریری پٹنہ) تاہم یہ بات درست دکھائی نہیں دیتی، کیونکہ ’اہل ذمہ‘ اور ان کی مخصوص محکومانہ حیثیت کے فقہی تصور، بالخصوص انھیں محکوم بنا کر ان پر جزیہ عائد کرنے کی نہایت واضح اساسات خود قرآن وسنت کے نصوص میں پائی جاتی ہیں اور اگر جدید معاشرے میں اس کا تسلسل ضروری نہیں تو بھی شرعی و عقلی طور پر اس تصور کی توجیہ تاریخی نہیں، بلکہ مذہبی بنیادوں پر کی جانی چاہیے۔

اس ضمن میں ایک رائے یہ سامنے آئی ہے کہ جزیہ عائد کیے جانے کا حکم اصلاً اسلامی ریاست کے ایسے غیر مسلم باشندوں کے لیے ہے جو جنگ کے نتیجے میں مفتوح ہوئے ہوں یا جنھوں نے صلح کا معاہدہ کرتے وقت ’جزیہ‘ کی ادائیگی کی شرط منظور کی ہو۔ مولانا مودودی لکھتے ہیں:

”اسلامی حکومت میں غیر مسلموں سے جزیہ لینے کا حکم اس حالت کے لیے دیا گیا ہے جبکہ وہ یا تو مفتوح ہوئے ہوں یا کسی معاہدہ کی رو سے جزیہ دینے کی واضح شرط پر اسلامی حکومت کی رعایا بنائے گئے ہوں۔ پاکستان میں چونکہ یہ دونوں صورتیں پیش نہیں آئی ہیں، اس لیے یہاں غیر مسلموں پر جزیہ عائد کرنا میرے نزدیک شرعاً ضروری نہیں ہے۔“ (رسائل ومسائل، 4/246)

سید حامد عبد الرحمن الکاف لکھتے ہیں:

”معاصر اسلامی ریاستوں میں غیر مسلموں کے قانونی اور مدنی حقوق کے بارے میں وہی پرانا موقف اختیار کیا جاتا ہے کہ وہ ”ذمی“ ہیں اور انھیں ”جزیہ“ ادا کر کے فوجی خدمات سے اپنے آپ کو مستثنیٰ کرنا ہے۔ یہ موقف ان دستوری اور قانونی دور رس تبدیلیوں کے عدم ادراک کا نتیجہ ہے جو خود مسلم معاشروں میں صدیوں تک بیرونی سامراج کی حکومت کے بعد وقوع پذیر ہوئی ہیں۔ ان معاشروں کی مسلم اکثریت اور غیر مسلم اقلیت دونوں سامراج کے مظالم اور لوٹ کھسوٹ کا شکار ہوتے رہے ہیں۔ دونوں ہی نے سامراجی نظاموں سے گلو خلاصی کی خاطر برابر کی جدوجہد کی اور قربانیاں دی ہیں۔ جب آزادی مل گئی تو مسلم اکثریت کیونکر اور کس طرح اچانک حاکم اور غیر مسلم اقلیتیں محکوم بن گئیں؟ حالانکہ جنگ آزادی میں دونوں برابر کے شریک تھے اور سامراج کے ظلم وستم کا دونوں ہی خمیازہ بھگت رہے تھے۔

ان تاریخی تبدیلیوں کو نہ سمجھنے کے ساتھ ساتھ اس آیت کے معنی ومفہوم کو بھی نظر انداز کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جس کو ”آیت جزیہ“ کا نام دیا جا سکتا ہے۔ .......آیت بالا صاف صاف جنگ کے بعد شکست خوردہ لوگوں پر جزیہ عائد کرنے کا حکم دیتی ہے۔ اس طرح جزیہ جنگ میں شکست کا نتیجہ ہوا۔ بالفاظ دیگر جنگ کے بغیر اور شکست کے بغیر نہ تو جزیہ فرض ہی کیا جا سکتا ہے اور نہ وصول ہی کیا جا سکتا ہے۔ صلح کے معاہدے کی شرائط میں یہ کوئی شکل ہو تو یہ بالکل الگ بات ہے۔ یہ صلح اور اس کی شرائط کا نتیجہ ہے نہ کہ جنگ کا۔ بات چیت میں شرائط پر اتفاق اسی وقت ہوتا ہے جب فریقین لین دین اور سودے بازی کریں، ورنہ بات چیت ناکام ہو جاتی یا کم از کم رک جاتی ہے۔ بعد میں، سیاسی فضا سازگار ہونے پر، اسے پھر شروع کیا جاتا ہے۔ جنگ آزادی کے طویل عرصوں میں مسلمانوں نے سامراجی طاقتوں اور حکومتوں سے جاں گسل کش مکش کی بلکہ بعض وقت ان سے جنگ بھی کی۔ بہرحال انھوں نے اپنے ہی ملک کی غیر مسلم اقلیتوں سے جنگ نہیں کی تھی اور نہ ان کو شکست دی تھی اور نہ ان پر فتح ہی پائی تھی کہ ان کو ”ذمی“ قرار دے کر جزیہ عائد کیا جا سکتا۔ اس وجہ سے اس آیت کے احکام کا اطلاق مسلمان ممالک کی موجودہ صورت حال پر نہیں کیا جا سکتا۔“ (ماہنامہ ترجمان القرآن، دسمبر 2002، ص 65، 66)

ایک اور رائے یہ ہے کہ ’جزیہ‘ کے قانون میں فی ذاتہ یہ گنجایش موجود ہے کہ اگر اسلامی ریاست کے غیر مسلم معاہدین اس حوالے سے کسی حساسیت کا شکار ہوں تو ازروے مصلحت ان پر جزیہ کے نفاذ پر اصرار نہ کیا جائے۔ فقہا کے ہاں، بنو تغلب کے نصاریٰ کے ساتھ کیے جانے والے معاملے کی روشنی میں، ایک رائے یہ موجود رہی ہے کہ اگر عملی صورت حالات کسی غیر مسلم گروہ کے ساتھ اسی شرط پر صلح کرنے پر مجبور کر رہی ہو کہ ان سے جزیہ کے بجائے زکوٰة لی جائے جس کی مقدار جزیہ کے مساوی ہو تو ایسا کرنا جائز ہے۔ (ابن قدامہ المغنی، 9/277۔ ماوردی، الاحکام السلطانیة، 184) مولانا امین احسن اصلاحی نے اس معاملے میں مزید وسعت پیدا کرتے ہوئے اسے ایک عمومی ضابطہ قرار دیا ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:

”اگر وہ اس بات پرمصر ہوں کہ ان پر بھی اسی طرح کے مالی واجبات عائد کیے جائیں جو مسلمانوں پر عائد ہیں تو حکومت ان سے اپنی صواب دید کے مطابق اس شرط پر بھی معاہدہ کر سکتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس فرق کو یوں سمجھیے کہ اگر جزیہ کی ادائیگی میں وہ عار اور ذلت محسوس کریں تو ان کو اس سے مستثنیٰ کر کے ان کے لیے کوئی اور مناسب شکل اختیار کی جا سکتی ہے۔“ (تدبر قرآن، 5/561)

یہی نقطہ نظر الدکتور یوسف القرضاوی نے اختیار کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

”موجودہ دور میں اسلامی ممالک کے غیر مسلم (اہل کتاب) ’جزیہ‘ نہیں دیتے بلکہ اس لفظ پر بھی ناک بھوں چڑھاتے ہیں تو کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ جزیہ کے بدلے بطور ٹیکس ان سے زکوٰة لی جائے، اگرچہ نام اس کا زکوٰة نہ ہو مگر شرح زکوٰة کی ہو۔ بنی تغلب کے عیسائیوں کے بارے میں حضرت عمر کا جو موقف محدثین، مورخین اور فقہاے اسلام نے بیان کیا ہے، اس سے ہمیں اس معاملے کا اصل صورت حال اور مصلحت کے پیش نظر جائزہ لینے کی گنجایش نظر آتی ہے۔ (فقہ الزکوٰة، مترجم: ساجد الرحمن صدیقی، 1/136)

”اس فیصلے کے پیش نظر دور جدید میں اگر اسلامی ممالک میں غیر مسلموں پر جزیہ کی جگہ کوئی ایسا ٹیکس عائد کر دیا جائے جو مسلمانوں پر اسلامی نظام کی جانب سے عائد شدہ دو فرائض کے مساوی درجے کا ہو۔ یعنی مسلمان ایک فریضہ -جہاد- میں جان کی قربانی دیتے ہیں اور دوسرے فریضہ -زکوٰة- میں مال کی قربانی دیتے ہیں تو کیا ایسا کرنا جائز نہیں ہوگا؟ اگر مسلمانوں کے اور غیر مسلموں کے مشورے سے غیر مسلموں پر ایسا کوئی ٹیکس عائد کیا جائے اور اس کو زکوٰة اور صدقہ کا نام بھی نہ دیا جائے، جیسا کہ حضرت عمرؓ نے ان کے مطالبے پر دے دیا تھا تو کیا یہ اقدام جائز نہیں ہوگا؟“ (ایضاً ص 138)

بعض دیگر اہل علم اس ضمن میں عملی حالات کی رعایت اور ’مصلحت‘ کے عمومی اصول کو بنیاد بناتے ہیں۔ اس نقطہ نظر کی نمائندگی ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی نے یوں کی ہے:

”دور جدید میں قائم ہونے والی اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کے سیاسی اور مدنی حقوق کا مسئلہ بھی نازک اور اہم ہے اور اگرچہ تحریک اسلامی کے رہنماﺅں نے اس بارے میں خاصا حقیقت پسندانہ موقف اختیار کیا ہے مگر عام ذہنوں پر مغرب کی پھیلائی ہوئی غلط فہمیوں کا کافی اثر ہے۔ موجودہ موقف یہ ہے کہ رائے دہندگی اور مجالس قانون ساز کی رکنیت نیز دوسرے مدنی حقوق میں ان کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہ برتا جائے گا، البتہ یہ مجالس ازروے دستور اس بات کی پابند ہوں گی کہ وہ قرآن وسنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنا سکتیں۔ اسلامی ریاست کا صدر مملکت لازماً مسلمان ہوگا اور اس کی شوریٰ صرف مسلمانوں پر مشتمل ہوگی۔ غیر مسلموں سے جزیہ لینا ضروری نہیں اور انھیں فوجی خدمات سے مستثنیٰ رکھنا مناسب ہوگا۔“

(اسلام، معاشیات اور ادب، ص 419)

”مسلمانوں اور اسلام کے کسی اہم مفاد کو مجروح کیے بغیر غیر مسلموں کو ان تمام سیاسی اور مدنی حقوق کی ضمانت دی جا سکتی ہے جو دور جدید کی کسی ریاست کے شہریوں کو حاصل ہوتے ہیں یا جن کا شمار مجلس اقوام متحدہ نے بنیادی انسانی حقوق میں کیا ہے۔ اپنے موقف کی تعیین اور اس کے بیان میں مزاج عصر کی رعایت رکھنے میں اس حد تک کوئی حرج نہیں معلوم ہوتا جس حد تک نہ کسی متعین شرعی حکم کی خلاف ورزی لازم آتی ہو نہ اسلام اور مسلمانوں کا کوئی اہم مفاد مجروح ہوتا ہو۔

اس بارے میں مسلم ممالک میں اٹھنے والی اسلامی تحریکوں کے موقف کی تعیین میں دنیا کی رائے عامہ اور غیر مسلم ممالک میں بسنے والی مسلمان اقلیتوں کے مفاد ومصالح کی رعایت رکھنا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے۔ دنیا میں اسلام کے مجموعی مفاد کا ایک اہم تقاضا یہ بھی ہے کہ غیر مسلم ممالک میں مسلمانوں کو جملہ سیاسی اور مدنی حقوق اور اسلام کی طرف دعوت دینے کے آزادانہ مواقع حاصل ہوں۔ زیر غور مسئلہ میں، شریعت کی حدود کے اندر رہتے ہوئے فراخ دلانہ پالیسی اختیار کرنے اور اس کو مزاج عصر سے مناسبت رکھنے والے انداز میں سامنے لانے سے اس مفاد کے تحفظ میں مدد ملے گی۔“ (اسلام، معاشیات اور ادب، ص 420)

خلافت عثمانیہ کے آخری دور میں اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہریوں کے لیے مسلمان شہریوں کے مساوی سیاسی ومعاشرتی حقوق تسلیم کرنے کا اصول صرف جزیہ کے اسقاط تک محدود نہیںرہا، بلکہ بعض دوسرے اہم امتیازات کے حوالے سے بھی کلاسیکی فقہی قوانین پرنظر ثانی کی گئی۔ مثال کے طو پر فقہا نے مسلمان کے خلاف کسی غیر مسلم کی گواہی کو اس بنیاد پر ناقابل قبول قرار دیا ہے کہ اس سے مسلمانوں پر غیر مسلموں کی بالادستی قبول کرنا لازم آتا ہے جو کہ درست نہیں، تاہم ”مجلة الاحکام العدلیہ“ میں فقہی ذخیرے میں بیان ہونے والے، گواہ کے مطلوبہ اوصاف میں سے مسلمان ہونے کی شرط حذف کر دی گئی ہے۔ (مجلة الاحکام العدلیہ، مادة 1686، 1700-1705) جدید جمہوری تصورات کے تحت قائم ہونے والی بعض اسلامی ریاستوں، مثلاً پاکستان میں اسی کے مطابق قانون سازی کی گئی ہے اور حدود وقصاص کے علاوہ کسی معاملے میں مسلم اور غیر مسلم گواہوں کے مابین تفریق نہیں کی گئی۔

اسی طرح روایتی فقہی تصور میں قاضی کا مسلمان ہونا اس منصب کے لیے اہلیت کی بنیادی شرائط میں شمار کیا گیا ہے اور ایک اسلامی ریاست میں کسی غیر مسلم کے منصب قضا پر فائز ہونے کی کوئی گنجایش تسلیم نہیں کی گئی۔ تاہم ”مجلة الاحکام العدلیہ“ میں قاضی کے مطلوبہ اوصاف کے ضمن میں، کلاسیکی فقہی موقف کے برعکس، اس کے مسلمان ہونے کی شرط کا سرے سے کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ (مجلة الاحکام العدلیہ، مادة 1792-1794) اسی بنیاد پر بہت سے مسلم ممالک میں غیر مسلموں کو منصب قضا پر فائز کرنے کا طریقہ اختیار کر لیا گیا ہے۔ (وہبہ الزحیلی، الفقہ الاسلامی وادلتہ 6/744) مثال کے طور پر پاکستان میں دستوری طور پر صدر اور وزیر اعظم کے لیے تو مسلمان ہونے کی شرط موجود ہے، لیکن کسی دوسرے منصب کے لیے ایسی کوئی پابندی نہیں لگائی گئی۔ غیر مسلم ججوں کا اعلیٰ ترین مناصب پر تقرر عملاً بھی قبول کیا گیا ہے اور کم از کم ایک قانونی ایشو کے طور پر یہ مسئلہ کبھی نہیں اٹھایا گیا، بلکہ اسلامی نظریاتی کونسل نے 2007ء میں اپنی سفارشات میں باقاعدہ یہ تجویز کیا ہے کہ ”قانون کی باقاعدہ تدوین کے بعد جج کے مسلمان ہونے کی شرط غیر ضروری ہے۔ غیر مسلم جج بھی قانون کو پوری طرح سمجھ لینے کے بعد ہر نوعیت کے مقدمات کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔“ (”حدودوتعزیرات: اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کا جائزہ“، شائع کردہ اسلامی نظریاتی کونسل حکومت پاکستان، ص 9) 

بشکریہ مکالمہ ڈاٹ کام، تحریر/اشاعت 10 مئی 2017
مصنف : عمار خان ناصر
Uploaded on : May 13, 2017
581 View