پاکستان میں مذہبی تعلیم - عمار خان ناصر

پاکستان میں مذہبی تعلیم

 

[۹ جولائی ۲۰۱۲ء کو PIPS کے زیر اہتمام تعلیم کے موضوع پر منعقد کیے جانے والے سیمینار کے لیے لکھا گیا۔]

پاکستان میں مختلف سطحوں پر مذہبی تعلیم کے موجودہ انتظام کے مثبت اور منفی پہلووں اوراس نظام میں بہتری کے امکانات کے حوالے سے متنوع زاویوں سے گفتگو کی جا سکتی ہے۔ ہمارے ہاں مذہبی تعلیم کے نظام کے ساتھ جو بڑے بڑے مسائل وابستہ ہیں، انھیں اہل علم کے سامنے بیان کرنے کی شاید زیادہ ضرورت نہیں۔ اختصار کے ساتھ انھیں چند نکات کی صورت میں گنوایا جا سکتا ہے۔ مثلاً:
۱۔ مذہب جن روحانی واخلاقی اقدار کی تعلیم دیتا ہے، موجودہ مذہبی نظام تعلیم عمومی طو رپر ان سے بالکل برعکس قدروں کے فروغ کا ذریعہ بن رہا ہے جن میں سب سے نمایاں چیز مذہبی فرقہ واریت ہے۔ مزید براں تربیت کا سارا زور دین کے مظاہر پر صرف کیا جاتا ہے، جبکہ روحانی بالیدگی اور اخلاق وکردار کی بلندی پیدا کرنے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جاتی۔
۲۔ مذہبی تعلیم ایک ایسے ماحول میں فراہم کی جاتی ہے جو اپنے فیض یافتگان کو معاشرے کے زندہ مسائل کے ساتھ حرکی طو ر پر متعلق کرنے کے بجاے ان کے اور معاشرے کے مابین اجنبیت کی ایک خلیج حائل کر دیتا ہے۔
۳۔ مذہبی تعلیم کے نتیجے میں مطالعہ اور علم وتحقیق کا جو معیار حاصل ہوتا ہے، وہ مجموعی طو رپر ناقابل رشک ہے اور اس سے بھی زیادہ قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس ماحول میں مطالعہ اور تحقیق کے موضوعات کا دائرہ نہایت محدود ہے اور امت مسلمہ کی وسیع تر کلاسیکی علمی روایت اور دور جدید کے علمی وفکری مباحث سے ایک عمومی آگاہی بھی اس نظام تعلیم کے اہداف میں شامل نہیں۔
۴۔ مذہبی تعلیم کے موجودہ نظام نے ریاستی نظام اور بین الاقوامی قانون کے ضمن میں دور جدید کی جوہری تبدیلیوں سے متعلق اجتہادی زاویۂ نگاہ کو اپنے اہداف کا حصہ نہیں بنایا، چنانچہ اس حوالے سے کلاسیکی دور کے فقہی ذخیرے کو غیر تنقیدی انداز میں پڑھانا ان فکری ونظری ابہامات کی جڑ کی حیثیت رکھتا ہے جن سے اس وقت ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد کا شرعی ونظریاتی جواز اخذ کیا جا رہا ہے۔
اس نوعیت کے اور بھی بہت سے امور اس فہرست میں شامل کیے جا سکتے ہیں، تاہم میرے خیال میں موجودہ تناظر میں مذہبی تعلیم کے نظام کی بہتری اور اصلاح کے ضمن میں زیادہ اہم اور غور طلب سوال یہ ہے کہ اس میں معاشرے کے دوسرے طبقات اور ریاست کا کردار کیا ہونا چاہیے؟ اس سوال کے جواب میں لبرل حلقوں کا عمومی زاویۂ نگاہ یہ دکھائی دیتا ہے کہ قومی نظام تعلیم میں مذہب کے عنصر کو کم سے کم جگہ دی جانی چاہیے تاکہ مذہبی سوچ کو تعلیم کے راستے سے نئی نسل کے ذہن اور فکر ورجحان پر زیادہ اثر انداز ہونے کا موقع نہ ملے۔ تاہم اب تک کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ یہ طرز فکر غیر مطلوب نتائج پیدا کرنے کا ذریعہ بنا ہے۔ اگر قوم کی علمی، تعلیمی اور روحانی ضروریات سے متعلق ایک بے حد اہم شعبہ بالکل صحیح خطوط پر استوار کرنے کے بعد کسی ایک مخصوص طبقے کے سپرد کر دیا جائے اور معاشرہ اور ریاست اس سے اپنے آپ کو بالکل لاتعلق کر لیں تو اس سے احتساب اور جواب دہی کا احساس ختم ہونا شروع ہو جاتا ہے اور کچھ عرصے کے بعد جب وہ طبقہ اپنی سیاسی طاقت بھی پید اکر لے تو پھر اس کی اصلاح کے لیے کوئی موثر کردار ادا کرنا ریاست اور معاشرے کے لیے بے حد مشکل ہو جاتا ہے۔ تاہم ہمارے ہاں دینی تعلیم کے نظام کے باب میں یہی ہوا ہے جو اس لحاظ سے زیادہ بگاڑ کا موجب بنا ہے کہ دینی تعلیم کا نظام سرے سے درست خطوط پر استوار ہی نہیں تھا اور نوآبادیاتی دور سے چلا آنے والا نظام نہایت بنیادی پہلووں سے اصلاح بلکہ تشکیل نو کا محتاج تھا۔ بدقسمتی سے اس اصلاح کے لیے مذہبی تعلیم کے نظام میں داخلی طو رپر کوئی خاص داعیہ موجود نہیں تھا۔ اس پر جب ریاست اور معاشرے نے بھی اس ضمن میں کوئی مثبت کردار ادا کرنے سے دست کشی اختیار کر لی تو ان خرابیوں نے اپنی جڑیں مزید مضبوط کر لیں اور اب پینسٹھ سال کے بعد کیفیت یہ ہے کہ مذہبی تعلیم کے نظام کی اصلاح کا عزم تو دور کی بات ہے، ریاست اور معاشرہ ابھی تک اس کا کوئی واضح نقشہ بھی ذہن میں نہیں رکھتے۔
میری نظر میں اس سارے قضیے میں ریاست اور سول سوسائٹی میں سب سے بنیادی چیز جو پیدا کرنے کی ضرورت ہے، وہ فکری وضوح، احساس ذمہ داری اور اصلاح کا مخلصانہ عزم ہے۔ چنانچہ معاشرے کی تشکیل میں مذہب اور مذہبی تعلیم کی اہمیت کو پوری طرح تسلیم کرنے کے بعد پوری نیک نیتی، خلوص اور کھلے ذہن کے ساتھ ایک تدریج کے ساتھ حسب ذیل اقدامات کرنے کی ضرورت ہے:
۱۔ مذہبی تعلیم کی ضروریات، معیارات اور اہداف کا ایک واضح نقشہ تیار کیا جائے جو ان روحانی، علمی وفکری اور معاشرتی ضروریات کی تکمیل کا ضامن ہو جو مذہب او رمذہبی تعلیم سے وابستہ ہیں۔
۲۔ ریاست اور سول سوسائٹی اس نقشے کے مطابق مذہبی تعلیم کے انتظام کو اپنی توجہ کا مرکز بنائیں۔ اس کے لیے سرکاری نظام تعلیم سے جو کام لیا جا سکتا ہے، اس کا بھی گہرائی سے جائزہ لے کر اقدامات تجویز کیے جائیں اور سول سوسائٹی جو کردار ادا کر سکتی ہے، اس پر بھی گہرا غور وخوض کیا جائے۔
۳۔ حکومت اور سول سوسائٹی کی طرف سے مذہبی تعلیم کے موجودہ نظام کے کار پردازان کو ایک مثبت اور تعمیری مکالمے میں شریک کیا جائے اور انھیں اپنے نظام میں مطلوب اصلاحات کرنے پر آمادہ کیا جائے۔
مذکورہ گزارشات کا حاصل یہ ہے کہ مذہبی تعلیم کے موجودہ نظام کی اصلاح میں ریاست اور سول سوسائٹی اگر کوئی کردار ادا کرنا چاہتی ہے تو اس میں اس حقیقت کو بنیادی نکتے کے طور پر تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستانی قوم اپنی روحانی و اخلاقی اقدار، خاندانی ومعاشرتی زندگی کے اصول وضوابط اور اپنی اجتماعی زندگی کی تشکیل میں مذہب یعنی اسلام کو راہ نمائی کا بنیادی سرچشمہ اور ماخذ تصور کرتی ہے اور اسلام کی تعلیمات سے ہٹ کر کوئی دوسری چیز یہاں حیات اجتماعی کی تشکیل میں بنیادی حوالہ نہیں بن سکتی۔ ا س لحاظ سے مذہبی تعلیم کے مسئلے کو کسی ایک مخصوص طبقے کا نہیں، بلکہ ریاست اور معاشرے کی تعمیر وتشکیل سے دلچسپی رکھنے والے تمام سنجیدہ وفہمیدہ طبقات کے غور وفکر کا موضوع ہونا چاہیے اور تمام طبقات کو ایک مثبت اور تعمیری جذبے کے ساتھ مذہبی تعلیم کے نظام کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ یہ بنیادی ذہنی رویہ پیدا ہونے سے ہی وہ سنجیدگی، بصیرت اور عزم وحوصلہ پیدا ہوگا جو اس مقصد کے لیے درکار ہے۔ بصورت دیگر یہ معاملہ ایک طرف مذہبی طبقات اور دوسری طرف مذہبی نظام تعلیم کی اصلاح کی خواہش رکھنے والوں کے مابین ایک بے حاصل کشمکش کا عنوان بنا رہے گا جس میں واضح سوچ، خلوص اور عزم وحوصلہ مفقود ہونے کی وجہ سے ریاست اور سول سوسائٹی دن بدن اپنے مطالبات کا جواز کھوتے چلے جائیں گے اور مذہبی طبقات نسبتاً واضح اور مضبوط موقف رکھنے کی وجہ سے سماجی اور اخلاقی دباؤ سے آزاد ہوتے چلے جائیں گے۔


* مدیر ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ گوجرانوالہ۔

 

بشکریہ: عمار خان ناصر
تاریخ اشاعت: March 2013  
مصنف : عمار خان ناصر
Uploaded on : May 24, 2016
640 View