جوابی بیانیوں کا پس و پیش - ساجد حمید

جوابی بیانیوں کا پس و پیش

 

پچھلے چند ہفتوں میں علمی، سیاسی، سماجی اور بالخصوص مذہبی حلقوں میں استاذ گرامی جناب جاوید احمد صاحب غامدی کا جوابی بیانیہ گرمی بحث ومباحثہ رہا ہے۔ مجھے میرے بعض احباب نے لکھنے کو کہا، مگر میں نے انکار کردیا تھا، کیونکہ اس وقت ایک طرف میرے استاذ گرامی ہیں، یہ ناچیز جو کچھ ہے، ان کے فیض تربیت سے ہے،اور دوسری طرف محترم تقی عثمانی صاحب ہیں، جو حلقۂ دیوبند کے ایک مجتہد صفت عالم دین ہیں۔ میں دونوں کا احترام کرتا ہوں اور قلم اٹھانے کو خلاف آداب سمجھتا ہوں، اس لیے کہ ہماری مشرقی روایت ہمیں یہی سکھاتی ہے۔
لیکن اب بہت کچھ لکھا گیا ہے اور تقریباً ہر شعبۂ زندگی کے لوگوں نے اپنے اپنے رشحات قلم سے مختلف فورمز پر صفحہ ہاے قرطاس و نیٹ کو مزین کیا ہے۔اس بحث کے بارے میں کسی موقف کی تائید یا تردیدمیرے پیش نظر نہیں ہے، بلکہ چند اصولی مباحث چھیڑنا چاہتا ہو ں تاکہ اس مسئلے کی نزاکت اور اس کے تاریخی جبر کو سمجھا جاسکے۔
پہلی بات: نقد کیساہو؟ میری نظر میں پچھلی چند صدیوں کا تنقیدی لٹریچر جو گزرا ہے، اس کے مطالعہ کی روشنی میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ افسوس اس بات پر ہے کہ جب ہمارا جید سے جید عالم ، جس نے اپنی علمی وجاہت کو منوایا ہو، وہ بھی جب قلم اٹھاتا ہے تو یاتو وہ کسی جزئیے میں پھنس جاتا ہے یا وہ مخالف فریق کے نظریے پر اپنے اصولوں کی روشنی میں نقد کررہا ہوتا ہے۔ یہاں جو تنقید ہوئی، وہ اپنے اپنے اصولوں کے لحاظ سے مضبوط تھی، مگراستاذ گرامی کے اصولوں کے لحاظ سے بر محل اور درست نہیں تھی۔ مثلاً استاذ گرامی کے نزدیک اسلام کا ماخذ محض قرآن و سنت ہیں۔ تقی عثمانی صاحب جس فقہی روایت کے امین ہیں، وہ اس روایت کو بھی دین کا ماخذ سمجھتے ہیں۔ استاذ گرامی کی نظر میں وہ چیز اسلامی نہیں ہے جو قرآن و سنت سے ماخوذنہ ہو، جبکہ تقی عثمانی صاحب کے نزدیک وہ اسلامی ہو سکتی ہے۔ یہی وہ فرق ہے، جو اس تنقیدی گہماگہمی کا باعث ہے۔ اسی طرح شایدعثمانی صاحب ریاست اور حکومت میں فرق نہیں کرتے، حکومت اسلامی اور غیر اسلامی ہوا کرتی ہے، ریاست کبھی بھی اسلامی یا غیر اسلامی نہیں ہوتی۔ یہ ایسی ہی بات ہے کہ آپ کسی محلے یاگلی کوچے کو اسلامی کہنا شروع کردیں، حالاں کہ وہاں کے باشندے اسلامی یا غیر اسلامی ہوں گے۔
میرے خیال میں صحیح تر نقد وہ ہوگا جو یامخاطب کے اصولوں پر ہو یا اس کے اصولوں کو مانتے ہوئے اس کی آرا پر ہو، وگرنہ آپ کا نقد غیر مؤثر رہ جاتا ہے، محنت رائگاں چلی جاتی ہے۔تیسری صورت نقد کی یہ ہوسکتی ہے کہ صرف ان باتوں پر کھڑے ہو کرنقد کیا جائے جو دونوں فریقوں کے مابین مشترک ہوں۔اسے میں آفاقی نقد کا نام دیتا ہوں۔ اس میں اصول اور آرا کی کوئی حیثیت نہیں رہتی ، بلکہ وہ مسلمہ آفاقی اصول ہوتے ہیں جو ہم مذہب وہم مشرب افراد میں مسلمات کی حیثیت رکھتے ہیں۔کسی راے میں یا کسی نظریے میں اگر اس سے انحراف ہو تو آپ یقیناًایک مفید نقد کرسکتے ہیں۔لیکن اس سارے عرصے میں ایسا نقد خال خال ہی نظر آتا ہے۔
دوسری بات: سماج کیا ہے؟یہ کیسے بدلتا ہے؟اس کو بدلنے والے کون لوگ ہیں؟جوابی بیانیے کی اس بحث کا ہدف پاکستان کی سماجی ابتری ہے۔اس میں پائے جانے والے بیانیے ہیں۔ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ سماج کو بنانے والے تین عوامل ہیں: ۱۔ بیانیہ، ۲۔ بیانیے کے حامل افراد اور ۳۔ کارفرما قوتیں۔ بیانیہ دراصل بیانیے کے حامل افراد کے نظریات، مفادات اور دل چسپیوں (interests) کا نام ہے۔ مثلاً علما مذہبی بیانیے کے حامل ہیں۔ جس کے ساتھ ان کے دین و دنیا کے interests وابستہ ہیں، سیکولر بیانیے کے حامل افراد کے interests کی حصولی سیکولرازم کے قیام و بقا کے مرہون منت ہے۔کارفرما عناصر سے ہماری مراد بزنس کلاس، بیوروکریسی ، سیاست دان اور حکمران طبقہ ہیں۔ ان کے مفادات اور interests جس رخ پر بیٹھیں معاشرے میں ان کو ترویج دی جاتی ہے۔اس کے لیے دونوں طبقات میں سے ہم خیال لوگوں کو برتا جاتا ہے۔جو معاشرے کوپسندیدہ رخ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
ان کے بیچوں بیچ ایک اور طبقہ ہمیشہ کارفرما رہتا ہے۔وہ ان ذہین افراد کا گروہ ہوتا ہے جس کی نگاہ ان امور پر ہوتی ہے کہ جب ایک بیانیہ معاشرے کے لیے قابل عمل نہ رہے یا وہ خرابی کا باعث بن رہا ہو، تو وہ افراد متبادل بیانیے دینے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے معاشرہ پھر سے اپنی ڈگر پر چل پڑتا ہے۔فساد رفع ہو جاتا ہے اور نئی راہیں کھل جاتی ہیں۔استاذ گرامی کے خیال میں روایتی بیانیہ اپنے اسی مقام پر پہنچ چکا ہے کہ اب ایک نئے بیانیے کی ضرورت ہے۔ میرے خیال میں، ان کے نزدیک روایتی بیانیہ نہ صرف اگلے دور کے لیے ناقابل عمل ہے، بلکہ وہ اس ملک میں فساد کا باعث بھی ہے۔ اس لیے اب ضرورت ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں نیا بیانیہ ملک کو دیا جائے۔
ایسا کرنے سے متعدد بیانیے وجود میں آجاتے ہیں، لیکن قوت ہمیشہ زیر عمل بیانیے کے پاس ہوتی ہے، اس لیے کہ اس کے حاملین کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔لیکن ساتھ ہی ایک چیز اور عمل میں آجاتی ہے کہ یہ متعدد بیانیے اپنے اپنے حاملین پیدا کرلیتے ہیں، جس سے معاشرے میں نیا خون آہستہ آہستہ سرایت کرنے لگتا ہے۔کچھ لوگ نئے بیانیے میں ملک و قوم کے لیے نجات محسوس کرتے ہوئے اسے اپنا لیتے ہیں، اور کچھ روایتی بیانیے کو ایسا ہی خیال کرتے ہوئے اسے اپنائے رکھتے ہیں۔لیکن نئے بیانیے اپنا ایک کام خاموشی سے کرتے رہتے ہیں۔ روایتی بیانیے والے مرور وقت کے ساتھ اپنے ہاں جزوی تبدیلیاں لاتے جاتے ہیں،اور نئے بیانیے کو جزوًا جزوًاقبول کرتے کرتے پورے بدل جاتے ہیں۔کبھی ایک ہی نسل میں اورکبھی اگلی کئی نسلوں میں۔اور نئے بیانیے کو اپنانے والے معاشرے میں زندہ رہنے کے لیے روایتی بیانیے کی کچھ چیزوں کو اپنائے رکھتے ہیں۔یوں ترک و قبول کی کڑیاں اگلی کڑیوں سے مسلسل جڑتی جاتی ہیں اورچند دہائیوں ہی میں غیر محسوس طریقے سے نیا سماج وجود میں آچکا ہوتا ہے۔ اپنے ملک کی چند دہائیوں کا جائزہ لیجیے: تصویر کی حرمت کے قائل علما نے ٹی وی کی تصویر کو حلال کیا ہے،اور اس کے ہر چینل پر زینت افروزنظر آتے ہیں۔ بعض علما نے پتلون پہننی شروع کردی ہے، ٹی وی جس کی حرمت کے فتوے تھے، ہر مذہبی و غیرمذہبی کے گھر کی زینت ہے۔فلم جسے کبھی عام شرفا بھی چھپ کر دیکھتے تھے، اب بہت سے علما بھی بلاخوفِ عوام دیکھتے ہیں۔جان جس کی حرمت سب سے بڑھ کر تھی، اس کی بے حرمتی کا قبیح منظر ہمارے سامنے ہے۔پردہ جو اس معاشرے کا نہایت نمایاں مظہر تھا، وہ کم لباسی کا رخ اختیار کرچکا ہے۔ دائیں ہاتھ سے نوالہ توڑ کر کھانا ایک تہذیبی عنصر تھا، اب دونوں ہاتھ سے پکڑ کر نوچ نوچ کر کھانا نئی تہذیب کا پسندیدہ طرزہے۔ کوئی بیانیہ ان تبدیلیوں کو نہیں روک سکا۔ مثلاً تصویر کی حرمت کا کوئی فتویٰ، نہ کیمروں کی خرید و فروخت پر اثر انداز ہوا ہے اور نہ تصویر کشی کے فن پر،اس لیے کہ اس روایتی بیانیے میں جان نہیں رہی، کچھ ہماری کوتاہ بیانی سے اور کچھ مغرب کی ریشہ دوانی سے۔
استاذ گرامی نے جو بیانیہ دیا ہے، وہ نوشتۂ دیوار ہے۔ اسے جس قدر چاہے نقد سے اڑا دیں ، وہ اپنا خاموش عمل شروع کرچکا ہے۔یہ تاریخ کا جبر ہے، یونہی ہوتا آیا ہے، ہوتا رہے گا۔اس بیانیے کو سننے والے پریشان نہ ہوں، یہ بیانیہ اتنا ہی اپنایا جائے گا، جتناکارفرما عناصرکو قابل قبول ہوگا۔اس کے باقی اجزا انھی اوراق کی زینت بنے تاریخ کا حصہ بن جائیں گے۔استاذ گرامی کے بیانیے کے حاملین کو صبر سے کام لینا ہوگا، ان کا بیانیہ اتنی جلدی نہیں اپنایا جائے گا۔ اس کے لیے دہائیوں اور بعض اوقات صدیوں کا وقت بھی لگ جاتا ہے، اس لیے کہ آج روایتی بیانیہ کا دور دورہ ہے۔ وہ اگرچہ زوال پذیر ہے، مگر ہاتھی گرتے گرتے بھی وقت لیتا ہے۔اس کو تاریخ کے آیئنے میں دیکھیے: معتزلہ کو دین سے خارج کیاگیا، آج تمام اشعری بہت سے معتزلی نظریات کے حامل ہیں۔ ابن تیمیہ کو زندیق و فتنہ کہا گیا، آج ان کا تصورِ حدیث اور تعبیر دین احناف و شوافع کا نظریہ و مسلک ہے۔ ابن حزم ظاہری کو بے استادہ اور نکما کہا گیا، آج حنبلی فقہ اس کی اسیر ہے، اور احناف و شوافع بھی اثر پذیری سے محفوظ نہیں ہیں۔علامہ اقبال مرحوم نے چند دہائیاں قبل ایک بیانیہ دیا تھا، جو اس وقت نیا تھا، مگر آج وہی ہر عالم دین کا بیانیہ ہے۔لیکن یہ تمام اثرات خاموشی سے وجود پذیر ہوتے ہیں۔ ہاں اکا دکا لوگ علانیہ بھی بیانیہ تبدیل کرتے (یہ جرأت رندانہ خال خال نظر آتی ہے)اور ان میں سے بعضے پھر اسے ترک کردیتے ہیں۔
تیسری بات: کیا روایتی بیانیہ دینی بیانیہ ہے؟ نہیں ایسا نہیں ہے۔ یہ بیانیہ تو روایتی بھی نہیں ہے۔میرے خیال میں اسے روایتی نہیں، بلکہ contemporary narrative کہنا چاہیے۔ یہ بھی عہد استعمار میں مابعد اقبال پیدا ہوا ہے۔ ہم شاعر مشرق کے بیانیہ کے حامل ہیں، نہ کہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے۔ علامہ اقبال نے اس مایوسی کی فضا، جو سلطنت عثمانیہ کے زوال کے بعد مسلمانوں میں موجود تھی، کو ختم کرنے کے لیے ایک انقلابی بیانیہ دیا تھا، جسے بعد میں سیاسی و عملی میدان میں مودودی صاحب اور فکری میدان میں بہت سے اصحاب علم نے آگے بڑھایا تھا۔ اس بیانیے کے پیچھے جمال الدین افغانی، سرسید،قاسم نانوتوی، شبلی اور اقبال وغیرہ کے نام آتے ہیں۔آج کا بیانیہ ان کا تشکیل کردہ ہے۔ ہم رجال و نحن رجال۔ اس بیانیے کو قرآن و سنت کی سند حاصل نہیں ہے۔وہ بات جو علما مانتے ہوں، وہ لازم نہیں کہ دینی طور پر درست بھی ہو۔ مثلاً زمین ساکن ہونے کا نظریہ علما کا نظریہ تھا، توآیا یہ نظریہ دینی ہو گا؟ یقیناًنہیں۔ بلاشبہ، اس بات کا امکان ہے کہ اس طرح کے امور میں، جہاں نصوص خاموش ہوتے ہیں، کسی صاحب علم کی راے عین قرآن وسنت کے مطابق ہو۔لیکن ساتھ ہی اس بات کا امکان ہے کہ اس کی بات محض اس کی اپنی راے ہو۔ کم از کم ہمارے موجودہ بیانیے کی یہی حقیقت ہے۔
یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ بیانیہ کیسا بھی ہو، جب وہ ذہنوں میں تسلیم شدہ حالت میں موجود ہوتو نصوص قرآنی بھی ویسی ہی دکھائی دینے لگ جاتی ہیں۔ان کے معنی بیانیہ کی روشنی میں ذہن تک پہنچتے ہیں۔ مثلاً مولانا مودودی کی تفسیر قرآن اس انقلابی بیانیہ کی روشنی میں لکھی گئی ہے۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح نصوص اس تفسیر میں اپنا رخ بدلتے جاتے ہیں۔اس لیے اس بات کا پورا امکان ہے کہ ہم جس بیانیے کو قرآنی کہہ رہے ہوں، وہ محض ہمارا حسن نظر ہو۔ لہٰذا نئی بات کو سمجھنے کی کوشش کرنی ہو گی، محض یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ یہ بات نئی ہے یا یہ بات علما کے نزدیک غلط ہے۔زمین ساکن ہے، کو اگر ہم صرف اس وجہ سے مانتے رہیں کہ یہ ہمارے روایتی علما کا نظریہ تھا، تو یہ دراصل حقائق کاانکار کرنے کے مترادف ہوگا:

آئینِ نو سے ڈرنا ، طرز کہن پہ اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں

____________

  تاریخ: اپریل 2015ء
بشکریہ: ساجد حمید

مصنف : ساجد حمید
Uploaded on : Feb 13, 2016
718 View