خلافت کے لیے قرشیت کی شرط - امین احسن اصلاحی

خلافت کے لیے قرشیت کی شرط

 

... اسلامی ریاست ایک اصولی ریاست ہے جس کی بنیاد اصول و عقائد پر ہے نہ کہ نسل، نسب یا خاندان پر۔ تمام مسلمان جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر متفق ہیں، اس ریاست میں بالکل مساوی حقوق رکھتے ہیں۔ ان کے درمیان کسی کو کسی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے، مگر یہ کہ ایک شخص دین اور تقویٰ، تفقہ اور اجتہاد کے اعتبار سے دوسرے پر فضیلت رکھتا ہو۔ ریاست کے اولوالامر یا ارباب حل و عقد کو ریاست میں جو سربراہی کا مقام حاصل ہوتا ہے، وہ بھی ... ان کے علم و تقویٰ ہی کی بنا پر حاصل ہوتا ہے، نہ کہ کسی خاندان یا نسب سے تعلق رکھنے کی بنا پر۔
یہ حقیقت قرآن و حدیث میں اتنی وضاحت سے بیان ہوئی ہے کہ اس پر دلائل نقل کرنے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن ایک حدیث کی بنا پر جس میں فرمایا گیا ہے کہ ’الأئمۃ من قریش‘* (خلفا قریش میں سے ہوں گے)، عام طور پر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام میں خلیفہ کے لیے قرشی ہونا شرط ہے، کوئی غیر قرشی خلافت کے منصب پر سرفراز ہونے کا حق دار نہیں ہے۔
اگر اس حدیث کا یہی مطلب لیا جائے جو عام طور پر لیا گیا ہے تو اس سے نہ صرف اسلامی نظام حکومت کی وہ بنیاد ہی ڈھے جاتی ہے جو اوپر ہم نے بیان کی ہے، بلکہ اس سے ان معترضین کے اعتراضات کو بھی بڑی قوت حاصل ہو جاتی ہے جنھوں نے اسلام نظام حکومت پر مخالفانہ تنقیدیں کی ہیں۔ مطلب کی وضاحت کے لیے ہم ان اعتراضات میں سے بعض کا ذکر کریں گے۔
مثلاً: اس پر سب سے بڑا اعتراض یہ کیا گیا ہے کہ اسلام میں مساوات کا جو دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس میں نسل و نسب کی بنا پر کسی کو کسی پر فضیلت حاصل نہیں ہے، یہ دعویٰ غلط ہے، اس لیے کہ جب خلیفہ ہونے کے لیے قرشی ہونا لازم شرط ہے، یہاں تک کہ اس کے حق میں مسلمانوں کا اجماع بیان کیا جاتا ہے، تو پھر مساوات کہاں باقی رہی؟ قریش کو مسلمانوں کی سوسائٹی میں وہی برتری حاصل ہو گی جو یہود میں بنی لاوی کو حاصل تھی یا ہندوؤں میں برہمنوں کو۔ جس طرح ہندوؤں میں ان کے مذہبی قانون کی رو سے کوئی ویش یا شودر حکمرانی کا منصب حاصل نہیں کر سکتا، اسی طرح کی بات یہ ہوئی کہ کوئی غیر قرشی مسلمانوں کا حکمران نہیں ہو سکتا۔
دوسرا اعتراض اس کی بنیاد پر یہ کیا گیا ہے کہ نعوذ باللہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بیان کردہ اصولوں پر اسلام کے اجتماعی و سیاسی نظام کو قائم کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ زندگی بھر تو انھوں نے مساوات کی تعلیم دی اور نسلی و خاندانی برتری کے دعاوی کی بیخ کنی کی، لیکن وفات کے وقت نعوذ باللہ اپنی قائم کردہ حکومت اپنے خاندان کو سپرد کر کے چلے گئے۔
اس حدیث کی آڑ لے کر تحریک خلافت کے زمانے میں انگریز مستشرقین اور مدبرین نے تحریک کو دبانے اور اپنا سیاسی مقصد حاصل کرنے کے لیے یہ اشغلا چھوڑا تھا کہ مسلمان خواہ مخواہ کے لیے ترکوں کی خلافت کے حق میں آسمان و زمین ایک کیے ہوئے ہیں، ان کے پیغمبر کی تعلیم کی رو سے کوئی غیر قرشی تو خلیفہ ہو ہی نہیں سکتا تو ترکوں کی خلافت کہاں سے دین و شریعت بن گئی؟
اس زمانے میں اسی حدیث کا سہارا لے کر بعض ذہین لوگوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ حکمت عملی کے تقاضوں کے تحت دین کے اصولوں میں ترمیم و تنسیخ ہو سکتی ہے۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ اگرچہ مساوات کی تعلیم اسلام کی بنیادی تعلیمات میں سے ہے، قرآن نے بھی اس کی تعلیم دی ہے اور آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی زندگانی بھر اس کا وعظ فرمایا، لیکن حکمت عملی کا تقاضا چونکہ یہی ہوا کہ خلافت قریش ہی کے ہاتھ میں رہے، اس وجہ سے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم وفات کے وقت یہ وصیت فرما گئے کہ خلفا قریش میں سے ہوں گے۔

حدیث ’الأئمۃ من قریش‘ کا محل

یہ اور اس قسم کے دوسرے اعتراضات و شبہات جو اسلام کے نظام اجتماعی و سیاسی پر کیے گئے ہیں، وہ تمام تر نتیجہ ہیں اس بات کا کہ لوگوں نے اس حدیث کو اس کے موقع و محل سے ہٹا کر اس کو امر یا خبر یا وصیت کے مفہوم میں لیا، حالاں کہ یہ نہ تو امر ہے نہ خبر نہ وصیت، بلکہ یہ ایک قضیہ اور ایک نزاع کا فیصلہ ہے۔ یہ قضیہ کی شکل میں حضور کے سامنے پیش نہیں ہوا تھا، لیکن یہ ذہنوں میں موجود تھا اور اس کے اثرات وقتاً فوقتاً ظاہر ہوتے رہتے تھے۔ حضور کے لیے یہ اندازہ کر لینا کچھ مشکل نہ تھا کہ آپ کی وفات کے بعد یہ قضیہ ایک نزاع کی شکل اختیار کر سکتا ہے اور اس سے امت میں انتشار پیدا ہو سکتا ہے، اس وجہ سے آپ نے اپنی زندگی ہی میں فیصلہ فرما دیا کہ آپ کے بعد خلافت کے حق دار قریش ہیں۔
اس نزاع میں ایک طرف قریش تھے اور دوسری طرف انصار۔ حضور کے زمانہ میں مسلمانوں میں یہی دو گروہ قابل ذکر اور سیاسی زور و اثر رکھنے والے تھے۔ ہر چند اسلام نے ان کو جاہلی تعصبات سے پاک کر دیا تھا، لیکن قبائلی حمیت کے فطری اور جائز رجحانات ان دونوں کے اندر زندہ تھے۔ حضور کی حیات مبارک میں تو اس امر کا کوئی اندیشہ نہ تھا کہ بات اپنے حدود سے بڑھ کر کسی بگاڑ کی شکل اختیار کرے گی، لیکن حضور کے بعد اس قسم کا اندیشہ بے محل نہیں قرار دیا جا سکتا تھا۔ ان کے درمیان حصول اقتدار کی کش مکش کااندیشہ اتنا زیادہ نہیں تھا جتنا اندیشہ اس بات کا تھا کہ خدمت دین میں مقابلہ کا جذبہ جو ان دونوں کے اندر موجود ہے، مبادا وہی ان کو کسی کش مکش میں مبتلا کر دے، اس وجہ سے حضور نے مناسب خیال فرمایا کہ اپنی زندگی ہی میں اس نزاع کا فیصلہ فرما دیں۔
یہ نزاع چونکہ امامت عامہ کے لیے تھی، صرف کسی مسجد کی امامت کے لیے نہ تھی، اس وجہ سے ان دونوں گروہوں میں سے کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح اگر حاصل ہو سکتی تھی تو وہ دو ہی چیزوں کی بنا پر حاصل ہو سکتی تھی: ایک دین اور اس کی خدمات۔ دوسری سیاسی زور و اثر۔ جہاں تک دین اور دینی خدمات کا تعلق ہے، یہ دونوں کچھ برابر سے تھے۔ کچھ پہلو اگر قریش (بالفاظ دیگر مہاجرین) کے نمایاں تھے تو چند پہلو انصار کے بھی بہت روشن تھے۔ چنانچہ قرآن نے ان دونوں کی دینی خدمات کا جہاں جہاں ذکر کیا ہے، کچھ اس طرح کے ہم وزن الفاظ استعمال فرمائے ہیں کہ دونوں مساوی الوزن معلوم ہوتے ہیں۔ اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی دونوں کی دینی خدمات کا ذکر اس طرح فرمایا ہے کہ کسی کا پلڑا بھی جھکتا ہوا نظر نہیں آتا۔ اس وجہ سے اس پہلو سے تو ان میں سے کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح دینے کے لیے کوئی وجہ موجود نہ تھی۔
لیکن دوسرے پہلو، یعنی زور و اثر کے لحاظ سے قریش کو انصار پر نمایاں فوقیت حاصل تھی سیاسی زور و اثر تنہا تو اسلام میں کوئی وقعت رکھنے والی چیز نہیں ہے، لیکن دین کے ساتھ مل کر یہ چیز ایک وجۂ ترجیح بن جاتی ہے۔ امامت عامہ، یعنی خلافت و امامت جس طرح دین کو چاہتی ہے، اسی طرح سیاسی زور و اثر کو بھی یہ چاہتی ہے۔ قریش کو چونکہ جاہلیت میں بھی دینی پیشوائی اور سیاسی قیادت کا منصب حاصل رہا تھا، اس وجہ سے اسلام لانے کے بعد یہ چیز اسلام میں بھی ان کو حاصل ہو گئی۔ اہل عرب کے لیے ان کی اطاعت کوئی اوپری اور انوکھی چیز نہیں تھی، بلکہ ایک جانی پہچانی ہوئی چیز تھی۔ وہ جن کی اطاعت جاہلیت میں کرتے رہے تھے، بڑی آسانی کے ساتھ، بغیر کسی کراہت کے، ان کی اطاعت اسلام میں بھی کر سکتے تھے، بشرطیکہ دین مانع نہ ہو۔ سو الحمد للہ اس قسم کا کوئی مانع باقی نہیں رہا تھا، بلکہ قریش نے اسلام کی خدمت میں بھی ایک نمایاں مقام حاصل کر لیا تھا، اس وجہ سے وہ دونوں چیزیں ان کے اندر جمع ہو گئی تھیں جو اسلام میں منصب خلافت و امارت کے لیے استحقاق پیدا کرتی ہیں۔ چنانچہ حضور نے ’الأئمۃ من قریش‘ فرما کر انصار کے مقابل میں قریش کے حق میں فیصلہ فرما دیا اور اس فیصلہ نے اس نزاع کے ختم کرنے میں بڑا کام دیا جو حضور کی وفات کے معاً بعد سقیفہ بنی ساعدہ میں انصار اور مہاجرین کے درمیان اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ یہ خیال بالکل غلط ہے کہ حضور نے یہ فیصلہ قریش کے حق میں ان کی قرشیت کی بنا پر دیا۔ اگر اس وقت کوئی تیسری جماعت میدان میں موجود ہوتی اور وہ اپنی دینی خدمات اور سیاسی قوت و دبدبہ کے لحاظ سے مذکورہ دونوں جماعتوں پر فوقیت رکھنے والی ہوتی تو حضور یہی فیصلہ اس کے حق میں بھی دے سکتے تھے۔

چند شبہات اور ان کے جواب

اگرچہ حدیث کا جو محل ہم نے بتایا ہے، وہ بالکل واضح ہے، لیکن ممکن ہے بعض لوگوں کے ذہن میں چند شبہات پیدا ہوں مثلاً:

ایک یہ کہ کسی معاملہ میں ایک حکم دینے اور کسی قضیہ کا فیصلہ دینے میں آخر وہ کیا باریک فرق ہے جس کی بنا پر یہ کہا گیا ہے کہ یہ امر نہ تھا، بلکہ ایک قضیے کا فیصلہ تھا۔ پھر یہ بات بھی محتاج وضاحت ہے کہ حضور نے خواہ انصار پر قریش کے حق خلافت کو ترجیح دی ہو یا تمام عجم و عرب پر، اس سے نفس مسئلہ زیربحث پر آخر کیا اثر پڑتا ہے؟
دوسرا یہ کہ تاریخ میں اس امر کی کوئی شہادت موجود نہیں ہے کہ حضور کے حین حیات انصار اور مہاجرین کے درمیان خلافت کے متعلق کوئی قضیہ پایا جاتا تھا۔
تیسرا یہ کہ آخر کسی شخص کو یہ علم کس طرح ہو گیا کہ حضور نے قریش کے بارے میں جو کچھ فرمایا، اس سے مقصود دراصل اسی قضیہ کا فیصلہ تھا۔ کیا حضور نے خود اس کی صراحت فرمائی تھی یا آپ کے کلام اور اس کے متعلقات میں کوئی قرینہ ایسا پایا جاتا ہے جس سے یہ منشا مترشح ہوتا ہو؟
چوتھا یہ کہ فلاں اور فلاں علما نے اس عمل پر مسلمانوں کا اجماع نقل کیا ہے کہ کوئی غیر قرشی مسلمانوں کا خلیفہ نہیں ہو سکتا۔
اگرچہ یہ تمام شبہات بالکل سرسری و سطحی ہیں، لیکن ممکن ہے کہ ان سے کسی شخص کے ذہن میں کوئی الجھن پیدا ہو، اس وجہ سے بالاجمال ہم ان کو بھی صاف کیے دیتے ہیں۔
جہاں تک پہلے شبہ کا تعلق ہے، اس کے باب میں گزارش ہے کہ کوئی مستقل حکم دینے اور کسی قضیہ کا وقتی فیصلہ کرنے میں فی الواقع فرق ہے اور وہ فرق ذرا باریک ہے، اس وجہ سے اس کو سمجھنے کی بھی ضرورت ہے اور سمجھانے کی بھی۔ وہ فرق یہ ہے کہ کسی نزاع کا جو فیصلہ ہوا کرتا ہے، اس کا تعلق صرف متعلق پارٹیوں سے ہوا کرتا ہے۔ اس سے یہ لازم نہیں آیا کرتا کہ اگر اسی حق کے لیے کوئی تیسرا فریق اس سے بہتر وجوہ استحقاق کے ساتھ سامنے آئے جو وجوہ ایک فریق کی دوسری پر ترجیح کا باعث ہوئے ہیں جب بھی اس کو ترجیح حاصل رہے گی۔ اگر حضور کا یہ ارشاد کہ خلفا قریش میں سے ہوں، ایک مستقل حکم ہے تب تو صحیح بات یہی ہے کہ کسی اسلامی حکومت کا جائز حکمران کوئی غیر قرشی ہرگز نہیں ہو سکتا، پھر تو ہر اسلامی حکومت میں خلافت کے منصب کے لیے کسی قرشی کا تلاش کرنا ضروری ہو گا۔ اگر اس حکومت میں کوئی قرشی موجود نہیں ہو گا تو باہر سے، اگر کسی ملک میں موجود ہو گا، کوئی قرشی مہیا کرنا پڑے گا۔ اور اگر یہ ایک قضیہ کا فیصلہ ہے تو اس کے معنی صرف یہ ہوں گے کہ خلافت کے معاملہ میں انصار کے بالمقابل قریش کو ترجیح حاصل تھی۔ اس سے یہ لازم نہیں آئے گا کہ قریش کو یہ ترجیح دنیا کے ہر گروہ کے مقابل میں ہمیشہ کے لیے حاصل ہے، خواہ وہ وجوہ ترجیح کے لحاظ سے ان سے زیادہ حق دار ہو۔
نفس مسئلہ زیربحث پر اس کا اثر یہ پڑے گا کہ ترجیح کا پہلو معین ہو کر سامنے آ جائے گا، وہ اس طرح کہ یہ دیکھا جائے گا کہ نزاع کس امر میں تھی اور کن وجوہ کی بنیاد پر تھی اور فیصلہ کس کے حق میں ہوا، اگر قضیہ کی روداد سے یہ ثابت ہو گا کہ انصار اور مہاجرین میں اختلاف خلافت کے لیے تھااور بناے اختلاف نسب و حسب تھا اور پھر یہ معلوم ہو گا کہ حضور نے فیصلہ قریش کے حق میں دیا تو اس کے صاف معنی ہوں گے کہ خلافت کے معاملہ میں اصلی فیصلہ کن عامل درحقیقت حسب و نسب ہے اور اس اعتبار سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے بموجب قریش کو انصار پر ترجیح حاصل ہے۔ اور اگر معاملہ کی روداد سے یہ واضح ہو گا کہ اختلاف خلافت کے لیے تھا اور بناے اختلاف یہ چیز تھی کہ انصار اپنی دینی و اسلامی خدمات اور اپنی سیاسی قوت و شوکت کے اعتبار سے اپنے آپ کو اس کا اہل سمجھتے تھے اور قریش اپنی دینی و اسلامی خدمات اور اپنی سیاسی جمعیت و عصبیت کی بنا پر اپنے آپ کو اس کا حق دار خیال کرتے تھے اور حضور نے فیصلہ قریش کے حق میں دیا تو اس کا واضح مطلب یہ ہو گا کہ اسلام میں خلافت و امارت کا استحقاق اس پارٹی کو حاصل ہوتا ہے جس کو اپنی دینی و اسلامی خدمات اوراپنے سیاسی اثر و رسوخ کے اعتبار سے ملک کی اکثریت کا اعتماد حاصل ہو۔ اس چیز میں حسب و نسب اور خاندانوں کے امتیازات کو کوئی دخل نہیں ہے۔
اب ہر شخص خود غور کر کے یہ بات سمجھ سکتا ہے کہ حضور کے ارشاد کو ایک مستقل امر و حکم ماننے اور ایک نزاع یا قضیہ کا فیصلہ ماننے میں کوئی فرق واقع ہوتا ہے یا نہیں واقع ہوتا ہے۔
دوسرے اعتراض کے جواب میں کئی گزارشیں ہیں:

پہلی گزارش یہ ہے کہ انصار اور مہاجرین کے درمیان کسی قضیہ کے موجود ہونے کے لیے یہی لازم نہیں ہے کہ یہ قضیہ براہ راست خلافت کے لیے ہی ہو۔ خلافت کا سوال تو ظاہر ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ہی اٹھ سکتا ہے۔ قضیہ کے موجود ہونے کے لیے تنہا یہ چیز کافی ہے کہ انصار زور و اثر اور خدمت دین میں اپنے آپ کو قریش کے ہم رتبہ خیال کرتے رہے ہوں اور اس خیال کے سبب سے ان کے اندر فی الجملہ مسابقت اور مقابلہ کی اسپرٹ پائی جاتی رہی ہو۔ سو یہ واقعہ ہے کہ انصار کم از کم اپنے مرکز، یعنی مدینہ میں اپنے آپ کو بڑی طاقت سمجھتے تھے اوران کا یہ سمجھنا بے جا نہیں تھا۔ پھر اسلام کو سربلند کرنے کے لیے انھوں نے جو خدمات انجام دی تھیں، ان کی بنا پر وہ ہر میدان میں اپنے آپ کو مہاجرین کا مدمقابل سمجھتے تھے۔ ان کا یہ احساس اس قدر نمایاں تھا کہ جو شخص اس عہد کی تاریخ پر نگاہ رکھتا ہے، وہ اس حقیقت کا انکار نہیں کر سکتا۔ سقیفہ بنی ساعدہ میں انصار کے لیڈر سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی ایک تقریر ملاحظہ فرمائیے:

یا معشر الأنصار، إن لکم سابقۃ فی الدین و فضیلۃ فی الإسلام لیست بقبیلۃ من العرب. إن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لبث فی قومہ بضع عشرۃ سنۃ یدعوھم إلٰی عبادۃ الرحمٰن و خلع الأوثان فما آمن بہ من قومہ إلا قلیل واللّٰہ ما کانوا یقدرون أن یمنعوا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ولا یعرفوا دینہ ولا یدفعوا عن أنفسہم حتٰی أراد اللّٰہ تعالٰی بکم الفضیلۃ و ساق إلیکم الکرامۃ و خصکم بالنعمۃ ورزقکم الإیمان بہ وبرسولہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم والمنع لہ ولأصحابہ والإعزاز لدینہ والجھاد لأعداۂ فکنتم أشد الناس علٰی من تخلف عنہ منکم وأثقلہ علٰی عدوکم من غیرکم حتٰی استقاموا لأمر اللّٰہ تعالٰی طوعًا و کرھًا وأعطی البعید المقادۃ صاغرًا داحرًا حتٰی أثخن اللّٰہ تعالٰی لنبیہ بکم الأرض و دانت بأسیافکم لہ العرب وتوفاہ اللّٰہ تعالٰی وھو راض عنکم قریر العین فشدوا أیدیکم بھذا الأمر فإنکم أحق الناس وأولاھم بہ فأجابوہ جمیعًا أن قد وفقت فی الرأی وأصبت فی القول.(الامامۃ والسیاسۃ ۱/ ۹)
’’اے گروہ انصار، خدمت اسلام میں جو فضیلت و اولیت تم کو حاصل ہے، عرب کے کسی قبیلہ کو بھی حاصل نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم کو برسوں خداے واحد کی پرستش اور شرک سے باز آنے کی دعوت دیتے رہے، لیکن آپ کی قوم میں سے صرف تھوڑے ہی سے لوگ ایمان لائے۔ ان تھوڑے سے لوگوں کا بھی حال یہ تھا کہ خدا کی قسم، یہ لوگ نہ تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کر سکتے تھے، نہ آپ کے دین کی تبلیغ کر سکتے تھے اور نہ خود اپنی ہی جانوں کی حفاظت کر سکتے تھے، بالآخر اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس شرف سے نوازا اور اس نعمت سے سرفراز کیا اور تمھیں اس بات کی توفیق حاصل ہوئی کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاؤ۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کی حفاظت کرو اور دین کو سربلند کرو اور دشمنان دین سے جہاد کرو۔ اس کے بعد دین سے منحرف رہنے والوں پر سب سے زیادہ سخت تم رہے ہو، عام اس سے کہ یہ تمھارے اندر کے لوگوں میں سے تھے یا باہر کے لوگوں میں سے، یہاں تک کہ خدا کے حکم کے آگے طوعاً یا کرہاً سب کو جھک جانا پڑا۔ دور والوں کو بھی اطاعت کرنی پڑی۔ اللہ نے تمھارے ذریعہ سے اپنے نبی کے لیے زمین کو مفتوح کر دیا اور تمھاری تلواروں کے ذریعہ سے عرب کو مطیع بنا دیا۔ رسول اللہ جب دنیا سے تشریف لے گئے تو وہ تم سے خوش تھے، اس وجہ سے اس خلافت کے سب سے زیادہ حق دار تم ہو۔ اس کو مضبوط ہاتھوں سے پکڑو۔ تمام انصار نے سعد کی اس راے سے اتفاق کیا۔‘‘

کیا کوئی شخص یہ تصور بھی کر سکتا ہے کہ انصار کے اندر یہ احساسات بالکل وقت کے وقت ابھر آئے تھے۔ پہلے سے ان کا کوئی نام و نشان موجود نہیں تھا اور اگر یہ احساسات موجود تھے تو کیا ان کی موجودگی اس بات کی مقتضی نہ تھی کہ حضور اس بارے میں کوئی ایسی رہنمائی دے کے جاتے جو اس نزاع کے حل کرنے میں مددگار ہو سکتی!
انصار کے اسی احساس سے کبھی کبھی منافقین غلط فائدے بھی اٹھا لیتے تھے۔ چنانچہ تاریخوں سے صاف پتا چلتا ہے کہ بعض جذبات انگیز مواقع پر منافقین نے انصار اور مہاجرین کے جذبات ایک دوسرے کے خلاف اس طرح بھڑکا دیے ہیں کہ دونوں پارٹیوں کے لوگوں نے ایک دوسرے کے خلاف تلواریں تک سونت لی ہیں اور حالات اس قدر پیچیدہ ہو گئے ہیں کہ ان پر قابو پانا مشکل ہو گیا ہے۔ مثلاً وہ واقعہ جو غزوۂ مریسیع کے موقع پر پیش آیا۔
سقیفہ بنی ساعدہ کا واقعہ بھی کوئی اتفاقیہ طور پر نہیں پیش آ گیا تھا، بلکہ اس کے لیے بھی ایک سے زیادہ اسباب و محرکات پہلے سے موجود تھے۔ اس میں شبہ نہیں کہ اس فتنہ کے بھڑکانے میں بھی زیادہ ہاتھ منافقین ہی کا تھا، لیکن جب تک بھڑکنے کے لیے کچھ مادہ موجود نہ ہو، اس وقت تک مجرد کسی کی دیا سلائی کیا کام کر سکتی ہے؟ ان تمام حالات کا سب سے زیادہ اندازہ اگر کسی کو ہوسکتا تھا تو وہ حضور ہی کو ہوسکتا تھا اور حضور ہی سب سے زیادہ بہتر طریقہ پر ان خطرات کا سدباب بھی فرما سکتے تھے جن کے اس صورت حال سے پیدا ہونے کا اندیشہ تھا۔ اس وجہ سے یہ بات بالکل معقول اور قرین قیاس ہے کہ حضور نے اپنی حیات مبارک ہی میں اس قضیہ کی موجودگی کو محسوس فرما لیا اور اس کے بارے میں ایک ایسا فیصلہ دے دیا جس سے اس فتنہ کو دبانے میں بڑی مدد ملی جو حضور کی وفات کے معاً بعد منافقین نے اٹھا دیا تھا۔
دوسری گزارش یہ ہے کہ یہ خیال کرنا کچھ صحیح نہیں ہے کہ مسلمانوں کے اندر حضور کی حیات مبارک میں نہ آپ کی وفات کا کوئی تصور پایا جاتا تھا اور نہ آپ کے بعد آپ کی خلافت کا۔ اس طرح کا خیال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و تربیت اور اس عہد کے مسلمانوں کی ذہانت سے متعلق انتہائی بدگمانی کے مترادف ہے۔ اگر حضور اس طرح کے معاملات میں امت کو اندھیرے میں چھوڑ گئے ہوتے تو لوگ پہلے ہی روز سے نہ معلوم کیا کیا فتنے اٹھا دیتے اور وہ بات بالکل غلط ہو کے رہ جاتی جو اس ملت کے بارے میں فرمائی گئی ہے کہ اس کی شب بھی اس کے دن کے مانند روشن ہے۔ اس زمانہ کے ہر مسلمان کو پوری وضاحت کے ساتھ یہ بات معلوم تھی کہ حضور ایک دن وفات پانے والے ہیں اور آپ کی وفات کے بعد اس امت میں خلافت قائم ہونے والی ہے جس کے اصول یہ ہوں گے، جس پر دور فلاں فلاں قسم کے آئیں گے، جس کا آغاز اس قسم کا ہو گا، جس کے وسط کی یہ خصوصیات ہوں گی اور اس کے دور آخر میں یہ فتنے نمودار ہوں گے۔ یہ ساری باتیں نہایت تفصیل کے ساتھ احادیث میں موجود ہیں۔ آخر یہ ساری حدیثیں صحابہ ہی کے ذریعہ سے لوگوں کو پہنچی ہیں۔ پھر یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ آخر وہ ایک ایسے معاملہ پر غور کیوں نہیں کرتے رہے ہوں گے جس کا تعلق براہ راست خود ان کی اپنی زندگیوں سے تھا اور جس پر غور کرنا اور جس کے بارے میں راے قائم کرنا اسلام میں کوئی گناہ کا کام بھی نہیں تھا۔ اگر غیر ضروری طوالت کا اندیشہ نہ ہوتا تو ہم یہاں وہ ساری حدیثیں نقل کر دیتے جو اس باب خاص میں وارد ہیں اور وہ شبہات بھی بیان کر دیتے جو مستقبل سے متعلق انصار کے ایک طبقہ کے ذہنوں میں پائے جاتے تھے۔
تیسرے اعتراض کا جواب ہماری طرف سے یہ ہے کہ جہاں تک حدیث ’الأئمۃ من قریش‘ کا تعلق ہے، اس کے الفاظ تو واضح طور پر نہ یہ بتاتے کہ یہ امر ہے، نہ یہ بتاتے کہ یہ خبر ہے، نہ یہ بتاتے کہ یہ کسی قضیہ کا فیصلہ ہے اور نہ ہی یہ بتاتے کہ یہ حکمت عملی کے تحت اسلام کے اصول مساوات کو توڑ کر قریش کو بربناے نسب تمام عرب و عجم پر ترجیح دینے کے لیے وارد ہوئے ہیں۔ مجرد اس حدیث کے الفاظ ان مفہوموں میں سے کسی مفہوم کو بھی قطعی طور پر متعین کرنے والے نہیں ہیں، اس وجہ سے اہل فن کے عام طریقہ کے مطابق اس حدیث کی تاویل کی جائے گی۔
تاویل کے معاملہ میں اہل تاویل کا قاعدہ یہ ہے کہ وہ کسی آیت یا حدیث کی تاویل اس طرح کرتے ہیں کہ اسلام کے دوسرے واضح اور قطعی احکام سے کسی تصادم کے بغیر اس کا مدعا متعین ہو جائے اور قرائن و حالات سے اس مدعا کی تائید و تصدیق ہو جائے۔
اب آئیے دیکھیے کہ ہم نے جو اس حدیث کو انصار و قریش کے مابین ایک قضیہ کے فیصلہ کے مفہوم میں لیا ہے اور نسب و خاندان کے بجاے قریش کی دینی خدمات اور پورے عرب پر ان کی دھاک کو انصار کے مقابل میں ان کی ترجیح کا سبب قرار دیا ہے تو اس کے وجوہ کیا ہیں؟
اس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ انصار اور مہاجرین کے درمیان، جیسا کہ ہم نے اوپر عرض کیا، مسابقت اور مقابلہ کی ایک اسپرٹ موجود تھی جس سے منافقین کبھی کبھی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارک میں بھی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے رہتے تھے، اس وجہ سے یہ اندیشہ بعید نہیں تھا کہ اس اسپرٹ سے منافقین حضور کی وفات کے بعد خلافت کے معاملہ میں فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔ یہ اندیشہ مقتضی ہوا کہ حضور اس بارے میں کوئی واضح فیصلہ دے دیں تاکہ اگر کوئی فتنہ سر اٹھائے تو اس کا موثر طریقہ پر مداوا ہو سکے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ اس قسم کے مقابلہ کا اگر کوئی اندیشہ ہو سکتا تھا تو صرف انصار ہی کی طرف سے ہو سکتا تھا۔ اس زمانہ میں پورے عرب میں انصار کے سوا کوئی جماعت ایسی نہیں تھی جو اپنی اسلامی خدمات اور اپنی سیاسی جمعیت کے لحاظ سے یہ درجہ رکھتی ہو کہ قریش کی ہم سری کا حوصلہ کر سکے۔ اس وجہ سے دوسرے نہ اس قضیہ میں کوئی پارٹی بننے کا دم داعیہ ہی رکھتے تھے اور نہ ان سے اس فیصلہ کے تعلق کی کوئی اور وجہ موجود تھی۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ اسلام میں کوئی گروہ اپنی مذہبی خدمات اور اکثریت کے اعتماد کے حامل ہونے کی بنا پر تو یہ حق رکھتا ہے کہ حکومت و خلافت کے معاملہ میں اس کو دوسروں پر ترجیح حاصل ہو، لیکن کسی خاص قبیلہ یا برادری سے ہونے کی بنا پر اسلام میں کسی کو کسی پر ادنیٰ سے ادنیٰ معاملہ میں بھی کوئی ترجیح حاصل نہیں ہے۔ قرآن میں فرمایا گیا ہے:

یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّاُنْثٰی وَجَعَلْنٰکُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَآءِلَ لِتَعَارَفُوْا اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰکُمْ.(الحجرات ۴۹:۱۳)
’’اے لوگو، ہم نے تم کو جو خاندانوں اور گروہوں میں تقسیم کیا ہے تو یہ محض اس لیے کہ یہ چیز تمھارے لیے شناخت اور تعارف کا ذریعہ بنے۔ اللہ کے نزدیک عزت والا تم میں سے وہ ہے جو سب سے زیادہ خدا سے ڈرنے والا ہے۔‘‘

اسی طرح حدیث میں وارد ہے کہ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے، مگر دین اور تقویٰ کے پہلو سے۔ قرآن اور حدیث کے ان نصوص کے ہوتے ہوئے ’الأئمۃ من قریش‘ کے یہ معنی لینے کی کوئی گنجایش باقی نہیں رہتی کہ اس ترجیح میں کوئی دخل قریش کی قرشیت کو بھی ہے۔ قرآن و حدیث کے مطابق بات یہی ہو سکتی ہے کہ حضور نے ان کو یہ ترجیح ان کی دینی خدمات اور ان کے اس عام اعتماد و رسوخ کی بنا پر دی ہو جو پورے عرب میں ان کو اس وقت حاصل تھا، یہاں تک کہ انصار بھی اس چیز میں ان کے مدمقابل نہیں ہو سکتے تھے۔
چوتھی وجہ یہ ہے کہ حضور کے ان الفاظ سے بھی یہی مترشح ہوتا ہے کہ اس ترجیح کا سوال درحقیقت انصار کے مقابل ہی میں پیدا ہوا تھا اور وجۂ ترجیح قریش کی نسبی برتری نہیں تھی، بلکہ ان کا وہ رسوخ و اعتماد تھا جو پورے عرب میں ان کو حاصل تھا۔ چند روایات ملاحظہ ہوں۔
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ انصار کے لیڈر حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو قائل کرنے کے لیے فرماتے ہیں:

لقد علمت یا سعد أن رسول اللّٰہ قال و أنت قاعد: قریش ولاۃ ھذا الأمر خیر الناس تبع لبرھم و فاجرھم تبع لفاجرھم، فقال سعد: صدقت.
’’اے سعد، تم جانتے ہو کہ رسول اللہ نے تمھارے سامنے یہ بات فرمائی تھی کہ اس خلافت کے حامل قریش کو ہونا چاہیے، کیونکہ عرب کے اخیار ان کے اخیار کے پیرو رہے ہیں اور ان کے اشرار ان کے اشرار کے، تو حضرت سعد نے کہا: آپ نے ٹھیک کہا۔‘‘

انھی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے:

ولم تعرف العرب ھذا الأمر إلا لھٰذا الحی من قریش.
’’اہل عرب قریش کے سوا اور کسی کی قیادت سے آشنا نہیں ہیں۔‘‘

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

عن رسول اللّٰہ الناس تبع لقریش صالحھم تبع لصالحھم وشرارھم تبع لشرارھم.
’’رسول اللہ سے روایت ہے کہ اہل عرب قریش کے تابع ہیں، ان کے نیک ان کے نیکوں کے اور ان کے بد ان کے بدوں کے۔‘‘

بعینہٖ یہی مضمون مختلف روایات میں مختلف اسلوبوں سے بیان ہوا ہے۔ اس بیان کا موقع و محل اس کے سوا کیا ہو سکتا ہے کہ اگر کسی جماعت کے اندر یہ خیال پایا جاتا ہو کہ آں حضور کے بعد خلافت کی ذمہ داریوں کی حامل وہ بھی ہو سکتی ہے تو اس پر یہ بات واضح ہو جائے کہ اس بوجھ کے اٹھانے کے اس وقت صحیح اہل صرف قریش ہی ہو سکتے ہیں۔ اس لیے کہ اہل عرب کا اعتماد انھی کو حاصل ہو سکتا ہے۔ غور کیجیے کہ اس زمانہ میں اس کلام کا اصلی مخاطب انصار کے سوا اور کون ہو سکتا تھا؟ اور پھر اس امر پر غور کیجیے کہ قریش کی ترجیح کی جو وجہ بیان کی گئی ہے، اس میں ان کے نسب اور برادری کا حوالہ ہے یا اس بات کا حوالہ ہے کہ جس طرح ان کو جاہلیت میں اہل عرب کا اعتماد حاصل رہا ہے، اسی طرح اسلام میں بھی ان کو اہل عرب کا اعتماد حاصل ہے، اس وجہ سے خلافت کے حق دار وہی ہیں۔ جس طرح جمہوری نظاموں میں ملک کی اکثریت کا اعتماد رکھنے والی پارٹی کو حکومت بنانے کا حق دار سمجھا جاتا ہے، اسی طرح قریش کو ان کی دینی خدمات اور ان کے عام معتمد علیہ ہونے کی بنا پر حامل خلافت ہونے کا حق دار قرار دیا گیا۔
چوتھے اعتراض، یعنی خلافت کے لیے قرشیت کی شرط پر اجماع کا جو ذکر کیا جاتا ہے تو اس کے جواب میں ہماری گزارش یہ ہے کہ اس اجماع سے مراد اگر وہی اجماع ہے جو سقیفہ بنی ساعدہ میں بموجودگی تمام اکابر مہاجرین و انصار ہوا ہے تو اس اجماع کا پتا تمام دنیا جہان کو ہے۔ ہم کو نہ اس کے وقوع سے انکار ہے اور نہ اس کی صحت سے۔ لیکن اگر اس اجماع سے کوئی اور اجماع مراد ہے تو اس کا پتا صرف امام نسفی اور شہرستانی صاحب کو ہو گا۔ ان کے سوا کسی اور کو اس اجماع کا پتا نہیں ہے۔ سقیفہ بنی ساعدہ کے اجماع کے متعلق ہم پورے اعتماد کے ساتھ یہ راے رکھتے ہیں کہ یہ اجماع اسلام کے کسی اصول کے خلاف نہیں ہوا ہے، بلکہ ٹھیک ٹھیک اسلام کے اصولوں کے مطابق ہوا ہے اور یہ خصوصیت صرف اسی اجماع کی نہیں ہے کہ یہ اسلام کے کسی اصول کے خلاف نہیں ہوا ہے، بلکہ اسلام کی پوری تاریخ میں ایک اجماع بھی ایسا نہیں ہے جو اسلام کے کسی اصول کو توڑ کر وجود میں آیا ہو، بلکہ ہمارا کہنا تو یہ ہے کہ اس اجماع کی صحت کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اسلام کے کسی اصول کے خلاف نہ ہو۔ اگر کوئی اجماع اسلام کے کسی اصول کے خلاف ہو تو وہ اجماع، اسلام کے شرائط و اجماع کی رو سے، اجماع ہی نہیں ہے، وہ اجماع باطل ہے۔
سقیفہ بنی ساعدہ میں جو اجماع ہوا ہے، وہ اس بات پر نہیں ہوا کہ خلافت کے معاملہ میں قریش کو ان کی قرشیت کی بنا پر ترجیح حاصل ہے، بلکہ، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، یہ اجماع اس بات پر ہوا ہے کہ قریش کی دینی خدمات، ان کی سیاسی حیثیت اور ان کے اثر و اقتدار کی بنا پر ان کو دوسروں پر ترجیح حاصل ہے۔ اگر قریش کو یہ چیزیں حاصل نہ ہوتیں، بلکہ وہ ان اعتبارات سے دوسروں کے مقابل میں فروتر ہوتے تو یہ اجماع ہرگز ان کے حق میں نہ ہوتا، حالاں کہ باعتبار نسبت وہ ان چیزوں کے بغیر بھی قریش ہی رہتے، غیر قریش نہ بن جاتے۔ اگر اس معاملہ میں قریش کی قرشیت اصل چیز ہوتی تو قریش کے لیڈروں کا سقیفہ بنی ساعدہ میں بنیادی نقطۂ بحث یہ ہوتا کہ اسلام میں خلیفہ بننے کے لیے قرشی ہونا شرط ہے اور ان کی طرف سے صرف اسی ایک نقطہ کو ثابت کر دینے کے بعد ساری بحث ختم ہو جاتی۔ لیکن آپ انصار اور مہاجرین، دونوں کے لیڈروں کی تقریریں ابن قتیبہ کی ’’الامامۃ والسیاسۃ‘‘ یا تاریخ کی کسی کتاب میں پڑھیے تو صاف نظر آتا ہے کہ دونوں کے سامنے وجوہ ترجیح کی فہرست میں وہی چیزیں ہیں جن کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے۔ اگر فی الواقع اسلام میں نسب اور برادری کے سوال کو یہ اہمیت ہوتی جو بتائی جا رہی ہے تو پھر خلافت کے اصلی حق دار بنی ہاشم تھے ، اس لیے کہ نسب کے شرف کے معاملہ میں ان کا کوئی حریف نہیں ہو سکتا تھا۔ لیکن اصلی سوال زور و اثر اور عوامی اعتماد کا تھا اور یہ چیز قریش کو بحیثیت مجموعی، بحیثیت ایک سیاسی تنظیم کے تو حاصل تھی، لیکن ان کی شاخوں میں سے کسی کو یا ان کے افراد کو ان کی انفرادی حیثیت میں اس درجہ حاصل نہیں تھی کہ وہ اس استحقاق میں اس وقت کے سارے حریفوں پر بازی لے جاتے۔ اسی وجہ سے حضور نے بھی یہ نہیں فرمایا ہے کہ امیر یا امام کا قرشی ہونا شرط ہے، بلکہ یہ فرمایا کہ امرا و خلفا قریش میں سے ہوں، جس سے صاف واضح ہوتا ہے کہ حضور کے اس فیصلہ کی بنیاد قریش کی سیاسی حیثیت پر ہے، نہ کہ ان کے نسب و خاندان پر۔
اگر حضور کے ارشاد کا صحابہ رضی اللہ عنہم نے یہ مطلب سمجھا ہوتا کہ خلافت کے لیے قرشیت کی شرط اسلامی دستور کی ایک دفعہ ہے اور پھر اس چیز پر سقیفہ بنی ساعدہ میں انصار و مہاجرین کا اجماع ہو گیا ہوتا تو خلیفۂ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جو اس اجماع کے ایک رکن رکین تھے اپنے زمانہ میں خلافت کے لیے ایسے لوگوں کے نام لینے کی جرأت کس طرح فرماتے جو قرشی نہیں تھے؟ ہر شخص جانتا ہے کہ آخیر وقت میں جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے یہ خواہش کی گئی کہ آپ اپنے بعد خلافت کے لیے کسی کو نام زد فرما دیں تو بڑی حسرت کے ساتھ فرمایا کہ کس کو نام زد کروں؟ اگر معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ زندہ ہوتے تو ان کو نام زد کر دیتا۔ اگر میرا رب مجھ سے پوچھتا کہ امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زمام کس کے ہاتھ میں دے کے آئے ہو؟ تو میں عرض کر دیتا کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے، اس لیے کہ میں نے تیرے رسول کو یہ فرماتے سنا تھا کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ قیامت کے دن تمام علما کے آگے آگے ہوں گے۔
اسی طرح انھوں نے سالم مولیٰ ابی حذیفہ رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا کہ اگر سالم زندہ ہوتے تو انتخاب خلیفہ کے لیے جو شوریٰ میں نے بنائی ہے، اس کی نوبت ہی نہ آتی۔ میں خلافت کے لیے ان کو نام زد کر دیتا۔
غور فرمائیے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس حسرت کے ساتھ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا نام لیتے ہیں، حالاں کہ وہ قرشی نہیں تھے، بلکہ انصاری تھے۔ اگر خلافت کے لیے قرشیت کی شرط پر اجماع ہو چکا ہوتا اور اس کی حیثیت ایک دستوری حکم کی ہوتی تو کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس اجماع کا اور اسلام کے اس دستوری حکم کا پتا نہیں تھا؟ اس اجماع کی حقیقت اور اسلام کے دستور سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ زیادہ واقف ہیں یا نسفی صاحب اور شہرستانی صاحب؟ پھر یہ بھی نگاہ میں رہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ بات اس زمانہ میں فرماتے ہیں جب قریش مٹ نہیں گئے تھے، بلکہ اپنی پوری قوت و شوکت کے ساتھ باقی تھے اور ان کے اندر عثمان غنی اور علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہم کے پایہ کے لیڈر موجود تھے۔
پھر اس سے زیادہ عجیب تر معاملہ حضرت سالم رضی اللہ عنہ کا ہے۔ یہ قرشی تو درکنار نسلاً عربی بھی نہیں تھے، بلکہ باتفاق عجمی تھے اور عجمی بھی کوئی آزاد عجمی نہیں، بلکہ ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ یا ان کی بیوی کے آزاد کردہ غلام۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ ہوتے تو وہ ان کو نام زد فرما دیتے۔
اصل یہ ہے کہ معاملہ قرشیت اور غیرقرشیت کا نہیں تھا، بلکہ سوال عامۂ مسلمین کے اعتماد کا تھا۔ اس زمانہ میں قریش کو عام مسلمانوں کا جو اعتماد حاصل تھا یا حاصل ہو سکتا تھا، اس کی بنا پر وہی خلافت کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے اہل تھے، اور اپنے اس زور و اثر کے سبب سے اگر وہ کسی انصاری یا کسی عجمی نژاد آزاد کردہ غلام کو بھی اپنا معتمد اور خلیفہ بنا لیتے تو وہ بھی اس ذمہ داری کو سنبھال سکتا، لیکن ان کے اعتماد کے بغیر کسی کا حکومت چلانا ناممکن تھا۔ اس وجہ سے حضور نے فرمایا کہ خلفا قریش میں سے ہوں۔ اب آپ خود غور فرمائیے کہ عوام کے اعتماد اور حسن ظن کی بنا پر حکومت چلانے کے معاملہ میں اگر کسی جماعت کو دوسری مقابل جماعتوں پر ترجیح دی جائے تو کیا یہ وہ ترجیح ہے جس کے سبب سے اسلام کے اصول مساوات پر کوئی ضرب آئے؟ اس طرح کی ترجیح تو آج کے جمہوری نظاموں میں جمہوریت کا اصلی جمال سمجھی جاتی ہے، لیکن ہماری بدقسمتی دیکھیے کہ اسی چیز نے ہمارے ہاں نہ صرف اسلام کے ایک ستون کو ڈھا دیا، بلکہ حکمت عملی کے نام سے دوسرے بہت سے ستونوں کو ڈھانے کے لیے ایک بہت بڑے فتنے کو بھی جنم دے دیا۔

ابن خلدون کا نظریہ

اس بحث میں ہم مختصر طور پر یہاں ابن خلدون کے سیاسی نظریہ کی بھی وضاحت کیے دیتے ہیں۔
ابن خلدون کے مقدمہ پر جو لوگ گہری نظر رکھتے ہیں، وہ اس حقیقت سے اچھی طرح باخبر ہیں کہ اس کے سیاسی نظریہ کی ساری بنیاد سیاسی وحدت و عصبیت کے وجود پر ہے۔ یہ سیاسی وحدت و عصبیت اس کے نزدیک نسل و خون کے اشتراک سے پیدا ہوتی ہے، نسل و نسب کا اشتراک باہمی تعاون و تناصر پیدا کرتا ہے، اور اس تعاون و تناصر سے حمایت و مدافعت اور حصول اقتدار کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے اور پھر حکومت وجود میں آتی ہے۔
ابن خلدون کے نزدیک سیاسی عصبیت جو حکومت کی بنیاد ہے، اگرچہ وجود میں آتی ہے نسل و نسب کے اشتراک سے، لیکن وہ نسل و نسب کو اسی وقت تک کوئی قابل لحاظ چیز قرار دیتا ہے جب تک اس کا شعور اس تعاون و تناصر کے پیدا کرنے میں ممد و معاون ہو جس کا ذکر ہوا۔ اگر نسب کا اشتراک یہ فائدہ نہ دے رہا ہو تو ابن خلدون کے نزدیک نہ صرف یہ کہ سیاست میں اس نسب کا کوئی لحاظ نہیں ہے، بلکہ اس طرح کے نسب کے ادعا کو وہ محض ایک وہم اور ایک خبط قرار دیتا ہے۔
اس کے فلسفہ کی رو سے قریش کے سیاسی زور و اثر کی بنیاد ان کی عصبیت پر تھی جس کے ساتھ دین نے مل کر ان کو خلافت کا مستحق بنا دیا، کیونکہ پورے عرب میں اس اعتبار سے ان کا کوئی حریف نہ تھا۔ جب تک ان کی یہ عصبیت قائم رہی، وہ اس منصب کے اہل رہے۔ جب وہ مضمحل ہو گئی تو دوسری طاقت ور عصبیتوں نے ان کو چیلنج کیا اور حکومت ان کی طرف منتقل ہو گئی۔
ابن خلدون کا سیدھا سادہ فلسفہ یہ ہے جو ہم نے پیش کیا ہے۔ اب غور فرمائیے کہ اگر اس کے نزدیک قریش کے استحقاق خلافت کی بنیاد ان کی اس بالاتری پر ہے جو ان کو ان کی سیاسی عصبیت اور جماعتی زور و اثر کی بدولت دوسروں کے بالمقابل حاصل تھی تو اس کے اس نظریہ کو کوئی شخص صحیح مانے یا غلط، لیکن یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ اس سے اسلام کا کوئی اصول ٹوٹتا ہے۔ وہ تو اگر اس دور کا آدمی ہوتا تو شاید اپنی بات اس طرح کہتا کہ چونکہ اس وقت عرب کی تمام پارٹیوں میں اسلامی اور سیاسی، دونوں نقطہ ہاے نظر سے قریش سب سے زیادہ طاقت اور اعتماد کے حامل تھے، اس وجہ سے حضور نے انھی کو حکومت چلانے کے لیے منتخب کیا۔
(اسلامی ریاست ۴۹۔۶۴)

________

* المستدرک علی الصحیحین، رقم ۶۹۶۲۔

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت فروری 2016
مصنف : امین احسن اصلاحی
Uploaded on : Apr 14, 2018
143 View