اخلاقی اقدار کا زوال - ابو یحییٰ

اخلاقی اقدار کا زوال

 

ہماری تہذیبی اور اخلاقی اقدار کے روز افزوں زوال کے پیچھے کام کرنے والا سب سے مؤثر عامل نوجوانوں کی شادی میں تاخیر ہے۔ نکاح کی فطری ضرورت کو نظر انداز کرنے سے یہ جبلی تقاضا معدوم نہیں ہو جاتا۔ جس معاشرے میں بلوغ کی عمر پر ۱۵ سے ۲۰ سال بغیر نکاح کے گذارنا ایک معمول ہو وہاں بے راہ روی کا پھیلنا زیادہ بڑی بات نہیں ہے۔ آج ہماری سوسائٹی میں فیشن کے نام پر بے حجابی، فن اور انٹرٹینمنٹ کے نام پر فحاشی و عریانی، ایڈورٹائزنگ کے نام پر عورتوں کی نسوانی کشش کے ذریعے اشیاء کی فروخت اور فلموں، ڈراموں کے نام پر مرد و عورت کے باہمی اختلاط، دوستی اور عشق و محبت کی تلقین کا جو رواج عام ہوچکا ہے، اس کا ہماری اخلاقی اقدار سے کیا تعلق۔ اس سیلاب کے آگے اگر بندھ نہ باندھا گیا تو یہ سیل بے پناہ ہماری بچی کھچی اخلاقی اقدارکو اپنے ساتھ بہا کر بہت جلد ہمیں اس مقام پر پہنچا دے گا جس کا اظہار برطانیہ میں کئے گئے ایک حالیہ سروے سے ہوتا ہے۔ اس سروے کے مطابق ۱۰۰ میں سے ۹۹ برطانوی لڑکیاں شادی کے وقت کنواری نہیں ہوتیں۔ شادی میں تاخیر اس سیلاب کو پھیلانے کا اولین اور سب سے اہم سبب و محرک بن جاتا ہے۔
اہل مغرب کا ذکر آ گیا ہے تو ہم قارئین پر یہ واضح کرتے چلیں کہ اس معاملے میں ان کا طرزِ عمل کیا ہے۔ جب انہیں شادی میں تاخیر کے مسئلے کا سامنا ہوا تو وہ ہماری طرح آنکھیں میچ کر نہیں بیٹھ گئے بلکہ انہوں نے شادی کو تو تیس چالیس سال کی عمر تک موخر کردیا لیکن جنس کے جبلی جذبے کی رعایت کرتے ہوئے شادی کے بغیر مرد و عورت کے ساتھ رہنے کو ایک معاشرتی قدر کے طور پر قبول کرلیا اور اسے باقاعدہ قانونی حیثیت دے دی۔ اس کے جو منفی نتائج بعض دوسرے حوالوں سے نکلے، ان سے قطع نظر، انہوں نے اپنے اس مسئلے کو ’’خوش اسلوبی‘‘ سے حل کر لیا۔

------------------------------

بشکریہ: ریحان احمد یوسفی

مصنف : ابو یحییٰ
Uploaded on : May 25, 2016
609 View