پولیو ویکسینیشن مہم سے دشمنی - ڈاکٹر خالد ظہیر

پولیو ویکسینیشن مہم سے دشمنی

  

[یہ ڈاکٹر خالد ظہیر کے انگریزی مضمون’’ Hostility to Polio Vaccine ‘‘کا اردو ترجمہ ہے۔ یہ مضمون ۲۰ ؍ دسمبر 
۲۰۱۳ء کو انگریزی روز نامہ ’’Dawn‘‘ میں شائع ہوا تھا۔ رانا معظم صفدر نے اسے انگریزی سے اردو میں منتقل کیا ہے۔]

 

پاکستان میں بچوں کو پولیو کے مرض سے بچانے کے لیے سرکاری سطح پر پولیو کی ویکسینیشن کا انتظام کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے باقاعدہ ایک مہم کے طریقے پر ٹیمیں گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو کے قطرے پلاتی ہیں۔ اس مہم کے حوالے سے بعض لوگ مذہبی بنیادوں پراستدلال کرتے ہوئے اس کے خلاف بات کرتے ہیں ۔
اس ضمن میں بالعموم دو استدلال پیش کیے جاتے ہیں :
ایک یہ کہ پولیو ویکسینیشن مہم مسلمانوں کے خلاف غیر مسلموں کی ایک سازش ہے۔ اس کے ذریعے سے وہ مسلمانوں کی آنے والی نسلوں کو اولاد کے لیے نااہل اور بانجھ بنا رہے ہیں اور اس کا مقصد دنیا میں مسلمانوں کی تعداد کو کم کرنا ہے ۔ سازش ہونے کی دلیل میں وہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کی جعلی ہیپاٹائٹس مہم کو بطور مثال پیش کرتے ہیں۔
دوسرا استدلال یہ کہ پولیو کے مرض سے لاحق ہونے والی معذوری اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے بندوں کے لیے ایک آزمایش ہے۔ اس طرح کی مہم کے ذریعے سے پولیو کی روک تھام کا اقدام اللہ کے معاملے میں مداخلت کرنے کے مترادف ہے۔ پولیو کے مریضوں کو چاہیے کہ وہ اسے اللہ کی آزمایشوں میں سے ایک آزمایش مان کر اس پر صبر کا رویہ اختیار کریں۔
ہمارے ہاں صورت حال یہ ہے کہ کسی معاملے میں اگر مذہب کا حوالہ دے کر بات کی جائے تو لوگ یہ غور کیے بغیر کہ وہ واقعی مذہب کا حکم ہے یا نہیں، اس پر عمل پیرا ہو جاتے ہیں ۔ یہ رویہ درست نہیں ہے۔ صحیح رویہ یہ ہے کہ ہمیں ہر راے کو قرآن و سنت کی روشنی میں پرکھ کر دیکھنا چاہیے کہ وہ فی الواقع ان کے مطابق ہے یا مطابق نہیں ہے۔
اب جہاں تک پہلے استدلال کا تعلق ہے تو اس طرح کے معاملات میں قرآن مجید کی نہایت واضح ہدایت موجود ہے جسے ہمیں ہرحال میں ملحوظ رکھنا چاہیے۔
عہد رسالت میں فتنہ پرداز لوگ جھوٹی افواہیں پھیلا دیتے تھے ، جس پر بعض اوقات لوگوں میں یقینی و بے یقینی کی کیفیت پیدا ہو جاتی۔ قرآن مجیدنے اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے بڑی واضح رہنمائی فرمائی کہ اس طرح کے موقع پر کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ ارشاد فرمایا:

وَاِذَا جَآءََ ھُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِہٖ وَلَوْ رَدُّوْہُ اِلَی الرَّسُوْلِ وَاِلآی اُولِی الْاَمْرِ مِنْھُمْ لَعَلِمَہُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْبِطُوْنَہٗ مِنْھُمْ.(النساء ۴: ۸۳)
’’اور جب ان کو کوئی بات امن یا خطرے کی پہنچتی ہے تو وہ اسے پھیلا دیتے ہیں اور اگر یہ اس کو رسول اور اپنے اولوالامر کے سامنے پیش کرتے تو جو لوگ ان میں سے بات کی تہ کو پہنچنے والے ہیں، وہ اس کو اچھی طرح سمجھ لیتے۔ ‘‘

بہ الفاظ دیگر قرآن نے بڑی وضاحت سے اس طرح کے معاملات کے لیے ہدایت فرمادی ہے کہ اگر معاشرے کے کسی اجتماعی مسئلے کے بارے میں طرح طرح کی معلومات پھیل رہی ہوں تو حکمرانوں کے ذریعے سے اس مسئلے کے ماہرین سے تصدیق حاصل کر لی جائے تاکہ معلوم ہو جائے کہ اصل حقیقت کیا ہے۔
پولیو ویکسینیشن سے متعلق خدشات میں بھی بالکل اسی طرح ہونا چاہیے کہ اس مہم کے حوالے سے معاشرے میں پھیلی سازش کی بات کے بارے میں ماہرین سے تصدیق حاصل کی جائے۔
چنانچہ اس سلسلے میں حکومت پاکستان کی جانب سے اس شعبے کے ماہرین کی ایک ٹیم مقرر کی جائے جو پولیو کی جعلی ویکسینیشن کے حوالے سے تحقیق کرے۔ عوام کے کامل اطمینان اور پوری طرح اعتماد کے لیے اس انکوئری ٹیم میں کم از کم ایک مذہبی نمایندے کو بھی شامل ہونا چاہیے۔
اس اقدام کے حوالے سے حکومت کو عوام پر یہ واضح کر دینا چاہیے کہ یہ عمل قرآن مجید کی ہدایت پر کیا جا رہا ہے۔ چنانچہ کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں جو قانون بنایا جائے، اس پر لوگوں کو اعتماد کرنا ہو گا اور وہ اس کے فیصلے کے پابند ہوں گے۔
جہاں تک دوسرے استدلال کا تعلق ہے کہ اس دنیا میں ہمارے لیے مشکلات ہیں جن کا ہمیں ہر حال میں سامنا کرنا ہے۔ اور یہ مشکلات درحقیقت ہمارے اخروی فائدے کے لیے ہیں، اس لیے ہمیں انھیں جھیلتے ہوئے کسی قسم کی آسانی یا بچاؤ میں نہیں پڑنا چاہیے۔ یہ بات بالکل ٹھیک ہے کہ مشکلات اللہ کی طرف سے ہوتی ہیں، جن کا ہمیں سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن اللہ ہم سے یہ توقع رکھتا ہے کہ ہم جس حد تک ممکن ہو، اپنی حفاظت اور اپنی آسانی کے لیے اقدامات کریں۔ اسی طرح کے ایک موقع پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے شخص کو جس نے اپنے اونٹ کو نکیل اس وجہ سے نہیں ڈالی کہ اس نے اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑا، یہ فرمایا تھاکہ پہلے تم نکیل ڈالو پھر اللہ پر معاملہ چھوڑو۔
قرآن اس حقیقت کوبیان کرتا ہے کہ اللہ نے قدرت میں ایسے عناصر کا بندوبست کیا ہے جو بیماریوں سے بچا سکیں۔ اس لیے پولیو اگر انسانی صحت کے لیے ایک خطرہ ہے تو اللہ کی منشا یہی ہے کہ ہمیں اس سے بچاؤ کے لیے ان تمام سائنسی ایجادات سے فائدہ اٹھانا چاہیے جو انسانوں نے پولیو سے بچنے کے لیے کی ہیں۔
مزید یہ کہ قرآن مجید مسلمانوں کو اولو الامر، یعنی حکمرانوں کی اطاعت کا پابند کرتا ہے ۔ قرآن میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ.(النساء ۴: ۵۹)
’’اے ایمان والو، اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اولوالامر کی۔‘‘

کسی شخص کو یہ اجازت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ ایسی کسی مہم کو روکے جس کو حکومت پارلیمنٹ سے منظور ہونے کے بعد نافذکر چکی ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پارلیمنٹ باہمی مشاورت کے بعد قانون سازی کرتی ہے اور یہ اسلام کے اصول کے عین مطابق ہے۔ ۱؂ اور حکمران ان فیصلوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی بنیاد پر نافذ کرتے ہیں۔ ۲؂
مسلمانوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اللہ کے ان دونوں احکام پرعمل کریں۔ تاہم، اگر وہ حکومت کے کسی فیصلے پر تحفظات رکھتے ہوں تو وہ انھیں پارلیمنٹ کے سامنے رکھیں اورانھیں قائل کریں یا پھر وہ عدلیہ کا سہارا لیں۔ اس طرح کے موقعوں کے لیے سورۂ نساء کی اسی آیت کا دوسرا حصہ رہنمائی دیتا ہے، یعنی اگر کسی امر میں تمھارے درمیان اختلاف راے ہو جائے تواس کو اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ۔
مذہبی معاملات میں اندھی تقلید کے رجحان کا یہ نتیجہ ہے کہ ایک ریاست کے اندر کئی چھوٹی ریاستیں بن جاتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عوام ان معاملات میں حکومت کی بات ماننے کے بجاے اپنے رہنما کی بات ماننے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ اس طرح کی باتوں میں حکومت کو دخل اندازی ہی نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے بارے میں اللہ اور اس کا رسول پہلے ہی فیصلہ دے چکے ہیں۔
مسئلے کا صحیح حل یہ ہے کہ ریاست کے تمام شہریوں پر ریاست اپنے اختیار کے مطابق فیصلہ نافذ کرے۔ پولیو کی ویکسینیشن کے معاملے میں بھی حکومت جو بھی فیصلہ کرے، لوگ اس کی پابندی کریں۔

_______

۱؂ الشوریٰ ۴۲: ۳۸۔ ’وَاَمْرُھُمْ شُوْرٰی بَیْنَھُمْ‘ (اور ان کا نظام باہمی مشورے پر مبنی ہے)۔
۲؂ النساء ۴: ۵۹۔ ’یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ذٰلِکَ خَیْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِیْلًا‘ (اے ایمان والو، اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اولوالامر کی۔ پس اگر کسی امر میں تمھارے درمیان اختلاف راے واقع ہو تو اس کو اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔ یہ طریقہ بہتر اور بہ اعتبار مآل اچھا ہے)۔

 

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت اکتوبر 2015
مصنف : ڈاکٹر خالد ظہیر
Uploaded on : Jan 18, 2016
857 View