مسلمانوں کی ریاست کی خارجہ پالیسی - سید منظور الحسن

مسلمانوں کی ریاست کی خارجہ پالیسی

 

درس قرآن کے بعد سوال و جواب کی نشست میں جناب جاوید احمد صاحب غامدی سے یہ سوال کیا گیا کہ مسلمانوں کی ریاست کی خارجہ پالیسی کیا ہوتی ہے؟اس کے جواب میں انھوں نے بیان کیا کہ مسلمانوں کی ریاست کی خارجہ پالیسی کے دو بنیادی اصول ہیں: ایک ، حق و عدل پر قائم رہنا اور بوقت ضرورت اس کی شہادت دینا اور دوسرے ،دنیا میں ظلم و عدوان کے خلاف جدوجہد کرنا۔ ان اصولوں کی روشنی میں پالیسی ریاست کے ارباب حل و عقد خود وضع کریں گے۔
عدل و انصاف کے اصول کی وضاحت کرتے ہوئے جاوید صاحب نے قرآن مجید کی ان آیات کا حوالہ دیا:

’’ایمان والو، انصاف پر قائم رہنے والے بنو، اللہ کے لیے اس کی شہادت دیتے ہوئے، اگرچہ اس کی زد خود تمھاری اپنی ذات، تمھارے والدین اور تمھارے اقربا ہی پر پڑے۔ کوئی امیر ہو یا غریب، اللہ ہی دونوں کے لیے احق ہے۔ اس لیے تم خواہش نفس کی پیروی نہ کرو کہ حق سے ہٹ جاؤ اور اگر اسے بگاڑو گے یا اعراض کرو گے تو یاد رکھو کہ اللہ تمھارے ہر عمل سے باخبر ہے۔‘‘(النساء  ۴ :۱۳۵)
’’ایمان والو، عدل پر قائم رہنے والے بنو۔ اللہ کے لیے اس کی شہادت دیتے ہوئے، اور کسی قوم کی دشمنی تمھیں اس طرح نہ ابھارے کہ تم عدل سے پھر جاؤ۔ عدل کرو، یہ تقویٰ سے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بے شک، اللہ تمھارے ہر عمل سے باخبر ہے۔‘‘(المائدہ  ۵ :۸)

غامدی صاحب کا یہ جواب مسلمانوں کے لیے اس منہاج کی نشان دہی کرتا ہے جو انھیں دنیا میں شرف وقار کی منزل تک لے جا سکتا ہے ۔ اس راہ پر چلنے کا مطلب یہ ہے کہ مذہبی جذبات، قومی تعصبات یا مالی مفادات اگر مسلمانوں کو حق و عدل کی بات کہنے سے روکیں تو یہ ان کے ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ ان رکاوٹوں کو دور کر کے عدل وانصاف کی حمایت میں کھڑے ہو جائیں ۔
عدل کے معنی یہ نہیں ہیں کہ محض جرم وسزا کے معاملات میں انصاف کو قائم رکھا جائے، بلکہ عدل ایک رویے اور ایک قدر کا نام ہے۔ سچ عدل اور جھوٹ خلاف عدل ہے، دیانت عدل اور بدیانتی خلاف عدل ہے، پورا تول عدل اور کم تول خلاف عدل ہے، ایفاے عہد عدل اور عہد شکنی خلاف عدل ہے، رواداری عدل اور تعصب خلاف عدل ہے۔
مسلمانوں کو اپنے قومی معاملات میں بھی اور بین الاقوامی تعلقات میں بھی عدل و انصاف کو ایک بنیادی اصول کے طور پر اختیار کرنا چاہیے۔ وہ اس رویے کو اس سطح تک لے جائیں کہ اپنی قوم کی حمیت بھی انھیں عدل سے ہٹنے نہ دے اور دوسری قوم کی دشمنی بھی انھیں عدل سے پھرنے نہ دے۔ موجودہ زمانے میں نظریاتی اختلافات، سرحدوں کے تنازعات، لین دین کے معاملات اور صلح و جنگ کے مسائل آئے روز یہ سوال پیدا کرتے ہیں کہ کون سی بات عدل کے مطابق ہے اور کون سی بات خلاف عدل ہے۔ ان تمام موقعوں پرمسلمانوں کے نمائندوں کو پوری ذمہ داری اور نیک نیتی کے ساتھ عدل و انصاف کی بات کرنی چاہیے۔ یہ رویہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی انھیں مقبول بنائے گا اور اس کے نتیجے میں وہ دنیا میں بھی کوئی مثبت عملی کردار ادا کر سکیں گے۔
یہ ذمہ داری محض مسلمانوں کے نظم اجتماعی کی نہیں ہے ، بلکہ ہر فرد اس کا ذمہ دار ہے ۔ یہ افراد ہی کے رویے ہوتے ہیں جن کی عکاسی کسی قوم کا اجتماعی وجود کرتا ہے، اس لیے اگر کوئی فرد اپنی اجتماعیت میں قیام عدل کا خواہاں ہے تو اسے سب سے پہلے اپنے وجود پر اس قدر کو نافذ کرنا چاہیے اور اس معاملے میں ہر طرح کی عصبیت اور تفاخر کو بالاے طاق رکھ دینا چاہیے۔ سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ:

’’(با اثر ) مخزومیہ قبیلے کی ایک عورت نے جب چوری کی تو اس کے معاملے میں قریش کو بڑی فکر ہوئی۔ لوگوں نے یہ سوچنا شروع کر دیاکہ کون شخص ایسا ہو سکتا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی سفارش کرے۔ بالآخر یہ طے پایا کہ اس کی جرأت صرف اسامہ بن زید کر سکتے ہیں۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑے چہیتے ہیں۔ لوگوں کے کہنے پر اسامہ نے حضور سے اس کی سفارش کی۔ حضور نے فرمایا: اسامہ ،تم اللہ کے مقرر کیے ہوئے حدود میں سے ایک حد کے معاملے میں سفارش کرنے آئے ہو؟ پھر آپ خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: لوگو، تم سے پہلے قوموں کو اسی چیز نے تباہ کیا کہ ان کا حال یہ ہو گیا تھا کہ ان میں کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو اس کو چھوڑ دیتے اور اگر کوئی عام آدمی چوری کرتا تو اس پر حد جاری کرتے۔ خدا کی قسم، میں ایسا نہیں کروں گا۔اگر محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔‘‘ ( بخاری، رقم ۳۲۱۶۔مسلم، رقم ۳۱۹۶)

ظلم و عدوان کے خلاف جدوجہد کرنے کامعاملہ بھی بہت اہم ہے ۔ ایک پہلو سے دیکھیں تو اسلام کا پیغام ہی امن و سلامتی ہے۔ وہ دنیا سے ظلم و زیادتی کے ہر عنصر کو ختم کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ انسانی زندگی کی نشو ونما کی بنیاد جان ، مال اور آبرو کی حفاظت پر ہے۔ اسلام ان معاملات میں فرد یا اجتماع کی ہر تعدی اور ہر ظلم کو روکتا ہے۔
مسلمان ریاستوں کو اپنی خارجہ پالیسی اس اصول پر استوار کرنی چاہیے کہ وہ دنیا کو ظلم و زیادتی کی آماج گاہ نہ بننے دیں اور اس مقصد کے لیے انھیں اگر اپنے افراد کی جانیں بھی قربان کرنی پڑیں تو اس سے دریغ نہ کریں۔ وہ اگر ظلم و عدوان کو قوت سے مٹانے کی اہلیت اور ہمت اپنے اندر نہیں پاتے تو انھیں کم سے کم اس کے خلاف آواز ضروربلند کرنی چاہیے۔ دنیا میں مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہو یا غیر مسلموں پر ، ہر دو صورتوں میں انھیں اس کے خلاف پورے جذبے اور حکمت کے ساتھ جدو جہد کرنی چاہیے۔ مسلمان اجتماعی اور انفرادی ، دونوں سطحوں پر یہ رویہ اپنے اندر پیدا کریں کہ وہ عدل و انصاف اور امن و سلامتی کے داعی اور ظلم و زیادتی سے نفرت کرنے والے ہوں۔ کسی فرد یا قوم کی دشمنی یا مخالفت بھی انھیں اس پر آمادہ نہ کر سکے کہ وہ ظلم و زیادتی کا طرزعمل اختیار کریں ۔ جب قریش مکہ نے مسلمانوں کو مکہ اور بیت اللہ میں داخل ہونے سے روک دیا اور مسلمانوں نے غم و غصے کا اظہار کیا تو قرآن مجید نے انھیں یہ تعلیم دی :

’’کسی قوم کی دشمنی ، کہ اس نے تمھیں مسجد حرام سے روکا ہے ، تمھیں اس بات پر نہ ابھارے کہ تم حدود سے تجاوز کرو ۔ تم نیکی اور تقویٰ میں تعاون کرو ، گناہ اور زیادتی میں تعاون نہ کرواور اللہ سے ڈرتے رہو ۔ اللہ سخت پاداش والا ہے ۔‘‘ (المائدہ ۵ : ۲ )

____________

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت اگست 2000
مصنف : سید منظور الحسن
Uploaded on : Apr 12, 2017
1074 View