حکیم کا طرز فکر و تعلیم - حمید الدین فراہی

حکیم کا طرز فکر و تعلیم

 

حکمت نفس کا کمال اور اس کا مقصود ہے، اس لیے یہی ابتدا اور یہی انتہا ہے۔ جن علوم سے حکمت کے حصول سے پہلے سابقہ پیش آتا ہے، وہ اس کی معرفت کا ایک وسیلہ ہوتے ہیں۔ جس طرح ایک آدمی پہلے جزئیات کا علم حاصل کرتا ہے، پھر ان سے مجموعی علم اخذ کرتا ہے؛ اس کے بعد اس مجموعی علم کی روشنی میں جزئیات کے علم کا دوبارہ جائزہ لیتا ہے تو ان جزئیات کا غلط یا صحیح ہونا اس پر روشن ہو جاتا ہے، اسی طرح حکمت حاصل ہونے کے بعد آدمی جب ان علوم کا جائزہ لیتا ہے جو اس کے حصول کا ذریعہ بنے تھے تو وہ یہ دیکھتا ہے کہ ان میں کوئی باتیں خلط ملط اور بہت سے مسائل الٹ پلٹ ہو گئے تھے۔
کامل معرفت اور تحقیق کے بعد ظن و تخمین پر مبنی کئی امور درست کیے جا سکتے ہیں۔ جو امور غیر واضح ہوتے ہیں، وہ بھی صاف ہو جاتے ہیں۔ آدمی کو یوں لگتا ہے، جیسے پچھلے لوگ ان تمام امور کو جانوروں کی نگاہ سے دیکھتے رہے تھے۔ جب ایک حکیم آیا تو اس نے پہلی مرتبہ انسان کی نظر سے ان کو دیکھا۔ دوسرے الفاظ میں اشیا معانی و مفہوم سے اس وقت تک خالی رہیں جب تک کوئی ایسا شخص ان تک نہیں پہنچا جس نے ان کو سمجھا، کھولا اور ان کی وضاحت کی۔ پس آدمی جب تک معرفت حاصل نہیں کرتا، وہ ان علوم سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا جو اس کی تیاری کے لیے وضع ہوئے تھے۔ معرفت سے قبل ان سے فائدہ اٹھانا صحیح فائدہ اٹھانا نہیں ہے۔ اسی طرح ان کا علم بھی حقیقی علم نہیں ہے، بلکہ یہ علم بس متفرق قسم کے ادراکات اور گمراہ کن جذبات پر مشتمل ہوتا ہے۔
ایک حکیم کائنات پر نگاہ ڈالتا ہے تو اس کے تمام احوال میں اسے پختگی اور نظم و ضبط دکھائی دیتا ہے۔ وہ سمجھ جاتا ہے کہ یہ کائنات کسی خاص مقصد کے لیے تخلیق کی گئی ہے۔ لہٰذا اس کا ایک خالق ہونا لازم ہے جو تمام امور کو اس خاص مقصد کی طرف لے جا رہا ہے۔ پس حکیم کا یہ انداز فکر علم اور عمل کے درمیان پختہ تعلق پر مبنی ہوتا ہے۔ جو شخص ایک حکیم خالق پر ایمان نہیں رکھتا، وہ نہیں جانتا کہ اس کائنات کے پیچھے کوئی مقصد بھی ہے۔ پھر جب وہ اپنے دل میں ارادہ، طبیعت میں میلانات اور اچھے اور برے میں امتیاز کی صلاحیتیں موجود پاتا ہے تو اسے اس بات پر اطمینان نہیں ہو پاتا کہ یہ سب چیزیں واقعی کسی مضبوط بنیاد پر قائم ہیں۔ وہ ان کو تقلید آبا یا روایت پرستی یا نفس کی مخفی اغراض کی طرف منسوب کرتا ہے اور ہر حال میں خیر اور شر کے وجود کے بارے میں بے اطمینانی کا شکار ہوتا ہے۔ اسے کسی چیز کے وجود اور عدم وجود کا اطمینان بھی حاصل نہیں ہوتا، کیونکہ اسے اپنے مشاہدہ پر بھی یقین نہیں آتا۔ وہ فطرت کو الزام دیتا ہے۔ ایسا شخص عمل کرتا ہے تو اسے اس کے انجام کا علم نہیں ہوتا۔ وہ اس شخص کے مانند ہوتا ہے جو ایک تاریک رات میں دیکھنے کی کوشش کر رہا ہو۔ اس کے برعکس حکمت علم اور ارادہ کی قوتوں میں موافقت پیدا کرتی ہے جس کے نتیجے میں زندگی کے مقصد اور اس غایت کے بارے میں اطمینان پیدا ہوتا ہے جس کی طرف ساری مخلوق بڑھ رہی ہے۔ لہٰذا حکیم شخص اپنے خالق کی رضا پر راضی ہو جاتا ہے۔ جس نے ہر چیز کی تدبیر بڑی حکمت سے کی ہے، جس نے ہر مخلوق کے لیے ایک غایت اور حکمت مقرر کر رکھی ہے اور جس نے کوئی چیز بے مقصد پیدا نہیں کی۔ ایک حکیم خالق کوئی کام عبث نہیں کرتا۔ وہ دنیا کو جس طریقہ سے چلا رہا ہے، اس پر ایک حکیم شخص کا راضی رہنا اس کی زندگی کا مقصد اور اس کی فطرت کا کمال ہوتا ہے۔ اس طرح وہ ایک شکرگزار، راضی بہ رضاے الٰہی اور مطمئن نفس کا مالک بن جاتا ہے۔

حکیم کا طریقۂ تعلیم

حکمت چونکہ واضح ، تمام علوم کی نسبت نفس سے قریب تر اور عقل سے زیادہ مطابقت رکھنے والی، زیادہ پھیلاؤ نہ رکھنے والی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ پردوں میں چھپی ہوئی ہے، جس کی طرف توجہ نہیں ہونے پاتی، اس لیے اس کی تعلیم دینے والے حکما کو اس کے معارف بیان کرنے سے کوئی دل چسپی نہیں ہوئی، کیونکہ یہ معارف تو لوگوں کے سامنے کھلی کتاب کے مانند تھے۔ انھیں دل چسپی اس بات سے ہوتی تھی کہ لوگوں کا رخ حکمت کی جانب پھیر دیں، ان کو غور و فکر پر آمادہ کریں اور ان کو ان تاریکیوں کے حجابات سے نکالیں جو ان کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہیں۔ اس کے لیے انھوں نے نفس کے دو افعال کا سہارا لیا: ایک فکر و استدلال اور دوسرا خیر و سعادت کی طرف تحریک۔ دوسرے لفظوں میں انھوں نے قوت فکر اور قوت ارادہ کو بیدار کیا، کیونکہ انسان قوت فکر ہی کے ذریعے سے ان نشانیوں سے استدلال کر سکتا ہے جن سے آفاق و انفس بھرے پڑے ہیں اور قوت ارادہ ہی کی بدولت وہ خیر و سعادت کے کاموں کو پسند کرتا ہے۔ یہ دونوں قوتیں انسان کی تمام صفات کی جامع ہیں اور نفس کی تمام حالتوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ حکمت کا معلم اگرچہ معارف سے لوگوں کو آگاہ کرنے میں زیادہ دل چسپی نہیں لیتا، لیکن نفس کی تربیت، تنویر، تزکیہ اور تطہیر میں وہ بہت سخت گیر ہوتا ہے۔ البتہ ہر شخص کا ذہن حکمت کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ اس کی مثال یوں ہے، جیسے ایک شخص ڈاکٹر کے پاس جائے، اس کی دوا کھائے اور اسے شفا بھی حاصل ہو جائے، لیکن وہ بیماری کے دوبارہ حملے کی طرف سے بے خوف نہ ہو سکے۔ اس طرح کے لوگوں میں ایسے بہت سے عابد و زاہد لوگ بھی ہوتے ہیں جو حکمت سے فائدہ اٹھا رہے ہوتے ہیں، لیکن وہ خود حکیم نہیں ہوتے۔ البتہ جو آدمی غور و فکر اور عمل کی صلاحیتوں کو کامل کر لیتا ہے، اس کو حکمت مل جاتی ہے۔ غور و فکر سے یہاں ہماری مراد منطقیانہ غور وفکر نہیں، بلکہ الہامی ادراک ہے۔ اس شخص کی مثال اس آدمی کی ہے جس نے ایک چیز چکھی تو اس کے ذائقہ اور خوشبو کی خوبیاں اس پر روشن ہو گئیں، پھر اس نے اس سے لطف اٹھایا یا سیر ہوا۔ اب اس کی نظر اس چیز کی تاثیر سے خالی نہیں ہو سکتی اور نہ اس کا درخت اپنے پھل سے محروم ہو سکتا ہے۔

تمثیلات کے ذریعے تعلیم حکمت

حضرت مسیح علیہ السلام کا طریقہ یہ تھا کہ وہ حکمت کی تعلیم تمثیلات کے ذریعے سے دیتے تھے۔ جب لوگ ان کی بات نہ سمجھتے تو انھیں اس چیز کا بڑا ملال ہوتا۔ لوگوں کو جن باتوں کا محض گمان ہوتا اور وہ ان کی حقیقت کو نہ سمجھتے تو حضرت مسیح اس مسئلہ کے اشکالات ان کے سامنے رکھتے تاکہ وہ خود غور و فکر کی عادت ڈالیں۔ افلاطون کہا کرتا تھا کہ جو شخص تمثیلات کے ذریعے سے بات نہیں کر سکتا، وہ حکیم نہیں ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام امثال کے ذریعے سے تعلیم دیتے۔ قدیم حکما یہ تلقین کیا کرتے تھے کہ اپنے آپ کو پہچانو۔
قرآن مجید بھی تمثیلات کے ذریعے سے حقائق کو بیان کرتا ہے۔ اس کے بیان کی نمایاں خصوصیات حسب ذیل ہیں:
۱۔ امثال کا مقصد تذکیر ہے تاکہ لوگ اپنے نفس اور اس کے اندر موجود صلاحیتوں کی طرف رجوع کریں۔ قرآن نے امثال کے بارے میں یہاں تک کہہ دیا ہے کہ:

وَمَا یَعْقِلُہَآ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ.(العنکبوت ۲۹: ۴۳)
’’ان کو صرف اہل علم ہی سمجھتے ہیں۔‘‘

۲۔ قرآن کا زیادہ تر استدلال نشانیوں سے ہے اور اس نے واضح کیا ہے کہ یہ استدلال وہی لوگ کر سکتے ہیں جو فہم و تدبر سے کام لیں۔
۳۔ قرآن مجید کی امثال اور نشانیاں گوناگوں پہلوؤں سے پیش کی گئی ہیں اور واضح کیا گیا ہے کہ یہ مسائل کو مختلف اطراف سے دکھانے کے لیے ہیں۔ اس طرح قرآن مجید نے نشانیوں پر غور کرنے کے طریقہ کی طرف رہنمائی بھی کر دی ہے۔۱؂
۴۔ قرآن نے علم و عمل کو دو الگ چیزیں نہیں رہنے دیا، بلکہ دونوں کو باہم ملا دیا ہے اور ان دونوں پر ایک ساتھ زور دیا ہے۔
۵۔ قرآن نے حکمت کے مقام، اس کے آنے کے دروازوں اور اسباب، سب کی طرف رہنمائی کی ہے۔
۶۔ نظم و ترتیب کو تفکر کا سب سے بڑا داعیہ اور غور کے مختلف پہلوؤں کا مرکزی نقطہ قرار دیا ہے۔

حکمت علم اور عمل کی جامع ہے

ایک حکیم کے پاس جو علم ہوتا ہے، وہ اس نے دوسروں کی تقلید کر کے نہیں، بلکہ اپنے ذاتی مشاہدہ کی بنا پر حاصل کیا ہوتا ہے۔ وہ ہر معاملہ میں اپنی فطرت کی آواز سنتا ہے، کیونکہ اس کی فطرت دوسری تمام چیزوں کی نسبت اس سے قریب تر ہوتی ہے۔ اس کے استدلال کی بنیاد ظن و تخمین پر نہیں ہوتی، نہ اس کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ محض چند اجزا کو دیکھ کر ان سے عام کلیے اخذ کر لے۔ اس کے برعکس وہ اشیا کے متعلقات و لوازم کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ لہٰذا اس کا اخذکردہ نتیجہ اس کی بصیرت ہی کا ایک پہلو بن جاتا ہے۔
حکیم اگر کسی چیز میں دل چسپی لیتا ہے تو وہ بھی کسی دوسری چیز کے حوالے سے نہیں ہوتی، بلکہ وہ بلاواسطہ اسی چیز کی جستجو کرتا ہے جو اس کی سب سے زیادہ پسندیدہ اور سب سے زیادہ لذیذ چیز اور اس کی زندگی کا مقصود ہوتی ہے۔ علم و عمل میں جو لوگ پختہ کار ہوئے ہیں، ان کا طرز عمل ہمیشہ سے یہی رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کو جو علم حاصل ہوا، وہ ان کے سینے کی ٹھنڈک بن گیا اور جس مطلوب کو انھوں نے اختیار کر لیا تو اس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں۔ ان دونوں دولتوں کو انھوں نے خوب خوب سمیٹا اور اس سے اطمینان پایا۔ ایسے ہی لوگ حقیقی عالم و عامل اور واقعی مخلص ہوتے ہیں۔ ان کا علم نہ تو محض برائے علم ہوتا اور نہ بارد یا مردہ ہوتا ہے۔ یہ علم سراپا زندگی، مجسم قوت اور شوق و عمل کا جامع ہوتا ہے۔ پس ایک حکیم نفس اور اس کی بیماریوں، دنیا اور اس کی ناپاکیوں، تقویٰ اور اس کی لذتوں اور شفابخشیوں سے واقف ہو جاتا اور اپنے رحیم، کریم اور حکیم خدا کو پہچان جاتا ہے۔ وہ خدا پر ایمان لاتا، اس کی طرف مائل ہوتا اور اس کے جمال و کمال کو محبوب رکھتا ہے۔ وہ غفلت کی تلخیوں کو بھی جان جاتا ہے، اس لیے اس کی طرف سے نظریں پھیر لیتا ہے۔ اس کا علم زندہ ایمان اور ایسا کامل یقین ہوتا ہے، جیسے وہ غیب کا مشاہدہ یقین کی آنکھوں کے ساتھ کر رہا ہو۔ غیب کا یہ مشاہدہ اس مشاہدہ سے واضح تر ہوتا ہے جو وہ سر کی آنکھوں کے ساتھ کر سکتا ہے۔ ایک آدمی جب کسی خوب صورت حقیقت کو پا جائے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اس کو محبوب نہ بنائے۔ لہٰذا ایمان کے نتیجہ میں اللہ سے محبت پیدا ہو جاتی ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں ہے:

وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ.(البقرہ ۲: ۱۶۵)
’’جو لوگ ایمان لائے، وہ سب سے زیادہ خدا سے محبت رکھنے والے ہیں۔‘‘

اس آیت میں حقیقی ایمان ہی کو حُب کہا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان جب جب خدا کو یاد کرتے ہیں، وہ اس کی عظمت و کبریائی سے مرعوب ہو جاتے ہیں، اس سے ان کے دل کانپ جاتے ہیں، خدا کی بزرگی اور اس کا جلال ان پر روشن ہو جاتا ہے، لہٰذا وہ اس کی طرف اڑ کر پہنچتے ہیں اور اپنے آپ کو اس کی رضا کے حوالے کر دیتے ہیں:

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُہُمْ وَاِذَا تُلِیَتْ عَلَیْْہِمْ اٰیٰتُہٗ زَادَتْہُمْ اِیْمَانًا. (الانفال ۸: ۲)
’’مومن تو وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے، ان کے دل دہل جائیں اور جب اس کی آیتیں ان کو سنائی جائیں تو وہ ان کے ایمان میں اضافہ کریں۔‘‘

حکمت کی نشوونما کی شرائط

حکمت دل کی زندگی ہے۔ زرخیز زمین کے اندر بیج ڈالا جائے تو وہ اگتا ہے، اسی طرح دل زندہ کے اندر علم کا بیج نشوونما پاتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں جس دل میں علم کو زندگی ملے اور وہ نشوونما پانے والے بیج کی طرح پھلنے پھولنے لگے تو یہ دل کی زرخیزی کی ایک دلیل ہے۔ علم کی زندگی کا مفہوم یہ ہے کہ آدمی اس کو اپنے حال پر طاری کر لے اور اس کے نتیجہ میں عمل صالح اختیار کرے۔ رہی نشوونما تو یاد رکھنا چاہیے کہ زندگی صرف حرکت پیدا کرنے والی چیز ہی کا نام نہیں، بلکہ اس میں ایک خاص ترتیب اور نظام کا پایا جانا ضروری ہے۔ کوئی زندہ شے ایسی نہیں جس میں نظام نہ ہو، لہٰذا ایک منظم علم کی یہ خوبی ہوتی ہے کہ اس کے ساتھ اس کا حسن، اس کی رونق اور اس کا نفع ہوتا ہے۔ دل کی زندگی کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ اس کے اندر علم کی نشوونما کی صلاحیت موجود ہو۔ گویا اصل معاملہ دل کی زندگی ہی کا ہے۔
حکمت کا معاملہ یہ ہے کہ یہ کسی ایسے شخص کو عطا نہیں کی جاتی جو اس کو پانے کا اہل نہ ہو۔ اس کا سبب یہ نہیں کہ ایک حکیم دوسروں تک اس کے پہنچانے میں بخل سے کام لیتا ہے، بلکہ حقیقت میں وہ اس کے لیے غیرت رکھتا ہے اور غلط بخشی کے نتیجہ میں اس کو ضائع نہیں ہونے دیتا۔ یہ بات واضح ہے کہ اگر بنجر زمین میں بیج ڈال دیا جائے تو وہ ضائع ہو جاتا ہے۔ پھر علم کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ اگر یہ نفع نہ دے تو نقصان پہنچانے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ اسی لیے ہادی برحق صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے:

أللّٰھمّ إنی أعوذبک من علم لا ینفع وقلب لا یخشع.(مسلم، رقم ۷۰۸۱)
’’اے اللہ میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس علم سے جو نفع نہ دے اور اس دل سے جو عاجزی اختیار نہ کرے۔‘‘

آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا اس عظیم حقیقت پر بھی دلیل ہے کہ اگر دل خشوع کی صفت سے خالی ہو تو آدمی کا علم اس کو کوئی نفع نہیں دیتا۔ یہیں سے ہمیں یہ بات سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ کون سی چیز دل کو زندہ رکھتی اور اس میں حکمت کو قبول کرنے کی صلاحیت کی شیرازہ بندی کرتی ہے۔ اصل میں دل کا خشوع وہ دروازہ ہے جس کے راستے حکمت دل میں داخل ہوتی ہے۔ یہ حکمت کو پانے کی شرط اول ہے اور اس کی تصریح قرآن مجید اور حدیث صحیح، دونوں سے ہوتی ہے۔ لہٰذا ہمارے لیے یہ جاننا بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ خشوع حاصل کیسے ہوتا ہے اور حکمت کے حصول کے لیے دل کو کیسے تیار کیا جاتا ہے۔
ایک غور کرنے والا شخص جب آسمان، زمین اور انفس میں خدا کی قدرت، حکمت، ربوبیت اور رحمت کا مشاہدہ کرتا ہے، پھر اپنے نفس کو دیکھتا ہے کہ وہ انتہائی بلندی اور انتہائی پستی کے درمیان رکھ دیا گیا ہے تو یہ چیز اس کے اندر خدا کی خشیت اور امید ساتھ ساتھ پیدا کرتی ہے۔ پھر اس کو یہ احساس ہوتا ہے کہ دنیا ایک مقصد کے تحت وجود میں آئی ہے۔ اس کا پیدا کرنے والا عادل اور ایک پاکیزہ رب ہے۔ اس کے بالمقابل وہ خود غلط کار، بھٹکنے والا اور سرکشی اختیار کرنے والا ہے۔ یہ احساس اس کے اندر اس قدر خشیت پیدا کرتا ہے کہ وہ خلوت و جلوت میں حدود الٰہی کی پابندی کرنے لگتا ہے۔ وہ خواہشات نفسانی کی پیروی سے باز رہتا ہے۔ خشیت اور تقویٰ کی ان صفات سے اس کا قلب صاف ہوتا اور حکمت کے نور کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ اسی بنا پر کتاب الامثال میں حضرت سلیمان علیہ السلام نے یہ حقیقت بیان فرمائی کہ حکمت کا سرا رب کی خشیت ہے۔
اسی خشیت اور تقویٰ کے نتیجہ میں بندہ خشوع اور فروتنی کا لباس اوڑھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ساری بادشاہی تنہا اس کے منعم رب کی ہے اور وہ اس کے آگے بے بس ہے۔ وہ رب سے دور ہونے سے ڈرتا اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لیے ہاتھ پیر مارتا ہے۔ وہ اسی سے طالب مدد ہوتا اور اس کے سامنے عاجزی کا اظہار کرتا ہے۔ اس خشوع کے نتیجہ میں آدمی کے اندر علم کی تعظیم اور اس کے بارے میں حسن ظن پیدا ہوتا ہے اور اعتراض کرنے کی روش ختم ہو جاتی ہے۔ یہ چیز حکمت کی نشوونما کے لیے آدمی کو تیار کرتی ہے اور یہ خشوع رفع درجات کا ذریعہ بنتا ہے، جیسا کہ فرمایا:

وَاِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ. (المجادلہ ۵۸: ۱۱)
’’اور جب کہا جائے کہ (مجلس سے) اٹھ جاؤ تو اٹھ جایا کرو۔ اللہ ان لوگوں کے جو تم میں سے اہل ایمان ہیں اور جن کو علم عطا ہوا ہے، مدارج بلند کرے گا۔‘‘

اس حقیقت کی طرف ایک لطیف اشارہ اس آیت میں بھی ہے:

فَاسْلُکِیْ سُبُلَ رَبِّکِ ذُلُلاً.(النحل ۱۶: ۶۹)
’’پھر اپنے پروردگار کے ہموار رستوں پر چل۔‘‘

حکمت بالتدریج حاصل ہوتی ہے

حکمت کے متعلق یہ جاننا ضروری ہے کہ یک بارگی یہ کبھی حاصل نہیں ہوتی، بلکہ یہ مختلف مواقع پر آہستہ آہستہ اور درجہ بدرجہ حاصل ہوتی ہے۔ جس طرح مکان یک بارگی تعمیر نہیں ہو جاتا، بلکہ اس کے لیے نہ جانے کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں، اسی طرح کا معاملہ حصول حکمت کی راہ میں پیش آتا ہے۔ غذا کو بڑی مقدار میں ایک ہی دفعہ معدے میں ڈالنے کی کوشش کی جائے تو معدہ اس کو قبول نہیں کرتا اور وہ ضائع ہو جاتی ہے۔ اسی طرح قلب کے اندر بھی حکمت کو ایک ہی مرتبہ میں اٹھا لینے کی طاقت نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید کو یک بارگی نہیں اتارا گیا۔ اس کو تھوڑا تھوڑا نازل کرنے کی مصلحت یہ بتائی گئی ہے:

لِنُثَبِّتَ بِہٖ فُؤَادَکَ وَرَتَّلْنٰہُ تَرْتِیْلاً. (الفرقان ۲۵: ۳۲)
’’تاکہ اس کے ذریعے سے ہم تمھارے دل کو مضبوط کریں اور ہم نے اس کو تدریج و اہتمام کے ساتھ اتارا ہے۔‘‘

حکمت کی تعلیم دینے والا بھی اس طریقہ کا لحاظ رکھتا ہے۔ وہ ہمیشہ مختصر کلام کرتا ہے تاکہ شاگرد اس پر جلدی سے نہ گزر جائے، بلکہ اس کو سمجھنے کے لیے مزید شرح و تفصیل کا خواہش مند، استاد کا محتاج اور اس کے ساتھ طویل صحبت کا طالب ہو۔
اسی حقیقت کے فہم سے میری رہنمائی قرآن مجید کے نظم کی حکمت کی طرف ہوئی ہے۔ قرآن نے اپنی تعلیم کے لیے کئی طریقے اختیار کیے ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے ہر ہر آیت کو ایک مستقل تعلیم کا حامل بنایا ہے۔ جب آدمی ایک تنہا آیت کو محل تدبر بناتا ہے تو اس کو اسی پر اپنی توجہ مرتکز کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ یہ اسی طرح کی بات ہوئی، جیسے کارخانوں کے کارکنوں کے لیے ایک مخصوص شعبہ ہی میں مشغولیت کافی سمجھی جاتی ہے۔ اگر کارخانے کا پورا نظام ان پر کھول دیا جائے تو وہ ششدر رہ جائیں اور ا ن کے لیے وہ کام کرنا بھی مشکل ہو جائے جس کے کرنے کی وہ اہلیت رکھتے ہیں۔ کامل نظام ہمیشہ اس شخص پر کھولا جا تا ہے جو اس کو سمجھنے کا اہل ہوتا ہے۔ کارخانے کے کارکن کی طرح فوج کا ایک سپاہی اپنے مورچے پر ڈیوٹی کے لیے کافی ہوتا ہے اور وہ اس سے ہٹ کر اس سے زائد کسی چیز کی طرف نگاہ نہیں اٹھاتا۔ لڑائی کا پورا نقشہ صرف کمانڈر کے پاس ہوتا ہے اور وہی اس کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کی بنا پر بہت سے لوگوں نے قرآن سے معمولی واقفیت پر قناعت کر لی اور اس کے اجزا کے باہمی ربط کو جاننے کی کوشش نہیں کی۔ لیکن جو شخص حکمت کی کسی وادی کا آشنا ہو جاتا ہے، وہ قرآن کے مجموعی نظم کی طرف رہنمائی پاتا ہے۔ اس کی نظر میں مجموعہ آیات کی خوبیاں، بلند حقائق علمیہ، علوم الٰہیہ کے مختلف شعبوں کا نقطۂ جامعہ اور کتاب اللہ سے حاصل ہونے والی شفاے کلی، ہر چیز سما جاتی ہے۔

مسلمانوں کے اولوالامر کے لیے نظم قرآن سے واقف ہونا ضروری ہے

اوپر کی بحث سے ہم اس حقیقت تک پہنچتے ہیں کہ مسلمانوں کے معاملات جس شخص کے حوالہ کیے گئے ہوں، اس کے لیے اس بات کی کوئی گنجایش نہیں کہ وہ کتاب اللہ کے نظم سے بے خبر رہے، کیونکہ اس کے لیے اصل رہنما قرآن ہی ہو سکتا ہے۔ اگر اس کا حال یہ ہے کہ وہ قرآن کے متفرق امور ہی سے واقفیت رکھتا ہو اور صفات کے مدارج اور نظام سے بے بہرہ ہو تو ایسا لیڈر افراط و تفریط کے درمیان ٹامک ٹوئیاں مارتا رہے گا۔ اس کا اجتہاد جانب داری پر مبنی اور حق سے دور کرنے والا ہو گا۔ آپ ان بڑے لوگوں کی سیرت پڑھیے جنھوں نے خلافت کی ذمہ داریاں اٹھاتے ہی ایسے فتنے پیدا کر دیے کہ ارکان اسلام ہی ان سے خطرے میں پڑ گئے تو صاف نظر آتا ہے کہ دین کے معاملے میں ان کی شدت اور ان کا زہد و تقشف اس کا باعث ہوا، حالاں کہ ان کے اندر دین کی نصرت کا جذبہ اور اس کے لیے مطلوب شجاعت اور جرأت بھی موجود تھی۔ مجموعی طور پر ان لوگوں کے اعمال کے پلڑے ہلکے رہ گئے اور اس کا سبب یہ ہوا کہ انھوں نے اپنے اعمال کو عقل سے خالی رکھا، فرع کو اصل اور سنت کو فرض کا درجہ دیا اور جس چیز کی حیثیت دم کی تھی اس کو سر کی حیثیت دے دی۔ اگر یہ لوگ حکمت سے بہرہ ور ہوتے اور کتاب اللہ میں پائی جانے والی ہدایت کو اس کی واقعی اہمیت دیتے تو لوگ اس کی طرف بھاگ کر جاتے۔
ظواہر شریعت اور ان کے اصول و حقائق کے مابین وہی تعلق ہے جو عوام اور ان کے خواص و علما کے مابین ہے۔ جس طرح عوام اپنے خواص پر غالب نظر آتے ہیں، اسی طرح ظواہر شریعت دین کی روح پر غالب نظر آتے ہیں۔ اس بات کو ہادی علیہ السلام نے اچھی طرح واضح فرمایا۔ آپ نے خوارج کے معاملہ میں اس حقیقت کو وضاحت سے بیان کیا ہے۔۲؂ ملت کا نظام خراب اس وقت ہوتا ہے جب اشرار کو غلبہ حاصل ہو جائے۔ ان کے حملے عوام پر ظاہری امور میں تو جاری رہتے ہیں اور یہ ان کی بنیادوں کو ڈھانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن بعد میں ان کو ان لوگوں کی تائید بھی حاصل ہو جاتی ہے جن کی عقلیں کوتاہ، لیکن کام کرنے میں وہ بہت تیز ہوتے ہیں۔ اس طرح اشرار غلبہ پا کر ملت کی تنظیم کو پارہ پارہ کر دیتے ہیں۔
اوپر ہم نے دین دار، لیکن جاہل لوگوں کے غلبہ کے نتائج بیان کیے تھے اور اب اشرار کے غلبہ کی مضرت واضح کی ہے۔ اصولی طور پر یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ جس صاحب امر نے فرع کو اصل کی جگہ دے دی اور پست کو بلند کا درجہ دیا اس نے ملت کے نظام کو منتشر کر دیا۔ اس سے نظم قرآن کو سمجھنے کا فائدہ اور اس سے بے خبری کا نقصان واضح ہوتا ہے اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس امت کی اصلاح (اور اس کے ساتھ دوسری امتوں کی اصلاح) اسی حکمت سے ہو گی جس کی طرف قرآن رہنمائی دیتا ہے۔ اس حکمت تک پہنچنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ آدمی یہ جاننے کی کوشش کرے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کے شان دار نظم کے اندر کیا کیا معارف رکھ دیے ہیں۔ جو شخص نظم کے لحاظ رکھے بغیر حکمت قرآن کو جاننا چاہے گا، وہ کتاب اللہ کے فہم میں ٹامک ٹوئیاں مارتا رہے گا اور اپنی تدابیر میں گمراہی میں پڑ جائے گا۔

(حکمت قرآن ۸۲۔ ۹۶)

_____

۱؂ یہ اشارہ ہے قرآن مجید کے معروف اسلوب ’’تصریف آیات‘‘ کی طرف۔ قرآن مجید کسی بات کو سمجھانے کے لیے کوئی ایک ہی پیرایہ استعمال نہیں کرتا، بلکہ بات کو مختلف پہلوؤں سے کہتا ہے۔ نشانیوں کے بھی کسی ایک ہی پہلو کی طرف توجہ مبذول نہیں کراتا، بلکہ ان کے مختلف پہلوؤں کو زیر بحث لاتا ہے تاکہ قاری پر اگر ایک جگہ بات واضح نہیں ہوئی تو دوسری جگہ اس پر واضح ہو جائے۔ مولانا فراہی کے نزدیک غور کرنے کا طریقہ بھی یہی ہونا چاہیے کہ آدمی دلیل کے ہر پہلو پر توجہ دے۔ (مترجم)
۲؂ مصنف علیہ الرحمۃ کا اشارہ اس حدیث کی طرف ہے جس میں آیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کچھ مال بعض سرداروں میں تقسیم فرما رہے تھے۔ آپ کا مقصد ان کی تالیف قلب کر کے ان کو اسلام کا حامی بنانا تھا۔ اس پر ایک شخص نے آگے بڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹوکا اور کہا کہ آپ عدل سے کام لیں۔ حضور نے فرمایا کہ آسمان و زمین کے رب نے میرے اوپر اعتماد کیا ہے اور وہ صبح و شام وحی کی امانت میرے حوالہ کرتا ہے، میں عدل نہیں کروں گا تو اور کون کرے گا؟ یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ یا حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اٹھے اور اس معترض شخص کی گردن مارنے کی اجازت طلب کی۔ آپ نے منع کر دیا اور فرمایا کہ اس قماش کے لوگوں کی ظاہری نمازیں ایسی ہیں کہ تمھاری نمازیں ان کے آگے شرما جائیں۔ یہ قرآن مجید کی شان دار قراء ت کرتے ہیں، لیکن وہ ان کے گلے سے اوپر اوپر ہی رہتا ہے۔ یہ لوگ ظاہری نیکی کے باوجود دین سے نکل جانے والے ہیں۔ یہ حدیث مختلف واسطوں سے ’’صحیح مسلم‘‘ کی ’کتاب الزکوٰۃ‘ میں ’باب ذکر الخوارج و صفاتہم‘ میں آئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض لوگ ظواہر شریعت میں تو بے حد انہماک ظاہر کرتے ہیں، لیکن اصول دین سے بالکل بے بہرہ ہوتے ہیں۔ حضور پر اعتراض کرنے والے شخص نے یہ نہیں سمجھا کہ رسول پر ایمان لانے کے تقاضے کیا ہیں۔ اس کی ظاہری نیکی اس کو دین کی حقیقت سے آگاہ کرنے میں ناکام رہی۔ (مترجم)

-----------------------------

ترجمہ خالد مسعود 

بشکریہ ماہنامہ اشراق
تحریر/اشاعت فروری 2015
مصنف : حمید الدین فراہی
Uploaded on : Jan 27, 2016
1324 View