حضرت مالک بن زمعہ رضی ﷲ عنہ - ڈاکٹر وسیم مفتی

حضرت مالک بن زمعہ رضی ﷲ عنہ

 

حضرت مالک بن زمعہ کے دادا کانام قیس بن عبد شمس تھا۔وہ اپنے آٹھویں جدعامر بن لؤی کی نسبت سے قرشی عامری کہلاتے ہیں۔نویں جد لؤی بن غالب پر حضرت مالک کاسلسلۂ نسب نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے شجرۂ مبارکہ سے جا ملتا ہے۔ لؤی آپ کے بھی نویں جد تھے۔ ام المومنین سودہ بنت زمعہ حضرت مالک کی بہن تھیں۔ حضرت مالک کی اہلیہ حضرت عمرہ (یا عمیرہ) بنت سعدی بھی بنوعامر بن لؤی سے تعلق رکھتی تھیں۔عمرہ کے دادا وقدان بن عبد شمس حضرت مالک کے دادا قیس بن عبد شمس کے بھائی تھے۔
بعثت کے بعد تین سال تک آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کار نبوت مخفی طور پر سر انجام دیتے رہے ۔اس دوران میں سیدنا ابوبکرنے بھی اپنے حلقۂ احباب میں دین حق کا چرچا کیا۔ پھر اﷲ کی طرف سے فرمان نازل ہوا: ’فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ‘، ’’(اے نبی)، آپ کو جو حکم نبوت ملا ہے، اسے ہانکے پکارے کہہ دیجیے۔‘‘ (الحجر۱۵: ۹۴) تعمیل ارشاد میں آپ نے قرآن مجیدکی تلاوت جہراً کرنا شروع کی اور اہل مکہ کو علانیہ اسلام کی طرف بلانے لگے۔اہل ایمان کی تعداد بڑھنے لگی اور وادئ غیر ذی زرع میں اسلام کاپیغام عام ہو گیا۔تازہ واردان دین حنیف میں نوجوانوں، غربا اور غلاموں کی اکثریت تھی۔ان کے ایمان لانے پر مکہ کے مشرکوں کو اپنی پیشوائی اور اپنے بتوں کی خدائی خطرے میں نظر آنے لگی۔ انھوں نے ان نو مسلم کمزوروں اور غلاموں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے شروع کر دیے۔ ۵ ؍ نبوی میںیہ سلسلہ عروج کو پہنچ گیا توآپ نے اپنے صحابہ کو حکم فرمایا: ’’تم اﷲکی سرزمین میں بکھر جاؤ۔‘‘ پوچھا: ’’یا رسول اﷲ، ہم کہاں جائیں؟‘‘ آپ نے حبشہ کا نام لے کر فرمایا: ’’وہاں ایسا بادشاہ حکمران ہے جس کی سلطنت میں ظلم نہیں کیا جاتا۔ تم وہاں رہنا جب تک اﷲ تمھاری سختیوں سے کشادگی کی راہ نکال نہیں دیتا۔‘‘ چنانچہ نبوت کے پانچویں سال ماہ رجب میں سب سے پہلے سولہ اہل ایمان کشتی کے ذریعہ حبشہ روانہ ہوئے۔یہ تاریخ اسلامی کی پہلی ہجرت تھی۔
شوال ۵ ؍ نبوی میں قریش کے قبول اسلام کرنے کی افواہ حبشہ میں موجود مسلمانوں تک پہنچی توان میں سے کچھ یہ کہہ کر مکہ کی طرف روانہ ہو گئے کہ ہمارے کنبے ہی ہمیں زیادہ محبوب ہیں۔ابن جوزی کے بیان کے مطابق مکہ کے قریب پہنچ کر انھیں اس اطلاع کا غلط ہونا معلوم ہوا تو حضرت عبداﷲ بن مسعود کے سوا سب حبشہ واپس ہو لیے، جبکہ حضرت ابن سعدکا کہنا ہے کہ یہ مکہ میں داخل ہوئے اورجب قوم کی طرف سے اذیت رسانی کا سلسلہ زیادہ شدت کے ساتھ دوبارہ شروع ہواتو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے انھیں بار دگر حبشہ جانے کی اجازت دے دی۔ان کے ساتھ کئی دیگر مسلمان بھی جانے کو تیار ہو گئے۔اس ہجرت ثانیہ میں اڑتیس مرد ، گیارہ عورتیں اور سات غیر قریشی اہل ایمان شریک ہوئے۔ حضرت مالک بن زمعہ اور ان کی اہلیہ حضرت عمرہ (:ابن ہشام، عمیرہ: ابن سعد) بنت سعدی بھی ان میں شامل تھے۔ حضرت مالک کے قبیلہ بنو عامر بن لؤی سے تعلق رکھنے والے دوسرے مہاجرین کے نام یہ ہیں: حضرت ابوسبرہ بن ابورھم، ان کی اہلیہ حضرت ام کلثوم بنت سہیل، حضرت عبداﷲ بن مخرمہ، حضرت عبداﷲ بن سہیل، حضرت سلیط بن عمرو، ان کے بھائی سکران حضرت بن عمرو، ان کی اہلیہ حضرت سودہ بنت زمعہ اور حضرت ابو حاطب بن عمرو۔ بنو عامر کے حلیف سعدبن خولہ نے بھی ہجرت میں اپنے اہل قبیلہ کا ساتھ دیا۔ حضرت ابوسبرہ، ان کی اہلیہ حضرت ام کلثوم اور حضرت ابوحاطب بن عمرو حضرت مالک بن زمعہ کے ہجرت کرنے سے پہلے حضرت عثمان بن عفان کی قیادت میں حبشہ جانے والے قافلۂ اولین میں شامل ہوچکے تھے، جبکہ حضرت مالک اوران کی زوجہ حضرت عمرہ حضرت جعفر بن ابوطالب کی قیادت میں حبشہ گئے اور ۷ھ میں انھی کی معیت میں مدینہ لوٹے۔ابن اسحاق نے کل مہاجرین حبشہ کی تعداد ترا سی بتائی ہے، جبکہ ابن جوزی کا بیان کردہ عددایک سو چھ تک پہنچتا ہے۔
ابن ہشام نے ’’السیرۃ النبویۃ‘‘ میں برواےۃ ابن اسحاق مہاجرین حبشہ کے مدینہ وارد ہونے کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔فتح خیبر کے موقع پر جب مہاجرین کا بائیس رکنی قافلہ پہنچا تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم بہت مسرور ہوئے اور فرمایا: معلوم نہیں ،میں کس امر سے زیادہ خوش ہوا ہوں،خیبر کی فتح حاصل ہونے سے یا جعفر کی آمد سے؟ابن اسحاق نے جعفربن ابوطالب کے ہمراہ کشتیوں میں سوار ہو کر ’بولا‘ کے ساحل پر پہنچنے والے صحابہ میں قبیلۂ بنوعامر بن لؤی کے صرف تین افراد کی شمولیت کا ذکر کیا ہے: حضرت ابوحاطب بن عمرو، حضرت مالک اور ان کی زوجہ حضرت عمرہ بنت سعدی۔ اس فہرست میں انھوں نے حضرت مالک بن زمعہ کے بجاے حضرت مالک بن ربیعہ بن قیس بن عبد شمس کا نام در ج کیا،حالاں کہ وہ خود اس سے قبل حبشہ جانے والے مہاجرین کی فہرست بیان کرتے ہوئے حضرت مالک بن زمعہ لکھ چکے تھے، ابن کثیر نے ’’البداےۃ والنہایۃ‘‘ میں یہی فرق برقرار رکھا ۔والد کا نام مختلف ہونے کے علاوہ سلسلۂ نسب وہی ہے جو حضرت مالک بن زمعہ کا ہے، اہلیہ بھی وہی حضرت عمرہ بنت سعدی ہیں۔ ابن اسحاق اور موسیٰ بن عقبہ کی اسی روایت کی وجہ سے ا بن فتحون نے حضرت مالک بن زمعہ کو مہاجرین حبشہ میں شامل کرنا صاحب ’الاستیعاب‘ ابن عبدالبر کا وہم قرار دیا ۔ ابن حجر نے یہ قول نقل کرنے کے بعداسے لائق ترجیح نہیں سمجھا۔ ابن کثیر نے عازمین حبشہ کی فہرس بیان کرتے ہوئے ’’البداےۃ والنہاےۃ‘ ‘میں حضرت مالک بن زمعہ، جبکہ اپنی ’’السیرۃ النبوےۃ‘ ‘میں مالک بن ربیعہ کا نام شامل کیا ۔انھوں نے ابن ہشام کی ’’السیرۃ النبوےۃ‘‘ میں موجود حبشہ ہجرت کرنے والوں اور وہاں سے مدینہ لوٹنے والوں کی فہارس کے تضادکو تو دور کر دیا، تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت مالک بن ربیعہ نام کے صحابی کون ہیں؟ معرفۃ الصحابہ کی کتب میں اس نام کے حامل دو اصحاب رسول کا ذکر کیا گیا ہے، بنو خزرج کی شاخ بنو ساعدہ سے تعلق رکھنے والے حضرت مالک بن ربیعہ انصاری جو ابو اسیدساعدی کی کنیت سے معروف ہیں اور حضرت مالک بن ربیعہ سلولی ۔ ان دونوں صحابہ کا نسب ہی فرق ہے اور ان کا ہجرت حبشہ سے دور دور کا تعلق نہیں۔اس لیے ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ زمعہ کے بجاے ربیعہ لکھنا ابن اسحاق کا تسامح ہے جو ابن ہشام اور ابن کثیر کی کتب میں بھی در آیا۔علم تاریخ میں قیاس کے گھوڑے نہیں دوڑائے جاتے پھر بھی ممکن ہے کہ ربیعہ اور زمعہ ایک ہی شخصیت ہو، ایک ان کا نام اور دوسرا لقب ہو۔
افسوس ہے کہ اسلام کے ابتدئی دور میں، جبکہ ابتلا ؤں اور آزمایشوں کا دور دورہ تھا،ایمان لانے والے صحابی حضرت مالک بن زمعہ کی مدنی زندگی اور ان کی تاریخ وفات کے بارے میں ہمیں کوئی اطلاع نہیں ملتی۔
حضرت مالک بن زمعہ کی کوئی اولاد نہ ہوئی۔
حضرت عبد بن زمعہ اور عبدالرحمن بن زمعہ مالک کے بھائی تھے۔ حضرت عبد کی والدہ عاتکہ بنت احنف بھی بنوعامر بن لؤ ی سے تعلق رکھتی تھیں، جبکہ عبدالرحمن نے زمعہ کی یمنی باندی کی کوکھ سے جنم لیا۔ عبدالرحمن بن زمعہ ہی تھے جن کی ولدیت کے بارے میں فتح مکہ کے موقع پر حضرت سعدبن ابی وقاص اور حضرت عبدبن زمعہ کے درمیان نزاع ہوا۔ حضرت سعد کے بھائی حضرت عتبہ بن وقاص نے انھیں کہہ رکھا تھا ،زمعہ کی یمانی کنیز کا بیٹا تم لے لینا، کیونکہ وہ میری اولاد ہے ۔مکہ فتح ہوا تو حضرت سعد اس بچے کو پکڑ کر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس لے آئے، حضرت عبد بن زمعہ بھی ساتھ تھے۔ حضرت سعد نے کہا: یہ میرا بھتیجا ہے، حضرت عبد نے اصرار کیا، یہ میرا بھائی ہے، کیونکہ میرے باپ زمعہ کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ آپ نے بچے کو بغور دیکھا،وہ عتبہ سے گہری مشابہت رکھتا تھا، پھر بھی فرمایا: عبد بن زمعہ یہ تیرے پاس رہے گا، کیونکہ اس نے تیرے باپ کے بستر پر جنم لیا ہے۔ آپ نے یہ اصول بھی ارشاد کیا: ’الولد للفراش وللعاہر الحجر‘، بچہ اسی کا ہو گا جس کے بستر پر پیدا ہو اور زانی کو پتھر پڑیں گے۔ آپ نے ام المومنین سودہ بنت زمعہ کو اس کے سامنے جانے سے روک دیا، کیونکہ وہ بچے کی عتبہ سے مشابہت دیکھ کر جان سکتی تھیں کہ وہ ان کا بھائی نہیں ۔چنانچہ حضرت سودہ نے آخری دم تک اسے نہ دیکھا۔ (بخاری، رقم ۲۰۵۳، ۲۵۳۳) یہ بچہ حضرت عبدالرحمن بن زمعہ تھا، حضرت عبدا لرحمن نے مدینہ ہجرت کی اور ان کی اولادمدینہ ہی میں مقیم رہی۔
مطا لعۂ مزید:السیرۃ النبوےۃ (ابن ہشام)، الطبقات الکبریٰ (ابن سعد)، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب (ابن عبد البر)، المنتظم فی تواریخ الملوک و الامم (ابن جوزی)، اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ (ابن اثیر)، البداےۃ والنہاےۃ (ابن کثیر)، الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ (ابن حجر)۔

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت جولائی 2016
مصنف : ڈاکٹر وسیم مفتی
Uploaded on : May 17, 2018
72 View