اخلاقی اقدار کی اہمیت - ابو یحییٰ

اخلاقی اقدار کی اہمیت

انسان کو اشرف المخلوقات کہا جاتا ہے۔ لیکن ہمیں ایک لمحے رک کر یہ سوچنا چاہیے کہ انسان کو جانوروں سے ممتاز کرنے والی چیز کیا ہے؟ ہم دیکھتے ہیں کہ جانور صرف اور صرف اپنی جبلت کا تابع ہوتا ہے۔ مثلاً جب کسی جانور کو بھو ک لگتی ہے تو اس کے لیے حلال و حرام اور جائز و ناجائز کا کوئی سوال نہیں پیدا ہوتا۔ اس کے برعکس ایک انسان زندگی کے ہر معاملے میں کچھ مسلمہ اخلاقی حدود کا لحاظ رکھتا ہے۔ وہ جب اپنی کسی ضرورت کو پورا کرنا چاہتا ہے تو اس کی اخلاقی حس اسے خبردار کرتی ہے کہ وہ اپنی ضرورت کے لیے کوئی غلط راستہ اختیار نہیں کرسکتا۔ تاہم جب انسان کی اخلاقی حس کمزور ہوجاتی ہے تو وہ صحیح اور غلط کی تمیز کھونے لگتا ہے۔ وہ ایک جانور کی طرح ہر کسی کے کھیت کھلیان میں گھس جاتا ہے۔ وہ اپنی ضرورت کے لیے ہر جائز و ناجائز راستہ اختیار کرلیتا ہے۔ ایسا رویہ اختیار کرنے والوں کے سفلی جذبے آہستہ آہستہ ان پر غلبہ پالیتے ہیں۔ جس کے بعد انسانوں کے معاشرے میں جنگل کا قانون رائج ہوجاتا ہے اور آخر کار پوری قوم تباہی کا شکار ہو جاتی ہے۔
اس تباہی کی وجہ یہ ہے کہ انسان اصلاً ایک معاشرتی وجود ہے۔ معاشرتی زندگی کچھ لو اور کچھ دو کے اصول پر قائم ہوتی ہے۔ انسان کا حیوانی وجود دینا نہیں جانتا، صرف لینا جانتا ہے۔ چاہے اس کا لینا دوسروں کی موت کی قیمت پر ہو۔ یہ اصلاً انسان کی اخلاقی حس ہے جو حقوق کے ساتھ فرائض سے بھی انسان کو آگاہ کرتی ہے۔ اجتماعی زندگی کا اصل حسن احسان، ایثار اور قربانی سے جنم لیتا ہے۔ جب تک اخلاقی حس لوگوں میں باقی رہتی ہے اپنے فرائض کو ذمہ داری اور خوش دلی سے ادا کرنے والے اور ایثار قربانی کرنے والے لوگ اکثریت میں رہتے ہیں۔ جب اخلاقی حس مردہ ہونے لگے توایسے معاشرے میں ظلم و فساد عام ہوجاتا ہے۔ جس کے نتیجے میں پہلے معاشرہ کمزور اور پھر تباہ ہوجاتا ہے۔ یہ تباہی کبھی غیر ملکی حملہ آوروں کی مرہونِ منت ہوتی ہے کبھی باہمی آویزشوں کے نتیجے میں جنم لیتی ہے۔
یہ صرف ہمارا خیال نہیں بلکہ قوموں کی تاریخ پر نظر رکھنے والا عظیم مسلمان عالم ابن خلدو ن بھی ہمارے اس نقطۂ نظر کی تصویب کرتا ہے۔ وہ اپنی شہرۂ آفاق کتاب مقدمہ ابن خلدون میں بتاتا ہے کہ دنیا میں عروج و ترقی حاصل کرنے والی قوم ہمیشہ اچھے اخلاق کی مالک ہوتی ہے جبکہ برے اخلاق کی حامل قوم زوال پذیر ہوجاتی ہے۔ (مقدمہ ابن خلدون: باب دوم فصل بیس)۔
ابن خلدون نے جوبات کہی ہے آج کے حقائق بھی اسے بالکل درست ثابت کرتے ہیں۔ چنانچہ ہمارا مشاہدہ ہے کہ عصر حاضر میں جو اقوام عروج و ترقی میں سب سے آگے ہیں وہ مسلمہ اخلاقی اقدار کی پابندی میں بھی مثالی رویے کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ جبکہ اہلِ پاکستان جیسی اقوام جو ترقی کی دوڑ میں سب سے پیچھے ہیں وہ اخلاقی اقدار کی پابندی کے معاملے میں بھی بدترین انحطاط کا شکار ہیں۔

________

بشکریہ: ریحان احمد یوسفی
مصنف : ابو یحییٰ
Uploaded on : May 25, 2016
711 View