مدرسے کا ذہین طالب علم - خورشید احمد ندیم

مدرسے کا ذہین طالب علم

 

مدارس سے فارغ التحصیل ذہین نو جوانوں میں تبدیلی کی ایک لہر ہے جو مثبت امکانات کا پتہ دے رہی ہے۔
مجھے آئے دن ایسے نو جوانوں سے ملنے کا اتفاق ہوتا ہے۔انہیں مذہب کو درپیش نئے چیلنجوں کا ادراک ہے اور ساتھ ہی اس بات کا احساس بھی کہ مدرسے کی تعلیم نئے ذہن میں اٹھنے والے سوالات کا جواب دینے سے قاصر ہے۔اس کا یہ مطلب قطعی نہیں کہ ان کے دل اسلاف اور روایت کی محبت سے خالی ہوگئے ہیں۔وہ روایت کے تسلسل میں سوچتے ہیں اورانہیں اپنے بزرگوں کی خدمات کا اعتراف ہے۔تاہم ، ساتھ ہی یہ احساس بھی ہے کہ زندگی کا قافلہ بہت آگے جا چکا۔مدرسے کی تعلیم اس سے ہم قدم ہو نے کے لیے کافی نہیں۔
ان نوجوانوں کی تشنگی انہیں مجبور کرتی ہے کہ وہ دوسری آوازوں پر بھی کان دھریں۔یہ دلیل اب انہیں قائل نہیں کر سکتی کہ اسلاف کی تقلید ہی میں خیر ہے یا یہ کہ وہ ان سے زیادہ عالم بھی تھے اور نیک بھی۔انہیں تو وہ علم چاہیے جو ان کے ذہنوں میں اٹھنے والے سوالات کا جواب ہو۔یوں وہ مدرسے کے دائرے سے نکلتے اور وہ سب کچھ پڑھتے اور سنتے ہیں جو دین کے باب میں لکھا اور سنایا جا رہا ہے۔انٹر نیٹ کی دنیا نے کوئی دروازہ بند نہیں رہنے دیا۔اب کسی مہتم یااستاد کے بس میں نہیں رہا کہ وہ دماغوں پر قفل لگا دے۔
دوسا ل ہونے کو ہیں جب مجھے مسلک ِ دیوبند کے ایک بڑے مدرسے میں جانے کا اتفاق ہوا۔ایک استاد نے میرے طالب علمانہ اشتیاق کو دیکھا تو میرے لیے ادارے کی لائبریری کے دروازے کھول دیے۔میں نے دیکھا کہ لائبریری سائنس کے اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے، کتب کی موضوعاتی تقسیم کی گئی ہے۔ایک الماری پر لکھا تھا:''ردِ مودودیت‘‘۔ دوسری پر ''ردِ پرویزیت‘‘۔تیسری پر ''ردِ بریلویت‘‘ کا عنوان چسپاں تھا۔میں نے استاد سے پوچھاکہ جن کی رد میں یہ کتابیں جمع کی گئی ہیں، کیا ان کی اپنی کتابیں بھی موجود ہیں؟معلوم ہوا کہ نہیں، ایسی کتابوں کا مطالعہ ممنوع ہے۔ میں جانتا ہو ں کہ سب مدارس کا ماحول ایسا ہی ہے،اس فرق کے ساتھ کہ بریلوی مسلک کے مدرسے میں ردِ بریلویت کے بجائے 'ردِ دیوبندیت‘ کے موضو ع پر کتب مو جود ہوں گی۔
ماضی میں یہ ممکن تھا کہ مدرسے کا استاد یہ طے کرے کہ ایک طالب علم کوکیا پڑھنا اور کیا نہیں پڑھنا۔اب ایسا نہیں ہو سکتا۔انٹر نیٹ نے طالب علم کو دوسری کتابوں اور آرا تک رسائی دے دی ہے۔مدارس کے ذمہ داران جانتے ہیں کہ ذہین نوجوان ان کے ہاتھ سے نکل رہے ہیں۔انہیں اس پر تشویش بھی ہے۔انہوں نے اس رحجان کو روکنے کے لیے جو راستہ اختیار کیا ہے،وہ مؤثر ثابت نہیں ہو رہا۔ان کا خیال ہے کہ وہ آج بھی فتوے سے اپنے طالب علموں کو دوسرے اہلِ علم سے دور رکھ سکتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ جب وہ کسی کو منکرِ حدیث کہہ دیں گے تو اس کے بعدتو یہ طالب علم ان کی بات کو حرفِ آخر مان لے گا۔وہ یہ نہیں جانتے کہ جب وہی طالب علم اس 'منکرِ حدیث‘ کی کتابیں پڑھتا ہے جس میں سیکڑوں احادیث سے استدلال کیا جا رہا ہے یا حدیث و سنت کے باب میں اس کا موقف براہ راست پڑھتا اور سنتا ہے توان کا یہ فتویٰ اس کے لیے بے معنی ہو جاتا ہے۔
ایک دوسرا طریقہ یہ ا ختیار کیا جا تا ہے کہ دوسروں کو امریکہ یا مغرب کا ایجنٹ کہہ دیا جائے۔وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ ماضی میں مو لا نامودودی وغیرہ پہ یہ حربہ استعمال ہو چکا اور اب اس کی افادیت باقی نہیں رہی۔اُس وقت کہا جاتا تھا کہ مو لانا مودودی کو امریکہ سے منی آڈر آتے ہیں۔مو لانا کا انتقال امریکہ میں ہوا تو ایک مسلک کے بڑے عالم نے تبصرہ کیا''پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا‘‘۔آج سب جانتے ہیں کہ یہ مقدمہ کیسا لغو اور بے بنیادتھا۔مو لانا مودودی کے خلاف اٹھائی گی یہ مہم تارِ عنکبوت کی طرح کمزور ثابت ہوئی۔اگر کچھ باقی رہا تو وہ علمی تنقید جو سنجیدہ اور متین اہلِ علم کی طرف سے سامنے آئی۔اس لیے آج بھی رینڈ کارپوریشن کی رپورٹوں کے بے معنی اور غیر متعلق اطلاق سے کوئی علمی مقدمہ غلط ثابت نہیں ہو سکتا۔
اہلِ مدرسہ کو، اس لیے سنجید گی کے ساتھ اس بات کا جائزہ لینا ہوگا کہ ذہین نو جوان کیوں غیر مطمئن ہے؟اس کے ذہن میں اٹھنے والے کون سے سوالات ایسے ہیں جن کا جواب ان کے پاس نہیں؟وہ کیوں اس روایت سے اپنا تعلق بر قراررکھنے میں مترددہے، جس سے وابستگی کی تعلیم اس کی گھٹی میں ہے؟مدارس کا دفاعی نظام واقعہ یہ ہے کہ بہت کمزور ثابت ہورہا ہے۔مدارس کے ذمہ داران کو سنجیدگی کے ساتھ اس معاملے پر غور کر نے ضرورت ہے۔
میں برسوں سے ان جرائد اور رسائل کامطالعہ کر رہا ہوں جو مختلف مدارس سے ہر ماہ شائع ہوتے ہیں۔ آج سے تیس سال پہلے جن موضوعات پرجو کچھ لکھا جارہا تھا،آج بھی وہی کچھ لکھا جا رہا ہے۔اگر جریدے پر ماہِ اشاعت درج نہ ہو تو اس کے دورِ اشاعت کا تعین کر نا مشکل ہے۔ مثال کے طور پر میرے سامنے اس وقت ایک بڑے مدرسے کا ،مئی کا شمارہ رکھا ہے۔اس کے مضامین کے عنوانات دیکھیے:''ملفوضاتِ حضرت۔۔۔‘‘ ،''افاداتِ شیخ۔۔۔۔‘‘،شبِ برات۔۔۔نیکی کمانے کا موسم۔‘‘،''حضرت عبداللہ ابن زبیرؓ‘‘۔'' وراثت کی تقسیم‘‘۔ایک نئی چیز رسالے کااداریہ ہے جس میں سوالات اٹھانے والوں کی مذمت کی گئی ہے۔ کیا ان تحریروں سے ذہین نو جوانوں کو مدرسے کے حصار میں قیدرکھاجاسکتا ہے؟
کوئی فکر اگر اپنے عہد کی ذہانتوں کو متاثر کرنے میں ناکام ثابت ہو تو وہ غیر متعلق ہو جا تی ہے۔اس اصول کا اطلاق جدید اور قدیم ، ہر فکرپر ہوتا ہے۔ہم نے کئی جدید افکار کو غیر متعلق ہوتے دیکھا ہے جوسطحی یا مضبوط علمی بنیادوں سے محروم تھے۔ مثال کے طورپر غلام احمد صاحب پر ویزکی فکر۔ساٹھ کی دھائی میں ان کی فکری ندرت کا بڑا غلغلہ تھا۔آج اس کے آثار کسی لائبریری ہی میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ روایت میں مزاحمت کی قوت زیادہ ہوتی ہے۔روایت بھی لیکن نئے علمِ کلام کا تقاضا کرتی ہے۔محض عصبیت کے سہارے سے اسے تادیر زندہ نہیں رکھا جا سکتا ۔
مسلم تہذیبی روایت دو عناصر سے مرکبّ ہے:علم اور تزکیہ نفس۔علم جو ایک طرف خالص الہامی روایت سے مربوط ہو جس کا ماخذ اللہ کے آخری رسول سیدنا محمدﷺ کی ذاتِ والا صفات ہے اور دوسری طرف اپنے عہد کے علمی مطالبات کو پورا کرتی ہو۔تزکیہ نفس کی و ہ روایت جو اللہ کے رسول سے ثابت اور صحابہ ؓ کی تواتر سے امت کو منتقل ہوئی۔اس کا نتیجہ، اس اخلاقی شخصیت کا ظہورہے جورسالت مآب ﷺ کی ذات میں ،مثالی صورت میں مجسم ہو گئی۔آج بھی وہی دینی روایت باقی رہ جائے گی جو اس معیار پر پورا اترتی ہے۔
اہلِ مدرسہ کو دیکھنا ہوگا کہ کیا ان کا نظامِ تعلیم وتربیت اس معیار پر پورا اترتا ہے؟کیا مدرسے کا علم ،الہامی روایت سے وابستہ اور اپنے عہد کے علمی مطالبات کا جواب ہے؟ کیامدرسے کا نظامِِ تربیت اخلاقیات کے ان اصولوں کو شخصیت کا حصہ بناتا ہے جو اللہ کے رسول ﷺ نے سکھائے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر ذہین نو جوانوں کا روایت سے وابستہ رہنا ممکن نہیں ہوگا۔ فتویٰ شاید اس معاملے میں ان کی مدد نہ کر سکے۔ 
ذہین نو جوانوں کا عدم اطمینان اگر مدرسے کی روایت کو مثبت انداز میں متاثر کرتا ہے تو باعثِ خیر ہے۔ اگر نہیں تو بھی اس کے خیر ہونے میں شبہ نہیں کہ دین کو ان کی صورت میں وہ خدام میسر آئیں گے جو انشااللہ مسلم تہذیبی روایت کوآگے بڑھا نے کی خدمت سرانجام دیںگے۔ 
بشکریہ روزنامہ دنیا، تحریر/اشاعت 15 مئی 2017
مصنف : خورشید احمد ندیم
Uploaded on : May 15, 2017
196 View