کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا ضروری ہے؟ - عمار خان ناصر

کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا ضروری ہے؟

سوال: سورۃ بقرہ کی آیت ۲۶ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ: ﴿ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ﴾ اس آیت سے بعض لوگ یہ استدلال کرتے ہیں کہ نجات پانے کے لیے یہود ونصاریٰ اور دوسرے غیر مسلم گروہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے مکلف نہیں ہیں اور اگر وہ اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہوئے نیک اعمال کرتے رہیں تو وہ اللہ کی بارگاہ میں کامیاب قرار پائیں گے۔ کیا یہ استدلال درست ہے؟

جواب: مذکورہ آیت سے یہ استدلال درست نہیں۔ کسی بھی آیت کا مفہوم درست طور پر متعین کرنے کے لیے دو باتوں کا لحاظ رکھنا بے حد ضروری ہے: ایک یہ کہ اس کا کوئی ایسا مفہوم مراد نہ لیا جائے جو قرآن مجید کے دوسرے واضح اور صریح نصوص اور اس کی مجموعی تعلیم اور اساسی تصورات کے خلاف ہو اور دوسرا یہ کہ اس آیت کے سیاق وسباق اور موقع ومحل پر غور کر کے یہ متعین کرنے کی کوشش کی جائے کہ متکلم درحقیقت وہاں کیا بات کہنا چاہتا ہے۔ ان اصولوں کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ ہم قادیانی حضرات کی تاویلات میں دیکھ سکتے ہیں جو ختم نبوت سے متعلق قرآن مجید اور حدیث کے واضح نصوص کو نظر انداز کر کے بعض ایسی آیت سے نبوت کے جاری رہنے کا نکتہ اخذ کرتے ہیں جہاں سے سرے سے یہ بات بیان کرنا ہی پیش نظر نہیں۔ بقرہ کی مذکورہ آیت سے زیر بحث استدلال کی نوعیت بھی یہی ہے۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر ان امور کی تفصیلاً وضاحت کی گئی ہے جن پرایمان لانا اللہ کے نزدیک ضروری ہے اور جن پر ایمان کی دعوت دینے کے لیے قرآن مجید کو نازل کیا گیا ہے۔ ان تمام آیات میں براہ راست ایمانیات کے اجزا کو موضوع بنایا گیا ہے۔ اس کے برخلاف سورئہ بقرہ کی مذکورہ آیت میں سرے سے ایمانیات کے اجزا بیان کرنا پیش نظر ہی نہیں۔ یہ آیت دراصل یہود کے اس زعم باطل کی تردید کے لیے آئی ہے کہ وہ خدا کی برگزیدہ اور چنیدہ قوم ہیں اور اللہ نے نجات کا مدار ایمان وعمل کے بجائے محض یہودی نسل سے تعلق رکھنے پر رکھا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح کیا ہے کہ اس کا ضابطہ یہ ہے کہ نجات اور فلاح کا مدار کسی خاص گروہ سے تعلق پر نہیں، بلکہ ایمان باللہ اور عمل صالح پر ہے اور ہر مذہبی گروہ کے لیے اس نے اسی چیز کو نجات کا معیار قرار دیا ہے۔ ایمان باللہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے صرف خدا کو موجود مان لینے کا نام نہیں، بلکہ خدا کی تمام صفات اور سنن، اس کی نازل کردہ کتابوں، اس کے بھیجے ہوئے پیغمبروں اور اس کے نازل کردہ احکام ونوامیس کو ماننا بھی اس میں شامل ہے۔ دوسرے لفظوں میں اللہ پر ایمان کا مطلب یہ ہے کہ خدا کو اپنا مالک اور معبود تسلیم کر کے اس کے ہر حکم کے سر اطاعت خم کر دیا جائے، اس لیے اللہ کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان اپنی حقیقت کے اعتبار سے خود اللہ پر ایمان کا حصہ ہے۔ اسے کسی بھی طرح اس سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ قرآن کا اسلوب یہ ہے کہ وہ مختلف جگہوں پر اپنی تعلیم کو بیان کرتے ہوئے کہیں اجمال کا طریقہ اختیار کرتا ہے اور کہیں اس کی تفصیل بیان کر دیتا ہے۔ مذکورہ آیت میں ایمانیات کے تمام اجزا کی اصل اور اساس یعنی ایمان باللہ کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ دوسرے مقامات پر ایمان باللہ کے تحت اور ا س کے لازمی تقاضے کے طور پر پیدا ہونے والے اجزاے ایمان کی تفصیل بیان کر دی گئی ہے۔ آخرت پر ایمان بھی ایمان باللہ ہی کا حصہ اور اس کی فرع ہے۔ یہاں اس کا الگ ذکر ایک خاص پہلو یعنی ذمہ داری اور جواب دہی کے احساس کو اجاگر کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ یہاں یہ بھی ذہن میں رہے کہ اگر آیت میں مذکورامور کے علاوہ کسی اور چیز پر ایمان رکھنے کو غیر ضروری سمجھا جائے تو پھر صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نہیں، بلکہ کسی بھی پیغمبر پر ایمان رکھنا غیر ضروری قرار پائے گا، کیونکہ آیت میں صرف ایمان باللہ اور ایمان بالآخرة کا ذکر ہے، کسی پیغمبر پر ایمان لانے کا کوئی ذکر نہیں۔ ایسی صورت میں کسی بھی گروہ کے لیے کسی بھی پیغمبر پر ایمان رکھنا ضروری نہیں ہوگا اور ایمان بالرسالت کا باب ہی سرے سے ایمانیات سے خارج قرار پائے گا۔ 

بشکریہ مکالمہ ڈاٹ کام، تحریر/اشاعت 19 نومبر 2016
مصنف : عمار خان ناصر
Uploaded on : Dec 01, 2016
694 View