اسلام اور خواتین: حقائق اور غلط فہمیاں - کوکب شہزاد

اسلام اور خواتین: حقائق اور غلط فہمیاں

 


اسلام کے حوالے سے خواتین کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ ان غلط فہمیوں کو زیر بحث لانے سے پہلے ضروری ہے کہ خواتین سے متعلق ایک اہم سوال کو زیر غور لایا جائے اور اس کی وضاحت کی جائے۔ وہ سوال یہ ہے:
معاشرے میں خواتین کا اصل کردار کیا ہے؟
ہمارے بیش تر علما حضرات کی یہ راے ہے کہ ایک خاتون کا اصل دائرۂ کار اس کا گھر ہے۔ اسے اپنے شوہر کی خدمت کرنے اور اگلی نسل کی تربیت پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔ جدید نقطۂ نظر کے حامل لوگ یہ راے رکھتے ہیں کہ مشرق کے روایتی معاشرے میں عورت خود کو ضائع کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ غیبت کرنے اور بے کار گھریلو مسائل میں الجھے رہنے کے سوا اس کی کوئی اور مصروفیت نہیں ہے۔
اس ضمن میں اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم مندرجہ ذیل پہلوؤں کو سامنے رکھیں تاکہ معاشرے میں خواتین کے کردار کو بخوبی سمجھا جا سکے:
۱۔اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت بہت مختصر ہے۔ اس سلسلے میں بنیادی بات یہ ہے کہ عقل انسانی بہت سے معاملات میں خود راستہ تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ البتہ بعض معاملات اس کی دسترس سے باہر ہیں۔انھی معاملات میں شریعت عقل انسانی کی رہنمائی کرتی ہے۔ چنانچہ خواتین کے معاملے میں بھی یہی صورت حال ہے۔اس ضمن میں شریعت نے چند اصولی باتوں کو واضح کرکے بقیہ معاملات عقل انسانی پر چھوڑ دیے ہیں۔ مثال کے طور پر خاندان کا ادارہ ، اس کی تنظیم، اس کا انہدام ، خواتین اور مردوں کے میل جول کے آداب جیسے موضوعات پر وہ ہمیں متعین رہنمائی دیتا ہے۔
۲۔ خواتین اور ان کی حیثیت سے متعلق مندرجہ ذیل آیت بطور اصول ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہیے:

وَلَہُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْْہِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَیْْہِنَّ دَرَجَۃٌ وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکُیْمٌ. (البقرہ ۲: ۲۲۸)
’’(سوسائٹی کے) رواج کے مطابق خواتین کے اسی طرح کے حقوق ہیں، جس طرح ان کی ذمہ داریاں ہیں اور شوہروں کو ان پر ایک درجہ فوقیت حاصل ہے اور اللہ تعالیٰ زبردست اور حکمت والا ہے۔ ‘‘

یہ چند الفاظ فہم وفراست اورحکمت کے خزانے اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں۔ ان الفاظ نے خواتین کا مقام واضح کرکے ہمیشہ کے لیے معاشرے میں خواتین کی حیثیت کی بحث کو ختم کردیا ہے۔ اس آیت میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ کسی معاشرے کا دستور اور اس کی روایات ہی ہوتی ہیں جو خواتین کی ذمہ داریوں اور حقوق کو طے کرتی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ سوسائٹی کا اجتماعی شعور ہی ہے جو ان کا تعین کرتا ہے۔ مزید برآں چونکہ مختلف معاشروں کی روایات مختلف ہوسکتی ہیں ، اس لیے خواتین کے حقوق و فرائض مختلف معاشروں میں مختلف ہوسکتے ہیں۔کس کو بچوں کی پرورش کرنی چاہیے ، کس کو بچوں کی دیکھ بھال کرنی چاہیے ، کس کو کھانا پکانا چاہیے اور کس کو گھر کی صفائی کرنی چاہیے؟ یہ وہ سارے معاملات ہیں جن کے لیے ہمیں معاشرے کے رسم و رواج اور روایات کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔اگر وہ رسم ورواج اور روایات شریعت کے خلاف نہیں اور اخلاقیات اورعلم وعقل کے مسلمات سے متصادم نہیں ہیں تو انھیں اپنا لیناچاہیے۔
۳۔ خواتین کے سامنے ایک پورا دائرۂ عمل ہے۔ وہ ہر وہ کام کرسکتی ہیں جو ان کے معاشرے کی اعلیٰ روایات اور اقدار کے خلاف نہ ہو۔جہاں تک ممکن ہو، انھیں تعلیم حاصل کرنی چاہیے اور اپنی ذہانت، قابلیت اور صلاحیت کے مطابق معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ اپنے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے خود کمانے میں بھی کوئی ممانعت نہیں۔ وہ مردوں کی طرح کوئی بھی پیشہ اپنا سکتی ہیں، تاہم انھیں شریعت میں ان سے متعلق دیے گئے آداب واحکام کا احترام کرنا چاہیے۔
اب ہم اسلام کے حوالے سے خواتین کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں اور اسلام اور خواتین کے بارے میں اٹھائے جانے والے چبھتے ہوئے سوالات کی طرف آتے ہیں۔

بشکریہ کوکب شہزاد
مصنف : کوکب شہزاد
Uploaded on : Apr 21, 2017
221 View