جرم اورگناہ - خورشید احمد ندیم

جرم اورگناہ

 

ایک سعودی عالم کا فتویٰ پڑھا تو اسی نفسِ مضمون کا حامل، مجھے اپنا ایک 'فتویٰ‘ یاد آیا جو علما کی ایک مجلس میں پیش کیا تو مسترد کر دیا گیا۔ اس جملے سے آپ یہ خیال نہ کیجیے کہ میں کوئی مفتی ہوں۔ فتویٰ رائے کو کہتے ہیں اور میں بھی اپنی رائے ہی کا ذکر کر رہا ہوں۔

یہ کم و بیش ایک سال پہلے کی بات ہے۔ اسلام آباد میں علما اور اہلِ دانش کا ایک اجتماع ہوا، مجھے بھی مدعو کیا گیا۔ اپنی گفتگو کے دوران میں، میں نے عرض کیا کہ مسلمانوں کا نظم اجتماعی اگر کسی بات کا حکم دے تو اس کا اتباع قانوناً ہی نہیں شرعاً بھی لازم ہے، شرط یہ ہے کہ وہ معصیت پر مبنی نہ ہو یعنی اللہ اور رسول کے کسی واضح حکم سے متصادم نہ ہو۔ میں نے بطور مثال ٹریفک قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے عرض کیا تھا کہ ان قوانین کی خلاف ورزی جرم تو ہے ہی، یہ گناہ بھی ہے، اس خلاف ورزی پر آخرت میں بازپرس ہو سکتی ہے۔ اس اجتماع میں مو لانا محمد حنیف جالندھری، تاثیر مصطفیٰ اور حاجی محمد حنیف طیب سمیت بہت سے اہلِ علم و دانش موجود تھے۔ مولانا محمد رفیع عثمانی بھی اس کانفرنس میں تشریف لائے تھے؛ تاہم وہ اس نشست میں شریک نہیں تھے، میں جس کا ذکر رہا ہوں۔ میری گفتگو کے بعد ایک جید عالم نے اظہار خیال کیا۔ میری رائے پر تبصرہ کرتے ہوئے، ان کا کہنا تھا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی جرم ہے لیکن یہ کہنا کہ آخرت میں بھی جواب دہی ہو گی، یہ بات مجھے کچھ مشکل دکھائی دیتی ہے۔ لطیف پیرائے میں کہی گئی اس بات پر سب ہنس دیے۔ نشست ختم ہوئی تو میں نے ان کے فقہی مسلک کی رعایت سے ازراہِ تفنن کہا: ہماری رائے مختلف اس لیے ہے کہ ہمارے 'اولی الامر‘ مختلف ہیں۔ چند دن پہلے جب یہی بات ایک سعودی عالم نے کہی تو مجھے یہ واقعہ یاد آگیا اور میں تنہائی میں مسکرا دیا۔

میرا خیال ہے کہ سعودی عالم کے فتوے کو ایک مسئلے کے ضمن میں دی گئی ایک انفرادی رائے کے بجائے، اصولی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے، اس کے لیے گناہ اور جرم کا فرق واضح رہنا چاہیے۔ عصری مفہوم میں جرم کسی رائج الوقت قانون کی خلاف ورزی کا نام ہے۔ جب قانون اس مدون صورت میں موجود نہیں تھا، جس طرح آج کی جدید ریاستوں میں پایا جاتا ہے تو جرم سماجی روایت سے انحراف کا نام تھا۔ گویا ایک قدر پر جب ایک سماج متفق ہو جائے تو اس کی خلاف ورزی جرم ہے۔ جدید ریاست میں عوامی نمائندوں کی مشاورت سے بننے والے قانون کو یہ حیثیت حا صل ہو گئی ہے؛ تاہم قدیم دور میں بھی ریاست یا نظم اجتماعی کے فیصلوں سے انحراف کو جرم سمجھا جاتا تھا۔ جرم ہر ریاست میں قابلِ تعزیر رہا ہے۔ دوسری طرف گناہ اصلاً ایک مذہبی اصطلاح ہے، اس سے مراد کسی الہامی ہدایت کی خلاف ورزی ہے۔ یہ خلاف ورزی روزِ قیامت، اللہ کے حضور میں قابلِ مواخذہ ہو سکتی ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ گناہ، قانونی مفہوم میں جرم بھی ہو، جیسے غیبت گناہ ہے لیکن جرم نہیں کیونکہ دنیا کا قانون اسے قابلِ تعزیر نہیں سمجھتا۔ کسی کی ٹوہ میں لگے رہنا گناہ ہے لیکن ہمارے ہاں ایسا کوئی قانون نہیں جو اسے جرم قرار دیتا ہو۔ 

جب الہامی ہدایت کے مطابق نظمِ اجتماعی تشکیل دیا گیا تو اسلام نے اس کے باب میں کچھ ہدایات دیں۔ ان میں ایک ہدایت یہ تھی کہ نظمِ اجتماعی کی اطاعت کی جائے گی۔ رسالت مآب نے اس کے لیے الجماعۃ اور السلطان کی اصطلاحیں بھی استعمال فرمائی ہیں۔ گویا مسلمانوں کے نظم اجتماعی کا اتباع شرعاً ضروری ہے کیونکہ اس کا حکم قرآن مجید اور رسالت مآب نے دیا ہے۔ اب اگر کوئی نظم اجتماعی کے کسی فیصلے کی خلاف ورزی کرتا ہے تو یہ قانوناً جرم اور شرعاً گناہ ہے۔ یہی بات سعودی عالم نے بھی اپنے فتوے میں کہی ہے۔ ٹریفک کے قوانین قرآن و سنت میں بیان نہیں ہوئے، نصوص میں کہیں نہیں لکھا کہ سرخ بتی پر رک جا نا چاہیے، یہ مسلمانوں کے نظم اجتماعی کا فیصلہ ہے اور ظاہر ہے کہ قرآن و سنت کے خلاف نہیں ہے۔ اس لیے اگر ایک عام شہری ان کی خلاف ورزی کرے گا تو وہ گناہ کا مرتکب ہوگا۔ گناہ ٹریفک کے قانون کی خلاف ورزی نہیں، نظم اجتماعی کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے۔

ہماری فقہی روایت میں یہ کوئی نئی بات نہیں۔ ہمارے قدیم علما اسے بیان کرتے رہے ہیں۔ خروج اور بغاوت کے مباحث میں، ہمیں اس کی تفصیل ملتی ہے۔ بدقسمتی سے آج کے دور میں اس بات کو بھلا دیا گیا ہے۔ ہم نظمِ اجتماعی کے فیصلوں کو قبول کرنے پر تیار نہیں ہوتے۔ ہم پاکستان کو ایک اسلامی ریاست مانتے ہیں لیکن اس کے فیصلوںکو وہ حیثیت دینے پر آمادہ نہیں جو اسلام نے دے رکھی ہے۔ ہمارے دینی طبقے نے بھی عام آ دمی کو اس بارے میں کبھی تعلیم نہیں دی۔ ہمارے ہاں تو ریاست کے فیصلوںکو وہ حیثیت بھی نہیں دی جاتی جو مغرب کی سیکولر ریاستوں میں انہیں حاصل ہے۔ ان معاشروں میں اگرچہ کسی شے کے ساتھ تقدس کا کوئی تصور وابستہ نہیں لیکن عملاً وہاں ریاستی قوانین کو مقدس سمجھا جاتا ہے۔ وہاں محال ہے کہ کوئی مہذب شہری جان بوجھ کر ریاست کا قانون پامال کرے۔ ہم جو خود کو مذہبی کہتے اور ہر حجر و شجر سے تقدس وابستہ کرنے پر ہر وقت آ مادہ رہتے ہیں، ریاستی قوانین کو کوئی اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں۔ 

لوگ پشاور سے سمگلنگ کا مال لے کر نکلتے اور کراچی پہنچا دیتے ہیں۔ راستے میں نفاذِ قانون کے ذمہ داروں کو رشوت بھی دیتے ہیں لیکن اس بات پر ڈرائیور سے جھگڑا کرتے ہیں کہ نماز کے وقت اس نے بس کیوں نہیں روکی۔ وہ اس بات پر بھی آ مادہ جنگ رہتے ہیں کہ بس میں گانے کیوں بج رہے ہیں جو خلافِ شریعت عمل ہے۔ انہیں یہ بتانے والا کوئی نہیں کہ سمگلنگ ریاستی قوانین کی خلاف ورزی ہے، اس لیے گناہ ہے۔ وہ جرم سے بچنے کی کوشش اس لیے کرتے ہیں کہ ریاستی قانون کی زد میں نہ آ جائیں۔ اس کے لیے بھی رشوت کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ ان کے تصورِ مذہب کے تحت یہ گناہ نہیں ہے۔ یہ معاملہ صرف ٹریفک کے قوانین کا نہیں ہے، ہم ریاستی قانون کے بارے میں بحیثیت مجموعی حساس نہیں ہیں۔ حکومت اگر جلسے کی اجازت نہ دے تو ہم اس کی خلاف ورزی کو عزیمت سمجھتے ہیں۔ دفعہ 144 نافذ ہو تو اس کی عملی مخالفت کو بہادری کہا جا تا ہے۔ ماضی میں مذہبی جماعتیں اس بات کا کسی حد تک احساس رکھتی تھیں، اگر دفعہ 144 نافذ ہوتی تو چار چار کی ٹولیوں کی صورت میں جلوس نکالے جاتے تھے کیونکہ اس قانون کے تحت پانچ افراد کے اجتماع پر پابندی ہوتی ہے۔ 

سعودی عالم کا فتویٰ ہمیں اس جانب متوجہ کر رہا ہے۔ پاکستان میں بعض شخصی انحرافات کے باوصف، آئین کی حکومت ہے جو اسلامی ہے، اس کی خلاف ورزی جرم ہی نہیں گناہ ہے۔ اس کا اطلاق آئین شکنی سے لے کر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی تک، تمام قوانین کو محیط ہے۔ اس حوالے سے سماج کو حساس بنانے کی ضرورت ہے۔ یہ کام دین کے علما کا ہے کہ منبر و محراب سے آواز اٹھا ئیں اور لوگوں تک اس بات کا ابلاغ کریں۔ سوچنا چاہیے کہ جس ریاست کے ایک قانون کی خلاف ورزی گناہ ہے، اس کے خلاف مسلح جدوجہد کا حکم کیا ہو گا؟

-----------------------------------------------------

 

بشکریہ خورشید ندیم
تاریخ اشاعت 3 مئی 2014

مصنف : خورشید احمد ندیم
Uploaded on : May 18, 2016
590 View