علم اور ذرائع علم - امین احسن اصلاحی

علم اور ذرائع علم

 

[ یہ تقریر انجمن فاضلین ادارۂ تعلیم، جامعہ پنجاب کے ایک اجلاس میں ۱۹۶۶ء میں کی گئی۔ ]

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اصل چیز جو انسان کو حیوانات سے ممیز کرتی ہے، وہ علم و ادراک ہے۔ جہاں تک دوسری خصوصیات و صفات کا تعلق ہے۔ مثلاً کھانے پینے میں، بھاگنے دوڑنے میں، توالد و تناسل میں، حیوانات نہ صرف انسان کے شریک و سہیم ہیں، بلکہ واقعہ یہ ہے کہ ان صفات میں وہ انسان پر مختلف اعتبارات سے بالاتری کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔ لیکن علم و ادراک کی صفت انسان کے اندر ایک ایسی صفت ہے جس کی بدولت انسان نہ صرف تمام حیوانات پر حکمران ہے، بلکہ پہاڑوں اور سمندروں کی تسخیر کرتا ہے، ہواؤں پر حکومت کرتا ہے، ستاروں پر کمند ڈالتا ہے، بلکہ سچ پوچھیے تو فرشتوں پر بھی بازی لے گیا ہے۔
اسی وجہ سے دنیا کی قدیم ترین سچائیوں میں سے ارسطو کی یہ بات بھی ہے کہ انسان حیوان ناطق ہے۔ ناطق کے معنی جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ’دریاے بندۂ معقولات‘ کے ہیں، یعنی انسان صرف محسوسات ہی کا علم نہیں رکھتا، بلکہ معقولات کی دریافت بھی کرتا ہے اور اس کی یہی صفت ہے جو اسے حیوانات سے الگ کرتی ہے۔ اگر یہ نہ ہوتی تو انسان بھی حیوانات کی مختلف قسموں میں سے ایک قسم کا حیوان ہوتا اور اگر سب سے نہیں تو بہت سی قسموں سے تو ضرور فروتر ہوتا۔
حضرات، انسان کی یہی جبلت ہے جس کی وجہ سے انسان کا بچہ ابھی ماں کی گود ہی میں ہوتا ہے کہ ہر چیز سے متعلق کیا، کیوں اور کس طرح کے سوالات کی بھرمار سے ماں اور باپ کو تنگ کر دیتا ہے۔ اسی جبلت کے تقاضوں کو بروے کار لانے کے لیے قدرت نے انسان کو عقل سے نوازا ہے جو انسان کی تمام خصوصیات میں سے اعلیٰ ترین خصوصیت اور اس کے تمام کارناموں اور اس کی کامرانیوں کا سرچشمہ ہے۔
جبلی اور فطری تقاضا ہونے کی وجہ سے ہر انسان کے اندر علم کی طلب لازماً پائی جاتی ہے۔ لیکن جس طرح ہر فطری طلب موانع و مشکلات اور ماحول کی مزاحمتوں کی وجہ سے دب جاتی ہے یا غلط راہیں اختیار کر لیتی ہے، اسی طرح یہ طلب بھی بہت سے لوگوں کے اندر مغلوب یا پراگندہ ہو جاتی ہے۔ لیکن ہے انسان کے اندر یہ اتنی شدید کہ یہ مردہ کبھی نہیں ہوتی اور اس دنیا میں بے شمار انسان ایسے گزرے ہیں جن کے اندر مزاحمتوں کے علی الرغم یہ داعیہ اس زور سے ابھرا ہے کہ انھوں نے کسی مزاحمت کی بھی پروا نہیں کی ہے اور اس راہ میں ایسی قربانیاں دی ہیں کہ انسانیت ان پر ہمیشہ فخر کرے گی اور درحقیقت ایسے ہی جاں بازوں کے کارنامے ہیں جن سے آج نہ صرف علم و فن کے بازار کی رونق ہے، بلکہ دنیا کی ساری بہار انھی کی لائی ہوئی ہے۔
حضرات، میری اس گزارش کا مقصد یہ ہے کہ علم، انسان کی سب سے اعلیٰ طلب ہے اور اس طلب کے بروے کار آنے کا ذریعہ اس کی عقل ہے۔ انسان کی ساری فتوحات اس کے دم قدم سے ہیں۔ یہ نہ ہو تو یہ دنیا بالکل تاریک ہو جائے۔ اس وجہ سے میں ان فلسفیوں سے متفق نہیں جو عقل کی کج اندیشیوں اور گمراہیوں کی داستان اس طرح بیان کرتے ہیں کہ شبہ ہونے لگتا ہے کہ عقل انسان کی رہنمائی کے لیے نہیں، بلکہ اس کو گمراہ کرنے کے لیے قدرت نے اس کے ساتھ لگا دی ہے۔ عقل کو اس طرح مطعون کرنا میرے نزدیک ایک قسم کا مغالطہ ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ عقل بہت حفاظت اور بڑی تربیت کی محتاج ہے۔ حفاظت سے میرا مقصد یہ ہے کہ انسانیت کا تمام شرف چونکہ اسی پر منحصر ہے، اس وجہ سے سب سے بڑی ضرورت انسانیت کی یہ ہے کہ انسان کا یہ جوہر کسی غلط ہدف پر ضائع نہ ہو، بلکہ اسی مقصد پر صرف ہو، جس مقصد کے لیے قدرت نے اس کو انسان کے اندر ودیعت کیا ہے۔
تربیت سے میرا مقصد یہ ہے کہ اس کی قوتوں اور صلاحیتوں کو بیدار کرنے کی ایسی تدبیریں اختیار کی جائیں کہ یہ برابر ترقی کرتی رہے اور اس پر کبھی جمود اور اندھی تقلید کا رنگ چڑھنے نہ پائے۔ اس مقصد کے لیے دنیا میں اس قسم کے اداروں کا وجود ہو جن میں سے ایک ادارے میں آج مجھے یہ تقریر کرنے کی عزت حاصل ہوئی ہے۔ میرے نزدیک ان اداروں کا اصل مقصد کتابوں کی تعلیم و تدریس نہیں، بلکہ عقل کی ایسی تربیت ہے کہ یہ حصول علم کی راہ میں ہمیشہ سرگرم رہ سکے۔
حضرات، لیکن عقل کی اس فضیلت کے ساتھ ساتھ اس بات کو یادر کھیے کہ عقل نہ تو بے خطا چیز ہے اور نہ اس کے متعلق یہ دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ یہ جس طرح مادیات و محسوسات کے عالم میں اپنی جولانیاں دکھاتی ہے، اسی طرح ان اعلیٰ اقدار و حقائق کی جستجو میں بھی تگ و دو کر سکتی ہے جو محسوسات و مادیات سے ماوراء ہیں، حالاں کہ وہی اقدار و حقائق ہیں جن سے انسانی زندگی کو ابدیت اور غیرفانی ہونے کا مقام حاصل ہوتا ہے۔ اگر انسان ان حقائق سے بے خبر رہے تو خواہ مالی اعتبار سے کتنی ہی ترقی کر لے، اس کو ابدیت کا اعلیٰ مقام حاصل نہیں ہو سکتا۔
عقل انسانی کی اس کمی کو پورا کرنے کے لیے قدرت نے انسان کو ایک اور ذریعۂ علم بھی عطا فرمایا ہے۔ یہ ذریعہ وحی کا ذریعہ ہے۔ وحی انبیا علیہم السلام کے ذریعہ سے آئی ہے۔ جن کا علم بے خطا بھی ہے اور جو ان حقائق و اقدار پر مشتمل بھی ہے جو محسوسات و مادیات سے ماوراء ہیں۔ یہ علم اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس لیے دیا ہے کہ انسان اس عالم آب و گل کا اسیر بن کر نہ رہ جائے، بلکہ اس زندگی کے بعد ابدی زندگی کی خوشیوں اور لذتوں کو بھی حاصل کر سکے۔
وحی کے ذریعے سے ہمیں جو علم حاصل ہوا ہے، نہ وہ عقل کے خلاف ہے نہ وہ اس دنیا کے معاملات و مسائل سے بے تعلق ہے، بلکہ وہ تمام تر عقل و فطرت ہی کے تقاضوں پر مبنی ہے اور اس کا مقصد ہماری اس دنیاوی زندگی کی ایسی تنظیم ہے کہ یہ زندگی ہماری ابدی زندگی کا دیباچہ اور اس کی تمہید بن جائے اور ہم یہاں اپنی زندگی، آخری زندگی کی صلاح و فلاح کو پیش نظر رکھ کر گزاریں۔
آپ اگر علم وحی پر ایک شائق علم، طالب علم کی طرح کسی بدگمانی کے بغیر غور کریں گے تو آپ محسوس کریں گے کہ یہ ہماری عقل کو معطل نہیں کرتا، بلکہ اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ اپنے غور و فکر اور اپنی تحقیق و جستجو کو صرف اس عالم رنگ و بو ہی تک محدود نہ رکھے، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر ان ظواہر کے پیچھے جو حقائق ہیں، ان کو بھی دیکھے اور سمجھے۔ یہ ہمیں اس بات کی ترغیب نہیں دیتا کہ ہم اس دنیا کے معاملات و مسائل کو نظرانداز کر دیں، بلکہ اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ ہم صحیفۂ کائنات کے صرف اسی ایک ورق کے فکر و مطالعہ پر قانع نہ ہو جائیں جو ہماری آنکھوں کے سامنے کھلا ہوا ہے، بلکہ اس صحیفہ کے ان اوراق کو بھی پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش کریں جو اگرچہ ہماری آنکھوں کے سامنے نہیں ہیں، لیکن ہمارے دل اور ہماری آنکھوں کے لیے وہ بھی کھلے ہوئے ہیں۔
اس وجہ سے میں علم کے ان دونوں ذرائع عقل اور وحی کو یکساں اہمیت دیتا ہوں اور ان کے درمیان کسی نزاع کا قائل نہیں ہوں۔ جو لوگ ان کے درمیان نزاع کے قائل ہیں اور عقل کی حمایت میں وحی کو اور وحی کی حمایت میں عقل کو مطعون کرتے ہیں، میں اس کو ان کی کم نگاہی پر محمول کرتا ہوں۔ جس طرح عقل استدلال سے کام لیتی ہے، اسی طرح وحی بھی آفاق و انفس کی نشانیوں سے استدلال کرتی ہے اور اس استدلال میں وہ تمام تر عقل ہی کے کلیات استعمال کرتی ہے اور عقل کی جولانیوں کے لیے ایک غیر محدود میدان فراہم کرتی ہے۔ پس علم کی صحیح ترقی کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم وحی کی روشنی سے بھی پورا پورا فائدہ اٹھائیں، ورنہ عقل اور سائنس کی مدد سے آج جو فتوحات انسان حاصل کر رہا ہے، یہ ان کے لیے نفع رساں ہونے کے بجاے تباہی کا باعث بن جائیں گی! موجودہ دور کے انسان نے سائنس کے زور سے اسلحہ تو بے پناہ ایجاد کر لیے، لیکن وحی کی رہنمائی سے محروم ہونے کی وجہ سے اپنے ظرف کے اندر وہ وسعت اور آفاقیت پیدا نہ کر سکا جو ان اسلحہ کے صحیح استعمال کے لیے ناگزیر ہے! ہماری یونیورسٹیوں کو اس مسئلہ پر بڑی سنجیدگی سے غور کرنا اور اس کا حل تلاش کرنا چاہیے۔

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت دسمبر 2013
مصنف : امین احسن اصلاحی
Uploaded on : May 18, 2018
68 View