سفلی علوم - محمد رفیع مفتی

سفلی علوم

 

’’اور (اب بھی یہی ہوا کہ ) جب اللہ کی طرف سے ایک پیغمبران کے پاس آ گیا، اُن پیشین گوئیوں کے مطابق ، جو ان کے ہاں موجود ہیں تو یہ لوگ جنھیں کتاب دی گئی ، ان میں سے ایک گروہ نے اللہ کی (اس) کتاب کو (اِس طرح) اپنی پیٹھ پیچھے پھینک دیا ، گویا وہ اسے جانتے ہی نہیں ہیں ،اور (پیغمبر کو ضرر پہنچانے کے لیے ) اُس چیز کے پیچھے لگ گئے جو سلیمان کے زمانۂ سلطنت میں شیاطین پڑھتے پڑھاتے تھے ۔ (یہ اسے سلیمان کی طرف منسوب کرتے ہیں) ، دراں حالیکہ سلیمان نے کبھی کفر نہیں کیا، بلکہ شیطان ہی نے کفر کیا۔ وہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے ۔ اور (اس چیز کے پیچھے لگ گئے) جو بابل میں دو فرشتوں، ہاروت و ماروت پر اتاری گئی تھی ، دراں حالیکہ وہ دونوں اس وقت تک کسی کو کچھ نہ سکھاتے تھے ، جب تک اسے بتا نہ دیتے کہ ہم تمھاری آزمایش ہیں ، اس لیے تم اس کفر میں نہ پڑو۔ پھر بھی یہ ان سے وہ علم سیکھتے تھے جس سے میاں بیوی میں جدائی ڈال دیں ، اور حقیقت یہ تھی کہ اللہ کی اجازت کے بغیر یہ اس سے کسی کا کچھ بگاڑ نہ سکتے تھے ۔ (یہ اس بات کو جانتے تھے ) اور (اس کے باوجود) وہ چیزیں سیکھتے تھے جو انھیں کوئی نفع نہیں دیتی تھیں ، بلکہ نقصان پہنچاتی تھیں، دراں حالیکہ انھیں معلوم تھا کہ جو ان چیزوں کا خریدار ہوا، اس کے لیے پھر آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے ، کیا ہی بری ہے وہ چیز جس کے بدلے میں انھوں نے اپنی جانیں بیچ دیں ۔ اے کاش ، یہ جانتے ۔ اور اگر یہ ایمان اور تقویٰ اختیار کرتے تو اللہ کے ہاں جو صلہ انھیں ملتا ، وہ ان کے لیے کہیں بہتر تھا۔ اے کاش ،یہ سمجھتے ۔‘‘ (۲ :۱۰۱۔ ۱۰۳)

مدعا یہ ہے کہ یہ یہود کسی صورت بھی ماننے کے نہیں ہیں، دیکھو اب بھی یہی ہوا ہے کہ جب ہماری طرف سے یہ پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم اِن کے پاس پہلے سے موجود پیش گوئیوں کے عین مطابق آئے ہیں تو اِس موقع پر چاہیے تو یہ تھا کہ یہ لوگ اپنی کتابِ تورات کی پیش گوئیوں پر اپنے ایمان کا حق ادا کرتے اور اُن کے اِس واضح مصداق محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتے، لیکن ہوا یہ کہ اِنھی میں کے ایک گروہ نے اللہ کی اُس اتاری ہوئی کتابِ تورات کو اِس طرح اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا، گویا یہ اُسے جانتے ہی نہیں ہیں۔ اب اگر یہ ایسے ہو گئے ہیں کہ گویا اپنی کتاب ہی کو جانتے نہیں تو پھر اُس کی پیش گوئیوں کی یہ کیا پروا کریں گے، ظاہر ہے کہ اِن سے اِس کی توقع ہی محال ہے۔ پھر اِنھوں نے اِسی پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ یہ اِس سے آگے بڑھ کر پیغمبر کو ضرر پہنچانے کے لیے اُن سفلی علوم کے پیچھے لگ گئے ، جو سلیمان علیہ السلام کے زمانۂ سلطنت میں شیاطین پڑھتے پڑھاتے تھے۔
یہ یہود ایسے دیدہ دلیر ہیں کہ یہ اِن سفلی علوم کو سلیمان علیہ السلام کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اِن کا یہ خیال ہے کہ خدا کا وہ برگزیدہ نبی ایسے سفلی اور شیطانی علوم پڑھتا پڑھاتا تھا۔ اِن کی طرف سے یہ اُس پر صریح تہمت ہے۔ وہ اللہ کا نبی تھا ، اُس کی شان اِس سے بہت بالا تھی کہ وہ ایسے سفلی علوم میں کوئی دلچسپی لے۔ اِن علوم کو اختیار کرنا تو سراسرکفر ہے۔ ہمارے نبی سلیمان علیہ السلام نے کبھی کفر نہیں کیا ۔ ہاں اُس کے دور میں شیاطین ضرور یہ کفر کیا کرتے تھے۔ یہ شیاطین لوگوں کو جادو سکھایا کرتے تھے۔
یہ یہود نہ صرف اِن شیطانی علوم کے پیچھے پڑے، بلکہ یہ اپنے سفلی عزائم کو پورا کرنے کے لیے اُس روحانی علم کے درپے بھی ہوئے جو ہم نے عراق کے شہر بابل میں لوگوں کی آزمایش کی خاطر دو فرشتوں ہاروت اور ماروت پر نازل کیا تھا۔ یہ دونوں اللہ کے فرشتے تھے ، لہٰذا یہ سیکھنے والے کو یہ بات بتا دیتے تھے کہ دیکھو ہمیں تمھاری آزمایش کے لیے تمھارے پاس بھیجا گیا ہے۔ تم ہم سے یہ روحانی علم نہ سیکھو، یہ خطرناک ہے۔ تم اِس سے کسی فتنے میں گرفتار ہو کر کفر کے مرتکب ہو سکتے ہو۔ البتہ اگر تم اِس پر مصر ہو کہ تمھیں ہم سے ضرور یہ علم سیکھنا ہے تو پھر ہم تمھیں یہ سکھا ئے دیتے ہیں، لیکن اِس کے نقصان کی ذمہ داری تمھیں پر ہو گی۔
یہ سب کچھ سمجھانے کے باوجود، یہ اُن سے وہ روحانی علم سیکھا کرتے تھے اور اُس علم میں سے بھی اپنے سفلی مقاصد کے لیے خاص کر وہ حصہ سیکھتے جس سے یہ گھر میں ہنستے بستے میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈال دیں۔
یہ علم کوئی مافوق الفطرت چیز نہ تھی۔ یہ اِس کائنات میں اللہ کے بے شمار جاری قوانین میں سے کچھ قوانین کا علم تھا، اِس کے علاوہ یہ کچھ بھی نہیں تھا۔ چنانچہ اِس علم کے بارے میں بھی حقیقت یہی تھی کہ بہت سے دوسرے علوم کی طرح،اِس علم کے ساتھ بھی کوئی اللہ کی اجازت کے بغیر کسی کا کچھ بھی بگاڑ نہ سکتا تھا ۔
یہ یہود اِس بات کو جانتے تھے کہ یہ جادو وغیرہ کا علم تو خیر ہے ہی کفر ، یہ روحانی علم بھی اپنے اندر مضرت کے بے شمار پہلو رکھتا ہے ، خصوصاً جب کہ یہ بری نیت کے ساتھ حاصل کیا گیا ہو۔ لیکن پھر بھی یہ لوگ وہ چیزیں سیکھتے تھے، جو اِنھیں کچھ بھی نفع نہ دیتیں اور بہت نقصان پہنچاتی تھیں۔ افسوس یہ ہے کہ اِنھیں یہ بھی معلوم تھا کہ جو شخص اِس دنیا میں اِن چیزوں سے اشتغال رکھے گا اور ایسے فتنوں میں پڑے گا ،اُس کے لیے پھر آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا۔ اے مخاطب دیکھو کیا ہی بری ہے یہ چیز جس کے بدلے میں اِنھوں نے اپنی آخرت گنوا دی اور ابدی گھاٹے میں پڑے؟ اے کاش ! انھیں اِس نقصان کی حقیقت معلوم ہوتی۔
آج مدینہ کے یہ یہود ہمارے اِس نبی کو اِنھی سفلی علوم کے ذریعے سے نقصان پہنچانے کے لیے اپنے اسلاف کی راہ پر چل رہے ہیں۔ اِس راہ پر چلنا تو اِن کے لیے سراسر گھاٹے ہی کا باعث ہے۔یہ اگر اپنے اِس رویے کے بجائے ہمارے اِس نبی پر ایمان لاتے اور خدا کے تقویٰ کی راہ اختیار کرتے تو اللہ کے ہاں اِنھیں بے حساب اجر ملتا ۔ آخرت کا یہ اجر و ثواب اِن کے لیے اُس گھاٹے سے کہیں بہتر تھا، جواب اِس صورت میں اِن کا مقدر بن سکتا ہے۔اے کاش یہ اِس بات کو سمجھتے ہوتے۔

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت فروری 2002
مصنف : محمد رفیع مفتی
Uploaded on : Jun 09, 2018
64 View