نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خیر و شر - معز امجد

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خیر و شر

ترجمہ و تدوین: شاہد رضا

رُوِیَ أَنَّ حُذَیْفَۃَ بْنَ الْیَمَانِ قَالَ: کَانَ النَّاسُ یَسْأَلُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَیْرِ وَکُنْتُ أَسْأَلُہُ عَنِ الشَّرِّ مَخَافَۃَ أَنْ یُّدْرِکَنِیْ.
فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، إِنَّا کُنَّا فِیْ جَاہِلِیَّۃٍ وَشَرٍّ فَجَاءَ نَا اللّٰہُ بِہٰذَا الْخَیْرِ فَہَلْ بَعْدَ ہٰذَا الْخَیْرِ مِنْ شَرٍّ؟
قَالَ: نَعَمْ،
قُلْتُ: وَہَلْ بَعْدَ ذٰلِکَ الشَّرِّ مِنْ خَیْرٍ؟
قَالَ: نَعَمْ، وَفِیْہِ دَخَنٌ،
قُلْتُ: وَمَا دَخَنُہُ؟
قَالَ: قَوْمٌ یَہْدُوْنَ بِغَیْرِ ہَدْیِیْ تَعْرِفُ مِنْہُمْ وَتُنْکِرُ،
قُلْتُ: فَہَلْ بَعْدَ ذٰلِکَ الْخَیْرِ مِنْ شَرٍّ؟
قَالَ: نَعَمْ، دُعَاۃٌ إِلٰی أَبْوَابِ جَہَنَّمَ، مَنْ أَجَابَہُمْ إِلَیْہَا قَذَفُوْہُ فِیْہَا،
قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، صِفْہُمْ لَنَا،
فَقَالَ: ہُمْ مِنْ جِلْدَتِنَا وَیَتَکَلَّمُوْنَ بِأَلْسِنَتِنَا،
قُلْتُ: فَمَا تَأْمُرُنِیْ إِنْ أَدْرَکَنِیْ ذٰلِکَ؟
قَالَ: تَلْزَمُ جَمَاعَۃَ الْمُسْلِمِیْنَ وَإِمَامَہُمْ،
قُلْتُ: فَإِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّہُمْ جَمَاعَۃٌ وَلاَ إِمَامٌ؟
قَالَ: فَاعْتَزِلْ تِلْکَ الْفِرَقَ کُلَّہَا وَلَوْ أَنْ تَعَضَّ بِأَصْلِ شَجَرَۃٍ حَتّٰی یُدْرِکَکَ الْمَوْتُ وَأَنْتَ عَلٰی ذٰلِکَ.

روایت کیا گیا ہے کہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر (اچھائی)۱؂ کے متعلق سوال کرتے تھے، جبکہ میں آپ سے شر(برائی) کے متعلق سوال کرتا تھا۲؂، اس ڈر سے کہ کہیں وہ مجھے آ نہ لے۔
چنانچہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، بے شک، ہم جہالت اور شر میں تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس (امن کی ) خیر سے نوازا، کیا اس خیر کے بعد شر ہو گا؟
آپ نے ارشاد فرمایا: ہاں،
میں نے عرض کیا: کیا اس شر کے بعد پھر خیر ہوگا؟
آپ نے ارشاد فرمایا: ہاں، مگر اس میں غبار (یا شر کا بادل) ہوگا،
میں نے عرض کیا: اس میں غبار کیسا ہوگا؟
آپ نے ارشاد فرمایا:ایسے لوگ ہوں گے جواس ہدایت کے علاوہ کسی اورہدایت پرحکومت کریں گے جو میں لے کر آیا ہوں، تم ان میں اچھے اور برے، دونوں اعمال دیکھو گے۳؂،
میں نے عرض کیا: کیا اس خیر کے بعد پھر شرہو گا؟
آپ نے ارشاد فرمایا: ہاں، ایسے لوگ ہوں گے جو دوزخ کے دروازوں کی طرف بلا رہے ہوں گے، جس نے اس کی طرف ان کی دعوت قبول کی، وہ اسے اس میں جھونک دیں گے۴؂،
میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، ان کے بارے میں ہمیں بتائیے،
آپ نے ارشاد فرمایا: وہ ہمارے جیسے ہوں گے اور ہماری زبان میں بات کریں گے۵؂،
میں نے عرض کیا: اگر میں یہ زمانہ پاؤں تو آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟
آپ نے ارشاد فرمایا: مسلمانوں کے نظم اجتماعی کے ساتھ وابستہ رہو اور ان کے حکمران کے تابع فرمان رہو۶؂،
میں نے عرض کیا: اگر ان کا نہ کوئی نظم اجتماعی ہو اور نہ کوئی حکمران ہو تو مجھے کیا کرنا چاہیے۷؂؟
آپ نے ارشاد فرمایا: تو تم ان تمام فرقوں سے الگ ہو جاؤ اور (اسی حالت میں رہو) اگرچہ تمھیں ایک درخت کی جڑ اپنے دانتوں سے پکڑنی پڑے، یہاں تک کہ (ان فرقوں سے الگ رہتے ہوئے) اسی حالت میں تمھیں موت آ لے۔

ترجمے کی حواشی

۱۔ جیساکہ آگے روایت کے مضمون سے واضح ہو جائے گا کہ یہاں دونوں الفاظ ’خیر‘ اور ’شر‘ ایک خاص مفہوم میں استعمال ہوئے ہیں۔ لفظ ’خیر‘ یہاں اجتماعی امن اور سیاسی ہم آہنگی کے لیے استعمال ہوا ہے، جبکہ لفظ ’شر‘ انتشار اور عدم اتحاد کے لیے استعمال ہوا ہے۔
۲۔ حضرت حذیفہ بن یمان کہتے ہیں کہ میں اکثر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے موجودہ سیاسی اور اجتماعی حالت میں کسی بھی قسم کے ممکنہ فساد اور جارحیت کے متعلق سوال کرتا، جبکہ دوسرے لوگ ایسے امور کے بارے میں سوال کرتے جن کا تعلق اجتماعی امن اور ہم آہنگی سے ہوتا تھا۔ یہ امن و ہم آہنگی اللہ تعالیٰ نے ان عرب لوگوں کو عطا فرمائی تھی جو روایتی طور پر مختلف گروہوں میں رہنے والے تھے۔
۳۔یہ بات عجیب معلوم ہوتی ہے کہ اس روایت میں اس زمانے کو خیر کا زمانہ قرار دیا گیا ہے جس میں حکمران عموماً شریعت کے احکام سے منحرف ہوں گے، اس کی وجہ یہ ہے کہ دراصل اس زمانے میں مسلمان ہم آہنگی اور اجتماعی اتحاد کی زندگی گزاریں گے۔
۴۔ روایت کے سیاق وسباق سے یہ بات بالبداہت واضح ہے کہ اس میں ان حکمرانوں کی طرف اشارہ ہے جوحصول تخت کے لیے اپنے مطالبات مسلط کر کے لوگوں میں فرقہ دارانہ اور انتشار کی فضا پھیلانے کی کوشش کریں گے۔
۵۔ یعنی وہ عربوں میں سے ہی ہوں گے۔
۶۔روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم ہے کہ تمام حالات میں نظم اجتماعی کی پیروی کی جائے اور علیحدگی پسند گروہوں کی ان کے حصول مقاصد میں معاونت سے احتراز کیا جائے۔
۷۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ آپ سے کہتے ہیں کہ اگر مسلم حکومت پہلے ہی معزول کر دی گئی ہو اور مسلمان انتشار کی حالت میں رہ رہے ہوں تو متفرق گروہوں میں سے کس کی حمایت کرنی چاہیے، جبکہ وہ حکومت کے حصول کے لیے جنگ کر رہے ہوں۔

حاصل کلام

اس روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشین گوئی فرمائی ہے کہ عربوں میں اجتماعی امن اور ہم آہنگی کی عظیم نعمت ہمیشہ نہیں رہے گی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ارشاد فرمایا ہے کہ جب مجموعی حالت فساد کا شکار ہو تو انھیں مسلمانوں کے نظم اجتماعی سے وابستہ رہنا چاہیے، اور حکمرانوں کے اطاعت گزار رہنا چاہیے، اگرچہ وہ بے انصافی اور احکام اسلام کی عدم اطاعت کے مرتکب ہوں۔ اگر نظم اجتماعی موجود نہ ہو اور سیاسی انتشار غالب ہو تو عام آدمی کو ان تمام گروہوں سے الگ رہنا چاہیے جو اپنی حکومت کے قیام کے لیے اپنے مخالفین سے جنگ کر رہے ہوں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم آدمی کے اس مطلوبہ کردار کے متعلق ہے جو اسے مختلف سیاسی اور مجموعی حالات میں ادا کرنا چاہیے۔ جب ایک آدمی حکومت کے ماتحت زندگی گزار رہا ہو تو اسے سختی سے اجتماعی فیصلوں کی اطاعت کرنی چاہیے، یہاں تک کہ اگر کوئی یہ محسوس کرے کہ یہ فیصلے درست نہیں ہیں اور اسلامی اصولوں کے خلاف ہیں، اسے ان فیصلوں کا فرماں بردار رہنا چاہیے۔ بہ صورت دیگر اگر کوئی آدمی ایسے حالات میں زندگی گزار رہا ہے کہ جس میں حکومت پہلے ہی معزول کر دی گئی ہے اور لوگوں نے اپنے آپ کو الگ الگ گروہوں میں تقسیم کر لیا ہے اور ہر گروہ اپنی ہی حکومت قائم کرنے کے لیے سعی کر رہا ہے، توپھر ایک مسلمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان گروہوں سے الگ رکھے اور حکومت کے حصول کے لیے اس جاری جنگ میں شریک نہ ہو۔

متون

بعض اختلافات کے ساتھ یہ روایت بخاری، رقم ۱۱۳۴۔۳۴۱۲، ۶۶۷۳؛ مسلم، رقم ۱۸۴۷ ا، ۱۸۴۷ ب؛ ابو داؤد، رقم ۴۲۴۴۔۴۲۴۶؛ ابن ماجہ، رقم ۳۹۸۱؛ بیہقی، رقم۱۶۳۸۷، ۱۶۳۹۴، ۱۶۴۰۷، ۱۶۵۷۲؛ سنن النسائی الکبریٰ، رقم۸۰۳۲۔۸۰۳۳؛احمد، رقم۱۸۴۳۰، ۲۳۳۳۰، ۲۳۴۳۸، ۲۳۴۷۳ ا، ۲۳۴۷۳ب، ۲۳۴۷۴۔۲۳۴۷۹، ۲۳۴۹۶؛ ابن حبان، رقم ۱۱۷، ۵۹۲۳؛ ابویعلیٰ، رقم ۸۷۳؛ عبدالرزاق۲۰۷۱۱ اور ابن ابی شیبہ، رقم ۳۷۱۱۴، ۳۷۱۳۳ میں روایت کی گئی ہے۔
بعض روایات، مثلاً سنن النسائی الکبریٰ، رقم ۸۰۳۲ میں ’کان الناس یسئلون رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم عن الخیر وکنت أسألہ عن الشر‘ (لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر (اچھائی) کے متعلق سوال کرتے تھے، جبکہ میں آپ سے شر(برائی) کے متعلق سوال کرتا تھا) کے الفاظ کے بجاے ان کے مترادف الفاظ ’کان الناس یسئلون رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم عن الخیر وأسألہ عن الشر‘(لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر (اچھائی) کے متعلق سوال کرتے تھے، جبکہ میں آپ سے شر(برائی) کے متعلق سوال کرتا تھا) روایت کیے گئے ہیں؛ بخاری، رقم ۳۴۱۲ میں یہ الفاظ ’تعلم أصحابی الخیر وتعلمت الشر‘ (میرے صحابہ خیر سیکھتے تھے، جبکہ میں شر کے بارے میں سیکھتا تھا) روایت کیے گئے ہیں؛ بعض روایات، مثلاً احمد، رقم ۲۳۴۳۸ میں یہ الفاظ ’کان أصحاب النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم یسألونہ عن الخیر وکنت أسألہ عن الشر‘ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ آپ سے خیر کے بارے میں سوال کرتے تھے، جبکہ میں شر کے بارے میں سوال کرتا تھا) روایت کیے گئے ہیں؛ بعض روایات، مثلاً ابوداؤد، رقم ۴۲۴۴ میں یہ الفاظ ’إن الناس کانوا یسألون رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم عن الخیر وکنت أسألہ عن الشر‘ (بے شک، لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر (اچھائی) کے متعلق سوال کرتے تھے، جبکہ میں آپ سے شر(برائی) کے متعلق سوال کرتا تھا) روایت کیے گئے ہیں۔
بعض روایات، مثلاً سنن النسائی الکبریٰ، رقم ۸۰۳۲ میں ’مخافۃ أن یدرکنی‘ (اس ڈر سے کہ کہیں وہ مجھے آ نہ لے) کے الفاظ کے بجاے ’وعرفت أن الخیر لن یسبقنی‘ (اور میں نے جان لیا کہ خیر مجھ سے بھاگے گی نہیں) کے الفاظ روایت کیے گئے ہیں؛ بعض روایات، مثلاً سنن النسائی الکبریٰ، رقم ۸۰۳۳ میں یہ الفاظ ’کیما أعرفہ فأتقیہ وعلمت أن الخیر لا یفوتنی‘ (تا کہ میں اسے جان لوں اور اس سے اپنے آپ کو بچا سکوں، اور میں نے جان لیا کہ خیر مجھ سے بھاگے گی نہیں ) روایت کیے گئے ہیں؛ احمد، رقم ۲۳۴۳۸ میں یہ الفاظ ’لم فعلت ذلک؟ قال: من اتقی الشر وقع فی الخیر‘(تم نے ایسا کیوں کیا؟ انھوں نے کہا: جو شر سے بچ گیا، اس نے خیر کا کام کیا) روایت کیے گئے ہیں۔
بعض روایات، مثلاً مسلم، رقم ۱۸۴۷ بمیں ’إنا کنا فی جاہلیۃ وشر‘(بے شک، ہم جہالت اور شر میں تھے) کے الفاظ کے بجاے ’إنا کنا بشر‘ (بے شک، ہم شر میں تھے) کے الفاظ روایت کیے گئے ہیں۔
بعض روایات، مثلاً مسلم، رقم ۱۸۴۷ بمیں ’فجاء نا اللّٰہ بہذا الخیر‘ (پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس (امن کی ) خیر سے نوازا) کے الفاظ کے بجاے ’فجاء اللّٰہ بخیر فنحن فیہ‘ (پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس (امن کی ) خیر سے نوازا جس میں ہم زندگی گزار رہے ہیں) کے الفاظ روایت کیے گئے ہیں؛ ابوداؤد، رقم ۴۲۴۴ میں یہ الفاظ ’یا رسول اللّٰہ، أرأیت ہذا الخیر الذی أعطانا اللّٰہ أیکون بعدہ شر کما کان قبلہ؟‘ (کیا آپ اس خیر کو دیکھتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کی، کیا اس کے بعد پہلے کی طرح شر ہو گا؟) روایت کیے گئے ہیں۔
بعض روایات، مثلاً مسلم، رقم ۱۸۴۷ امیں ’فہل بعد ہذا الخیر من شر؟‘( کیا اس خیر کے بعد شر ہو گا؟) کے الفاظ کے بجاے ’فہل بعد ہذا الخیر شر؟‘ (کیا اس خیر کے بعد شر ہو گا؟) کے الفاظ روایت کیے گئے ہیں؛ بعض روایات، مثلاً مسلم، رقم ۱۸۴۷ بمیں ’فہل من وراء ہذا الخیر شر؟‘(کیا اس خیر کے پیچھے شر ہوگا) کے الفاظ روایت کیے گئے ہیں؛ سنن النسائی الکبریٰ، رقم ۸۰۳۲ میں یہ الفاظ ’بعد ہذا الخیر شر؟‘(اس خیر کے بعد شر ہو گا؟ ) روایت کیے گئے ہیں؛ سنن النسائی الکبریٰ، رقم ۸۰۳۳ میں یہ الفاظ ’ہل بعد الخیر من شر؟‘(کیا خیر کے بعد شر ہو گا؟ ) روایت کیے گئے ہیں؛ احمد، رقم ۲۳۴۶۹ میں یہ الفاظ ’ہل بعد ہذا الخیر شر کما کان قبلہ شر؟‘ (کیا اس خیر کے بعد پہلے کی طرح شر ہو گا؟) روایت کیے گئے ہیں؛ ابن حبان، رقم۱۱۷ میں یہ الفاظ ’ہل بعد ہذا الخیر الذی نحن فیہ من شر نحذرہ؟‘(کیا اس خیر کہ جس میں ہم ہیں، کے بعد شر ہو گا جس سے ہمیں بچنا چاہیے؟) روایت کیے گئے ہیں؛ ابوداؤد، رقم۴۲۴۶ میں یہ الفاظ ’یا رسول اللّٰہ، ہل بعد ہذا الخیر شر؟‘(یا رسول اللہ، کیا اس خیر کے بعد شر ہو گا؟) روایت کیے گئے ہیں؛ احمد، رقم ۲۳۴۷۶ میں یہ الفاظ ’یا رسول اللّٰہ، أیکون بعد ہذا الخیر شر کما کان قبلہ شر؟‘(یا رسول اللہ، کیا اس خیر کے بعد پہلے کی طرح شر ہو گا؟) روایت کیے گئے ہیں۔
بعض روایات، مثلاً ابوداؤد، رقم ۴۲۴۶ میں حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے پہلے سوال کے جواب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ’فتنۃ وشر‘(ہاں، فتنہ اور شر ہوگا) کے الفاظ میں روایت کیا گیا ہے۔
بعض روایات، مثلاً ابوداؤد، رقم ۴۲۴۴ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلے جواب کے بعد ’قلت: فما العصمۃ من ذلک؟ قال: السیف‘(میں نے عرض کیا: تو اس سے کیسے بچا جائے؟ آپ نے جواب دیا: تلوار سے) کے الفاظ کا اضافہ ہے؛ احمد،رقم ۲۳۴۷۳ میں ان الفاظ کے مترادف الفاظ ’فما العصمۃ منہ؟ قال: السیف‘(تو اس سے کیسے بچا جائے؟ آپ نے جواب دیا: تلوار سے) روایت کیے گئے ہیں؛ احمد،رقم ۲۳۴۷۳ میں یہ الفاظ ’فما العصمۃ یا رسول اللّٰہ؟ قال: السیف‘(تو یارسول اللہ، اس سے کیسے بچا جائے؟ آپ نے جواب دیا: تلوار سے) روایت کیے گئے ہیں۔
بعض روایات، مثلاً مسلم، رقم ۱۸۴۷ امیں ’وہل بعد ذلک الشر من خیر؟‘( اورکیا اس شر کے بعد خیر ہو گا؟) کے الفاظ کے بجاے ’ہل بعد ذلک الشر من خیر؟‘( کیا اس شر کے بعد خیر ہو گا؟) کے الفاظ روایت کیے گئے ہیں؛ ابوداؤد، رقم ۴۲۴۶ میں یہ الفاظ ’یا رسول اللّٰہ، ہل بعد ہذا الشر خیر؟‘(یارسول اللہ، کیا اس شر کے بعد خیر ہو گا؟) روایت کیے گئے ہیں؛ مسلم، رقم ۱۸۴۷ امیں یہ الفاظ ’ہل وراء ذلک الشر خیر؟‘(کیا اس شر کے پیچھے خیر ہو گا؟) روایت کیے گئے ہیں؛ بیہقی، رقم ۱۶۳۸۷ میں یہ الفاظ ’فہل بعد ذلک الشر من خیر؟‘(تو کیا اس شر کے بعد خیر ہو گا؟) روایت کیے گئے ہیں؛ بیہقی، رقم ۱۶۳۹۴ میں یہ الفاظ ’وہل وراء ہذا الشر خیر؟‘(اور کیا اس شر کے پیچھے خیر ہو گا؟) روایت کیے گئے ہیں؛ ابوداؤد، رقم ۴۲۴۴ میں یہ الفاظ ’یا رسول اللّٰہ، ثم ماذا یکون؟‘(یارسول اللہ، پھر کیا ہو گا؟) روایت کیے گئے ہیں؛ احمد،رقم ۲۳۴۷۳ میں یہ الفاظ ’ثم ماذا؟‘(پھر کیا ہو گا؟) روایت کیے گئے ہیں؛ احمد،رقم ۲۳۴۷۶ میں روایت کیا گیا ہے کہ صحابی (رضی اللہ عنہ) نے کہا: ’وہل بعد ہذا السیف بقیۃ؟‘(اور کیا اس تلوار کے بعد کچھ باقی رہے گا؟) ۔
بعض روایات، مثلاً ابوداؤد، رقم ۴۲۴۶ میں ’نعم، وفیہ دخن‘ (ہاں، مگر اس میں غبار (یا شر کا بادل) ہوگا) کے الفاظ کے بجاے ’یا حذیفۃ، تعلم کتاب اللّٰہ واتبع ما فیہ‘ (اے حذیفہ، کتاب اللہ سیکھو اور جو اس میں ہے، اس کی پیروی کرو) کے الفاظ روایت کیے گئے ہیں؛ احمد،رقم ۲۳۴۷۳ میں یہ الفاظ ’ثم تکون ہدنۃ علی دخن‘(پھر امن ہو گا جس پر شر کا غبار چھایا ہو گا) روایت کیے گئے ہیں؛احمد،رقم ۲۳۴۷۶ میں یہ الفاظ ’نعم، تکون إمارۃ علی أقذاء وہدنۃ علی دخن‘(ہاں اندھے پن پر مبنی حکومت ہو گی اور امن ہو گا جس پر شر کا غبار چھایا ہو گا) روایت کیے گئے ہیں۔
بعض روایات، مثلاً مسلم، رقم ۱۸۴۷ بمیں ’وما دخنہ؟‘( اس میں غبار کیسا ہوگا؟) کے الفاظ کے بجاے ’کیف؟‘( کیسے؟) کے الفاظ روایت کیے گئے ہیں؛ بیہقی، رقم ۱۶۳۹۴ میں یہ الفاظ ’کیف یکون؟‘(وہ کیسا ہو گا؟) روایت کیے گئے ہیں۔
بعض روایات، مثلاً مسلم، رقم ۱۸۴۷ امیں ’قوم یہدون بغیر ہدیی تعرف منہم وتنکر‘(ایسے لوگ ہوں گے جواس ہدایت کے علاوہ کسی اورہدایت پرحکومت کریں گے جو میں لے کر آیا ہوں، تم ان میں اچھے اور برے، دونوں اعمال دیکھو گے) کے الفاظ کے بجاے ’قوم یستنون بغیر سنتی ویہدون بغیر ہدیی تعرف منہم وتنکر‘ (ایسے لوگ ہوں گے جو میرے طریقے کے علاوہ دوسرے طریقے قائم کریں گے اور ایسے لوگ ہوں گے جواس ہدایت کے علاوہ کسی اورہدایت پرحکومت کریں گے جو میں لے کر آیا ہوں، تم ان میں اچھے اور برے، دونوں اعمال دیکھو گے) کے الفاظ روایت کیے گئے ہیں؛ احمد،رقم ۲۳۴۷۳ بمیں یہ الفاظ ’قلوب لا تعود علی ما کانت‘(دل ایسے نہیں ہوں گے، جیسے چہروں سے ظاہر ہوتا ہے) روایت کیے گئے ہیں۔
بعض روایات، مثلاً مسلم، رقم ۱۸۴۷ بمیں ’فہل بعد ذلک الخیر من شر؟‘( تو کیا اس خیر کے بعد شر ہو گا؟) کے الفاظ کے بجاے ’فہل وراء ذلک الخیر شر؟‘( تو کیا اس خیر کے پیچھے شر ہو گا؟) کے الفاظ روایت کیے گئے ہیں؛بیہقی، رقم ۱۶۳۸۷ میں یہ الفاظ ’ہل بعد ذلک الخیر من شر؟‘( کیا اس خیر کے بعد شر ہو گا؟) روایت کیے گئے ہیں؛ احمد،رقم ۲۳۴۷۳ بمیں یہ الفاظ ’ثم ماذا؟‘(پھر کیا ہو گا؟) روایت کیے گئے ہیں۔
بعض روایات، مثلاً مسلم، رقم ۱۸۴۷ بمیں ’نعم، دعاۃ إلی أبواب جہنم. من أجابہم إلیہا قذفوہ فیہا‘( ہاں، ایسے لوگ ہوں گے جو دوزخ کے دروازوں کی طرف بلا رہے ہوں گے، جس نے اس کی طرف ان کی دعوت قبول کی، وہ اسے اس میں جھونک دیں گے) کے الفاظ کے بجاے ’یکون بعدی أئمۃ لا یہتدون بہدای ولایستنون بسنتی وسیقوم فیہم رجال قلوبہم قلوب الشیاطین فی جثمان إنس‘ (میرے بعد ایسے حکمران ہوں گے جو میری ہدایت پر عمل پیرا نہیں ہوں گے اور میرے طریقے پر نہیں چلیں گے اور ان میں ایسے آدمی کھڑے ہوں گے جن کے دل انسانی جسموں میں شیاطین کے دل ہوں گے) کے الفاظ روایت کیے گئے ہیں؛ ابن ماجہ، رقم ۳۹۸۱ میں یہ الفاظ ’تکون فتن علی أبوابہا دعاۃ إلی النار‘ (دروازوں پر فتنے ہوں گے جن پرایسے لوگ ہوں گے جو دورزخ کی طرف بلا رہے ہوں گے) روایت کیے گئے ہیں؛ احمد،رقم ۲۳۴۷۳ میں یہ الفاظ ’ثم تکون دعاۃ الضلالۃ‘(پھر گمراہی کی طرف بلانے والے ہوں گے) روایت کیے گئے ہیں؛ احمد، رقم ۲۳۴۷۶ میں یہ الفاظ ’ثم تنشأ دعاۃ الضلالۃ‘ (پھر گمراہی کی طرف بلانے والے پیدا ہوں گے) روایت کیے گئے ہیں؛ عبدالرزاق، رقم ۲۰۷۱۱ میں ان الفاظ کے مترادف الفاظ ’ثم ینشأ دعاۃ الضلالۃ‘ (پھر گمراہی کی طرف بلانے والے پیدا ہوں گے) روایت کیے گئے ہیں۔
بعض روایات، مثلاً مسلم، رقم ۱۸۴۷ امیں ’ہم من جلدتنا ویتکلمون بألسنتنا‘( وہ ہمارے جیسے ہوں گے اور ہماری زبان میں بات کریں گے) کے الفاظ کے بجاے ’قوم من جلدتنا ویتکلمون بألسنتنا‘(وہ لوگ ہمارے جیسے ہوں گے اور ہماری زبان میں بات کریں گے) کے الفاظ روایت کیے گئے ہیں؛ بیہقی، رقم ۱۶۵۷۲ میں یہ الفاظ ’ہم من جلدتنا، یتکلمون بألسنتنا‘(وہ ہمارے جیسے ہوں گے ، ہماری زبان میں بات کریں گے) روایت کیے گئے ہیں۔
بعض روایات، مثلاً مسلم، رقم ۱۸۴۷ امیں ’فما تأمرنی إن أدرکنی ذلک؟‘(اگر میں یہ زمانہ پاؤں تو آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟) کے الفاظ کے بجاے ’یا رسول اللّٰہ، فما تری إن أدرکنی ذلک؟‘ (یارسول اللہ، اگر میں یہ زمانہ پاؤں تو آپ کی کیا راے ہے؟) کے الفاظ روایت کیے گئے ہیں؛ بعض روایات، مثلاً مسلم، رقم ۱۸۴۷ بمیں ’کیف أصنع یا رسول اللّٰہ، إن أدرکت ذلک؟‘(یارسول اللہ، اگر میں یہ زمانہ پاؤں تو مجھے کیا کرنا چاہیے؟) کے الفاظ روایت کیے گئے ہیں۔
بعض روایات، مثلاً مسلم، رقم ۱۸۴۷ بمیں ’تلزم جماعۃ المسلمین وإمامہم‘ (مسلمانوں کے نظم اجتماعی کے ساتھ وابستہ رہو اور ان کے حکمران کے تابع فرمان رہو) کے الفاظ کے بجاے ’تسمع وتطیع للأمیر وإن ضرب ظہرک وأخذ مالک فاسمع وأطع‘ (حکمران کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو،اگرچہ وہ تمھیں سزا دے اور تمھارا مال چھین لے، تم اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو) کے الفاظ روایت کیے گئے ہیں؛ احمد،رقم ۲۳۴۷۳ میں یہ الفاظ ’فإن رأیت یومئذ خلیفۃ اللّٰہ فی الأرض فالزمہ وإن نہک جسمک وأخذ مالک‘ (اس دوران میں اگر تم زمین میں اللہ تعالیٰ کا خلیفہ دیکھو تو اس سے وابستہ رہو، اگرچہ وہ تمھیں سزا دے اور تمھارا مال چھین لے) روایت کیے گئے ہیں؛ احمد،رقم ۲۳۴۷۶ میں یہ الفاظ ’فإن کان للّٰہ یومئذ فی الأرض خلیفۃ جلد ظہرک وأخذ مالک فألزمہ‘ (اس دوران میں اگر زمین میں اللہ تعالیٰ کا خلیفہ ہو جو تمھیں سزا دے اور تمھارا مال چھین لے، اس سے وابستہ رہو) روایت کیے گئے ہیں۔
بعض روایات، مثلاً مسلم، رقم ۱۸۴۷ امیں ’ولو أن تعض بأصل شجرۃ‘(اگرچہ تمھیں ایک درخت کی جڑ اپنے دانتوں سے پکڑنی پڑے) کے الفاظ کے بجاے ان کے مترادف الفاظ ’ولو أن تعض علی أصل شجرۃ‘(اگرچہ تمھیں ایک درخت کی جڑ اپنے دانتوں سے پکڑنی پڑے) کے الفاظ روایت کیے گئے ہیں؛ احمد،رقم ۲۳۴۷۳ میں یہ الفاظ ’فإن لم ترہ فاہرب فی الأرض ولو أن تموت وأنت عاض بجذل شجرۃ‘ (اگر تم حکمران نہ دیکھو تو کسی اور زمین کی طرف بھاگ جاؤ، اگرچہ ایک درخت کی جڑ پکڑتے ہوئے تمھیں موت آ جائے) روایت کیے گئے ہیں؛ احمد،رقم ۲۳۴۷۶ میں یہ الفاظ ’وإلا قمت وأنت عاض علی جذل شجرۃ‘ (ورنہ تم اکیلے کھڑے ہو، جبکہ تم نے ایک درخت کی جڑ کو پکڑا ہو) روایت کیے گئے ہیں۔
بعض روایات، مثلاً بیہقی، رقم۱۶۳۸۷ میں ’وأنت علی ذلک‘ (جبکہ تم اسی حالت میں ہو) کے الفاظ کے بجاے ان کے مترادف الفاظ ’وأنت کذلک‘(جبکہ تم اسی حالت میں ہو) کے الفاظ روایت کیے گئے ہیں۔
احمد، رقم ۲۳۴۷۳ میں ’قال: قلت: ثم ماذا؟ قال: ثم یخرج الدجال، قال: قلت: فیم یجیء بہ معہ؟ قال: بنہر أو قال: ماء ونار، فمن دخل نہرہ حط أجرہ ووجب وزرہ ومن دخل نارہ وجب أجرہ وحط وزرہ، قال: قلت: ثم ماذا؟ قال: لو أنتجت فرسًا لم ترکب فلوہا حتی تقوم الساعۃ‘(راوی کہتے ہیں کہ میں نے کہا: پھر کیا ہو گا؟ آپ نے ارشاد فرمایا: پھر دجال نکلے گا، راوی کہتے ہیں کہ میں نے کہا: وہ اپنے ساتھ کیا لے کر آئے گا؟ آپ نے فرمایا: ایک نہر یا فرمایا: پانی اور آگ، چنانچہ جو اس کی نہر میں داخل ہوا، اس کا اجر ضائع ہو گیا اور اس کا بوجھ واجب ہو گیااور جو اس کی آگ میں داخل ہو گیا، اس کا اجر واجب ہو گیا اور اس کا بوجھ ضائع ہو گیا، راوی کہتے ہیں کہ میں نے کہا: پھر کیا ہو گا؟ آپ نے فرمایا: اگر ایک گھوڑی ایک گھوڑا جنے تو تم قیامت تک اس پر سوار نہیں ہو سکو گے) کے الفاظ کا اضافہ روایت کیا گیا ہے؛ احمد، رقم ۲۳۴۷۳ میں یہ اضافی الفاظ ’قال: قلت: ثم ماذا؟ قال: یخرج الدجال بعد ذلک معہ نہر ونار، من وقع فی نارہ وجب أجرہ وحط وزرہ ومن وقع فی نہرہ وجب وزرہ وحط أجرہ، قال: قلت: ثم ماذا؟ قال: ثم ینتج المہر فلا یرکب حتی تقوم الساعۃ‘(راوی کہتے ہیں کہ میں نے کہا: پھر کیا ہو گا؟ آپ نے ارشاد فرمایا: اس کے بعد دجال نکلے گاجس کے پاس ایک نہر اور آگ ہو گی، جو اس کی آگ میں گر پڑا، اس کا اجر واجب ہو گیا اور اس کا بوجھ ضائع ہو گیا، اور جو اس کی نہر میں گر پڑا، اس کا بوجھ واجب ہو گیا اور اس کا اجر ضائع ہو گیا، راوی کہتے ہیں کہ میں نے کہا: پھر کیا ہو گا؟ آپ نے فرمایا: پھر گھوڑی بچہ جنے گی اور قیامت تک کوئی بھی اس پر سوار نہیں ہو گا ) روایت کیے گئے ہیں۔
بعض روایات، مثلاً سنن النسائی الکبریٰ، رقم ۸۰۳۲ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے درمیان ہونے والا مکالمہ مختلف الفاظ میں روایت کیا گیا ہے۔ وہ درج ذیل ہے:

قلت: یا رسول اللّٰہ، بعد ہذا الخیر شر؟ قال: یا حذیفۃ، تعلم کتاب اللّٰہ واتبع ما فیہ، ثلاث مرار. قلت: یا رسول اللّٰہ، أبعد ہذا الخیر شر؟ قال: یا حذیفۃ، تعلم کتاب اللّٰہ واتبع ما فیہ، ثلاث مرار. قلت: یا رسول اللّٰہ، أبعد ہذا الخیر شر؟ قال: ہدنۃ علی دخن، وجماعۃ علی أقذاء فیہا. قلت: یا رسول اللّٰہ، أبعد ہذا الخیر شر؟ قال: یا حذیفۃ، تعلم کتاب اللّٰہ واتبع ما فیہ، ثلاث مرار. قلت: یا رسول اللّٰہ، أبعد ہذا الخیر شر؟ قال: فتنۃ عمیاء صماء علیہا دعاۃ علی أبواب النار، وأن تموت، یا حذیفۃ، وأنت عاض علی جذل خیر لک من أن تتبع أحدًا منہم.
’’میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، کیا اس خیر کے بعد شر ہو گا؟ آپ نے تین مرتبہ فرمایا: اے حذیفہ، کتاب اللہ سیکھو اور جو اس میں ہے، اس کی پیروی کرو۔ میں نے عرض کیا: یار سول اللہ، کیا اس خیر کے بعد شر ہو گا؟ آپ نے تین مرتبہ فرمایا: اے حذیفہ، کتاب اللہ سیکھو اور جو اس میں ہے، اس کی پیروی کرو۔ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ، کیا اس خیر کے بعد شر ہو گا؟ آپ نے فرمایا: کچھ غبار کے ساتھ امن ہو گا اور ایک صاحب حکومت گروہ اپنی اندھی آنکھوں کے ساتھ۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، کیا اس خیر کے بعد شر ہو گا؟ آپ نے تین مرتبہ فرمایا: اے حذیفہ، کتاب اللہ سیکھو اور جو اس میں ہے، اس کی پیروی کرو۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، کیا اس خیر کے بعد شر ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ایک آزمایش ہو گی جس میں لوگ اندھے اور بہرے ہو گے اور ان پرایسے حکمران ہوں گے جو ان کو دوزخ کے دروازوں پر بلا رہے ہوں گے۔ اے حذیفہ، تیرا فوت ہونا اس سے بہتر ہے کہ تو ان میں سے کسی کی پیروی کرے، جبکہ تم نے اپنے دانتوں کے ساتھ ایک جڑ کو پکڑ رکھا ہو۔‘‘

بعض روایات، مثلاً ابوداؤد، رقم۴۲۴۶ میں ’وجماعۃ علی أقذاء فیہا‘(اوراندھی آنکھوں کے ساتھ حکومت کرنے والا ایک گروہ) کے الفاظ کے بجاے ان کے مترادف الفاظ ’وجماعۃ علی أقذاء فیہم‘(اوراندھی آنکھوں کے ساتھ حکومت کرنے والا ایک گروہ) کے الفاظ روایت کیے گئے ہیں، جس کے بعد روایت کیا گیا ہے کہ صحابی حضرت حذیفہ بن یمان نے سوال کیا: ’یا رسول اللّٰہ، الہدنۃ علی دخن، ما ہی؟‘(یارسول اللہ، غبار کے ساتھ امن، یہ کیا ہے؟)روایت کیا گیا ہے، جبکہ اس کے جواب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ’لا ترجع قلوب أقوام علی الذی کانت علیہ‘(لوگوں کے چہروں سے جو ظاہر ہوتا ہے، وہ ان کے دلوں میں نہیں ہے) روایت کیا گیا ہے۔
بعض روایات، مثلاً ابوداؤد، رقم۴۲۴۶ میں ’وأن تموت‘ (اور یہ کہ تم وفات پا جاؤ) کے الفاظ کے بجاے ان کے مترادف الفاظ ’فإن تمت‘ (اگر تم وفات پا جاؤ) کے الفاظ روایت کیے گئے ہیں۔
بعض روایات، مثلاً سنن النسائی الکبریٰ، رقم ۸۰۳۳ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے درمیان اسی طرح کا مکالمہ روایت کیا گیا ہے۔ وہ درج ذیل ہے:

قلت: یا رسول اللّٰہ، ہل بعد الخیر من شر؟ قال: یا حذیفۃ، تعلم کتاب اللّٰہ واعمل بما فیہ، فأعدت علیہ القول ثلاثا، فقال فی الثالثۃ: فتنۃ واختلاف. قلت: یا رسول اللّٰہ، ہل بعد ذلک الشر من خیر؟ قال: یا حذیفۃ، تعلم کتاب اللّٰہ واعمل بما فیہ ثلاثا، ثم قال فی الثالثۃ: ہدنۃ علی دخن وجماعۃ علی قذی فیہا. قلت: یا رسول اللّٰہ، ہل بعد ذلک الخیر من شر؟ قال: یا حذیفۃ، تعلم کتاب اللّٰہ واعمل بما فیہ ثلاثا، ثم قال فی الثالثۃ: فتن علی أبوابہا دعاۃ إلی النار فلأن تموت وأنت عاض علی جذل خیر لک من أن تتبع أحدًا منہم.

’’میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، کیا خیر کے بعد شر ہو گا؟ آپ نے فرمایا: اے حذیفہ، کتاب اللہ سیکھو اور جو اس میں ہے، اس پر عمل کرو، یہ قول میں نے آپ سے تین مرتبہ کہا اور تیسری مرتبہ آپ نے فرمایا: فتنہ اور اختلاف۔ میں نے عرض کیا: یار سول اللہ، کیا اس شر کے بعد خیر ہو گا؟ آپ نے فرمایا: اے حذیفہ، کتاب اللہ سیکھو اور جو اس میں ہے، اس پر عمل کرو، پھر تیسری مرتبہ فرمایا: کچھ غبار کے ساتھ امن ہو گا اور ایک صاحب حکومت گروہ اپنی اندھی آنکھوں کے ساتھ۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، کیا اس خیر کے بعد شر ہو گا؟ آپ نے تین مرتبہ فرمایا: اے حذیفہ، کتاب اللہ سیکھو اور جو اس میں ہے، اس پر عمل کرو، پھر تیسری مرتبہ فرمایا:فتنے ہوں گے، جن کے دروازوں پر ایسے لوگ ہوں گے جو دوزخ کی طرف بلا رہے ہوں گے، اس لیے تیرا فوت ہونا اس سے بہتر ہے کہ تو ان میں سے کسی کی پیروی کرے، جبکہ تم نے اپنے دانتوں کے ساتھ ایک جڑ کو پکڑ رکھا ہو۔‘‘

بعض روایات، مثلاً احمد، رقم ۲۳۴۹۶ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب ’إقرأ کتاب اللّٰہ واعمل بما فیہ‘(کتاب اللہ پڑھو اور جو اس میں ہے، اس پر عمل کرو) روایت کیا گیا ہے؛ ابن حبان، رقم ۱۱۷میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ’یا حذیفۃ، علیک بکتاب اللّٰہ فتعلمہ واتبع ما فیہ خیرًا لک‘(اے حذیفہ، کتاب اللہ کے ساتھ وابستہ رہو، اسے سیکھو اور جو اس میں ہے، اس پر عمل کرو، یہ تمھارے لیے بہتر ہوگا) روایت کیا گیا ہے۔
بعض روایات، مثلاً احمد، رقم ۲۳۴۹۶ میں ابتدائی نجات کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ’ نعم فتنۃ عمیاء عماء صماء ودعاۃ ضلالۃ علی أبواب جہنم من أجابہم قذفوہ فیہا‘(ہاں، ایک آزمایش ہو گی جس میں لوگ اندھے اور بہرے ہو گے اوردوزخ کے دروازوں پر ایسے لوگ ہوں گے جو گمراہی کی طرف بلا رہے ہوں گے، جس نے ان کی دعوت قبول کی، اسے وہ دوزخ میں جھونک دیں گے) روایت کیا گیا ہے۔
بعض روایات، مثلاً ابوداؤد، رقم ۴۲۴۴ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابی حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے درمیان ہونے والا مکمل طور پر مکالمہ مختلف روایت کیا گیا ہے۔ وہ درج ذیل ہے:

قلت: یا رسول اللّٰہ، أرأیت ہذا الخیر الذی أعطانا اللّٰہ أیکون بعدہ شر کما کان قبلہ؟ قال: نعم. قلت: فما العصمۃ من ذلک؟ قال: السیف. قلت: یا رسول اللّٰہ، ثم ماذا یکون؟ قال: إن کان للّٰہ خلیفۃ فی الأرض فضرب ظہرک وأخذ مالک فأطعہ وإلا فمت وأنت عاض بجذل شجرۃ. قلت: ثم ماذا؟ قال: ثم یخرج الدجال معہ نہر ونار. فمن وقع فی نارہ وجب أجرہ وحط وزرہ ومن وقع فی نہرہ وجب وزرہ وحط أجرہ. قال: قلت: ثم ماذا؟ قال: ثم ہی قیام الساعۃ.
’’میں نے عرض کیا: یارسول اللہ، اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو خیر عطا کی ہے، اس کے بارے میں آپ کی کیا راے ہے، کیا اس کے بعد پہلے کی طرح شر ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں، میں نے عرض کیا: تو اس سے کیسے بچا جائے؟ آپ نے فرمایا: تلوار سے، میں نے عرض کیا: یارسول اللہ، پھر کیا ہو گا؟ آپ نے فرمایا: اگر زمین میں اللہ تعالیٰ کاحکمران ہو اور تجھے سزا دے اور تیرا مال چھین لے تو اس کی اطاعت کرو، ورنہ تجھے موت آئے تو اس حال میں کہ تو نے ایک درخت کی جڑ کو اپنے دانتوں کے ساتھ پکڑا ہو، میں نے عرض کیا: پھر کیا ہو گا؟ آپ نے فرمایا: پھر دجال نکلے گا جس کے پاس ایک نہر اور ایک آگ ہو گی۔ چنانچہ جو اس کی آگ میں گر پڑا، اس کا اجر واجب ہو گیا اور اس کا بوجھ ضائع ہو گیا، اور جو اس کی نہر میں گر پڑا، اس کا بوجھ واجب ہو گیا اور اس کا اجر ضائع ہو گیا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: پھر کیا ہو گا؟ آپ نے فرمایا:پھر یہ روز قیامت کی ساعت ہوگی۔‘‘

____________

بشکریہ ماہنامہ اشراق
تحریر/اشاعت مئی 2015
مصنف : معز امجد
Uploaded on : May 26, 2016
442 View