اعمال تواضع کا حکم اور اعمال تکبر کی مناہی - محمد رفیع مفتی

اعمال تواضع کا حکم اور اعمال تکبر کی مناہی

 

(۷۶)

عَنِ الْبَرَّاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ وَنَہَانَا عَنْ سَبْعٍ: أَمَرَنَا بِعِیَادَۃِ الْمَرِیْضِ وَاتِّبَاعِ الْجِنَازَۃِ وَتَشْمِیْتِ الْعَاطِسِ وَإِجَابَۃِ الدَّاعِیْ وَإِفْشَاءِ السَّلَامِ وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ وَإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ وَنَہَانَا عَنْ خَوَاتِیْمِ الذَّہَبِ وَعَنِ الشُّرْبِ فِی الْفِضَّۃِ أَوْ قَالَ آنِیَۃِ الْفِضَّۃِ وَعَنِ الْمَیَاثِرِ وَالْقَسِّیِّ وَعَنْ لُبْسِ الْحَرِیْرِ وَالدِّیْبَاجِ وَالْإِسْتَبْرَقِ.(بخاری، رقم ۵۶۳۵)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا ہے اور سات چیزوں سے روکا ہے:آپ نے ہمیں بیمار کی عیادت کرنے، جنازے میں شامل ہونے، چھینک کے جواب میں ’یرحمک اللّٰہ‘ کہنے، دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرنے، سلام کو پھیلانے، مظلوم کی مدد کرنے اور قسم کھانے والے کو قسم پورا کرنے کا حکم دیا ہے اور آپ نے ہمیں سونے کی انگوٹھیاں پہننے سے، چاندی میں پینے یافرمایا چاندی کے برتنوں میں پینے سے (زین یا کجاوے پر) ریشم کا گدا استعمال کرنے سے، وہ مصری کپڑا استعمال کرنے سے جس میں ریشم کے دھاگے بھی ہوتے ہیں اور ریشم و دیبا اور استبرق استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔

(۷۷)

عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ سُوَیْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی الْبَرَّاءِ بْنِ عَازِبٍ فَسَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: أَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ وَنَہَانَا عَنْ سَبْعٍ: أَمَرَنَا بِعِیَادَۃِ الْمَرِیْضِ وَاتِّبَاعِ الْجَنَازَۃِ وَتَشْمِیْتِ الْعَاطِسِ وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ أَوِ الْمُقْسِمِ وَنَصْرِ الْمَظْلُوْمِ وَإِجَابَۃِ الدَّاعِیْ وَإِفْشَاءِ السَّلَامِ وَنَہَانَا عَنْ خَوَاتِیْمَ أَوْ عَنْ تَخَتُّمٍ بِالذَّہَبِ وَعَنْ شُرْبٍ بِالْفِضَّۃِ وَعَنِ الْمَیَاثِرِ وَعَنِ الْقَسِّیِّ وَعَنْ لُبْسِ الْحَرِیْرِ وَالْإِسْتَبْرَقِ وَالدِّیْبَاجِ.(مسلم، رقم ۵۳۸۸)
عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِی الشَّعْثَاءِ ... وَعَنِ الشُّرْبِ فِی الْفِضَّۃِ فَإِنَّہُ مَنْ شَرِبَ فِیْہَا فِی الدُّنْیَا لَمْ یَشْرَبْ فِیْہَا فِی الْآخِرَۃِ. (مسلم، رقم ۵۳۹۰)
حضرت معاویہ بن سوید بن مقرن (رضی اللہ عنہ )سے روایت ہے کہ میں حضرت براء بن عازب کے پاس آیا تو میں نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا ہے اور سات چیزوں سے روکا ہے:آپ نے ہمیں بیمار کی عیادت کرنے، جنازے میں شامل ہونے، چھینک کے جواب میں ’یرحمک اللّٰہ‘ کہنے، قسم کو پورا کرنے یا قسم کھانے والے کو قسم پورا کرنے، مظلوم کی مدد کرنے، دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرنے اور سلام کو پھیلانے کا حکم دیا ہے اور آپ نے ہمیں( سونے کی) انگوٹھیوں سے یا (فرمایا:) سونے کی انگوٹھیاں پہننے سے چاندی (کے برتنوں) میں پینے سے، (زین یا کجاوے پر) ریشم کا گدا استعمال کرنے سے، وہ مصری کپڑا استعمال کرنے سے جس میں ریشم کے دھاگے بھی ہوتے ہیں اور ریشم و استبرق اور دیبا استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حضرت اشعث بن ابی شعثاء سے روایت ہے کہ... آپ نے چاندی کے برتنوں میں پینے سے روکا ہے، کیونکہ جو شخص دنیا میں ان میں پیے گا، و ہ آخرت میں اِن میں نہیں پیے گا۔

توضیح:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو وہ سات اعمال صالحہ بجا لانے کا حکم دیا جو تواضع کا اظہار ہیں اور ان سات اعمال سے منع فرمایا جو تکبر کا اظہار ہیں۔
وہ اعمال جنھیں آپ نے بجا لانے کا حکم دیا، وہ یہ ہیں:
۱۔ بیمار کی عیادت کرنا
۲۔ جنازے میں شامل ہونا
۳۔ چھینک کے جواب میں ’یرحمک اللّٰہ‘ کہنا،
۴۔ دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرنا
۵۔ سلام کو پھیلانا
۶۔ مظلوم کی مدد کرنا
۷۔ اپنی قسم کو پورا کرنا
اوروہ اعمال جن سے آپ نے روکا، وہ یہ ہیں:
۱۔ سونے کی انگوٹھیاں پہننا
۲۔ چاندی کے برتنوں میں پینا
۳۔ ریشم کا گدا استعمال کرنا
۴۔ ریشم کے دھاگوں والا کپڑا استعمال کرنا
۵۔ ریشم کا لباس پہننا
۶۔ دیبا کا لباس پہننا
۷۔ استبرق کا لباس پہننا
نیز آپ نے یہ بھی واضح کر دیا کہ جو شخص دنیا میں سونے چاندی کے برتنوں میں پیے گا، وہ آخرت میں ان میں پینے سے محروم رہے گا۔

------------------------------

 

تاریخ: ستمبر 2011
بشکریہ: محمد رفیع مفتی
مصنف : محمد رفیع مفتی
Uploaded on : Aug 16, 2016
771 View