اسبال ازار (۲) - محمد صدیق بخاری

اسبال ازار (۲)

 

قرآن مجید میں حکم کی بنیادیں

لباس کے بارے میں عمومی طو رپر اور انسان کے متکبرانہ ہیئت اختیار کرنے کے بارے میں خصوصی طور پر ہمیں قرآن مجید میں مندرجہ ذیل نظائر ملتے ہیں :
۱۔

یٰبَنِیْ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْکُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاتِکُمْ وَ رِیْشًا وَلِبَاسُ التَّقْوٰی ذٰلِکَ خَیْرٌ ۔ (الاعراف ۷: ۲۶)
’’اے فرزندانِ آدم ہم نے تم کو پہننے کے لیے کپڑے عطا کیے جس سے تمھاری ستر پوشی ہو اور تجمل و آرایش کا ساما ن اور تقویٰ والا لباس تو سراسر خیر اور بھلائی ہے ۔ ‘‘

اس آیت میں لباس کے نزول کے دو مقصد بیان ہوئے ہیں :
۱۔ ستر پوشی ۔
۲۔ تجمل و آرایش ۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی زمانے میں اسبالِ ازار تجمل و آرایش کا باعث ہو نہ کہ متکبرانہ ہیئت کا تو کیا پھر بھی اسے اختیار نہ کیا جائے گا ؟ کیونکہ اس صورت میں اسبالِ ازار نہ کرنے سے قرآن کریم کی اس آیت میں بیان کردہ لباس کا دوسرا مقصد مجروح ہوتا ہے ۔ اور یہ بات تو بالکل واضح ہے کہ تقویٰ بہرحال افضل ہے ۔ دل میں تقویٰ موجو دہو تو تجمل و آرایش بہرحال موجبِ نقصان نہیں ۔ سورۂ اعراف میں ہے :

۲۔ یٰبَنِیْ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ وَّ کُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلاَ تُسْرِفُوْا اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ ۔ قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَۃَ اللّٰہِ الَّتِیْ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ وَالطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ۔ (۷: ۳۱۔ ۳۲)
’’اے اولاد آدم تم مسجد کی ہر حاضری کے وقت اپنا لباس پہن لیا کرو اور خوب کھاؤ اور پیو اور حد سے مت نکلو، بے شک ، اللہ پسند نہیں کرتے حد سے نکلنے والوں کو۔ آپ فرمائیے کہ اللہ کے پیدا کیے ہوئے کپڑوں کو جن کو اس نے اپنے بندوں کے واسطے بنایا ہے اور کھانے پینے کی حلال چیزوں کو کس شخص نے حرام کیا ہے ؟ ‘‘

اس آیت سے یہ امور واضح ہوتے ہیں ۔
۱۔ اللہ کی حلال کردہ اشیا کو کوئی حرام نہیں کر سکتا ۔ حلال و حرام کا اختیار اسی کو حاصل ہے ۔
۲۔ اسراف کی اجازت نہیں ہے ۔
لباس کی کسی ہیئت کو ناجائز و حرام قرار دینے کا اختیار اللہ ہی کے پاس ہے ۔ اگر کسی زمانے میں کوئی لباس ستر پوشی کے تقاضے پورے کرتا ہے اور اسراف سے بچ کر زیب و زینت کے معیار پر بھی پورا اترتا ہے ، تو پھر اسے حرام قرار دینا اللہ کی شریعت میں اضافہ ہے ۔
متکبرانہ چال اور متکبرانہ ہیئت کے حوالے سے جو شناعت احادیث میں ملتی ہے ، وہی قرآن میں بھی موجود ہے ۔ ملاحظہ فرمائیں:

۱۔ وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّکَ لِلنَّاسِ وَلاَتَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا ۔ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍ۔ وَاقْصِدْ فِیْ مَشْیِکَ۔ (لقمٰن ۳۱: ۱۸۔ ۱۹)
’’اور لوگوں سے اپنا رخ مت پھیرو اور زمین پر اترا کر مت چل ۔ بے شک ، اللہ تعالیٰ کسی تکبر کرنے والے، فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتے ۔ اور اپنی رفتار میں اعتدال اختیار کر۔‘‘

۲۔ وَلَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا ۔ اِنَّکَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلاً۔ (الاسراء ۱۷: ۳۷)
’’اور زمین پر اتراتا ہوا مت چل ۔ کیونکہ تو نہ زمین کو پچھاڑ سکتا ہے اور نہ (بدن تان کر ) پہاڑوں کی لمبائی کو پہنچ سکتا ہے۔‘‘

۳۔ وَلاَ تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ بَطَرًا وَّرِءَآءَ النَّاسِ۔(الانفال ۸ : ۴۷)
’’اور ان لوگوں کے مشابہ مت ہونا کہ جو اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے اور لوگوں کو (اپنی شان) دکھلاتے ہوئے نکلے۔ ‘‘

ان آیات میں تکبر اور متکبرانہ چال اور ہیئت کی واضح طور پر شناعت بیان ہوئی ہے اور اللہ کریم نے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا ہے ۔ تکبر و غرور اور متکبرانہ چال و ہیئت کے بارے میں یہی رویہ احادیث میں موجود ہے ۔ محسوس ہوتا ہے کہ ان احادیث میں انھی آیات کی شرح ووضاحت ہے ۔ مزید برآں عرب معاشرے میں ان کے عملی اطلاق کا بیان ہے ۔
تکبر کے برعکس عاجزانہ اور عبودیت کے اظہار والی چال کو مثبت انداز سے یوں بیان فرمایا گیا ہے :

وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَی الْاَرْضِ ہَوْنًا ۔ (الفرقان ۲۵: ۶۳)
’’اور اللہ کے (خاص ) بندے وہ ہیں جو زمین پر عاجزی کے ساتھ چلتے ہیں ۔ ‘‘

احادیث میں تکبر کی وجہ سے اسبالِ ازار کرنے والوں کے بارے میں یہ وعید بار بار دہرائی گئی ہے کہ اللہ ان کی طرف نظر بھی نہیں کرے گا ، نہ ان سے کلام کرے گا ، نہ انھیں پاک ہی کرے گا۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ سزا قرآن میں کن لوگوں کے بارے میں وارد ہوئی ہے :

اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَھْدِ اللّٰہِ وَاَیْمَانِھِمْ ثَمَنًا قَلِیْلاً اُولٰٓءِکَ لَاخَلَاقَ لَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ وَلاَ یُکَلِّمُھُمُ اللّٰہُ وَ لَا یَنْظُرُ اِلَیْھِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَلاَیُزَکِّیْھِمْ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ۔ (آلِ عمران ۳ :۷۷)
’’یقیناًجو لوگ معاوضۂ حقیر لے لیتے ہیں بمقابلہ اس عہد کے جو اللہ سے (انھوں نے ) کیا ہے اور (بمقابلہ) اپنی قسم کے ۔ ان لوگوں کو کچھ حصہ آخرت میں (وہاں کی نعمت کا) نہ ملے گا اور نہ خدا ان سے (لطف کا) کلام فرمائیں گے اور نہ ان کی طرف (نظر محبت) سے دیکھیں گے قیامت کے روز اور نہ ان کو پاک کریں گے ۔ اور ان کے لیے دردناک عذاب ہو گا۔ ‘‘

اس آیت کریمہ پر غور فرمائیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ عین یہی سزا احادیث میں متکبرانہ اسبالِ ازار والوں کے لیے بیان ہوئی ہے۔ آیت کے سیاق و سباق اور خود آیت کے مشمولات پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت سے یہود مراد ہیں اور یہود کے یہ جرائم ان کے تکبر کی وجہ ہی سے تھے ۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہم سب سے افضل اور اللہ کی منتخب کردہ پیاری قوم ہیں ۔ اس تکبر نے انھیں آیات اللہ اور اپنے ایمان کو ثمنِ قلیل کے عوض بیچنے پر مائل کر دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہود کے ظاہری تکبر کی علامات میں سے ایک اہم علامت اسبالِ ازار بھی تھی ۔ جیسا کہ علما نے لکھا ہے کہ نماز میں اسبالِ ازار کی ممانعت یہود سے مشابہت کی بنا پر ہے ۔ اس سارے پس منظر میں دیکھیں تو اس آیت میں بھی ا ور احادیث میں بھی مشترک علت تکبر ہی ہے ۔ اور پھر آیت کا یہود سے تعلق اس علت کو اور موکد کر دیتا ہے ۔چنانچہ واضح ہوا کہ احادیث میں بیان کردہ سزا اسی آیت کی شرح ووضاحت ہے اور معاشرے میں ایک عملی معاملے پر اس کا اطلاق ہے ۔
قرآن و حدیث کے مجموعی نظائر پر غور کرنے سے مندرجہ ذیل حقائق مستنبط ہوتے ہیں :
۱۔ تکبر ، متکبرانہ چال، متکبرانہ لباس اور متکبرانہ ہیئت جہاں اور جس شکل میں بھی ہو ممنوع ہے اور اس کی یہی سزا ہے کہ قیامت میں اللہ ان سے بات بھی نہ کرے گا ۔
۲۔ اسبالِ ازار تکبر کی علت کی وجہ سے منع فرمایا گیا ہے ۔
۳۔ جہاں یہ علت موجود نہ ہو ، وہاں تہبند وغیرہ کو ٹخنوں سے نیچے رکھنے میں کوئی حرج نہیں ۔ البتہ ، اگر اس میں اسراف موجودد ہو تو وہ اللہ کے ہاں ناپسند ہے۔
۴۔ ازار کو ٹخنوں سے نیچے رکھنا اگر کسی معاشرے میں زیب و زینت کا ذریعہ ہو نہ کہ تکبر کا تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔
۵۔ ازار ، تہبند وغیرہ کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانا عرب متکبرین کا امتیازی نشان تھا ، خاص طور پر یہود کا ۔ اس لیے اس سے سختی سے منع فرمایا گیا ۔
۶۔ اسبال صرف ازار کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ۔ اگر کسی اور کپڑے مثلاً چادر ، عمامہ ، قمیض ، رومال وغیرہ کے اسبال میں تکبر کی علت موجود ہو تو وہ بھی اس وعید میں داخل ہوں گے ۔
۷۔ اگر کسی معاشرے یا زمانے میں لباس میں تکبر کا ذریعہ اسبال کے علاوہ کوئی اور رواج پا جائے اور متکبرین ایک خاص قسم کا لباس اختیار کر لیں تو اس زمانے میں وہ لباس بھی اسبالِ ازار کی وعید کے زمرے میں آ جائے گا ۔

مستنبط نتائج پر اعتراضات

قرآن و حدیث سے ہم نے جو نتائج مستخرج کیے ہیں ، ان پر چند اعتراض وارد ہوتے ہیں :
یہ اعتراضات اور ان پر ہمارا تبصرہ درج ذیل ہے :
ایک اعتراض یہ ہے کہ صحابۂ کرام تو تکبر کی وجہ سے کپڑا نیچے نہ لٹکاتے تھے ۔ اس سے ثابت ہوا کہ اصل علت کپڑا لٹکانا ہی ہے نہ کہ تکبر ۔
اس اعتراض کے پس منظر میں دو دلائل ہیں :
ا۔ تمام صحابہ تکبر کے مرض سے پاک تھے ۔
ب۔ جب تکبر سے پاک تھے تو انھیں پھر بھی حضور حکم دے رہے ہیں تو اس کی وجہ پھر صرف کپڑا لٹکانا ہی ہے۔
یہ ٹھیک ہے کہ صحابہ تکبر جیسے مرض سے پاک تھے اور وہ تکبر کی وجہ سے ایسا نہ کرتے تھے ۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شدت سے انھیں روک رہے ہیں کہ کہیں متکبر لوگوں سے ان کی مشابہت نہ ہو جائے ۔ ہمارے اس گمان کی تائید حافظ ابن حجر کے اس قول سے بھی ہو جاتی ہے ۔ حافظ ابن حجر حضرت عمرو بن زرارہ انصاری کی حدیث کے ضمن میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ۱؂

و ظاہرہ ان عمرو المذکور لم یقصد باسبالہ الخیلاء و قد منعہ من ذلک لکو نہ مظنۃ۔ (فتح الباری)
’’ اس حدیث سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت عمرو نے تکبر کے ارادے سے شلوار نہیں لٹکائی تھی ، پھر بھی آپ نے ان کو اس سے روک دیا ۔ اس لیے کہ ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانے سے تکبر کے وجود کا گمان پایا جاتا ہے ۔ ‘‘

یہ نبی کی اپنے صحابہ سے محبت کی دلیل ہے کہ انھیں تکبر کی تہمت اور گمان سے بھی بچانا چاہتے تھے ۔ چونکہ ا س معاشرے کے متکبرین خاص طور پر یہود متکبرین کی یہ خاص علامت اور عادت تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکین و یہود سے اپنے صحابہ کی مشابہت گوارا نہ تھی، اس لیے اس کا اہتمام فرماتے تھے ، نہ کہ اس لیے کہ صحابہ کے اندر (معاذ اللہ ) تکبر پایا جاتا تھا ۔
دوسرا اعتراض یہ ہے کہ یہ حکم عام ہے ،اس کو تکبر سے منسلک کرنا درست نہیں ہے ۔
اس اعتراض کی بنیاد ان دلائل پر ہے :
ا۔ احادیث کے الفاظ عام ہیں اور سب پر لاگو ہوتے ہیں ۔
ب۔ تکبر اس کی ایک وجہ ہو سکتی ہے ، نہ کہ اصل وجہ ۔
اس اعتراض کی وجہ یہ ہے کہ حکم یا نہی کے الفاظ کو مطلقاً امر یا نہی کے معنی میں سمجھ لیا گیا ہے ۔ جبکہ امر یا نہی موقع و محل کی نسبت سے مختلف معانی میں استعمال ہوتے ہیں ، مثلاً اظہارِ محبت و اپنائیت کے لیے ، اظہارِ نفرت کے لیے ، تنبیہ کے لیے ، دعا کے لیے ، اظہار تمنا کے لیے ، ترجی ، تہدید ، درخواست گزاری ، اور ترغیب کے لیے ۔
یہاں حالات ، ماحول ، سیاق و سباق سے طے کرنا پڑے گا کہ اس موقع پر امر یا نہی کس مقصد کے لیے آئے ہیں ۔ محسوس یہ ہوتا ہے کہ یہاں امر ترغیب کے لیے اور نہی مشرکین اور یہود کے متکبرانہ اعمال سے نفرت کے لیے ہے ۔
احادیث کے الفاظ کو اگر عام تصور کر لیا جائے تو وہ احادیث جن سے اس عموم کا خصوص ثابت ہوتا ہے یا علت بیان ہوتی ہے ، وہ احادیث سوال بن کر رہ جاتی ہیں ۔ اگر علت والی احادیث کو عمومی احادیث کا خصوص مان لیا جائے تو مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔ اس لیے ہمارے نزدیک عام حکم علت والی احادیث سے خاص ہو جاتا ہے اور علت ہی اصل ضابطہ ہے جس پر ان احادیث اور حکم کو پرکھا جائے گا ۔
تیسرا اعتراض یہ عائد کیا جاتا ہے کہ اسبالِ ازار نہ کرنے کا مسئلہ تواتر سے ثابت ہے ۔ تمام امت اس پر ہمیشہ سے عمل کرتی آئی ہے۔ اسبالِ ازار کی اجازت گویا تواتر کے خلاف عمل کرنا ہے ۔
تواتر سے منتقل ہونے والا مسئلہ وہ ہوتا ہے جو ہر زمانے اور ہر نسل میں اتنا معروف و مشہور ہو کہ اس کے بارے میں کبھی بھی دو آرا نہ رہی ہوں ۔ مثلاً نماز فرض ہے ، یہ مسئلہ امت میں تواتر سے ثابت ہے ۔ اس کے بارے میں کبھی بھی دو آرا نہیں رہیں یا یہ کہ قرآن وہی قرآن ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم امت کو دے کر گئے تھے۔ اس بارے میں بھی کبھی دو آرا نہیں رہیں۔ مگراسبالِ ازار کا معاملہ یوں نہیں ہے ۔ تکبر کی علامت کے طور پر اسبالِ ازار کا ممنوع ہونا تو بلاشبہ تواتر سے چلا آ رہا ہے ۔ مگر جہاں اسبالِ ازار تکبر کی علامت نہ ہو ، وہاں امت میں دونوں آرا اور اختلاف موجود رہا ہے اور اس صورت حال میں تواتر والی دلیل کا سہارا لے کر اسے امت کے لیے لازم کرنا محض ایک تکلف ہے ۔ مزید برآں یہ کہ جن مسائل کے بارے میں دین و شریعت اور شارع نے خود توسع اختیار کیا ہو ، ان مسائل کو محدود و مقید کر دینا دین کی روح کے خلاف ہے ۔
مولانا منظور نعمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کے کپڑے پہنتے تھے جس طرح اور جس وضع کے کپڑوں کا اس زمانے میں آپ کے علاقے اور آپ کی قوم میں رواج تھا۔ آپ نے اپنے طرزِ عمل سے امت کو یہی تعلیم دی ہے کہ لباس کے بارے میں وسعت ہے اور یہ کہ ہر علاقے اور ہر زمانے کے لوگوں کو اجازت ہے کہ وہ شرعی حدود و احکام کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنا پسندیدہ لباس استعمال کر سکتے ہیں ۔ دراصل لباس ایسی چیز ہے کہ تمدن کے ارتقا کے ساتھ ساتھ اس میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے ۔ اسی طرح علاقوں کی جغرافیائی خصوصیات اور بعض دوسری چیزیں بھی لباس کی وضع قطع اور نوعیت پر اثر انداز ہوتی ہیں ۔ اس لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ ساری دنیا کے لوگوں کا لباس یکساں ہو یا کسی قوم یا کسی علاقے کا لباس ہمیشہ ایک ہی رہے ۔ اس لیے شریعت نے کسی خاص قسم اور خاص وضع کے لباس کا پابند نہیں کیا ہے ، ہاں ایسے اصولی احکام دیے ہیں جن کی ہر زمانے میں اور ہر جگہ بہ سہولت پابندی کی جا سکتی ہے ۔ ‘‘ (معارف الحدیث ۶/ ۲۰۴)

اسبالِ ازار لباس میں تکبر ہے ، یہ ہر دور کا مسئلہ ہو سکتا ہے ، مگر اب چونکہ اسبالِ ازار اس حیثیت سے موجودہ مسلم معاشرے کا مسئلہ نہیں ہے ، اس لیے اس حکم کو عام کرنا اور اس میں تواتر ثابت کرنا شارع کے منشا کے خلاف ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر اسبالِ ازا رمنع نہیں ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسبالِ ازار والے شخص کو دوبارہ وضو کرنے اور نماز پڑھنے کا کیوں حکم دیا؟
چونکہ تکبر اور نماز دونوں مختلف عمل ہیں اور یہ اس معاشرے میں متکبرانہ ہیئت سمجھی جاتی تھی ، اس لیے نبی نے ادب سکھانے کے لیے اس شخص کو یہ حکم دیا۔
علامہ طیبی لکھتے ہیں :

’’باوضو انسان کو وضو کرنے کا حکم دینے میں شاید حکمت یہ ہو کہ وہ حکم میں غوروفکر کرے یعنی ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکا کر وہ جس (متکبرانہ فعل) کا مرتکب ہو رہا ہے ، اس پر متنبہ ہو جائے۔ ‘‘ (شرح طیبی بحوالہ ماہنامہ ’’حرمین‘‘ مارچ ، اپریل۲۰۰۰)

ابن العربی لکھتے ہیں :

’’ نماز تواضع و انکساری کی حالت ہے اور کپڑا ٹخنوں سے نیچے لٹکانا یہ (اس معاشرے میں) تکبر کا فعل ہے ، یہ دونوں متعارض ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ وعلیہ وسلم نے اسے وضو لوٹانے کا حکم دے کر ادب سکھایا ہے ۔ ‘‘(عارضۃ الاخوذی ،’’حرمین‘‘، مارچ ، اپریل ۲۰۰۰)

چوتھا اعتراض یہ ہے کہ کسی آدمی کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنا کپڑا ٹخنوں سے نیچے لٹکائے اور کہے کہ میرا اس میں تکبر کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
جس معاشرے میں کپڑا ٹخنوں سے نیچے لٹکانا تکبر کی علامت کے طور پر ایک معروف بات ہو تو وہاں تو اس شخص کے لیے یہ کہنا واقعی جائز نہیں ہے ، جب تک کہ وہ کسی اور ذریعہ سے اپنے ارادے کو اس کے برعکس ثابت نہ کرے ، مگر جس معاشرے میں اسبالِ ازار کے ساتھ تکبر کا کوئی عنصر بھی وابستہ نہ ہو اور معاشرے کے عرف میں بھی ایسی بات نہ ہو تو وہاں اس شخص کی بات معاشرے کے عرف کے مطابق واقعتا قبول کی جائے گی ، الا یہ کہ مدعی اس کے برعکس ثابت کر دے ۔ ویسے بھی وحی کے انقطاع کے بعد ہم ظاہر قول اور ظاہر عمل کے مطابق فتویٰ دینے کے مکلف ہیں ۔ نیت کا حال تو اللہ ہی جانتا ہے ۔ اور ویسے بھی یہ مسلمہ امر ہے کہ متکلم اپنے کلام کی اور عامل کو اپنے عمل کی وضاحت و تشریح کااولین حق حاصل ہوتا ہے اور اس کی بات کو ترجیح دی جائے گی ۔
پانچواں اعتراض یہ ہے کہ نہی لفظی اعتبار سے بھی شامل ہے اور کپڑا لٹکانے کی علت یعنی تکبر کو بھی شامل ہے ۔
الفاظ اور علت دونوں پر عمل بیک وقت اس صورت میں ہو گا جب کہ علت واضح طور پر سامنے نہ ہو اور الفاظ اور علت میں معاملہ بین بین ہو ۔ مگر جب متکلم خود ہی علت کو واضح کر دے اور دیگر آثار و قرائن اور اس حکم سے استثنا بھی اس علت کو موکد کر دے تو پھر قاعدہ کلیہ یہی ہے کہ الفاظ کے عموم کو اس علت سے خاص کر کے علت کے مطابق ہی عمل کیا جائے گا۔ شریعت کا منشا چونکہ انسانوں کے لیے آسانی پیدا کرنا ہے نہ کہ تنگی ، اس لیے الفاظ و علت کو بیک وقت لازم کر کے انسانوں کو اس مشکل میں ڈالنا شریعت کے منشا کے خلاف ہے ۔ البتہ ، وہاں بہتر یہی ہے کہ الفاظ و علت پر بیک وقت عمل کی کوشش کی جائے جہاں معاملہ واضح نہ ہو یا علت میں واضح اختلافات موجود ہوں۔
چھٹا اعتراض یہ ہے کہ جان بوجھ کر کپڑا ٹخنوں سے نیچے لٹکانا بھی تکبر اور عجب و افتخار کی علامت ہے ۔
یہاں بات پھر وہی ہے کہ ایک مخصوص ماحول و معاشرت کی ا س علامت کو موجودہ ماحول اورمعاشرت پر چسپاں کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ حالانکہ موجودہ ماحول و معاشرت میں یہ عجب و افتخار کی علامت نہیں ہے ۔ اس معاشرت میں لباس کے ساتھ عجب و افتخار کے کچھ اور پہلو وابستہ ہیں ۔ ان کی بنا پر اس معاشرے کے عرف سے واقف کوئی بھی آدمی کہہ سکتا ہے کہ لباس کے اندر یہ معاملہ اس شخص کے تکبر و افتخار کی علامت ہے نہ کہ اسبالِ ازار۔ کیونکہ فی زمانہ اسبالِ ازار کو کوئی بھی تکبر و افتخار کی علامت نہ سمجھتا ہے ، نہ جانتا ہے ۔ کسی ایک ماحول اور معاشرے کے عرف کو دوسرے معاشرے پر منطبق کر کے نتائج اخذ کرنا مسلمہ علمی اصولوں کے خلاف ہے ۔

ضروری تنبیہ

قرآن و حدیث پر غورو تدبر کے نتیجے میں جو نتائج مستنبط ہوئے ، وہ بیان کیے جا چکے ہیں ، مگر اس کے ساتھ ہی ایک اور پہلو کی طرف توجہ کرنا بھی بہرحال ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ نبی اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت شرطِ ایمان ہے ۔ چنانچہ اس لیے آپ کی محبت کو بڑھانے والے عوامل بھی اس نسبت سے دین کی نظر میں مستحسن ٹھیریں گے۔ اگر کوئی مسلمان یہ سمجھتا ہے کہ اسبالِ ازار سے بچنے میں اس کی رائے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں اضافہ ہوتا ہے یا آپ کی اتبا ع میں اسے یک سوئی محسوس ہوتی ہے اور اس کی رائے میں یہ بھی اتباع کا تقاضا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادات و حالات کی ہوبہو نقل کرنے کی حتی الامکان کوشش کی جائے تو ایسے شخص کے لیے ٹخنوں سے کپڑا نیجے کرنے سے گریز ہی بہتر ہے ۔ اور میری رائے میں جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے الفاظ اورمقصد پر بیک وقت عمل کرنا ممکن ہو تو دونوں کو اکٹھا کرنا ہی دین کی روح اور مزاج کے زیادہ قریب ہے، بشرطیکہ دین کی کوئی اور شرط یا مزاجی کیفیت مجروح نہ ہوتی ہو ۔ ویسے بھی دین اسلام کا مجموعی مزاج و منشا یہ ہے کہ وہ ایک مسلمان کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے زیادہ وابستگی چاہتا ہے اور اس وابستگی کے لیے اگر کسی کو ایسے آداب و رعایات بھی ممدو معاون محسوس ہوں تو اس کے لیے ان کو اختیار کرنا ہی بہتر رویہ ہے ۔ مگر یاد رہے کہ یہ انفرادی مزاج اور کیفیت کی بات ہے ، اسے فرد کی سطح تک ہی محدود رہنا چاہیے ۔ اس کی ترویج و اشاعت سے چونکہ مجموعی دینی مزاج میں بگاڑ پیدا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے اس لیے اس کی اجازت نہ دی جائے گی ۔ مزید برآں یہ کہ جن لوگوں (مثلاً علما) کے ایسے آداب پر عمل کرنے سے عوام میں کسی دینی حکم یا دین کے منشا کے بارے میں غلط فہمی پیدا ہونے کا خدشہ ہو ، ان لوگوں کے لیے ایسے آداب پر عمل نہ کرنا اور عوام پر اصل صورت کا واضح کر دینا ہی بہتر رویہ ہے ۔
کسی بھی دینی حکم کے مقاصد اور روح کو متعین کرنے میں انسانی فہم کی حد تک غلطی کا امکان بہرحال موجود رہتا ہے ۔ اس لیے اپنے پیش کردہ حل کو حتمی سمجھتے ہوئے ظاہری الفاظ پر عمل کرنے والوں کو استہزاو مذاق کا نشانہ بنانا اور انھیں حقیر جاننا بھی دین کی نظر میں ناپسندیدہ او رناگوار عمل ہے ۔ اللہ کریم کی بارگاہ میں اصل وزن اخلاص کا ہے۔ یہ عین ممکن ہے کہ الفاظ کے ظاہری مفہوم پر خلوص سے عمل کرنے والے کے اعمال کا وزن میزانِ عدل میں اس سے کئی گنا بڑھ جائے جو احکام کے مقاصد و علل تلاش کر رہا تھا، مگر ساتھ ہی اس کی عقل بہت سے خارجی عوامل سے بھی متاثر تھی ۔
فیصلہ تو بہرحال نیتوں پر ہوتا ہے ۔ حق کی تلاش اور اس پر عمل کرنے میں کسی کی سعی اور تگ و تاز میں کتنا خلوص تھا ، اسے ماپنے کا پیمانہ تو بہرحال الحق اورا لخیر کے پاس ہی ہے ۔

________

۱؂ اس حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرو کے گھٹنے کے نیچے ہاتھ رکھ کر ارشاد فرمایا تھا کہ یہ ہے تہبند کی جگہ۔

------------------------------

 

بشکریہ ماہنامہ اشراق
تحریر/اشاعت دسمبر 2001
مصنف : محمد صدیق بخاری
Uploaded on : Aug 13, 2016
187 View