احادیث اور مصوری کی شناعت - سید منظور الحسن

احادیث اور مصوری کی شناعت

 

قرآن مجید کی طرح احادیث میں بھی مصوری کی شناعت بیان ہوئی ہے۔ ان کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجسموں اور تصویروں کو شنیع قرار دیا، انھیں گھروں میں اور اللہ کی عبادت گاہوں میں رکھنے سے منع فرمایا اور ان کے بنانے والے مصوروں کواخروی عذاب سے خبردار کیا۔حدیث کی کتابوں میں ان موضوعات پر کثرت سے روایتیں نقل ہوئی ہیں۔ ان روایتوں میں تماثیل کی شناعت تو نہایت صراحت سے بیان ہوئی ہے، مگر ان کا مشرکانہ عوارض سے تعلق مذکور نہیں ہے۔ اس وجہ سے بادی النظر میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ یہ روایتیں مصوری کو علی الاطلاق شنیع قرار دے رہی ہیں، مگراس موضوع کی تمام روایتوں کو سامنے رکھنے اور قرآن مجید کی روشنی میں ان کا مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت با دنیٰ تامل واضح ہوجاتی ہے کہ ان میں تماثیل و تصاویر کی نہیں، بلکہ سرتاسر مشرکانہ مراسم کی شناعت بیان ہوئی ہے ۔ شرک کی علت کے ان میں مذکور نہ ہونے کا سبب تماثیل اور شرک کے باہمی تعلق کا معلوم و معروف ہونا ہے۔تاریخی مصادر سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے زمانے میں شرک اورمصوری بہت حد تک لازم و ملزوم کی حیثیت اختیار کر گئے تھے اور تماثیل کا مظاہر شرک سے متعلق ہونا ہر شخص پر آشکار تھا۔
مصوری کی شناعت کے موضوع پر چند نمایندہ احادیث درج ذیل ہیں:
۱۔ عن أبي طلحۃ الأنصاري قال: سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول: ’’لا تدخل الملائکۃ بیتًا فیہ کلب ولا تماثیل‘‘.(مسلم ،رقم۲۱۰۶)
۲۔ عن أبي طلحۃ رضي اللّٰہ عنہ قال: قال النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ’’لا تدخل الملائکۃ بیتًا فیہ کلب ولا تصاویر‘‘.(بخاری، رقم۵۶۰۵) 
۳۔ عن أبي ھریرۃ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ’’لا تدخل الملائکۃ بیتًا فیہ تماثیل أو تصاویر‘‘.(مسلم، رقم۲۱۱۲)
۴۔ عن عائشۃ قالت: قال (رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم): ’’إن البیت الذي فیہ الصور لا تدخلہ الملائکۃ‘‘.(بخاری،رقم۴۸۸۶)
۱۔ ’’ابو طلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو اور’’تماثیل‘‘ ہوں۔‘‘
۲۔ ’’ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو اور ’’تصاویر‘‘ ہوں۔‘‘
۳۔ ’’ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں ’’تماثیل‘‘ یا’’ تصاویر‘‘ ہوں۔‘‘
۴۔ ’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس گھر میں مورتیں ہوں، اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے ۔‘‘
ان روایتوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل ہوا ہے کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جن میں ’تماثیل‘ ہوں، ’ تصاویر‘ ہوںیا ’ صور‘ ہوں۔ان روایتوں کا مدعا سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ مذکورہ الفاظ کا مفہوم متعین کیا جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ان کا اطلاق کن چیزوں پر ہوتا تھا۔
تماثیل‘ ’تمثال‘کی جمع ہے۔اس کے معنی مورت کے ہیں، یعنی ایسی چیزجوکسی اصل کے مانند بنی ہوئی ہو۔ اس سے مراد وہ اشیا ہیں جو اللہ کی کسی تخلیق کے مشابہ بنائی گئی ہوں:

والتمثال: الصورۃ، والجمع التماثیل. ومثل لہ الشيء: صورہ حتی کأنہ ینظر إلیہ. وامتثلہ ھو: تصورہ... والتمثال: اسم للشيء المصنوع مشبہًا بخلق من خلق اللّٰہ، وجمعہ التماثیل، وأصلہ من مثلت الشيء بالشيء.(لسان العرب۱۱/ ۶۱۳)
’’’تمثال‘ کے معنی مورت کے ہیں۔ اس کی جمع ’تماثیل‘ ہے۔ ’ومثل لہ الشيء‘کے معنی ہیں: کسی چیز کی اس طرح مورت بنانا کہ گویا کہ خود اسے دیکھا جائے۔ ’امتثلہ ھو‘ کا معنی ہے: وہ اس کی صورت ذہن میں لایا... ’التمثال‘ ایسی چیز کے لیے بولا جاتا ہے جو اللہ کی مخلوقات میں سے کسی مخلوق کے مشابہ بنائی گئی ہو۔اس کی جمع ’تماثیل‘ ہے۔ اس کی اصل ’ مثلت الشيء بالشيء‘ یعنی کسی چیز کو کسی چیز کے مثل بنانا ہے۔‘‘

تصاویر‘’تصویرۃ‘ کی جمع ہے۔ اس کے معنی تماثیل ہی کے ہیں، یعنی وہ اشیا جو اللہ کی کسی مخلوق کے مشابہ بنائی گئی ہوں:

والتصاویر: التماثیل.(لسان العرب۴/ ۴۷۳)
’’تصاویر سے مراد تماثیل ہیں ۔‘‘

صور، ’صورۃ‘ کی جمع ہے۔ اس کے معنی شکل اور مورت کے ہیں۔ 
ان لغات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ’تصاویر‘ ، ’ تماثیل‘ اور ’صور‘ ہم معنی الفاظ ہیں اور ان سے مرادوہ اشیا ہیں جو اللہ کی کسی تخلیق کے مشابہ بنائی گئی ہوں۔اس بنا پر ان کا اطلاق حسب ذیل چیزوں پر ہوتا ہے:
۱۔ لکڑی، دھات، مٹی اور پتھر سے تراشے ہوئے مختلف مخلوقات کے مجسمے۔
۲۔ لکڑی، دھات یا پتھر پر کندہ کی ہوئی مختلف مخلوقات کی شبیہیں۔
۳۔ کپڑے اور چمڑے وغیرہ پر مرتسم مختلف مخلوقات کے نقوش۔
۴۔ دروازوں اور دیواروں پر رنگ و روغن سے بنائی ہوئی مختلف مخلوقات کی تصویریں۔ ۱؂ 
’ تصاویر‘ ، ’تماثیل‘اور ’ صور‘کے الفاظ کا مفہوم جاننے کے بعد اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ان کا اطلاق کس نوعیت کی شبیہوں پر ہوتا تھا۔ اس ضمن میں احادیث اور تاریخ کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان سے مراد کچھ خاص مجسمے اور ان کی شبیہیں اور تصویریں ہیں ۔ یہ مجسمے لکڑی، پتھر اور دھات وغیرہ سے بنے ہوئے تھے اورعرب کے مختلف مقامات پر نصب تھے۔مشرکین عرب انھی کی ہیئت پربنے ہوئے بت اپنے صحنوں اور حجروں میں رکھتے، انھی کے نقوش ستونوں پر کندہ کرتے، انھی کی شبیہوں سے دیواروں کو رنگین کرتے اور انھی کے خاکوں اور تصویروں والے پردے طاقوں اور دروازوں پر آویزاں کرتے تھے۔ ۲؂ یہ تماثیل شہر مکہ کے بیش تر گھروں میں موجود تھیں اور اہل بادیہ بھی اپنے گھروں کو ان سے مزین کرتے تھے:

ولم یکن في قریش رجل بمکۃ إلا وفي بیتہ صنم،... فیشتریہا أہل البدو فیخرجون بہا إلی بیوتہم.(اخبار مکہ، الازرقی ۱/ ۱۲۲)
’’مکہ میں قریش کا کوئی ایسا آدمی نہیں تھا جس کے گھر میں صنم (مجسمہ) موجود نہ ہو... بدو (خانہ بدوش بھی) ان کو خریدتے تھے اور اپنے گھروں میں لے جاتے تھے۔‘‘

گھروں میں موجود یہ تماثیل درحقیقت مختلف دیویوں اور دیوتاؤں سے منسوب اور لات، منات، عزیٰ، ہبل، اساف، نائلہ، یعوق، یغوث،سواع اور نسر وغیرہ کے ناموں سے موسوم تھیں۔ قرآن و حدیث میں ان میں سے بعض کے اسماے علم بھی درج ہیں، مگر من حیث المجموع ان کے لیے ’اَوْثَان‘، ۳؂ ’اَصْنَام‘، ۴؂ ’الدمٰی‘ ۵؂ اور ’اِنْدَاد‘ ۶؂ وغیرہ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔
قرآن مجید، احادیث اور تاریخ کی کتابوں سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ عربوں نے ان تماثیل اور ان کے پس منظر کی مزعومہ ذوات اور شخصیات کے ساتھ مشرکانہ تصورات وابستہ کر رکھے تھے۔ وہ اللہ کو الٰہ مانتے تھے، مگر اس کی ذات، اس کی صفات اور اس کے حقوق میں انھیں شریک اور ساجھی سمجھتے تھے۔ ۷؂ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے ان کے لیے ’مُشْرِکِیْن‘ کا لفظ اسم علم اور اسم صفت کے طور پر اختیار کیا ہے، یعنی یہ مذہب ان کے اندر اس قدر رچا بسا ہوا تھا کہ ان کے لیے نام ہی مشرکین کا اختیار کر لیا گیا۔شرک ان کے ایمانیات کا حصہ تھا اور مشرکانہ مظاہر ملائکہ ، جنات، کواکب اور بزرگوں کی پرستش کی صورت میں نمایاں ہوتے تھے۔ انھی کے تقرب اور عبادت کے لیے انھوں نے تماثیل بنا رکھی تھیں۔لکڑی، پتھر اور دھات سے بنی ہوئی ان تماثیل کی حیثیت اگرچہ فرشتوں، جنوں اور انسانوں کے مسکنوں اور قالبوں ہی کی تصور کی جاتی تھی ،مگر عملاً یہ بے جان مجسمے اور مورتیں ہی معبود اصلی قرار پاتے تھے۔ مشرکین عرب نے ان تماثیل اور ان کے پس منظر کی ذوات کے بارے میں جو مشرکانہ تصورات قائم کر رکھے تھے ،ان کی تفصیل حسب ذیل ہے:
مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں تصور کرتے تھے اور ان کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ یہ اپنی پرستش کرنے والوں کی بخشش کا سامان کریں گی۔ اللہ تعالیٰ اپنی ان چہیتیوں کی بات ہر گز رد نہیں فرمائیں گے۔ لات، منات اور عزیٰ کو وہ فرشتوں میں سے بلند مرتبہ دیویاں سمجھ کر ان کی تماثیل کی پرستش کرتے تھے اور یہ یقین رکھتے تھے کہ یہ آخرت میں لازماً ان کی شفاعت کا وسیلہ بنیں گی۔ ۸؂ 
ان تماثیل کووہ قرب الٰہی کاذریعہ سمجھتے تھے۔ان کا خیال تھا کہ اللہ کی قربت انھیں کسی واسطے کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی ۔ چنانچہ وہ فرشتوں، جنوں اور انسانوں کی تماثیل کی عبادت اس امید پر کرتے تھے کہ وہ انھیں خدا کے تقرب سے بہرہ یاب کر دیں گی۔ ۹؂ 
مشرکین عرب رزق دینے کے معاملے میں بھی تماثیل کو اللہ کی شریک تصور کرتے تھے۔ وہ یہ تو مانتے تھے کہ آسمان سے اللہ ہی پانی اتارتا ہے اور وہی زمین کی زرخیزی اور شادابی کا سامان کرتا ہے، مگر اس کے ساتھ وہ اس بات پر بھی یقین رکھتے تھے کہ انھیں روزی دینے میں ان تماثیل کا فضل و کرم بھی شامل ہے۔ ۱۰؂ 
ان افضال و عنایات کی بنا پر جو مشرکین عرب نے دنیا اور آخرت کے حوالے سے تماثیل سے منسوب کر رکھی تھیں، وہ ان سے ایسی محبت رکھتے تھے جس کا حق دار صرف اور صرف اللہ ہے۔ ۱۱؂ 
مشرکین عرب ان تماثیل کو اللہ ہی کی طرح نافع و ضار سمجھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ دنیا اور آخرت، دونوں میں انسانوں کے لیے نفع و نقصان کا اختیار رکھتی ہیں۔ چنانچہ یہ اگر کسی کو جائز و ناجائز فائدہ پہنچانا چاہیں گی تو انھیں کوئی منع نہیں کر سکے گا اور کسی کا نقصان کرنا چاہیں گی تو انھیں کوئی روک نہیں سکے گا۔ ۱۲؂ 
ان تماثیل کے بارے میں مشرکین عرب کا یہ تصور تھا کہ ان میں موجود فرشتے اور دوسری مخلوقات الوہیت میں اللہ کی شریک ہیں ۔ اسی پر تبصرہ کرتے ہوئے قرآن مجید نے ارشاد فرمایا : 
’’ کہہ دو اگر کچھ اور الٰہ بھی اس کے شریک ہوتے، جیسے یہ دعویٰ کرتے ہیں تو وہ عرش والے پر ضرور چڑھائی کر دیتے۔‘‘۱۳؂ 
مشرکین عرب اللہ تعالیٰ کے صاحب اولاد ہونے کا عقیدہ رکھتے تھے۔ وہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دیتے تھے اور اللہ کے فیصلوں پر ان کے تصرفات کو تسلیم کرتے تھے۔قرآن نے ان کے اسی تصورپر تبصرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’یہ کہتے ہیں کہ خدا کے اولاد ہے۔ وہ ایسی باتوں سے پاک ہے۔ وہ بے نیاز ہے۔‘‘ ۱۴؂ 
یہ وہ تصورات ہیں جو مشرکین عرب نے ان تماثیل سے وابستہ کر رکھے تھے۔ ان تصورات کی بنا پر جو مشرکانہ مراسم انھوں نے اختیار کر رکھے تھے، ان میں سے چند نمایاں درج ذیل ہیں ۔
مشرکین عرب ان تماثیل کے لیے اسی طرح قربانی پیش کرتے جس طرح اللہ کے لیے پیش کرتے تھے۔ اساف اور نائلہ قریش کے بت تھے۔ اساف صفا میں نصب تھا اور نائلہ مروہ میں۔۱۵؂ قریش کعبہ کے سامنے ان کے لیے قربانی کیا کرتے تھے۔ ۱۶؂ عزیٰ بھی ایک بڑا بت تھا۔ یہ طائف میں نصب تھا۔ خالدبن ولید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد اونٹ اور بھیڑ بکریاں اس کے پاس لے کر جاتے اور اس کے سامنے انھیں ذبح کرتے تھے اور تین دن تک وہاں قیام کرتے تھے۔ ۱۷؂ 
حج و عمرے کے موقع پر اہل جاہلیت تلبیہ ۱۸؂ کے کلمات میں ان تماثیل کو اللہ کا شریک گردانتے تھے ۔ ۱۹؂ تلبیہ کے الفاظ اس طرح ہوتے تھے :

’لبیک اللّٰہم لبیک، لا شریک لک ، إلا شریک ہو لک. تملکہ وما ملک‘۔
’’اے میرے خدا، میں حاضر ہوں تیرے لیے، تیرا کوئی شریک نہیں سوائے اس شریک کے جو تیرے اختیار میں ہے تو ان کا بھی مالک ہے اور ان چیزوں کا بھی جو تیرے اختیار میں ہیں۔‘‘ (المفصل فی تاریخ العرب ، جواد علی ۶/ ۱۰۵) 

قبائل چونکہ اپنے اپنے مختلف بت رکھتے تھے، اس لیے ان کا تلبیہ بھی الگ الگ ہوتا تھا۔ مختلف قبائل جب حج کے لیے بیت اللہ کا رخ کرتے تو ہر قبیلہ اپنے بت کے پاس ٹھیرتا ، وہاں نماز پڑھتا اور تلبیہ پڑھتا اور پھر مکہ کی طرف بڑھتا۔۲۰؂ 
لوگ ان تماثیل کے بارے میں یہ یقین رکھتے تھے کہ یہ ا ن کے قبیلوں کی نگہبان ہیں۔ یہ ان کا دفاع کرتی ہیں اور جب ان سے مدد طلب کی جاتی ہے تو بھر پور مدد کرتی ہیں۔ ۲۱؂ وہ سمجھتے تھے کہ یہ تماثیل ان پر احسان کرتی ہیں۔ صحت، عافیت، مال، اولاد میں سے جو چیز بھی وہ ان سے مانگیں، وہ انھیں عطا کرتی ہیں۔ ۲۲؂ ہبل قریش کی تماثیل میں سے سب سے بلندمرتبہ تھی ۔ وہ اس سے پناہ چاہتے اورالتجا کرتے کہ وہ ان کے لیے خیرو برکت کاسامان کرے اور ہر قسم کی تکلیف اور شر سے ان کو محفوظ رکھے۔۲۳؂ 
عربوں کا یہ عام طریقہ تھا کہ وہ جنگوں کے موقع پر تماثیل اور ان کی علامتوں اور یاد گاروں کو اپنے ہم راہ رکھتے تھے۔ اس سے ان کا مقصود یہ ہوتا کہ یہ جنگ میں فتح و کامرانی کے لیے ان کی ہر طریقے سے مدد کریں گی۔چنانچہ ان کی یہ معروف رسم تھی کہ جب وہ جنگ کے لیے نکلتے تو مختلف اصنام کے عارضی خیموں اور مکانوں کو اپنے ساتھ لے کر نکلتے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ لات کا ایک خیمہ تھا ۔ لوگ اسے جنگ میں اپنے ساتھ رکھتے اور میدان جنگ میں پہنچ کر اسے لشکر کے سامنے نصب کر دیتے تھے ۔ اس سے لشکریوں کا حوصلہ بڑھانا مقصود ہوتا۔ منادی کرنے والے ان بتوں کے نام لے کر انھیں پکارتے تھے۔ ۲۴؂ جنگ احد کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب واپس مڑنے کا اعلان کیا تو ابوسفیان نے بلند آواز میں کہا: ہبل بلند ہوا، ہبل بلند ہوا۔ اس پر آپ نے حضرت عمر سے کہا کہ تم کہو: اللہ بلند ہوا۔ ابوسفیان نے کہا: ہمارے پاس عزیٰ ہے، تمھارے پاس نہیں ہے۔ اس کے جواب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر سیدنا عمر نے کہا: ہمارا مولا اللہ ہے اور تمھارا مولا کوئی نہیں ہے۔ ۲۵؂ 
مشرکین عرب نے تمام عبادتوں میں اللہ کے ساتھ ان تماثیل کو بھی شریک کر رکھا تھا۔ وہ ان کے لیے نماز پڑھتے، روزہ رکھتے، ان کے سامنے سجدہ ریز ہوتے اور حج کے مختلف مراسم عبودیت میں انھیں اللہ کے ساتھ شریک کرتے تھے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ سورج کی پرستش کرنے والوں نے ایک خاص معبد میں سورج کا بت بنا رکھا تھا اور سورج کے طلوع ، نصف النہار، اور غروب کے موقعوں پر اس کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ ۲۶؂ مصیبت زدہ لوگ اس بت کے لیے روزے رکھتے اور نمازیں پڑھتے اور اس سے شفا طلب کرتے۔۲۷؂ اسی طرح اساف، نائلہ اور دیگر بتوں کے گرد طواف کرنے کی رسم عام تھی۔ ۲۸؂ 
تماثیل کو چومنا، ان کے آگے جھکنا ، ان کے گرد طواف کرنا، یہ سب اعمال اہل عرب کے دینی شعائر میں سے تھے۔ وہ انھیں برکت کے لیے چھوتے اور ان کی تقدیس کے لیے ان پر چادریں چڑھاتے تھے۔ ۲۹؂ ان تماثیل کی وہ اسی طرح تعظیم و تقدیس کرتے تھے جس طرح بیت اللہ کی کرتے تھے اور بیت اللہ ہی کی طرح انھوں نے ان کے معبدوں پر بھی خدام مقرر کر رکھے تھے۔۳۰؂ 
ان تماثیل کے معبدنذر و نیاز کا مرکز تھے۔یہ سنگ مرمر اور دوسرے قیمتی پتھروں سے بنے ہوتے تھے۔ انھیں نقش و نگار سے مزین کیا جاتا۔ ان معبدوں پر جا کر منتیں مانی جاتیں اورسونا، چاندی، اجناس اور دیگر اشیا کی نذریں پیش کی جاتیں ۔ ۳۱؂ اس نذر و نیاز کو وہ ان تماثیل کی طرف سے اس بنا پراپنے اوپر قرض سمجھتے کہ انھوں نے ان کی نصرت اور شفاعت کی ہے۔۳۲؂ 
مشرکانہ تصورات اور مراسم کی اس تفصیل سے یہ بات نہایت صراحت کے ساتھ واضح ہو جاتی ہے کہ عربوں کے گھروں میں موجود جن تماثیل کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شنیع قرار دیا ہے،وہ کوئی عام تماثیل نہیں تھیں، بلکہ ان اصنام کی تصاویر اور شبیہیں تھیں جنھیں حی و قیوم اور نافع و ضار سمجھ کر پوجا جاتا تھا ۔ یہ اگرچہ لکڑی، پتھر اور دھات وغیرہ جیسے بے جان عناصر سے بنی ہوئی تھیں، مگر مشرکین عرب انھیں فرشتوں اور انسانوں کے قالب تصور کرتے تھے اور ان کے اندر ان کی روحوں کے حلول ہونے پر یقین رکھتے تھے۔ گویا یہ تماثیل ان کے نزدیک کوئی بے روح او ر مردہ اشیا نہیں تھیں، بلکہ روحوں کی حامل زندہ و بیدار مخلوقات تھیں۔ ایک روایت میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے مذکورہ حدیث بیان کرنے کے بعد کہ ’’جس گھر میں کتا ہو اور مورت ہو، اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے ‘‘ ۔ اس بات کو واضح کیا کہ یہاں ’صورۃ‘سے مراد ’’صورۃ التماثیل‘‘، یعنی ان خاص تماثیل کی تصویریں ہیں جن میں روحیں تصور کی جاتی ہیں:

أخبرني أبو طلحۃ صاحب الرسول وکان قد شھد بدرًا معہ، أنہ قال (رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم): ’’لا تدخل الملائکۃ بیتًا فیہ کلب ولا صورۃ یرید صورۃ التماثیل التي فیھا الارواح‘‘.(بخاری ، رقم ۳۷۸۰)
’’مجھے ابو طلحہ نے خبر دی جو نبی کے صحابی اور جنگ بدر میں آپ کے ساتھ شریک تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے اس گھرمیں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو یا مورت ہو، ان کے نزدیک اس سے مراد ان تماثیل کی مورت ہے جن میں روحیں پائی جاتی تھیں۔‘‘

مسند احمد کی ایک روایت میں اس مفہوم کو ’صورۃ روح‘، یعنی ’’روح والی تصویر‘‘ کے الفاظ سے ادا کیا گیا ہے۔ یہ الفاظ بھی اسی بات کی وضاحت کر رہے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جن تماثیل اور تصاویر کو گھروں میں رکھنے سے منع فرمایا، وہ عام تصویریں نہیں، بلکہ روحوں کے تصور والی تصویریں تھیں۔ روایت یہ ہے:

عن نجي... قال علي...قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم... ’’قال جبریل ... إنھا ثلاث لن یلج ملک (دارًا) ما دام فیھا ابدًا: واحد منھا کلب أو جنابۃ أو صورۃ روح.( رقم ۶۴۸) 
’’نجی رحمہ اللہ سے روایت ہے...علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبریل فرماتے ہیں کہ ... تین چیزیں جب تک کسی گھر میں رہتی ہیں تو فرشتہ اُس (گھر) میں کبھی نہیں جاتا۔ ان تین میں سے ایک کتا ہے ، دوسری چیز جنبی آدمی اور تیسری چیز روح کی تصویر ہے ۔ ‘‘

________________________

۱؂ یہاں یہ واضح رہے کہ تمثال کے مفہوم میں جان دار اور بے جان، دونوں طرح کی مخلوقات کے مجسمے اور تصویریں شامل ہیں۔ 
۲؂ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، جواد علی ۸/ ۸۸۔ 
۳؂ یہ ’وثن‘ کی جمع ہے اور اس سے مراد لکڑی ، پتھر اور دھات وغیرہ سے بنی ہوئی تماثیل ہیں۔ یہ عبادت کے لیے بنائی جاتی تھیں (لسان العرب۱۳/ ۴۴۳)۔
۴؂ یہ ’صنم‘ کی جمع ہے۔ اس کے معنی بھی لکڑی، پتھراور دھات سے بنے ہوئے مجسمے کے ہیں۔ یہ ’وثن‘ کے مترادف کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے اور اس سے مراد پوجی جانے والی تصویر بھی ہے (لسان العرب ۱۲/ ۳۴۹)۔
۵؂ یہ ’دمیہ‘ کی جمع ہے۔ اس سے مراداصنام بھی ہیں اور بالخصوص یہ ایسی منقش تصویروں اور بتوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جو نہایت خوب صورت طریقے سے بنے ہوئے ہوں (لسان العرب ۱۴/ ۲۷۱)۔
۶؂ یہ ’ند‘ کی جمع ہے۔اس کے معنی کسی کے مانند اور مشابہ ہونے والی چیز کے ہیں۔ قرآن و حدیث میں یہ لفظ ان اشیا کے لیے آیا ہے جنھیں اللہ کا شریک ٹھیرایا جاتا تھا (لسان العرب ۳/۴۲۰)۔
۷ ؂ ذات و صفات اور حقوق میں شریک کرنے سے مراد یہ ہے کہ مثال کے طور پراسے صاحب اولاد مانا جائے ؛ اس کے علاوہ کسی اور سے بھی مدد طلب کی جائے اور اس کے سوا کسی اور کی عبادت کی جائے یا اس کے ساتھ کسی اور کو عبادت میں شریک کیا جائے۔
۸ ؂ النجم ۵۳: ۱۹ ۔۳۰۔ القلم ۶۸: ۳۵۔۴۱۔ 
۹؂ الزمر۳۹: ۳۔ 
’’ اور ایسے بھی تھے جو اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ اس خدا تک کسی واسطے اور شفاعت کے بغیر نہیں پہنچا جا سکتا، چنانچہ وہ روحوں، جنوں اور بتوں کی پوجا پر ایمان رکھتے تھے تاکہ ان کے ذریعے سے اللہ کا تقرب حاصل کریں۔‘‘
(بلوغ الارب، بہ حوالہ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ۶/ ۱۰۳) 
۱۰؂ العنکبوت۲۹: ۶۱۔۶۳۔ 
۱۱؂ البقرہ۲: ۱۶۵۔ 
۱۲؂ بنی اسرائیل۱۷: ۵۶۔ 
۱۳؂ بنی اسرائیل۱۷: ۴۲۔ 
۱۴؂ یونس ۱۰: ۶۸ ۔ 
۱۵؂ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، جواد علی۶/ ۲۸۶۔ 
۱۶؂ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، جواد علی ۶/ ۶۶۔ 
۱۷؂ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، جواد علی ۶ / ۴۰۔ 
۱۸؂ تلبیہ ایک کلمہ ہے جو حج کے ایام میں ’ لبیک اللّٰھم لبیک ‘کے الفاظ کی صورت میں حاجیوں کی زبان پر جاری ہوتا ہے ۔ یہ درحقیقت اس صدا کا جواب ہے جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے بیت الحرام کی تعمیر نو کے موقع پر بلند کی تھی ۔ یہ توحید کا کلمہ تھا ، مگر مشرکین نے اس میں بھی شرک کو داخل کر لیا تھا۔ 
۱۹ ؂ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، جواد علی۶/ ۲۴۶۔ 
۲۰؂ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، جواد علی ۶ / ۳۷۵۔ ۳۷۶۔ 
۲۱؂ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، جواد علی ۶/ ۲۶۱۔ 
۲۲ ؂ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، جواد علی۶ / ۳۳۶۔ 
۲۳؂ اخبار مکہ ، الازرقی ۱/ ۶۶ ۔ 
۲۴؂ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، جواد علی ۶/ ۲۳۵۔ 
۲۵؂ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، جواد علی۶/ ۲۵۳۔ 
۲۶؂ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مشابہت سے بچنے کے لیے ان اوقات میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا۔
۲۷؂ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، جواد علی۶/ ۳۳۷۔ 
۲۸؂ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، جواد علی۶/ ۳۸۰۔ 
۲۹؂ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، جواد علی ۶/ ۲۹۳۔ 
۳۰؂ تفسیر ابن کثیر ۴/ ۲۵۳ ۔ 
۳۱؂ الا نعام۶:۱۳۶۔ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، جواد علی ۶ /۴۰۴۔ 
۳۲؂ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، جواد علی۶ /۶۱۔

__________________________

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت ستمبر2017
مصنف : سید منظور الحسن
Uploaded on : Oct 05, 2017
137 View