عقد موالاۃ اور تقسیم میراث۔ ایک اہم شرعی حکم کی وضاحت - عمار خان ناصر

عقد موالاۃ اور تقسیم میراث۔ ایک اہم شرعی حکم کی وضاحت

 

سورۃ النساء کی آیت ۳۳ کی تفسیر سے متعلق برادرم ڈاکٹر مشتاق احمد صاحب نے فیس بک پر ایک پوسٹ لکھی ہے جس سے ناچیز کو بھی تحریک ہوئی کہ اس موضوع پر طالب علمانہ رائے اہل علم کے غور کے لیے پیش کر دی جائے۔ ان کان صوابا فمن اللہ وان کان خطا فمنی ومن الشیطان

زیر بحث آیت میں والدین اور اقرباء کی صورت میں مرنے والے کے ورثاء کے حق کے ساتھ یہ فرمایا گیا ہے کہ ’’والذین عقدت ایمانکم فآتوھم نصیبھم’’، یعنی جن کے ساتھ تم نے عہد وپیمان کر رکھے ہیں، ان کو بھی ان کا حصہ دو۔ یہ بدیہی طور پر عرب معاشرت کے دستور کی طرف اشارہ ہے جس میں مختلف افراد باہمی دوستی اور تعلق کو باقاعدہ محالفت (حلف سے) یعنی معاہدے کی شکل دے دیتے تھے جس کے مطابق کسی ایک کی وفات کی صورت میں دوسرا اس کا وارث مانا جاتا تھا۔ اسلامی شریعت نے عرب معاشرت کے دوسرے بہت سے رسوم کی طرح اس رسم کو بھی تبدیل کیا اور یہ قرار دیا کہ مرنے والے کے ترکے میں اصل حق اس کے والدین اور قریبی رشتہ داروں کا ہے، البتہ مخصوص حدود کے اندر مرنے والا کسی دوسرے کے حق میں وصیت کر سکتا ہے۔ اس حد تک اسلامی قانون کی تعبیر پر اہل علم کا اتفاق ہے۔

اس تناظر میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ زیر بحث آیت میں عقد موالاۃ کا تعلق رکھنے والوں کو ان کا حصہ دینے کا کیا مطلب ہے؟ مفسرین نے اس کی مختلف توجیہات پیش کی ہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ یہ حکم دیگر آیات سے، جن میں وراثت کا حق دار اقرباء کو قرار دیا گیا ہے، منسوخ ہو چکا ہے۔ لیکن اس پر اشکال یہ ہوتا ہے کہ وہ دیگر آیات تمام تر قرائن کے لحاظ سے زیر بحث آیت سے پہلے نازل ہو چکی تھیں اور عین اسی آیت میں زیر بحث جملے سے پہلے انھی کے مطابق ترکے میں ورثاء کے حق کا ذکر کیا گیا ہے۔ چنانچہ منطقی طور پر وراثت کے احکام کو زیر بحث ہدایت کا ناسخ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

فقہائے احناف نے یہ توجیہ کی ہے (اور برادرم ڈاکٹر مشتاق صاحب نے بھی اسی کو ترجیح دی ہے) کہ عقد موالاۃ کا تعلق رکھنے والوں کے، ترکے میں حصہ دار ہونے کا حکم منسوخ نہیں بلکہ محکم ہے، البتہ ترتیب میں ان کی باری ذوی الفروض اور ذوی الارحام کے بعد آتی ہے۔ یعنی اگر کسی شخص کے قریبی یا دور کے رشتہ داروں میں سے کوئی موجود نہ ہو، جبکہ اس نے کسی کے ساتھ عقد موالاۃ کر رکھا ہو تو ورثاء کی غیر موجودگی میں وہ وارث قرار پائے گا۔ یہ رائے فقہی واجتہادی طور پر تو درست معلوم ہوتی ہے، لیکن آیت کو اس پر محمول کرنا اس لیے مبنی بر تکلف دکھائی دیتا ہے کہ وہ اپنے متبادر مفہوم کے لحاظ سے انھیں ترتیب میں موخر رکھنے کا نہیں، بلکہ ورثاء کے ساتھ ہی حصہ دینے کا تقاضا کرتی ہے۔دوسرے یہ کہ قرآن مجید نے احکام وراثت کے بیان میں بنیادی اور عام الوقوع صورتوں کو ہی موضوع بنایا ہے اور ایک بہت ہی نادر امکانی صورت (جس میں ذوی الفروض، عصبات اور ذوی الارحام میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو) کا حکم بیان کرنا قرآن کے عمومی مزاج اور اسلوب کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا۔

مولانا امین احسن اصلاحی اور جناب جاوید احمد غامدی نے آیت کے متبادر مفہوم کو برقرار رکھتے ہوئے اس جملے کی تاویل یہ کی ہے کہ اس میں نصیب سے مراد وہ حصہ ہے جو ازروئے وصیت مرنے والا ان کے لیے مقرر کر جائے۔ یہ بات بھی فقہی واجتہادی طور پر تو درست ہے، لیکن آیت میں اختیار کردہ تعبیر کو اس پر محمول کرنا درست معلوم نہیں ہوتا۔ یہاں ایسے لوگوں کو ان کا حصہ دینے کی اساس، ان کے ساتھ کیے گئے عہد وپیمان کو قرار دیا گیا ہے نہ کہ مرنے والے کی وصیت کو۔ نیز ’’فآتوھم نصیبھم’’ کی تعبیر بھی وصیت کے صواب دیدی اختیار کے تحت کسی کو دیے جانے والے مال کے لیے موزوں دکھائی نہیں دیتی۔پھر یہ کہ اگر یہاں وصیت کے عمومی اصول ہی کا ذکر کیا گیا ہے اور موالاۃ کا تعلق رکھنے والوں کے کسی خصوصی حق کا ذکر مقصود نہیں تو انھیں بطور خاص یہاں نمایا ں کرنے کی بھی کوئی وجہ نہیں۔

ان وجوہ سے میری طالب علمانہ رائے یہ ہے کہ زیر بحث آیت میں موالاۃ کا تعلق رکھنے والوں کے جس حق کا ذکر کیا گیا ہے، اسے نہ تو بعد میں منسوخ کیا گیا ہے، نہ وہ نسبی ورثاء کی غیر موجودگی کے ساتھ مشروط ہے اور نہ اس سے مراد وصیت کے صواب دیدی اختیار کے تحت دیے جانے والا کوئی حصہ ہے۔ درحقیقت یہاں یہ کہنا مقصود ہے کہ احکام وراثت کے نازل ہونے سے پہلے اہل عرب کے معروف کے مطابق اس نوعیت کے جومعاہدے کیے جا چکے ہیں، ان کی پابندی کی جائے اور ان کے مطابق فریقین میں سے کسی ایک کے مرنے کی صورت میں دوسرے فریق کو معاہدے کے مطابق ترکے میں حصہ دار تسلیم کیا جائے۔ گویا یہاں احکام وراثت کے نزول سے پہلے کیے گئے اس طرح کے معاہدوں کو sanction دی گئی اور انھیں پورا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ البتہ احکام وراثت کے نزول کے بعد شرعی ہدایت سورۃ الانفال کی آخری آیت نیز سورۃ الاحزاب کی آیت ۶ کے مطابق یہی ہے کہ ’واولو الارحام بعضہم اولی ببعض فی کتاب اللہ’، یعنی اللہ کے قانون میں اقرباء ہی ایک دوسرے کے مال پر زیادہ حق رکھتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے فرمان میں عقد موالاۃ سے متعلق شریعت کا یہی حکم واضح کیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ

مَا كَانَ مِنْ حِلْفٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَتَمَسَّكُوا بِهِ، وَلَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ (مسند احمد، رقم ۲۰۱۸۵)

’’جاہلیت میں جو معاہدات کیے گئے ہیں، ان کی پوری پابندی کرو، لیکن اسلام میں ایسے معاہدے کرنے کی اجازت نہیں۔‘‘

یہاں ایک اور پہلو یہ سامنے رہنا چاہیے کہ آیت میں ’نصیبہم’ کے الفاظ سے واضح ہے کہ موالاۃ کا تعلق رکھنے والوں کو ’’ان کا حصہ’’ دینے کی ہدایت کی گئی ہے، نہ کہ کل ترکہ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عرب معاشرت میں اس طرح کے معاہدات کی عمومی نوعیت یہی ہوتی تھی کہ فریقین ایک دوسرے کے بلاشرکت غیرے نہیں، بلکہ جزوی طور پر وارث ہوتے تھے اور آیت میں کہا گیا ہے کہ معاہدے میں جتنا حصہ بھی طے کیا گیا ہو، وہ ادا کر کے باقی ترکہ ورثاء میں تقسیم کیا جائے۔تاہم یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ اگر مثال کے طور پر دو آدمیوں نے باہم یہ معاہدہ کیا ہو کہ کسی ایک کی وفات کی صورت میں دوسرا اس کے کل ترکے کا وارث ہوگا تو کیا زیر بحث آیت کی رو سے اس کی من وعن پابندی کی جائے گی، چاہے اس کی رو سے شریعت کے مقرر کردہ ورثاء بالکل ترکے سے محروم رہ جاتے ہوں؟ بظاہر آیت اس صورت سے براہ راست تعرض نہیں کرتی، لیکن ا س کا حکم اجتہاداً‌ طے کیا جا سکتا ہے اورشریعت کے عمومی قواعد کی روشنی میں معاہدے میں ایسی ترمیم کی جا سکتی ہے جس سے شرعی ورثاء بھی اپنے حق سے محروم نہ رہیں۔

آخر میں بحث کے اس پہلو کی طرف بھی اشارہ کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ حالات میں اس بحث کی کیا اہمیت ہو سکتی ہے، جبکہ اس میں تو دراصل جاہلی معاشرے کے ایک رواج کا محدود اور وقتی دائرے میں قانونی طور پر موثر ہونا بیان کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ہم مختلف مقامات پر قرآن مجید میں مذکور منسوخ ہدایات کے متعلق جلیل القدر حنفی فقیہ امام ابوبکر الجصاص کے اس نقطہ نظر کا ذکر کر چکے ہیں کہ ان کی تنسیخ علی الاطلاق نہیں کی گئی، بلکہ حالات میں پیدا ہونے والے تغیر کے تناظر میں کی گئی ہے اور یہ کہ جن حالات میں پہلا حکم دیا گیا تھا، اگر وہ دوبارہ لوٹ آئیں تو ان میں دیا جانے والا حکم بھی دوبارہ قابل عمل ہو جائے گا۔ ہمارےنزدیک جصاص کی یہ رائے درست ہے اور اس کی رو سے مثال کے طور پر اگر آج کے دور میں کسی غیر مسلم معاشرہ میں رہنے والی کوئی کمیونٹی دائرہ اسلام میں داخل ہونا چاہے تو ان پر پہلے مرحلے میں شراب کی حرمت، بدکاری کی سزا، روزے کی پابندی اور وراثت وغیرہ سے متعلق قرآن مجید میں مذکور عبوری ہدایات نافذ کی جائیں گی اور تدریجاً‌ انھیں شریعت کے اصل احکام کی پابندی کے لیے تیار کیا جائے گا۔ اسی طرح اگر کسی شخص نے قبول اسلام سے پہلے اس نوعیت کی کوئی commitment کر رکھی ہو جیسی عقد موالاۃ کی صورت میں عرب معاشرے میں رائج تھی تو اسلام قبول کرنے کے بعداس پر وراثت کے شرعی احکام سورۃ النساء کی زیر بحث آیت کی روشنی میں ہی نافذ کیے جائیں گے۔
ہذا ما عندی واللہ اعلم

بشکریہ مکالمہ ڈاٹ کام، تحریر/اشاعت 25 فروری 2018
مصنف : عمار خان ناصر
Uploaded on : Feb 26, 2018
226 View