ہماری تعلیم - جاوید احمد غامدی

ہماری تعلیم

 

[۱]

اس ملک کا تعلیمی نظام دو بڑے حصوں میں بٹا ہوا ہے: ایک دینی مدارس، دوسرے دنیوی تعلیم کی درس گاہیں۔ پہلے دینی مدارس کو لیجیے۔ ان کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ یہ تقلید کے اصول پر قائم ہوئے ہیں۔ ان میں یہ بات پہلے دن سے طے کر دی جاتی ہے کہ حنفی ہمیشہ حنفی رہے گا اور اہل حدیث کو ہر حال میں اہل حدیث ہی رہنا ہے۔ اپنے دائرے سے باہر کے اہل علم کی کسی تحقیق اور رائے کے بارے میں یہ تصور بھی ان کے ہاں ممنوعات میں سے ہے کہ وہ صحیح ہو سکتی ہے۔ مذہب ابوحنیفہ کا کوئی پیرو ائمۂ محدثین کے کسی مسلک کو، اور ائمۂ محدثین کے طریقے پر عمل کرنے والا کوئی شخص مذہب ابوحنیفہ کے کسی نقطۂ نظر کو کبھی ترجیح دینے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ ہر جماعت مصر ہے کہ اس کا مذہب ہر اعتبار سے اوفق بالقرآن و السنہ ہے اور اس پر اب کسی نظرثانی کی ضرورت نہیں ہے۔ کوئی شخص ان مدارس میں یہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا کہ اس کے اکابر کی کوئی رائے اور تحقیق بھی کسی مسئلے کے بارے میں غلط ہو سکتی ہے۔
اس اصول پر ان مدارس سے پڑھ کر نکلنے والوں کی ’’استقامت‘‘ سے جو بگاڑ ہمارے معاشرے میں پیدا ہوا ہے، وہ کسی صاحب نظر سے چھپا ہوا نہیں ہے۔ ہم صبح و شام دیکھتے ہیں کہ فرقہ بندی کا ناسور اس ملت کے جسم میں جاری اور اختلاف ہمیشہ اتفاق پر بھاری رہتا ہے۔ منبر ہمہ وقت غضب سے کانپتا اور محراب ہمیشہ ترش ابرو ہوتی ہے۔ مسجدوں کے حدود ملکوں کی سرحدیں بن گئے ہیں اور ان میں رہنے والے ایک دوسرے سے کوئی تعلق قائم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ فقہی تعصبات دین کی عصبیت پر غالب آ گئے ہیں اور یہ لوگ ان کی حفاظت کے لیے اب بغیر کسی تردد کے ہر باطل کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ فقہ اسلامی کی تدوین اور اس ملک میں اس کے نفاذ کی ہر کوشش بالعموم انھی تعصبات کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے۔ اس طرح کے مواقع پر یہی محسوس ہوتا ہے کہ یہ محض مکاتب فکر نہیں، اقوام و ملل ہیں جو اپنے اپنے مفادات کی حمایت میں ایک دوسرے سے دست و گریباں ہو گئی ہیں۔ یہ بگاڑ، ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ اس زمانے میں جب نفاذِ دین کی باتیں کچھ زیادہ ہونے لگی ہیں، بہت نمایاں ہو گیا ہے۔
ان میں سے جو کچھ وسعت نظر کے مدعی ہیں،ان کا حال بھی یہ ہے کہ اگر شخص واحد کی تقلید پر اصرار نہیں کرتے تو اس بات پر بہرحال مصر ہیں کہ قرآن و سنت پر براہ راست غوروتدبر کادروازہ چوتھی صدی ہجری کے بعد بند ہو چکا ہے۔ ان کے نزدیک اب قیامت تک کسی شخص کو اسے کھولنے کی جسارت نہیں کرنی چاہیے۔ علم ان کی رائے میں جمع اقوال کا نام ہے اور تحقیق یہ اسے ہی کہتے ہیں کہ کسی مدعا کو ثابت کرنے کے لیے اگلوں میں سے دس بیس کی آرا بطور حوالہ نقل کر دی جائیں۔ کسی آیت کی تاویل اور کسی حدیث کی شرح میں کوئی نئی تحقیق، اگر کوئی شخص پیش کر دے تو اسے مردود قرار دینے میں یہ لمحے بھر کا توقف بھی گوارا نہیں کرتے۔ بڑی سے بڑی غلطی پر بھی یہ محض اس وجہ سے مصر ہو جاتے ہیں کہ پہلوں میں سے کسی کو اس سے اختلاف نہیں رہا۔ یہ چیز ان کے ہاں کوئی معمولی اہمیت نہیں رکھتی، یہ اسے ایمان و عقیدہ کے طور پر اختیار کیے ہوئے ہیں۔
اپنے اس نقطۂ نظر کے جو دلائل یہ حضرات بالعموم پیش فرماتے ہیں، وہ عقل و نقل، دونوں کی رو سے بالکل بے بنیاد ہیں۔ ان میں سے ہر شخص اس حقیقت سے واقف ہے کہ اس دین کا سب سے پہلا ماخذ قرآن مجید ہے۔ قرآن کے بارے میں یہ بات محتاج بیان نہیں کہ یہ جس طرح اگلوں کے پاس تھا، بالکل اسی صورت میں ہمارے پاس بھی موجود ہے۔ اس کے کسی حرف اور کسی شوشے میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ اس کی زبان عربی مبین ہے۔ اس کے الفاظ و اسالیب کے معنی کی تحقیق کے لیے تمام ضروری مواد اس زمانے میں بھی اسی طرح میسر ہے، جس طرح اس امت کے پہلے دور میں تھا۔ قرآن مجید کے بعد دوسرا ماخذ حدیث و سنت ہے۔ اس کا بیشتر حصہ تواتر عملی کے ذریعے سے ہمیں ملا ہے۔ باقی جو کچھ اخبار آحاد کی صورت میں تھا، اس میں جتنا کچھ ہمارے اسلاف نے قابل اعتماد پایا، وہ سب انھوں نے ہمیں منتقل کر دیا ہے۔ اس میں سے کوئی چیز بھی انھوں نے چھپا کر نہیں رکھی۔ جو کچھ انھوں نے چھوڑا اور جو کچھ اختیار کیا ہے، اس کے وجوہ بھی انھوں نے بیان کر دیے ہیں۔ دین میں یہی دو چیزیں اصل حجت ہیں اور یہ دونوں اس زمانے میں اسی طرح ہمارے پاس موجود ہیں، جس طرح اگلوں کے پاس تھیں۔
چنانچہ اس بنیاد پر کوئی محکم دلیل اس نقطۂ نظر کے حق میں قائم نہیں کی جا سکتی۔
اس کے بعد دو باتیں کہی جا سکتی ہیں: ایک یہ کہ دین پر عمل کے لحاظ سے جو مقام اگلوں کوحاصل تھا، وہ اس زمانے کے لوگوں کو حاصل نہیں ہو سکتا۔ دوسری یہ کہ فہم و ذکا کے اعتبار سے جو درجہ ان کا تھا، اس تک اب کسی کے لیے پہنچنا ممکن نہیں رہا۔
ان میں سے آخری بات محض ادعا ہوگی جس کے لیے کوئی ثبوت نہ قرآن و حدیث میں موجود ہے، نہ علم و تجربہ سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ رہی پہلی بات تو وہ قرآن مجید کی نص کے خلاف ہے۔ قرآن نے بالصراحت فرمایا ہے کہ عملی لحاظ سے دین میں سب سے اونچا درجہ ’السابقون‘ کا ہے اور یہ جس طرح اگلوں میں تھے، اس طرح پچھلوں میں بھی ہوں گے۔ سورۂ واقعہ میں ہے:

وَالسَّابِقُوْنَ السَّابِقُوْنَ، اُولٰءِکَ الْمُقَرَّبُوْنَ، فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ ، ثُلَّۃٌ مِنَ الْاَوَّلِیْنَ، وَقَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ۔ (۵۶: ۱۰۔۱۴)
’’اور سبقت کرنے والے تو پھر سبقت کرنے والے ہی ہیں۔ وہی تو مقرب ہوں گے، نعمت کے باغوں میں۔ اگلوں میں سے زیادہ اور پچھلوں میں سے کم۔‘‘

اس کے علاوہ اس نقطۂ نظر کے مؤیدین جو کچھ کہتے ہیں، وہ محض جذبات کی شاعری ہے۔ علم و استدلال کی دنیا میں اس کے لیے کوئی گنجایش نہیں ہے۔
دوسری بڑی خرابی ان مدارس کے نظام میں یہ ہے کہ یہ اگرچہ دینی مدارس ہیں، لیکن دین میں جو حیثیت قرآن مجید کو حاصل ہے، وہ ان میں اسے کبھی حاصل نہیں ہو سکی۔ دین میں وہ اس زمین پر اللہ کی اتاری ہوئی میزان اور حق و باطل کے لیے فرقان ہے۔ اس کی اس حیثیت کا ناگزیر تقاضا تھا کہ ان مدارس کے نصاب میں محور و مرکز کا مقام اسے ہی حاصل ہوتا۔ تدریس کی ابتدا اس سے کی جاتی اور اس کی انتہا بھی وہی قرار پاتا۔ علم و فن کی ہر وادی میں طلبہ اسے ہاتھ میں لے کر نکلتے اور ہر منزل اس کی رہنمائی میں طے کی جاتی۔ جو کچھ پڑھایا جاتا، اسی کو سمجھنے اور اسی کے مدعا کو پانے کے لیے پڑھایا جاتا۔ نحو و ادب، فلسفہ و کلام اور فقہ و حدیث کے لیے اسے معیار مانا جاتا اور ہر چیز کے ردوقبول کا فیصلہ اس کی آیات بینات کی روشنی میں ہوتا۔ ایمان و عقیدہ کی ہر بحث اس سے شروع ہوتی اور اسی پر ختم کر دی جاتی۔ طلبہ اس کے ہر لفظ پر مراقبہ کرتے اور اس کی ہر آیت پر ڈیرے ڈالتے۔ انھیں بتایا جاتا کہ بوحنیفہ و شافعی، بخاری و مسلم، اشعری وماتریدی اور جنید و شبلی، سب پر اس کی حکومت قائم ہے اور اس کے خلاف ان میں سے کسی کی کوئی چیز بھی قبول نہیں کی جا سکتی۔
دین میں قرآن مجید کی حیثیت یہی ہے اور یہی حیثیت اسے ان مدارس کے نظام میں حاصل ہونی چاہیے تھی، لیکن ہر صاحب علم اس حقیقت سے واقف ہے کہ پہلے مرحلے میں ان مدارس کے طلبہ محض حفظ و قرأت کے لیے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں اور آخری مرحلے میں جلالین و بیضاوی کے صفحات میں اس کی کچھ زیارت کر لیتے ہیں، اس سے زیادہ کوئی مقام ان مدارس میں اسے کبھی نہیں دیا گیا۔
قرآن مجید کے معاملے میں اس رویے کا نتیجہ یہ ہے کہ فکروعمل کے لیے کوئی چیز اب حکم نہیں رہی اور علم اختلافات کی بھول بھلیاں میں سرگرداں ہے۔ وہ منابع جہاں سے ہمیں روشنی مل سکتی تھی، خود تیرہ و تار ہیں اور ہمارے مدرس و ملا اور اس کتاب منیر میں بالعموم وہی تعلق قائم ہے جس کے بارے میں اقبال نے اپنا لف و نشتر ترتیب دیا تھا کہ: 

مکتب و ملا و اسرار کتاب
کور مادر زاد و نور آفتاب

ان مدارس کے نظام میں تیسری بڑی خرابی یہ ہے کہ ان کا نصاب نہایت فرسودہ اور ہماری علمی اور دینی ضرورتوں کے لیے بالکل بے حاصل ہے۔ یہ نصاب ، جیسا کہ عام خیال ہے، ملانظام الدین نے ترتیب دیا یا پھلواری شریف کے سجادہ نشین شاہ سلیمان کی رائے کے مطابق اس کا بیج ابتدا میں ملافتح اللہ شیرازی نے بکھیرا اور یہ خودرو پودوں کی طرح آپ سے آپ اس صورت میں نمودار ہوگیا، بہرحال ہمارے اس دور کی پیداوار ہے، جب علم کے اصل ماخذوں سے ہم بے تعلق ہو چکے تھے۔قرآن مجید کو جومقام اس نصاب میں دیا گیا ہے، وہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں۔ حدیث اگرچہ شامل نصاب ہے، لیکن اس کے لیے دورہ کا جوطریقہ اختیار کیا گیا ہے، اس سے تدبر حدیث کا کوئی ذوق پڑھنے اور پڑھانے والوں میں کبھی پیدا نہیں ہو سکتا۔ جاہلی ادب کی اہمیت اس نصاب میں کبھی مانی نہیں گئی۔ چنانچہ قرآنِ مجید کی زبان اور اس کے اسالیب کی ندرتوں سے اس کے طلبہ کم ہی کبھی واقف ہوئے ہیں۔ نحو و بلاغت کی جو کتابیں اس میں شامل ہیں، ان میں چونکہ منطق زیادہ اور نطق کی رعایت بہت کم ملحوظ رکھی گئی ہے، اس وجہ سے ان فنون کے اعلیٰ مباحث کو سمجھنے کا ذوق اگر طالب علم میں ہو بھی تو ان کتابوں کے پڑھنے کے بعد باقی نہیں رہتا۔ منطق وفلسفہ اور علم کلام کے لیے جو کچھ اس نصاب میں رکھا گیا ہے، اس کا ضرر اس کی منفعت سے زیادہ ہے۔ فقہ احناف ہی کی پڑھائی جاتی ہے، فقہ اسلامی کی تدریس کا کوئی تصور اس کے بنانے والوں کے ذہن میں کبھی نہیں رہا۔ اصول کا فن ہم مسلمانوں کے لیے مایۂ افتخار ہے، لیکن اس کے لیے بھی کوئی ایسی کتاب اس میں شامل نہیں کی گئی جو اجتہادی بصیرت پیدا کرنے والی ہو۔ دو صدیاں اس نصاب پر گزر گئیں، لیکن دنیوی علوم میں بھی یہ کسی ترقی کو قبول کرنے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوا۔ فلسفہ، نفسیات، علم الاقتصاد، علم الافلاک، طبیعیات، علم السیاسہ اور اس طرح کے دوسرے فنون میں جو تحقیقات اس دوران میں ہوئی ہیں، وہ ابھی تک اس میں بار نہیں پا سکیں۔ اسے حسن عقیدت ہی کا کرشمہ سمجھنا چاہیے کہ صدراو میبذی ۱؂ کو بھی اس میں حیات ابدی حاصل ہو گئی ہے۔ ہمارے بزرگ اسے اس قدر مقدس سمجھتے ہیں کہ اس کی ان کتابوں میں بھی کوئی تبدیلی اُن کے نزدیک جائز نہیں ہے۔ نئے علوم دنیا پر حکومت کر رہے ہیں، لیکن اس نصاب کے پڑھنے والے ابھی تک ان کے وجود پر بھی مطلع نہیں ہوئے۔ دنیا نے ان دو صدیوں میں بہت کچھ مانا اور ماننے کے بعد پھر انکار کر دیا ،لیکن یہ نہ اس ماننے سے واقف ہوئے اور نہ اس انکار کی کوئی خبر انھیں ابھی تک پہنچی ہے۔ 

[۲]

اس کے بعد اب عام دنیوی تعلیم کی درس گاہوں کو لیجیے۔ یہ جس نظام پر قائم ہیں، اس کی تعمیر میں ابتدا ہی سے خرابی کی بہت سی صورتیں مضمر رہی ہیں۔ اس کی بنیاد برصغیر کے برطانوی حکمرانوں نے رکھی تھی۔ انھیں یہاں سے گئے ہوئے اب پینتالیس سال ہونے کو ہیں، لیکن ہم اس کی اصلاح تو کیا کرتے، حقیقت یہ ہے کہ اس ملک میں ہر نئی صبح غلامی کی اس میراث کے ساتھ ہماری محبت میں اضافے کا پیغام لے کر طلوع ہوئی ہے۔ چنانچہ یہ نظام اُن ساری خرابیوں کے ساتھ جو اس کی پیدایش کے وقت سے اسے لاحق ہیں، ابھی تک ہم پر مسلط ہے۔
اس نظام کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ایک لادینی نظام ہے۔ اس کی بنا اس اصول پر رکھی گئی ہے کہ اس عالم کا عقدہ کسی مابعد الطبیعیاتی اساس کے بغیر بھی کھل سکتا اور انسان کا مسئلہ خود اس کے بنانے والے کی رہنمائی کے بغیر بھی حل ہو سکتا ہے۔ یہی اصول ہے جس پر مغرب میں فلسفہ، سائنس، عمرانیات اور دوسرے علوم و فنون کا ارتقا ان پچھلی دو صدیوں میں ہوا ہے اور جسے ابھی تک مغربی فکر میں اصل اصول کی حیثیت حاصل ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ مغرب میں سب اہل فکر خدا کے منکر نہیں ہو گئے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کی فکر کا بنیادی مقدمہ اس انکار ہی پر استوار ہوا ہے۔ چنانچہ ان علوم کی تدریس کے لیے جو نصاب ان درس گاہوں میں رائج ہے، اس میں یہ کارخانۂ عالم بغیر کسی خالق کے وجود میں آتا اور بغیر کسی مدبر ہی کے چلتا نظر آتا ہے۔ انسان اس میں آپ ہی اپنی تقدیر بناتا اور آپ ہی اسے بگاڑتا ہے۔ قانون و سیاست اور معیشت و معاشرت کے سارے اصول اس میں ’بغیر ھدی ولاکتاب منیر‘وجود میں آتے اور دنیا انھی کی روشنی میں اپنے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ انسان کی تاریخ اس میں انسان سے شروع ہوتی اور انسان ہی پر ختم ہو جاتی ہے۔ ذات خداوندی کے لیے اس میں نہ ابتدا میں کوئی جگہ ہے، نہ انتہا میں ۔ اس سلسلۂ روز و شب کے بارے میں یہ بات اس نصاب کی روح میں سرایت کیے ہوئے ہے کہ وہی درحقیقت ابتدا، وہی انتہا اور وہی باطن و ظاہر ہے۔ چنانچہ اس کی تعلیم پانے والے بغیر کسی ترغیب و دعوت کے آپ سے آپ اس نقطۂ نظر کے حامل بن جاتے ہیں کہ زندگی خدا سے بے تعلق ہو کر بھی بسر کی جا سکتی ہے اور دنیا کا نظام اس کی رہنمائی سے بے نیاز ہو کر بھی چلایا جا سکتا ہے۔ دینیات کی تعلیم بے شک، اس میں لازم کر دی گئی ہے، لیکن کسی بنیادی تبدیلی کے بغیر اس عنایت کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں نکلا کہ یہ نصاب سراپا تضاد اور اس کے پڑھنے والوں کے دماغ دینی ودلادینی کی رزم گاہ بن گئے ہیں۔ ببول کے درختوں پر انگور کی بیل چڑھانے اور حکایت بادہ وجام سنانے کے بعد زم زم کے فضائل بیان کرنے سے جو کچھ حاصل ہو سکتا ہے، وہی اس نصاب میں دینیات کا پیوند لگانے سے حاصل ہوا ہے۔ اس کی سب سے نمایاں مثال وہ لوگ ہیں جنھیں عام اصطلاح میں دانش ور کہا جاتا ہے۔ ان کی زبان اور ان کا قلم گواہی دیتا ہے کہ حق تو درحقیقت وہی ہے جسے ائمۂ مغرب حق قرار دیں، لیکن قرآن کی تعبیر بھی اگر اس ’حق‘ کے مطابق کر دی جائے تو اسے ایک مقدس مذہبی کتاب کی حیثیت سے قابل احترام قرار دیا جا سکتا ہے۔ ان کا وجود ایک مجموعۂ تضادات ہے۔ خدا کا وہ انکار نہیں کرتے، لیکن اس کی عبادت کے لیے روزہ و نماز کی پابندی پر اصرار بھی ان کی سمجھ میں نہیں آتا۔ آخرت کے وہ منکر نہیں ہیں، لیکن اس کے لیے دنیا کی کچھ لذتوں کو چھوڑنے کے لیے بھی ان کا دل آمادہ نہیں ہوتا۔ رسالت کو وہ مانتے ہیں، لیکن رسول کے احکام بھی انھیں اس دور میں قابل عمل نظر نہیں آتے۔ قرآن کی تلاوت سے وہ اپنی مجلسوں کی ابتدا کرتے ہیں، لیکن پادشاہ ارض و سما کے فرمان واجب الاذعان کی حیثیت سے اپنے دستو ر وقانون پر اسے بالاتر قرار دینا بھی انھیں گراں گزرتا ہے۔ ان کی ہستی ایک آئینہ ہے جس میں ہم اس پیوند کاری کے نتائج بچشم سر دیکھ سکتے اور ان سے عبرت حاصل کر سکتے ہیں۔ اس نظام تعلیم نے ان کا گلا گھونٹ دیا اور روح دین ان کے بدن سے نکال دی ہے۔ یہ بظاہر زندہ نظر آتے ہیں، لیکن حقیقت یہی ہے کہ: 

مردہ ہیں، مانگ کے لائے ہیں فرنگی سے نفس

اس نظام کی اس لادینی فطرت نے صرف یہ ذہنی ارتداد ہی ہماری قوم کے کارفرما عناصر میں پیدا نہیں کیا، اس کے ساتھ انھیں اس سیرت و کردار سے بھی محروم کر دیا ہے جس کے بغیر کوئی قوم دنیا میں زندہ نہیں رہ سکتی۔ اس میں یہ بات کبھی پیش نظر نہیں رہی کہ تعلیمی ادارے صرف کتابیں پڑھا دینے کے لیے قائم نہیں کیے جاتے، ان کا ایک بڑا مقصد کسی قوم کے بنیادی نظریے کے مطابق اس کی آیندہ نسلوں کی تربیت اخلاق اور تہذیب نفس بھی ہے۔ یہ مقصد، اسی صورت میں حاصل ہوسکتا تھا کہ دوسری تدبیروں کے ساتھ بالخصوص اساتذہ کے انتخاب میں یہ بات ہر حال میں ملحوظ رکھی جاتی کہ وہ صرف اپنے مضمون ہی کے ماہر نہ ہوں، اس کے ساتھ دین کے معاملے میں بالکل یک سو، اس کے احکام کے پیرو اور اس نے جن اخلاق عالیہ کی تعلیم دی ہے، اس کا بہترین نمونہ بھی ہوں۔ کسی قوم کی تہذیب اور اس کی اخلاقی تربیت کا کوئی طریقہ اس سے زیادہ موثر نہیں ہو سکتا۔ ماں کی آغوش کے بعد اس معاملے میں اہم ترین عامل استاد کی شخصیت ہی ہوتی ہے۔ وہ اگر کسی نظریے کو پوری سچائی کے ساتھ مانتا اور پوری دیانت داری کے ساتھ اس کے تقاضوں کے مطابق زندگی بسر کرنے کی کوشش کرتا ہو تو اس کے طلبہ یقیناًاس سے متاثر ہوتے ہیں۔ ہمارے اس نظام تعلیم میں اس چیز کو کبھی کوئی اہمیت نہیں دی گئی۔ چنانچہ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ عزیمت و استقامت، حوصلہ و مروت، نظم و ضبط او رصبر و ثبات جیسی اعلیٰ صفات اس قوم کے نوجوانوں میں اب ہم ڈھونڈے نہیں پاتے۔ امانت، دیانت، فرض شناسی، وفاشعاری اور ایثار و قربانی قصۂ ماضی ہیں۔ نظر کی عفت، طبیعت کا حسن، خیال کی بلندی، ضمیر کی پاکیزگی اور ذوق کی لطافت اب کم ہی کہیں نظر آتی ہے۔ بددیانت، بدکار، رشوت خور، خویش پرور اور ادنیٰ خواہشوں کے غلام نوجوان ہی اب ہماری پہچان ہیں۔ ہماری یہ نئی نسل اپنی قوم کے ماضی سے بے گانہ، حال سے بے پروا اور مستقبل سے بے تعلق ہے۔ اخلاقی اقدار آہستہ آہستہ دم توڑ رہی ہیں اور مادی مفادات ہی حیات و کائنات کی اصل حقیقت قرار پا رہے ہیں۔ یہی فیض ہے جو ہمارے نوجوانوں نے اس نظام تعلیم سے حاصل کیا ہے۔ اب ہم کھلی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں کہ ہمارا یہ نظام تعلیم حقیقت میں: 

ایک سازش ہے فقط دین و مروت کے خلاف

[۱۹۸۷]

__________

۱؂ درس نظامی میں فلسفہ کی دو کتابیں ۔ یہ دراصل اس مضمون میں اثیر الدین ابہری کی کتاب ’’ہدایۃ الحکمہ‘‘ کی دو شرحیں ہیں جو اپنے لکھنے والوں ہی کے نام سے مشہور ہوئیں ۔ ان میں اول الذکر ملا صدر الدین شیرازی اور مؤخرالذکر معین الدین میبذی کی تصنیف ہے ۔

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت فروری 2005
مصنف : جاوید احمد غامدی
Uploaded on : Oct 31, 2017
85 View