آخری نتیجہ - طالب محسن

آخری نتیجہ

 

(مشکوٰۃ المصابیح حدیث:۸۳)

عن سہل بن سعد رضی اﷲ عنہ قال : قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم : إن العبد لیعمل عمل أھل النار و إنہ من أہل الجنۃ ، و یعمل عمل أھل الجنۃ و إنہ من أھل النار، و إنما الأعمال بالخواتیم ۔
’’سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک بندہ اہلِ جہنم والے اعمال کر رہا ہوتا ہے درآں حالیکہ وہ اہلِ جنت میں سے ہوتا ہے اور ایک دوسرا اہلِ جنت والے اعمال کررہا ہوتا ہے درآں حالیکہ وہ اہلِ جہنم میں سے ہوتا ہے ۔ اعمال کا مدار تو بس خاتمے پر ہے۔‘‘

لغوی مباحث

أہل النار ، اہل الجنۃ : یعنی وہ لوگ جو جنت یا جہنم میں ڈالے جائیں گے ۔
الخواتیم : ’خاتمۃ‘ کی جمع، مراد آخری حصہ ، انجام ۔ یہاں یہ زندگی کے آخری دور میں اعمال کی حالت کی تعبیر کے لیے آیا ہے ۔

متون

یہ روایت در حقیقت ایک طویل روایت کے آخری حصے سے ماخوذ ہے۔ مکمل روایت اس طرح سے ہے:

عن سہل بن سعد رضی اﷲ عنہ أن رجلًا من أعظم المسلمین غناء عن المسلمین فی غزوۃ غزاہا مع النبی صلی اﷲ علیہ وسلم ۔ فقال : من أحب أن ینظر رجلاً من أہل النار فلینظر إلی ھذا ۔ فأتبعہ رجلاً من القوم ۔ وھو علی تلک الحال من أشد الناس علی المشرکین حتی جرح ۔ فاستعجل الموت ۔ فجعل ذبابۃ سیفہ بین ثدییہ حتی خرج من بین کتفیہ ۔ فأقبل الرجل إلی النبی صلی اﷲ علیہ وسلم مسرعا ۔ فقال : أشہد أنک رسول اﷲ ۔ فقال : ما ذاک ؟ قال : قلت لفلان : من أحب أن ینظر إلی رجل من أھل النار ، فلینظر إلیہ ، و کان من أعظمنا غناء عن المسلمین ۔ فعرفت أنہ لا یموت علی ذلک ، فلما جرح استعجل الموت فقتل نفسہ ۔ فقال النبی صلی اﷲ علیہ وسلم عند ذلک : إن العبد لیعمل عمل أہل النار و إنہ من أھل الجنۃ و یعمل عمل أہل الجنۃ و إنہ من أھل النار ، و إنما الأعمال بالخواتیم ۔ (بخاری، کتاب القدر)
’’ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی ایک غزوہ میں، جس میں وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوا تھا، مسلمانوں کی طرف سے لڑنے میں سب سے بڑھا ہوا تھا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جسے کسی جہنمی کو دیکھنے کی تمنا ہو ،وہ اس کی طرف دیکھے۔ چنانچہ لوگوں میں سے ایک آدمی اس کے پیچھے لگ گیا۔ اور وہ حسبِ سابق مشرکین کے ساتھ بے دریغ لڑ رہا تھا، یہاں تک کہ وہ زخمی ہو گیا ۔ چنانچہ (زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ) اس نے جلد موت کو گلے لگانے کا ارادہ کر لیا ۔ پھر اس نے اپنی تلوار کی نوک سینے کے بیچ میں رکھی، (اپنا وزن اس پر ڈالا)، یہاں تک کہ تلوار(دوسری طرف) کندھوں سے باہر آگئی۔ یہ دیکھ کر وہ آدمی تیزی سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لپکا۔ اس نے آتے ہی کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ۔ آپ نے پوچھا: کیا معاملہ ہے؟ اس نے کہا: آپ نے فلاں شخص کے بارے میں ارشاد فرمایا تھا کہ جسے کسی جہنمی کو دیکھنے کی تمنا ہو، وہ اس شخص کو دیکھ لے، حالانکہ وہ مسلمانوں کی طرف سے جنگ کرنے میں سب سے بڑھا ہوا تھا۔ آپ کی بات سے میں سمجھ گیا کہ اس کی موت اس حال پر نہیں ہو گی۔ چنانچہ جب وہ زخمی ہوا تو اس نے موت کا انتظار نہیں کیا اور خود کو موت کے گھاٹ اتاردیا ۔ ساری بات سن کر آپ نے فرمایا: ایک بندہ اہلِ جہنم کے عمل کر رہا ہوتا ہے ، حالانکہ وہ جنتی ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک بندہ اہلِ جنت کے عمل کر رہا ہوتا ہے حالانکہ وہ جہنمی ہوتا ہے ۔ معاملہ یہ ہے کہ اعمال( کے نتائج کا ) مدار خاتمے پر ہے۔ ‘‘

مذکورہ روایت سے یہ تاثر ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عین میدانِ جنگ میں اس شخص کے بارے میں بتا دیا تھا کہ یہ بہادر اور اسلام کا محافظ نظر آنے والا جنگ جو جنتی نہیں ہے ۔ لیکن دوسرے متون سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات واپس پڑاؤ میں آ کر کہی تھی ۔ ایک روایت میں یہ آغازاس طرح سے ہے :

عن سہل بن سعد الساعدی رضی اﷲ عنہ أن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم التقی ھو و المشرکون۔ فاقتتلوا۔ فلما مال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم إلی عسکرہ و مال الآخرون إلی عسکرہم ۔۔۔۔ وفی أصحاب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم رجل لا یدع لھم شاذۃ و لا فاذۃ إلا اتبعھا یضربھا بسیفہ ۔۔۔۔ فقیل ما أجزأ منا الیوم کما أجزأ فلان ۔ فقال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم : أما إنہ من أھل النار ۔ فقال رجل من القوم : أنا صاحبہ ۔ قال : فخرج معہ، کلما وقف وقف معہ ، و إذا اسرع اسرع معہ ۔ قال فجرح الرجل جرحاً شدیداً ۔۔۔۔ (بخاری، کتاب القدر)
’’سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین کی ایک میدانِ جنگ میں مڈ بھیڑ ہوئی ۔چنانچہ ان کے مابین قتال ہوا ۔ پھر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پڑاؤ کی طرف اور دوسرے اپنے پڑاؤ کی طرف لوٹے ۔۔۔۔ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں ایک ایسا آدمی بھی تھا جس نے جو بھی ہاتھ لگ گیا اور جو بھی سامنے آیا، اسے اپنی تلوار سے گھائل کیے بغیر نہیں چھوڑا ۔۔۔۔ تو (اس آدمی کے بارے میں لوگوں میں) یہ بات ہونے لگی کہ آج ہم میں سے کوئی آدمی اتنے اجر کا مستحق قرار نہیں دیا گیا جتنا فلاںآدمی ۔ یہ سنا تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ آدمی تو جہنمی ہے ۔ لوگوں میں سے ایک آدمی بول اٹھا : میں اس کا ساتھی ہوں ۔ اس نے بتایا : میں اس کے ساتھ ہی نکلا تھاجب جب وہ رکا میں بھی رکا اور جہاں جہاں وہ تیزی سے آگے بڑھا میں بھی بڑھتا رہا ۔ قدرے توقف کے بعد اس نے بتایا : پھر وہ شدید زخمی ہو گیا ۔۔۔۔ ‘‘

اوپر درج متون سے واضح ہے کہ اس روایت کا پس منظر ایک جنگ جو بہادر کی خود کشی ہے ۔اس کے انجام کی خبر دینے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اصولی بات ارشادفرمائی ۔ آپ کی یہ بات صاحبِ مشکوٰۃ نے باب کے عنوان کی رعایت سے الگ روایت کی حیثیت سے درج کی ہے ۔ اگرچہ یہ جملے کتبِ حدیث میں بھی الگ روایت کی حیثیت سے ملتے ہیں، لیکن بخاری اور مسلم میں انھیں الگ نہیں کیا گیا، جس کا حوالہ صاحبِ مشکوٰۃ نے دیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات مختلف روایتوں میں تھوڑے سے لفظی فرق کے ساتھ نقل ہوئی ہے۔ مثلاً ایک روایت میںیہ جملہ: ’ان الرجل لیعمل عمل اھل الجنۃ فیما یبدو للناس و ھو من اہل النار‘ کے الفاظ میں ہے ۔ اور ایک دوسری روایت میں اس جملے کے الفاظ یہ ہیں: ’ان العبد لیعمل فیما یری الناس عمل اہل الجنۃ و ھو من اہل النار۔‘ ابن الجعد کی مسند میں یہ روایت اس تصریح کے ساتھ بیان ہوئی ہے کہ یہ واقعہ جنگِ احد میں پیش آیا۔ جبکہ بخاری نے اسے کتاب المغازی کے باب غزوۂ خیبر میں درج کرکے یہ اشارہ دیا ہے کہ یہ واقعہ جنگِ خیبر سے متعلق ہے۔ اگر روایت میں ’مشرکون‘ کے لفظ کی رعایت کی جائے تو یہ واقعہ مشرکین، یعنی اہلِ مکہ کے ساتھ کسی مڈبھیڑ میں پیش آنا چاہیے ۔ اور اگر واقعہ کی نوعیت پر غور کریں تو باور نہیں آتا کہ ابتدائی دور کے مسلمانوں میں کوئی شخص اتنا تھڑدلا تھا ۔ جبکہ ابن الجعد نے یہ تصریح بھی کی ہے کہ یہ شخص اس وقت بھی جما رہا جب اکثریت کے پاؤں اکھڑ گئے تھے۔ بہرحال تمام روایات میں یہ بالتصریح بیان ہوا ہے کہ یہ غزوہ مشرکین کے ساتھ پیش آیا تھا، لہٰذا اسے جنگِ خیبر سے متعلق قرار دینا کسی طرح موزوں نہیں لگتا ۔
اوپر درج دو محتلف پس منظر بیک وقت درست ماننا مشکل ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں متون ایک ہی صحابی کی روایت ہیں ۔اور ایک آدمی سے دو متضاد باتوں کا صدور محال ہے ۔ لیکن اس تضاد کی ایک تاویل کی جاسکتی ہے اور وہ یہ کہ حضرت سہل بن سعد نے ایک موقع کی گفتگو الگ اور دوسرے موقع کی گفتگو الگ بیان کی ۔ لیکن بعد میں راویوں نے دونوں کے اجزا کو یکجا کرکے خلطِ مبحث پیدا کیا ہے ۔
یہاں یہ بات واضح رہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انجام کے بارے میں یہ بات بعض دوسرے مواقع پر بھی بیان کی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ بیانات حضرت عائشہ ، حضرت معاویہ اور حضرت انس رضوان اللہ علیہم السلام کی مرویات کی حیثیت سے کتبِ حدیث کا حصہ ہیں ۔ہم یہاں ان میں سے ایک قدرے مفصل روایت بیان کرتے ہیں ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :

أن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم قال : لا علیکم أن لا تعجبوا بأحد حتی تنظروا بماذا یختم لہ ۔ فإن العامل یعمل زمانا من عمرہ أو برھۃ من دھرہ بعمل صالح، لو مات علیہ لدخل الجنۃ، ثم یتحول لیعمل عملا سیئا ۔ و إن العبد لیعمل البرھۃ من دہرہ بعمل سیء، لو مات علیہ دخل النار، ثم یتحول فیعمل عملا صالحا۔ و إذا اراد اﷲ تبارک و تعالیٰ بعبد خیرا استعملہ قبلہ موتہ ۔ قالوا : یا رسول اﷲ ، کیف یستعملہ؟ قال : یوفقہ لعمل صالح ثم یقبضہ علیہ۔ (مجمع الزوائد، ۷/ ۲۱۱)
’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ۔ جب تک تم کسی شخص کی زندگی کا آخری دور نہ دیکھ لو تمھیں اس کے (انجام) کے بار ے میں بہت اچنبھا نہیں ہونا چاہیے ۔ کیونکہ کوئی عمل کرنے والا اپنی زندگی کا ایک عرصہ یا زمانے کا ایک دور میں نیکی کے اعمال کرتا ہے۔ اگر اس کی موت اسی حال میں ہو تو وہ جنت میں چلا جائے۔ پھر اسے پھیر دیا جاتا ہے تاکہ وہ برے اعمال کرے۔ اسی طرح ایک بندہ ایک دور میں برے اعمال کرتا ہے ۔ اگر اس کی موت اسی حال میں ہو تو جہنم میں جا پہنچے ۔ پھر اسے پھیر دیا جاتا ہے تاکہ وہ نیکی کے اعمال کرے ۔ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کے بارے میں خیر کا ارادہ کرتا ہے تو اسے اس کی موت سے پہلے (اپنے) کام پر لگا دیتا ہے۔ لوگوں نے سوال کیا : اللہ کے رسول کیسے کام پہ لگا دیتا ہے؟ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اسے عملِ صالح کی توفیق عطا کرتا ہے۔ پھر اسے اسی حالت میں وفات دیتا ہے۔‘‘

معنی

اس روایت کے بارے میں پہلی بات تو یہ واضح طور پر سمجھ لینی چاہیے کہ ہمارے نزدیک یہ روایت بابِ تقدیر سے متعلق ہی نہیں ہے ۔یہ روایت ترہیب و ترغیب کے باب سے متعلق ہے ۔ ترہیب و ترغیب کے الفاظ کتبِ حدیث میں ان روایات کے لیے آتے ہیں جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کوبرائیوں کے نتیجے میں برے انجام کے بارے میں خبر دار کیا ہے اور نیکیوں کے نتیجے میں انھیں اچھے انجام کی خبر دی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب صرف یہ ہے کہ کسی نیکیاں کرنے والے کو اس اعتماد میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے کہ اب وہ حساب و کتاب کے خطرے سے محفوظ ہو چکا ہے اور شیطان اور اس کی ذریت اب اسے کیا نقصان پہنچائے گی۔ اسی طرح برے آدمی کو اپنے انجام کے بارے میں مایوس نہیں ہونا چاہیے کہ اب اس کے لیے جنت کے دروازے کیا کھلیں گے، وہ سرتاسر گناہوں میں غرق ہو چکاہے، اب اس کی واپسی کی کوئی صورت نہیں ہے۔ نیک آدمی کو ہمیشہ شیطان کے حملوں اور برائی کے راستوں کے بارے میں متنبہ رہنا چاہیے۔ زندگی کے کسی مرحلے میں اس کا پاؤں ایسا لڑھک سکتا ہے کہ وہ گناہوں اور ضلالتوں کی دلدل میں اترتا چلا جائے اور بالآخر جہنم میں جا پہنچے ۔ برے آدمی کو جب بھی واپسی کی توفیق ہو، اسے گریز نہیں کرنا چاہیے۔ جب تک زندگی ہے وہ اس کا پورا موقع رکھتا ہے کہ اپنے سابقہ عمل کی تلافی کر لے اور اللہ کی رضا حاصل کرکے جنت میں جا پہنچے۔
ہم نے اس روایت کا جو مطلب بیان کیا ہے اس کی تائید اس کا آخری جملہ کرتا ہے۔ ’انما الاعمال بالخواتیم‘ کا جملہ یہ بات بیان کرتا ہے کہ فیصلہ ساری زندگی کے اعمال دیکھ کر کیا جائے گا۔ ابتدا کی نیکیاں غارت ہو جائیں گی ،اگر آخری زمانہ کی برائیاں ان نیکیوں کو ختم کردیں گی ۔اسی طرح برائیوں کے دفتر دھل سکتے ہیں ،اگر آدمی نیکی کی راہ اختیار کرے اور تلافیِ مافات کی سعی کو اپنا مشن بنا لے ۔اگر یہ روایت تقدیر کے معنی پر دلالت کرتی تو غالباً اس جملے میں ’بالخواتیم‘ کی جگہ ’بالمقادیر‘ کا لفظ ہوتا۔
اس روایت سے ایک اور نکتہ بھی سمجھ میں آتا ہے ۔ بسا اوقات معاملہ ظاہر میں اور ہوتا ہے اور باطن میں اور ۔ وقت کے ساتھ ساتھ اصل حقیقت نمایاں ہونی شروع ہو جاتی ہے۔ مثلاً ایک آدمی برائیوں میں مبتلا تو ہے، لیکن وہ دل سے اس صورت پر مطمئن نہیں ہے۔ لہٰذا کسی مرحلے پر وہ اس روش کو چھوڑ کر صحیح راستے پر گام زن ہو جائے گا ۔اسی طرح ایک آدمی نے نیکی کی روش احتیار کی ہوئی ہے، لیکن اس کا محرک خدا پرستی کے بجائے کوئی اور شے ہے ۔ یہ چیز کسی وقت اس کی اصل حقیقت کو نمایاں کر دے گی۔
یہاں یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ نیکیاں کرنے والے اگر کسی برائی کے ارتکاب کے بعد اس کی معافی تلافی کی کوشش نہیں کرتے تو یہ چیز ان کے ایمان کی قوت کو کم کر دیتی ہے ۔ اور گناہوں کا اضافہ ہوتا رہے تو ایمان کی چنگاری بجھنے کا امکان پیدا ہو جاتا ہے ۔ اسی طرح برائیاں کرنے والے وعظ و نصیحت یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے متنبہ کرنے والے حالات پیش آنے کی وجہ سے حق کی طرف متوجہ ہوتے ہیں یا کم از کم ابتدائی مرحلے میں پشیمانی میں مبتلا ہو جاتے ہیں تو یہ چیز ان کے ایمان کی حیاتِ نو کا باعث بن جاتی ہے ۔
ان حقائق پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی شخص کی نیکیاں اس کے جنتی ہونے کی دلیل نہیں ہیں، جب تک وہ راہِ حق ہی پر چلتے ہوئے، دنیا میں شیطان کے پھیلائے ہوئے جال سے بچ کر اپنے پروردگار کی عدالت میں نہیں پہنچ جاتا۔اسی طرح کسی شخص کی برائیاں اس کے جہنمی ہونے کاباعث نہیں، جب تک وہ طاغوت ہی کی راہ پر چلتے ہوئے اور نیکی کی ہر آواز کو ٹھکرا کر موت کی وادی میں نہیں اتر جاتا ۔یہی حقیقت اس روایت میں واضح کی گئی ہے تاکہ نیک اہلِ ایمان برائیوں سے بچنے کے معاملے میں بے پروانہ ہو ں اور برائیوں کا ارتکاب کرنے والے مسلمان مایوس ہو کر واپسی کے امکان کو رد نہ کردیں ۔
اب رہا یہ سوال کہ محدثین اس روایت کو بابِ تقدیر میں کیوں درج کرتے ہیں؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اس کی وجہ اس روایت کے الفاظ کی ظاہری دلالت ہے ۔یعنی یہ روایت بظاہر یہ بیان کرتی ہوئی لگتی ہے کہ کسی آدمی کا نیکی یا برائی پر قائم رہناخدا کی مرضی پر منحصر ہے۔ لیکن اس روایت سے یہ مفہوم اخذ کرنا صریحاً قرآنِ مجید کے خلاف ہے ۔ سورۂ انعام میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

سَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰہُ مَآ اَشْرَکْنَا وَ لَآ آ بَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ شَیْءٍ، کَذٰلِکَ کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ حَتّٰی ذَاقُوْا بَاْسَنَا، قُلْ ہَلْ عِنْدَکُمْ مِنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوْہُ لَنَا ، اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ، وَ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَخْرُصُوْنَ۔ (۶: ۱۴۸)
’’ جو لوگ شرک کرتے ہیں و ہ کہیں گے کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے، نہ ہمارے باپ دادا شرک کرتے اور نہ ہم کسی چیز کو حرام ٹھیراتے ۔ اسی طرح ان سے پہلے کے لوگوں نے تکذیب کی تھی، یہاں تک کہ ہمارے عذاب کا مزا چکھ لیا ۔ ان سے کہو: کیا تمھارے پاس کوئی سند ہے ، اگر ہے تو اسے ہمارے سامنے لے آؤ ۔ تم محض خیال کے پیچھے چل رہے ہو اور محض اٹکل کے تیر چلا رہے ہو۔‘‘

اس آیۂ کریمہ سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں حق وباطل کے قبول کرنے اور نیکی اور بدی کی راہ اختیار کرنے میں کسی آسمانی فیصلے کو نافذ نہیں کیا ہے ۔ چنانچہ یہ کسی طرح بھی نہیں مانا جا سکتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے برعکس کوئی بات فرمائیں گے ۔
لیکن اس معاملے میں ایک تقدیر بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے طے کر رکھاہے کہ وہ کھوٹ کو الگ کرے گا ، وہ باطل کو فنا کر دے گا، وہ سچائی اور حقیقی نیکی کو پروان چڑھائے گا ۔ وہ ہر برے کو خواہ وہ کتنا ہی مذہبی اور صالح بنا ہوا ہو، اس کے انجام تک پہنچائے گا اور وہ رائی کے برابرا یمان کو بھی اس کی جزا سے محروم نہیں رکھے گا ۔ کسی کادنیوی مقام و مرتبہ ، کسی کا خانوادہ، اور کسی کی نسبت اسے اس کے حقیقی مقام تک پہنچنے میں حارج نہیں ہو سکے گی ۔
یہی تقدیر ہے جسے واضح کرنے کے لیے ارشاد ہوتا ہے :

اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یُزَکُّوْنَ اَنْفُسَہُمْ بَلِ اللّٰہُ یُزَکِّیْ مَنْ یَّشَآءُ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلاً۔ (النساء ۴: ۴۹)
’’ کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنے آپ کو پاکیزہ قرار دیتے ہیں، نہیں ، بلکہ خدا ہی جس کو چاہتا ہے پاکیزہ کرتا ہے او ر ان پر ریشے کے برابر بھی ظلم نہیں ہو گا۔‘‘

خدا کی مرضی کامل عدل ہے ، یہ مرضی نافذ ہے ، حقیقی عدل خدا کا جبر ہے ۔ یہ دنیا خدا کی کامل گرفت میں ہے۔ کوئی امر خدا کی اس مرضی کے خلاف واقع نہیں ہو سکتا ۔ یہ معاملے کی اصل حقیقت ہے، اسی وجہ سے قرآنِ مجید اور احادیث میں یہ اسلوب اختیار کیا جاتا ہے ۔

کتابیات

بخاری ،کتاب الجہاد والسیر، حدیث ۲۶۸۳، کتاب المغازی ، حدیث ۳۸۸۱ ، ۳۸۸۵ ، کتاب الرقاق ، حدیث ۶۰۱۲ ، کتاب القدر ، ۶۱۱۷۔ مسلم ،کتاب الایمان، حدیث ۱۶۳، کتاب القدر، حدیث۴۷۹۲،مسند احمد ۲۱۷۶۸ ۔

____________
بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت ستمبر 2001
مصنف : طالب محسن
Uploaded on : Jan 16, 2018
318 View