سیاست اور نظریات - خورشید احمد ندیم

سیاست اور نظریات
 
’’یہ لینن اور ماؤ کی امت کا نہیں، محمد عربیﷺ کی امت کا ملک ہے‘‘۔
سرد جنگ کے دنوں میں، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کا یہ جملہ بہت مشہور ہوا اور زیرِ بحث بھی رہا۔ اس جملے سے اس نظریاتی کشمکش کا اندازہ ہوتا ہے جو 1960ء اور 1970ء کی دھائیوں میں اپنے عروج پر تھی۔ عالمی سطح پر تو یہ امریکہ اور سوویت یونین کی جنگ تھی‘ جس میں ایک فریق سرمایہ داری اور دوسرا اشتراکیت کی نمائندگی کر رہا تھا‘ لیکن مولانا مودودی جیسے لوگ ایک تیسرا نقطۂ نظر پیش کر رہے تھے جو مذہبی تھا اور ان کی تعبیرِ اسلام سے پھوٹا تھا۔ مولانا کی تحریروں میں اشتراکیت اور سرمایہ داری‘ دونوں پر تنقید ملتی ہے۔
یہ تیسرا نقطۂ نظر عالمی سطح پر کوئی کردار ادا نہیں کر سکا۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ اس کے پاس قوتِ نافذہ نہیں تھی۔ یا یوں کہیے کہ کوئی خطۂ زمین موجود نہیں تھا‘ جو اس نظریے کے لیے ایک تجربہ گاہ ثابت ہوتا‘ جس کی بنیاد پر اس کی عملی افادیت یا عدم افادیت کا فیصلہ کیا جاتا۔ اشتراکیت کی قسمت کا فیصلہ سوویت یونین کی تجربہ گاہ نے کر دیا۔ سرمایہ دارانہ نظام بقا کی اس جنگ میں سرخرو ہوا۔ آج بھی عالمِ انسانیت اسی کے رحم و کرم پر ہے۔ ایران اور افغانستان وغیرہ میں تیسرے نقطۂ نظر کو موقع ملا‘ لیکن وہ اپنی انفرادیت کا کوئی تاثر قائم نہیں کر سکا۔
یہ ساری بحثیں آج از کارِ رفتہ ہیں۔ دنیا میں اس وقت ایک ہی نظام نافذ ہے‘ جو جوہری طور پر سرمایہ دارانہ ہے۔ اسے امرِ واقعہ کے طور پر قبول کر لیا گیا ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں سے جو آگے بڑھنا چاہتا ہے، اس کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ وہ اسے اپنا لے۔ ملائشیا، ترکی، پاکستان، چین اور اب سعودی عرب سمیت ہر ملک اسے نظام کو اپنا چکا۔ عملاً معاملے کی نوعیت یہ ہے کہ ماؤ اور لینن کی امت کے ساتھ تعامل پر، اب یہاں کسی کو اعتراض نہیں رہا۔ سی پیک اس کی شہادت ہے۔ ماؤ کی امت کا اپنا حال یہ ہے کہ وہ آدم سمتھ کے دین پر ایمان لا چکی ہے۔ اگر میں یہ کہوں کہ سرمایہ داری پر اس وقت عالمی سطح پر اجماع ہو چکا‘ تو شاید اس سے اختلاف نہ کیا جا سکے۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں اور کیسے ہوا؟
سرمایہ دارانہ نظام نے اپنی اساسات پر قائم رہتے ہوئے، لچک اور اغیار کے ساتھ تعامل (accommodation) کا غیر معمولی مظاہرہ کیا۔ اُسے اشتراکیت کا چیلنج درپیش ہوا تو اس نے فلاحی ریاست (welfare state) کے تصور کو قبول کر لیا۔ سرمایے نے اپنی بڑھوتی میں محنت کے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے مزدور اور کارکن کی بقا اور امید کو اپنے نظامِ عمل کا حصہ بنا دیا۔ کم از کم اجرت کا تعین کیا۔ فلاحی ادارے قائم کیے۔ ٹیکسوں کے نفاذ میں عوامی نمائندگی کو یقینی بنایا۔ اس کے ساتھ ایک نظامِ اخلاق کی بھی پرورش کی‘ جس نے ایک ایسے سیاسی نظام کو جنم دیا جو خود احتسابی پر مبنی تھا۔ اس نے معاشرے کو گڈ گورننس کا تحفہ دیا۔ جمہوریت نے اس نظام کو مستحکم بنیاد فراہم کی کیونکہ عوام کو یقین ہو گیا کہ وہ جن حکمرانوں سے ناخوش ہوں گے، انہیںہٹانے پر بھی قادر ہوں گے۔ 
اسلام بطور نظام، سرمایہ داری کے لیے ایک چیلنج نہیں بنا لیکن بطور ایک فلسفۂ حیات اس کی اہمیت سے انکار کسی کے لیے ممکن نہیں۔ جس تصورِ زندگی کے ساتھ ایک ارب سے زیادہ افراد وابستگی رکھتے ہوں، اس کو نظر انداز کرنا آسان نہیں ہوتا۔ ایک مسلمان ذہن استحصال کی کسی صورت کو قبول نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ سود جیسے تصور سے وہ فطری عدم مناسبت رکھتا ہے‘ جس کی اساس استحصال پر ہے۔ اس وجہ سے سرمایہ دارانہ نظام نے کھلی منڈی کی جس معیشت کو جنم دیا، اس میں اُن تجربات کے لیے بھی امکانات پیدا ہو گئے‘ جنہیں مارکیٹ قبول کرتی ہے۔ ان میں بلا سود بینکاری کا تجربہ بھی شامل تھا۔ 
سرمایہ دارانہ نظام نے جب محسوس کیا کہ اس تصور کے تحت معاشی عمل کو فروغ دیا جا سکتا ہے تو اس نے بلا سود سرمایہ کاری اور بینکنگ کے لیے بھی گنجائش پیدا کر دی۔ دنیا بھر سے علما کے ایک مؤثر گروہ کو اپنے نظام میں سمو لیا۔ آج سٹیٹ بینک کے ساتھ ساتھ، پاکستان کے تمام بینکوں کے ایڈوائزری بورڈز میں علما موجود ہیں اور اس نظام کے حق میں فتاویٰ بھی۔ یہی نہیں، بلا سودی بینکاری کے جو تجربات مغرب بالخصوص برطانیہ میں ہوئے، وہ بھی کامیاب ثابت ہوئے۔ آج یہ کہا جا سکتا ہے کہ اشتراکیت کے بعد، سرمایہ دارانہ نظام نے اسلام کے ان معاشی تصورات کے لیے بھی جگہ پیدا کر دی ہے جو کبھی سرمایہ داری کو چیلنج کر سکتے تھے۔
گزشتہ چالیس سال میں ہونے والی اس پیش رفت نے نظریاتی سیاست کا دروازہ بند کر دیا ہے۔ آج اہلِ اسلام، چین یا روس کی امریکہ کے ساتھ کوئی نظریاتی لڑائی نہیں ہے۔ اگر ہماری امریکہ سے کوئی نظریاتی لڑائی ہوتی تو لازم تھا کہ یہی لڑائی چین، روس اور جرمنی وغیرہ کے ساتھ بھی ہوتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ سب ممالک ایک ہی نظریاتی نظامِ معیشت پر عمل پیرا ہیں۔ چین کے سوا سب کا سیاسی نظام بھی ایک ہی ہے۔ امریکہ کے ساتھ تصادم کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک سامراج ہے۔ ہر سامراجی قوت دنیا پر اپنا تسلط قائم کرنا چاہتی ہے۔ اس لیے ہر وہ قوت اس کے مزاحم ہوتی ہے، وہ جس کی آزادی کو سلب کرنا چاہتا ہے۔ بیسویں صدی کے شروع میں انگریز سامراج تھا۔ سوویت یونین بھی ایک سامراجی قوت تھی۔ آج امریکہ ہے۔ یہ طاقت کا کھیل ہے، اس میں نظریات کا کوئی دخل نہیں۔
سیاست میں، میرا کہنا یہ ہے کہ نظریات کا دور ختم ہو چکا۔ آج جب کوئی نظریاتی سیاست کی بات کرتا ہے تو اس کے پیش نظر اصولی سیاست ہوتی ہے۔ جیسے نواز شریف یا عمران خان اپنے آپ کو نظریاتی کہتے ہیں تو اس سے مراد کسی نظامِ فکر سے وابستگی نہیں ہوتا۔ وہ کہنا یہ چاہتے ہیں کہ ہم اصولوں کی سیاست کرتے ہیں۔
اس پس منظر میں جب کچھ لوگ اسلامی نظام وغیرہ کی سیاست کرتے ہیں یا بعض لوگ اشتراکیت کو زندہ رکھنے کی بات کرتے ہیں تو یہ انسان کے تہذیبی قافلے سے بچھڑے ہوئے لوگ ہوتے ہیں۔ انہیں اندازہ ہی نہیں کہ انسان کب کا ان مراحل سے گزر چکا۔ پاکستان جیسے نیم خواندہ معاشرے میں ان کی تھوڑی بہت پزیرائی باقی ہے لیکن یہ بھی اب دنوں کا معاملہ ہے۔ جی کا جانا ٹھہر گیا ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام کی اساسی خرابیاں باقی ہیں۔ ان اساسات کے سلامت رہنے سے مراعات یافتہ اور غیر مراعات یافتہ طبقات کا فرق ختم نہیں ہو سکتا۔ اس فرق کو کوئی معاشی نظام نہیں بلکہ ایک مضبوط نظامِ اقدار ہی کم کر سکتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام اس وقت تین اساسات پر کھڑا ہے۔ سرمایہ کی مرکزیت، محنت کی شراکت کا جزوی اعتراف اور ایک نظامِ اخلاق جو غیر الہامی ہے۔ اگر اس نظامِ اخلاق کو ایک الہامی نظامِ اقدار سے بدل دیا جائے تو ارتکازِ زر کو لگام دی جا سکتی ہے جو سرمایہ دارانہ نظام کا اصل المیہ ہے۔
یہ نظامِ اخلاق صرف الہامی ہو سکتا جو عمل کی اساس خدا کے سامنے جواب دہی کو قرار دیتا ہے۔ یہ انسان کو ایک ایسی تجارت کی طرف متوجہ کرتا ہے جس میں سرمایہ کم از کم سات سو گناہ بڑھتا ہے اور یہ بڑھوتی یقینی ہے۔ یہ بچت کے بجائے خرچ (انفاق) کو بطور قدر مستحکم کرتا ہے۔ یہ نفع و نقصان کا پیمانہ بدل دیتا ہے۔ آج مسلمانوں کے سامنے چیلنج کسی متبادل سیاسی یا معاشی نظام کی تشکیل نہیں، ایک نظامِ اقدار کی فراہمی ہے۔ سرمایہ اپنے راستے کا خود انتخاب کرتا ہے۔ یہ بقا کے فطری اصولوں کے مطابق ہے۔ ہمارا کام اس راستے کو غیر اخلاقی کانٹوں سے پاک کرنا ہے۔
(پسِ تحریر: ناقابلِ یقین جرأت اور استقامت رکھنے والی عاصمہ جہانگیر کا انتقال، بلاشبہ ایسا نقصان ہے جس کی تلافی ممکن نہیں۔ انسانی حقوق اور جمہوریت کے لیے ایسی توانا آواز، اس ملک میں کبھی نہیں سنی گئی۔ یہ وہی تھیں جنہوں نے اس سماج میں انسانی حقوق کے تصور کو مستحکم کیا۔ عورت تو کیا، ان کا متبادل کوئی مرد بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ اُن کی مغفرت کرے) 
بشکریہ روزنامہ دنیا، تحریر/اشاعت 12 فروری 2018
مصنف : خورشید احمد ندیم
Uploaded on : Feb 12, 2018
287 View