مشرکانہ قسم کا حکم - محمد رفیع مفتی

مشرکانہ قسم کا حکم

 

رُوِیَ۱؂ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِیْ وَقَاصٍ قَالَ کُنَّا نَذْکُرُ بَعْضَ الْأَمْرِ وَأَنَا حَدِیْثُ عَہْدٍ بِالْجَاہِلِیَّۃِ فَحَلَفْتُ بِاللاَّتَ وَالْعُزّٰی فَقَالَ لِیْ أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِءْسَ مَا قُلْتَ اِءْتِ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَخْبِرْہُ فَإِنَّا لَا نَرَاکَ إِلَّا قَدْ کَفَرْتَ فَأَتَیْتُہُ فَأَخْبَرْتُہُ فَقُلْتُ اِنَّ الْعَہْدَ کَانَ قَرِیْبًا وَإِنِّیْ حَلَفْتُ بِاللاَّتِ وَالْعُزّٰی۲؂ فَقَالَ لِیْ قُلْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیْکَ لَہُ لَہُ الْمَلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کَلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۳؂ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَتَعَوَّذْ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۴؂ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَاتْفُلْ عَنْ یَسَارِکَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَلَا تَعُدْ لَہُ.۵؂ 
سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ ہم لوگ کسی موضوع پر گفتگو کر رہے تھے۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب میں نے جاہلیت کو ابھی نیا نیا چھوڑا تھا۔ میں نے (اپنی گفتگو میں) لات اور عزیٰ کی قسم کھائی تو اس پر صحابۂ کرام نے کہا کہ تو نے بہت بری بات کہی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور انھیں یہ بتاؤ، ہمارے خیال میں تو تم نے کفر کیا ہے۔ چنانچہ میں آپ کے پاس گیا اور آپ کو اس کی خبر دی، میں نے آپ سے کہا کہ میں نے جاہلیت کو ابھی نیا نیا چھوڑا ہے اور میں دوران گفتگو لات و عزیٰ کی قسم کھا بیٹھا ہوں، (آپ مجھے اس کے بارے میں بتائیے)۔ چنانچہ آپ نے فرمایا: تم تین دفعہ ’لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمَلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ، وَہُوَ عَلٰی کَلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ‘ (اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، ساری پادشاہی اور سارا شکر اسی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے)کہو اور تین دفعہ شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگو اور تین دفعہ اپنے بائیں طرف تھوکو اور آیندہ یہ کلمہ نہ کہنا۔ ۱؂

ترجمے کے حواشی

۱۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن ابی وقاص کو ان کے مشرکانہ قسم کھانے پر استغفار کرنے کا یہ تفصیلی طریقہ سکھایا ہے۔ استغفار کا یہ طویل اسلوب بندے کی جانب سے رب کی طرف انابت کا بہترین اظہار ہے۔

متن کے حواشی

۱۔ اپنی اصل کے اعتبار سے یہ روایت نسائی، رقم ۳۷۷۶ ہے۔ بعض اختلافات کے ساتھ یہی مضمون یا اس کے کچھ حصے حسب ذیل (۸) مقامات پر نقل ہوئے ہیں:
نسائی، رقم ۳۷۷۷؛ احمد بن حنبل، رقم۱۵۹۰،۱۶۲۲؛ ابن حبان، رقم ۴۳۶۴۔ ۴۳۶۵؛ ابو یعلیٰ، رقم ۷۱۹، ۷۳۶؛ ابن ابی شیبہ، رقم۱۲۲۹۰۔
بعض روایات، مثلاً نسائی، رقم ۳۷۷۷ میں ’أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ‘ کے بجاے ’أَصْحَابِیْ‘ کے الفاظ اور ’بِءْسَ مَا قُلْتَ‘ کے بجاے ’بِءْسَ مَا قُلْتَ قُلْتَ ہُجْرًا‘ کے الفاظ اور ’فَأَخْبَرْتُہُ‘ کے بجاے ’فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لَہُ‘ کے الفاظ اور ’وَاتْفُلْ‘ کے بجاے ’وَانْفُثْ‘ کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات، مثلاً احمد بن حنبل، رقم ۱۵۹۰ میں ’بِءْسَ مَا قُلْتَ‘ کے بجاے ’قَدْ قُلْتَ ہُجْرًا‘ کے الفاظ اور ’ثَلَاثَ مَرَّاتٍ‘ کے بجاے ’ثَلَاثًا‘کے الفاظ اور ’وَلَا تَعُدْ لَہُ‘ کے بجاے ’وَلَا تَعُدْ‘ کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات، مثلاً احمد بن حنبل، رقم ۱۶۲۲ میں ’یَسَارِکَ‘ کے بجاے ’شَمَالِکَ‘ کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات، مثلاً ابن حبان، رقم ۴۳۶۵ میں ’بِءْسَ مَا قُلْتَ‘ کے بجاے ’لَقَدْ قُلْتَ ہُجْرًا‘ کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات، مثلاً ابو یعلیٰ، رقم ۷۱۹ میں ’فَأَتَیْتُہُ فَأَخْبَرْتُہُ فَقُلْتُ‘ کے بجاے ’فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ‘ کے الفاظ اور ’إِنَّ الْعَہْدَ کَانَ قَرِیْبًا‘ کے بجاے ’إِنِّیْ حَدِیْثُ الْعَہْدِ‘ کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
۲۔ ’فَقُلْتُ إِنَّ الْعَہْدَ کَانَ قَرِیْبًا وَإِنِّیْ حَلَفْتُ بِاللاَّتِ وَالْعُزّٰی‘ کے الفاظ احمد بن حنبل، رقم ۱۵۹۰ سے لیے گئے ہیں۔
۳۔ ’قُلْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیْکَ لَہُ لَہُ الْمَلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کَلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ‘ کے الفاظ نسائی، رقم ۳۷۷۷ سے لیے گئے ہیں۔
۴۔ ’الرَّجِیْمِ‘ کا لفظ ابن حبان، رقم ۴۳۶۴ سے لیا گیا ہے۔
۵۔’ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَتَعَوَّذْ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَاتْفُلْ عَنْ یَسَارِکَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَلَا تَعُدْ لَہُ‘ کے الفاظ نسائی، رقم۳۷۷۶ سے لیے گئے ہیں۔

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت نومبر 2008
مصنف : محمد رفیع مفتی
Uploaded on : Mar 15, 2018
264 View