آبا و اجداد کی قسم کھانے کی مناہی - محمد رفیع مفتی

آبا و اجداد کی قسم کھانے کی مناہی

 

رُوِیَ۱؂ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَدْرَکَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَہُوَ یَسِیْرُ فِیْ رَکْبٍ فِیْ غَزَاۃٍ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۲؂ وَہُوَ یَحْلِفُ بِأَبِیْہِ، وَہُوَ یَقُوْلُ وَأَبِیْ وَأَبِیْ۳؂ وَکَانَتَ قُرَیْشٌ تَحْلِفُ بِآبَاءِہَا۴؂ فَنَادَاہُمْ۵؂ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَلاَ۶؂ اَنَّ اللّٰہَ یَنْہَاکُمْ أَنْ تَحْلِفُوْا بِآبَاءِکُمْ فَمَنْ کَانَ حَالِفًا فَلْیَحْلِفْ بِاللّٰہِ أَوْ لِیَصْمُتْ، لَوْ أَنَّ أَحَدَکُمْ حَلَفَ بِالْمَسِیْحِ ہَلَکَ وَالْمَسِیْحُ خَیْرٌ مِّنْ آبَاءِکُمْ.۷؂ قَالَ عُمَرُ فَوَاللّٰہِ مَا حَلَفْتُ بِہَا مُنْذُ سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاکِرًا وَلَا آثِرًا.۸؂ 
روایت کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (قافلے کے پچھلے حصے سے آگے بڑھتے ہوئے) عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے آ ملے، وہ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک غزوے میں جانے کے لیے، سواروں کے دستے میں شامل تھے اور (کسی بات پر) اپنے باپ کی قسم کھاتے ہوئے ’’میرے باپ کی قسم‘‘، ’’میرے باپ کی قسم‘‘ کے الفاظ کہہ رہے تھے اور قریش کا یہ طریقہ تھا کہ وہ اپنے آبا و اجداد کی قسمیں کھایا کرتے تھے۔ (آپ نے انھیں ایسی قسم کھاتے ہوئے سن لیا) چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو پکار کر کہا: آگاہ رہو، یقیناًاللہ تعالیٰ نے تمھیں آبا و اجداد کی قسمیں کھانے سے منع کیا ہے، جسے قسم کھانی ہو، وہ صرف اللہ کی قسم کھائے، ورنہ وہ چپ رہے۔ اگر تم میں سے کوئی مسیح کی قسم بھی کھائے گا تو بھی وہ ہلاک ہو جائے گا، حالاں کہ مسیح (بہرحال) تمھارے آبا و اجداد سے بہتر تھے۔عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ خدا کی قسم جب سے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے، اس کے بعد پھر میں نے (آبا کی) وہ قسم نہ کبھی ارادۃً کھائی ہے اور نہ کبھی (کسی کی بات) روایت کرتے ہوئے کھائی ہے۔۱؂

ترجمے کے حواشی

انسان جس ذات کی قسم کھاتا ہے، اسے وہ اپنی بات پر گواہ ٹھہراتا اور اس پر اپنے توکل و اعتماد کا اظہار کرتا ہے۔
کوئی انسان اپنے ارادے یا اپنے کسی موقف میں جھوٹا ہے یا سچا ہے، اس بات کو خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ آبا و اجداد کی قسم کھانا دراصل انھیں اپنی نیت اور اپنے دل کے ارادوں پر گواہ ٹھہرانا ہے، یہ چیز ان میں بعض خدائی صفات کو ماننے کے مترادف ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عربوں کے ہاں آبا پرستی کا رجحان موجود تھا، وہ اپنے آبا کا ذکر بہت فخر سے کیا کرتے تھے اور اپنے عقائد میں ان کی اندھی تقلید کیا کرتے تھے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں توحید کے حوالے سے جہاں دوسرے بہت سے شرکیہ اعمال سے منع کیا ہے، وہاں آبا و اجداد کی قسمیں کھانے سے بھی منع فرمایا۔
متن کے حواشی

۔ اپنی اصل کے اعتبار سے یہ روایت موطا، رقم ۱۰۲۰ ہے۔ بعض معمولی اختلافات کے ساتھ یہ مضمون یا اس کے کچھ حصے حسب ذیل (۷۷) مقامات پر نقل ہوئے ہیں:
بخاری، رقم۲۵۳۳، ۳۶۲۴، ۵۷۵۷، ۶۲۷۰۔۶۲۷۲، ۶۹۶۶؛ مسلم، رقم ۱۶۴۶ (۵)، ۱۶۴۸؛ ابوداؤد، رقم ۳۲۴۸۔ ۳۲۵۰؛ ترمذی، رقم ۱۵۳۳۔ ۱۵۳۴؛ نسائی، رقم ۳۷۶۴۔ ۳۷۶۹، ۳۷۷۴؛ ابن ماجہ، رقم ۲۰۹۴۔ ۲۰۹۵، ۲۱۰۱؛ دارمی، رقم ۲۳۴۱؛ احمد بن حنبل، رقم ۱۱۲، ۲۴۰۔ ۲۴۱، ۲۹۱، ۳۲۹، ۴۵۲۳، ۴۵۴۸، ۴۵۹۳، ۴۶۶۷، ۴۷۰۳، ۴۹۰۴، ۵۲۲۲، ۵۲۵۶، ۵۳۴۶، ۵۳۷۵، ۵۴۶۲، ۵۵۹۳، ۵۷۳۶، ۶۲۸۸، ۲۰۶۴۳؛ ابن حبان، رقم ۴۳۵۷، ۴۳۵۹۔ ۴۳۶۲؛ بیہقی، رقم ۱۹۶۰۵۔۱۹۶۱۳، ۱۹۶۱۵، ۱۹۶۱۷، ۲۰۵۱۲؛ ابو یعلیٰ، رقم ۵۴۳۰، ۵۴۸۳، ۵۵۳۷، ۵۸۳۲، ۶۰۴۸؛ ابن ابی شیبہ، رقم ۱۲۲۷۵۔ ۱۲۲۸۰۔ 
بعض روایات، مثلاً ترمذی، رقم ۱۵۳۳ میں ’أَدْرَکَ‘کے بجاے ’سَمِعَ‘کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات، مثلاً ابوداؤد، رقم ۳۲۴۹میں ’أَدْرَکَ‘کے بجاے ’سَمِعَہُ‘کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات، مثلاً احمد بن حنبل، رقم ۲۴۱ میں ’أَدْرَکَ‘کے بجاے ’سَمِعَنِیْ‘کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات، مثلاً بیہقی، رقم ۱۹۶۱۱ میں ’أَدْرَکَ‘کے بجاے ’أَدْرَکَہُ‘کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات، مثلاً ابوداؤد، رقم ۳۲۴۹ میں ’وَہُوَ یَسِیْرُ فِیْ رَکْبٍ فِیْ غَزَاۃٍ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘کے بجاے ’وَہُوَ فِیْ رَکْبٍ‘کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات، مثلاً احمد بن حنبل، رقم ۲۴۰ میں ’وَہُوَ یَسِیْرُ فِیْ رَکْبٍ فِیْ غَزَاۃٍ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘کے بجاے ’کُنْتُ فِیْ رَکْبٍ أَسِیْرُ فِیْ غَزَاۃٍ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات، مثلاً احمد بن حنبل، رقم ۴۵۹۳ میں ’وَہُوَ یَسِیْرُ فِیْ رَکْبٍ فِیْ غَزَاۃٍ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ کے بجاے ’وَہُوَ فِیْ بَعْضِ أَسْفَارِہِ‘کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات، مثلاً ابو یعلیٰ، رقم ۵۸۳۲میں ’وَہُوَ یَسِیْرُ فِیْ رَکْبٍ‘ کے بجاے ’وَہُوَ فِیْ رَکْبٍ یَسِیْرُ مَعَہُمْ‘ کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات، مثلاً ابن ابی شیبہ، رقم ۱۲۲۷۶ میں ’وَہُوَ یَسِیْرُ فِیْ رَکْبٍ فِیْ غَزَاۃٍ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ کے بجاے ’فِیْ بَعْضِ أَسْفَارِہِ‘ کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات مثلاً نسائی، رقم ۳۷۶۶ میں ’أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَدْرَکَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ‘ کے بجاے ’سَمِعَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عُمَرَ مَرَّۃً‘ کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات، مثلاً ابن ماجہ، رقم ۲۱۰۱ میں ’وَہُوَ یَحْلِفُ بِأَبِیْہِ وَہُوَ یَقُوْلُ وَأَبِیْ وَأَبِیْ‘ کے بجاے ’رَجُلاً یَحْلِفُ بِأَبِیْہِ‘ کے الفاظ اور بعض روایات، مثلاً بخاری، رقم ۶۲۷۰ میں ’یَحْلِفُ بِأَبِیْہِ‘ کے الفاظ اور بعض روایات، مثلاً مسلم، رقم ۱۶۴۶ میں ’وَعُمَرُ یَحْلِفُ بِأَبِیْہِ‘ کے الفاظ اور بعض روایات، مثلاً ترمذی، رقم ۱۵۳۳ میں ’وَہُوَ یَقُوْلُ وَأَبِیْ وَأَبِیْ‘ کے الفاظ اور بعض روایات، مثلاً احمد بن حنبل، رقم ۲۴۰ میں ’فَحَلَفْتُ فَقُلْتُ لَا وَأَبِیْ‘ کے الفاظ اور بعض روایات، مثلاً احمد بن حنبل، رقم ۲۴۱ میں ’وَأَنَا أَحْلِفُ بِأَبِیْ‘کے الفاظ اور بعض روایات، مثلاً احمد بن حنبل، رقم ۲۹۱ میں ’فَحَلَفْتُ فَقُلْتُ لَا وَأَبِیْ‘ کے الفاظ اور بعض روایات، مثلاً احمد بن حنبل، رقم ۴۵۲۳ میں ’وَہُوَ یَقُوْلُ وَأَبِیْ‘ کے الفاظ اور بعض روایات، مثلاً بیہقی، رقم ۱۹۶۰۷ میں ’وَأَنَا أَحْلِفُ أَقُوْلُ وَأَبِیْ‘ کے الفاظ اور بعض روایات، مثلاً ابن ابی شیبہ، رقم ۱۲۲۷۵ میں ’یَقُوْلُ وَأَبِیْ‘ کے الفاظ اور بعض روایات، مثلاً ابن ابی شیبہ، رقم ۱۲۲۷۸ میں ’قَالَ عُمَرُ حَدَّثْتُ قَوْمًا حَدِیْثًا فَقُلْتُ لَا وَأَبِیْ‘ کے الفاظ اور بعض روایات، مثلاً ابن ابی شیبہ، رقم ۱۲۲۷۹ میں ’قَالَ حَلَفْتُ بِأَبِیْ‘ کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات، مثلاً بخاری، رقم ۳۶۲۴ میں ’وَکَانَتْ قُرَیْشٌ تَحْلِفُ بِآبَاءِہَا‘ کے بجاے ’فَکَانَتْ قُرَیْشٌ تَحْلِفُ بِآبَاءِہَا ‘ کے الفاظ اور بعض روایات، مثلاً احمد بن حنبل، رقم ۴۷۰۳ میں ’کَانَتْ قُرَیْشٌ تَحْلِفُ بِآبَاءِہَا‘ کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات، مثلاً موطا، رقم ۱۰۲۰ میں ’فَنَادَاہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ کے بجاے ’فَقَالَ‘ کے الفاظ اور بعض روایات، مثلاً بخاری، رقم ۲۵۳۳ میں ’أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ‘ کے الفاظ اور بعض روایات، مثلاً بخاری، رقم ۶۲۷۱ میں ’عُمَرُ یَقُوْلُ قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ کے الفاظ اور بعض روایات، مثلاً بخاری، رقم ۶۲۷۲ میں ’قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ کے الفاظ اور بعض روایات، مثلاً ترمذی، رقم ۱۵۳۴ میں ’فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ کے الفاظ اور بعض روایات، مثلاً احمد بن حنبل، رقم ۲۴۰ میں ’فَنَہَرَنِیْ رَجُلٌ مِّنْ خَلْفِیْ وَقَالَ‘ کے الفاظ اور بعض روایات، مثلاً احمد بن حنبل، رقم ۲۹۱ میں ’فَہَتَفَ بِیْ رَجُلٌ مِّنْ خَلْفِیْ‘ کے الفاظ اور بعض روایات، مثلاً ابن حبان، رقم ۴۳۶۱ میں ’فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘کے الفاظ اور بعض روایات، مثلاً بیہقی، رقم ۱۹۶۱۰ میں ’فَلَمَّا سَمِعَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَہْلاً‘ کے الفاظ اور بعض روایات، مثلاً ابو یعلیٰ، رقم ۵۸۳۲ میں ’فَنَادَاہُمْ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ کے الفاظ اور بعض روایات، مثلاً ابن ابی شیبہ، رقم ۱۲۲۷۸ میں ’فَقَالَ رَجُلٌ مِّنْ خَلْفِیْ‘ کے الفاظ اور بعض روایات، مثلاً ابن ابی شیبہ، رقم ۱۲۲۷۹ میں ’وَإِذَا رَجُلٌ مِّنْ خَلْفِیْ یَقُوْلُ‘ کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات، مثلاً موطا، رقم ۱۰۲۰ میں ’أَلَا اَنَّ اللّٰہَ یَنْہَاکُمْ‘کے بجاے ’اَنَّ اللّٰہَ یَنْہَاکُمْ‘ کے الفاظ اور بعض روایات، مثلاً بیہقی، رقم ۱۹۶۱۰ میں ’فَإِنَّ اللّٰہَ قَدْ نَہَاکُمْ‘ کے الفاظ اور بعض روایات، مثلاً احمد بن حنبل، رقم ۱۱۲ میں ’إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ یَنْہَاکُمْ‘ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات، مثلاً بخاری، رقم ۶۲۷۲ میں ’أَلَا اَنَّ اللّٰہَ یَنْہَاکُمْ أَنْ تَحْلِفُوْا بِآبَاءِکُمْ‘ کے بجاے ’لَا تَحْلِفُوْا بِآبَاءِکُمْ‘کے الفاظ اور بعض روایات، مثلاً احمد بن حنبل ۵۷۳۶ میں ’فَلَا تَحْلِفُوْا بِآبَاءِکُمْ‘کے الفاظ اور بعض روایات، مثلاً ابن ابی شیبہ، رقم ۱۲۲۷۸ میں ’لَا تَحْلِفَنَّ بِآبَاءِکُمْ‘ کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات، مثلاً بخاری، رقم ۲۵۳۳ میں ’فَمَنْ کَانَ حَالِفًا فَلْیَحْلِفْ بِاللّٰہِ أَوْ لِیَصْمُتْ‘ کے بجاے ’مَنْ کَانَ حَالِفًا فَلْیَحْلِفْ بِاللّٰہِ أَوْ لِیَصْمُتْ‘ کے الفاظ اور بعض روایات، مثلاً بخاری، رقم ۳۶۲۴ میں ’أَلَا مَنْ کَانَ حَالِفًا فَلَا یَحْلِفْ إِلَّا بِاللّٰہِ‘ کے الفاظ اور بعض روایات، مثلاً بخاری، رقم ۵۷۵۷ میں ’فَمَنْ کَانَ حَالِفًا فَلْیَحْلِفْ بِاللّٰہِ وَإِلَّا فَلْیَصْمُتْ‘کے الفاظ اور بعض روایات، مثلاً بخاری، رقم ۶۹۶۶ میں ’وَمَنْ کَانَ حَالِفًا فَلْیَحْلِفْ بِاللّٰہِ‘ کے الفاظ اور بعض روایات، مثلاً مسلم، رقم ۱۶۴۶ میں ’مَنْ کَانَ حَالِفًا فَلَا یَحْلِفْ إِلَّا بِاللّٰہِ‘ کے الفاظ اور بعض روایات، مثلاً ترمذی، رقم ۱۵۳۴ میں ’لِیَحْلِفْ حَالِفٌ بِاللّٰہِ‘ کے الفاظ اور بعض روایات، مثلاً نسائی، رقم ۳۷۶۴ میں ’مَنْ کَانَ حَالِفًا فَلَا یَحْلِفْ إِلَّا بِاللّٰہِ‘ کے الفاظ اور بعض روایات، مثلاً احمد بن حنبل، رقم ۴۵۲۳ میں ’فَإِذَا حَلَفَ أَحَدُکُمْ فَلْیَحْلِفْ بِاللّٰہِ‘ اور بعض روایات، مثلاً احمد بن حنبل، رقم ۶۲۸۸ میں ’فَلْیَحْلِفْ حَالِفٌ بِاللّٰہِ‘کے الفاظ اور بعض روایات، مثلاً ابن حبان، رقم ۴۳۵۹ میں ’فَمَنْ کَانَ حَالِفًا فَلْیَحْلِفْ بِاللّٰہِ أَوْ لِیَسْکُتْ‘ کے الفاظ اور بعض روایات، مثلاً بیہقی، رقم ۱۹۶۱۰ میں ’مَنْ حَلَفَ فَلْیَحْلِفْ بِاللّٰہِ أَوْ لِیَسْکُتْ‘ کے الفاظ اور بعض روایات، مثلاً بیہقی، رقم ۱۹۶۱۱ میں ’فَلْیَحْلِفْ حَالِفٌ بِاللّٰہِ أَوْ لِیَسْکُتْ‘ کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات، مثلاً ابن ابی شیبہ، رقم ۱۲۲۷۸ میں ’وَہُوَ یَحْلِفُ بِأَبِیْہِ، وَہُوَ یَقُوْلُ وَأَبِیْ وَأَبِیْ وَکَانَتْ قُرَیْشٌ تَحْلِفُ بِآبَاءِہَا فَنَادَاہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَلاَ اَنَّ اللّٰہَ یَنْہَاکُمْ أَنْ تَحْلِفُوْا بِآبَاءِکُمْ فَمَنْ کَانَ حَالِفًا فَلْیَحْلِفْ بِاللّٰہِ أَوْ لِیَصْمُتْ، لَوْ أَنَّ أَحَدَکُمْ حَلَفَ بِالْمَسِیْحِ ہَلَکَ وَالْمَسِیْحُ خَیْرٌ مِّنْ آبَاءِکُمْ‘ کے بجاے ’قَالَ عُمَرُ حَدَّثْتُ قَوْمًا حَدِیْثًا فَقُلْتُ لَا وَأَبِیْ فَقَالَ رَجُلٌ مِّنْ خَلْفِیْ لَا تَحْلِفَنَّ بِآبَاءِکُمْ فَالْتَفَتُّ فَإِذَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَوْ أَنَّ أَحَدُکُمْ حَلَفَ بِالْمَسِیْحِ لَہَلَکَ وَالْمَسِیْحُ خَیْرٌ مِّنْ آبَاءِکُمْ‘ کے الفاظ اور بعض روایات، مثلاً ابن ابی شیبہ، رقم ۱۲۲۷۹ میں ’أَنَّہُ (عُمَرُ) قَالَ حَلَفْتُ بِأَبِیْ وَإِذَا رَجُلٌ مِّنْ خَلْفِیْ یَقُوْلَ لَا تَحْلِفُوْا بِآبَاءِکُمْ فَالْتَفَتُّ فَإِذَا ہُوَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات، مثلاً احمد بن حنبل، رقم ۲۹۱ میں ’فَقَالَ‘ کے بجاے ’فَہَتَفَ بِیْ‘ کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات، مثلاً ابوداؤد، رقم ۳۲۴۹ میں ’لِیَصْمُتْ‘ کے بجاے ’لِیَسْکُتْ‘ کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
بعض روایات، مثلاً مسلم، رقم ۱۶۴۶ میں ’قَالَ عُمَرُ فَوَاللّٰہِ مَا حَلَفْتُ بِہَا مُنْذُ سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاکِرًا وَلَا آثِرًا‘ کے بجاے ’’قَالَ عُمَرُ فَوَاللّٰہِ مَا حَلَفْتُ بِہَا مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَہٰی عَنْہَا ذَاکِرًا وَلَا آثِرًا‘ کے الفاظ اور بعض روایات، مثلاً ترمذی، رقم ۱۵۳۳ میں ’فَقَالَ عُمَرُ فَوَاللّٰہِ مَا حَلَفْتُ بِہِ بَعْدَ ذٰلِکَ ذَاکِرًا وَلَا آثِرًا‘ کے الفاظ اور بعض روایات، مثلاً نسائی، رقم ۳۷۶۶ میں ’فَوَاللّٰہِ مَا حَلَفْتُ بِہَا بَعْدُ ذَاکِرًا وَلَا آثِرًا‘ کے الفاظ اور بعض روایات، مثلاً ابن ماجہ، رقم ۲۰۹۴ میں ’َقَالَ عُمَرُ فَمَا حَلَفْتُ بِہَا ذَاکِرًا وَلَا آثِرًا‘ کے الفاظ اور بعض روایات، مثلاً احمد بن حنبل، رقم ۱۱۲ میں ’قَالَ عُمَرُ فَوَاللّٰہِ مَا حَلَفْتُ بِہَا مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَہٰی عَنْہَا وَلَا تَکَلَّمْتُ بِہَا ذَاکِرًا وَلَا آثِرًا‘ کے الفاظ اور بعض روایات، مثلاً احمد بن حنبل، رقم ۴۵۲۳ میں ’قَالَ عُمَرُ فَمَا حَلَفْتُ بِہَا بَعْدُ ذَاکِرًا وَلَا آثِرًا‘ کے الفاظ اور بعض روایات، مثلاً احمد بن حنبل، رقم ۴۵۴۸ میں ’قَالَ عُمَرُ فَوَاللّٰہِ فَوَاللّٰہِ مَا حَلَفْتُ بِہَا ذَاکِرًا وَلَا آثِرًا‘ کے الفاظ اور بعض روایات، مثلاً بیہقی، رقم ۱۹۶۰۶ میں ’قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَاللّٰہِ مَا حَلَفْتُ بِہَا بَعْدُ ذَاکِرًا وَلَا آثِرًا‘ کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
ابن ماجہ، رقم ۲۱۰۱ میں ’مَنْ حَلَفَ بِاللّٰہِ فَلْیَصْدُقْ وَمَنْ حُلِفَ لَہُ بِاللّٰہِ فَلْیَرْضَ وَمَنْ لَمْ یَرْضَ بِاللّٰہِ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰہِ‘ کے الفاظ بھی روایت ہوئے ہیں۔ 
بیہقی، رقم ۲۰۵۱۲ میں یہی بات ’مَنْ حَلَفَ بِاللّٰہِ فَلْیَصْدُقْ وَمَنْ حُلِفَ لَہُ بِاللّٰہِ فَلْیَرْضَ وَمَنْ حُلِفَ لَہُ بِاللّٰہِ فَلَمْ یَرْضَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰہِ‘ کے الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔
۲۔’فِیْ غَزَاۃٍ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ کے الفاظ احمد بن حنبل، رقم ۲۹۱ سے لیے گئے ہیں۔ 
۳۔ ’وَہُوَ یَقُوْلُ وَأَبِیْ وَأَبِیْ‘ کے الفاظ نسائی، رقم ۳۷۶۶ سے لیے گئے ہیں۔
۴۔’وَکَانَتْ قُرَیْشٌ تَحْلِفُ بِآبَاءِہَا‘ کے الفاظ مسلم، رقم ۱۶۴۶ سے لیے گئے ہیں۔
۵۔’فَنَادَاہُمْ‘ کے الفاظ بخاری، رقم ۵۷۵۷ سے لیے گئے ہیں۔
۶۔’أَلَا‘کا لفظ بخاری، رقم ۳۶۲۴ سے لیا گیا ہے۔
۷۔ ’لَوْ أَنَّ أَحَدَکُمْ حَلَفَ بِالْمَسِیْحِ ہَلَکَ وَالْمَسِیْحُ خَیْرٌ مِّنْ آبَاءِکُمْ‘ کے الفاظ ابن ابی شیبہ، رقم ۱۲۲۷۸ سے لیے گئے ہیں۔
۸۔’قَالَ عُمَرُ فَوَاللّٰہِ مَا حَلَفْتُ بِہَا مُنْذُ سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاکِرًا وَلَا آثِرًا‘ کے الفاظ بخاری، رقم ۶۲۷۱ سے لیے گئے ہیں۔
یہ مضمون مسلم، رقم ۱۶۴۸ اور ابن ماجہ، رقم ۲۰۹۵ میں ان الفاظ میں بیان ہوا ہے:
لا تحلفوا بالطواغی ولا بآبائکم.
’’نہ باطل معبودوں کی قسمیں کھاؤ اور نہ آبا و اجداد کی۔‘‘
یہ مضمون نسائی، رقم ۳۷۷۴؛ ابن ابی شیبہ، رقم ۱۲۲۷۷؛ بیہقی، رقم ۱۹۶۱۲ میں اور احمد بن حنبل، رقم ۲۰۶۴۳ میں ان الفاظ میں بیان ہوا ہے:
لا تحلفوا بآبائکم ولا بالطواغیت.
’’نہ آبا و اجداد کی قسمیں کھاؤ اور نہ باطل معبودوں کی۔‘‘
یہ مضمون ابوداؤد، رقم ۳۲۴۸؛ بیہقی، رقم ۱۹۶۱۳؛ ابن حبان، رقم ۴۳۵۷ اور نسائی، رقم ۳۷۶۹ میں ان الفاظ میں بیان ہوا ہے:
لا تحلفوا بآبائکم ولا بأمہاتکم ولا بالأنداد ولا تحلفوا إلا باللّٰہ ولا
’’نہ اپنے آبا و اجداد کی قسمیں کھاؤ، نہ اپنی ماؤں کی اور نہ خدا کے مزعومہ شرکا کی۔ خدا کے سوا کسی کی بھی قسم 
تحلفوا باللّٰہ إلا وأنتم صادقون.
نہ کھاؤ اور خدا کی قسم بھی تب کھاؤ جب تم سچے ہو۔‘‘
یہ مضمون ابو یعلیٰ، رقم ۶۰۴۸ میں ان الفاظ میں بیان ہوا ہے:
لا تحلفوا بآبائکم ولا بأمہاتکم ولا بالأنداد ولا تحلفوا باللّٰہ إلا وأنتم صادقون.
’’نہ اپنے آبا و اجداد کی قسمیں کھاؤ، نہ اپنی ماؤں کی اور نہ خدا کے مزعومہ شرکا کی اور خدا کی قسم بھی تبھی کھاؤ جب تم سچے ہو۔‘‘
یہ مضمون احمد بن حنبل، رقم ۳۲۹ میں ان الفاظ میں بیان ہوا ہے:
قال (عمر) لا وأبی فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مہ إنہ من حلف بشیء دون اللّٰہ فقد أشرک.
’’عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں ’میرے باپ کی قسم‘ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:رکو، جس نے بھی خدا کے علاوہ کسی کی قسم کھائی، اس نے شرک کیا۔‘‘
یہ مضمون احمد بن حنبل، رقم ۴۹۰۴ میں ان الفاظ میں بیان ہوا ہے:
کان عمر یحلف وأبی فنہاہ النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال من حلف بشیء دون اللّٰہ تعالٰی فقد أشرک (وقال الآخر) وہو شرک.
’’عمر رضی اللہ عنہ ’وأبی‘کے الفاظ سے قسم کھایا کرتے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اس سے منع کیا۔ آپ نے فرمایا: جس نے اللہ کے علاوہ کسی چیز کی قسم کھائی، اس نے شرک کیا۔(دوسرا راوی کہتا ہے) اور وہ (قسم)شرک ہو گی۔‘‘
یہ مضمون ابن ابی شیبہ، رقم ۱۲۲۸۰ میں ان الفاظ میں بیان ہوا ہے:
کنا مع عمر فی حلقۃ فسمع رجلاً یقول لا وأبی فرماہ بالحصا وقال إنہا کانت یمینی فنہاہ النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم عنہا وقال إنہا شرک.
’’ہم عمر (رضی اللہ عنہ) کے ساتھ ایک حلقے میں بیٹھے ہوئے تھے تو انھوں نے ایک آدمی کو ’لا وأبی‘ کے الفاظ کہتے ہوئے سنا تو آپ نے اس کی طرف کنکریاں پھینکیں اور کہا: ان الفاظ کے ساتھ میں قسم کھاتا تھا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس سے منع کر دیا اور آپ نے فرمایا: بے شک، یہ شرک ہے۔‘‘
یہ مضمون احمد بن حنبل، رقم ۵۳۴۶ میں ان الفاظ میں بیان ہوا ہے:
قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم من حلف بغیر اللّٰہ فقال فیہ قولاً
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ کے علاوہ کسی کی قسم کھائی، (راوی کہتا ہے کہ) آپ 
شدیدًا.
نے اس کے بارے میں ایک شدید بات فرمائی۔‘‘
یہ مضمون احمد بن حنبل، رقم ۵۳۷۵ میں ان الفاظ میں بیان ہوا ہے:
عن سعد بن عبیدۃ قال جلست أنا ومحمد الکندی إلی عبد اللّٰہ بن عمر ثم قمت من عندہ فجلست إلی سعید بن المسیب قال فجاء صاحبی وقد اصفر وجہہ وتغیر لونہ فقال قم إلی قلت ألم أکن جالسًا معک الساعۃ فقال سعید قم إلی صاحبک قال فقمت إلیہ فقال ألم تسمع إلی ما قال بن عمر قلت وما قال قال أتاہ رجل فقال یا أبا عبد الرحمٰن أعلی جناح ان أحلف بالکعبۃ قال ولم تحلف بالکعبۃ إذا حلفت بالکعبۃ فاحلف برب الکعبۃ فإن عمر کان إذا حلف قال کلا وأبی فحلف بہا یومًا عند رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لا تحلف بأبیک ولا بغیر اللّٰہ فإنہ من حلف بغیر اللّٰہ فقد أشرک.
’’سعد بن عبیدہ سے روایت ہے کہ میں اور محمد الکندی عبداللہ بن عمر کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ پھر میں آپ کے پاس سے اٹھا اور سعید ابن مسیب کے پاس جا بیٹھا، وہ بتاتے ہیں کہ پھر میرا ساتھی میرے پاس آیا، اس کا چہرہ زرد تھا اور اس کا رنگ اڑا ہوا تھا، اس نے کہا: میرے پاس آؤ، میں نے کہا: ابھی تو میں تمھارے پاس ہی بیٹھا ہوا تھا، سعید بن مسیب نے کہا: اپنے ساتھی کے پاس جاؤ۔ وہ کہتے ہیں: پھر میں اس کے پاس جا کھڑا ہوا، اس نے مجھ سے پوچھا: کیا تو نے سنا ہے جو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ہے؟ میں نے پوچھا کہ انھوں نے کیا کہا ہے؟ اس نے بتایا کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے پوچھا: اے ابو عبدالرحمن، کیا مجھے کوئی گناہ ہو گا اگر میں کعبہ کی قسم کھاتا ہوں؟ انھوں نے کہا کہ کعبہ کی قسم نہ کھاؤ، اور جب کعبہ کی قسم کھانی ہی ہو تو رب کعبہ کی قسم کھایا کرو، عمر رضی اللہ عنہ جب قسم کھاتے تھے تو کہا کرتے تھے کہ ’ہرگز نہیں میرے باپ کی قسم‘، انھوں نے ایک دن یہی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں کھائی، آپ نے فرمایا:اپنے باپ کی قسم نہ کھاؤ اور نہ اللہ کے علاوہ کسی اور کی قسم 
کھایا کرو، کیونکہ جس نے بھی اللہ کے سوا کسی کی قسم کھائی، اس نے یقیناًشرک کیا۔‘‘
یہ مضمون بیہقی، رقم ۱۹۶۱۵ اور احمد بن حنبل، رقم ۵۵۹۳ میں ان الفاظ میں بیان ہوا ہے:
عن سعد بن عبیدۃ قال کنت عند عبد 
’’سعد بن عبیدہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں 
اللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہما فقمت وترکت رجلاً عندہ من کندۃ فأتیت سعید بن المسیب قال فجاء الکندی فزعًا فقال جاء ابن عمر رجل فقال احلف بالکعبۃ قال لا ولکن أحلف برب الکعبۃ فإن عمر کان یحلف بأبیہ فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لا تحلف بأبیک فإنہ من حلف بغیر اللّٰہ فقد أشرک.
(اپنے ایک کندی ساتھی کے ساتھ) عبداللہ ابن عمر کے پاس بیٹھا ہوا تھا، تھوڑی دیر کے بعد میں وہاں سے اٹھا، اپنے کندی ساتھی کو ان کے پاس ہی چھوڑا اور خود سعید بن مسیب کے حلقے میں آ بیٹھا، وہ بتاتے ہیں کہ پھر وہ کندی گھبرایا ہوا میرے پاس آیا اور اس نے کہا کہ عبداللہ ابن عمر کے پاس ابھی ایک آدمی آیا تھا اور اس نے کہا: میں کعبہ کی قسم کھاتا ہوں۔ عبداللہ ابن عمر نے کہا: نہیں، تم کہو کہ میں رب کعبہ کی قسم کھاتا ہوں، کیونکہ عمر رضی اللہ عنہ اپنے باپ کی قسم کھایا کرتے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں کہاتھا کہ اپنے باپ کی قسم نہ کھاؤ، کیونکہ جس کسی نے بھی اللہ کے سوا کسی کی قسم کھائی، اس نے یقیناًشرک کیا۔‘‘
یہ مضمون احمد بن حنبل، رقم ۵۲۲۲ اور ۵۲۵۶ میں ان الفاظ میں بیان ہوا ہے:
عن سعد بن عبیدۃ قال کنت مع ابن عمر فی حلقۃ قال فسمع رجلاً فی حلقۃ أخری وہو یقول لا وأبی فرماہ بن عمر بالحصی فقال انہا کانت یمین عمر فنہاہ النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم عنہا وقال انہا شرک.
’’سعد بن عبیدہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں عبداللہ ابن عمر کے حلقے میں بیٹھا ہوا تھا، (اتنے میں) انھوں نے ایک دوسرے حلقے میں بیٹھے ہوئے آدمی کو ’نہیں، میرے باپ کی قسم‘ کے الفاظ کہتے ہوئے سنا تو انھوں نے اس کی طرف کنکریاں پھینکیں۔ پھر انھوں نے بتایا کہ یہ عمر رضی اللہ عنہ کی قسم ہوا کرتی تھی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اس سے روک دیا تھا اور آپ نے فرمایا تھا کہ یہ شرک ہے۔‘‘
یہ مضمون ترمذی، رقم ۱۵۳۵ میں ان الفاظ میں بیان ہوا ہے:
عن سعد بن عبیدۃ أن ابن عمر سمع رجلاً یقول لا والکعبۃ فقال ابن عمر لا یحلف بغیر اللّٰہ فإنی سمعت
’’سعد بن عبیدہ سے روایت ہے کہ ابن عمر نے ایک آدمی کو ’نہیں، کعبہ کی قسم‘ کے الفاظ کہتے ہوئے سنا تو انھوں نے کہا کہ وہ غیر اللہ کی قسم نہ کھائے، کیونکہ میں 
رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول من حلف بغیر اللّٰہ فقد کفر أو أشرک.
نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی، اس نے یقیناًکفر کیا یا شرک کیا۔‘‘
یہی مضمون کچھ فرق کے ساتھ ابوداؤد، رقم ۳۲۵۱؛ احمد بن حنبل، رقم ۶۰۷۲؛ بیہقی، رقم ۱۹۶۱۴ میں بھی بیان ہوا ہے:
بعض روایات، مثلاً ابوداؤد، رقم ۳۲۵۱ میں ’أَنَّ ابْنَ عُمَرَ سَمِعَ ‘ کے بجاے ’سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ‘ کے الفاظ اور ’فَإِنِّی‘ کے بجاے ’إِنِّیْ‘ کے الفاظ اور ’کَفَرَ أَوْ أَشْرَکَ‘ کے بجاے ’أَشْرَکَ‘ کے الفاظ اور بعض روایات، مثلاً احمد بن حنبل، رقم ۶۰۷۲ میں ’لَا وَالْکَعْبَۃِ‘ کے بجاے ’وَالْکَعْبَۃِ‘ کے الفاظ اور ’لَا یَحْلِفُ‘ کے بجاے ’لَا تَحْلِفُ‘ کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔
یہ مضمون ابن حبان، رقم ۴۳۵۸ میں ان الفاظ میں بیان ہوا ہے:
عن سعد بن عبیدۃ قال کنت عند ابن عمر فحلف رجل بالکعبۃ فقال ابن عمر ویحک لا تفعل فإنی سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول من حلف بغیر اللّٰہ فقد أشرک.
’’سعد بن عبیدہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں ابن عمر کے پاس تھا، اتنے میں ایک آدمی نے کعبہ کی قسم کھائی تو ابن عمر نے اس سے کہا: تیرا ناس ہو، ایسا نہ کر، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی، اس نے یقیناًشرک کیا۔‘‘

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت جنوری2009
مصنف : محمد رفیع مفتی
Uploaded on : Jan 12, 2018
222 View