قرآن و حدیث اور عورت کا دائرۂ کار - ساجد حمید

قرآن و حدیث اور عورت کا دائرۂ کار

 

[یہ مقالہ ایک کانفرنس کے لیے لکھا گیا تھا۔ اس لیے اس کی ساخت اس کانفرنس کی ضروریات کے مطابق ہے۔ میں اپنے 

مقالات اس طرز پر نہیں لکھتا۔ لیکن مفید مطلب ہونے کی وجہ سے استفادۂ عام کے لیے شائع کیا جارہا ہے ۔ مصنف]

تمہید

آج کے عہد کا یہ ایک اہم سوال ہے کہ عورت کا دائرۂ عمل کیا ہے؟اس باب میں ایک عمومی راے پائی جاتی ہے کہ اس کا اصل مقام یہ ہے کہ وہ گھر میں رہے ۔لیکن یہ راے نصوص قرآن و حدیث کے بجاے محض علاقائی تصورات پر قائم ہے۔اگر کوئی نصوص اس میں استعمال بھی ہوئی ہیں تو وہ محض سرسری اور سیاق و سباق کے لحاظ رکھے بغیر استعمال ہوئی ہیں۔ اس مقالہ میں ہم قرآن و حدیث کی روشنی ۱؂ میں اس موضوع پر بحث کریں گے اور دیکھیں گے کہ قرآن و سنت کے نصوص کیا کہتے ہیں۔ ان نصوص سے کیا بات اصل میں مراد ہے۔خاص طور پراحادیث میں ہزاروں نہیں تو سینکڑوں واقعات ایسے منتقل ہوئے ہیں جس سے عورت کے دائرۂ عمل کے بارے میں ہمارے موجودہ دینی تصورات کو حیرت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ہماری راے قرآن وسنت کے نصوص کے براہ راست اور گہرے مطالعہ سے یہ بنی ہے کہ قرآن وسنت عورت کے گھر سے باہر نکلنے کے آداب اور حدودو قیود ضرورمقرر کرتے ہیں، لیکن عورت کو نہ کام کرنے سے روکتے ہیں اور نہ گھر سے باہر نکلنے کو۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ حدود وقیود ہی اس بات کاثبوت ہیں کہ انھیں گھر سے باہر نکلنے ، مردوں سے معاملات کرنے کی آزادی حاصل ہے۔ کیونکہ اگر انھیں یہ آزادی حاصل نہیں ہوتی تو اس قانون کے دینے کا مقصد ہی کیا تھا؟
ہمارے پاس دو قسم کے نصوص قرآن مجید میں ہیں: ایک وہ جس میں مجھے عصر حاضر کی امت کے عمومی فہم سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔دوسرے وہ جن میں ہم عمومی مسلک سے یہاں اختلاف کریں گے۔ مثلاً سورۂ احزاب وہ سورہ ہے جس میں دورحاضر کے علما کے ایک طبقہ نے راے بنانے میں سیاق و سباق کا خیال نہیں رکھا۔۲؂ عرب وعجم کے ان علما کے ہاں ایک عمومی رجحان یہ پیدا ہوا ہے کہ قرآن مجید کے جملے اپنے سیاق و سباق سے کاٹ کر، بلکہ اپنے جملے سے بھی کاٹ کر استعمال کررہے ہیں۔ مثلاً (الشحود ۲۰۱۰) علی بن نایف نے اپنی کتاب ’’القرآن الکریم فی مواجہۃ الجاہلیۃ‘‘ میں ایک باب ’المرأۃ بین عفاف الإسلام ورجس الجاہلیۃ‘ (ص ۶۶) کے نام سے لکھا ہے۔ اس باب میں اسلام کی عفت کا اصول سورۂ احزاب کی درج ذیل آیت سے نکالا ہے:

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِہٖ مَرَضٌ وَّقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاھِلِیَّۃِ الْاُوْلٰی وَ اَقِمْنَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتِیْنَ الزَّکٰوۃَ وَاَطِعْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا وَاذْکُرْنَ مَا یُتْلٰی فِیْ بُیُوْتِکُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰہِ وَالْحِکْمَۃِ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا.(۳۳: ۳۲۔۳۴)

اس میں جس ’تطہیر‘ کا تعلق ہے ، اس کا کوئی تعلق اس عمومی عفت سے نہیں ہے، یہ خاص ازواج مطہرات کا معاملہ ہے۔ اس سلسلۂ آیات کا آغاز ’یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ‘ سے ہوا ہے۔ان آیات کو عمومی معنی میں لینا ایسا ہی ہے، جیسے ازواج مطہرات والے اس قانون کو کہ وہ ہماری مائیں ہیں عام کردیا جائے۔جس کے معنی یہ بن جائیں گے کہ ہر مذہبی پیشوا کی ازواج اس کے مریدوں کے لیے ماں کا درجہ رکھتی ہیں۔دوسرے یہ کہ یہاں تطہیر سے مراد عفت نہیں ہے،بلکہ منافقین کی ریشہ دوانیوں سے بچانا مراد ہے۔مذکورہ بالا تطہیرآیت ۳۳ میں بیان ہوئی ہے، جبکہ منافقین کا ذکر آیت ۳۲ میں ہے۔ یہاں ’تطہیر‘ اسی معنی میں آیا ہے جو سورۃ المائدہ کی درج ذیل آیت میں آیاہے:

اِذْ قَالَ اللّٰہُ یَا عِیْسَی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَمُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا.... (آل عمران۳: ۵۵)
’’یاد کرو، جب اللہ نے فرمایا: اے عیسیٰ، میں تمھیں متوفی کروں گااوراپنی طرف اٹھا لوں گا اورتمھیں کافروں سے مطہر کردوں گا(یعنی بچا لوں گا)‘‘ ...۔

ویسے بھی قرآن مجید میں ’مُطَہِّر‘ کا لفظ کہیں بھی عفت کے معنی میں نہیں آیا قرآن مجید میں یہ میل کچیل اتارنے اور جسمانی ناپاکی دور کرنے کے معنی میں تو آیا ہے، مگر باطنی ناپاکی کی دوری کے لیے ’تَزْکِیَۃ‘ کا لفظ آیا ہے۔ جبکہ سورۂ احزاب کی آیت ۳۲ کے بنائے ہوئے سباق سے یہ بات واضح ہے کہ یہ یہاں بچانے کے معنی میں آیا ہے۔
اس مقالے میں ہمار اطریق کار یہ ہو گا کہ ہم متفقہ آیات سے معلوم ہونے والے احکام کو مختصراً نکات کی صورت میں بیان کریں گے۔جن مقامات پر ہم کوئی مختلف بات کریں گے وہاں ہم اپنا استدلال بھی عرض کردیں گے۔اس استدلال کی بنیاد لسانی ہوگی اور اسلاف کے حوالوں پربھی ہوگی۔
حدیث والے باب میں کسی تاویل سے کام نہیں لیا گیا۔جو سادہ مفہوم متبادرہورہا ہے، اسی سے استدلال کیا گیا ہے۔میں نے کوشش کی ہے کہ صاحبین بخاری و مسلم تک محدود رہوں تاکہ حدیث کی صحت و سقم کے بارے میں تردد پیدا نہ ہو۔اس مقالے کی ضرورت کے پیش نظر ان کتب کے حوالے جدید طرز پر دے دیے ہیں، یعنی حدیث کا نمبر بتا دیا ہے۔
عورت کے گھر سے باہر کے کاموں میں حصہ لینے کی یہ اجازت مطلق نہیں ،بلکہ مرد ہی کی طرح عورت، یعنی دونوں کے لیے گھر سے باہر نکلتے وقت اور اپنی ضرورت اور شوق کے کام پورا کرنے کے لیے تمام دینی احکام کی پابندی کرنا لازم ہے۔اسی طرح زندگی کے کاموں میں صحیح ترجیحات قائم ہونی چاہییں۔ بنیادی کاموں اور شوق و تفریح کے کاموں کا فرق ملحوظ رکھناہوگا۔ان میں سے چند امور کا اس مضمون میں ہم ذکر کریں گے۔

فصل اول

قرآن مجید کے احکام

لباس کا حکم

قرآن مجیدسے لباس سے متعلق ایک ہدایت سورۂ اعراف میں آئی ہے، اور اس کا تاریخی حوالہ حضرت آدم کے وقت سے جوڑا ہے۔ قرآن مجید کا فرمان ہے:

یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْکُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِکُمْ وَرِیْشًا وَلِبَاسُ التَّقْوٰی ذٰلِکَ خَیْرٌ ذٰلِکَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰہِ لَعَلَّھُمْ یَذَّکَّرُوْنَ یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّکُمُ الشَّیْطٰنُ کَمَآ اَخْرَجَ اَبَوَیْکُمْ مِّنَ الْجَنَّۃِ یَنْزِعُ عَنْھُمَا لِبَاسَھُمَا لِیُرِیَھُمَا سَوْاٰتِھِمَا اِنَّہٗ یَرٰکُمْ ھُوَ وَقَبِیْلُہٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَھُمْ اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ وَاِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْھَآ اٰبَآءَ نَا وَاللّٰہُ اَمَرَنَا بِھَا قُلْ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ.(الاعراف ۷: ۲۶۔۲۸)

’’اے اولاد آدم، ہم نے تمھیں لباس عطا کیا ہے تاکہ وہ تمھاری شرم گاہوں کو ڈھانپے،اور ہم نے (تمھیں لباس کی صورت میں) پر۳؂ دیے ہیں۔ اور تقویٰ والا لباس وہ تو سب سے بہتر ہے۔ یہ اللہ کی آیات ہیں تاکہ تم اچھی بات کی نصیحت حاصل کرو۔اے اولاد آدم، (ان حکموں کو اپناؤ تاکہ) شیطان تمھیں فتنے میں مبتلا نہ کردے۔جیسے اس نے تمھارے ماں باپ (آدم و حوا)کو جنت سے نکلوا دیا تھا، ان کا لباس ان سے چھین کر، تاکہ ان پر ان کی شرم گاہ کوباہم دکھادے، شیطان اور اس کا ٹولہ تمھیں دیکھ رہا ہے، اس طرح سے کہ تم انھیں نہیں دیکھ سکتے، ہم نے شیاطین کو صرف ان کا دوست بنایا ہے، جو ایمان نہیں رکھتے۔ اور جب یہ لوگ فحاشی کا ارتکاب کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو ایسا ہی کرتے پایا ہے اور اللہ ہی نے اس کا حکم دیا ہے۔ ان سے کہو کہ اللہ فحش کاموں کا حکم نہیں دیتا۔ اللہ سے وہ بات منسوب کرتے ہوجس کا تمھارے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔‘‘

ان آیات کریمہ سے درج ذیل اہم امور معلوم ہورہے ہیں:
* لباس کے دو مقصد ہیں: اخلاقی اور طبعی، یعنی بالترتیب ۱۔ ستر پوشی اور ۲۔ زیبایش اور موسمی اثرات سے بچاؤ۔
* لباس کا اخلاقی مقصد جسم کی ستر پوشی ہے۔ ’یُوَارِیْ سَوْاٰتِکُمْ‘ کے الفاظ اسی حقیقت کو بیان کر رہے ہیں۔ یہ بیان علت ہے۔ اور لباس کے حکم کا سبب یہ ہے کہ ان کے افشا سے بچا جائے۔ یہ حکم وضعی ہوا ۔۴؂ 
* لباس کے بارے میں بے احتیاطی جنت سے محرومی کا سبب ہے ، جسے یہاں قصۂ آدم و حوا کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے۔
* لباس کا تعلق ’فحشاء‘ کے روکنے سے ہے۔جسے آیت ۲۸ میں بیان کیا گیا ہے۔یہ لباس کے اخلاقی پہلو کی علت ہے۔یہ ترکِ لباس کا مانع ہے۔
* لباس کا دوسرا مقصد زیب و زینت، اور موسمی اثرات سے ذریعۂ نجات ہے۔ اس بات کو ’ریشا‘کے لفظ سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ پرندے کے پروں کے لیے ہے، جو زیبایش اورگرمایش دونوں کام دیتے ہیں۔ یہ لباس کے لیے طبعی اسباب ہیں۔
* زینت والے لباس پر تقوے کا پہرا بٹھایا جائے۔ اس بات کوقرآن مجید نے ’وَلِبَاسُ التَّقْوٰی ذٰلِکَ خَیْرٌ‘ سے سمجھایا ہے۔ یہ مقصدِ لباس ہے۔ اس کے لیے حکم سورۂ نور میں آیا ہے۔
* لباس کے بارے میں بے احتیاطی شیطانی بہکاوا ہے ، اس کا شکار وہ لوگ ہوتے ہیں جو پکے ایمان سے محروم ہوں۔یہ بات آیت ۲۷ میں بیان کی گئی ہے۔ یہ لباس کے حکم کی سنجیدگی کو نمایا ں کرتی ہے۔
* یہ ہدایات تمام بنی آدم کے لیے ہیں، اس کی طرف اشارہ ’یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ‘ کے الفاظ سے کیا گیا ہے ۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ یہ مرد و عورت ، جوان و بزرگ ، مسلم و غیر مسلم ہر کسی کے لیے ہیں۔
* آدم و حوا علیہما السلام کے جنت سے نکلوائے جانے کا عمل بھی کسی نہ کسی پہلو سے لباس ہی سے متعلق تھا۔یہ بھی لباس کی اہمیت کو یاددلاتا ہے۔
انھی آیات کے ذیل میں وہ احادیث بھی آئیں گی جن میں آپ نے ایسے لباس کو غلط قرار دیاہے، جو یاستر پوشی نہیں کرتا یا فحشاء کا سبب ہے۔ جیسے آپ کا فرمان ہے:

عَنْ عَاءِشَۃَ، قَالَتْ: دَخَلَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِيْ بَکْرٍ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَعَلَیْہَا ثِیَابٌ شَامِیَّۃٌ رِقَاقٌ، فَأَعْرَضَ عَنْہَا ثُمَّ قَالَ: ’’مَا ہٰذَا یَا أَسْمَاءُ؟ إِنَّ الْمَرْأَۃَ إِذَا بَلَغَتِ الْمَحِیْضَ لَمْ یَصْلُحْ أَنْ یُرٰی مِنْہَا إِلَّا ہٰذَا، وَہٰذَا‘‘ وَأَشَارَ إِلٰی وَجْہِہِ وَکَفَّیْہِ.
’’سیدہ عائشہ سے روایت ہے کہ (ان کی بہن) ابوبکر صدیق کی بیٹی اسماء رضی اللہ عنہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، تو انھوں نے ایک باریک شامی لباس پہن رکھا تھا۔ جب آپ کی نظر پڑی تو آپ نے منہ دوسری طرف کرلیا۔ پھر گویا ہوئے: اسما ء یہ کیا پہن رکھا ہے؟ جب عورت بالغ ہوجائے تو اس کے لیے یہ درست نہیں کہ اس کے جسم کے اعضاء نظر آئیں سوائے ان دو کے، اورآپ نے چہرے اور ہاتھوں کی طرف اشارہ کیا۔‘‘

خلاصہ

لباس اخلاقاً شرم گاہوں کو ڈھانپنے کے لیے ہے، تاکہ فحشا سے بچا جاسکے۔یہ ایمان اور تقویٰ کا لازمی تقاضا ہے، یہ پوری انسانیت کے لیے اللہ کا حکم ہے، لہٰذا یہی انسانی فطرت ہے۔اس کے قانونی پہلو سورۂ نور کی روشنی میں آگے زیر بحث آئیں گے۔
اس ہدایت میں عورت کے لیے گھر سے باہر نکلنے کے لیے کوئی مانع بیان نہیں ہوا۔

احکام

پہلا مقام

قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِھِمْ وَیَحْفَظُوْا فُرُوْجَھُمْ ذٰلِکَ اَزْکٰی لَھُمْ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ م بِمَا یَصْنَعُوْنَ وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِھِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوْجَھُنَّ وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ اِلَّا مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِھِنَّ عَلٰی جُیُوْبِھِنَّ وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِھِنَّ اَوْاٰبَآءِھِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِھِنَّ اَوْ اَبْنَآءِھِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِھِنَّ اَوْ اِخْوَانِھِنَّ اَوْ بَنِیْٓ اِخْوَانِھِنَّ اَوْ بَنِیْٓ اَخَوٰتِھِنَّ اَوْ نِسَآءِھِنَّ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُنَّ اَوِالتّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِالطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْہَرُوْا عَلٰی عَوْرٰتِ النِّسَآءِ وَلَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِھِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِھِنَّ وَتُوْبُوْٓا اِلَی اللّٰہِ جَمِیْعًا اَیُّہَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ.(۲۴: ۳۰۔۳۱)

* عورتوں اور مردو ں کو یہاں پہلا حکم غض بصر کا دیا گیا ہے۔صنف مخالف کے سراپے کا جائزہ لینے سے روکا گیا ہے۔ یعنی غیر مردو عورت کے حسن اور سراپے کو نہارنے سے روکا گیا ہے۔ اورنگاہ کو نگاہ سے چار کرنے سے منع کیا گیا ہے، جس میں صنف مخالف کے لیے پیغام رسانی ہو، کشش ہو یا شہوت ہو۔
* عورتوں اور مردوں کو دوسرا حکم حفاظتِ فرج کادیا گیا ہے، اسے بعض اوقات صرف بدن ڈھانپنے کے معنی میں لیا گیا ہے، حالاں کہ ایسا نہیں ہے،کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو حفظِ فرج کے بجاے ستر فرج کا حکم ہوتا۔ یہ دراصل تمام صنفی تعلقات کو جامع ہے۔ یعنی اپنے عشوہ و اداسے پھسلانے سے لے کر اعضاے صنفی کو غیر پر ظاہر کرنے اور یہاں سے لے کر زنا تک تمام چیزیں اس میں آجاتی ہیں۔ یعنی لباس پہنے ہوئے ہونے کے باوجود شرم گاہوں کی طرف رغبت اور متوجہ کرنے والے امور سے رکنا۔ کپڑوں کا خیال رکھنا کہ وہ پہنے ہوئے ہونے کے باوجود برہنگی پیدا نہ کردیں، جیسے اٹھتے بیٹھتے ہوئے کپڑوں کا اپنے جگہ سے ہٹ جانا وغیرہ۔ 
اخفاے زینت: ۵؂ یہ حکم صرف عورتوں کے لیے ہے ۔ حسن وجمال کو عیاں نہ کرنا سوائے ان مقامات کے جو چلتے پھرتے کام کرتے نمایاں ہوتے ہی ہیں ، جیسے ہاتھ اورچہرہ، ۶؂ یہ دونوں عام طور پر (جبلۃً) کھلے ہی رہتے ہیں۔ علامہ الزمخشری (۱۴۰۷ھ) رقم فرما ہیں: ’وہذا معنی قولہ إِلَّا ما ظَہَرَ مِنْہا، یعني إلا ما جرت العادۃ والجبلۃ علی ظہورہ والأصل فیہ الظہور‘، اس قول الٰہی کہ ’اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنْھَا‘ سے مراد یہ ہے کہ جو عادت اور جبلت کی رو سے کھلا ہی رہتا ہے، اور اس میں اصل صورت یہی ہے کہ وہ کھلا رہے۔ (۳/ ۲۳۱)
زینت ایک بہت جامع لفظ ہے، جس کے معنی میں حسن، اصل معنی کی حیثیت رکھتا ہے، خواہ وہ فطری ہو یا غازہ کی کرامات ہو۔اسی سے یہ لفظ بعدمیں مجازاً ان چیزوں کے لیے بھی بولا جانے لگا، جو حسن و زیبایش کا سبب ہوتی ہیں، جبیے زیورات، سرخی پوڈر وغیرہ۔ لہٰذا یہ بات واضح رہے کہ یہ حکم لباس کا نہیں ہے۔بلکہ غیرمردوں پر اظہارِ زینت سے متعلق ہے۔یعنی اپنے حسن وجمال کی طرف نامحرموں کو ، اپنے لباس، سنگھار اورعشوہ و ادا سے نمایاں و ظاہر کرنا۔یعنی اظہارِ حسن تین طرح سے ہو سکتا ہے: لباس کی تراش خراش، بناؤ سنگھار، اور عشوہ و ادا۔ تینوں سے یہاں منع کیا گیا ہے۔ عشوہ و ادا کی ایک مثال کا ذکر پائل کی جھنکار کی صورت میں کیا گیا ہے۔
یعنی اپنے فطری حسن کو لباس، سنگھار اور اداؤں کی دل فریب حرکات سے ظاہر کرنے اور اس سے صنف مخالف کو باخبراور متوجہ کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ مثلاً محض جسم کے نشیب و فراز کو بغیر کسی زیور اور میک اَپ کے محض لباس کی کاریگری سے یا محض اداؤں کی فتنہ گری سے اس طرح پیش کرنا کہ اس میں کشش بڑھ جائے یہ بھی ابداے زینت ہوگا۔اور اس کو زیور وغازہ سے مزید مزین کرنا تو بدرجہ اولیٰ اس میں شامل ہے۔ لہٰذا خواتین کو حفظِ فروج کے ساتھ ساتھ اس باب میں بھی استعفاف کا حکم دیا گیا ہے کہ نامحرموں کے سامنے جب وہ آئیں تواظہار حسن وجمال سے بچیں، اس کے لیے دو علاج تجویز کیے گئے ہیں: ایک گریبان پر کپڑا رکھنا اور دوسرے چلتے ہوئے احتیاط سے چلناکہ مخفی زینت کا اظہار بھی نہ ہو۔ اس مقصد کے لیے یہ تین حکم دیے گئے ہیں:
o بناؤ سنگھار کے چھپانے کے لیے اوڑھنی سے گریبان کو ڈھانپنا چاہیے۔
o چند لوگوں کے سوا باقی سب سے بناؤ سنگھار کو چھپانا۔ یہ ان لوگوں کی فہرست ہے جن کے لیے اسلامی تہذیب میں لوگ بالعموم صنفی کشش اور میلان نہیں رکھتے ۔ان میں عورتیں بھی شامل ہیں۔
o بناؤ سنگھار کے لیے پہنے ہوئے زیورات وغیرہ سے پاؤ ں مار مار کر جھنکار پیدا نہ کرنا۔
اگر بنظر غائر تمام حکم کو دیکھا جائے تو یہ مردوں اور عورتوں کے اکٹھا ہونے کے وقت غلط رویوں سے بچنے کا حکم ہے۔یعنی نگاہیں چار کرنا، اپناحسن وجمال دکھاتے پھرنا وغیرہ۔یہاں لباس کے قانون کا مسئلہ بیان نہیں ہو رہا، یہی وجہ ہے کہ خواتین کو بھی زینت چھپانے کا حکم دیا گیا ہے، کیونکہ یہاں پردہ اور لباس نہیں، بلکہ رویہ زیر بحث ہے۔
تین رویے ہیں، جو جنسی بے راہ روی کی راہ کھولتے ہیں:
ایک نگاہ بازی ، جس میں صنف مخالف کے سراپے کو نہارا جاتا اور یوں یہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ دیکھنے والافریفتہ حسن و جمال ہے، تاکہ اس کو اپنی طرف مائل کرے۔اس کے سدباب کے لیے غض بصر کا حکم آیا ہے۔
دوسرے شرم گاہوں سے متعلق فحش حرکات وسکنات، حیلے بہانے سے شرم گاہ ظاہر کرنا وغیرہ۔ یہ صنف مخالف کو مائل بہ گناہ کرنے کاسریع ترین طریقہ ہے ۔ اس کے روکنے کے لیے حفظ فروج کا حکم آیا ہے۔
تیسرے بن ٹھن کر عشوہ و ادا دکھانا، اس کی برائی سے بچانے کے لیے اخفاے زینت کا حکم آیا ہے۔

دلیل و شاہد

ہمارے تھیسز کے حق میں یہ بات یہاں سے معلوم ہو رہی ہے کہ یہاں عورت کو گھر میں ٹکے رہنے کا نہیں کہا گیا ، بلکہ ان تین امور میں احتیاط برتنے کا حکم دیا گیا ہے۔گویا اگر کوئی عورت ان امور کی پاس داری کرتے ہوئے معاشرے میں تعمیری و ملی کام کرسکتی ہے تو اسے کم ازکم ان آیات کے لحاظ سے شرعاً کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔یعنی اس مقام میں کوئی آیت ایسی نہیں ہے جو عورت کے دائرۂ کار کو متعین کرتی ہو۔
معاشرے میں مردو عورت کے مابین تعلق میں خرابی کے پیدا ہونے کا امکا ن ان احکام کا سبب ہے، یہ حکم وضعی ہے۔اس حکم کا تعلق جس قدر گھر میں رہ کر ہے، اسی قدر گھر سے باہر ہے۔ لہٰذا اسے عورت کے گھر سے باہر نکلنے میں مانع نہیں مانا جاسکتا، مثلاً جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’الحمو الموت‘۷؂ (دیور موت ہے) تو اس کے معنی ہر گز یہ نہیں ہیں کہ دیور کو گھر سے نکال دیا جائے، حالاں کہ اس فرمان کا سبب بھی وہی ہے جو حجاب کا ہے۔اس لیے یہ مانع نہیں، بلکہ محض غایت احتیاط کا اسلوب ہے۔
عورت کے گھر سے باہر نکلنے کے لیے کوئی وضعی یا تکلیفی حکم یہاں موجود نہیں ہے۔یعنی یہاں کوئی ایسا مانع بیان نہیں ہو ا کہ جس کی وجہ سے ہم عورت کو منع کرسکیں۔

دوسرا مقام

وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا یَرْجُوْنَ نِکَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْھِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَھُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجٰتٍ م بِزِیْنَۃٍ وَاَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌلَّھُنَّ وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ لَیْسَ عَلَی الْاَعْمٰی حَرَجٌ وَّلَا عَلَی الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّلَا عَلَی الْمَرِیْضِ حَرَجٌ وَّلَا عَآٰی اَنْفُسِکُمْ اَنْ تَاْکُلُوْا مِنْم بُیُوْتِکُمْ اَوْ بُیُوْتِ اٰبَآءِکُمْ اَوْبُیُوْتِ اُمَّھٰتِکُمْ اَوْبُُیُوْتِ اِخْوَانِکُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخَوٰتِکُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَعْمَامِکُمْ اَوْ بُیُوْتِ عَمّٰتِکُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخْوَالِکُمْ اَوْ بُیُوْتِ خٰلٰتِکُمْ اَوْ مَا مَلَکْتُمْ مَّفَاتِحَہٓٗ اَوْ صَدِیْقِکُمْ لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْکُلُوْا جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًا فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُےُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَآٰی اَنْفُسِکُمْ تَحِیَّۃً مِّنْ عِنْدِاللّٰہِ مُبٰرَکَۃً طَیِّبَۃً کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ.(۲۴: ۶۰۔۶۱)

* نکاح کی توقع سے بڑی عمر والی خواتین، وہ دوپٹا یا چادر اتار سکتی ہیں، جو سینے پر زینت چھپانے کے لیے ڈالی گئی تھی، لیکن یہ بھی اس وقت کہ جب ’تبرج‘ پیش نظر نہ ہو ۔ یہاں ’یُبْدِیْنَ‘ کے بجاے ’متبرجات‘ کا لفظ آیا ہے۔ اس کے معنی دکھانے کے بھی ہیں اور مزین کرنے کے بھی، ’تبرج بزینۃ‘، کے اس صورت میں دومعنی ممکن ہیں: ایک دکھانے کے معنی میں یہ ’یبدین‘ سے زیادہ شدت اپنے اندر رکھتا ہے۔ یعنی حیا داری کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اظہار زینت۔ التیفاشی (۱۹۸۰) نے لکھا ہے: ’وتبرج المرأۃ وہو تعرضہا لأن تظہرَ وتُریَ‘ (ص ۱۹۹)۔ اگر ایساارادہ نہ ہو تو یہ کپڑااتارنا منع نہیں ہے۔ 
دوسرے معنی سجنے کے ہیں، یعنی بناؤ سنگھار سے بن ٹھن جانا، یعنی اگر ان عورتوں نے بناؤ سنگھاریا زیبایش نہ کی ہو تو صرف اسی صورت میں گریبان سے دوپٹا ہٹا سکتی ہیں۔
* ’غَیْرَ مُتَبَرِّجَاتٍ بِزِیْنَۃٍ‘ کا لفظ قرینہ ہے اس بات کا کہ:
o ایک یہ حکم ’وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِھِنَّ عَلٰی جُیُوْبِہِنَّ‘ (النور ۲۴: ۳۱) میں تخفیف ہے، کیونکہ وہ بھی زینت سے متعلق تھا اور یہ یھی زینت سے متعلق کیا گیا ہے ۔اور
o دوسرے یہ کہ زینت سے مراد جسم دکھانا نہیں ہے،محض حسن و جمال کا اظہار ہے۔ کیونکہ ’متبرج‘ برہنگی کے لیے استعمال نہیں ہوتا۔
o ’غیر متبرجات‘ اسم صفت ہے جو وصف یا طرز عمل پر دلالت کرتا ہے، اور شدتِ عمل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
* دوستوں کے گھروں میں جاکر مل کر یا الگ الگ کھانے کی اجازت ہے۔ یہ بات ان الفاظ میں کہی گئی ہے: ’صَدِیْقِکُمْ لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْکُلُوْا جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًا‘۔ قرینہ واضح ہے کہ مردو عورت کے اختلاط کی بات ہورہی ہے، لہٰذا اکٹھے اور الگ الگ کھانے کی مراد انھی صنفوں کا اجتماع و افتراق ہے۔

دلیل و شاہد

یہاں بھی کوئی ایسی بات موجود نہیں ہے جو دائرۂ کار کو متعین کرتی ہو۔ بلکہ یہاں مردو زن کے پاکیزہ اختلاط پر مزید تائیدی احکام ہیں، جیسے کہ مل کر دوستوں کے گھر کھانا کھانا وغیرہ۔
یہاں بھی کوئی وضعی و تکلیفی امور عورت کے لیے بیرونی دائرۂ عمل کے لیے مانع نہیں بنتا۔ اگر کوئی مانع یہاں بیان ہوا ہے تو وہ ’تبرج الجاہلیت‘ ہے۔ جس کا تعلق ’وضع ثیاب‘ سے ہے نہ کہ گھر سے نکلنے سے۔

تیسرا مقام

اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ لَعَنَھُمُ اللّٰہُ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَاَعَدَّ لَھُمْ عَذَابًا مُّھِیْنًا وَالَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اکْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُھْتَانًا وَّاِثْمًا مُّبِیْنًا یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ وَبَنٰتِکَ وَنِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْھِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِھِنَّ ذٰلِکَ اَدْآٰی اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلاَ یُؤْذَیْنَ وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا لَءِنْ لَّمْ یَنْتَہِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ وَّالْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِیْنَۃِ لَنُغْرِیَنَّکَ بِھِمْ ثُمَّ لَایُجَاوِرُوْنَکَ فِیْھَآ اِلَّا قَلِیْلاً مَّلْعُوْنِیْنَ اَیْنَمَا ثُقِفُوْٓا اُخِذُوْا وَقُتِّلُوْا تَقْتِیْلاً سُنَّۃَ اللّٰہِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلاً.(۳۳: ۵۷۔۶۲)

یہ احکام منافقین کی طرف سے ’أذیۃ المومنین‘ کے ذیل میں آئے ہیں، یعنی اذیت سے بچنے کے لیے آیت ۵۹ میں ’فَلاَ یُؤْذَیْنَ‘ سے یہی وجہ بتائی گئی ہے۔
* اسی اذیت سے بچنے کے لیے درج ذیل حکم دیا جارہا ہے:

o جلباب کی قسم کی چادروں کا گھونگھٹ نکال لیں تاکہ پہچانی جائیں اور اذیت نہ دی جائے۔اگر منافقین پھر بھی باز نہیں آئے ، تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور مدینہ سے کھدیڑ دیے جائیں گے۔اور وہ جہاں پائے مار ڈالے جائیں گے۔

* اوپر کے دونوں نکات سے اس حکم کی نوعیت دینی نہیں لگ رہی ہے، بلکہ ایک صورت حال سے نبٹنے کی لگ رہی ہے۔ 
* یہاں تمام مسلمان مرادنہیں ہیں، بس وہ مراد ہیں جن کو منافقین اذیت دے رہے تھے۔ ’ذٰلِکَ اَدْنآی اَنْ یُعْرَفْنَ فَلاَ یُؤْذَیْنَ‘ کے الفاظ اس بات کا واضح ثبوت ہیں۔اس اذیت کا ہدف غالباً نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ سرکردہ مسلمان بھی تھے۔جیسے ابو بکر و عمر، عثمان و علی رضی اللہ عنہم ۔ ان کو بدنام کرنے سے اسلام بدنام ہو سکتا تھا کہ دیکھو اسلام نے ایسے لوگ تیار کیے ہیں، جن کی بیگمات یوں ہیں اور یوں ہیں۔اس کا دوسرا مقصد مسلمانوں کو اذیت دینا تھا، حاسد کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ عزت والے لوگوں کو بدنام کرکے اپنے حسدکے جذبے کو ٹھنڈا کرتے ہیں۔ اسی طرح اس سے مقصد فتنہ پیدا کرنا بھی تھا۔منافق اپنے لیڈروں کی شہ پر یہ چاہتے تھے کہ اکابرین امت پر تہمت دھریں، جس سے وہ غصہ میں آکر کوئی اقدام کریں گے، اور جھگڑا اور فساد پیدا ہو گا۔ جس سے مدینہ کی حکومت کمزور ہو گی۔ نتیجتاً اسلام کمزور ہوگا، اور اسے سیاسی اور سماجی زک پہنچے گی، اور دشمنان اسلام کو اس نئے مذہب کو کچلنے کا موقع مل جائے گا۔ لیکن قرآن مجید نے اس کا بالکل الگ قسم کا حل تجویزکیا اور منافقین کی ساری پلاننگ ختم ہو کررہ گئی۔

دلیل و شاہد

یہاں تو حیرت انگیزصورت سامنے آرہی ہے۔ یعنی مسلمان خواتین پر الزامات لگ رہے ہیں۔اور ان کے لیے باہر جانے میں عزت و ناموس پر تہمتیں لگنے کے خطرات موجود ہیں، تب بھی اللہ تعالیٰ یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ گھروں سے کیوں نکلتی ہو۔ بس چادر لینے کا حکم دیا ہے تاکہ ایک علامت مقرر ہو جائے اور منافقین اپنی حرکتوں کے لیے بہانے نہ بنا سکیں۔ حالاں کہ اگر اسلام کا مزاج یہی تھا کہ عورت گھر میں ٹکی رہے تو بلاشبہ سب سے آسان راستہ یہ تھا کہ اسلام پابندی لگا دیتا۔ کم از کم اتنا ہی کہہ دیتا کہ کم نکلا کرو۔
یہاں وضعی حکم یہ ہے کہ منافقین کی ایذا جلابیب کے استعمال کا سبب ہے۔اور منافقین کی ریشہ دوانیوں سے بچنے کے لیے حکم تکلیفی یہ ہے کہ جلباب کو تعرف کے لیے استعمال کیا جائے، تاکہ منافقین کی طرف سے آنے والی ایذا سے بچا جاسکے۔

چوتھا مقام

قرآن مجید کے ان تمام مقامات سے یہ بات واضح ہے کہ نامحرم عورت و مرد کو باہم ملتے وقت کچھ آداب سکھائے گئے ہیں جن کا تعلق زیادہ تر لباس اور اس سے متعلق احتیاط سے ہے یا رویوں اور ان میں حیا سوز حرکات و سکنات سے ہے ۔ان آداب کو قانونی شکل دے کر لازم کردیا گیا ہے تاکہ ان سے انحراف نہ ہو اور معاشرہ اپنی پاکیزہ روی پر قائم رہے۔ان آداب و احکام دینے ہی سے یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچ جاتی ہے کہ مردو عورت کا معاشرے میں اختلاط ہو گا، تبھی تو قانون سازی کی گئی ہے۔ وگرنہ اتنا ہی قانون کافی تھا کہ عورتیں مردوں کے سامنے آئیں ہی نہیں۔
ان آداب و احکام میں کہیں بھی کوئی ایسا حکم نہیں ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ عورت کو معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنے سے روکا گیا ہو۔ اسے ان آداب میں رہتے ہوئے آنے جانے، اٹھنے بیٹھنے اور کام کاج میں کوئی قدغن نہیں ڈالی گئی ہے۔البتہ قرآن مجید میں ایک حکم ایسا ہے جس سے یہ بات نکالی جاسکتی ہے ۔وہ حکم سورۂ احزاب کی درج ذیل آیات میں آیا ہے:

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِہٖ مَرَضٌ وَّقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاھِلِیَّۃِ الْاُوْلٰی وَ اَقِمْنَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتِیْنَ الزَّکٰوۃَ وَاَطِعْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا وَاذْکُرْنَ مَا یُتْلٰی فِیْ بُیُوْتِکُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰہِ وَالْحِکْمَۃِ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا.(۳۳: ۳۲۔۳۴)

ان آیات میں ازواج مطہرات کو درج ذیل احکام دیے گئے ہیں:
o آواز میں لوچ پیدا نہ کریں، کہ دل میں منافقت کا روگ رکھنے والے کچھ طمع خام میں مبتلا ہو جائیں،
o سیدھی بات کریں، 
o گھروں میں ٹکی رہیں، اور دورِ جاہلیت کے طریقے پر تبرج نہ کریں،
o نماز اور زکوٰۃ کا اہتمام کریں،
o اللہ اور رسول کی اطاعت کریں،
o قرآن میں دل لگائیں تاکہ اس کی آیات اور حکمت سے تذکیر حاصل ہو۔
ان احکام میں ایک حکم گھر میں ٹکے رہنے کا دیا گیا ہے۔یہ حکم ازواج مطہرات کے لیے دیا گیا ہے۔ یہ ’یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ‘ (آیت ۳۲) اور ’اَھْلَ الْبَیْتِ‘ (آیت ۳۳) سے واضح ہے۔ لہٰذا ’قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ‘ کا حکم ازواج مطہرات کے ساتھ خاص ہے۔ عام مسلمان عورتیں اس کی مکلف نہیں ہیں۔ علامہ الجصاص (۱۴۰۵ھ) نے ’’احکام القرآن‘‘ میں لکھا ہے: ’وقَوْلُہُ تَعَالٰی وَقَرْنَ فِيْ بُیُوْتِکُنَّ رَوٰیْ ہِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیْرِیْنَ قَالَ: قِیْلَ لِسَوْدَۃِ بِنْتِ زَمْعَۃَ‘ (۵/ ۲۲۹)۔ سودہ رضی اللہ عنہا امہات المومنین میں سے ہیں۔
دور جدید میں بعض علما نے اس سے یہ استدلال کیا ہے کہ ازواج مطہرات باقی امت کی عورتوں کے لیے اسوہ ہیں۔ یہ بات باقی امور میں درست ہے، لیکن اس حکم میں درست نہیں ہے۔ اس لیے کہ یہاں یہ فرمایا گیا ہے کہ ’لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِنَ النِّسَآءِ‘ یعنی اس معاملے میں تم باقی عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ لہٰذا گھر میں ٹکے رہنے کا یہ حکم امت کی دیگر عورتوں کے لیے ہر گز نہیں ہے۔
بعض لوگوں نے یہ استدلال کیا ہے کہ یہ عام ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس حکم میں ’کُمْ‘ یعنی مذکر مخاطب جمع کا صیغہ استعمال کرکے اسے عام کردیا ہے، بلکہ یہ عورتوں کے لیے بھی خاص نہیں رہا، مرد بھی اس میں شامل ہو گئے ہیں۔اس غلطی کی وجہ یہ ہے کہ اس گروہ کو عربی زبان کے اس اسلوب کی خبر نہیں ہے کہ اہل بیت کے بعد ضمیر مذکر جمع کی آتی ہے، خواہ اس میں ایک ہی بیوی مخاطب ہو، خواہ ایک سے زیادہ۔ دونوں صورتوں میں اس میں مرد شامل نہیں ہو سکتے۔ اس کی ایک مثال سیدہ سارہ زوجہ ابراہیم علیہ السلام کے لیے قرآن مجید ہی میں دیکھیے کیا الفاظ استعمال ہوئے ہیں:

قَالُوْا اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ رَحْمَتُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ عَلَیْکُمْ اَہْلَ الْبَیْتِ اِنَّہُ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ.(ہود۱۱: ۷۳)
’’فرشتوں نے سیدہ سارہ سے کہا: کیا آپ اللہ کے حکم سے متعجب ہیں، اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں، آپ پر اے اہل بیت، اللہ تعالیٰ ستودہ صفات و بزرگی ہیں۔‘‘

دلیل و شاہد

قرآن مجید کے اس مقام سے ازواج مطہرات کے لیے بلاشبہ یہ حکم معلوم ہوتا ہے کہ انھیں ان کی خاص حیثیت کی وجہ سے یہ حکم دیا گیا تھا۔وہ عام عورتوں سے کئی اعتبار سے ممتاز تھیں، جیسے مومنین کے لیے ان کی حرمت ماں جیسی قائم کی گئی۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے کی نمایندہ تھیں،ان کی پاک بازی اور تہمت سے پاک ہونے پر نبی اکرم کی عظمت اور مسلمانوں کی پوری جماعت کی عزت منحصر تھی۔بلاشبہ اللہ تعالیٰ منافقین کی ریشہ دوانیوں سے انھیں بچانے کے لیے سخت قانون سازی بھی کر سکتے تھے، لیکن اس سے اسلام کو نقصان پہنچتا، اس لیے ازواج مطہرات پر پابندی لگائی گئی تاکہ کسی فتنہ و فساد کے بغیر ہی مسئلہ حل ہو جائے ۔دوسری طرف منافقین کو یہ کہا گیا کہ وہ اب بھی اگر باز نہ آئے تو ان پر شدید گرفت کی جائے گی اور ان کو دیس نکالا دے دیا جاے گا۔
اس مقام سے بھی ایسی کوئی بات ثابت نہیں ہوتی کہ جس سے یہ معلوم ہو کہ عورت کو مطلقاً معاشرتی کاموں میں آنے جانے سے روکا گیا ہو۔ یہاں ایک حکم تکلیفی ’قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ‘ کے لیے منافقین کی موجود گی ایک مانع ہے۔ لیکن یہ مانع اس وقت کے لیے خاص ہے جب وہ منافقین موجودتھے ، جو ازواج مطہرات کے لیے دل میں برائی رکھتے تھے۔یہ بات بالکل واضح ہے کہ منافقین کا تعلق ہے ہی عہد نبوت سے۔ آج کون ہو گا جس کو ستانے والے کو منافق کہا جائے گا۔ اس لیے کہ پورا امکان ہے کہ جس کو ستایا جارہا ہے وہ خود غلط ہو۔

مجموعی تبصرہ

ان تمام احکام میں جن کا ہم نے اوپر مطالعہ کیا ہے اگر حکم وضعی کی طرز پر(ذرا وسعت کے ساتھ، یعنی حکم اور سیاق و سباق کے اعتبار کیے بغیر) عورت کے گھر سے باہر نکلنے کے مانع کو اخذ کیا جائے تو وہ درج ذیل چیزیں وضعیت کا امکان رکھتی ہیں:
۱۔ منافقین کی موجودگی
۲۔ تقویٰ
۳۔ حیا
۴۔تزکیہ
۵۔تہمت
۶۔ ابداے زینت
پہلی چیز آج موجود ہی نہیں ہے۔ جبکہ باقی تمام امور مانع نہیں ہیں۔بلکہ دین کے مطالبات کی علت اور مقاصد ہیں۔جن لوگوں نے انھیں مانع قرار دیا ہے، وہ شریعت کے مزاج سے اور اصول فقہ کا صحیح اطلاق نہیں کرسکے۔وگرنہ یہ امور آج تک کسی عالم نے بطور مانع بیان ہی نہیں کیے۔ مثلاً کیا کسی نے لکھا ہے کہ تقویٰ نماز کے لیے وضعی ہے؟ ہاں یہ چیزیں بطور مقصود و مطلوب زیر بیان آئی ہیں۔ابداے زینت البتہ عورت کے دائرۂ کار سے متعلق مانع تو ہر گز نہیں ہے، لیکن یہ گریبان پر کپڑا لینے کا سبب ضرورہے۔

فصل: حدیث اور عورت کا دائرۂ کار

اس فصل میں ہم ان احادیث کا تذکرہ کریں گے، جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عہد نبوی میں عورت زندگی کے ہر میدان میں کام کرتی رہی ہے۔ میری نظر سے اس موضوع پر سینکڑوں حدیثیں گزری ہیں، لیکن یہاں مقالے کی تنگ نائے کی وجہ سے چند ایک کا ذکر کروں گا تاکہ ابلاغ مدعا کے لیے اور میرے تھیسزکے ثبوت کے لیے مواد فراہم ہوسکے۔

احادیث اور عورت کا دائرۂ کار

احادیث میں بے شمار ایسے واقعات ریکارڈ پر موجود ہیں ، جن سے نبی اکرم اور صحابہ کے عہد میں عورت کی وہ صورت نظر نہیں آتی ، جو آج کل ہمارے مذہبی تصور کے مطابق ہونی چاہیے۔ذیل کی سطور میں ہم ان واقعات میں سے چند ایک ذکرکریں گے ، جس سے یہ اندازہ لگانا ممکن ہو گا کہ عہد نبوی اور عہد خلافت راشدہ میں عورت معاشرے میں کس قسم کی آزادی رکھتی تھی ، او ر اس پر کس قسم کی پابندیاں تھیں۔ان احادیث کے مطالعے سے یہ بات واضح ہو گی کہ ہمارا دینی تصور دراصل نہ قرآن سے بنا ہے اور نہ احادیث سے، بلکہ محض اپنے یا علاقائی تصورات پرقائم ہے۔

نامحرم مرد و زن کی باہم علیک سلیک اور اکٹھے ہو کر کوئی کام کرنا

صحیح بخاری کتاب الجمعۃ، میں ’بَابُ قَوْلِ اللّٰہِ تَعَالٰی: (فَإِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوۃُ فَانْتَشِرُوْا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ)‘ میں یہ حدیث وارد ہے:

۱۔ حَدَّثَنِيْ أَبُوْ حَازِمٍ، عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: کَانَتْ فِیْنَا امْرَأَۃٌ تَجْعَلُ عَلٰی أَرْبِعَاءَ فِيْ مَزْرَعَۃٍ لَہَا سِلْقًا، فَکَانَتْ إِذَا کَانَ یَوْمُ جُمُعَۃٍ تَنْزِعُ أُصُوْلَ السِّلْقِ، فَتَجْعَلُہُ فِيْ قِدْرٍ، ثُمَّ تَجْعَلُ عَلَیْہِ قَبْضَۃً مِنْ شَعِیْرٍ تَطْحَنُہَا، فَتَکُوْنُ أُصُوْلُ السِّلْقِ عَرْقَہُ، وَکُنَّا نَنْصَرِفُ مِنْ صَلٰوۃِ الجُمُعَۃِ، فَنُسَلِّمُ عَلَیْہَا، فَتُقَرِّبُ ذٰلِکَ الطَّعَامَ إِلَیْنَا، فَنَلْعَقُہُ وَکُنَّا نَتَمَنّٰی یَوْمَ الجُمُعَۃِ لِطَعَامِہَا ذٰلِکَ.(بخاری، رقم ۹۳۸)
’’ابو حازم سہل بن سعد سے روایت کرتے ہیں کہ سہل کہتے ہیں کہ ہمارے ادھر ایک خاتون تھیں، وہ اپنے کھیت کے نالوں (کھالیوں) میں چقندر بوتی تھی، تو جمعہ کے دن وہ ان کی جڑوں کو (یعنی چقندر کو) اکھاڑ لاتی، پھر اسے ایک ہنڈیا میں چڑھاتی، پھر پسے ہوئے مٹھی بھر جو ان میں ڈال دیتی، اس کھانے میں چقندر ہڈیوں یا بوٹیوں کا کام کرتے ۔ہم جمعہ کی نماز سے پلٹتے تو اس عورت کو آکر سلام کہتے ، اور وہ اس کھانے کو ہمارے قریب کرتی تو ہم اسے (انگلیوں سے لگا لگا کر )چاٹ لیتے ، ہمارا حال یہ تھا کہ اس کے اس کھانے کی وجہ سے جمعہ کا شدت سے انتظار کرتے۔‘‘

دلیل و شاہد

اس حدیث میں ایک سے زیادہ مردوں کا جمعہ کے بعد ایک عورت کے پاس جاکر بیٹھنا اور کھانا کھانا معلوم ہوتا ہے۔یہ چیز آج ہمارے دینی تصور سے بہت مختلف ہے۔یعنی مرد و عورت کا پاکیزہ طریقے سے باہم اختلاط ہوتا تھا۔ واضح رہے کہ اسی حدیث پر ’’کتاب الاستئذان‘‘ میں امام بخاری نے جو عنوان قائم کیا ہے، وہ یہ ہے کہ مرد عورتوں کو اور عورتیں مردوں کو سلام کرسکتی ہیں: ( بَابُ تَسْلِیْمِ الرِّجَالِ عَلَی النِّسَاءِ، وَالنِّسَاءِ عَلَی الرِّجَالِ

مرد و عورت کی باہم میل ملاقات اور مشاورت

۲۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَۃَ، قَالَ: قَالَ لِيْ أَبُوْ قِلاَبَۃَ: أَلاَ تَلْقَاہُ فَتَسْأَلَہُ؟ قَالَ فَلَقِیْتُہُ فَسَأَلْتُہُ فَقَالَ: کُنَّا بِمَاءٍ مَمَرَّ النَّاسِ، وَکَانَ یَمُرُّ بِنَا الرُّکْبَانُ فَنَسْأَلُہُمْ: مَا لِلنَّاسِ، مَا لِلنَّاسِ؟ مَا ہٰذَا الرَّجُلُ؟ فَیَقُوْلُوْنَ: یَزْعُمُ أَنَّ اللّٰہَ أَرْسَلَہُ، أَوْحٰی إِلَیْہِ، أَوْ: أَوْحَی اللّٰہُ بِکَذَا، فَکُنْتُ أَحْفَظُ ذٰلِکَ الکَلاَمَ، وَکَأَنَّمَا یُقَرُّ فِيْ صَدْرِيْ، وَکَانَتِ العَرَبُ تَلَوَّمُ بِإِسْلاَمِہِمُ الفَتْحَ، فَیَقُوْلُوْنَ: اتْرُکُوْہُ وَقَوْمَہُ، فَإِنَّہُ إِنْ ظَہَرَ عَلَیْہِمْ فَہُوَ نَبِيٌّ صَادِقٌ، فَلَمَّا کَانَتْ وَقْعَۃُ أَہْلِ الفَتْحِ، بَادَرَ کُلُّ قَوْمٍ بِإِسْلاَمِہِمْ، وَبَدَرَ أَبِيْ قَوْمِيْ بِإِسْلاَمِہِمْ، فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ: جِءْتُکُمْ وَاللّٰہِ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَقًّا، فَقَالَ: صَلُّوْا صَلٰوۃَ کَذَا فِيْ حِیْنِ کَذَا، وَصَلُّوْا صَلٰوۃَ کَذَا فِيْ حِیْنِ کَذَا، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلٰوۃُ فَلْیُؤَذِّنْ أَحَدُکُمْ، وَلْیَؤُمَّکُمْ أَکْثَرُکُمْ قُرْآنًا. فَنَظَرُوْا فَلَمْ یَکُنْ أَحَدٌ أَکْثَرَ قُرْآنًا مِنِّيْ، لِمَا کُنْتُ أَتَلَقَّی مِنَ الرُّکْبَانِ، فَقَدَّمُوْنِيْ بَیْنَ أَیْدِیْہِمْ، وَأَنَا ابْنُ سِتٍّ أَوْ سَبْعِ سِنِیْنَ، وَکَانَتْ عَلَيَّ بُرْدَۃٌ، کُنْتُ إِذَا سَجَدْتُ تَقَلَّصَتْ عَنِّيْ، فَقَالَتِ امْرَأَۃٌ مِنَ الحَيِّ: أَلاَ تُغَطُّوْا عَنَّا اسْتَ قَارِءِکُمْ؟ فَاشْتَرَوْا فَقَطَعُوْا لِيْ قَمِیْصًا، فَمَا فَرِحْتُ بِشَيْءٍ فَرَحِيْ بِذٰلِکَ القَمِیْصِ.(بخاری، رقم ۴۳۰۲)
’’عمر و بن سلمہ کہتے ہیں کہ مجھے ابو قلابہ نے کہا کہ ایسا کیوں نہیں کرتے کہ تم اس سے مل کر پوچھ لو۔ تو کہتے ہیں کہ میں ان سے ملا اور ان سے پوچھا تو کہنے لگے کہ ہم جس (پانی) کنوئیں کے پاس مقیم تھے، وہ لوگوں کی گزر گاہ پر تھا۔ ہمارے پاس سے شتر سوار گزرتے تھے، تو ہم ان مسافروں سے لوگوں کے بارے میں پوچھتے رہتے تھے کہ ان کے کیا حال ہیں؟ اور ان کی کیا خبر یں ہیں؟ اوریہ بھی پوچھتے کہ اس شخص کا کیا معاملہ ہے؟ تو وہ کہتے کہ وہ اپنے بارے میں یہ خیال کرتا ہے کہ اسے اللہ نے مبعوث کیا ہے اور اس کی طرف اپنی وحی بھیجی ہے۔ یا یہ کہتے کہ یہ اور یہ وحی اس پر اتری ہے(یعنی کچھ آیات سنا کر کہتے کہ اب اس پر یہ وحی آئی ہے)۔میں اس کلام کو یاد کرلیتا ۔ یوں لگتا تھاکہ گویا وہ کلام میرے سینے میں اتار دیا جاتا تھا۔ عرب اسلام لانے کے لیے فتح (فیصلے) کا انتظار کررہے تھے کہ نبی اکرم اور ان کی قوم کو ان کے حال پر چھوڑ دو کہ اگر یہ شخص اپنی قوم پر غالب آگیا تو پھر (یہ فیصلہ ہو جائے گا کہ) یہ سچا رسول ہے۔ چنانچہ جب فتح مکہ کا واقعہ ہوا تو تمام لوگ اسلام میں تیزی سے داخل ہونے لگے۔ میرے والد میری قوم کے مقابلے میں پہلے اسلام لائے ، اور واپس آکر اپنی قوم سے بولے کہ میں تم لوگوں کے پاس سچے نبی سے مل کرآیا ہوں، انھوں نے کہا ہے کہ فلاں وقت میں یہ اور ایسی نماز پڑھنی ہے اور فلاں وقت میں یہ اور یوں نماز پڑھنی ہے۔ تو جب نماز کا وقت آئے تو تم میں سے ایک آدمی اذان دے اور جسے قرآن سب سے زیادہ آتا ہو، وہ امامت کرائے۔ تو جب انھوں نے دیکھا تو مجھ سے زیادہ قرآن کو جاننے والا کوئی نہ تھا، کیونکہ میں شتر سواروں سے سیکھا کرتا تھا۔ تو انھوں نے مجھے امامت کے لیے اپنے آگے کھڑا کرلیا،جبکہ میں صرف چھ سات برس کا تھا۔ میری ایک ہی چادر تھی، جب میں سجدے میں جاتا تو وہ اکٹھی ہو جاتی۔ تو قبیلے کی ایک عورت نے یہ صورت دیکھ کر کہا کہ اپنے اس قاری کی شرم گاہ کو ہم سے کیوں نہیں چھپاتے؟ تو پھر انھوں نے میرے لیے ایک کپڑا خریدا اور اس سے کاٹ کر میری قمیض بنائی، میں کسی چیز سے کبھی اتنا خوش نہیں ہوا جتنا اس قمیض سے ہوا۔‘‘

دلیل و شاہد

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ فتح مکہ کے بعد بھی جبکہ پردے کے احکام اترے عرصہ بیت گیا تھا۔ عورتیں مسجد میں آتیں، اور نہ صرف آتیں، بلکہ مردوں کو مشورے بھی دیتی تھیں۔

مسجد میں عورتوں کا مردوں کے ہمراہ ہونا

اس قسم کے بے شمار واقعات احادیث کی کتب میں وارد ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ نامحرم مرد اور عورتیں مسجد میں آتے ، ایک دوسرے سے بات چیت کرتے تھے۔ مثلاً :

۳۔ عنِ بْنِ شہاب اَخْبَرَنِيْ عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ، أَنَّہُ سَمِعَ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِيْ بَکْرٍ تَقُوْلُ: قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ الْفِتْنَۃَ الَّتِيْ یُفْتَنُ بِہَا الْمَرْءُ فِيْ قَبْرِہِ، فَلَمَّا ذَکَرَ ذٰلِکَ ضَجَّ الْمُسْلِمُوْنَ ضَجَّۃً حَالَتْ بَیْنِيْ وَبَیْنَ أَنْ أَفْہَمَ کَلَامَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا سَکَنَتْ ضَجَّتُہُمْ قُلْتُ لِرَجُلٍ قَرِیْبٍ مِنِّيْ: أَيْ بَارَکَ اللّٰہُ لَکَ، مَاذَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِيْ آخِرِ قَوْلِہِ؟ قَالَ: ’’قَدْ أُوْحِيَ إِلَيَّ أَنَّکُمْ تُفْتَنُوْنَ فِي الْقُبُوْرِ قَرِیْبًا مِنْ فِتْنَۃِ الدَّجَّالِ‘‘. (سنن النسائی، رقم ۲۰۶۲)

’’ابن شہاب کہتے ہیں کہ عروہ بن زبیر نے مجھے بتایا کہ انھوں نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اسماء رضی اللہ عنہا کو سنا کہ وہ بتا رہی تھیں کہ آپ کھڑے ہو کر لوگوں کو قبر کے فتنوں کے بارے میں بتا رہے تھے جو آدمی کو قبر میں لاحق ہوں گے۔ جب آپ نے یہ باتیں بتائیں تو لوگ روتے ہوئے چیخنے لگے، ان کی چیخیں میرے سننے میں رکاوٹ بن گئیں کہ میں آپ کا کلام سمجھ سکوں۔ جب ان کاشور تھما، تو میں نے اپنے قریب بیٹھے ہوئے ایک آدمی سے کہا: اے بھائی، اللہ تمھارا بھلا کرے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری بات کیا کہی تھی؟تو اس آدمی نے کہا کہ آپ نے فرمایا ہے کہ مجھے وحی سے یہ بتایا گیاہے کہ تم لوگ دجال کے فتنے کے قریب آنے پر قبروں میں آزمائے جاؤ گے۔‘‘

دلیل و شاہد

اس حدیث میں یہ معلوم ہو رہا ہے کہ خطبۂ نبوی سنتے وقت مرد اورعورتیں قریب قریب بیٹھے تھے۔

میاں بیوی کا لعان غیر مردوں کے سامنے

اس حدیث کو بیان کرتے وقت امام بخاری رحمہ اللہ نے باب ہی یہ باندھا ہے کہ ’باب القضاء واللعان في المسجد بین الرجال والنساء‘، یعنی لعان اور اس کا فیصلہ مسجدمیں مردوں او ر عورتوں کے سامنے۔

۴۔ عن سہل بن سعد، أن رجلاً قال: یا رسول اللّٰہ، أرأیت رجلاً وجد مع امرأتہ رجلاً أیقتلہ ؟ فتلاعنا في المسجد وأنا شاہد.(بخاری، رقم ۴۲۳)
’’سہل بن سعد سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ کا کیا حکم ہو گا، اگر کوئی آدمی کسی کو اپنی بیوی کے ساتھ دیکھے ، تو آیا اسے قتل کردے۔ تو (آپ کے فیصلے کے مطابق) ان دونوں میاں بیوی نے مسجد میں لعان کیا اور سہل کہتے ہیں کہ میں وہاں موجود (یہ کارروائی دیکھ رہا) تھا۔‘‘

دلیل و شاہد

اس حدیث کے مطابق آپ نے عورت کی موجودگی کی وجہ سے مردوں کو مسجد سے نہیں نکالا۔ بلکہ ان کی موجودگی میں ہی جنس سے متعلق ایک معاملے میں مقدمے کا فیصلہ کیا اور پھر ان سے لعان کرایا۔

عورت کی مسجد میں سکونت

۵۔ عَنْ عَاءِشَۃَ، أَنَّ وَلِیْدَۃً کَانَتْ سَوْدَاءَ لِحَيٍّ مِنَ العَرَبِ، فَأَعْتَقُوْہَا، فَکَانَتْ مَعَہُمْ، قَالَتْ: فَخَرَجَتْ صَبِیَّۃٌ لَہُمْ عَلَیْہَا وِشَاحٌ أَحْمَرُ مِنْ سُیُوْرٍ، قَالَتْ: فَوَضَعَتْہُ ۔ أَوْ وَقَعَ مِنْہَا ۔ فَمَرَّتْ بِہِ حُدَیَّاۃٌ وَہُوَ مُلْقًی، فَحَسِبَتْہُ لَحْمًا فَخَطِفَتْہُ، قَالَتْ: فَالْتَمَسُوْہُ، فَلَمْ یَجِدُوْہُ، قَالَتْ: فَاتَّہَمُوْنِيْ بِہِ، قَالَتْ: فَطَفِقُوْا یُفَتِّشُوْنَ حَتّٰی فَتَّشُوْا قُبُلَہَا، قَالَتْ: وَاللّٰہِ إِنِّيْ لَقَاءِمَۃٌ مَعَہُمْ، إِذْ مَرَّتِ الْحُدَیَّاۃُ فَأَلْقَتْہُ، قَالَتْ: فَوَقَعَ بَیْنَہُمْ، قَالَتْ: فَقُلْتُ ہٰذَا الَّذِيْ اتَّہَمْتُمُوْنِيْ بِہِ، زَعَمْتُمْ وَأَنَا مِنْہُ بَرِیْءَۃٌ، وَہُوَ ذَا ہُوَ، قَالَتْ: فَجَاءَ تْ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَتْ، قَالَتْ عَاءِشَۃُ: فَکَانَ لَہَا خِبَاءٌ فِي المَسْجِدِ ۔ أَوْ حِفْشٌ ۔ قَالَتْ: فَکَانَتْ تَأْتِیَنِيْ فَتَحَدَّثُ عِنْدِيْ، قَالَتْ: فَلاَ تَجْلِسُ عِنْدِيْ مَجْلِسًا، إِلَّا قَالَتْ:

وَیَوْمَ الوِشَاحِ مِنْ أَعَاجِیبِ رَبِّنَا ... أَلاَ إِنَّہُ مِنْ بَلْدَۃِ الکُفْرِ أَنْجَانِيْ

قَالَتْ عَاءِشَۃُ: فَقُلْتُ لَہَا مَا شَأْنُکِ، لاَ تَقْعُدِیْنَ مَعِيَ مَقْعَدًا إِلَّا قُلْتِ ہٰذَا؟ قَالَتْ: فَحَدَّثَتْنِيْ بِہٰذَا الحَدِیْثِ.(بخاری، رقم ۴۳۹)

’’سیدہ عائشہ فرماتی ہیں، عربی قبیلے کی ایک سیاہ فام لونڈی تھی، جسے انھوں نے آزاد کردیا ہوا تھا، لیکن وہ ان کے ساتھ ہی رہتی تھی۔ تو ایک دن اسی قبیلے کی ایک بچی اس آزادکردہ لونڈی کے پاس آئی، اس نے سرخ لڑیوں والا ہار پہنا تھا۔ اس بچی نے وہ ہار اتارا یا خود ہی گرگیا تھا۔ تو جب وہ ہار نیچے گرا ہوا تھا ، تو ایک چیل آئی، اس نے اسے گوشت خیال کرکے جھپٹا مارا اور لے اڑی۔ قبیلے والوں نے وہ ہار بہت ڈھونڈا پر نہ ملا۔جب وہ ہار نہ ملا تو انھوں نے اس کا الزام میرے اوپر لگا دیا، اور میری تلاشی لینے لگے۔ حتیٰ کہ میری حیا والی جگہ کی بھی تلاشی لی۔ ابھی میں تلاشی کے بعد ان کے پاس ہی کھڑی تھی کہ اچانک وہی چیل پھر آئی اور اس نے وہ ہار زمین پر گرا دیا، اور وہ ان کے درمیان میں آگرا۔ تو میں نے ان سے کہا کہ یہ رہا وہ ہار جس کا تم مجھے الزام دے رہے تھے، جبکہ میں اس سے بری ہوں۔ اب اسے سنبھال لو۔ پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی اور مسلمان ہو گئی۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ اس کا مسجد میں خیمہ یا کٹیاتھی(جس میں وہ رہتی تھی)۔وہ میری پاس آتی تو مجھ سے باتیں کرتی، اور جب بھی میرے پاس بیٹھتی تو یہ شعر ضرور پڑھتی (جس کا ترجمہ ہے):

ہار والا دن میرے رب کے کرشموں میں سے ہے
سنو، اللہ نے مجھے کفر کی بستی سے نکالا ہے

تو سیدہ عائشہ کہتی ہیں کہ میں نے اس سے پوچھا کہ کیا معاملہ ہے، تم جب بھی میری پاس آتی ہویہ شعر ضرور پڑھتی ہو۔ تو پھر اس نے یہ(ہاراور چیل والی) کہانی مجھے سنائی۔‘‘

دلیل و شاہد

اس سے یہ معلوم ہو تا ہے کہ ایک اکیلی عورت مسجد میں خیمہ یا کٹیا میں سوتی تھی، امام بخاری نے اس حدیث پر جو باب باندھا ہے، وہ عورت کا مسجد میں سونا ہے۔

لباس کی ایک مشکل کے باوجود عورتوں کو مسجد میں آنے سے نہیں روکا گیا

۶۔ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: کَانَ رِجَالٌ یُصَلُّوْنَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَاقِدِيْ أُزْرِہِمْ عَلٰی أَعْنَاقِہِمْ، کَہَیْئَۃِ الصِّبْیَانِ، وَیُقَالُ لِلنِّسَاءِ: لاَ تَرْفَعْنَ رُءُ وْسَکُنَّ حَتّٰی یَسْتَوِيَ الرِّجَالُ جُلُوْسًا.(بخاری، رقم ۳۶۲)
’’سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بچوں کے کپڑا باندھنے کی طرح اپنی تہ بند گردن سے باندھ کر نماز پڑھتے تھے۔اس لیے عورتوں سے کہا جاتا تھا کہ وہ اس وقت تک اپنے سر نہ اٹھائیں جب تک کہ مرد سیدھے ہو کر بیٹھ نہ جائیں۔‘‘

دلیل و شاہد

ہجرت کے بعد، اور ویسے بھی صحراے عرب کے بادیہ نشین ہونے کی وجہ سے صحابہ غربت اور تنگ دستی کی حالت میں تھے۔اس لیے ان میں سے بہتوں کے پاس ایک ہی چادر ہوتی تھی، جسے وہ یوں باندھ لیتے تھے کہ بدن اور ستر دونوں ڈھک جائیں۔ لیکن سجدہ میں چادروں کے چھوٹا ہونے کی وجہ سے ستر عیاں ہو جاتا تھا۔اس لیے عورتوں کو سجدہ سے سر اٹھانے میں دیر کرنے کا حکم ملا۔ اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش نظر ویسی علیحدگی ہوتی جیسا ہم آج دین کا حکم سمجھتے ہیں تو یقیناً آسان حکم یہ تھا کہ عورتیں مسجد ہی میں نہ آیا کریں۔ تو باوجود اس کے کہ معاملہ مردوں کے ستر کے کھلنے کا تھا، — اور معلوم ہے کہ صنفی امور ہی وہ چیزیں ہیں جن کی وجہ ہی سے مرد و عورت کو علیحدہ رکھا جاتا ہے ، — عورتوں کو مسجد میں آنے سے نہیں روکا گیا۔

ابوبکررضی اللہ عنہ کا ایک عورت کو خود آمادۂ گفتگو کرنا

۷۔ عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِيْ حَازِمٍ، قَالَ: دَخَلَ أَبُوْ بَکْرٍ عَلَی امْرَأَۃٍ مِنْ أَحْمَسَ یُقَالُ لَہَا زَیْنَبُ، فَرَآہَا لاَ تَکَلَّمُ، فَقَالَ: مَا لَہَا لاَ تَکَلَّمُ؟ قَالُوْا: حَجَّتْ مُصْمِتَۃً، قَالَ لَہَا: تَکَلَّمِيْ، فَإِنَّ ہٰذَا لاَ یَحِلُّ، ہٰذَا مِنْ عَمَلِ الجَاہِلِیَّۃِ، فَتَکَلَّمَتْ، فَقَالَتْ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: امْرُؤٌ مِنَ المُہَاجِرِیْنَ، قَالَتْ: أَيُّ المُہَاجِرِیْنَ؟ قَالَ: مِنْ قُرَیْشٍ، قَالَتْ: مِنْ أَيِّ قُرَیْشٍ أَنْتَ؟ قَالَ: إِنَّکِ لَسَئُوْلٌ، أَنَا أَبُوْ بَکْرٍ، قَالَتْ: مَا بَقَاؤُنَا عَلٰی ہٰذَا الأَمْرِ الصَّالِحِ الَّذِيْ جَاءَ اللّٰہُ بِہِ بَعْدَ الجَاہِلِیَّۃِ؟ قَالَ: بَقَاؤُکُمْ عَلَیْہِ مَا اسْتَقَامَتْ بِکُمْ أَءِمَّتُکُمْ، قَالَتْ: وَمَا الأَءِمَّۃُ؟ قَالَ: أَمَا کَانَ لِقَوْمِکِ رُءُ وْسٌ وَأَشْرَافٌ، یَأْمُرُوْنَہُمْ فَیُطِیْعُوْنَہُمْ؟ قَالَتْ: بَلٰی، قَالَ: فَہُمْ أُولٰئِکِ عَلَی النَّاسِ.(بخاری، رقم ۳۸۳۴) 
’’ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ قبیلہ احمس کی ایک خاتون کے پاس تشریف لے گئے، جس کا نام زینب تھا، انھوں نے دیکھا کہ وہ کوئی بات ہی نہیں کررہی ہے۔ تو انھوں نے کہا: اس کو کیا ہے بولتی نہیں ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ خاموش حج کی نیت سے آئی ہے۔ ابوبکر صدیق نے اس سے کہا: باتیں کرو، خاموش حج جائز نہیں ہے، یہ اسلام سے پہلے کی باتیں ہیں۔ تو وہ باتیں کرنے لگی۔ اس نے آپ سے پوچھا: آپ کون ہیں؟ حضرت ابوبکر نے کہا: میں مہاجرین میں سے ہوں۔اس خاتون نے کہا: کن مہاجرین میں سے؟آپ نے کہا: قریشیوں میں سے۔ اس نے کہا: قریش کے کس گھرانے میں سے؟ آپ نے کہا: تم تو بہت سوال کرتی ہو۔ میں ابو بکر ہوں۔ تو اس عورت نے کہا کہ ہم اس خیر پر کب تک رہیں گے جو اللہ نے جاہلیت کے بعد ہمیں عطا کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: تم اس خیر پر اس وقت تک قائم رہوگے، جب تک تمھارے ائمہ تم کو اس پر قائم رکھ پائیں گے۔ اس نے کہا: یہ ائمہ کیا ہوتے ہیں؟ آپ نے کہا: کیا تمھاری قوم کے سردار اور اشراف نہیں ہیں، جو لوگوں کو حکم دیتے اور وہ ان کی اطاعت کرتے ہیں؟عورت نے کہا: ہاں، ہیں۔ آپ نے فرمایا: ہاں، یہی وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے ائمہ ہیں۔‘‘

دلیل و شاہد

ابو بکرصدیق اور وہ خاتون دونوں نامحرم تھے، لیکن انھوں نے باہم گفتگو کی، واقعہ کی تفصیلات سے معلوم ہورہا ہے کہ ابو بکر صدیق اور وہ خاتون کافی دیر مجلس میں رہے تبھی تو ان کے دل میں یہ سوال پیدا ہوا کہ یہ بات کیوں نہیں کررہیں، یقیناًابو بکر صدیق نے قرآن کے بتائے ہوئے آداب کا خیال رکھتے ہوئے اس کے بارے میں یہ اندازہ لگایا ہوگا۔

عورت اور زراعت و باغبانی

صحیح مسلم میں ایک طلاق یافتہ عورت کی زراعت کے بارے میں ایک واقعہ یوں ملتا ہے، جو عدت کے دوران ہی پھل وغیرہ توڑنے کی اجازت طلب کرتی ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے اجازت دے دیتے ہیں۔

۸۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ یَقُوْلُ: طُلِّقَتْ خَالَتِيْ، فَأَرَادَتْ أَنْ تَجُدَّ نَخْلَہَا، فَزَجَرَہَا رَجُلٌ أَنْ تَخْرُجَ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: بَلٰی فَجُدِّيْ نَخْلَکِ، فَإِنَّکِ عَسٰی أَنْ تَصَدَّقِيْ، أَوْ تَفْعَلِيْ مَعْرُوْفًا.
(رقم ۱۴۸۳) 
’’جابر بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ میری خالہ کو طلاق ہوئی، اس نے چاہا کہ وہ اپنے باغ کی کھجوریں برداشت کریں، تو ایک آدمی نے میری خالہ کو ڈانٹتے ہوئے گھر سے نکلنے سے روکا۔ تو میری خالہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، توآپ نے اس کی بات سن کر فرمایا: ہاں ہاں تم اپنے باغ سے پھل توڑو، جس کے بعد امید ہے تم صدقہ و زکوٰۃ بھی دو گی یا تم کوئی اوربھلا کام کرو گی۔‘‘

دلیل و شاہد

اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عورت کا کام کاج کے لیے نکلنے میں کوئی عیب نہیں ہے، یہاں تو صورت حال یہ ہے کہ عام حالات میں تو جائز ہونا الگ رہا، طلاق کی عدت کے دوران میں بھی ایسا ہو سکتاہے، یہ نہایت اہم ہے۔

ابراہیم رضی اللہ عنہ کا دایا کے گھر آنا جانا

۹۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: وُلِدَ لِي اللَّیْلَۃَ غُلَامٌ، فَسَمَّیْتُہُ بِاسْمِ أَبِيْ إِبْرَاہِیْمَ ثُمَّ دَفَعَہُ إِلٰی أُمِّ سَیْفٍ، امْرَأَۃِ قَیْنٍ یُقَالُ لَہُ أَبُو سَیْفٍ، فَانْطَلَقَ یَأْتِیہِ وَاتَّبَعْتُہُ، فَانْتَہَیْنَا إِلٰی أَبِيْ سَیْفٍ وَہُوَ یَنْفُخُ بِکِیْرِہِ، قَدِ امْتَلَأَ الْبَیْتُ دُخَانًا، فَأَسْرَعْتُ الْمَشْیَ بَیْنَ یَدَیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: یَا أَبَا سَیْفٍ أَمْسِکْ، جَاءَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَأَمْسَکَ فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالصَّبِيِّ، فَضَمَّہُ إِلَیْہِ....(مسلم، رقم ۲۳۱۵)
’’انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہتے ہیں کہ ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج رات میرے بیٹاہواہے، میں نے اس کا نام اپنے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کے نام پر رکھا ہے۔ پھر آپ نے ابنے بیٹے ابراہیم کو ام سیف کے سپرد کردیا، جو ایک لوہار کی بیوی تھی، جس کا نام ابو سیف تھا۔تو آپ اس خاتون کے پاس آتے جاتے تھے، میں بھی آپ کے ساتھ وہاں جاتا،تو جب ہم وہاں پہنچتے تو ابو یوسف کے پاس آتے، جو اپنی انگیٹھی میں دھونک رہا ہوتا تھا، اور پورا گھر دھوئیں سے بھر ا ہوتا تھا، تو میں نبی اکرم سے آگے آگے تیز چلتا اور ابو یوسف کو کہتا کہ ذرا رک جاؤ رسول اللہ تشریف لاتے ہیں۔آپ جب آتے تو بچے کو طلب کرتے اور اسے سینے سے لگاتے تھے...۔‘‘

دلیل و شاہد

ایک دایا کے ساتھ معاملہ کیا گیا، اور پیغمبر اسلام اور انس بن مالک ان کے گھر جاتے تھے۔ حالاں کہ یہ معاملہ خواتین کے ذریعے سے بھی ہو سکتا تھا۔

نامحرم کی تیمارداری

۱۰۔ عَنْ خَارِجَۃَ بْنِ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ أُمَّ العَلاَءِ، امْرَأَۃً مِنْ نِسَاءِہِمْ، بَایَعَتِ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَتْہُ: أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُوْنٍ طَارَ لَہُمْ فِي السُّکْنٰی، حِیْنَ اقْتَرَعَتِ الْأَنْصَارُ عَلٰی سُکْنَی المُہَاجِرِیْنَ، قَالَتْ أُمُّ العَلاَءِ: فَاشْتَکٰی عُثْمَانُ عِنْدَنَا فَمَرَّضْتُہُ حَتّٰی تُوُفِّيَ، وَجَعَلْنَاہُ فِيْ أَثْوَابِہِ....(صحیح بخاری، رقم ۳۹۲۹)
’’خارجہ بن زید کہتے ہیں کہ ام علاء انصار کی ایک خاتون جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ اسلام کی بیعت کی تھی ، نے بتایا کہ جب انصار کے لیے مہاجرین کے بارے میں سکونت کا قرعہ ڈالا گیا تو عثمان بن مظعون کی سکونت کا قرعہ ان کے گھرانے کے نام نکلا تھا، ام علاء نے بتایا کہ عثمان ان کے ہاں آکر بیمار ہو گئے، تو میں نے ان کی وفات تک ان کی تیمارداری کی ...۔‘‘

دلیل و شاہد

ایک نامحرم آدمی کی تیمار داری ایک عورت نے کی اور وفات تک کرتی رہیں۔

باہر کے روزہ مرہ کے کام

۱۱۔ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِيْ بَکْرٍ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْہُمَا، قَالَتْ: تَزَوَّجَنِي الزُّبَیْرُ، وَمَا لَہُ فِي الْأَرْضِ مِنْ مَالٍ وَلاَ مَمْلُوْکٍ، وَلاَ شَيْءٍ غَیْرَ نَاضِحٍ وَغَیْرَ فَرَسِہِ، فَکُنْتُ أَعْلِفُ فَرَسَہُ وَأَسْتَقِي المَاءَ، وَأَخْرِزُ غَرْبَہُ وَأَعْجِنُ، وَلَمْ أَکُنْ أُحْسِنُ أَخْبِزُ، وَکَانَ یَخْبِزُ جَارَاتٌ لِيْ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَکُنَّ نِسْوَۃَ صِدْقٍ، وَکُنْتُ أَنْقُلُ النَّوَی مِنْ أَرْضِ الزُّبَیْرِ الَّتِيْ أَقْطَعَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلٰی رَأْسِيْ، وَہِيَ مِنِّيْ عَلٰی ثُلُثَيْ فَرْسَخٍ، فَجِءْتُ یَوْمًا وَالنَّوَی عَلٰی رَأْسِيْ، فَلَقِیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمَعَہُ نَفَرٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَدَعَانِيْ ثُمَّ قَالَ: إِخْ إِخْ لِیَحْمِلَنِیْ خَلْفَہُ، فَاسْتَحْیَیْتُ أَنْ أَسِیْرَ مَعَ الرِّجَالِ، وَذَکَرْتُ الزُّبَیْرَ وَغَیْرَتَہُ وَکَانَ أَغْیَرَ النَّاسِ، فَعَرَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنِّیْ قَدِ اسْتَحْیَیْتُ فَمَضَی....(بخاری، رقم ۵۲۲۴) 
’’ابو بکر صدیق کی بیٹی اسماء رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ زبیر رضی اللہ عنہ نے جب مجھ سے شادی کی تو ان کے پاس سوائے ایک اونٹ اور گھوڑے کے کوئی مال تھا اور نہ غلام۔ میں اس گھوڑے کو چارہ ڈالتی، اور پانی پلاتی تھی،میں مشکیزے کی مرمت کرتی، آٹا گوندھتی، لیکن میں روٹی صحیح نہیں بنا تی تھی، انصاری ہمسائیاں مجھے روٹی بنا دیتی تھیں، وہ نہایت راست باز خواتین تھیں۔اور میں زبیر کی اس زمین سے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں دی تھی، وہاں سے کھجور کی گٹھلیاں سر پر اٹھا کر گھر لاتی تھی، وہ زمین ہمارے گھر سے دو تہائی فرسخ (دومیل)کے فاصلے پر تھی۔ تو ایک دن میں آرہی تھی ، اور گٹھلیاں میرے سر پر تھیں، تو میں راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی، آپ کے ہمراہ انصار کا ایک گروہ تھا۔ آپ نے مجھے دیکھا تو اپنی طرف بلایا، پھر اونٹ کو بیٹھنے کی آواز منہ سے نکالی کہ مجھے اپنے پیچھے بٹھالیں۔ میں اس بات سے شرمائی کہ اتنے مردوں کے ہمراہ سفر کروں۔ اور مجھے زبیر اوران کی غیرت کا خیال آیا، وہ بہت غیرت مند آدمی تھے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس کیا کہ میں شرما رہی ہوں تو آپ مجھے ساتھ بٹھائے بغیر آگے چل دیے...۔‘‘

دلیل و شاہد

اس حدیث میں تین باتیں ہیں:
o عورت کھیتی باڑی کے لیے دو میل تک کا سفر اکیلے کرتی ہے۔
o وہ مشکل اور مشقت بھرے کام کرتی ہے۔
o رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتنے مردوں کے ہمراہ ہونے کے باوجود انھیں ساتھ بٹھانا چاہتے ہیں۔

مجموعی تبصرہ

کسی بات کے ثبوت کے لیے ایک ہی نص بھی کافی ہوتی ہے ۔ اس طرح کے سینکڑوں واقعات ہیں ، جو کتب حدیث میں وارد ہیں، ہم نے اختصار کے پیش نظر صرف گیارہ احادیث کا حوالہ دیا ہے ۔جو اس بات کے ثبوت کے لیے کافی سے بھی زیادہ ہیں کہ اسلامی معاشرے میں عورت آداب و احکام الٰہی کا خیال رکھتے ہوئے کام کاج کرسکتی اور گھر سے باہر نکل سکتی ہے۔
نصوص قرآنی سے ہمارے استنباط کردہ نتائج فکر کی ان احادیث سے تائید ہوتی ہے۔ہم نے نصوصِ قرآنی سے یہ نتیجہ نکالا تھا کہ عورت کو گھر کے دائرۂ عمل میں بند نہیں کیا گیا، صرف اتنا کیا گیا ہے کہ باہر کا دائرۂ عمل کھلا رکھتے ہوئے کچھ آداب و احتیاط کے احکام دیے گئے ہیں۔
قرآن وحدیث سے مطابقت ہمارے نقطۂ نظر کی صحت کی علامت ہے۔ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ’قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ‘ کا حکم دراصل ازواج مطہرات کے ساتھ خاص ہے اور ’جلابیب‘ کے گھونگھٹ نکالنے والا حکم ایک خاص وقتی حل کے لیے دیا گیا تھا۔ عام عورتوں کے لیے ضابطہ بس وہی ہے جو سورۂ نور میں بیان ہوا ہے۔ وگرنہ ان احادیث میں ایسے واقعات اس کثرت سے نہ آئے ہوتے۔

فصل ثالث

عورت، عمل اور توازن

اسلام میں چونکہ مالی بوجھ اصلاً شوہر پر ڈالا ہے۔ان سے یہ مطالبہ شرعی طور پر کرنا مطلوب نہیں ہے۔ لہٰذا وہ اگر اپنی کسی صلاحیت، شوق یا ضرورت کے پیش نظر میدان عمل میں آنا چاہیں تو ان کو کچھ امور کا خیال رکھنا ہے۔

پہلا ادب: لباس و حجاب کی پاک بازی

وہ احکام جن کا قرآن مجید اور سنت میں عمل کرنے کا کہا گیا ہے، ان کی خلاف ورزی نہ ہو۔اس ضمن میں لباس کے احکام اور مردوں کے سامنے جاتے وقت احتیاط کے جو احکامات دیے گئے ہیں، ان کا خیال رکھا جائے۔اس میں کچھ امور کی تعلیم احادیث سے بھی ملتی ہے۔جو اپنے مزاج اور روح میں قرآن ہی سے پھوٹے ہیں۔ جیسے آپ کا یہ فرمان کہ عورتیں خوشبو لگا کر مردوں میں نہ آئیں۔یہ ’لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ‘ کی ایک صورت ہے۔

عَنْ زَیْنَبَ، امْرَأَۃِ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَتْ: قَالَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: إِذَا شَہِدَتْ إِحْدَاکُنَّ الْمَسْجِدَ فَلَا تَمَسَّ طِیْبًا.(صحیح مسلم، رقم ۴۴۳) 
’’عبد اللہ بن مسعود کی اہلیہ زینب رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ نبی پاک نے ہم سے فرمایا: جب تم مسجد میں حاضر ہو تو خوشبو نہ لگاؤ۔‘‘

دوسرا ادب: شرعی مطالبات کی پاس داری

زندگی میں کوئی بھی کام ایسا کرنا اسلامی اعتبار سے ناجائز ہے جو کسی عقیدے اور شرعی حکم کے خلاف ہو۔ حد یہ ہے کہ نہایت ضروری کام جیسے روزگار کا حصول ، اکل طعام بھی ان حدود کے اندر رہ کر ہو گا، جو اسلام نے اپنے ماننے والوں کے لیے مقرر کیے ہیں۔ اگر کوئی امتی ان حدود کی پاس داری کرتے ہوئے زندگی میں اپنی ضرورت اور اپنے شوق کے تمام داعیات کو پورا کرتا ہے تو اسلام کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ آپ کا کوئی کام جب شریعت کے خلاف نہ ہو تو کیسا ہی انوکھا کام کیوں نہ ہو وہ جائز ہے۔ مثلاًمداری کے تماشے کو جوازکی سند خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فراہم کی ہے (البخاری ۱۴۲۲ھ) کی روایت ہے کہ:

عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ، أَنَّ عَاءِشَۃَ، قَالَتْ: لَقَدْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمًا عَلٰی بَابِ حُجْرَتِيْ وَالحَبَشَۃُ یَلْعَبُوْنَ فِي المَسْجِدِ، وَرَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَسْتُرُنِيْ بِرِدَاءِہِ، أَنْظُرُ إِلٰی لَعِبِہِمْ.(رقم۴۵۴)
’’عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ نبی اکرم میرے حجرے کے دروازے پر کھڑے ہیں اور حبشی مسجد میں کھیل دکھا رہے ہیں، (مجھے دیکھ کر )نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے چادر کی اوٹ میں لے لیتے ہیں، اور میں ان کا کھیل دیکھتی رہی۔‘‘

دینی تعلیمات کو بالعموم دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے: حقوق اللہ اور حقوق العباد، جو شخص ان کی پابندی کرتے ہوئے کوئی بھی سنجیدہ، تفریحی، تخلیقی ، اصلاحی، دینی، تحقیقی غرض کسی بھی نوع کا کام کرتا ہے تو اسلام کے مطابق وہ درست کرتا ہے۔ اور یہ ضابطہ مرد و عورت، دونوں کے لیے یکساں لاگو ہوتا ہے۔

تیسرا ادب: بنیادی اور ثانوی کاموں کا فرق

یہ بات ہر مرد و عورت کو سامنے رکھنی چاہیے کہ دین کی رو سے سماجی و دینی احکام کی دو قسمیں ہیں: ایک وہ جو بنیادی ہیں ، اور دوسرے وہ جو ثانوی ہیں ۔اگر کوئی شخص ثانوی احکام پر تو عمل کرے ، مگربنیادی کو چھوڑ دے تو یہ کسی طور پر درست نہیں ہے۔خدا کے احکام جبلی تائید بھی رکھتے ہیں، مثلاً اگر جبلی طور پر دیکھیں تو حیض اور حمل، او ر ولادت اور بعد از ولادت کچھ ایام عورت کے لیے کاموں میں کسی قدر حارج ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح اولاد کی پرورش، انھیں دودھ پلانے سے لے کربالغ ہونے تک کی بہت سی ذمہ داریاں حبلۃً مرد کے مقابلے میں عورت پر زیادہ آتی ہیں۔ لہٰذا مجبوری کے سوا ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ ایک معصوم انسانی جان ماں کی محبت و الفتات کو ترستی رہے ، اور اس کی ماں محض کسی شوق یا کسی تفریح کے جذبے کے تحت کسی اور کام میں مشغول ہو۔سب سے بہتر بات یہ ہے کہ وہ ان دونوں میں توازن قائم رکھے۔
نہ تفریح حرام ہے اور نہ دل چسپی کے کام ، لیکن یہ فطری امر ہے کہ ضروری کاموں کو اپنی تفریح اور دل چسپی کی نذر نہ کیا جائے۔ یہ ایسی ہی بات ہے کہ کسی کے بیوی بچے گھر بھوکے بیٹھے ہوں اور وہ باہرگلی میں بیٹھاتاش کی بازی لگا رہاہو، یا کرکٹ کے مزے لے رہا ہو۔ تفریح کی یہ صورت ناجائز ہے، اس لیے کہ یہ بنیادی کاموں کو فراموش کرکے کی جارہی ہے۔ یہی معاملہ خواتین کا ہے کہ اگر انھیں کوئی مجبوری نہیں ہے ، تو انھیں اس توازن کو برقرار رکھنا چاہیے۔ بہتر ہوگا کہ عورت اگرماں ہے تو وہ اپنا شوق پورا کرے اور معاشرے کی خدمت ضرور کرے، مگر ماں والی ذمہ داریاں کما حقہٗ پورا کرتے ہوئے ایسا کرے۔ جب وہ اس عمر میں پہنچ جائے کہ وہ گھردر اور اولاد کی ذمہ داریوں سے آزاد ہو تو بلاشبہ پورے وقت (full time) کے لیے کام کرے۔ لیکن مرد پر چونکہ نان نفقے کی ذمہ داری عائد کی گئی ہے، لہٰذا اس کے لیے یہ بنیادی کام کی حیثیت رکھتا ہے۔اس کے لیے اس کام کو چھوڑ کر دوسرے کاموں میں پڑنا جائز نہیں ہو گا۔

تیسرا ادب: عورت اور نان نفقہ کی ذمہ داری

جیسا کہ ہم نے ذکر کیا عورت پر نان نفقہ کی ذمہ داری نہیں ڈالی گئی، یہ ذمہ داری مرد پر ہے، مثلاً دیکھیے سورۂ نساء ۴: ۳۴، طلاق میں حق مہر کا حکم وغیرہ۔ ذیل کی حدیث میں قرآن سے معلوم اسی حق کو بیان کیا گیا ہے:

عن جابر بن عبد اللّٰہ قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ عیلہ وسلم ... وَلَہُنَّ عَلَیْکُمْ رِزْقُہُنَّ وَکِسْوَتُہُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ.(صحیح مسلم، رقم ۱۲۱۸) 
’’جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی آخرالزماں نے فرمایا: عورتوں کا تم پر حق ہے کہ ان کی روزی اور لباس وغیرہ تم بھلے طریقے پر فراہم کرو۔‘‘

البتہ اگر ایسی صورت پیدا ہو جائے کہ عورت کو کمانا پڑے تو کماسکتی ہے۔لیکن کوئی شخص عورت کو اس امر پر مجبور نہیں کرسکتا کہ عورت کمانے جائے ۔نہ اسے کمانے کے لیے ایسے امور میں ڈالا جاسکتا ہے کہ جو اس کی نزاکتِ طبع کے خلاف ہوں، اس کے نسوانی وقار کے خلاف ہوں۔ عورت اسلامی تہذیب میں علامتِ ناموس ہے۔اسے گلی بازار میں اچھالا نہیں جاسکتا ۔وہ اعزاز سے رکھنے کی چیز ہے، اس کے ساتھ غیرت وابستہ ہے۔یہ عربی زبان کے لفظ کی رو سے ’حفیظۃ‘ ۸؂ ہے، جس کے حفاظت کی جاتی ہے۔اسے ا س کے شایان شان کاموں میں لگنا اور لگانا چاہیے۔ یہ گلی گلی رسوا کرنے کی چیز نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الدُّنْیَا مَتَاعٌ، وَخَیْرُ مَتَاعِ الدُّنْیَا الْمَرْأَۃُ الصَّالِحَۃُ. (صحیح مسلم، رقم ۱۴۶۷) 
’’عبد اللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا ایک پونجی (متاع حیات) ہے اور دنیا کی سب سے بڑھیا پونجی صالح عورت ہے۔‘‘

لہٰذا ان کی صلاحیتوں اور ان کے مذاق وشوق کے اظہار کے لیے اچھے میدان ہائے عمل تخلیق کرنے چاہییں۔ جن میں کام کرتے وقت یہ رسوائی ، دھکوں اور کسی قسم کی خرابی سے محفوظ رہیں۔ یہ قیمتی ترین متاع حیات ضائع نہ ہو جائے۔

_____

۱؂ واضح رہے کہ ان نصوص کے فہم میں استاذِ گرامی کی کتاب ’’میزان‘‘ میں موجود بحث ’’مرد و زن کا اختلاط‘‘ پر انحصار کیا گیا ہے۔
۲؂ علمی تنقیح کے لیے دیکھیے ’’میزان‘‘ اور ’’البیان‘‘ از جاوید احمد صاحب غامدی۔
۳؂ پر اور بال جانوروں کے لیے وہی کام کرتے ہیں، جو ہمارے لیے لباس کرتا ہے۔ ہماری جلد کو بالوں اور پروں سے جب صاف کیا گیا تو ہمیں لباس کا حکم دیا گیا، اور اس کے لباس بنانے کی چیزیں بھی پیدا کی گئیں۔
۴؂ اس طرح کے مباحث کانفرنس کی ضرورت کے پیش نظر ڈالے گئے ہیں۔
۵؂ بعض مفسرین و فقہانے زینت سے مراد اعضاے بدن لیا ہے۔یہ درست نہیں ہے۔ آگے کا ایک حکم جس میں پائل وغیرہ کی چھنکار کو زینت کے ابداء کا سبب قرار دیا گیا ہے۔ جس کا کوئی تعلق کسی عضو سے نہیں ہے۔ دل چسپی کی بات یہ ہے کہ اس میں دیکھنے کا عمل بھی نہیں ہوتا۔ بس آواز پیدا کرنے سے روکا گیا ہے۔ بعض لوگوں نے یہ سمجھا ہے کہ پرانے زمانے میں خواتین سینہ کو ننگا رکھتی تھیں۔ اس کو ڈھانپنے کا حکم ہے۔یہ بھی درست نہیں ہے۔اس لیے کہ زینت کا لفظ اس معنی میں عربی میں نہیں ہے، اور اس مجاز کا یہاں کوئی قرینہ نہیں ہے۔ جبکہ زیورات کے لیے آگے پاؤں کی ضرب سے مخفی زینت کا واضح قرینہ موجود ہے۔مزید یہ بات کہ اس زینت کو باپ ، سسر اور بعض رشتے داروں پر ظاہر کرنے کی اجازت دی گئی ہے، یقیناً ان پر ان اعضا کا ظاہر کرنا کسی طور مناسب نہیں ہے۔
۶؂ ہاتھ اور چہرے کا ذکر قرآن مجید میں نہیں ہے، لیکن اسے حدیث کی روشنی میں یہاں لکھا گیا ہے۔ وہ حدیث ذیل میں ہے:

عَنْ عَاءِشَۃَ، قَالَتْ: دَخَلَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِيْ بَکْرٍ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَعَلَیْہَا ثِیَابٌ شَامِیَّۃٌ رِقَاقٌ، فَأَعْرَضَ عَنْہَا ثُمَّ قَالَ: ’’مَا ہٰذَا یَا أَسْمَاءُ؟ إِنَّ الْمَرْأَۃَ إِذَا بَلَغَتِ الْمَحِیْضَ لَمْ یَصْلُحْ أَنْ یُرٰی مِنْہَا إِلَّا ہٰذَا، وَہٰذَا‘‘ وَأَشَارَ إِلٰی وَجْہِہِ وَکَفَّیْہِ.

۷؂ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ’’إِیاکمْ وَالدُّخُوْلَ عَلَی النِّسَاءِ‘‘ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: یا رَسُوْلَ اللّٰہِ، أَفَرَأَیتَ الحَمْوَ؟ قَالَ: ’’الحَمْوُ المَوْتُ‘‘.(مسلم، رقم ۵۲۳۲)

۸؂ عرب ’حفیظۃ‘ اس چیز کو کہتے تھے جس کی حفاظت ان کی غیرت کا مسئلہ ہوتی تھی۔ کسی حماسی کا شعر ہے:

إذًا لَقَامَ بِنَصْرِي مَعْشَرٌ خُشُنٌ ... عِنْدَ الْحَفِیْظَۃِ إِنْ ذُوْ لُوْثَۃٍ لاَنا
بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت مارچ 2017
مصنف : ساجد حمید
Uploaded on : Mar 13, 2018
386 View