اسلام میں شوریٰ کی حیثیت - امین احسن اصلاحی

اسلام میں شوریٰ کی حیثیت

 

سوال: ایک مصنف لکھتے ہیں:

’’اسلامی نظام حکومت میں خلیفہ کو شوریٰ کا پابند کیا گیا ہے، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو صاحب وحی بھی تھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور تھے کہ پیش آمدہ معاملات اور مہمات کے بارہ میں (جن میں وحی نے رہنمائی نہ کی ہو) اپنے اصحاب و رفقا سے مشورہ کریں (وشاورھم فی الامر) قرآن مجید ہی میں ایک دوسری جگہ امت محمدیہ کا لائحۂ عمل اور دستور بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ ’وامرھم شورٰی بینھم‘ اور ان کے کام باہمی مشورہ سے ہوتے ہیں۔‘‘

اس اصل اصول کے بعد مصنف نے اپنے طور پر جو کچھ لکھا ہے، وہ یہ ہے:

’’لیکن اگر کسی اہم معاملہ میں خلیفہ کو یہ یقین ہو کہ جو کچھ میں سمجھ رہا ہوں، وہی صحیح ہے، اور اس کے خلاف چلنے میں بڑا خطرہ ہے، تو شوریٰ کے اختلاف رائے کے باوجود اپنے یقین و شرح صدر کی بنا پر اپنی رائے پر اصرار کر سکتا ہے اور جاننے والے جانتے ہیں کہ عملی دنیا میں یہ بالکل ناگزیر ہے اور آج کی جمہوریتوں میں بھی بکثرت ایسا ہی ہوتا رہتا ہے۔‘‘

اس بارے میں آپ اپنی رائے ظاہر فرمائیے۔

جواب: اس امر میں ذرا شبہ نہیں ہے کہ اگر کسی اہم معاملہ میں خلیفہ کو یقین ہو کہ جو کچھ وہ سمجھ رہا ہے، وہی صحیح ہے، اس کے خلاف راہ اختیار کرنے میں بڑا خطرہ ہے تو وہ اپنے یقین کی بنا پر اپنی رائے پر اصرار کر سکتا ہے، لیکن خلیفہ کو یہ بات ملحوظ رکھنی پڑتی ہے کہ وہ کوئی معصوم ہستی نہیں ہے، اس وجہ سے اجتہادی اور مصلحتی امور (اور شوریٰ کا تعلق اسی طرح کے امور سے ہوتا ہے) میں اس کو دوسرے اہل الرائے کے مقابل میں اپنے یقین اور اپنی رائے کو اس درجہ اہمیت دینے اور اس کے مانے جانے پر اصرار کرنے کا حق نہیں ہے کہ وہ اپنی تنہا رائے کے مقابل میں دوسرے اہل الرائے کی متفقہ رائے یا ان کی اکثریت کی رائے کو رد کر دے۔ اگر ایک امر اجتہادی میں کوئی خلیفہ اپنے یقین کو اس درجہ شک و شبہ سے بالاتر سمجھتا ہے تو دوسرے الفاظ میں اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ اپنے آپ کو ایک معصوم ہستی سمجھتا ہے۔ آخر اس کے پاس اس امر کے لیے کون سی ہرشبہ سے بالاتر دلیل موجود ہے کہ جو کچھ وہ سمجھ رہا ہے، وہی حق ہے ۔ جو دوسرے سمجھ رہے ہیں، وہ غلط ہے۔ اس کے پاس اگر کچھ دلائل ہیں تو وہ اپنے دلائل پوری تفصیل کے ساتھ پیش کر سکتا ہے اور پورے زور و قوت اور اصرار و تاکید کے ساتھ پیش کر سکتا ہے، لیکن اسے یہ فیصلہ اہل الرائے پر چھوڑنا چاہیے کہ وہ اس کے دلائل سے قائل ہو کر اس کے ہم نوا بنتے ہیں یا نہیں بنتے۔ اسلام نے اس کو یہ حق ہرگز نہیں دیا ہے کہ اگر اہل الرائے اس کے دلائل سے قائل نہیں ہوتے تو اصرار کے زور سے ان کو قائل ہونے پر مجبور کر دے۔ یا شوریٰ کی بساط ہی لپیٹ کر رکھ دے۔ اگر وہ یہ حق حاصل کر لے تو پھر اسلام میں شورائیت بے معنی ہو کر رہ جاتی ہے۔ صاحب ’’احکام القرآن‘‘ ابوبکر جصاص نے خوب بات لکھی ہے کہ اسلام میں شوریٰ کا جو حکم دیا گیا ہے تو محض اس لیے نہیں دیا گیا ہے کہ تھوڑی سی اہل الرائے لوگوں کی عزت افزائی اور دل داری ہو جائے، بلکہ یہ حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ ان کے مشورے مانے جائیں۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگرچہ صاحب وحی اور معصوم ہونے کی وجہ سے کسی سے مشورہ لینے کے محتاج نہ تھے، لیکن چونکہ آپ ہی کے عملی نمونہ سے اسلام میں شورائیت کی بنیاد پڑنی تھی، اس وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سے مواقع پر مصلحتی امور میں صحابہ سے مشورہ کیا اور ہر موقع پر ان کے مشورہ کو قبول فرمایا۔ یہی رویہ بعد کے زمانوں میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا رہا۔ میرے علم میں کوئی ایک مثال بھی ایسی نہیں ہے جب ان میں سے کسی نے مشورہ لیا ہو اور مشورہ لینے کے بعد لوگوں کے مشورہ کے خلاف قدم اٹھایا ہو۔
مرتد ہو جانے والوں سے جنگ کرنے کے معاملہ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اختلاف رائے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اظہار عزم بالجزم کو بعض لوگ اس معنی میں لیتے ہیں کہ اسلام میں خلیفہ کو شوریٰ کے فیصلہ کو رد کر دینے کا حق ہے، لیکن میرے خیال میں اس واقعہ کو لوگوں نے عام طور پر غلط سمجھا ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے شوریٰ کے فیصلہ سے نہیں، بلکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے اور مشورہ سے شدت کے ساتھ اختلاف کیا تھا اور اس اختلاف کی نوعیت بھی اختیار خصوصی کے زور سے کسی رائے کو رد کر دینے کی نہیں تھی، بلکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے شبہات کو دور کرنے کے لیے ایسے دلائل دیے تھے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ خود فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اختیار کردہ رائے کے لیے میرا سینہ کھل گیا۔
موجودہ زمانہ کی نام نہاد جمہوریتیں زمانۂ جنگ میں جو صورتیں اختیار کرتی ہیں، ان سے اسلام کے نظام کے لیے کوئی مثال پیش کرنا ایک انمل بے جوڑ سی بات ہے۔ مغربی جمہوریتیں آئینی اور قانونی موشگافیوں کے سبب سے ایسی الجھی ہوئی اور پھیلی ہوئی سی چیز بن گئی ہیں کہ اگر ملک کے لیے کوئی نازک مرحلہ پیش آ جائے تو ان جمہوریتوں کا سارا پول کھل جاتا ہے اور حکومت چلانے والے مجبور ہو جاتے ہیں کہ آئین کے الفاظ اور جمہوریت کے رسوم کے احترام پر ملک کے تحفظ و بقا کو ترجیح دیں۔ لیکن اسلام میں جو جمہوریت و شورائیت ہے، وہ اس قدر سادہ، اصولی اور مقصدی ہے کہ اس کا احترام امن و جنگ ہر حالت میں یکساں باقی رکھا جا سکتا ہے۔ نازک سے نازک حالات کے اندر بھی اس کے سبب سے حکومت کی صلاحیت کار، اس کی کارکردگی اور اس کے بروقت اقدامات میں کوئی رکاوٹ نہیں پیدا ہوتی۔ اس وجہ سے اسلامی نظام میں خلیفہ کو کبھی شورائیت کے نظام کو معطل کرنے کی نوبت نہیں آتی۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے نہایت ہی اہم حالات کے زمانے تھے، لیکن انھیں ایک دن کے لیے بھی شورائیت کو معطل کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔

____________ 

 

 بشکریہ ماہنامہ اشراق
تحریر/اشاعت جولائی 2013ء

مصنف : امین احسن اصلاحی
Uploaded on : Jan 01, 2016
737 View