دین سراپا خیر خواہی - محمد رفیع مفتی

دین سراپا خیر خواہی

 

عن تَمِیمٍ الدَّارِیِّ أَنَّ النبی صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قال الدِّینُ النَّصِیحَۃُ قُلْنَا لِمَنْ؟ قال لِلَّہِ وَلِکِتَابِہِ وَلِرَسُولِہِ وَلِأَءِمَّۃِ الْمُسْلِمِینَ وَعَامَّتِہِمْ.(مسلم، رقم ۵۵، رقم مسلسل ۱۹۶)

تمیم داری سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دین خیر خواہی ہے ۔ اللہ کے لیے ،اُس کی کتاب کے لیے، اُس کے رسول کے لیے، مسلمانوں کے حکمرانوں کے لیے اور اُن کے عوام کے لیے۔

توضیح

اس حدیث میں یہ بتایا گیا ہے کہ دین انسان میں جو روح پیدا کرتا ہے وہ نصح و خیر خواہی ہے۔ سچے دین دار آدمی کا وجود اپنے سے متعلق ہر شخص کے لیے سراپا خیر خواہی ہوتا ہے۔ وہ جیسے اپنے لیے خیر کی تمنا اور بھلائی کی آرزو رکھتا ہے اسی طرح وہ دوسروں کا خیر خواہ ہوتا ہے۔ آپ نے یہ بتایا کہ اُس کی خیر خواہی کے دائرے میں خدا، اُس کا رسول اور اُس کی کتاب بھی آتی ہے اور مسلمانوں کے عوام اور اُن کے حکمران بھی آتے ہیں۔
خدا اور رسول کی خیر خواہی سے مراد یہ ہے کہ دنیا کی اِس رزمِ گاہ خیر و شر میں انسان طاغوت کی مخالفت اور خدا اور اُس کے رسول کی نصرت کرے۔ کتاب اللہ کی خیر خواہی یہ ہے کہ وہ اِس پر ایمان لائے، خود بھی اس پر کار بند ہو اور دوسروں کو بھی اس پر کاربند ہونے کی دعوت دے۔ عام مسلمانوں اور اُن کے حکمرانوں کی خیر خواہی یہ ہے کہ انسان ہر پہلو سے اور ہر حال میں اُن کا بھلا چاہے۔

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت جنوری 2012
مصنف : محمد رفیع مفتی
Uploaded on : Mar 21, 2017
511 View