خیالات اثنائے ترجمۂ قرآن - حمید الدین فراہی

خیالات اثنائے ترجمۂ قرآن

 

۱۔ جس طرح الفاظ مشترک ہوتے ہیں، اسی طرح اسلوب بھی مشترک ہوتے ہیں۔ مثلاً استفہام انکاری، زجر اور تسکین، دونوں موقع پر آتا ہے۔ مثلاً ’امّا‘ تقسیم اور مقابلہ، دونوں مقصد کے لیے مستعمل ہوتا ہے۔
۲۔ ایجاز اور اطناب کا اثر مختلف ہے۔ اس لیے ترجمہ میں اس کا لحاظ ضرور کرنا چاہیے۔
۳۔ نیز ادا، شان اور اظہار جذبات کلام کی جان ہیں۔ ان کو بدلنا عبارت کو مسخ کرنا ہے۔ واعظ، جنرل، خطیب، نبی اور خدا کا کلام اس خاص امر میں بالکل ممتاز ہوتا ہے۔ کلام سے قائل کی عظمت ٹپکتی ہے۔
۴۔ خاص الفاظ اور محاورات اور بندش سے جذبات کی نوعیت اور مقدار معلوم ہوتی ہے۔ استعمال نے اور نیز مزاج اور تاریخ ملک نے خاص خاص الفاظ اور طرز کو خاص خاص جذبات اور مواقع کے لیے اور نیز مدارج متکلم کے لیے مختص کر لیا ہے۔
۵۔ شان کلام اور جذبۂ کلام کو بدلنا زیادہ مضر ہے۔ بلکہ اگر اس کو جذبہ اور شان سے معرّا کر دیا جائے تو کم ضرر ہے۔ بادشاہ کے محاورہ کو مثلاً سوقی کے محاورہ میں ظاہر کرنا، اس کو مسخ کرنا ہے۔ شاہ عبدالقادر کا ترجمہ بعض دل چسپ ترجموں سے بہتر ہے۔ کیونکہ وہ کچھ تو جذبات سے معرّا ہے، اور کچھ قدامت زبان نے اس کو اور پھیکا کر دیا ہے۔
۶۔ ہم کو گن گن کر ان باتوں کو بتا دینا چاہیے جو ترجمہ میں مقصود ہوں گی تاکہ پڑھنے والا کلام الٰہی پر غلط رائے قائم نہ کرے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک شخص قرآن کا ترجمہ پڑھ کر تعجب اور تمسخر سے کہتا تھا: ’’کیا خدا یوں ہی گفتگو کرتا ہے؟‘‘ حالاں کہ کلام الٰہی بجلی کی کڑک اور سمندر کے شور سے زیادہ مہیب ہے۔ جذبات اور شان کی مقدار قائم نہیں رہ سکتی، مگر نوعیت کو بدلنا نہیں چاہیے۔
۷۔ جذبات کا پتا ہر جگہ نہیں لگتا۔ کلام جاہلیت کے استقصاء اور آیات مماثل سے پتا چل سکتا ہے۔
۸۔ بسا اوقات لفظ اپنے اولیٰ معنی سے بالکل نکل کر ثانوی معنی میں مستعمل ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں اولیٰ معنی کو موافق ترجمہ کرنا غلطی ہے۔ اس امر کا دریافت کرنا بعض اوقات مشکل ہوتا ہے کہ لفظ آیا اولیٰ معنی میں لیا گیا ہے یا ثانوی معنی میں، قرینہ اور تتبع کلام عرب کے سوا کون سی چیز ہے جس سے اس کا فیصلہ ہو؟ ’اَلْقَارِعَۃ‘ سے مراد قیامت ہے، مگر آیا یہ لفظ قیامت کے معنی میں مستعمل ہوتا تھا یا اولیٰ معنی سے خود قرآن نے اس کو نکالا ہے، اور پہلے اس کے معنی ’’ٹھوکنے‘‘ کے تھے؟ یا استعمال قرآن سے پہلے یہ لفظ مصیبت کے معنی میں مستعمل ہو چکا تھا؟ استعمال عرب سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لفظ اپنے اولیٰ معنی سے نکل چکا تھا اور مشکلات کے معنی میں مستعمل ہوتا تھا، قریع الدہر اور اقراع سے پتا چلتا ہے۔
۹۔ بسااوقات کوئی لفظ ایک ہی معنی کے مدارج میں اشتراک رکھتا ہے۔ وہاں ہر ایک معنی لیے جا سکتے ہیں۔ ایسی حالت میں نہایت دقت پڑتی ہے۔ مثلاً ’رب‘ کہیں آقا اور خدا کے معنی میں مستعمل ہے۔ یہاں بھی قرینہ سے معلوم ہو سکتا ہے، ’رَبِّ النَّاسِ، مَلِکِ النَّاسِ، اِلٰہِ النَّاسِ‘ میں ’رب‘ بمعنی آقا ہے۔
۱۰۔ بعض الفاظ مرکب معنی رکھتے ہیں اور پھر کبھی جزء معنی پر دلالت کرتے ہیں، اور کبھی ایک جزء پر، اور کبھی دوسرے جزء پر مثلاً ’حمل‘ لاد کر لے چلنا، کبھی محض لادنا، کبھی محض لے جانا۔ جب ایسے الفاظ مرکب معنی پر دلالت کرتے ہیں، اس وقت مجبوراً ان کے ترجمہ میں بجاے ایک لفظ کے چند الفاظ استعمال کرنے پڑیں گے۔ لیکن یہاں ترجمہ میں دفعہ ۲ کے لحاظ سے وہی اثر قائم نہیں رہے گا، نہ صرف اس لیے کہ چند الفاظ ناگوار ہوں گے، بلکہ اس لیے بھی کہ تصریح میں وہ ہلکا رنگ زیادہ شوخ ہو جائے گا۔ مثلاً ’حمل‘ کے معنی لاد کر لے چلنا کے ہیں، مگر ترجمہ میں وہ بات نہیں رہتی۔
۱۱۔ نثر مقفیٰ میں نظم کی طرح غیر ترتیبی معاف ہے، کیونکہ عبارت کی خوبی اس کو غیر محسوس کر دیتی ہے۔ اب ترجمہ میں اگر عبارت محض سادہ ہے تو بے ترتیبی ناگوار ہو گی۔ نیز بعض مواقع پر محض قافیہ اور بندش کے لیے غیر انسب لفظ مستعمل ہوتا ہے پھر ترجمہ میں کیوں ہم اس کی پیروی کریں۔ لیکن قرآن کے ترجمہ میں بڑی ذمہ داری ہے، ناچار وہی غیر انسب لفظ لانا پڑے گا۔
۱۲۔ لیکن سادہ عبارت میں صرف انسب لفظ خوبی پیدا کر سکتا ہے۔ ’لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ‘ کا ترجمہ ہو گا: ’’نہ کسی کا باپ نہ کسی کا بیٹا۔‘‘ یہ سمجھنا کہ یہ تو ترجمہ ہے ’لَیْسَ ھُوَ بِأَبٍ لِأَحَدٍ وَلَا بِاِبْنٍ‘ کا اور ’لَمْ یَلِدْ‘ کا ترجمہ کچھ اور ہونا چاہیے، کیونکہ عربی میں یہ دوسرا فقرہ نہایت بھدا ہے، اور چستی بندش نے اس طرز ادا کو ترجیح دی۔ کیا اب ترجمہ میں ہم وہی عیب پیدا کر دیں جو اصل میں دور کیا گیا تھا؟ یہاں پہلا ہی طرز ادا انسب بھی ہے۔ مگر اردو میں ایسا لفظ موجود ہی نہیں جو ’یلد‘ مذکر کا ترجمہ ہو سکے۔
۱۳۔ جہاں دو مختلف الجنس ضمائر آتی ہیں، فوراً ذہن دو مختلف چیزوں کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر ایک ہی طرح کی ضمیر ہو تو وہ بات نہیں پیدا ہو گی، اس لیے یہاں اظہار ضروری ہے۔ مثلاً ’فَکَذَّبُوْہُ فَعَقَرُوْھَا‘ ترجمہ: ’’سو پیغمبر کو جھٹلایا اور اونٹنی کو کاٹ ڈالا۔‘‘
۱۴۔ عربی میں دو فعل متوالی کو محض واؤ عطف سے ملاتے ہیں۔ اردو میں لفظ ’’کر‘‘ صیغۂ اصل کے ساتھ ملا کر۔ مثلاً ’القت ما فیھا وتخلّت‘ کا ترجمہ ’’اپنے اندر کی چیزیں باہر ڈال کر خالی ہو جائے گی۔‘‘ ہو سکتا ہے، مگر شاید بعض جگہ فصل انسب ہو گا۔
۱۵۔ بعض زبانوں میں مجہول کثرت سے مستعمل ہوتا ہے، مگر صرف وقوع فعل مراد ہوتا ہے۔ اردو میں ایسا نہیں ہے اور اس لیے مجہول کا ترجمہ لازم فعل کی شکل میں صحیح تر ہو گا۔ مثلاً ’وَاِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ وَاِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ‘ یہاں صرف وقوع امر مراد ہے، نہ کہ ان کی نسبت فاعل معنوی سے۔
۱۶۔ نثر مقفیٰ میں بھی نظم کی طرح وصل و فصلِ جملہ پابند قافیہ نہیں ہوتا ہے، اور اسی لیے قرآن میں کبھی ناتمام جملہ پر آیت o لا بنی ہوتی ہے اور کبھی آیت بغیر جملہ ناتمام ہو جاتا ہے۔ وقف اور o لا وغیرہ سے اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، مگر پابندی اصول نہایت سختی کے ساتھ نہیں کی گئی۔
جملوں کا قافیہ کے ساتھ ختم ہو جانا، اور قافیہ اور خیال کا وصل اور فصل میں مطابق رکھنا بظاہر بہترین اسلوب معلوم ہوتا ہے، مگر ایسا نہیں ہے۔ دونوں اسلوب بجاے خود بہتر ہیں، بلکہ بعض مواقع پر سادہ نثر مقفیٰ پر ترجیح رکھتی ہے۔ قوافی سے خیال کا باہر نکل جانا، کلام کی روانی اور تسلسل اور بے تکلفی ظاہر کرتا ہے۔ اور نہایت قادر الکلام شاعروں ۱؂ کے کلام میں اس کی مثال ملتی ہے۔ قرآن میں اس کی مثال سے خود اس کی لطافت اور سلاست ظاہر ہوتی ہے۔
(o = فصل قافیہ + = فصل خیال) اآمآ o ح غُلِبَتِ الرُّوْمُ o لا فِیْٓ اَدْنَی الْاَرْضِ + وَھُمْ مِّنْ بَعْدِ غَلَبِھِمْ سَیَغْلِبُوْنَ o لا فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ ۵ ط لِلّٰہِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ ط + وَیَوْمَءِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ o لا بِنَصْرِ اللّٰہِ ط یَنْصُرُ مَنْ یَّشَآءُ ط + وَھُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ o وَعْدَ اللّٰہِ ط + لَا یُخْلِفُ اللّٰہُ وَعْدَہٗ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ o یَعْلَمُوْنَ ظَاھِرًا مِّنَ الحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ح صلے وَھُمْ عَنِ الْاٰخِرَۃِ ھُمْ غٰفِلُوْنَ o + یہاں قرآن نے نہایت خوبی سے o لا سے یہ ظاہر کیا ہے کہ قوافی خیال کو تمام نہیں کرتے ہیں۔ اس مثال میں ایک عجیب لطف یہ ہے کہ اگر o لا پر قراء ت ختم کر دو تو کلام تمام معلوم ہوتا ہے، مگر جب آگے بڑھو تو مابعد اس میں پیوند ہو جاتا ہے۔ یہ اسلوب جدید قرآن کے سوا نظر نہیں پڑا اور ہمارے اہل بدیع نے بھی اس کو نہیں لکھا۔
۱۷۔ کلام الٰہی کو روزمرہ کی زبان سے الگ ہونا چاہیے۔ خود قرآن کی طرز اس وقت کی زبان سے مختلف ہے۔ محاورہ اور تحریر میں ہمیشہ فرق رہتا ہے۔ قدامت طرز، متانت اور رزانت کے موافق ہے اور اسی لیے اس کی پیروی کی جاتی ہے۔ مثلاً EPECTITUS کا ترجمہ بائیبل کی زبان میں کیا گیا ہے۔ ناول کی، خطوط کی، لکچر کی، عرائض کی، اخبار کی، مباحثہ کی، تاریخ کی، علمی مضامین کی زبانیں مختلف ہیں۔ خود شعر و نثر کی زبان یکساں نہیں ہو سکتی۔ پس ہم کو ترجمہ میں ایک حد تک عربیت قائم رکھنی چاہیے، الفاظ سادہ ہوں، مگر ترکیبیں روزمرہ کی نہ ہوں۔
۱۸۔ بعض محاورہ مشتمل برتشبیہ ہوتے ہیں (بعض الفاظ بھی ہوتے ہیں) مگر کہیں مرور زمانہ سے تشبیہ معدوم از احاطۂ معنی ہو جاتی ہے۔ اور کہیں مضمحل اور کہیں نمایاں اور اس سے کلام کی ایک خاص کیفیت ہوتی ہے۔ ترجمہ میں ہم کو اس کا لحاظ رکھنا چاہیے۔ مگر دقت اس کے معلوم کرنے میں ہے۔ اس حالت میں زیادہ میلان تشبیہات کے قائم رکھنے کی طرف ہونا چاہیے، لیکن بعض محاورہ اگر تشبیہی معنی کے ساتھ ترجمہ کیے جائیں تو سمجھ میں خوب نہیں آئیں گے، کیونکہ مدار تشبیہ کبھی ایسی اور تشبیہ پر ہوتا ہے جو دونوں زبانوں میں غیر مشترک ہیں۔ اس حالت میں جہاں نمایاں تشبیہ ہو، وہاں فائدے سے کام لینا چاہیے اور جہاں نہایت خفی ہو، وہاں چھوڑ دینا چاہیے، مگر وہیں جہاں سیاق سے بھی معنی متبادر نہ ہو سکتے ہوں۔
۱۹۔ بعض جگہ عام معنی کے اظہار کے لیے خاص صورت اختیار کی جاتی ہے، کیونکہ وہ خاص صورت اس زبان میں واقعات روزمرہ میں ہوتی ہے اور اس لیے اقرب الی الفہم ہوتی ہے۔ اس حالت میں ترجمہ میں اس کو اختیار کرنا ابعد عن الفہم ہو گا، مگر اس کو چھوڑ دینے میں یہ دقت ہے کہ اس ملک کی روزمرہ زندگی کا پتا کلام سے نہیں لگے گا، (افہام مگر مقدم ہے؟) نیز ایک ذمہ داری کی بات ہے کہ ہم بعض خاص صورت کو محض عارضی قرار دیں۔
۲۰۔ بعض جملہ جس خیال کو ادا کرتا ہے، اس خیال کے ادا کرنے کے لیے دوسری زبان میں ایک ایسا جملہ ہوتا ہے جو اس کا لفظی ترجمہ نہیں ہوتا، مگر مجموعی معنی پر ٹھیک چسپاں ہوتا ہے۔ مثلاً ’لِکُلِّ امْرِیِ مِّنْھُمْ یَوْمَءِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْہِ‘، ترجمہ: ’’اس دن کچھ ایسا حال ہو گا کہ ہر ایک کو اپنی اپنی پڑی ہو گی۔‘‘ یا ’’اس روز ہر ایک اپنے اپنے حال میں مبتلا ہو گا۔‘‘ جہاں اس طرح کا ترجمہ کیا جائے، وہاں حاشیہ میں لفظی ترجمہ لکھ دینا چاہیے اور حتی الوسع اس خیالی ترجمہ سے اجتناب کرنا چاہیے۔
۲۱۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ترجمہ کے مدارج کو میں صاف صاف بتاؤں تاکہ بیّن طور پر نظر آئے کہ خیالی ترجمہ سے میری کیا مراد ہے؟

مدارج ترجمہ

اس کے لیے قرآن کے سوا ایک اور مثال پیش کرتا ہوں، کیونکہ مثال کے بغیر ٹھیک اندازہ نہیں ہو سکے گا۔ حماسی کا قول ہے:

فدت نفسی وما ملکت یمینی
فوارس صدقت فیھم ظنونی

مدارج ترجمہ: ۱۔ تحت اللفظ ۲۔ نحوی ۳۔ اسلوبی ۴۔ خیالی
۱۔ فدا ہو جان میری اور جو کچھ کہ مالک ہے، داہنا ہاتھ میرا، سواروں کو کہ سچا کیا بیچ اپنے گمان میرے۔
۲۔ میری جان اور جس چیز کو میرا داہنا ہاتھ مالک ہے فدا ہوا ان سواروں پر کہ میرے گمان کو جو ان کی بابت تھا سچ کر دیا۔
یہاں نسبت افعال و حالت کلمہ محفوظ رکھی گئی ہے، مگر مقدر کو ظاہر کرنا پڑا ہے۔ مثلاً (جو ان کی بابت تھا) اور نیز نسبت صحیح کرنے کو مفعول بہ مجرور ہو گیا ہے۔ مثلاً (سواروں پر) پہلے ترجمہ میں نحوی غلطی تھی، اس میں وہ صحیح کر دی ہے۔
۳۔ ان سواروں پر میری جان اور مال قربان ہو جائے جنھوں نے میرے خیالات کو جو ان کی نسبت تھے، سچ کر دیے۔
اس ترجمہ میں محض اسلوب بیان ملحوظ رکھا گیا ہے۔
۴۔ ان سواروں پر میری جان اور مال قربان ہو جائے، جنھوں نے دکھا دیا کہ جیسا کچھ میں انھیں سمجھا کرتا تھا، اس میں سرمو فرق نہ تھا۔
اس میں صرف اصل خیال کو ملحوظ رکھا گیا ہے اور لفظوں کی پابندی بالکل نہیں ہے۔
اب اس خیالی ترجمہ کے عالم میں بہت گنجایش ہے اور مختلف ترجمے ہو سکتے ہیں، لیکن جس زبان میں ترجمہ ہو، اس کے لحاظ سے متعین ہو سکتا ہے کہ فلاں خیال کے لیے ٹھیک ٹھیک کون محاورہ ہے؟ یعنی اگر یہی خیال مترجم کو آئے تو سیدھے طور پر بلا کسی قید کے کیونکر ادا کرے گا؟ مگر یہ تعین محض فرضی ہے واقعی نہیں ہے، کیونکہ ایک ہی زبان کے اشخاص ایک خیال کو مختلف طور پر ادا کرتے ہیں۔ اگرچہ حقیقت میں صحیح ترین اسلوب ایک سے زیادہ نہیں ہوتا، الاّ ماشاء اللہ۔ خیالی ترجمہ جیسا کہ ظاہر ہوا نہایت مخدوش ہے اور بامحاورہ ترجمہ جس کا نام میں نے اسلوبی رکھا ہے، انسب ہو گا، بلکہ محاورہ کی پابندی بھی بہت سنبھل کر کرنی ہو گی تاکہ اسلوب کلام اور مدلول اصل باقی رہے، مثلاً ’ما ملکت یمینی‘ اردو محاورہ میں بے کار ہے، تاہم اس کو چھوڑ نہیں سکتے، ورنہ بلحاظ محاورۂ اردو تو اسی قدر کافی ہے کہ ’’میں قربان جاؤں‘‘۔
مزید برآں کہ شان اور جذبہ و ایجاز و اطناب کا لحاظ ضروری ہے (دیکھو: ۲، ۳، ۴)۔ ان تمام کشاکش کے ساتھ مترجم کا قلم چلتا ہے اور کبھی مجبوراً اسلوبی کو چھوڑ کر خیالی ترجمہ پر مائل ہوتا ہے، مگر نہایت خاص صورتوں میں اور جہاں یقیناًمعلوم ہو کہ یہ خیالی ترجمہ مطابقت کُلی رکھتا ہے۔ مثلاً:

’’لِکُلِّ امْرِیِ مِّنْھُمْ یَوْمَءِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْہِ‘‘

_______

۱؂ مثلاً مولوی معنی، فردوسی، ہومر، شیکسپیر کے آخر زمانے کے کلام میں اس کی مثالیں ملتی ہیں۔ فراہی

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت نومبر 2013
مصنف : حمید الدین فراہی
Uploaded on : Apr 27, 2018
264 View