صبر کیا ہے، اسے کیسے حاصل کریں؟ (6) - ساجد حمید

صبر کیا ہے، اسے کیسے حاصل کریں؟ (6)

 

ذہنی آزمایشیں

حق پرستی

ہمیشہ حق پر قائم رہنا صبر ہے ،بلکہ ہم نے یہ جانا کہ اصل صبر ہی یہی ہے۔ اسی بات کی وضاحت پیچھے سے ہوتی چلی آرہی ہے۔ یہاں ہم اپنی بات کو رائے کی حد تک محدود کریں گے۔اس لیے کہ ہم ذہنی آزمایشوں کے پہلو سے صبر کو دیکھ رہے ہیں۔ذہنی اعتبارسے یہ سب سے بڑی آزمایش ہے کہ آدمی اپنی رائے میں حق پر قائم رہتا ہے یا نہیں۔
انسان غلطی کا شکار ہو سکتا ہے۔اگر اس میں حق پرستی کا وصف نہ ہو تو وہیں چپک کر رہ جاتا ہے۔صرف حق پرستی ہی کاوصف ایسا ہے کہ اس کی غلطیوں کو دور کرتا اور اس کی اصلاح کرتا رہتا ہے۔جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہماری رائے پختہ اور درست ہے وہ سب سے بڑی غلطی کا شکار ہیں ۔یہی سب سے بڑی ناحق پرستی ہے۔انبیا کے بعد کوئی شخص ایسا نہیں ہے جسے حق کے بارے میں غلطی نہ لگی ہو۔کوئی شخص بھی سوفی صدی درست نہیں ہے۔اس لیے ہر شخص کو ہر وقت اس کے لیے تیار رہنا چاہیے کہ اس کی غلطی نکل سکتی ہے ،مگر ہماری قوم کی تربیت ایسی ہوئی ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ بس ان کے پاس جو کچھ ہے وہی مستند اور درست ہے۔
اس امت میں انبیا کے بعد ائمہ کو ایک بڑا مقام ملاہے، انھیں امت کے بڑے بڑے گروہوں کی طرف سے قبولیت ملی ہے ، مگر ان کا معاملہ بھی یہ ہے کہ چاروں ایک بات نہیں کہتے ۔ یہ تو کبھی بھی نہیں ہو سکتا کہ ایک وقت میں تین یا چار باتیں درست ہوں۔ لازمی بات ہے کہ اختلافی آرا میں چاروں میں سے ایک صحیح اور باقی غلط ہوں گی۔ اس بات سے ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ آدمی ،خواہ کتنا بڑا کیوں نہ ہو ،اگر وہ نبی نہیں ہے تو اسے غلطی لگ سکتی ہے۔اس لیے کہ نبی کو اپنی آرا میں اللہ کی وحی درست کرتی ہے ۔
جو لوگ خود سوچ کر اپنی عقل و قیاس سے کام لیتے ہیں انھیں غلطی لگتی ہے۔اس لیے لازم ہے کہ آپ اپنی آنکھیں کھلی رکھیں۔ہر بات کا دیانت داری سے جائزہ لیں۔ اسے پرکھیں، اس کے دلائل کا جائزہ لیں اور اگر اس میں غلطی نکل آئے تو اپنی رائے درست کرلیں ۔

ہمارے گروہ

ہمارے معاشرے میں اہل حدیث، دیوبندی ، بریلوی، تبلیغی جماعت، جماعت اسلامی ، اہل تصوف ، شیعہ اور اس طرح کے کئی گروہ پائے جاتے ہیں جو دین کے بنیادی معاملات جیسے شرک و توحید سے لے کر فقہی و فروعی معاملات تک میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ یہ تو ہو نہیں سکتاکہ یہ سب درست ہوں گے۔ اگر یہ سب ہر مسئلے میں درست ہیں تو پھر دین اسلام نعوذ باللہ ایک چیستان ہوا۔ اور یہ بھی کہنا صحیح نہیں ہے کہ ان میں سے صرف ایک گروہ پوری طرح صحیح ہے اور باقی تین چار گروہ مکمل طور پرغلط ہیں۔ اس لیے کہ ان سب کو دین صدیوں کے تعامل سے ملا ہے جس میں علما کی آرا بھی شامل ہوئی ہیں، ائمہ و فقہا کے فتاویٰ بھی، غیرمسلموں کے نظریات بھی، جیسے فلسفۂ یونان وغیرہ اور ظنی و قطعی ذرائع سے ملنے والا دین بھی۔
اب سوال یہ ہے کہ آدمی کس کے ساتھ جڑے، کس کی بات مانے۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ان میں سے ہمیں کسی گروہ سے نہیں جڑنا، بلکہ ہمیں حق سے جڑنا ہے۔ جو انھی گروہوں کے پاس ہے ، مگر اس میں ان گروہوں کے اپنے نظریات شامل ہو چکے ہیں۔ کسی نے اپنے نظریات ڈال دیے ہیں ۔کسی نے اپنی فقہ اور کسی نے اپنے فلسفے تراش لیے ہیں ۔کسی نے نئے منہاج دریافت کرکے اس میں داخل کردیے ہیں اور کسی نے سارے دین کی مجموعی تعبیر ایسے کردی ہے کہ دیکھنے میں تو دین ہی لگتا ہے ،مگر وہ دین نہیں رہا۔
اس دور میں جبکہ باتیں ایک سے زیادہ ہو گئی ہیں اور گروہ بے شمار بن گئے ہیں تو اس میں صالح آدمی کے لیے اس کے سوا کچھ چارہ نہیں ہے کہ اس دین تک پہنچے جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے۔ بلاشبہ وہ انھی گروہوں کے پاس ہو گا، مگر سارا کسی ایک کے پاس نہیں ۔ اس کا کچھ حصہ کسی کے پاس محفوظ ہے اور کچھ حصہ کسی اورکے پاس۔

مطلوب رویہ

دین کے اس دور میں ہمیں اپنے اپنائے ہوئے دین کو پرکھتے رہنا چاہیے۔ قرآن اور سنت متواترہ کو معیار بناتے ہوئے ایک ایک عمل کا جائزہ لے لیناچاہیے۔ایک ایک نظریے اور عقیدے کو پرکھ لینا چاہیے۔ہر ہر گروہ سے رائے لینی چاہیے ،ان کے دلائل کو جاننا چاہیے اور جس کی بات قرآن و سنت سے زیادہ قریب لگے اسے اپنانا چاہیے۔ جو لوگ دین میں ایسی مشقت نہ کر سکتے ہوں انھیں کم از کم ایسا ضرور کرلینا چاہیے کہ وہ دو تین علما سے متعلق ہو جائیں جن کے بارے میں ان کا خیال ہو کہ وہ قرآن وسنت کو سمجھنے والے ہیں اور دین کے ساتھ مخلص ہیں، مگر یہ فیصلہ محض جذبات اور اپنے کسی تعلق کی بنا پر نہیں ہونا چاہیے، بلکہ نہایت دیانت داری سے اچھی طرح تو ل پرکھ کر ہونا چاہیے۔
حق پرستی کے لیے درج ذیل چیزیں ضروری ہیں:
۱۔ اپنی آنکھیں اور دل و دماغ کو کھلا رکھنا چاہیے۔
۲۔ جب اپنی غلطی کا احساس ہو ، اسے اچھی طرح تحقیق و جستجو کے بعد درست کرنا، اپنی رائے کو چھوڑنا اور درست کو اپنا لینااور جو اس وقت درست رائے بنائی گئی اس آزمایش کیلیے بھی تیار رہنا کہ اس میں بھی غلطی نکل سکتی ہے۔ واضح رہے کہ اہل حق کی یہی سب سے بڑی آزمایش ہے۔
۳۔اس سب کچھ کے بعد اگر آپ نے غلط رائے بھی نیک نیتی سے اپنا لی ہے اور اس کی غلطی معلوم ہونے پر ہروقت اسے درست کرنے کے لیے تیار ہیں ، تو پھر اگر خدا کے سامنے آپ چلے گئے اور غلطی پر بھی ہوئے تو آپ کو سزا نہیں ملے گی، بلکہ اجر ملے گا، لیکن اگر آپ نے نیک نیتی سے ایسا نہیں کیا، بلکہ کسی تعصب اور بدنیتی کی وجہ سے آپ نے رائے بنائی ہے تو یہ واپس کر دی جائے گی خواہ آپ کی رائے درست ہو۔ یہ ایسی ہی بات ہے جیسا کہ آپ بالکل درست طریقے سے نماز پڑھیں ، مگر ریا کاری کردیں ، تو ثواب کے بجائے الٹے عذاب کے مستحق بنیں گے۔
لیکن اگر آپ نیک نیتی سے کھڑے ہوئے ، جتنی نماز آپ کو آتی تھی صحیح پڑھی ،مگر کہیں کو ئی غلطی ہو گئی اور آپ کو پتا نہیں چلا ،ہاں اگر آپ کو پتا چل جاتا تو آپ درست کرنے کے لیے تیار ہوتے تو یہ غلطی والی نماز کا بھی آپ کو ثواب ملے گا۔اس لیے کہ خطا و نسیان پر اللہ تعالیٰ نے مواخذہ نہیں رکھا۔

اعلیٰ اخلاق

ہم نے اخلاق کے چھ پہلو اوپر بیان کیے تھے:
۱۔ لین دین میں دیانت دار ی
۲۔ معاملات زندگی میں انصاف پسندی
۳۔ ملنے جلنے میں قول حسن پر عمل
۴۔ نیت کامثبت ہونا
۵۔ ہر چیز کے مثبت رخ کو دیکھنا
۶۔اپنی نگہ داری
پہلی تینوں چیزوں کی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے ،اس لیے کہ ہم عملی آزمایشوں والے باب میں اسے بیان کر چکے ہیں۔ یہاں ہم ذہنی آزمایشوں والے حصے کو وضاحت سے بیان کریں گے۔

نیت کا مثبت ہونا

اس کے معنی یہ ہیں کہ ہم ہر کام کے کرتے وقت اپنی نیت کو مثبت رکھیں یعنی صبر کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے ارادوں اور نیتوں میں ہمیشہ مثبت پہلو سے آگے بڑھیں،مثلاً:
۱۔کسی کے ساتھ معاملہ کریں تو اس میں خیر خواہی کی نیت ہو
۲۔ نیکی کا عمل کریں تو نیت آخرت کی کامیابی ہو
۳۔ دھوکے اور فریب کے لیے صبر اور درگز رنہ کریں ، کہ اب معاف کردیتے ہیں، کل اسے لوٹ لیں گے
۴۔ کسی کو بعد میں ستانے اور تنگ کرنے کے لیے اس کی مددنہ کریں وغیرہ۔

ہر چیز کے مثبت رخ کو دیکھنا

اس کے معنی یہ ہیں کہ اپنے ارد گرد رہنے والے لوگوں کو دیکھنے کی نظر یہ بنانی چاہیے کہ وہ لوگ انسان ہیں اور جس طرح ہم سے غلطی ہو جاتی ہے ، ان سے بھی ہو سکتی ہے۔اس لیے ان کے ہر عمل کو اس وقت تک مثبت نگاہ ہی سے دیکھنا چاہیے، جب تک ان کا شر کھل کر سامنے آجائے۔ اگر آدمی کی یہ تربیت نہ ہوئی ہو تو اسے قرآن و حدیث بھی فائدہ نہیں دے سکتے ۔اس لیے کہ اس کی عادت باتوں کے غلط رخ کو دیکھنے لگ جاتی ہے۔ چنانچہ جب اس کا کوئی بھائی بند اس کے ساتھ نیکی بھی کرے تو اس میں سے بھی کسی ایسے پہلو کو نکال لیتا ہے جو منفی ہو۔ چنانچہ اس کے بارے میں قرآن کا حکم یہ ہے کہ لوگوں کے بارے میں بدگمانی نہ کی جائے (سورۂ حجرات)۔
قرآن مجید جیسی کتاب کو اگر غلط زاویۂ نگاہ سے دیکھیں گے تو وہ بھی ہماری گمراہی کا باعث بن جائے گی۔ جیسے قرآن مجید میںآنے والی مثالوں کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا گیا ہے :

یُضِلُّ بِہِ کَثِیْرًا وَّ یَہْدِیْ بِہٖ کَثِیْرًا، وَمَا یُضِلُّ بِہٖ اِلَّا الْفٰسِقِیْنَ .(البقرہ۲: ۲۶)
’’اس (مثال)سے اللہ بہتوں کو گمراہ کرتا اور بہتوں کو ہدایت دیتا ہے۔ گمراہ مگر ان فاسقین ہی کو کرتا ہے ۔‘‘

اس آیت میں یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ قرآن جیسی کتاب کے بارے میں بھی یہ بات خود قرآن ہی کہہ رہا ہے کہ ایک فاسق کے لیے یہ کتاب یا اس میں مثالیں جو اصلاً ہدایت کے لیے آئی ہیں، وہ گمراہی کا باعث ہیں ۔ تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر فاسق آدمی کے زاویۂ نگاہ سے بات کو سمجھا جائے تو قرآن کے نتائج اور ہیں اور اگر مومنانہ نگاہ سے قرآن کو سمجھا جائے تو اس کے ثمرات اور ہیں۔
یہی صبر کی آزمایش ہے کہ آپ اپنے زاویۂ نگاہ کو ہمیشہ درست رکھیں۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ آپ ہر وقت اپنی نگہ داری کریں۔

اپنی نگہ داری

اپنی نگہ داری سے ہماری مراد یہ ہے کہ آپ ہر وقت اپنے افعال و افکار پر نگاہ رکھیں کہ کہیں وہ جادۂ مستقیم سے ہٹنے تو نہیں پار ہے ہیں۔ اگر کوئی فلسفیانہ بحث ، کوئی عملی مشکل ، کوئی معما آپ کو غلط راستے پر ڈال رہا ہے تو اس پرغور کریں کہ یہ بات کیا ہے ، جو میرے دل میں ابھر رہی ہے۔اسے دبایے نہیں ، بلکہ اسے ٹٹولیں ، کریدیں، اس کو سمجھیں اور سمجھ کر متعین کریں کہ یہ کیا بات ہے ۔ پھر اس کے سوال کا جواب تلاش کریں ۔ اگر خود نہ ڈھونڈ سکیں تو علما اور سمجھ دار لوگوں سے مدد لیں، جو دین میں بصیرت رکھتے ہوں ۔
اپنی نگہ داری کا دوسرا پہلو عمل سے متعلق ہے۔ ہم جو بھی عمل کرتے ہیں اس کے اثرات ہمارے دل ودماغ پر پڑتے ہیں۔ جو ہماری شخصیت کی تعمیر کرتے ہیں۔ اگر ہم اچھے کام کریں گے ، تو ہماری نفسیات مستحکم اور صحت مند بنے گی۔ اگر ہم غلط راہوں اور عملوں میں پڑ گئے تو اس سے ہماری نفسیات پر برے اثرات پڑیں گے۔یہ اعمال ہمارے تجربے کی صورت میں ہماری رائے پر بھی اثر انداز ہوتے اور ہماری عادات تخلیق کرتے ہیں۔ ایک آدمی گھر میں بیٹھ کر غلط سوچوں میں پڑا رہے تو باہر نکل کر اس کی نظر پاک نہیں ہو سکتی ۔ اسی طرح غلط عمل کرنے والے کا دماغ بھی صاف اور پاک باز نہیں ہو سکتا۔
آپ کو اپنی صحبت اور یاری دوستی کے لحاظ سے اپنی نگہ داری کرنی ہے۔ اچھی صحبت اچھے ذہن کو تخلیق کرتی ہے اور بری صحبت برے ذہن کو ۔ اسی لیے قرآن میں ان لوگوں کے پاس بیٹھنے سے روکا گیا ہے ، جو قرآن کی آیتوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ اس لیے کہ اس سے وہی ذہن بنے گاجس کے اثرات ایمان و عمل ،دونوں پر پڑیں گے۔
اس زمانے میں بعض دینی لوگ بھی ذہنی عیاشیوں کے لیے بعض ایسے لوگوں کے پاس اٹھتے بیٹھے ہیں کہ جہاں وہ نقطۂ آفرینی اور بذلہ سنجی کے جوہر دکھاتے اور پھر آہستہ آہستہ غلط نظریات کے ایسے اسیر ہو جاتے ہیں کہ پھر بات سمجھائے نہیں بنتی۔
اسی لیے امت میں شروع سے یہ نظریہ موجود رہا ہے کہ ’صحبت صالح ترا صالح کنند ‘کہ اچھی صحبت تجھے اچھا بناتی ہے ۔ قرآن مجید نے جب بدووں کی طرف سے ایمان کی کمزوری دیکھی تو انھیں یہ مشورہ دیا کہ قول و فعل میں سچے لوگوں کی صحبت اٹھاؤ۔ چنانچہ فرمایا’کونوا مع الصادقین‘(توبہ ۹: ۱۱۹) سچوں کی صحبت میں رہو۔تاکہ تمھارے اندر بھی وہی دینی بصیرت پیدا ہواور تم بھی ہر طرح کے حالات میں دین پر صبر و ثابت قدمی ظاہر کرسکو۔

صحیح عقیدہ

صبر کے لحاظ سے ایک ذہنی آزمایش یہ ہے کہ ہم ہر حالت میں اپنے عقیدہ کو درست رکھیں۔ مثلاً توحیدیا خدا کی بندگی اور اسی سے استعانت طلبی ہمیشہ برقرار رہے۔اگر کسی کے اولاد نہ ہو تو عام طور سے دیکھا گیا ہے کہ وہ خدا سے مایوس ہو کر پیروں فقیروں کے دروازے پر جاتے ، درباروں پر نذرانے چڑھاتے ، ان کے نام کی نیازبانٹتے اور اگر ان سے بھی کام نہ بنے تو پھر ان کو چھوڑ کردوسروں کے دروازے پر دھکے کھاتے پھرتے ہیں۔ یہ سب بے صبر ی ہے ۔ اس سے آپ کا عقیدہ خراب ہو جاتاہے۔ یہ شرک ہے کہ آپ یہ مانیں کہ انسانوں میں سے کوئی ایساہے جو خدا کے فیصلوں کو تبدیل کرا سکتاہے۔یہ خدا کی صفات کا انکار اور اس کی ذات کی اہانت ہے۔
اسی طرح محبت رسول میں لوگوں کے ہاں غلو وجود میں آتا ہے اور وہ اللہ اور نبی میں فرق مٹادیتے ہیں۔ حالانکہ یہ عیسائیت کا نقطۂ نگاہ ہے۔ اسلام میں نبی کو اللہ یا اس کا بیٹا نہیں مانا جاتا،مگر ہمارے عقیدے اسی قدر خراب ہو چکے ہیں۔ہم انسانوں کو خدا کا تقدس دیتے اور یوں شرکاے خدا کی ایک لمبی فہرست پر ایمان رکھتے ہیں۔یہ نظریات ہمارے اسی طرح کی ضرورتوں سے پھوٹے ہیں جن میں ایک اولاد کے نہ ہونے کا ہم نے ذکر کیا۔ اسی طرح ایک چیزدوزخ کا خوف اور ہماری بے عملی ہے ۔اس نے ان شرکا ے خدا کو وجود بخشاہے، جو ہمارے شفاعتی بنیں گے۔ چنانچہ جب وہ آخرت میں شفاعتی بنیں گے تو یہاں اس دنیا میں بھی یہ تصور وجود میں آیا کہ وہ دنیا میں بھی خدا کے فیصلوں کو بدل سکتے اور انھیں ہمارے حق میں تبدیل کراسکتے ہیں۔چنانچہ جن لوگوں نے اپنے آپ کو تصوف میں قطب و ابدال بنایا ،ان کے درباروں اور مزاروں پر ٹھٹ کے ٹھٹ لگ گئے۔ وہ پوجے گئے، ان سے استعانت طلب کی گئی اور خدا کی راہ میں انفاق کے بجائے ان کے نام کے نذارنے اور نیازیں بٹیں۔ یہ سب استقامت و صبر کے منافی ہے۔
آزمایش خواہ کیسی بھی کیوں نہ ہواس میں خدا کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے (الحجر۱۵:۵۶)۔ خدا سے مایوس ہوئے بغیر اس کی رضا پر راضی رہنا اس معاملے میں صبر ہے۔

مویدات صبر

اس باب میں ہم ان چیزوں سے بحث کریں گے ، جو ہمیں صبر کرنے میں ممد و معاون ہیں:

اللہ اور صبر

صبر کے بارے میں ہم اوپر یہ پڑھ آئے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہمارے تعلق سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ تعلق جتنا صحیح ہوگا، صبر کے حصول میں اتنا ہی ممد و معاون ہوگا۔ صحیح ہونے کے معنی یہ ہیں کہ یہ تعلق صحیح رخ میں اور پورے شعور کے ساتھ ہو۔ صحیح رخ کے معنی یہ ہیں کہ ہم خدا کو اچھی طرح جان کر اس کے ساتھ تعلق بنائیں۔ جیسے دنیا میں اگر ہم انسانوں کو صحیح نہ پہچانیں تو ہم ان سے بسا اوقات نقصان اٹھا بیٹھتے ہیں۔ ٹھیک ایسے ہی اگر ہم نے خدا کو صحیح نہ پہچانا تو ہم خدا سے ایسی غلط توقعات پر بیٹھے رہیں گے جنھیں پورا کرنا اللہ تعالیٰ کی صفا ت اور حکمتوں کے خلاف ہو۔ اس لیے ہمارے خدا کے ساتھ صحت مندانہ تعلق کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم اس کی صفات اور سنن کو جان کر اس کے ساتھ تعلق استوار کریں۔ تاکہ غلط توقعات اور غلط نظریات کی بنا پر ہمارا تعلق ناقص بنے اور عین اس وقت شکستہ ہو جائے جس وقت ہمیں اس تعلق کی سب سے زیادہ ضرورت ہو۔
اس بات کو ہم ایک مثال سے سمجھتے ہیں۔ ایک بزرگ ساری زندگی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے رہے۔ اور اپنے تصورات کے مطابق اس زعم میں رہے کہ ایسی ریاضت کے بعد اللہ تعالیٰ کی مدد اسی طرح آتی ہے جس طرح ابراہیم پر آگ ٹھنڈی کرنے کے لیے اللہ کی مدد آئی۔اور اس طویل ریاضت کے دوران میں انھوں نے خدا سے کوئی چیز طلب نہیں کی۔ تاکہ وہ ایسے کسی موقع پر اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے مدد مانگ سکیں۔
چنانچہ ایک دفعہ یوں ہوا کہ باد و باراں کا نہایت سخت طوفان آیا، جس کے نتیجے میں سیلاب آگیا۔ سارا گاؤں غرقاب ہوگیا۔ لوگ بچنے کے لیے لکڑی ، شہتیر اور ہر طرح کی چیزوں سے مدد لینے لگے ،مگر ان بزرگوں کے نزدیک یہی موقع تھا کہ وہ اپنی ریاضت کا فائدہ حاصل کریں۔ چنانچہ انھوں نے آسمان کی طرف سر اٹھایا اور پکارے کہ اے اللہ آج تو خود مجھے آکر بچائے گا ۔ میں کسی چیز کی مدد حاصل نہیں کروں گا۔بارش ہوتی رہی اور وہ بزرگ پانی میں خدا کے ہاتھ کا انتظار کرتے رہے۔ ایک شہتیر تیرتا ہوا ان کے پاس سے گزرا، مگر انھوں نے یہ کہہ کر اسے نہ روکا کہ آج اللہ مجھے بچائے گا۔میں اس کی مدد نہیں لوں گا۔ تھوڑی دیر بعد ایک بھینس تیرتی ہوئی آئی۔ وہ اس پر بیٹھ کر بھی بچ سکتے تھے، مگر انھوں نے کہا آج اللہ مجھے بچائے گا اتنے میں پانی ان کی گردن تک آگیا۔ تھوڑی دیر بعد گاؤں کے کچھ لوگ کسی تختے پر تیرتے ہوئے آئے ،انھوں نے کہا بابا جی آجاؤ، مرجاؤ گے، مگر باباجی نے مسکرا کر سوچا، آج مجھے اللہ بچائے گا۔ پھر انھوں نے تختے پر تیرنے والوں کو ان کی مدد لینے سے انکار کردیا۔ اتنے میں پانی ان کے سر تک پہنچ گیا۔ پھر فوجیوں کی ایک کشتی تیرتی آئی، انھوں نے باباجی کی لاش کو اٹھایا اور پانی سے باہر لے آئے۔ اس قصہ سے بات واضح ہوئی کے خدا کے ساتھ تعلق ایسی توقعات پر وابستہ کرکے بنایا گیا کہ جو اس کی سنت اور صفات کے خلاف تھا۔ کیونکہ وہ اس دنیا کو پردۂ غیب میں رہ کر چلا رہا ہے،اس لیے وہ کسی کی اپنے ہاتھ ظاہر کرکے مدد نہیں کرتا ، نہ کرے گا۔ وہ تختہ ، شہتیر، تیرتی ہوئی بھینس ہی ’’اللہ کے ہاتھ‘‘ تھے جن کو تھام کر باہر آنا چاہیے تھا۔

اللہ علیم و حکیم ہے

اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سارے کام اس کے علم و حکمت پر مبنی ہوتے ہیں۔ وہ جذبات کے تحت نہیں ہوتے۔ اللہ تعالیٰ کسی کی شکل و صورت اور حسب و نسب دیکھ کرفیصلے نہیں کرتے، بلکہ وہ اپنے علم اور حکمت کے پیش نظر یہ سب کررہے ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس کے کسی رسول کی امت میں سے ہونا یا کسی کی اولاد ہونا ،اس بات کی کسی کو مستحق نہیں بناتی کہ وہ ہمارے ساتھ ان چیزوں کی بنا پر کوئی معاملہ کرے۔ ایساوہ اپنے علم ، حکمت اور دانائی کی بنا پر کرتا ہے۔

علیم

اللہ صاحب علم ہے ۔ دنیا میں ہونے والا ہر واقعہ ازل سے اس کے علم میں ہے ۔ اس کے لیے کوئی چیز حادثہ نہیں ہے۔ وہ غیب اور ظاہر، دونوں کو جانتا ہے۔ یہاں ایک بات ضمناً عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات اس سے کسی بھی حالت میں جدا نہیں ہوتیں۔ ٹھیک اسی طرح اس کی صفت علم بھی ہر وقت اس میں موجود رہتی ہے۔ چنانچہ جب ہم پر کوئی مصیبت اتری ہو تو یہ ہر گز خیال نہیں کرنا چاہیے کہ اللہ اس سے بے خبر ہو گایایہ کہ اسے تو اس کا علم نہیں تھا ۔
اللہ تعالیٰ کے بارے میں ہمارا یہ نظریہ کہ وہ ہر واقعے کو جانتا ہے ،ہمارے لیے باعث تسلی و اطمینان اور سہارا بننا چاہیے۔ ہماری مراد یہ ہے کہ جب ہمارے اوپر کوئی مصیبت و مشکل آئے تو یہ خیال نہیں آنا چاہیے کہ ہمارا مالک وآقا اس سے بے خبر ہے۔ اب ہمارا پرسان حال کوئی نہیں ہے،بلکہ اس کے برعکس یہ خیال کرنا چاہیے کہ دنیا ہماری اس مصیبت سے بے خبر ہے، مگر وہ کارساز اس سے واقف ہے جس نے اسے اس مصیبت سے نکالنا ہے۔
جب آدمی کو مصیبت کے وقت یہ یاد رہے کہ اس کی مشکلات دور کرنے والا اس کی مصیبت سے باخبر ہے تو یہ اس کے لیے ایک بڑا سہارا ہے جو اسے بلامعاوضہ اور بلا انقطاع میسر رہتا ہے۔
پھر یہ بھی دیکھیے کہ وہ ہماری صلاحیتوں، ہماری افتادطبع، ہماری دلی خواہشات اور ہمارے حالات کا نہایت باریکی سے علم رکھتا ہے۔ چنانچہ اگر وہ ہمیں کسی مشکل میں ڈالے گا تو ان تمام پہلووں سے وہ مشکل آزمایش نہایت نپی تلی اور متوازن ہو گی ۔اگر ہم صحیح ذہن کے ساتھ اس کا مقابلہ کریں، تو ہم بلا شبہ آزمایش کی اس بھٹی سے کندن بن کر نکلیں گے۔اور صبر بھی ہمارے لیے آسان تر ہوگا۔

ہم خدا کی نظروں میں ہیں

یہ دنیا اللہ نے بنائی ہے، وہ اسے چلا رہا ہے۔اس کی نگاہ مسلسل اس کی نگرانی کر رہی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ کوئی مصیبت زدہ ہو اور اللہ اس سے واقف نہ ہو۔ (۵۲:۴۸)نہ ایسا ہو سکتا ہے کہ کوئی ظلم کررہا ہو اور اللہ اس سے بے خبر ہو۔ اس لیے اس بات سے پریشان نہیں ہو نا چاہیے کہ اگر ہم مظلوم ہیں تو ہماری داد رسی نہیں ہو گی، یا ہو گی تو حاکم کی بے خبری کی وجہ سے پوری پوری داد رسی نہ ہو سکے گی ، کوئی کمی رہ جائے گی۔بے صبر ا تو اس کو ہونا چاہیے جسے داد رسی کی امید نہ ہو، یا جو بے انصافی کی توقع رکھتا ہو۔ مثلاً اگر کسی نے میرے بھائی کو قتل کردیا ہے تو وہ آج تو قانون کی گرفت سے بچ سکتا ہے ، لیکن خدا کی پکڑ سے کیسے بچ سکتا ہے۔
قرآن نے کہا کہ اس زمین و آسمان کی حدود سے بھاگ کر کیسے نکل جاؤ گے۔آخر تم سب آہستہ آہستہ اپنے رب کی طرف کھنچے جا رہے ہواور ایک دن اس کے سامنے کھڑے ہو گے۔ اس دن خدا کا سامنا ہر کسی نے کرنا ہے۔ آدم و حوا کے زمانے سے لے کر قیامت سے پہلے پیدا ہونے والے آخری آدمی تک نے یہ دن دیکھنا ہے اور اس میں جو کچھ اس نے کیا ہے ،اسے بھگتنا ہے۔اس دنیا میں اگر آپ کے ساتھ کوئی ظلم و، انصافی ہو، خواہ اس کی کمیت و اہمیت ذرہ برابر ہو ،وہ بھی سامنے آئے گی۔ اور اس پر آپ کو پورا پورا بدلہ ملے گا۔ قیامت کے بارے میں قرآن کی یہ تصریح کہ اس دن خیرو شر میں اگر کسی نے ایک ذرہ برابر عمل بھی کیا ہے تو اسے دیکھے گا۔ (سورہ زلزال ۹۹)یعنی اس سے اجر و گناہ پائے گا۔ ہر مظلوم کے لیے خو ش خبری ہے اور ہر ظالم کے لیے ایک وعید و دھمکی۔ جس مظلوم پر یہ حقیقت منکشف ہو، وہ اپنے ظالموں سے بدلہ لینے کے لیے کیوں کر حدود سے تجاوز کرے گا اور اسے بدلہ لینے کی ایسی جلدی بھی نہیں ہو گی کہ ماورایعدالت انتقام لیتا پھرے۔ غرض یہ احساس کہ میں اللہ کی نگاہوں میں ہوں، وہ ہر وقت میری ہر حالت سے واقف ہے، یہ چیز ہمیں ایک نوعیت کا اطمینان عطا کرتی ، اور ہمیں بے صبری سے روکے رکھتی ہے۔

حکیم

اللہ صاحب حکمت ہے ۔دنیا میں ہونے والا ہر واقعہ اس کی دانائی ، بصیرت اور اس کے حکیمانہ مقاصد کا حامل ہوتا ہے۔ ہماری نگاہ اس پر نہیں ہونی چاہیے کہ یہ مصیبت کتنی بڑی ہے ،بلکہ اس پر ہونی چاہیے کہ یہ کیوں آئی ہے۔ اس لیے کہ اس حکیم و خبیر سے یہ توقع نہیں کہ وہ بلا وجہ ہمیں کسی ابتلا میں ڈال دے گاوہ یقیناًدر ج بالا مقاصد ہی کے لیے ہمیں آزماتا ہے۔ اس کے حکیم ہونے کا تقاضا یہی ہے کہ اس کے ہر کام کو حکمت پر مبنی سمجھا جا ئے اس لیے کہ ہم یہ جان چکے ہیں کہ اس کی یہ صفات اس سے کسی حالت میں بھی الگ نہیں ہوتیں۔ اس لیے یہ جان لینا چاہیے کہ اگر وہ کسی کو سزا بھی دے رہا ہو تو وہ بھی حکمت سے خالی نہیں ہوتی۔
اس کو ہم ایک ادنیٰ درجے پر ماں کی مثال سے سمجھ سکتے ہیں، جو اپنے بچے کو بدتمیزی کرنے یا محنت نہ کرنے پر صرف اس لیے سزا دیتی ہے کہ اس کی عادتوں کا بگاڑ اس سے دور ہو، یا اس کا مستقبل تاریک نہ ہو۔ ماں کے ذہن کی یہ حکمت بعض اوقات بیٹے سے اوجھل ہوتی ہے اور وہ ماں سے باغی ہو جاتا ہے، جو کہ جائز نہیں ہے۔ اگر ماں اپنے بیٹے پر یہ ستم اس لیے توڑتی ہے کہ وہ سدھر جائے ،اس کا مستقبل سنور جائے، وہ آنے والے دنوں میں پریشان نہ ہو تو کیا خدا ماں سے زیادہ حکیم نہیں ہے؟ اور وہ اس سے زیادہ مستقبل سے باخبر نہیں ہے؟ یہی اس کا علیم و حکیم ہونا ہے جو ہمارے لیے باعث اطمینان ہے۔
اس حکمت کا ایک پہلو یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ بسا اوقات ہم یہ خیال کر رہے ہوتے ہیں کہ ہمارا کاروبار چل جانا چاہیے، ہمیں ملازمت مل جانی چاہیے، ہمارے اولاد ہونی چاہیے ، لیکن معاملہ اس کے برعکس رہتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اللہ کا علم یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ ہمارے لیے مستقبل میں نقصان کا باعث ہو گا۔ وہ ہمیں اس نقصان سے بچانے کے لیے اس سب کچھ سے محروم رکھتا ہے۔

اللہ رؤف و رحیم ہے

مشکلات میں ہمیں جو چیز یں صبر کے لیے بدرقہ فراہم کرتی ہیں ان میں سے اللہ کی دو صفات : رؤف و رحیم ہیں۔

رؤف

’رؤف ‘اس ذات کو کہتے ہیں، جو دوسروں کی مشکلات دور کرنے والی، ان کو کلفتوں سے نکالنے کا اہتمام کرنے والی ہو۔ جبکہ ’رحیم ‘ اس ذات کو کہتے ہیں ،جو عنایت و مہربانی کرنے والی ہو،لوگوں کے لیے استحقاق یا بلا استحقاق نعمتیں نازل کرنے والی ہو۔گویا رحمت عام ہے اور رافت خاص ، جو اس وقت متحرک ہوتی ہے، جب آدمی مشکل میں گھرا ہوا ہو۔
اس صفت کے تذکرے سے جو باتیں میں سامنے لانا چاہتا ہوں، ان میں سے ایک بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفت یہ تو ہے کہ وہ مشکلات میں سے نکالتا ہے ،لیکن یہ نہیں ہے کہ وہ مشکلات میں ڈالتا ہے۔ البتہ اس نے یہ بتایا ہے کہ وہ بھوک، جان جانے کے خوف اورنقص اموال سے ہماری آزمایش کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم ایسی ذات کے بارے میں جو رؤف و رحیم ہے، ہر گز یہ خیال نہ کریں کہ وہ خواہ مخواہ ہمارے او پر مصائب نازل کرتا رہتا ہے۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ وہ جب بھی ہمیں مشکل میں ڈالتا ہے تو وہ محض مشکل میں ڈالنے کے لیے ایسا نہیں کرتا،بلکہ اس کا مقصد، جیسا کہ اوپر واضح ہو چکا ہے ہماری بھلائی ہوتی ہے ۔ دیکھا جائے تو حقیقت میں رافت کا تقاضایہی ہے۔
قرآن مجید میںیہ صفت ’و اللّٰہ رؤف بالعباد‘(اللہ اپنے بندوں کے لیے رؤف ہے۔)کے الفاظ کے ساتھ بھی آئی ہے۔ قرآن مجید کا یہ اسلوب نہایت درجہ دل نواز ہے۔ اسی طرح یہ صفت ’ان اللّٰہ بالناس لرؤف الرحیم‘کے الفاظ کے ساتھ بھی آئی ہے۔ سورۂ بقرہ (آیت ۱۴۳)میں یہ صفت جہاں آئی ہے ،وہ مقام اس صفت کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔ اس لیے ایک نظر اس مقام پر ڈال لینا بھی فائدے سے خالی نہ ہوگا۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے تبدیلی قبلہ کا حکم دے کر اس متوقع رد عمل کا ذکر کیا ہے ،جو بالخصوص یہود کی طرف سے سامنے آنے والا تھا۔ وہ صدیوں سے بیت المقدس کو قبلہ بنائے ہوئے تھے۔ اب اس قبلہ سے ہٹنا ان کے لیے بہرحال ایک دشوار کام تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیتے ہی فرمایا ہے کہ اللہ نے یہ حکم امت مسلمہ کو کاملاً دین ابراہیمی پر قائم کرنے کے لیے دیا ہے اور اس لیے دیا ہے کہ وہ یہ پرکھے کہ کون رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹے پاؤں واپس چلا جاتا ہے۔
اس حکم کے یہ دونوں مقصد بتانے کے بعد فرمایا کہ بلا شبہ یہ کام مشکل ہے ،لیکن ہم نے یہ حکم اس لیے نہیں دیا کہ ہم تمھارا ایمان ضائع کردیں۔ اللہ تو لوگوں کے ساتھ رؤف و رحیم ہے۔
یہاں سے ہمیں یہ بات معلوم ہوئی کہ تبدیلی قبلہ جیسی ایک بڑی آزمایش میں ڈالنے کے بعد ،جس کے مشکل ہونے کوخود رؤف و رحیم نے تسلیم کیا ہے، ا للہ تعالیٰ یہ فرماتے ہیں کہ میں رؤف ہوں اس لیے تم پر ایسی آزمایش نہیں ڈالوں گا جس کی وجہ سے تم ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھو۔ اسی اصول کو اس نے ایک عمومی اصول کے طور پر بھی بیان کیا گیاہے کہ ’لایکلف اللّٰہ نفسا الا وسعہا‘(اللہ کسی پر اس کی وسعت سے زیادہ آزمایش کا بوجھ نہیں ڈالتا) ۔یہاں اس وسعت سے مراد قوت برداشت ہے، یعنی آدمی پر ایسی آزمایش نہیں ڈالی جائے گی کہ اس کی قوت برداشت سے زیادہ ہو جائے اور وہ کفر پر مجبور ہو کر ایمان سے محروم ہوجائے۔ اگر اللہ ایسی آزمایش آدمی پر ڈال دیں تو یہ اس کے نزدیک قرین انصاف نہیں ہے کہ وہ اس پر گرفت کرے۔ یہی وجہ ہے کہ بچوں کی طرح ،پاگل اور بے ہوش آدمی کے جرائم کا مواخذہ نہیں ہے۔

خدا کی توجہ مقصد تخلیق پر

دوسری بات رافت کے پہلو سے سمجھنے کی یہ بھی ہے کہ رؤف و رحیم کی نظر تخلیق آدم کے اس مقصد پر رہتی ہے کہ اس نے اسے آزمایش کے لیے پیدا کیا ہے، نہ کہ اس دنیا میں ہمیشہ کی زندگی گزارنے کے لیے، جبکہ ہم اکثر اوقات اس حقیقت کو فراموش کیے رہتے ہیں۔
وہ ایک ہمدرد ماں کی طرح جواپنے نالائق بچے کے مستقبل سے پریشان رہتی ہے ،اسے کبھی ڈانٹتی ہے کبھی کوستی ہے، کبھی پیار سے بہلاتی پھسلاتی ہے، کبھی لالچ دیتی اور کبھی سزا کی وعید سناتی ہے۔ ذرا اس نگاہ سے ان آزمایشوں کو دیکھیے اور سوچیے کہ وہ کتنا پیار کرنے والا ، کتنا خیر خواہ اور کس قدر مشکلات سے نکالنے والا ہے۔
وہ اس نادان ماں کی طرح (نعوذ باللہ) نہیں ہے، جو اپنے بچے کو اس لیے چلنانہیں سکھاتی کہ کہیں گر کر اسے چوٹ نہ آجائے ۔وہ جہاں جاتی ہے اسے گود لیے رہتی ہے۔ بظاہر وہ بیٹے کی ہمدرد ہے ، لیکن حقیقت میں دیکھا جائے تو وہ اپنے بیٹے کی دشمن ہے۔ اسے بیٹے کے ان دنوں کی پروا نہیں ہے ،جب وہ اسے گود میں اٹھا کر کہیں نہ لے جاسکے گی۔ پھر یہی بیٹا اسے گالیاں دے گا کہ تو نے مجھے چلنا کیوں نہیں سکھایا؟ تم نے میر ے ساتھ یہ دشمنی کیوں کی؟ اور وہ اسے یہ نہ کہہ سکے گی کہ میں نے تو تمھاری ہمدردی کی تھی۔
جس ماں نے اپنے بیٹے کو پاؤں پرچلنے کے لیے مشکلات میں نہیں ڈالا ، وہ اس وقت ہمدرد نظر آتی تھی ،مگر وہ حقیقت میں ’’رؤف‘‘ نہیں تھی اور جس نے اپنے بیٹے کو بچپن میں مشکل میں ڈالا ، وہ اس وقت سخت نظر آتی تھی، مگر حقیقت میں وہ ’’رؤف‘‘ و ہمدرد تھی۔
ہم چونکہ بچوں کی طرح اپنے’’ مستقبل ‘‘ کو اکثر فراموش کیے رہتے ہیں ،اس لیے ہمیں وہ ’’ماں‘‘اچھی لگتی ہے، جو ہماری ’’آج ‘‘کی راحت کا خیال رکھتی ہے، جبکہ دوراندیش آدمی کو وہ ’’ماں‘‘اچھی لگے گی ،جو اس کے ’’کل ‘‘کی راحت کو بھی ملحوظ رکھے۔ اللہ ایسی ہزار ماؤں سے بھی زیاد ہ ہمدرد ہے۔ اس لیے مشکل سے مشکل وقت میں بھی یہ خیال رکھنا چاہیے کہ اللہ یقیناًہمیں ’’پاؤں پرچلنا ‘‘ سکھا رہے ہیں، اورسیکھنے کے دوران میں ٹھوکریں تو ہمیں لگیں گی۔

رحیم

ایک نظر اب ’رحیم ‘کی صفت پر بھی ڈال لیجیے۔ ’رحیم ‘ اس ذات کو کہتے ہیں جو عنایت و مہربانی کرنے والی ہو، لوگوں کے لیے استحقاق یا بلا استحقاق نعمتیں نازل کرنے والی ہو۔ رحمت کے چند اہم پہلو سمجھنا حصو ل صبر کے لیے نہایت ناگزیر ہے۔ رحمت اللہ تعالیٰ کی ایسی صفت ہے کہ اس سے بعض مکاتب فکر نے عجیب و غریب فلسفے تراش رکھے ہیں ، جس کی وجہ سے بسا اوقات اللہ تعالیٰ کی ذات ہی کی نفی ہو جاتی ہے کہ وہ کوئی بااصول ذات ہے بھی یا نہیں؟ آیئے اب رحمت کے حوالے سے چند باتیں سمجھ لیں:

سزا اور مشکلات رحمت کا حصہ ہیں

رحمت کو ایک اور پہلو سے بھی سمجھ لینا چاہیے ۔عام تصور اس کے بارے میں یہ ہے کہ اس میں صرف عنایت و شفقت ہی شامل ہے، لیکن قرآن مجید سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سزا بھی رحمت کا لازمی حصہ ہے۔ اس کے بغیر رحمت کا تصور تکمیل نہیں پاتا۔ اس بات کو ہم ایک مثال سے سمجھ سکتے ہیں۔ فرض کریں ،ایک ماں کے دو بیٹے ہیں۔ ایک شرارتی ہے اور دوسرا شریف اور سیدھا سادھا ہے۔ شریر بچہ کسی موقع پر شریف کو تنگ کرتا ہے تو ماں جو دونوں بیٹوں کی یکساں ماں ہے ، وہ اس طرح کے موقع پر ہمیشہ یہ نہیں کرسکتی کہ اپنے شریف بچے کو دلاسا دے کر چپ کرادے، بلکہ اسے شریر بچے کو سزا بھی دینا پڑتی ہے تاکہ شریف بچے کا دل ٹھنڈا ہو اور اسے محسوس ہو کہ جو اس کی شرارت سے اس نے تکلیف اٹھائی تھی، اس کی سزا اسے مل گئی۔ اگر وہ ماں ایسا نہ کرے تو وہ شفیق ماں نہیں ہے۔ ماں کے اس رویے سے معلوم ہوا کہ شفقت ایک بچہ کی سزا کے بغیر تکمیل نہیں پاتی۔
ٹھیک اسی اصول کو ملحوظ رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے :

کَتَبَ عَلیٰ نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ لَیَجْمَعَنَّکُمْ اِلیٰ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ.(الانعام ۶: ۱۲)
’’اللہ نے اپنے اوپر رحمت واجب کر رکھی ہے، اس لیے وہ ضرور قیامت کے دن تمھیں جمع کرے گا۔‘‘

نا انصافی رحمت کے خلاف ہے

یہاں دیکھیے کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن اکٹھاکر کے حساب کتاب کو اپنی رحمت کا تقاضا قرار دیا ہے۔ رحمت کا یہی وہ اصول ہے،جس سے عدل پھوٹتا ہے۔ چنانچہ ساری دنیا اس بات پر متفق ہے کہ معاشرے میں ہونے والے جرائم کی سزا دی جائے تاکہ مجرمین کے لیے عبرت کے ساتھ ساتھ ،مظلو م کی داد رسی بھی ہو۔ قرآن مجید نے قوم قریش کے انجام بد کی خبر دی تو فرمایا :

قَاتِلُوْہُمْ یُعَذِّبُہُمُ اللّٰہُ بِاَیْدِیْکُمْ وَ یُخْزِہِمْ وَ یَنْصُرْکُمْ عَلَیْہِمْ وَ یَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَ.(التوبہ ۹: ۱۴)
’’ان سے لڑو، اللہ انھیں تمھارے ہاتھوں سے سزا دینا چاہتا ہے، وہ انھیں شکست و رسوائی سے دو چارکرے گا اورتمھیں غلبہ و نصرت سے اوراس طرح مومنین کے سینے ٹھنڈے کرے گا۔‘‘

مراد یہ ہے کہ سزا کی تکمیل صحابہ کے سینوں کی ٹھنڈک کے بغیر نامکمل ہے۔ سورۂ انعام میںیہی وجہ ہے کہ کفار کی جڑ کٹنے پراللہ کا شکر ادا کیا گیاہے:

فَقُطِعَ دَابِرُ القَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا وَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ(الانعام ۶ : ۴۵)
’’سو ، اللہ پروردگارِ عالم کا شکر ہے کہ ظلم کرنے والوں کی جڑ کاٹ دی گئی۔‘‘

ظاہر ہے کہ شکر کا حقیقی موقع رحمت و عنایت ہے، اسی لیے یہاں اس عنایت پر خدا کا شکر کیا گیا ہے کہ دنیا ان لاخیروں سے پاک کر دی گئی۔
اس لیے ہمیں چاہیے کہ جب ہم پر کوئی مشکل نازل ہو ، تو اسے رحمت الٰہی کے خلاف نہ سمجھیں۔ اس موقع پر وہی رویہ اختیار کرنا چاہیے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک صحابی کو بیماری کے موقع پر تجویز فرمایا تھاکہ اس بیماری کو اپنے گناہوں کا کفارہ سمجھو ۔
جیسے ہم نے عرض کیا کہ اللہ کی کوئی صفت کسی وقت بھی اس سے جدا نہیں ہوتی، اس لیے خیال رہنا چاہیے کہ اس کی صفت ’رحمۃ ‘اس کی صفت’ قائم بالقسط‘سے جدا ہو کر عمل نہیں کرتی، بلکہ وہ جب رحم کرتا ہے ، تو کبھی بھی انصاف اور قسط کے خلاف نہیں ہوتا۔
اس کو ایک تمثیل سے سمجھیے: ایک آدمی پر اللہ کی ہر عنایت لگتا ہے کہ آسمان سے براہ است برس رہی ہے۔ دنیا کی کوئی نعمت نہیں جو اس کے گھر میں نہ ہو،مگر اس کا کرداراور اس کا عمل نہایت سرکشی اور نہایت دین ناپسندی ،بلکہ کفرکا ہے تو کیا اس پر اللہ کی رحمت قرین انصاف ہے؟
ہر آدمی جو اس دنیا میں آیا ہے، اسے فطرت ودیعت ہوئی ہے۔ جس میں نیکی کا شعوراوراس کی حلاوت اس کے لیے اجنبی نہیں ہے۔ اس لیے یہ دنیاطلب آدمی بھی نیکی کرتا ہے۔ اگرچہ وہ دنیا میں شہرت پانے یا محض قلبی تسکین کے لیے کرتا ہے۔ تو ’انما الأعمال بالنیات‘کے اصول پر اسے دنیا میں اس کا اجر ملنا چاہیے۔ اگر انھیں دنیا میں اجر نہ ملے ، اور آخرت میں بھی ان کی ان نیکیوں کا اجر نہ ملے تو یہ ناانصافی ہو گی۔
اس لیے اسے یہ اجر مختلف صورتوں میں دے دیا جاتا ہے : کسی کو معاشرے میں بلند منصب عطا کر کے، کسی کو شہرت یادولت دے کر اور کسی کو گرو اور پیشوا بنا کر ،کسی کو مقتدر اور فرعون بنا کر، غرض جو صورتیں اس دنیا کے تنگ نائے میں ممکن ہیں ، ان سب صورتوں میں کسی کی نیکی کے مطابق اسے اجر مل جاتاہے۔ اس طرح ایک نیکی گویا ایک تدبیر کا درجہ پا کر آخرت تک جانے سے محروم ہو جاتی ہے۔
اس لیے یہ فرمایا گیا ہے کہ جو لوگ نیکی اس طرح کرتے ہیں کہ انھیں دنیا ہی میں اجر مل جائے تو انھیں یہ اجر دنیا ہی میں مل جائے گا۔ البتہ آخرت میں ان کے حصے کچھ نہیں آئے گا۔ اس لیے دیکھیے کہ ایک بے انصافی والی ’’رحمت ‘‘ کتنا بڑا انصاف ہے۔

خدا کا رنگ تخلیق

یہ دنیا اللہ تعالیٰ نے جس طرح بنائی ہے، وہ دراصل جوڑے کے اصول پر بنائی ہے۔ یہاں ہر چیز ناقص ہے اور اسے اس کا جوڑا مکمل کرتا ہے۔ مثلاً ہم رات میں آرام کر سکتے ہیں ،مگر کام پوری طرح نہیں کرسکتے ۔ دن میں کام بھرپور طریقے سے کر سکتے ہیں ،مگر آرام نہیں کرسکتے ۔چنانچہ رات دن ،مرد وعورت، زمین وآسمان، خوشی وغم ، آرام و تکلیف غرض ہر ہر پہلو سے دیکھیں تو خدا کی یہ کاری گری ہمیں نظر آئے گی کہ اس نے ہر چیز کا جوڑا بنایا ہے ،جو ایک دوسرے کے نقص کوپورا کرتے ہیں۔اسی طرح اللہ نے خیر و شر کا جوڑا بھی بنایا ہے ۔ یعنی نیکی بھی ہے اور بدی بھی ، غم بھی ہے اورخوشی بھی۔ یہ چاروں چیزیں ہماری آزمایش ہی کے لیے بنائی گئی ہیں ۔اس دنیا میں غم ، مصیبت، نقصان، موت اور دیگر تکالیف ایسی آزمایش ہیں کہ ہمیں ان پر صبر کرنا ہوتا ہے۔ یہ سب چیزیں بھی راحت ، چین، نفع ، زندگی اور خوشیوں کا جوڑا ہیں۔ جس طرح ہم نے اوپر جانا کہ ہر چیز اپنے جوڑے سے مل کر مکمل ہو تی ہے ،اسی طرح خوشی اور غم بھی ایک دوسرے کی کمی کو پورا کرتے ہیں۔
یہ دنیا چونکہ آزمایش کے لیے بنائی ہے۔ اس لیے نہ اکیلا غم اس آزمایش کو صحیح معنی میں آزمایش بناتا ہے اور نہ اکیلی خوشیاں۔ یعنی اگر یہاں غم ہی غم ہوتااور خوشی کا تصور ہی نہ ہوتا ، تو انسان کے لیے غم کی آزمایش بے معنی ہو جاتی ، اسے تکلیف ضرور رہتی ،مگرراحت کے نہ ہونے کی وجہ سے اس آزمایش میں ایسا نقص آجاتا ہے کہ غم کی حالت وہی ہو جاتی ہے، جواس وقت ہماری محدودیت کی ہے ۔ یعنی ،مثلاً ہم اڑ نہیں سکتے تو اس کی نہ ہمیں کوئی آزمایش محسوس ہوتی ہے اور نہ اس کا غم و قلق ہمیں ستاتا ہے ۔ تکلیف اگر لازمی حصہ ہو جائے ،راحت نہ رہے تو اتنا بڑا خلل واقعہ ہوتا ہے کہ کائنات ہی نامکمل سی دکھائی دیتی ہے۔
اس لیے ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ غم ورنج کا آنا شکوہ و شکایت کے لیے نہیں ہے ،بلکہ نعمتوں کے احساس ، ان کی اہمیت جتلانے ، اور ہمیں آزمانے کے لیے ہے ۔ تمام مصائب کو اسی رنگ میں دیکھنا چاہیے۔مصیبت میں گم ہو جانے کے بجائے اسے سمجھ کر اس میں کامیاب ہو کر نکلنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

اصل حیثیت آخرت کی کامیابی کو حاصل ہے

ہم اس دنیا میں عرصۂ دراز سے ہیں۔ اور ہم صدیوں کے اس سفرمیں یہاں رہنے کے ایسے عادی ہوئے ہیں کہ اسے ہم نے اپنی منزل ہی سمجھ لیا ہے۔ چنانچہ ہم یہاں ہمیشہ جینا چاہتے ہیں،لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ دنیا فانی ہے۔ اس کی ہر شے کو زوال ہے اور خود ان زمین و آسمان کو جو محکم و ثابت نظر آتے ہیں، ایک دن ختم ہو جانا ہے۔ اس لمبے عرصہ میں ہم یہ بھول چکے ہیں کہ ہمیں آخرت میں خدا کے حضور میں پیش ہونا ہے۔
چنانچہ انسان اس نسیان کی وجہ سے اپنی منزل کو بھول کر راستے ہی کو منزل سمجھ لیتا ہے۔ جبکہ اسے آخرت کی تیاری کے لیے پیدا کیا گیا ہے اور وہ اپنی ساری مساعی اسی دنیا کو بنانے میں صرف کردیتا ہے۔ اس کے برعکس چونکہ اللہ تعالیٰ کو نسیان لاحق نہیں ہوتا،اس لیے وہ مسلسل ہماری آخرت کے لیے تیار ی کے اسباب پیدا کرتے رہتے ہیں۔ ہم ایک مشکل ،جوبلاشبہ سنگین ہوسکتی ہے،پر روتے رہتے ہیں، جبکہ آخرت کی ناکامی سے بڑی مصیبت کوئی نہیں ہے۔ ہمیں اگر وہ پریشانی یاد ہو تو ہمیں دنیا کی مشکلات کبھی اتنا پریشان نہ کریں اگر ہم انھیں اپنا زادسفر بنا لیں۔
اس لیے اللہ کے نزدیک اس دنیا کی بڑی سے بڑی تنگی بھی دوزخ کی تنگی سے بڑی نہیں ہے ۔ کسی عورت پر ظلم ہونا، اسے طلاق ہو جانا،کسی عورت کا بے اولادی کی وجہ سے بے گھر کیا جانا، ساس اور بہو کے جھگڑوں میں اس پر الزام لگنا، کسی کا کاروبار ٹھپ ہو جانا، اگر کسی کو ان میں سے گزر کر جنت ملنے والی ہو،تو اللہ کے نزدیک یہ معمولی باتیں ہیں ۔
وہ جانتا ہے کہ ایک بیوہ، ایک مطلقہ یا ایک الزام زدہ عورت یا ظلم و ستم کا ستایا ہو اکوئی آدمی ،جو بھی ان آزمایشوں میں کامیاب ہو کر جنت میں آجائے گا، وہ ان مشکلات کو اپنے لیے نعمت سمجھے گا ، کیونکہ اگر وہ مشکلات اس پر نہ آتیں تو وہ دوزخ کی مصیبت سے نجات نہ پاسکتا۔ اسی لیے حدیث میں آیا ہے جس ماں کے تین بچے مر گئے ، اوروہ صابروشاکر رہی تو یہ غم اس کے جنت میں جانے کا سبب بن جائیں گے۔
اس کو بھی ماں ہی کی مثال سے سمجھتے ہیں۔ ماں جب اپنے بچے کو چھری چاقو سے کھیلتے ہوئے دیکھتی ہے، تو اس سے وہ چاقو چھین لیتی ہے۔ اس لیے کہ وہ یہ جانتی ہے کہ اس وقت چھری سے محروم ہونا اتنی بڑی تکلیف نہیں ہے ،جتنی بڑی تکلیف اسے اس چھری سے ہاتھ کٹ جانے کی وجہ سے ہو گی۔ اس لیے وہ بچے کے چیخنے اور چلانے کے باوجود اس سے چھری چھین لیتی ہے۔ اور اگر وہ چپ نہ کرے تو وہ اسے مزید ڈانٹ بھی دیتی ہے ۔
اس سے ہمیں اللہ کی پے در پے آزمایشوں کا بھی ایک سبب معلوم ہو جاتا ہے کہ جب ہم اللہ کی کسی آزمایش پر صحیح رویہ اختیار نہیں کرتے ، تو وہ ہمیں مزید ڈانٹتا ہے تاکہ ہم سنبھل جائیں۔

خدا کی ربوبیت اور اس کا حکیمانہ کنٹرول

ہم بالعموم ان مشکلات پر زیادہ غضب ناک ہوتے ہیں ، جو ہمارے دوستوں یا عزیز رشتہ داروں کے کسی اقدام کی وجہ سے ہم پر آتی ہیں ۔ مثلاً ہمارے معاشرے میں چغلی ،غیبت ، ٹانگ کھینچنا، دھوکا دہی، زر اور زمین کے جھگڑے ایسے عام جرائم ہیں کہ آدمی ان سے پریشان ہو کر دوستوں سے جھگڑ پڑتا، بہن بھائیوں سے قطع تعلق کرلیتا،ان کے بارے میں طرح طرح کی بدگمانیوں کا شکار ہو جاتا، ماں باپ کو گھر سے نکال دیتا ، حتیٰ کہ بعض اوقات انھیں یا اپنے آپ کو موت کی نیند سلا دیتا ہے۔

 

اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ان سارے جھگڑوں کو آزمایش کے طور پر نہیں لیتا۔ وہ یہ خیال کرتا ہے کہ یہ سب کچھ وہ اپنی پوری آزادی سے کررہے ہیں، اس لیے اگر میں انھیں ختم کردوں ، ان سے ناتا توڑ لوں،ان کو گالیاں دے لوں ،ان کو ماروں پیٹوں، تو سارے مسئلے حل ہو جائیں گے۔ چنانچہ وہ ایسے اقدامات کے بعد مزید مشکلات کا شکار ہو جاتا ہے۔
ایسا شخص اصل میں اللہ کی ربوبیت اور اس کی حکمت کا انکار کرتا ہے۔قرآن مجید کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کا کوئی کام اس کی ٹھہرائی ہوئی تقدیر اور اس کے حکیمانہ فیصلوں کے خلاف روبہ عمل نہیں ہوتا۔ جب صورت حال ایسی ہے تو کیا یہ رشتہ دار ، یہ غیبت و چغلی کرنے والے جو یہ سب کچھ کر رہے ہیں آیاخدا کی مہلت کے بغیر کر رہے ہیں؟
اگر ہم یہ انکار کردیں کہ وہ اللہ کی دی ہوئی مہلت کے بغیر ایسا کررہے ہیں تو یہ خدا کی الوہیت و حکیمانہ کنٹرول کا انکار ہے ،اور اگر ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ انھیں اللہ ہی نے مہلت دی ہے توپھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ اللہ کی یہ مہلت بلاوجہ نہیں ہوگی۔اس کے پیچھے مذکورہ مقاصد میں سے کوئی نہ کوئی مقصد ضرور پیش نظر ہو گا،یعنی ہماری اصلاح، ہمارے گناہوں کو جھاڑنا وغیرہ ۔ چنانچہ اس نقطۂ نظر سے اب اپنے ان ساتھیوں کی کارگزاری کو دیکھیے تو جو گناہ و خطا وہ کر رہے ہیں ، وہ اگرچہ اپنی مرضی سے کررہے ۔ اس سے وہ یقیناًگناہ کما رہے ہیں،لیکن مہلت چونکہ اللہ نے دی ہے اس لیے وہ ہماری تربیت اور آزمایش کا سامان بھی کررہے ہیں۔
وہ ہمارے اوپر ظلم ڈھا نے جیسا کبیرہ گناہ کر رہے ہیں، مگر ہمارے لیے صبر کرنے کی صورت میں جنت کی راہ کھول رہے ہیں۔ ابو لہب اور ابو جہل کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں نے ایک طرف ان کے لیے دوزخ تعمیر کی تو دوسری طرف صحابہ رضوان اللہ علیہم کے کردار کی تعمیر کی ۔ وہ جیسے جیسے یہ حرکتیں کرتے گئے صحابہ کا ایمان مضبوط ہوتا گیا۔ گویا اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کا نظام ایسی حکمت اور تدبیر سے بنایا ہے کہ ایک شر بھی وجود میں آتا ہے تو سو خیر اپنے دامن میں لے کر آتاہے۔
اس نکتہ کے حل ہونے کے بعد جب میں اپنے گرد و نواح میں لوگوں کو اپنے اوپر الزام دیتے ، طعنے دیتے ، طرح طرح کی سازشیں کرتے دیکھوں تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں انھیں اپنا دشمن قرار دوں ، میرے تو وہ محسن ہیں دشمن تو وہ اپنے ہیں۔ وہ میری تربیت کا سامان اپنا نقصان کرکے کررہے ہیں۔ چنانچہ ان کو طعنے کا جواب دینے کے بجائے مجھے ان کی اصلاح کا سوچنا چاہیے۔ ان پر ترس آنا چاہیے کہ وہ اپنی تباہی کے گھڑے کھود کر مجھے ان میں اترنا اور اتر کر نکلنا سکھا رہے ہیں۔
لیکن مجھے یہ فائدہ بس اسی صورت میں مل سکتا ہے کہ جب میں ان کی ان حرکات کو اللہ کی آزمایش سمجھ کر اسے اپنی تربیت و اصلاح کا ذریعہ بناؤں۔اگر میں نے ان کی اینٹ کے جواب میں پتھر اٹھا کے دے مارا تو میں بھی ان جیسا ہوں۔ میں نے بھی غلطی کا ارتکاب کر ڈالا ہے۔اس کے بعد خیر کا دروازہ میرے لیے بند ہو جائے گا۔
حدیث میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا واقعہ ملتا ہے کہ کوئی صاحب ان کو گالیاں دیتے رہے اور کچھ دیر تک ابوبکر چپ رہے، لیکن کچھ دیر بعد انھوں نے بھی جواب دینا شروع کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ پھیر لیا ۔ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پوچھنے پر آپ نے انھیں بتایا کہ جب تک تم خاموش رہے تو فرشتے جواب دیتے رہے ، اور جب تم جواب دینے لگے تو وہ چلے گئے۔ایک طرح سے اللہ ان کی طرف سے دفاع کرتا رہا۔ فرشتوں کا جواب دینا غیر مسموع تھا۔ ہمیں نہیں معلوم کہ وہ گالیوں کے جواب میں کیا جواب دیتے رہے ہوں گے،لیکن وہ جو کچھ تھا وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لیے ایک خیر تھا ، جس سے وہ جواب دینے کے بعد محروم ہو گئے۔
ٹھیک اسی طرح کی محرومی کا شکار ہم ہوجاتے ہیں، جب ہم برائی کے جواب میں برائی کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ ہم دوسروں کی برائی کا ان سے بدلہ جائز اور عادلانہ طریقوں سے لے سکتے ہیں،لیکن انھیں معاف کرنا ’حظ عظیم ‘ کا پانا ہے۔
قرآن مجید یہ کہتا ہے کہ تم کسی کی برائی کا بدلہ اچھائی سے دو ۔ اس کے الفاظ ہیں کہ تم کسی کی برائی کو نیکی سے دھکیل کر ہٹا دو۔ بجائے اس کے کہ تم بدی کو دھکیلنے میں بدی ہی کی راہ اختیار کرو تو یہ تمھیں اللہ کی عنایتوں سے محروم کردے گا ۔ اگر تم اس کی راہ میں زندگی بسر کرو اور لوگوں کی برائی کا دفاع نیکی سے کرو تو اس سے نہ صرف یہ کہ تمھارا دشمن تمھارا عزیز دوست بن سکتا ہے، بلکہ تم بھی وہ خوش قسمت بن جاؤ گے جنھیں خدا اپنی حکمتوں سے نوازتاہے۔ دیکھیے قرآن مجید نے اس رویہ کو ایک بڑی خوش بختی قرار دیا ہے اور اسے صبر کا ثمرہ قرار دیا ہے :

وَلاَ تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَ لاَ السَّیِّءَۃُ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ. فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَ بَیْنَہُ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّحَمِیْمٌ. وَمَا یُلَقَّا ہَٓا اِلاَّ الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ مَا یُلَقَّاہَا اِلاَّ ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ.(حم السجدہ ۴۱: ۳۴۔۳۵)
’’نیکی اور بدی برابر نہیں ہو سکتی۔تم برائی کا احسن چیزوں سے دفاع کرو ، تو تم دیکھو گے کہ وہ جس کے اور تمھارے درمیان عداوت تھی، وہی تمھارا گرم جوش دوست ہو گا۔مگر یہ وہ دانش مندی ہے، جو صرف صبر کرنے والوں کو ملتی ہے۔ اور یہ صرف ان کو ملتی ہے جو بڑے نصیبے والے ہوتے ہیں۔‘‘

وعدۂ الٰہی

حصول صبر کے لیے ایک بنیادی چیز یہ بھی ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر یقین رکھیں۔ جس طرح ہم نے صفات الٰہی میں جانا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفا ت ہمارے لیے صبر کے حصول کا ذریعہ ہیں، اسی طرح اللہ کے وعدے بھی ہمارے لیے ایک سہارا ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کچھ وعدے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیے ہیں کچھ وعدے صرف صحابہ رضوان اللہ علیہم سے کیے ہیں اور کچھ وعدے بنی نوع آدم سے کیے گئے ہیں۔ جیسے نیکی کرنے اور برائی سے بچنے پر جنت کا وعدہ،آزمایشوں میں ثابت قدم رہنے پر ایمان ضائع ہونے سے بچانے کا وعدہ ، کسی پر اس کی ہمت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالنے کا وعدہ ، اسی طرح برائی کرنے پر دوزخ کی سزا کا وعدہ وغیرہ۔
’وما صبرک الا باللّٰہ ‘میں اللہ کے یہ وعدے بھی شامل ہیں جو ہمیں صبر کا حوصلہ بخشتے ہیں۔قرآن مجید جب یہ کہتا ہے کہ تم اللہ کے بغیر صبر نہیں کرسکتے ، تو جس طرح اس کی ذات ، اس کی صفات ،جیسا کہ ہم اوپر پڑھ آئے ہیں، ہمارے لیے ایک سہارا ہیں ،ٹھیک ویسے ہی یہ اس کے وعدے بھی ہمارے لیے سہارا ہیں۔
یہ وعدے مشکلات اور آزمایشوں میں ہمارے لیے اس لیے سہارا ہیں کہ جب ہمیں مشکل کام کرنا پڑے تو ہم انھی وعدوں کے بل پر مشکل کے باوجود نیکی کرنے اور اس پر ثابت قدم رہنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔اگر ہمیں خدا کی طرف سے داد رسی اور انعام کی توقع نہ ہو تو شاید ہر قدم پر نیکی سے ہاتھ دھوبیٹھیں، بلکہ اگر ہم یہ کہیں کہ اگر جنت اور دوزخ کا تصور نہ ہو تو شاید انسانوں کی نہایت ہی قلیل تعداددنیا میں نیکی پر قائم رہے ۔ اس لیے کہ انسان اپنی طبیعت میں مقصد کے لیے جینے والا ہے۔ اگرچہ اکثر وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کو اپنا مقصد بنا لیتا ہے۔
انسان امید کے سہارے بہت کچھ کر لیتا ہے۔ نیکی کے میدان میں یہ امید خدا کے وعدوں سے وجود پذیر ہوتی ہے۔ ان سہاروں سے جو امید پیدا ہوتی ہے وہ شب و روز کی کلفتوں میں ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کی طرح ہماری ’تیمارداری ‘کرتی ہے۔مسیحا بن کر ہمارا علاج کرتی ہے۔ کبھی کم اور کبھی زیادہ اطمینان عطا کرتی ہے۔اور ہم اس اطمینان کے سہارے راہ حیات پر چلتے چلے جاتے ہیں۔جو لوگ اس ایمانی قوت سے محروم ہیں، وہ اس امید اور ان سہاروں سے بے خبر ہونے کی وجہ سے کئی بیماریوں کا شکار ہو جاتے اور کچھ لوگ خود کشی تک کرلیتے ہیں ، اور کچھ دوسروں کو قتل کر بیٹھتے اور بعض نفسیاتی امراض کا شکار ہو کر بے موت مر جاتے ہیں۔یہ بے امیدی ، ذہنی دباؤ، غم و غصے اور مایوسی (depression)کے ساتھ ساتھ بے چینی، بے صبری،بے اطمینانی و بے کلی (frustration)کا شکار کردیتی ہے۔

آزمایش کی حکمتوں کا علم

قرآن مجید نے آزمایشوں کے آنے کے جو اسباب بیان کیے ہیں، ان کے علم سے بھی آدمی کو صبر حاصل ہوتا۔ اس لیے کہ یہ علم آدمی کو وجوہات بتا کر تسلی دیتا ہے اور تسلی کی وجہ سے اسے صبر آجاتا ہے۔ (اس موضوع پر ہم نے الگ سے ایک رسالہ بعنوان : ’ہم پر مشکلیں کیوں آتی ہیں‘تحریر کیا ہے۔ جسے آپ دیکھ سکتے ہیں۔) یہ علم اللہ تعالیٰ کی سنت ابتلا سے متعلق ہے۔ اور ابتلا یا آزمایش اس دنیا کی حقیقت ہے۔ جس کے صحیح تصور کے بغیر یہ دنیا نہ سمجھ میں آنے والا معما ہے۔
چنانچہ یہ علم اگر ذہن سے اتر جائے تو اس کو تازہ رکھنا چاہیے اور اس مقصد سے قرآن مجید کا مطالعہ بھی بہت مفید ہے۔ اسی طرح اس موضوع پر اہل علم کی تحریروں کا مطالعہ بھی ایک حد تک مفید رہے گا۔البتہ قرآن مجید کے مطالعے سے ہماری مراد اس کی تلاوت نہیں ہے ،بلکہ اس کو سمجھ کر پڑھنا مطلوب ہے۔ اس لیے کہ سمجھے بغیر اس کی تعلیمات سے آگاہی نا ممکن ہے۔

نماز(بالخصوص تہجد)

قرآن مجیدکے مختلف مقامات سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز ،بالخصوص تہجد کی نماز،حصول صبر کا ایک نہایت مفید ذریعہ ہے۔ سورۂ مزمل میں آیا ہے کہ تہجد کی نماز دل جمعی اور قول کی پختگی کے لیے بہت مفید ہے۔ یعنی تہجد کی نماز پانچ وقت کی نماز سے زیادہ موثر ہے اس لیے کہ زیادہ گہرائی اور توجہ سے پڑھی جاتی تھی۔ اور اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم تھا کہ قرآن ٹھہر ٹھہر کر،یعنی اسے سمجھ سمجھ کر پڑھا جائے۔ تاکہ تہجد اپنا کام اپنی کامل صورت میں کر سکے۔
سورۂ مزمل میں قرآن مجید نے اس نماز کی حقیقت دو لفظوں میں بیان کی ہے:

وَاذْکُرِ اسْمَ رَبِّکَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْہِ تَبْتِیْلاً.(۷۳ : ۸)
’’اپنے رب کا ذکر کر اور اس کی طرف خلق سے کٹ کر گوشہ گیر ہو جا۔‘‘

اس آیت سے معلوم ہو تا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جو تہجد ادا کرنے کے لیے فرمایا گیا تھا ، تو اس کے جو آداب آپ کو سکھائے گئے تھے ان میں ایک یہ بھی تھا کہ آپ اسے یاددہانی اور ذکر کا ذریعہ بنائیں اور اس کے ذریعے سے خدا کے دامن رحمت میں گوشہ گیر ہو جایا کریں۔
مولانا امین احسن اصلاحی اس حکم کی تفسیرکرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’...یہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس بات کا طریقہ بتایا کہ جب جب لوگوں کی دل آزاری سے دل آزردہ ہو تو تم ان ناقدروں سے کٹ کر اپنے رب کے دامن رحمت میں گوشہ گیر ہو جایا کرو۔ اور اس کے لیے تمھیں اس کے سوا کسی چیز کی ضرورت نہیں کہ تم اس کے نام کو یاد کیا کرو۔تو وہ خود تمھیں اپنی پناہ میں لے لے گا۔
یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام نام اس کی صفات ہی کی تعبیر ہیں اور ان صفات ہی پر تمام دین و شریعت اور سارے ایمان و عقیدہ کی بنیاد ہے۔ ان صفات کا صحیح علم مستحضر رہے تو آدمی کی پشت پر ایک ایسا لشکر گراں اس کے محافظ کی حیثیت سے موجود رہتا ہے کہ شیطان کی ساری فوجیں اس کی نگاہوں میں پر کاہ کے برابر بھی وقعت نہیں رکھتیں۔ وہ اپنے آپ کو پہاڑوں سے بھی زیادہ مستحکم محسوس کرتا ہے۔
اور اگر خدا کی صفات کی صحیح یادداشت اس کے اندر باقی نہ رہے یا کمزور ہو جائے تو پھر اس کا عقیدہ بے بنیاد یا کمزور ہو جاتا ہے، جس کے سبب سے اس کو منافقین کی طرح ہر بجلی اپنے ہی خرمن پر گرتی نظر آتی ہے۔‘‘ (تدبر قرآن ۹/ ۲۷۔ ۲۸)

یہی وہ ذکر ہے جس سے خدا کے دامن رحمت میں گوشہ گیری کی راہ کھلتی ہے۔ ان صفات کی یاد ایک حصار کی طرح ہمارے گرد محافظ بن کر موجود رہتی ہے۔ جیسے ایک بچہ کسی خوف ناک چیز سے ڈر کر اپنی ماں کی گود میں پناہ گیر ہو کر ساری دنیا کے خوف و دہشت سے بے نیاز ہو جاتا ہے ،ٹھیک ویسے ہی ایک بندہ اس یاد کے تازہ ہونے کے بعد خدا کے دامن رحمت میں چھپ کر سارے غم بھول جاتا ہے۔طرح طرح کے حملوں سے اپنے آپ کو مامون خیال کرتا ہے۔
نماز کا یہی پہلو ہے کہ اگر اسے نماز میں پیدا نہ کیا جائے تو نماز اپنے اثرات پیدا نہیں کرتی۔ پھر اس کے بعد آدمی طرح طرح کے مصنوعی سہارے تلاش کرتا ہے ، اسے ان کا نشہ تو لگ جاتا ہے ،مگر مسئلے حل اور غم دور نہیں ہوتے۔

نماز، عہد بندگی کی یاد

نماز عہد عبودیت کی یاد ہے، جو صبر کو تقویت دیتی ہے۔ قرآن مجید یہ کہتا ہے کہ’ اقم الصلوٰۃ لذکری‘میری یاد کے لیے نماز قائم کرو۔خداکی یاد عہد بندگی کی یاد کو تازہ کرتی ہے۔یہ آدمی کو بتاتی ہے کہ وہ خدا کا بندہ ہے جو آزمایشوں میں اس لیے ڈالا گیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ایک صالح بندۂ خدا ثابت کرے۔یہ چیز اس کی غفلت و نسیان کو دور کرتی ہے، جس میں پڑ کر وہ بے صبرا ہورہا تھا۔ اس یاد کے تازہ ہونے سے وہ ایک حقیقت شناس بن کر اٹھتاہے۔حقیقت اس پر روشن ہوتی اور اس ادراک حقیقت سے اس پر اپنا مقام کھلتا اور وہ ایک تازہ دم سپاہی کی طرح میدان عمل میں دوبارہ کود جاتا ہے۔
قیام ، رکوع اور سجدہ بتدریج آدمی کی غفلت کو دور کرتے ہیں۔قیام میں خدا کا کلام اسے کچھ حقیقتوں کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ رکوع اسی بندگی و سرفگندگی کے جذبے کا اولین اظہار ہے ، جس کے بعد سجدہ اس کی آخری شکل ہے۔یہ تینوں اعمال ہم نمازوں میں ایک سے زیادہ مرتبہ کرتے ہیں۔ جو ہمیں یاد دلاتے اور حقیقت شناس بناتے ہیں ۔

نماز قرب الٰہی کا سبب

اوپر یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ تہجد خدا کی رحمت میں گوشہ گیری کے لیے راہ ہموار کرتی ہے۔ یہ گوشہ گیری دراصل خدا سے تعلق کا ایک پہلو ہے۔ نماز خدا کے ساتھ تقرب کا تعلق پیدا کرتی ہے۔سورۂ علق میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ’واسجد واقترب‘ ’سجدہ کر واور خدا کے قریب ہوجاؤ‘۔یہ قربت اگر چہ غیر محسوس ہے، اور ہم اس کی کیفیت و ماہیت کو سمجھ نہیں سکتے، لیکن یہ قرب یقیناخدا کی پناہ کے لیے ایک استعارہ ہے۔ اس قرب کے معنی یہ بھی ہیں کہ نماز حصول صبر میں استعانت کرتی ہے ۔

حمد و تسبیح

قرآن مجید میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مشکلات کے وقت کئی بارحصول صبر کے لیے نماز کا حکم تسبیح و تحمید کے الفاظ میں دیا ہے۔ اگرچہ یہاں نماز ہی کا حکم دیا گیا ہے،مگر یہ بات واضح ہے کہ نمازکا یہ حکم اس کی دو خاصیتوں کو سامنے رکھ کر دیا گیا ہے۔نماز کے یہ دو پہلو ایسے ہیں کہ جو معنوی یا ذہنی اثرات رکھتے ہیں۔ اگر ہم نماز میں تسبیح و تحمید کو سوچ سمجھ کر اختیار کریں تو اس کے کچھ نتائج نکلتے ہیں۔ یہ نتائج ہمارے لیے صبر کرنے میں ممدو معاون ہیں۔ان دونوں خاصیتوں کے معنی اور اثرات کا جائزہ ہم اگلی سطور میں لیں گے۔

تسبیح

جس کے معنی یہ ہیں کہ خداے واحد کی پاکی بیان کی جائے۔پاکی بیان کرنے کے معنی یہ ہیں کہ یہ مانا جائے کہ اللہ کے کسی فعل اور فیصلے میں کوئی غلطی نہیں ہے۔جب اللہ کے فیصلے میں کوئی غلطی نہیں ہے توپھریہ سوال پیدا ہو گا کہ ہمیں پھر یہ تکلیف میں کیوں ڈالا گیا ہے۔ ہمیں بھوک ،خوف اور موت کی کسی آزمایش میں ڈالا ہے تو اس کی وجہ کیا ہے ۔ جب اس کا فیصلہ غلط نہیں ہے ، اور وہ ہمارے اوپر مصیبت نازل کررہا ہے تو یہ بات واضح ہے کہ پھر اس کے پیش نظر کوئی مقصد ہو گا۔اور وہ مقصد یہی ہے کہ اللہ نے ہمیں آزمانے کے لیے یہ مشکل بھیجی ہے۔
تسبیح کا یہ تصور ہمارے زاویۂ نگاہ کو بدلتاہے۔ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ تم یہاں کچھ پانے کے لیے آئے ہو۔ اس لیے اللہ ہمیں آزماتاہے۔ اور آزمانے کے لیے جیسی آزمایش ہونی چاہیے ویسی وہ نازل کرتا ہے۔میرا آپ کا ہر عمل خدا کی منشا و اذن سے دوسروں کے لیے آزمایش بنتا ہے۔ اسی طرح دوسروں کا ہر عمل ہمارے لیے آزمایش بنتا ہے۔اسی وجہ سے دین کا مطالبہ دوسروں کی برائی پر یہی ہے کہ ہم صبر کریں۔جو آدمی ایسے مواقع پر صبر نہیں کرتا، اور انتقام لے لیتا ہے تو اگر اس نے انصاف سے انتقام لیا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس سے مواخذہ تو نہیں کریں گے، مگر درحقیقت اس نے دنیا داری والا معاملہ کیا ہے۔ دین کا تقاضا پورا نہیں کیا۔ اس لیے وہ بڑے خیر سے محروم رہ جائے گا۔

حمد

حمد تسبیح کا دوسرا رخ ہے۔تسبیح یہ بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات اور افعال میں کوئی عیب نہیں ہے، اور حمدیہ بتاتی ہے کہ ساری اچھی صفات اس میں ہیں۔اس کے تمام افعال اوراوصاف خیر ہیں۔اس سے جو بھی عمل، چیز اور خیال وجود میں آتا ہے ،وہ خیر ہے۔ ہمارے اوپر آنے والی آزمایش ، مصیبت، ظلم سب خیر ہی کی ایک قسم ہے۔ اس لیے کہ ایک پہلو سے وہ آپ کے لیے ایک مشکل سوال ہے، جس کا امتحان میں آپ کو جواب دینا ہے اور دوسری طرف وہ ایک نرسری ہے ، جس کی پنیری سے خالق کائنات خیر کی پرورش کرتا ہے۔مثلاًجس آدمی کا بیٹا سرکش و بدقماش ہو، اس کی موت ماں باپ کے لیے مصیبت ہے ، مگر معاشرے کے لیے خیر ہے۔ اس اصول سے ہم یہ بات سمجھ سکتے ہیں کہ یہ کائنات جس اصول پر بنی ہے، وہ یہ ہے کہ ہر چیز دوہرے رخ کی ہے اس کاایک رخ اچھا ہے اور دوسرا بظاہر برا،مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں پہلو اپنے نتائج کے اعتبار سے اچھے ہیں۔
خالق کائنات شرکی کوکھ سے خیر پیدا کرتا ہے۔ سورۂ کہف میں مذکور ایک نوجوان کی کشتی کا ٹوٹنا بظاہر ایک برا حادثہ ہے ، مگر حقیقت میں وہ ایک خیر کو وجود میں لاتا ہے۔ہر حادثہ ، خواہ اس کا خیر ہمیں فوراً نظر آئے یا نہ آئے ، دراصل خیر کو پیدا کرنے کے لیے ہوتاہے۔ ایک آدمی کا مرنا، کاروبار میں کساد کا آنا، بیماری کا لاحق ہونا، ذہنی اذیت سے دو چار ہونا، گھر سے نکالا جانا، غرض سب حادثات ہیں ،ان کا ظاہر برا ہے،مگر ان سب سے خیر برآمد ہوتا ہے۔
اسے ہم ایک حقیقی مثال سے سمجھتے ہیں ۔میرے پاس ایک قضیہ آیا کہ ایک گھر میں چار پانچ بھائی اکٹھے رہتے تھے۔ان کے والدین کا انتقال ہو چکا تھا۔ ایک بھائی ان میں سے بیاہا ہوا تھا۔باقی سب کنوارے تھے۔جو بیاہا ہوا تھا بس وہی کماتا تھا۔باقی سب پڑھے لکھے تھے ،مگر آرام طلبی کی بنا پر کمانے نہ جاتے تھے ۔ یاپھر کوئی وجہ تھی ۔ ان کی بھابھی سب کے کام بھی کرتی اور ان کی جلی کٹی بھی سنتی تھی۔کوئی تیسرے چوتھے سال اس کی بیوی نے انصاف کا تقاضا کیا۔ دونوں میاں بیوی کے خیال میں مسئلہ کا حل صرف یہ تھا کہ وہ الگ ہو جائیں،مگر وہ بھائیوں کو چھوڑ کر نہیں جاسکتے تھے۔ اس لیے کہ ایک تو کماتے نہیں تھے، دوسرے ان کے گھر سنبھالنے کے لیے بیویاں بھی نہیں تھیں۔
کسی کے کہنے پروہ میرے پاس آئے تو میں نے کہا کہ بھائیوں کو بھی بلاؤ۔ پہلے تو راضی نہیں ہوئے، مگر میرے اصرار پر ان کو لایا گیا۔میں نے سب لڑکوں کو مختلف ذمہ داریاں سونپیں اور بڑے بھائی کو الگ ہو جانے کا مشورہ دیا۔ یہ ان لڑکوں کے لیے ایک ناگہانی مصیبت ضرور تھی، مگر میں نے انھیں بتایا کہ تمھارے لیے بالآخر باعث خیر ہو گی۔ ان کے لیے بڑے بھائی سے ایک ماہ کا خرچہ بھی دلا دیا، یوں انھیں ایک مہینے کے اندر اپنے لیے روزگار بھی حاصل کرنا تھا، اور گھرکے سار ے کام بھی۔ چنانچہ وہ بھائی اور بھابھی جس کو انھوں نے اپنے غلام بنا کر رکھا ہوا تھا، وہ ایک نعمت گم گشتہ بن گئے۔ ایک مہینے کے اندر ہی ان بھائیوں میں سے ایک کو ملازمت تومل گئی، مگر گھر کے کام کرکے انھیں احساس ہوا کہ ان کی بھابھی نے کیا بوجھ اٹھا رکھا تھا۔ غرض انھیں اندازہ نہیں تھا کہ کس نعمت کو پاکر وہ ناشکرے بنے رہے۔ ان کے دلوں میں بھائی اور بھابھی کی محبت جاگنے لگی، ان کا احترام پیدا ہوا اور سال ڈیڑھ سال کے اندر ہی وہ سب کمانے لگ گئے۔ ان کی آرام طلبی آہستہ آہستہ رخصت ہو گئی۔
اس مثال سے یہ بات واضح ہوئی کہ بھائیوں کے لیے بڑے بھائی کا چھوڑ کر چلے جانا ان کے لیے اصلاح کا باعث بنا۔ یعنی ایک مصیبت بظاہر مصیبت تھی ،مگر ان کے مستقبل کے لیے ایک نوید تھی، جس نے انھیں نکمے انسانوں کے بجائے کام کرنے والے لوگ بنایا۔ اس کے بعد مجھے نہیں معلوم کہ کیا ہوا ، اس لیے کہ انھوں نے ایک ڈیڑھ سال ہی مجھ سے رابطہ رکھا۔ اس لیے کہ پہلے وہ مجھ سے شاکی تھے پھر مطمئن ہوئے، تو ظاہر ہے اطمینان کے بعد لوگ سب بھول جاتے ہیں۔
یہ مثال خدا کے سزاوار حمدہونے کی طرف رہنمائی کرتی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں شر کے پیدا ہونے کا جو امکان رکھا ہے ، وہ بھی اس لیے کہ اس سے خیر برآمد ہو۔ قرآن مجید میں جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس دنیا میں صاحب اقتدار بنانے کا اعلان کیا تو فرشتوں کو اس اقتدار کا منفی رخ سامنے آیا تو انھوں نے خدا سے کہا کہ ہم تو آپ کو سزاوارتسبیح و تقدیس سمجھتے ہیں، پھر آپ کے شایان شان یہ نہیں کہ آپ اس دنیا میں کوئی ایسا کام کریں کہ جو شر کو وجود بخشے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو سمجھایا کہ میں جس صاحب اقتدار کو وجود بخش رہا ہوں صرف شر ہی پیدا نہیں کرے گا ،بلکہ اس کی نسل میں بہت زیادہ اخیار اور صالحین بھی ہوں گے۔
اس قصے سے ہمیں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ خدا کی تقدیس اور خطا سے اس کا منزہ و پاک ہونا اس سے ختم نہیں ہوتا کہ وہ شر کو کسی خیر کے لیے وجود میں آنے دے۔اس لیے ہمیں صرف اس وجہ سے پریشان نہیں ہو نا چاہیے کہ ہمیں مصیبت لاحق ہو گئی ہے ، بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ اس سے ہمارے لیے خیر برآمد ہو گا۔ اس خیال کے ساتھ بڑی سے بڑی مصیبت میں بھی امید قائم رہتی ہے۔ آدمی کے حوصلے قائم رہتے ہیں۔

تقدیر پر ایمان

قرآن مجید کا فرمان ہے کہ اس نے انسان کو پیدا کیا پھر اس کی تقدیر ٹھہرائی اور پھر اسے اس کی تقدیر کے راستے پر چلا دیا۔گویا آدمی نیکی اوربدی جو کماتا ہے وہ تواپنی آزادی اور اختیار سے کماتا ہے، لیکن جو مقام اورمرتبہ اسے حاصل ہوتا ہے، جو مال و دولت اسے حاصل ہوتی ہے وہ اس کی تقدیر کا لکھا ہوا اسے ملا ہے ۔ اس لیے نہ اسے غربت پر کڑھنا چاہیے اور نہ اپنی دولت و عزت پر نازاں ہونا چاہیے ۔
یہ سب کچھ ایسا ہی ہے، جیسے اچھی اور بری صورت والا ہونا۔ نہ اچھی صورت تکبر و غرورکی وجہ ہے اور نہ بڑی سے بڑی مشکل مایوسیوں کا باعث۔ یہ سب کچھ اللہ کی تقدیر ہے جو اس نے اپنی خاص حکمتوں کے ساتھ ٹھہرائی ہے، جن میں کچھ حکمتوں کو ہم نے اوپر سیکھا ہے۔ آدمی کی شکل و صورت، اس کی صلاحیتیں، اس کا مال و دولت ، سب کا تعلق اس کی قسمت سے ہے نہ کہ اس کے ذاتی استحقاق اور اس کی قابلیت کا صلہ اورحق۔ اس لیے ان کا ہونا یا نہ ہونا منشاے الٰہی ہے ،جس کا مقابلہ حوصلہ اوردانش مندی سے کرنا چاہیے۔

پائی ہوئی نعمتوں کا تذکرہ

اگر کوئی مشکل آدمی پر آئے تو آدمی کو اچھے دنوں کو یاد کرنا چاہیے جن میں اللہ نے اس پر عنایتیں کی ہوتی ہیں۔ اور یہ خیال کرنا چاہیے کہ اگر اللہ نے وہ دن دکھائے تھے اور گزر گئے تو یہ دن بھی باقی نہیں رہیں گے ،یقیناًاچھے حالات نصیب ہوں گے۔ اس سے بھی آدمی کو صبر اور تسلی حاصل ہوتی ہے۔ سورۂ الم نشرح میں یہی طریقہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی کے لیے اختیار کیا گیا ہے۔
حصول صبر کے اوپر بیان کردہ یہ تینوں طریقے اصل میں خدا کے ساتھ آدمی کے تعلق کی بنیادیں فراہم کرتے ہیں۔آدمی کا یہ شعور جتنا گہرا ہوگا اتناہی اس کا خدا سے تعلق گہرا اور مستحکم ہوگا۔ اور جتنا اس کا تعلق اس سے گہرا ہوگا اسی قدر وہ مشکلات میں صبر کر سکے گا۔
لیکن ہم ان نعمتوں سے حقیقی معنی میں فائدہ نہیں اٹھا سکتے اگر ہم ان مشکلات میں اللہ سے طالب مدد نہ ہوں۔ اللہ سے مدد، بعض تصورات کے صحیح کیے بغیر، طلب کرنا بسا اوقات ناممکن ہوتا ہے اور بسا اوقات بے معنی ہے ،اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان تصورات کو صحیح کر لیا جائے۔

آخرت پر ایمان

صبر پیدا کرنے والے امور میں یہ بھی ہے کہ آدمی کا ایمان آخرت پر بہت پختہ اور یقین کی حد تک ہونا چاہیے۔آخرت پر ایمان صبر پیدا کرنے والے امور میں سب سے بڑا امر ہے۔ آخرت کا عقیدہ ہمیں وہ نظر عطا کرتاہے ، جس سے ہم چیزوں کو ایک اورہی نگاہ سے دیکھنے لگ جاتے ہیں۔ یعنی اس نگاہ سے کہ یہ دنیا دارالامتحان ہے ۔ یہ نظریہ کئی کاموں سے ہمیں روکتا اور کئی کاموں پر ابھارتا ہے۔اسی طرح ہماری آزمایش کو قدرے آسان کرتا ہے۔ہم چونکہ غم و راحت اور نفع و نقصان کو ایک امتحانی سوال کی طرح دیکھنے لگ جاتے ہیں، اس لیے ان کی کیفیت کچھ اور ہی ہوجاتی ہے۔آخرت کو نہ ماننے والاجہاں رو رہا ہوتاہے، آخرت کو ماننے والا وہاں سے کامیابی کے راستے ڈھونڈ رہا ہوتا ہے۔اس کی نظر اگلے منافعوں پر ہوتی ہے، جبکہ آخرت کے منکر کی نگاہ وقتی فائدوں پر۔
آخرت ایک ابدی بادشاہی کا نام ہے(طہ ۱۲۰:۲۰)جس میں نعمتوں کو زوال نہیں ہے ۔ جو مل گیاوہ ہمیشہ کے لیے مل گیا ۔ ہم آپ کو اسی منزل کا سچا راہی بننا چاہیے ۔ اور جب کبھی اس منزل کو بھولنے لگیں تو فوراً یاد دہانی حاصل کریں، اپنے ارد گرد تواصی بالحق کا ماحول بنائیں، جہاں آپ دوسروں کو اور دوسرے آپ کو حق بات کی نصیحت کریں کہ کل تم قیامت کے دن کیا کرو گے۔ اسی نصیحت سے صبر حاصل ہو گا۔

تواصی بالحق(یاددہانی)

قرآن مجید نے سور ۂ عصر میں ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آپ ایک دوسرے کو نصیحت کریں حق کی اور اس پر قائم رہنے ،یعنی صبر کی۔ اس حکم کی وضاحت کرتے ہوئے استاد گرامی جناب جاوید احمد صاحب غامدی لکھتے ہیں:

’’اس کام (تواصی بالحق و بالصبر)کی جو نوعیت ان آیتوں میں بیان ہوئی ہے ، اس سے یہ واضح ہے کہ دعوت کی اس صورت میں داعی اور مدعو الگ الگ نہیں ہیں، بلکہ ہر شخص جس طرح داعی ہے ،اسی طرح مدعو بھی ہے۔قرآن مجید نے اس کے لیے’ تواصوا ‘یعنی ایک دوسرے کو نصیحت کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔یہ فرض باپ کو بیٹے کے لیے اور بیٹے کو باپ کے لیے، بیوی کو شوہر کے لیے اور شوہرکو بیوی کے لیے، بھائی کو بہن کے لیے اور بہن کو بھائی کے لیے ،دوست کو دوست کے لیے اور پڑوسی کو پڑوسی کے لیے ، غرض یہ کہ ہر شخص کو اپنے ساتھ متعلق ہر شخص کے لیے ادا کرنا چاہیے۔ وہ جہاں یہ دیکھے کہ اس کے متعلقین میں سے کسی نے کوئی خلاف حق طریقہ اختیار کیا ہے ، اسے چاہیے کہ اپنے علم اور اپنی استعداد و صلاحیت کے مطابق اسے راستی کی روش اپنانے کی نصیحت کرے ۔ یہ ہو سکتا ہے کہ صبح ہم کسی کو کوئی حق پہنچائیں، اور شام کے وقت وہ ہمارے لیے یہ خدمت انجام دے۔ آج ہم کسی کو کوئی نصیحت کریں، اور کل وہ ہمیں کسی حق کی تلقین کرے ۔ غرض یہ کہ جب موقع میسر آئے ، ہر مسلمان کو اپنے دائرۂ عمل میں یہ کام لازماً انجام دیتے رہنا چاہیے۔‘‘(میزان ۲۱۳۔۲۱۴)

یہ عمل اگر ہمارے ماحول میں عام ہو جائے تو ہمیں ہر وقت یاددہانی کرانے والے میسر رہیں گے ۔ یاددہانی دراصل ہمیں آخرت کا بھولا ہوا سبق یاد دلاتی ہے۔ آخر ت کا سبق اگر ہمیں ہر وقت یاد رہے تو یہ ہمارے لیے حصول صبر کا باعث ہے۔ اسی وجہ سے قرآن مجید نے’ تواصی بالحق‘کے فوراً بعد’ تواصی بالصبر‘کا ذکر کیا ہے کہ اس ’ تواصی بالحق‘ والے فرض کی ادائیگی کے ساتھ ہی یہ عمل بھی وجود پذیر ہو گا۔جس طرح نماز کی یاددہانی فحشا و منکر سے روکتی ہے اسی طرح حق بات اور آخرت کی یاددہانی ہمیں منکر ات سے روکتی ہے ۔منکرات سے رکے رہنا ہی صبر ہے۔ چنانچہ حصول صبر کے خواہش مند اپنے ماحول میں تواصی کو زندہ کریں، اس سے حصول صبر میں بہت مدد ملے گی۔

انفاق فی سبیل اللہ

نیکیوں پر قائم رہنے میں معاونت کرنے والی چیز اللہ کی راہ میں انفاق بھی ہے۔یہ انفاق زکوٰۃ اور فطرانہ وغیرہ کی صورت میں تو ہر مسلمان کرتاہی ہے،مگرکچھ اس کی لازم صورتیں عام مسلمانوں کو معلوم ہی نہیں ہیں۔وہ یہ سمجھتے ہیں کہ زکوٰۃ دینے کے بعد ان کی اصل ذمہ داری پوری ہو گئی ۔ اب جو بھی وہ خرچ کریں گے وہ نفلی ہے۔ اس پر ہمارا مواخذہ نہیں ہو گا۔
یہ علم کی کمی ہے۔ دراصل زکوٰۃ کے علاوہ بھی انفاق کی کچھ شکلیں ایسی ہیں کہ جو ہم پر لازم ہیں۔ ان میں مقدار اور وقت متعین نہیں ہے،لیکن یہ بات لازم ہے کہ اس میں دینا ناگزیر ہے۔
زکوٰۃ کے علاوہ انفاق کا ایک سادہ اصول ہے کہ ہمارے مال میں اللہ تعالیٰ نے محروم اور سائل کا حق رکھا ہے۔ جو لوگ محروم ہوں ان کی مدد کرنا اور جو دروازے پر آجائیں ان کو دینا ،ہمارے مالوں میں سے حق مقرر کیا گیا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو رزق اللہ تعالیٰ ہمیں دیتے ہیں، وہ دراصل صرف ہمارا نہیں ہے ، بلکہ اس میں کچھ دوسرے سائل و محروم بھی حصہ دار ہیں۔ اس مقصد سے ایسے لوگوں کے لیے اپنے مال میں سے کچھ حصہ ضرور مقرر کرنا چاہیے۔
دوسرا اصول نصرت دین کا ہے۔جب دین کا وجود خطرے میں ہو،تو اس کی مدد کرنا لازم ہے ۔ اس سلسلے میں اگر ضرورت مقتضی ہو،دین پر ابتلا ایسی شدید ہو کہ اپنی ضرورت سے بڑھ کر سب کچھ دینا پڑے تو دینا ہوگا۔لوگ اسے نفلی چیز سمجھتے ہیں ، حالانکہ یہ لازم ہے ۔
اسی اصول پر معاشرے ، ملک اور قوم کی ابتلامیں مدد کرنا بھی حتی المقدور لازم ہے ۔ایسا کرنے سے انسان میں اوصاف حمیدہ وجود میں آتے ہیں، جن کے ذریعے سے انسان میں صبر پیدا ہوتا ہے۔
اللہ کی راہ میں خرچ ایسا ہی اثر رکھتا ہے جیسے نماز۔سورۂ توبہ میں انفاق کو قرب الٰہی کا سبب قرار دیا گیا ہے (۹:۹۹) اسی طرح نماز کوقرب الٰہی کا سبب قرار دیا ہے۔(العلق۹۶:۱۹)اللہ سے یہ تعلق انسان میں نیکیوں کی طرف میلان اور برائیوں سے اجتناب کا وصف پیدا کرتا ہے۔نیکی پر قائم رہنا اور برائیوں سے مجتنب رہنا ہی صبر ہے۔

مطالعۂ قرآن

قرآن مجید کا مطالعہ اسے سمجھ کر کرنا بھی حصول صبر کے لیے بہت اہم ہے۔یہ دل کی صفائی اور بصیرت افروزی میں سب سے بڑھ کر ہے۔اسی سے خدا کی صفات کا علم حاصل ہوتا اور اسی سے وہ نوربصیرت ملتا ہے ،جس سے اگر ہم دنیا کو دیکھنے لگیں تو ہمیں صبر و استقامت کے حصول میں بہت رہنمائی ملے گی۔قرآن مجید میں تعلیم کتاب و حکمت اور تلاوت آیات کا نتیجہ یہ بتایا گیا ہے کہ اس سے تزکیۂ نفس ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ تزکیۂ نفس ہی وہ چیز ہے جس سے نیکیاں دلوں میں گھر کرتیں اور برائیاں رخصت ہوتی ہیں۔
روزانہ قرآن کا ایک اتنا حصہ، جس سے خدا کا کوئی پیغام حاصل ہوتا ہو، پڑھنا اپنے لیے لازم کرلینا چاہیے۔اسے کسی اچھی تفسیر کی روشنی میں نہ بھی سمجھا جائے تو قرآن مجید کی تکرارا ور تصریف آیات سے اس کے مختلف پہلو سامنے آتے ہیں اور بات عام قاری کو بھی سمجھ آجاتی ہے۔
اس میں بعض طالب علموں کو میں نے یہ مشورہ دیا کہ وہ مولانا امین احسن اصلاحی رحمہ اللہ کی تفسیر ’تدبر قرآن‘ اگر تین سے پانچ ماہ میں ختم کرسکیں تو انھیں قرآن کے مجموعی پیغامات کا قدرے بہتر فہم حاصل ہوگا۔ جب انھوں نے ایسا کیا تو انھیں میں نے بھی اپنے نظریات اور رویوں میں مختلف محسوس کیا ہے، اس لیے کہ قرآن تربیت کرتا ہے۔
جو لوگ طالب علم نہیں ہیں اور اتنی مقدار میں نہیں پڑھ سکتے تو اگر وہ کوئی اچھا ترجمہ ہی دو تین ماہ میں پڑھ لیا کریں تو اس سے وہی نتائج حاصل ہو سکتے ہیں ، اگر چہ وہ آہستہ ہوں گے اور کئی دفعہ کے ایسے مطالعہ کے بعد حاصل ہوں گے۔ آدمی اگر ترجمۂ قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنا لے اور ہر تین چار ماہ میں قرآن کا ترجمہ ختم کرلیا کرے تو خود اسے بھی ان حیرت انگیز اثرات کا احساس ہوگا۔
اس میں ترجمہ کوئی بھی لیا جا سکتا ہے، مگر فرقہ وارانہ تعصبات کی بنا پر تراجم کے حواشی میں اور بعض اوقات تراجم کے وسط میں ایسے اضافے کردیے جاتے ہیں کہ جس سے ترجمہ اپنا اصل رنگ کھو دیتا ہے۔ اگر یہ ممکن ہو کہ کوئی ایسا ترجمہ جسے لکھنے والے کسی فرقے کے مبلغ و نمائند ہ نہ ہوں تو وہ زیادہ بہتر ہے۔میرے خیال میں مولاناامین احسن صاحب اصلاحی رحمہ اللہ کا ترجمہ جو الگ بھی چھپ گیا ہے ،وہ اس مقصد کے لیے زیادہ بہتر ہے۔
لیکن اگر اس رفتار سے پڑھنا ممکن نہ ہو تو نہ پڑھنے سے بہتر ہے کہ آدمی اتنا پڑھے جو ہم نے سب سے پہلے ذکر کیا کہ جس سے روزانہ ایک پیغام سا آپ کو مل جائے۔
لوگوں نے قرآن کو جادوئی کلمات کی طرح سمجھ رکھا ہے، یعنی اسے سمجھیں یا نہ سمجھیں، وہ اثر ضرور کرتا ہے۔یہ نظریہ غلط ہے ۔ قرآن ہدایت و ضلالت کے قانون کے مطابق بس اتنا ہی فیض یاب کرتا ہے ، جتنی ہماری آپ کی سعی ہوگی۔
[باقی]

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت اپریل 2005
مصنف : ساجد حمید
Uploaded on : Sep 09, 2017
320 View