حدیث و سنت کی حجیت: مدرسۂ فراہی کے موقف کا تقابلی جائزہ (۱) - سید منظور الحسن

حدیث و سنت کی حجیت: مدرسۂ فراہی کے موقف کا تقابلی جائزہ (۱)

 

حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کو دین میں مطاع کی حیثیت حاصل ہے۔ لہٰذا ہر صاحب ایمان پر آپ کی اطاعت لازم ہے۔ آپ کی بعثت کا مقصد ہی یہ ہے کہ زندگی کے ہر معاملے میں آپ کی ہدایت کی پیروی اور آپ کے حکم کی تعمیل کی جائے۔ یہ آپ کو رسول ماننے کا لازمی تقاضا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ.۱؂
’’اور ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے، اِسی لیے بھیجا ہے کہ اللہ کے حکم سے اُس کی اطاعت کی جائے۔‘‘

یہ اطاعت چونکہ اُس ہستی کی اطاعت ہے جسے اللہ کی نمایندگی کا شرف حاصل ہے، اِس لیے جو شخص رسول کی اطاعت کرتا ہے، وہ درحقیقت اللہ ہی کی اطاعت کرتا ہے۔ فرمایا ہے:

مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ. ۲؂
’’جو رسول کی اطاعت کرتا ہے، اُس نے درحقیقت خداکی اطاعت کی ہے۔ ‘‘

یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ وہ اُس کی اطاعت کے ساتھ اس کے رسول کی اطاعت بھی کریں اور فصل نزاعات کے لیے انھی دونوں سے رجوع کریں۔ سورۂ نساء میں ہے:

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ فاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْل.۳؂
’’ایمان والو ،اللہ کی اطاعت کرو اور اُس کے رسول کی اطاعت کرو اور اُن لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں۔ پھر تمھارے درمیان اگر کسی معاملے میں اختلاف راے ہو تو اُسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو۔‘‘

اللہ تعالیٰ کے اِس حکم کی تعمیل کا مسلم طریقہ قرآن و سنت کی اتباع ہے۔یہی دو چیزیں ہیں جنھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کے لیے اپنے پیچھے چھوڑا ہے۔ آپ کا فرمان ہے:

إني قد خلفت فیکم شیئین لن تضلوا بعدھما: کتاب اﷲ وسنتي.۴؂
’’ میں تمھارے لیے اپنے پیچھے دو چیزیں چھوڑ رہا ہوں۔ (اگر اُن پر عمل پیرا رہے تو )ہر گز گمراہ نہیں ہو گے۔ (وہ دو چیزیں) اللہ کی کتاب اور میری سنت ہیں۔‘‘

چنانچہ علماے امت نے ’اَطِٰٰٰیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ‘ اور ’فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ‘ سے کتاب و سنت کی اتباع اور مراجعت ہی کا حکم اخذ کیا ہے۔ ابن عبدالبر عطا بن ابی رباح اور میمون بن مہران کے حوالے سے نقل کرتے ہیں:

طاعۃ اﷲ ورسولہ: إتباع الکتاب والسنۃ.۵؂
إلی اﷲ: إلی کتاب اﷲ. وإلی الرسول: إلی سنۃ رسول اﷲ.۶؂
سلف و خلف کے تمام جلیل القدر علما اسی موقف کے قائل ہیں۔ ابن جریر طبری، ابن حزم، زمخشری ، شاطبی، رازی، قرطبی ، شوکانی اور آلوسی نے سورۂ نساء کی مذکورہ آیت کی تشریح میں اسی نقطۂ نظر کو اختیار کیا ہے۔۷؂ یہ امت مسلمہ کا اجماعی موقف ہے ۔مسلمان پورے اتفاق اور پوری یکسوئی کے ساتھ اس پر کھڑے ہیں۔ ابن قیم بیان کرتے ہیں:

الناس أجمعوا أن الرد إلی اﷲ سبحانہ ھو الرد إلی کتابہ، والرد إلی الرسول صلی اﷲ علیہ وسلم ھو الرد إلیہ فی حیاتہ وإلی سنتہ بعد وفاتہ.۸؂
’’مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹانے سے مراد اُس کی کتاب کی طرف لوٹانا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹانے سے مراد آپ کی حیات میں آپ کی ذاتِ اقدس کی طرف اور آپ کی وفات کے بعد آپ کی سنت کی طرف لوٹانا ہے۔‘‘

لہٰذا قرآن مجید کے ساتھ سنت کو بھی دین میں اساسی حیثیت حاصل ہے اور اس کے احکام قرآن کے احکام ہی کی طرح واجب الاطاعت ہیں۔ امام مالک کا قول ہے:

الحکم الذي یحکم بہ بین الناس حکمان: ما فی کتاب اللّٰہ، أو ما أحکمتہ السنۃ، فذلک الحکم الواجب، وذلک الصواب.۹؂
’’جس حکم سے لوگوں کے درمیان فیصلہ کیا جاتا ہے، اس کی دو ہی نوعیتیں ہیں: وہ جو کتاب اللہ میں ہے اور وہ جس کو سنت نے مستحکم کیا ہے۔ یہی حکم واجب ہے اور یہی درست ہے۔‘‘

چنانچہ یہ مسلمانوں کی علمی روایت کا مسلمہ اور متفقہ اصول ہے کہ اسلامی شریعت میں سنت کو قرآن ہی کی طرح مستقل بالذات حیثیت حاصل ہے اور قانون سازی میں جو مقام و مرتبہ قرآن مجید کا ہے، وہی سنت کا بھی ہے۔ اصول فقہ کی معروف کتاب ’’ارشاد الفحول‘‘ میں درج ہے:

قد اتفق من یعتد بہ من أھل العلم علی أن السنۃ المطھرۃ مستقلۃ بتشریع الأحکام وأنھا کالقرآن في تحلیل الحلال وتحریم الحرام.۱۰؂
’’اہل علم کا اتفاق ہے کہ سنت مطہرہ شرعی قانون سازی میں مستقل حیثیت رکھتی ہے اور تحلیل و تحریم میں اس کا مقام قرآن ہی کی طرح ہے۔‘‘

یہی وہ مقدمات ہیں جن کی بنا پرعلماے امت سنت کی حجیت پر یقین رکھتے ہیں اور یہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ ضروریاتِ دین میں سے ہے اور اس سے انحراف دین سے انحراف کے مترادف ہے۔ امام شوکانی لکھتے ہیں:

...والحاصل أن ثبوت حجیۃ السنۃ المطھرۃ وإستقلالھا بتشریع الأحکام ضرورۃ دینیۃ ولا یخالف في ذلک إلا من لا حظ لہ في دین الإسلام.۱۱؂
’’...حاصل کلام یہ ہے کہ سنت مطہرہ کی حجیت اور شرعی قانون سازی میں مستقل حیثیت ناگزیر دینی ضرورت ہے، اس کا انکار وہی شخص کر سکتا ہے جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘‘

سنت کی مستقل تشریعی حیثیت کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ اسے قرآن کے شارح کے طور پر بھی قبول کیا جاتا ہے اور یہ باورکیا جاتا ہے کہ اُس کے بعض اجزا کی نوعیت قرآن مجید کے بعض حصوں کے بیان کی ہے۱۲؂ اور اس لحاظ سے وہ کتاب اللہ کی شرح و تفسیر کا درجہ بھی رکھتی ہے۔ صاحب ’’الموافقات‘‘ امام شاطبی لکھتے ہیں:

فکانت السنۃ بمنزلۃ التفسیر و الشرح لمعاني أحکام الکتاب.۱۳؂
’’سنت کتاب اﷲ کے احکام کے معانی کے لیے تفسیر و تشریح کا درجہ رکھتی ہے۔‘‘

اس کا مطلب یہ ہے کہ سنت میں جو معانی بیان ہوئے ہیں ، وہ کتاب اللہ کی طرف راجع ہیں۔ چنانچہ اس پہلو سے سنت کا وظیفہ کتاب اللہ کے اجمال اور اختصار کی تفصیل اور اس کے مشکل کی وضاحت ہے۔ امام شاطبی نے لکھاہے:

السنۃ راجعۃ في معناھا إلی الکتاب، فھي تفصیل مجملہ، وبیان مشکلہ، وبسط مختصرہ. وذلک لأنہا بیان لہ. فلا تجد فی السنۃ أمرًا إلا والقرآن دل علٰی معناہ دلالۃ إجمالیۃ وتفصیلیۃ.۱۴؂
’’سنت اپنے معنوں میں کتاب کی طرف راجع ہوتی ہے اور وہ قرآن کے اجمال کی تفصیل، اس کے مشکل کی وضاحت اور مختصر کی تفصیل ہے۔اس لیے کہ وہ قرآن کا بیان (وضاحت) ہے۔لہٰذا آپ سنت میں کوئی ایسی بات نہیں پائیں گے جس کے معنی پر قرآن دلالت نہ کررہا ہو۔ خواہ یہ دلالت اجمالی ہو یا تفصیلی ہو۔‘‘

سنت کی نوعیت اور اُس کے مقام و مرتبے کے حوالے سے یہ علماے سلف کا اصولی موقف ہے جسے اصطلاح میں ’سنت کی حجیت‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ امت کے اس موقف کا اگر خلاصہ کیا جائے تو درج ذیل پانچ نکات متعین ہوتے ہیں:
اولاً، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کودین میں مطاع کی حیثیت حاصل ہے اوراس بناپرآپ کا قول و فعل اور تقریر و تصویب واجب الاطاعت ہے۔
ثانیاً،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت آپ کے زمانے تک محدود نہیں ہے، بلکہ ابدی ہے، چنانچہ امت کے علم و عمل میں سنت کی صورت میں موجود روایت کو آپ کے قائم مقام کا مرتبہ حاصل ہے۔
ثالثاً،سنت کے بعض اجزا مستقل بالذات تشریعی حیثیت کے حامل ہیں جنھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بحیثیت شارع امت میں جاری فرمایا ہے۔
رابعاً، سنت کے بعض اجزا قرآن مجید کی تفہیم و تبیین پر مبنی ہیں جن کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے معلم اور مبین کی حیثیت سے تعلیم دی ہے۔
خامساً،سنت کے جملہ مشمولات سراسر دین ہیں اور ان کا انکار دین کے انکار کے مترادف اور ایمان کے منافی ہے۔
سنت کی حجیت کے حوالے سے یہ امت کا اجماعی موقف ہے جس پر وہ دور اول سے لے کر آج تک قائم ہے۔ اُس کی تمام تر علمی روایت میں یہ تصور روح کی طرح سرایت کیے ہوئے ہے۔مکتب فراہی کا علم و عمل بھی کسی ادنیٰ تغیر کے بغیر اسی موقف کا ترجمان اور اسی روایت کا امین ہے۔ اس فکر کے نمایندہ علما مولانا حمید الدین فراہی، مولانا امین احسن اصلاحی اور جناب جاوید احمد غامدی کے کام سے واضح ہے کہ وہ سنت کی حجیت کے مذکورہ نکات کے حوالے سے سلف و خلف کے اجماعی موقف ہی پر قائم ہیں ۔ تینوں اہل علم کے درج ذیل اقتباسات سے یہی بات متحقق ہوتی ہے:

مولانا حمید الدین فراہی

مولانا حمید الدین فراہی کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم من جانب اللہ ہے اور اپنے اطلاق کے اعتبار سے خاص نہیں، بلکہ عام ہے۔ یعنی آپ کی اطاعت کی نوعیت علی الاطلاق ہے۔ چنانچہ ایسا نہیں ہے کہ آپ کے وہی احکام واجب الاطاعت ہیں جن کی اصل قرآن مجید میں ہے اور جو اُس کی شرح و فرع کی حیثیت رکھتے ہیں، بلکہ اس کے ساتھ آپ کے اُن احکام کی اطاعت بھی لازم ہے جو قرآن سے مجرد طور پر الہام ہوئے ہیں اور جن کا مصدر و منبع اصلاً آپ ہی کی ذات اقدس ہے۔’’رسائل فی علوم القرآن‘‘ میں لکھتے ہیں:

فإن اﷲ تعالٰی أمرنا عمومًا بإطاعۃ الرسول صلی اﷲ علیہ وسلم وأمر الرسول بالحکم بما یریہ اﷲ تعالٰی سواء کان بالکتاب أو بالنور والحکمۃ التي ملأ اﷲ بہا قلبہ.۱۵؂
’’اللہ تعالیٰ نے ہمیں اطاعت رسول کا حکم عمومی حیثیت میں دیا ہے اور رسول کا حکم یکساں طور پرحکمت پر مبنی ہوتا ہے، خواہ وہ کتاب اﷲ کی بنیاد پر ہو یا اُس نور وحکمت کے مطابق ہو جس سے اﷲ تعالیٰ نے آپ کا سینہ بھر دیا تھا۔‘‘

لہٰذا اُن کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کو دین میں مستقل بالذات مقام حاصل ہے، قطع نظر اس کے کہ وہ قرآن مجید سے مستنبط ہے یا مستنبط نہیں ہے۔ آپ کے قول کی یہ مستقل حیثیت ہر طرح کے شک و شبہے سے بالا ہے۔بیان کرتے ہیں:

فإن قولہ علیہ السلام أصل مستقل سواء أستنبطہ من الکتاب أم لم یستنبطہ. وھذا أمر مسلم لا یشک فیہ مسلم.۱۶؂
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قول مستقل بالذات ہے، خواہ وہ کتاب اللہ سے مستنبط ہو یا مستنبط نہ ہو۔ یہ مسلمہ امر ہے جس میں شک کی کوئی گنجایش نہیں ہے۔‘‘

مولانا فراہی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے دو چیزیں چھوڑی ہیں ، اُن میں قرآن مجید کے علاوہ دوسری چیز سنت ہے اور سنت اُن کے نزدیک وہ چیز ہے جس سے دین پر عمل کا راستہ پوری طرح واضح ہو جاتا ہے۔ ’’القائد الیٰ عیون العقائد‘‘ میں انھوں نے لکھا ہے:

أکبر خلق النبي یظھر من فعل التبلیغ، فإن اﷲ تعالٰی جعل التبلیغ أکبر فرائضھم، وأکبر التبلیغ أن یجتبي النبي الحواري والأصحاب لیکونوا شھداء علی الناس، فتکون سنۃ النبي ظاھرۃ، ویتضح سبیل الحق والسعادۃ لکافۃ الناس ویسھل التمییز بین السنۃ والبدعۃ. ...ولذلک قال النبي صلی اﷲ علیہ وسلم: إني تارک فیکم الثقلین کتاب اﷲ وسنتي، وقال: عضوا علیہ بالنواجذ.۱۷؂
’’اللہ تعالیٰ نے تبلیغ کو انبیا کے فرائض میں سب سے بڑا فریضہ بنایا ہے۔تبلیغ کا سب سے بڑا پہلو یہ ہے کہ نبی اپنے حواریوں اور اصحاب کو منتخب کرتا ہے تاکہ وہ لوگوں کے لیے شہادت دیں۔ پھر نبی کی سنت ظاہر ہوتی ہے اور تمام لوگوں کے لیے حق اور سعادت کا راستہ واضح ہو جاتا ہے اور سنت اور بدعت میں تمیز آسان ہو جاتی ہے۔ ... اور یہی وجہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم میں دو گراں قدر چیزیں چھوڑ ے جا رہا ہوں: ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میری سنت۔ انھیں مضبوطی سے پکڑ کر رکھنا۔‘‘

مولانا فراہی جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو واجب الاطاعت شارع کی حیثیت سے قبول کرتے ہیں، وہاں وہ اس بات کے بھی قائل ہیں کہ آپ کوقرآن مجید کے مبین اور مفسر کا مقام حاصل ہے ۔ اس بنا پر وہ شریعت اور عقائد، دونوں معاملات میں قرآن سے استخراج احکام کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تفسیرسے رہنمائی کو ضروری قرار دیتے ہیں۔ ’’رسائل فی علوم القرآن‘‘ میں انھوں نے لکھا ہے:

أنہ علیہ السلام لما کان مبینًا للکتاب ومفسرًا لہ علی الإطلاق في الشرائع والعقائد کلتیھما صار العلم بطرق تأویلہ أوثق أصل للمفسر.۱۸؂
’’نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کتاب اﷲ کے مبین اورمفسر تھے۔ لہٰذا شرائع ہوںیا عقائد ، دونوں کے حوالے سے آپ کی تاویلات ایک مفسر کے لیے حکم کی مضبوط ترین بنیاد ہیں۔‘‘

چنانچہ اُن کے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کا ایک حصہ قرآن مجید کی تبیین اور شرح و فرع پر مبنی ہے اور دوسرا مستقل بالذات سنن کا ماخذ ہے۔ اس اعتبار سے وہ آپ کے ارشادات کو بنیادی طور پر تین قسموں میں تقسیم کرتے ہیں۔ایک قسم اُن احکام پر مشتمل ہے جن کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود صراحت فرمائی ہے کہ وہ کتاب اﷲ سے مستنبط ہیں۔ دوسری قسم اُن احکام پر مبنی ہے جن کے قرآن مجید سے مستنبط ہونے کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود تو صراحت نہیں فرمائی، مگرکلام کی دلالتوں کی بنا پر اُن کا کتاب الٰہی سے مستنبط ہونا واضح ہوتا ہے۔ تیسری قسم اُن احکام کو شامل ہے جن کے قرآن سے مستنبط ہونے کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نہ تصریح موجود ہے اور نہ کلام کی دلالتیں استنباط کو واضح کرتی ہیں،مگر اس کے باوجود قرآن ان کا تحمل کرتا ہے۔ ان کی نوعیت مستقل بالذات سنن کی ہے۔ لکھتے ہیں:

فالقسم الأول ماصرح فیہ الرسول صلی اﷲ علیہ وسلم بأنہ حکم بالکتاب، ولم یکن الحکم بظاہر الکتاب ونصہ. فقد علمنا أنہ کان یستنبط منہ وقد أمرہ اﷲ یبین للناس ما نزل إلیھم کما مر. ومعرفۃ وجہ الإستنباط لا تصعب بعد العلم بالأصل والفرع.
والقسم الثاني من الأحکام مالم یصرح فیہ بذلک ولکن وجہ إستنباطہ من الکتاب ظاھر علی العارف بدلالات الکلام. ... فإذا أطلعنا علی وجہ الإستنباط جعلنا الکتاب فیہ أصلاً والسنۃ فرعًا لوجوہ ذکرنا. وقد اتفقت الصحابۃ علی النظر في الکتاب أولاً ، فإذا لم یجدوا فیہ ففي السنۃ، وھذا ھو المعقول، ففي مثل ذلک أیقنا بأن الرسول صلی اﷲ علیہ وسلم قد حکم بالکتاب مستنبطاً منہ، لعلمہ بإشاراتہ وإن خفي علینا برھۃ من الدھر.
والقسم الثالث مالا نجد في الکتاب ولکن الزیادۃ بہ محتملۃ. فجعلنا السنۃ فیہ أصلاً مستقلاً .۱۹؂

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام میں سے پہلی قسم اُن احکام کی ہے جن کے بارے میںآپ نے صراحت فرمائی ہے کہ وہ کتاب اﷲ سے مستنبط ہیں، دراں حالیکہ ظاہر کتاب کی نص میں وہ موجود نہیں ہیں۔ گویا وہ حکم مستنبط ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرض تبیین کے مطابق ہیں۔ ان احکام میں اصل و فرع پر غور کرکے ان کے استنباط کا پہلو معلوم کرنا دشوار نہیں ہوتا۔
دوسری قسم ان احکام کی ہے جن کے متعلق آپ نے خود کوئی صراحت نہیں فرمائی، مگر قرآن سے ان کے استنباط کا پہلو کلام کی دلالتوں کو جاننے والے پر واضح ہو جاتا ہے۔ ... پس اگر ہمیں وجہ استنباط معلوم ہو جائے تو اصول یہ ہوگا کہ ہم کتاب اﷲ کو اصل اور سنت کو اس کی فرع قرار دیں گے۔ صحابہ کا اس پر اتفاق تھا کہ وہ سب سے پہلے قرآن پر غور کرتے اور جب اس میں کوئی رہنمائی نہ پاتے تو سنت کی طرف رجوع کرتے۔ اور یہی بات معقول ہے۔ ایسے احکام کے بارے میں ہمارا یقین ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے اشارات سے ان کو مستنبط کیا ،خواہ ان کے وجوہ استنباط ہم پر عرصۂ دراز تک مخفی رہیں۔
تیسری قسم ان احکام کی ہے جن کے متعلق قرآن کی کوئی نص وارد نہیں، البتہ وہ اس اضافے کا متحمل ہے۔ ایسے احکام میں ہم سنت کو مستقل اصل قرار دیں گے۔‘‘

مولانا فراہی کے نزدیک سنت کے حوالے سے صحابہ کا مسلک یہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ بھی منقول ہو، اس پر ایمان لایا جائے اور اس بات پر یقین رکھا جائے کہ کتاب و سنت میں کوئی تضاد نہیں ہے۔بیان کرتے ہیں:

ومسلک الصحابۃ الإیمان بکل ماجاء بہ الرسول، والیقین بأن الکتاب والسنۃ لا یناقض بعضہ بعضًا. ۲۰؂
چنانچہ وہ قرآن و سنت کی یکساں اہمیت کو ائمۂ سلف کا مذہب سمجھتے اور ان کے مقام و مرتبے میں کسی تفریق کو یا ان میں سے کسی ایک کے ترک کرنے کو باطل پسندوں اور ملحدوں کے مذہب سے تعبیر کرتے ہیں۔’’ احکام الاصول‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’سلف اور ائمہ نے اپنے مذہب کی صحت کی بدولت کتاب اور سنت، دونوں کو مضبوطی سے پکڑا۔ یہ نہیں کیا کہ باطل پسندوں اور ملحدوں کی طرح ان میں تفریق کر کے ایک چیز کو ترک کر دیتے۔‘‘ ۲۱؂

اسی بنا پر وہ متنبہ کرتے ہیں کہ ہمیں اﷲ اور اس کے رسول سے اختلاف سے دور رہنا چاہیے، کیونکہ قرآن و حدیث میں اس کی شدید مخالفت اور برا انجام بیان ہوا ہے:

ولقد حذرنا اﷲ تعالٰی ورسولہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم عن الإختلاف، ودل علی شناعۃ مغبتہ في کثیر من القرآن والحدیث حتی أن المرء یوشک أن یری أنہ أعظم المآثم وجماع السیئات.۲۲؂

 

مولانا امین احسن اصلاحی

مولاناامین احسن اصلاحی نے بیان کیا ہے کہ رسول زمین پر قانون الٰہی کی حاکمیت کا مظہر ہوتاہے ۔ وہ اس ذمہ داری پر مامور ہوتا ہے کہ اللہ کے احکام کو انسانوں تک پہنچائے ۔لہٰذا اس کی اطاعت اللہ ہی کی اطاعت کے مترادف ہوتی ہے۔ ’’تدبر قرآن‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’ اصل حاکمیت اللہ ہی کی ہے لیکن وہ اپنے اذن سے اپنے رسول کو یہ منصب بخشتا ہے کہ وہ لوگوں کو اس کے امرو نہی سے آگاہ فرمائے اور اس مقصد کے لیے وہ اس کو غلطی اور خطا سے محفوظ فرماتا ہے اس وجہ سے رسول، خدا کی قانونی و تشریعی حاکمیت کا مظہر ہوتا ہے اور اس پر ایمان اور ساتھ ہی اس کی بے چون و چرا اطاعت، خدا پر ایمان اور خدا کی اطاعت کے ہم معنی بن جاتی ہے۔‘‘ ۲۳؂

اسی استدلال کو آگے بڑھاتے ہوئے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول چونکہ خدا کی قانونی و تشریعی حاکمیت کا مظہر ہوتا ہے، اس لیے اہل ایمان کے لیے لازم ہے کہ وہ ہر نزاعی مسئلے میں اُسی کو حکم بنائیں۔ اُن کے نزدیک رسول کی عدالت کو چھوڑ کر کسی اور کی عدالت سے رجوع کرنا کفر اور شرک کے مترادف ہے:

’’جب رسول، خدا کی حاکمیت قانونی و تشریعی کا مظہر ہے تو اس امر کی کوئی گنجایش کسی صاحب ایمان کے لیے باقی نہیں رہ جاتی کہ وہ رسول کی عدالت کو چھوڑ کر اپنے کسی معاملے کو فیصلہ کے لیے طاغوت کی عدالت میں لے جائے۔ جو شخص ایسا کرتا ہے، وہ اپنی جان پر بہت بڑا ظلم ڈھاتا ہے۔ اس لیے کہ فی الحقیقت یہ چیز خدا کی حاکمیت کا انکار اور بالواسطہ شرک اور کفر کا ارتکاب ہے۔ ‘‘۲۴؂

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اُنھوں نے واضح کیا ہے کہ بحیثیت رسول آپ کی اطاعت کا یہ تقاضا فقط زبان کے اقرار اور عملی اظہار سے پورا نہیں ہوتا، اس کے لیے دل کی اطاعت بھی لازم ہے۔ سورۂ نساء کی آیت ۶۵ کے حوالے سے لکھتے ہیں:

’’...اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کی قسم کھا کر فرمایا کہ یہ لوگ اُس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک یہ اپنے درمیان پیدا ہونے والی تمام نزاعات میں تمھی کو حکم نہ مانیں اور پھر ساتھ ہی اُن کے اندر یہ ذہنی تبدیلی نہ واقع ہو جائے کہ وہ تمھارے فیصلے کو بے چون و چرا پورے اطمینان قلب کے ساتھ مانیں اور اپنے آپ کو بلا کسی استثنا و تحفظ کے تمھارے حوالے کر دیں۔ رسول کی اطاعت خود خدا کی اطاعت کے ہم معنی ہے، اِس وجہ سے اُس کا حق صرف ظاہری اطاعت سے ادا نہیں ہوتا، بلکہ اِس کے لیے دل کی اطاعت بھی شرط ہے۔‘‘ ۲۵؂

مولانا اصلاحی اس اطاعت کے لازمی نتیجے کے طور پر اس امر کو بھی تسلیم کرتے ہیں کہ امت کے علم و عمل میں سنت کی روایت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قائم مقام کی حیثیت حاصل ہے۔ ’فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ‘ کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں:

’’(پس اس کو اللہ و رسول کی طرف لوٹاؤ) ظاہر ہے کہ یہ ہدایت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارک تک ہی کے لیے محدود نہیں ہو سکتی، اس لیے کہ اس اختلاف کے پیدا ہونے کا غالب امکان تو حضور کی وفات کے بعدہی تھا اور آیت خود شہادت دے رہی ہے کہ اس کا تعلق مستقبل ہی سے ہے۔ ظاہر ہے کہ حضور کی وفات کے بعد آپ کی سنت ہی ہے جو آپ کے قائم مقام ہو سکتی ہے۔‘‘۲۶؂

مولانا اصلاحی نے سورۂ جمعہ کی تفسیر میں نماز جمعہ کے احکام کو سنت کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ اس نماز کے قیام سے متعلق تمام امور اگرچہ من جانب اللہ ہیں ،مگر قرآن ان کے ذکر سے خالی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ان احکام میں سے ہیں جو قرآن کے علاوہ ہیں اور جنھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے حکم سے براہ راست امت میں جاری فرمایا ہے۔ اس مثال سے اُن کے نزدیک، مقام نبوت کی یہ شان واضح ہوتی ہے کہ رسول اللہ کے احکام درحقیقت اللہ ہی کے احکام قرار پاتے ہیں، خو اہ ان کا حوالہ قرآن میں مذکور ہو یا نہ ہو۔ لکھتے ہیں:

’’جمعہ کی نماز، اس کی اذان اور اس کے خطبہ سے متعلق یہاں مسلمانوں کو جو ہدایات دی گئی ہیں اور ان کی ایک غلطی پر جس طرح تنبیہ فرمائی گئی ہے، اس کا انداز شاہد ہے کہ جمعہ کے قیام سے متعلق ساری باتیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے انجام پائی ہیں، حالانکہ قرآن میں کہیں بھی جمعہ کا کوئی ذکر نہ اس سے پہلے آیا ہے نہ اس کے بعد ہے، بلکہ روایات سے ثابت ہے کہ اس کے قیام کا اہتمام ہجرت کے بعد مدینہ پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور لوگوں کو آپ ہی نے اس کے احکام و آداب کی تعلیم دی۔ پھر جب لوگوں سے اس کے آداب ملحوظ رکھنے میں کچھ کوتاہی ہوئی تو اس پر قرآن نے اس طرح گرفت فرمائی گویا براہ راست اللہ تعالیٰ ہی کے بتائے ہوئے احکام و آداب کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ رسول کے دیے ہوئے احکام بعینہٖ اللہ تعالیٰ کے احکام ہیں، ان کا ذکر قرآن میں ہو یا نہ ہو۔ رسول کی طرف ان کی نسبت کی تحقیق تو ضروری ہے، لیکن نسبت ثابت ہے تو ان کا انکار خود اللہ تعالیٰ کے احکام کا انکار ہے۔

گفتۂ او گفتۂ اللہ بود

‘‘۲۷؂

چنانچہ انھوں نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ ثبوت اور حجیت، دونوں اعتبارات سے سنت کو وہی حیثیت حاصل ہے جو قرآن مجید کو حاصل ہے۔دین میں ان دونوں کا مقام مساوی ہے، کیونکہ ان دونوں کے اجتماع ہی سے دین کی تشکیل ہوتی ہے:

’’...سنت مثل قرآن ہے۔ سنت اپنے ثبوت میں بھی ہم پایۂ قرآن ہے۔ اس لیے کہ قرآن امت کے قولی تواتر سے ثابت ہے اور سنت عملی تواتر سے۔ ہم ان دونوں کو مقدم و موخر نہیں کر سکتے اور کسی کو ادنیٰ و اعلیٰ نہیں قرار دے سکتے۔ دونوں دین کے قیام کے لیے یکساں ضروری ہیں۔‘‘۲۸؂

سنت کی تشریحی حیثیت کے حوالے سے مولانا اصلاحی نے علماے سلف ہی کے طریقے پر یہ موقف اختیار کیا ہے کہ دین و شریعت کے باب میں قرآن مجید کے ارشادات کی نوعیت اصول کی ہے۔جہاں تک فروع اور توضیحات و تفصیلات کا تعلق ہے تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں محصور ہیں۔چنانچہ دین اپنی کامل صورت میں اسی وقت سامنے آتا ہے جب سنت نبوی کو قرآن مجید کے ساتھ شامل کیا جاتا ہے۔ اسی بنا پر وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ قرآن کی شرح و تفسیر کا حق سب سے بڑھ کر خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے، لہٰذا آپ کی تفسیر کے مقابلے میں کسی اور کی تفسیر کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ لکھتے ہیں:

’’...سنت رسول اﷲ درحقیقت کتاب الٰہی کی تشریح و تفسیر ہے۔ جو باتیں قرآن مجید کے اجمالات و اشارات کے اندر چھپی ہوئی ہیں ، نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے انھی باتوں کو واضح فرما دیا ہے۔ اس وجہ سے کتاب اﷲ کے بعد سنت رسول اﷲ کی طرف رجوع کرنے کی جو ہدایت کی گئی ہے، تو یہ کتاب اﷲ ہی کی اس توضیح و تشریح کی طرف رجوع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جو صحیح طریقہ سے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم سے ماثور و منقول ہے۔ ظاہر ہے کہ قرآن مجید کی توضیح و تشریح کرنے کا حق نبی صلی اﷲ علیہ وسلم سے زیادہ نہ کسی کو ہو سکتا ہے اور نہ کسی دوسرے کی توضیح و تشریح نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی توضیح و تشریح کے مقابل میں لائق قبول ہو سکتی ہے۔‘‘۲۹؂

ایک اور مقام پر خاص احادیث کے بارے میں اُنھوں نے لکھا ہے کہ اِن میں جو کچھ بھی نقل ہوا ہے، وہ سرتاسر تعلیم کتاب ہی کا بیان ہے:

’’ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس حیثیت میں جو کچھ کہا اور کیا ہے، اس کو آپ کے فرائض نبوت کے دائرے سے الگ کس طرح کیا جا سکتا ہے اور اس کی اہمیت کو گھٹایا کس طرح جا سکتا ہے؟ اور پھر اس بات پر غور کیجئے کہ احادیث میں ان چیزوں کے سوا اور کیا ہے جو آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بحیثیت معلم کتاب و حکمت ہونے کے بتائی ہیں یا ان پر عمل کرکے دکھایا ہے۔‘‘۳۰؂

اصلاحی صاحب اِس بارے میں بھی پوری طرح واضح ہیں کہ دین و شریعت کی اصطلاحات کے مفہوم و مصداق کی تعیین کا حق فقط نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے۔ یہ فریضہ آپ کے فرائض نبوت میں شامل ہے۔ لکھتے ہیں:

’’قرآن مجید اور شریعت کی اصطلاحات کا مفہوم بیان کرنے کا حق صرف صاحب وحی محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ہی کوحاصل ہے۔ آپ جس طرح اس کتاب کے لانے والے تھے، اسی طرح اس کے معلم اور مبین بھی تھے اور یہ تعلیم و تبیین آپ کے فریضۂ رسالت ہی کا ایک حصہ تھی‘‘۔۳۱؂

مولانا اصلاحی نے سورۂ بقرہ کی آیت ۱۲۹ کی تفسیر میں’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرائض منصبی‘‘ کا عنوان قائم کیا ہے اور اس کے تحت یہ واضح کیا ہے کہ اللہ کے رسول کی حیثیت سے آپ کا منصبی فریضہ فقط یہ نہیں تھا کہ آپ کتاب اللہ کو لوگو ں تک پہنچا دیں۔ اس کے ساتھ آپ کے فرائض میں یہ بھی شامل تھا کہ آپ قرآن مجید کی تعلیم دیں اور اس کی شرح و وضاحت فرمائیں۔ قرآن مجید کی اس تعلیم اور اس شرح و وضاحت کے اخبار و روایات، یعنی احادیث کو دین کی حیثیت حاصل ہے اور ان کا انکار قرآن مجید کے انکار کے مترادف ہے۔ لکھتے ہیں:

’’ یہ خیال بڑا مغالطہ انگیز ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فریضۂ منصبی بحیثیت رسول کے صرف یہ تھا کہ آپ لوگوں کو قرآن پہنچادیں۔ قرآن کا پہنچا دینا آپ کے فرائض منصبی کا صرف ایک جزو تھا۔ اس کے علاوہ آپ کی یہ ذمہ داری بھی تھی کہ آپ ایک معلم کی طرح لوگوں کو اس قرآن کی تعلیم دیں ، اس کے مضمرات و تضمنات ، اس کے اجمالات و اشارات اور اس کے اسرار و حقائق لوگوں پر واضح کر دیں، اس کے عجائب حکمت کے خزانوں تک لوگوں کی رہبری فرمائیں۔ اسی طرح آپ کی یہ ذمہ داری بھی تھی کہ آپ قرآنی حکمت کی روشنی میں افراد اور معاشرہ کی تربیت کے اصول و فروع بھی متعین فرمائیں اور ان اصولوں کے مطابق لوگوں کا تزکیہ بھی کریں۔...یہ سارے کام آپ کے فرائض نبوت میں شامل تھے۔ اس وجہ سے ان مقاصد کے تحت آپ نے جو کچھ بتایا یا جو کچھ کیا، اس سب کو امت نے اسی طرح حسب تعمیل سمجھا، جس طرح قرآن کو سمجھا اور اسی اہمیت کے ساتھ اس کی حفاظت اور اس کے نقل و روایت کا اہتمام کیا۔ اس کے کسی جزو کے متعلق یہ سوال تو اٹھایا جا سکتا ہے کہ اس کا انتساب آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پوری صحت کے ساتھ ثابت ہے یا نہیں، لیکن اس کو دین و شریعت سمجھنے سے انکار کرنا خود قرآن مجید کے انکار کے ہم معنی ہے۔‘‘۳۲؂

جناب جاوید احمد غامدی

جناب جاوید احمد غامدی رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی عمومی اطاعت اور دین میں آپ کے مقام و مرتبے کے حوالے سے اُسی موقف پرقائم ہیں جس پرتمام علماے سلف اور اُن کے پیش رو فراہی و اصلاحی کھڑے ہیں۔ چنانچہ وہ آپ کے وجود کو کمال انسانیت کا مظہر اتم اور زمین پر خدا کی عدالت کہتے، آپ کی ہستی کو عقیدت اور اطاعت ،دونوں کا مرکز مانتے اور آپ کے احکام کی بے چون و چرا تعمیل کو لازم قرار دیتے ہیں۔وہ دین کو آپ کی ذات میں منحصر سمجھتے اور اِس بنا پر آپ کے قول و فعل اور تقریر و تصویب کو قیامت تک کے لیے حجت تسلیم کرتے ہیں۔ ماخذ دین کی بحث میں اُنھوں نے ’’دین کا تنہا ماخذ‘‘ کی جو منفرد تعبیر اختیار کی ہے،اُس سے حصول دین کا سارا رخ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کی طرف منتقل ہو گیا ہے اور آپ کے وجود پر دین کا انحصار رائج تعبیرات کے مقابلے میں زیادہ نمایاں اور زیادہ مرتکز ہو کر سامنے آیا ہے۔۳۳؂ دین اسلام پر اپنی کتاب ’’میزان‘‘ کا آغاز کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:

’’دین اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے جو اُس نے پہلے انسان کی فطرت میں الہام فرمائی اور اِس کے بعد اُس کی تمام ضروری تفصیلات کے ساتھ اپنے پیغمبروں کی وساطت سے انسان کو دی ہے۔ اِس سلسلہ کے آخری پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ چنانچہ دین کا تنہا ماخذ اِس زمین پر اب محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ذات والا صفات ہے۔ ‘‘ ۳۴؂

نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی ذات اقدس کو دین کا تنہا ماخذتسلیم کرنے کے لازمی نتیجے کے طور پر وہ تمام تر دین کو آپ کے قول و فعل اور تقریر وتصویب پر مبنی قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ درج بالا مقدمے کو آگے بڑھاتے ہوئے اُنھوں نے لکھا ہے:

’’یہ صرف اُنھی (یعنی نبی صلی اﷲ علیہ وسلم ) کی ہستی ہے کہ جس سے قیامت تک بنی آدم کو اُن کے پروردگار کی ہدایت میسر ہو سکتی اور یہ صرف اُنھی کا مقام ہے کہ اپنے قول و فعل اور تقریر و تصویب سے وہ جس چیز کو دین قرار دیں، وہی اب رہتی دنیا تک دین حق قرار پائے۔‘‘۳۵؂

یہی وجہ ہے کہ اُن کے نزدیک اخذ دین کی ترتیب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر مقدم اور قرآن و سنت کا موخر ہے اور آپ کی حیثیت ماخذ و مصدر کی اور قرآن وسنت کی نوعیت اس سے پھوٹنے والی دو الگ الگ صورتوں کی ہے:

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دین آپ کے صحابہ کے اجماع اور قولی و عملی تواتر سے منتقل ہوا اور دو صورتوں میں ہم تک پہنچا ہے : ۱۔ قرآن مجید ۲ ۔سنت ۔‘‘۳۶؂

غامدی صاحب کے تمام تر دینی فکر کا مدار اسی اصولی مقدمے پر قائم ہے۔ حدیث و سنت کی حجیت کی بحث بھی اسی مرکز ی نکتے کے گرد گھومتی ہے۔ اس بحث کے بنیادی نکات کو اگر ہم اُن کی تحریروں سے اخذ کرنا چاہیں تو وہ درج ذیل ہیں:

۱۔غامدی صاحب کے نزدیک ایمان بالرسالت کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ زندگی کے ہر معاملے میں اللہ کے رسول کی مکمل اطاعت کی جائے، کیونکہ رسول صرف عقیدت کا مرکز نہیں،بلکہ اس کے ساتھ اطاعت کا مرکز بھی ہوتاہے۔ اُس کے منصب کا تقاضا ہے کہ اُسے فقط منذر اور مذکر کے طور پر نہیں ، بلکہ واجب الاطاعت ہادی کی حیثیت سے قبول کیا جائے اور زندگی کے ہر معاملے میں اُس کے حکم کی تعمیل کی جائے۔ لکھتے ہیں:

’’...نبی صرف عقیدت ہی کا مرکز نہیں، بلکہ اطاعت کا مرکز بھی ہوتا ہے۔ وہ اِس لیے نہیں آتا کہ لوگ اُس کو نبی اور رسول مان کر فارغ ہو جائیں۔ اُس کی حیثیت صرف ایک واعظ و ناصح کی نہیں، بلکہ ایک واجب الاطاعت ہادی کی ہوتی ہے۔ اُس کی بعثت کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ زندگی کے تمام معاملات میں جو ہدایت وہ دے، اُس کی بے چون و چرا تعمیل کی جائے۔‘‘۳۷؂

وہ اطاعت رسول کو محض رسمی اور قانونی ضرورت کے طور پر بیان نہیں کرتے، بلکہ خلوص و محبت اور عقیدت و احترام کے جذبات کو بھی اس کا لازمی حصہ قرار دیتے ہیں:

’’...یہ اطاعت کوئی رسمی چیز نہیں ہے۔ قرآن کامطالبہ ہے کہ یہ اتباع کے جذبے سے اور پورے اخلاص، پوری محبت اورا نتہائی عقیدت و احترام سے ہونی چاہیے۔ انسان کو خداکی محبت اِسی اطاعت اور اِسی اتباع سے حاصل ہوتی ہے۔... رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حقیقت خود بھی مختلف طریقوں سے واضح فرمائی ہے۔ ایک روایت میں آپ کا یہ ارشاد نقل ہوا ہے کہ کسی شخص کا ایمان اُس وقت تک متحقق نہیں ہو سکتا، جب تک وہ مجھے اپنے باپ بیٹوں اور دوسرے تمام لوگوں سے عزیز تر نہ رکھے۔‘‘۳۸؂

وہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی اطاعت اور اس بنا پر آپ کے قول و فعل کی حجیت کو آپ کے زمانے تک محدود نہیں سمجھتے، بلکہ اُسے ابدی مانتے ہیں اور اسے کسی کی راے کے طور پر نہیں، بلکہ قرآن کے فیصلے کے طور پر قبول کرتے ہیں:

’’...قرآن اِس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام و ہدایات قیامت تک کے لیے اُسی طرح واجب الاطاعت ہیں ، جس طرح خود قرآن واجب الاطاعت ہے ۔ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے محض نامہ بر نہیں تھے کہ اس کی کتاب پہنچا دینے کے بعد آپ کا کام ختم ہو گیا ۔ رسول کی حیثیت سے آپ کا ہر قول و فعل بجاے خود قانونی سند و حجت کی حیثیت رکھتا ہے۔ آپ کو یہ مرتبہ کسی امام و فقیہ نے نہیں دیا ہے ، خود قرآن نے آپ کا یہی مقام بیان کیا ہے ۔‘‘۳۹؂

آپ کے قول و فعل کی قانونی سند و حجت کی بنا پر وہ سمجھتے ہیں کہ اس دنیا میں شریعت دینے کا حق صرف رسول اﷲ کو حاصل ہے اور آپ کی دی ہوئی شریعت میں کسی انسان کو، خواہ وہ ابوبکر و عمر جیسا بلند پایہ ہی کیوں نہ ہو، تغیر و تبدل کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ لکھتے ہیں:

’’اِس زمین پر قیامت تک کے لیے یہ حق صرف محمد رسول اللہ کو حاصل ہے کہ وہ کسی چیز کو شریعت قرار دیں ، اور جب اُن کی طرف سے کوئی چیز شریعت قرار پا جائے تو پھر صدیق و فاروق بھی اُس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں کر سکتے۔‘‘ ۴۰؂

۲۔ غامدی صاحب کا موقف ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا وجوب قیامت تک کے لیے ہے۔اپنی حیات مبارکہ میں آپ بنفس نفیس مرجع اطاعت تھے اور اب یہ مقام و مرتبہ قرآن وسنت کو حاصل ہے۔ حکومت و ریاست کی اطاعت انھی کی اطاعت کے ماتحت ہے۔ لہٰذا حکمرانوں سے اختلاف تو ہو سکتا ہے، مگر قرآن و سنت سے اختلاف کی کوئی گنجایش نہیں ہے۔ حکمرانوں سے اختلاف کی صورت میں بھی فیصلے کے لیے قرآن وسنت ہی کو حکم کی حیثیت حاصل ہے۔ چنانچہ ان کے نزدیک مسلمان اپنی ریاست میں قرآن وسنت کے خلاف یا اِن کی رہنمائی کو نظر انداز کر کے کوئی قانون سازی نہیں کر سکتے:

’’...اللہ و رسول کی یہ حیثیت ابدی ہے ، لہٰذا جن معاملات میں بھی کوئی حکم اُنھوں نے ہمیشہ کے لیے دے دیا ہے، اُن میں مسلمانوں کے اولی الامر کو، خواہ وہ ریاست کے سربراہ ہوں یا پارلیمان کے ارکان ، اب قیامت تک اپنی طرف سے کوئی فیصلہ کرنے کا حق حاصل نہیں ہے ۔ اولی الامر کے احکام اِس اطاعت کے بعد اور اِس کے تحت ہی مانے جا سکتے ہیں ۔اِس اطاعت سے پہلے یا اِس سے آزاد ہو کر اُن کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ چنانچہ مسلمان اپنی ریاست میں کوئی ایسا قانون نہیں بناسکتے جو اللہ و رسول کے احکام کے خلاف ہو یا جس میں اُن کی ہدایت کو نظر انداز کر دیا گیا ہو ۔اہل ایمان اپنے اولی الامر سے اختلاف کا حق بے شک، رکھتے ہیں، لیکن اللہ اور رسول سے کوئی اختلاف نہیں ہو سکتا،بلکہ اِس طرح کا کوئی معاملہ اگر اولی الامر سے بھی پیش آ جائے اور اُس میں قرآن و سنت کی کوئی ہدایت موجود ہو تو اُس کا فیصلہ لازماً اُس ہدایت کی روشنی ہی میں کیا جائے گا ۔ ‘‘۴۱؂

۳۔ غامدی صاحب حدیث و سنت کے ایک حصے کو دین کے ایسے مستقل بالذات جز کے طور پر قبول کرتے ہیں جس کی ابتدا قرآن سے نہیں ہوئی ۴۲؂اور جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے اہتمام،پوری حفاظت اور پوری قطعیت کے ساتھ امت کو منتقل کیا ہے۔ لکھتے ہیں:

’’ سنت کی حیثیت دین میں مستقل بالذات ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اِسے پورے اہتمام،پوری حفاظت اور پوری قطعیت کے ساتھ انسانوں تک پہنچانے کے مکلف تھے۔‘‘۴۳؂

چنانچہ اُنھوں نے اپنی کتاب میں اُن تمام اجزاے دین کی سنن ہی کی حیثیت سے فہرست بندی کی ہے جو امت کی علمی و عملی روایت میں عبادت، معاشرت، خورو نوش اور رسوم و آداب کے د ائرے میں مراسم دین کے طور پر مسلم رہے ہیں۔ یہ فہرست درج ذیل ہے:

’’ اِس (سنت کے ) ذریعے سے جو دین ہمیں ملا ہے ،وہ یہ ہے :۴۴؂
عبادات
۱۔ نماز ۔۲۔ زکوٰۃ اور صدقۂ فطر ۔۳۔ روزہ و اعتکاف ۔۴۔ حج و عمرہ ۔۵۔ قربانی اور ایام تشریق کی تکبیریں ۔
معاشرت
۱۔ نکاح و طلاق اور اُن کے متعلقات ۔ ۲۔حیض و نفاس میں زن و شو کے تعلق سے اجتناب۔
خورونوش
۱۔ سؤر ، خون ، مردار اور خدا کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیے گئے جانور کی حرمت ۔ ۲۔ اللہ کا نام لے کر جانوروں کا تذکیہ ۔
رسوم و آداب
۱۔ اللہ کا نام لے کر اور دائیں ہاتھ سے کھانا پینا ۔ ۲۔ ملاقات کے موقع پر ’السلام علیکم ‘اور اُس کا جواب۔۳۔ چھینک آنے پر ’الحمدللہ ‘اور اُس کے جواب میں ’یرحمک اللہ ‘ ۔ ۴ ۔مونچھیں پست رکھنا۔ ۵۔ زیر ناف کے بال کاٹنا۔ ۶۔بغل کے بال صاف کرنا۔ ۷۔ بڑھے ہوئے ناخن کاٹنا۔ ۸۔لڑکوں کا ختنہ کرنا ۔۹۔ ناک ،منہ اور دانتوں کی صفائی۔ ۱۰۔استنجا۔ ۱۱۔ حیض و نفاس کے بعد غسل۔ ۱۲۔غسل جنابت۔ ۱۳۔میت کا غسل۔ ۱۴ ۔تجہیز و تکفین ۔۱۵۔تدفین۔ ۱۶ ۔عید الفطر ۔ ۱۷۔عید الاضحی ۔ ‘‘۴۵؂

گویا ان کے نزدیک ان تمام اجزاے دین کا ماخذ قرآن نہیں، بلکہ سنت ہے۔
۴۔ غامدی صاحب قرآن مجید کی تبیین کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی منصبی ذمہ داری سمجھتے ہیں اور اس اعتبار سے آپ کے مقام کو مامور من اللہ مبین کتاب کی حیثیت سے قبول کرتے ہیں۔سورۂ نحل کی آیت تبیین کے حوالے سے لکھتے ہیں:

’’آیت کا مدعا یہ ہے کہ خالق کائنات نے اپنا یہ فرمان محض اِس لیے پیغمبر کی وساطت سے نازل کیا ہے کہ وہ لوگوں کے لیے اُس کی تبیین کرے ۔ گویا ’تبیین‘ یا ’بیان‘ پیغمبر کی منصبی ذمہ داری بھی ہے اور اُس کے لازمی نتیجے کے طور پر اُس کا حق بھی جو اُسے خود پروردگار عالم نے دیا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں آپ کہہ سکتے ہیں کہ پیغمبر مامور من اللہ ’مبین کتاب‘ ہے ۔‘‘۴۶؂

اسی بنا پر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دین کے سب سے پہلے اور سب سے بڑے عالم تھے اور اس اعتبار سے آپ کو یہ امتیازی حیثیت حاصل تھی کہ وحی الٰہی کی تائید وتصویب کی بدولت آپ کا علم ہر خطا سے پاک تھا۔ لکھتے ہیں:

’’حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے پیغمبر تھے، اِس لیے دین کے سب سے پہلے اور سب سے بڑے عالم، بلکہ سب عالموں کے امام بھی آپ ہی تھے۔ دین کے دوسرے عالموں سے الگ آپ کے علم کی ایک خاص بات یہ تھی کہ آپ کا علم بے خطا تھا، اِس لیے کہ اُس کو وحی کی تائید و تصویب حاصل تھی۔‘‘۴۷؂

۵۔ غامدی صاحب کے نزدیک روایات میں منقول نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام ارشادات تفہیم و تبیین کی حیثیت رکھتے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی نسبت کی تحقیق کے بعد ان کی پیروی ایمان کا لازمی تقاضا ہے اور اس سے معمولی اختلاف بھی ایمان کے منافی ہے۔ لکھتے ہیں:

’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جو ارشادات بھی دین کی حیثیت سے روایتوں میں نقل ہوئے ہیں، اُن میں سے بعض کو میں نے ’’تفہیم و تبیین‘ ‘ اور بعض کو ’’اسوۂ حسنہ‘‘ کے ذیل میں رکھا ہے۔ یہی معاملہ عقائد کی تعبیر کا ہے۔ اِس سلسلہ کی جو چیزیں روایتوں میں آئی ہیں، وہ سب میری کتاب ’’میزان‘‘ کے باب ’’ایمانیات‘‘ میں دیکھ لی جاسکتی ہیں۔ یہ بھی ’’تفہیم و تبیین‘‘ ہے۔ علمی نوعیت کی جو چیزیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے نقل ہوئی ہیں، اُن کے لیے صحیح لفظ میرے نزدیک یہی ہے۔ آپ سے نسبت متحقق ہو تو اس نوعیت کے ہر حکم، ہر فیصلے اور ہر تعبیر کو میں حجت سمجھتا ہوں۔ اِس سے ادنیٰ اختلاف بھی میرے نزدیک ایمان کے منافی ہے۔‘‘۴۸؂

اس تفصیل سے واضح ہے کہ مدرسۂ فراہی حدیث وسنت کو من جملۂ دین قرار دیتا اور اِن کی حجیت کو پوری طرح تسلیم کرتا ہے ۔چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دین میں مطاع کی حیثیت کو تسلیم کرنے اوراس بناپرآپ کے قول و فعل اور تقریر و تصویب کو واجب الاطاعت ماننے ، حدیث و سنت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قائم مقام سمجھنے اور ان کی تشریعی اور تشریحی حیثیتوں کو تسلیم کرنے اور ان کے انکار کو دین و ایمان کے منافی تصور کرنے کے حوالے سے یہ اُسی موقف کا علم بردار ہے جس پر امت گذشتہ چودہ سو سال سے کاربند ہے۔ اس کا علمی و فکری اثاثہ اِس موقف پر واقعاتی شہادت کی حیثیت رکھتا ہے جس کی تردید علم و استدلال کے دائرے میں ناممکن ہے۔ دین اسلام پر اس کی نمایندہ کتاب ’’میزان‘‘ اِس امر کا واضح ثبوت ہے جس میں نماز، زکوٰۃ، روزہ، اعتکاف، حج ، عمرہ،عید،نکاح، طلاق،تذکیہ، غسل ، تجہیز و تکفین اور اِس نوعیت کے دیگرمجمع علیہ مراسم دین کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جاری کردہ سنن ہی کے طور پر مشروع قرار دیا گیاہے۔اِس کے ساتھ ساتھ دین کی شرح و فرع کے ضمن میں کم و بیش بارہ سو احادیث سے استدلال کیا گیا ہے۔ بطور مثال اِن میں سے چند حوالے درج ذیل ہیں:

۱۔’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بلیغ اسلوب میں اِس کی وضاحت اِس طرح فرمائی ہے: ’’احسان‘‘یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اِس طرح کرو گویا تم اُسے دیکھ رہے ہو۔ اِس لیے کہ اگر تم اُسے نہیں دیکھ رہے تو وہ تو تمھیں دیکھ رہا ہے ۔‘‘ (مسلم ، رقم۹۳) ۴۹؂
۲۔’’قرآن کی اِس تعلیم کا سب سے موثر بیان وہ ہے جسے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا گیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا: قیامت کے دن سب سے پہلے اُن لوگوں کا فیصلہ کیا جائے گا جوقرآن کے عالم تھے یا جہاد میں مارے گئے یا جنھیں اللہ تعالیٰ نے مال و دولت سے نوازا تھا۔‘‘ ۵۰؂
۳۔’’یہی تصویریں ہیں جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ممنوع قرار دیا ہے۔ ‘‘۵۱؂
۴۔’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اِسی مقصد سے عورتوں کے تیز خوشبو لگا کر باہر نکلنے ، مردوں کے پاس تنہا بیٹھنے، یا اُن کے ساتھ تنہا سفر کرنے سے منع فرمایا۔‘‘ ( ابوداؤد،رقم۴۱۷۳)۵۲؂
۵۔’’قرآن کا یہ منشا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مختلف مواقع پر واضح فرمایا ہے :سیدہ عائشہ کی روایت ہے کہ حضور نے فرمایا : ایک دو گھونٹ اتفاقاً پی لیے جائیں تو اِس سے کوئی رشتہ حرام نہیں ہوجاتا۔ ‘‘ (مسلم ، رقم ۳۵۹۰) ۵۳؂
۶۔’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول و فعل سے اولیا پر واضح کر دیا ہے کہ اُس کے بارے میں وہ کوئی فیصلہ اُس کی اجازت کے بغیر نہ کریں ، ورنہ عورت چاہے گی تو اُن کا یہ فیصلہ رد کر دیا جائے گا ۔ ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیوہ کا نکاح اُس سے مشورے کے بغیر نہ کیا جائے اور کنواری کی اجازت ضروری ہے ۔ لوگوں نے پوچھا : اُس کی اجازت کیسے ہو ؟ آپ نے فرمایا: وہ خاموش رہے تو یہی اجازت ہے۔‘‘ (بخاری، رقم ۶۹۶۸)۵۴؂
۷۔’’عورت کو جسمانی سزا دی جائے ۔ یہ سزا، ظاہر ہے کہ اتنی ہی ہو سکتی ہے جتنی کوئی معلم اپنے زیرتربیت شاگردوں کو یا کوئی باپ اپنی اولاد کو دیتا ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس کی حد ’غیر مبرح‘ کے الفاظ سے متعین فرمائی ہے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ ایسی سزا نہ دی جائے جو کوئی پاے دار اثر چھوڑے ۔‘‘ (مسلم ، رقم ۲۹۵۰)۵۵؂
۸۔ ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اِسی بنا پر ماں کا حق باپ کے مقابل میں تین درجے زیادہ قرار دیا ہے۔‘‘ (بخاری، رقم ۵۹۷۱۔ مسلم، رقم ۶۵۰۰)۵۶؂
۹۔’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس کی جو صورتیں ،اپنے زمانے میں ممنوع قرار دیں، وہ یہ ہیں :چیزیں بیچنا ،اِس سے پہلے کہ وہ قبضے میں آئیں ۔( بخاری،رقم۲۱۳۲)اپنے بھائی کے ہاتھ کوئی ایسی چیز بیچنا جس میں عیب ہو ،الاّیہ کہ اُسے واضح کر دیا جائے۔‘‘ ( ابن ماجہ ،رقم ۲۲۴۶)۵۷؂
۱۰۔’’چنانچہ وہب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے : ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے اور کھلانے والے، دونوں پر لعنت کی ہے ۔‘‘(بخاری، رقم ۵۳۴۷ ) ۵۸؂

[باقی]

_____
۱؂ النساء ۴: ۶۴۔
۲؂ النساء ۴: ۸۰۔
۳؂ ۴: ۵۹۔
۴؂ الالبانی ، ناصر الدین ، صحیح الجامع الصغیر وزیادتہ ، رقم ۳۲۳۲۔ ابن حزم، ابو محمد علی بن احمد،الاحکام فی اصول الاحکام، بیروت: دارلکتب العلمیہ، ۲۰۰۴ء، ج۲،ص۲۵۱۔
۵؂ ابن عبدالبر، ابو عمر یوسف،جامع بیان العلم، دمام: دار ابن الجوزیۃ،۱۴۲۷ھ، ج۱، ص۶۱۶۔
۶؂ ایضاً، ج ۲، ص۳۲۰۔
۷؂ الطبری، ابو جعفر محمد بن جریر، تفسیر الطبری، کوئٹہ: مکتبہ عثمانیہ،۲۰۱۰ء، ج۳، ص ۲۳۹۳۔ ابن حزم، ابو محمد علی بن احمد،الاحکام فی اصول الاحکام، بیروت: دارالکتب العلمیہ، ۲۰۰۴ء،ج۱،ص۱۱۶۔ الزمخشری، ابو قاسم جار اللہ محمود بن عمر، تفسیرالکشاف، بیروت: دارالمعرفۃ، ۲۰۰۲ء، ص ۲۴۲۔ الشاطبی، ابو اسحاق ابراہیم بن موسیٰ، الموافقات فی اصول الشریعہ، (مترجم: کیلانی، مولانا عبدالرحمن)، لاہور: دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری، ۲۰۰۶ء، ج۴، ص ۱۱۔الرازی، فخر الدین محمد بن عمر، التفسیر الکبیر ، بیروت:دارالکتب العلمیہ، ۲۰۰۹ء، ج ۱۰، ص۱۱۷۔القرطبی، ابو عبداللہ محمد بن احمد الانصاری،الجامع لاحکام القرآن، کوئٹہ:مکتبہ رشیدیہ، ج۵، ص ۲۵۰۔ الشوکانی، محمد بن علی بن محمد، فتح القدیر، بیروت:دارالکتب العلمیہ،ج ۱، ص۶۰۸۔الآلوسی، سید محمود، روح المعانی، کوئٹہ: مکتبہ رشیدیہ،ج۵، ص ۸۷۔
۸؂ ابن قیم، شمس الدین ابو عبداللہ، الجوزیۃ،اعلام الموقعین عن رب العالمین، لاہور:مکتبہ قدوسیہ، ۲۰۰۷ء، ج ۱، ص۶۸۔
۹؂ ابن عبدالبر، ابو عمر یوسف،جامع بیان العلم ، دمام:دار ابن الجوزیۃ،۱۴۲۷ھ، ج۱، ص ۶۰۷۔
۱۰؂ الشوکانی، محمد بن علی ، ارشاد الفحول الی تحقیق الحق من علم الاصول، بیروت:دارالکتاب العربی، ج ۱،ص۹۶۔
۱۱؂ ایضاً۔
۱۲؂ یعنی علماے امت کے نزدیک سنت پورے قرآن کا بیان نہیں ہے۔یہ اُس کے انھی اجزا کے لیے بمنزلۂ بیان ہے جو از خود واضح نہیں ہیںیا جن کی قرآن نے اپنے بین الدفتین تبیین نہیں فرمائی۔ چنانچہ امام شافعی نے اسی بنا پرآیات قرآنی کو دو قسموں میں تقسیم کیا ہے: ایک وہ آیات جنھیں خارج کے بیان کی ضرورت نہیں اور دوسری وہ جن کی تبیین سنت سے ہوتی ہے۔ ابو زہرہ امام شافعی کے اسی موقف کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’جب صورت یہ ٹھیری کہ قرآن بیان کلّی ہے اور سنت حسب ضرورت اس کی شارح و مفسر تو شافعی بیان قرآن کی دو قسمیں کرتے ہیں:۱۔وہ بیان قرآن جو نص ہے اور جس کی تشریح و توضیح کے لیے خارج سے کسی امداد کی ضرورت نہیں، وہ خود واضح ہے۔۲۔وہ بیان قرآن جواپنی تشریح و توضیح میں سنت کا محتاج ہے، خواہ اپنے اجمال کی تفصیل میںیامعنی محتمل کی تعیین میں یا عموم کی تخصیص میں۔‘‘
(محمد ابو زہرہ، امام شافعی عہد اور حیات،لاہور: شیخ غلام علی اینڈ سنز، ص۸۵)
۱۳؂ الشاطبی، ابو اسحاق ابراہیم بن موسیٰ، الموافقات فی اصول الشریعہ، (مترجم: کیلانی، مولانا عبدالرحمن)، لاہور: دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری، ۲۰۰۶ء، ج ۴، ص۱۰۔
۱۴؂ ایضاً۔
۱۵؂ الفراہی، عبدالحمید، رسائل فی علوم القرآن،اعظم گڑھ: الدائرۃ الحمیدیہ، ۲۰۱۱ء، ص ۱۱۴۔
۱۶؂ الفراہی، عبدالحمید، رسائل فی علوم القرآن،اعظم گڑھ: الدائرۃ الحمیدیہ، ۲۰۱۱ء، ص ۱۰۹۔
۱۷؂ الفراہی، عبدالحمید، القائد الی عیون العقائد، اعظم گڑھ:، الدائرۃ الحمیدیہ،۲۰۱۰ء ، ص۱۶۷۔
۱۸؂ الفراہی، عبدالحمید، رسائل فی علوم القرآن،اعظم گڑھ: الدائرۃ الحمیدیہ، ۲۰۱۱ء، ص۱۰۹۔
۱۹؂ الفراہی، عبدالحمید، رسائل فی علوم القرآن،اعظم گڑھ: الدائرۃ الحمیدیہ، ۲۰۱۱ء، ص۱۱۴۔
۲۰؂ الفراہی، عبدالحمید، القائد الیٰ عیون العقائد، اعظم گڑھ: الدائرۃ الحمیدیہ،۲۰۱۰ء،ص۱۲۔
۲۱؂ ایضاً۔
۲۲؂ الفراہی، عبدالحمید، رسائل فی علوم القرآن،اعظم گڑھ:، الدائرۃ الحمیدیہ، ۲۰۱۱ء، ص ۱۱۲۔

۲۳؂ اصلاحی، امین احسن، تدبر قرآن، لاہور:فاران فاؤنڈیشن، ۲۰۰۸ء،ج ۲، ص ۳۲۸۔
۲۴؂ ایضاً،ص ۳۲۹۔
۲۵؂ اصلاحی، امین احسن، تدبر قرآن، لاہور:فاران فاؤنڈیشن، ۲۰۰۸ء،ج ۲،ص۳۲۹۔
۲۶؂ ایضاً، ص ۳۲۵۔
۲۷؂ اصلاحی، امین احسن، تدبر قرآن، لاہور:فاران فاؤنڈیشن، ۲۰۰۸ء،ج ۸، ص ۳۸۸۔
۲۸؂ اصلاحی، امین احسن، مبادی تدبر حدیث، لاہور:فاران فاؤنڈیشن، ۲۰۰۸ء،ص ۳۵۔
۲۹؂ اصلاحی، امین احسن، مولانا، اسلامی ریاست میں فقہی اختلافات کا حل، لاہور:فاران فاؤنڈیشن، ۲۰۰۸ء،ص۲۰۔
۳۰؂ اصلاحی، امین احسن، تدبر قرآن، لاہور:فاران فاؤنڈیشن، ۲۰۰۵ء،ج ۱ ،ص ۳۵۴۔
۳۱؂ ایضاً، ص ۳۴۰۔
۳۲؂ اصلاحی، امین احسن، تدبر قرآن، لاہور: فاران فاؤنڈیشن، ۲۰۰۸ء،ج۱، ص۳۵۴۔
۳۳؂ اصول اور احکام کی کتابوں میں دین و شریعت کے بالعموم چار ماخذ بیان کیے گئے ہیں: قرآن، سنت، اجماع اور قیاس۔
۳۴؂ غامدی، جاوید احمد،میزان، لاہور: المورد،۲۰۱۵ء، ص۱۳۔
۳۵؂ غامدی، جاوید احمد،میزان، لاہور: المورد،۲۰۱۵ء، ص۱۳۔
۳۶؂ ایضاً۔
۳۷؂ ایضاً،ص۱۴۴۔
۳۸؂ غامدی، جاوید احمد،میزان، لاہور: المورد،۲۰۱۵ء، ایضاً،ص۱۴۵۔
۳۹؂ غامدی، جاوید احمد،برہان، لاہور: المورد،۲۰۰۸ء، ص۳۸۔
۴۰؂ ایضاً، ص۱۳۸۔
۴۱؂ غامدی، جاوید احمد،میزان، لاہور: المورد،۲۰۱۵ء،ص۴۸۴۔
۴۲؂ یہاں یہ واضح رہے کہ غامدی صاحب قرآن مجید اور حدیث و سنت میں مذکور احکام کو اُن کی اصل اور شرح و فرع کے اعتبار سے دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ ایک حصہ اُن احکام پر مشتمل ہے جو اصلاً اور ابتداءً قرآن میں مذکور ہیں اور حدیث و سنت میں اُن کی شرح و فرع اور تاکید بیان ہوئی ہے۔دوسرے حصے میں وہ احکام شامل ہیں جو اصلاً اور ابتداءً سنت میں بیان ہوئے ہیں اور قرآن میں اُن کا ذکر تاکید اً یا کسی اور ضرورت کے تحت آیا ہے۔ اس کی وضاحت اُنھوں نے ’’میزان‘‘ میں ’’مبادی تدبر سنت‘‘ کے زیر عنوان اِن الفاظ میں کی ہے: ’’ عملی نوعیت کی وہ چیزیں بھی سنت نہیں ہو سکتیں جن کی ابتدا پیغمبر کے بجاے قرآن سے ہوئی ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں معلوم ہے کہ آپ نے چوروں کے ہاتھ کاٹے ہیں، زانیوں کو کوڑے مارے ہیں، اوباشوں کو سنگ سار کیا ہے ،منکرین حق کے خلاف تلوار اٹھائی ہے ، لیکن اِن میں سے کسی چیز کو بھی سنت نہیں کہا جاتا۔یہ قرآن کے احکام ہیں جو ابتداءً اُسی میں وارد ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی تعمیل کی ہے۔ نماز ،روزہ، حج، زکوٰۃ اور قربانی کا حکم بھی اگرچہ جگہ جگہ قرآن میں آیا ہے اور اُس نے اِن میں بعض اصلاحات بھی کی ہیں، لیکن یہ بات خود قرآن ہی سے واضح ہو جاتی ہے کہ اِن کی ابتدا پیغمبر کی طرف سے دین ابراہیمی کی تجدید کے بعد اُس کی تصویب سے ہوئی ہے۔ اِس لیے یہ لازماً سنن ہیں جنھیں قرآن نے موکد کر دیا ہے ۔ کسی چیز کا حکم اگر اصلاً قرآن پر مبنی ہے اور پیغمبر نے اُس کی وضاحت فرمائی ہے یا اُس پر طابق النعل بالنعل عمل کیا ہے تو پیغمبر کے اِس قول و فعل کو ہم سنت نہیں ،بلکہ قرآن کی تفہیم وتبیین اور اسوۂ حسنہ سے تعبیر کریں گے۔ سنت صرف اُنھی چیزوں کو کہا جائے گا جو اصلاً پیغمبر کے قول و فعل اور تقریر و تصویب پر مبنی ہیں اور اُنھیں قرآن کے کسی حکم پر عمل یا اُس کی تفہیم و تبیین قرار نہیں دیا جا سکتا ۔‘‘(میزان، ص۵۸)
۴۳؂ غامدی، جاوید احمد،مقامات، لاہور: المورد،۲۰۱۴ء، ص۱۶۳۔
۴۴؂ واضح رہے کہ ان میں سے بعض سنن، مثلاً نماز، زکوٰۃ ، روزہ اور حج و عمرہ وغیرہ کو بیش تر علماے امت آیات قرآنی کی تبیین پر محمول کرتے ہیں ۔ یعنی یہ احکام اصلاً قرآن میں وارد ہوئے ہیں اور سنت نے ان کی تشریح و تفصیل کی ہے۔ غامدی صاحب کا موقف اس کے برعکس ہے۔ اُن کے نزدیک ان کی حیثیت مستقل بالذات سنن کی ہے جن کی ابتدا قرآن سے نہیں ہوئی۔ قرآن میں ان کا ذکر اصل حکم کے طور پر نہیں، بلکہ تاکید کے لیے یا کسی اور ضرورت کے تحت آیاہے۔بالبداہت واضح ہے کہ علما اور غامدی صاحب کے اس اختلاف کا تعلق بات کی پیشکش اور استدلا ل کی ترتیب سے ہے، نتیجے سے ہر گز نہیں ہے۔ چنانچہ غامدی صاحب انھیں دیگر علماے امت ہی کی طرح واجب العمل سنن کی حیثیت سے دین کا لازمی حصہ مانتے ہیں ۔اس ضمن میں اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ سنت کا مرتبہ اُن کے نزدیک اُس مرتبے سے بھی زیادہ ہے جو دیگر علماے امت اُسے دیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دیگر علماے امت مذکورہ سنن کو قرآن کے تابع اور اُس کی شرح و فرع کے مقام پر رکھتے ہیں،جبکہ غامدی صاحب انھیں اُس کے مساوی سمجھتے ہیں اور اُس سے منفرد حیثیت سے قبول کرتے ہیں۔
۴۵؂ غامدی، جاوید احمد،میزان، لاہور: المورد،۲۰۱۵ء، ص ۱۴۔
۴۶؂ غامدی، جاوید احمد،برہان، لاہور: المورد،۲۰۰۸ء، ص۴۰۔
۴۷؂ غامدی، جاوید احمد،مقامات، لاہور: المورد،۲۰۱۴ء، ص۱۶۳۔
۴۸؂ غامدی، جاوید احمد،مقامات، لاہور: المورد،۲۰۱۴ء، ص۱۵۱۔
۴۹؂ غامدی، جاوید احمد،میزان، لاہور: المورد،۲۰۱۵ء، ص ۷۸۔
۵۰؂ غامدی، جاوید احمد،میزان، لاہور: المورد،۲۰۱۵ء، ص ۲۰۱۔
۵۱؂ ایضاً، ص ۲۰۸۔
۵۲؂ ایضاً، ص۲۲۷۔
۵۳؂ ایضاً، ص ۴۱۳۔
۵۴؂ ایضاً، ص ۴۱۸۔
۵۵؂ ایضاً، ص ۴۲۱۔
۵۶؂ ایضاً، ص ۴۲۱۔
۵۷؂ غامدی، جاوید احمد،میزان، لاہور: المورد،۲۰۱۵ء، ص ۵۰۲۔
۵۸؂ ایضاً، ص ۵۰۷۔

--------------------------------------------------

 

بشکریہ سید منظور الحسن
ماہنامہ اشراق اگست 2016

مصنف : سید منظور الحسن
Uploaded on : Aug 08, 2016
514 View