حی و قیوم - سید منظور الحسن

حی و قیوم

 

ہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ.(آل عمران۳:۲)
’’اللہ ہی معبود ہے، نہیں ہے کوئی معبود ،مگر وہی، زندہ اور قائم رکھنے والا۔‘‘
معبود حقیقی اللہ تعالیٰ ہی ہے، اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ کو الٰہ اور معبود حقیقی ماننے کا ایک ناگزیر تقاضا یہ ہے کہ اس کی صفات کو مانا جائے۔ یہاں اللہ کی صفات میں سے دو نمایاں صفات کا ذکر ہوا ہے: ایک صفت ’حیّ‘ ہے اور دوسری ’قیوم‘ ہے۔ ’حیّ‘کے معنی ہیں: زندہ۔ ’قیوم‘ سے مراد وہ ذات ہے جو خود سے قائم ہو، اسے خودکو قائم رکھنے کے لیے کسی سہارے کی ضرورت نہ ہو اور اس کے ساتھ ساتھ وہ سب کو قائم رکھے ہوئے ہو اور سب کو سنبھالے ہوئے ہو۔
ان صفات کے بیان سے یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ زندگی وہی دے سکتا ہے جو خود زندہ ہو ، قائم وہی رکھ سکتا ہے جو خود قائم ہو ، سنبھالا اور سہارا وہی دے سکتا ہے جو خود کو سنبھالے ہوئے ہو اور اسے خود کو قائم کرنے کے لیے کسی سہارے کی ضرورت نہ ہو۔
چنانچہ قرآن مجید کا یہ مقام ان معبودوں کی مکمل نفی کر دیتا ہے جوزندہ نہیں ، بلکہ مردہ ہیں، جو زندگی پانے کے لیے کسی اور ہستی کے محتاج ہیں، جوزندگی دینے کی قدرت نہیں رکھتے، جنھیں اپنا وجود قائم رکھنے کے لیے سہاروں کی ضرورت ہوتی ہے، جو حقیقی سہارا بننے کی صلاحیت سے محروم ہیں اور جو اپنی بقا اور اپنے قیام کے لیے ایک حیّ و قیوم کے محتاج ہیں۔
اس لیے اللہ کو الٰہ اور معبود ماننے کا مطلب یہ ہے کہ زندگی بھی اسی سے مانگی جائے اور سہارا بھی اسی سے طلب کیا جائے۔

------------------------------

 

بشکریہ سید منظور الحسن
تحریر/اشاعت جولائی 2001 

مصنف : سید منظور الحسن
Uploaded on : Aug 27, 2016
1146 View