اپنا اور اپنے اہل و عیال کا تزکیہ - سید منظور الحسن

اپنا اور اپنے اہل و عیال کا تزکیہ

[جناب جاوید احمد غامدی اپنے ہفتہ وار درس قرآن و حدیث کے بعد شرکا کے سوالوں کے جواب دیتے رہے ہیں۔ یہ ان میں سے چند سوال و جواب کا انتخاب ہے۔]

سوال :تزکیۂ نفس کسے کہتے ہیں؟ تزکیہ کون کرتا ہے ؟اپنا اور اپنے اہل و عیال کا تزکیہ کیسے کرنا چاہیے؟
جواب :دین کا مقصود تزکیۂ نفس ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو آلایشوں سے پاک کر کے ان کے فکر و عمل کو صحیح سمت میں نشو و نما دی جائے۔ اللہ نے اپنے پیغمبر اسی مقصد کے لیے بھیجے۔
اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا اس اصول پر بنائی ہے کہ یہاں پر انسان اپنے نفس کی آلایشوں کو دور کرنے کی سعی کرے اور پیغمبروں کی تعلیمات کی رہنمائی میں اپنی ایسی تربیت کرے کہ جنت میں آباد ہونے کے قابل ہو جائے۔ جنت میں آباد ہونے کے لیے بنیادی شرط ہی تزکیۂ نفس ہے۔ ارشاد خداوندی ہے:
’’(اس وقت)، البتہ کامیاب ہوا وہ جس نے اپنا تزکیہ کیا اور اپنے پروردگار کا نام یاد کیا، پھر نماز پڑھی۔ (نہیں) ، بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو، دراں حالیکہ آخرت ( اس کے مقابلے میں) بہتر بھی ہے اور پائدار بھی۔‘‘(الاعلیٰ۸۷:۱۴۔۱۷)
قرآن مجید انسان کے علم اور عمل، دونوں کا تزکیہ کرتا ہے۔قرآن علم کے تزکیے کے لیے جو تعلیم دیتا ہے، اسے اپنی اصطلاح میں ’’حکمت ‘‘ سے تعبیر کرتا ہے اور جو تعلیم عمل کے تزکیے کے لیے دیتا ہے، اسے’’شریعت‘‘ سے تعبیر کرتا ہے۔ بس یوں سمجھ لیجیے کہ جو ہدایات ایمانیات کے بارے میں ہیں، وہ علم کا تزکیہ کرتی ہیں اور جو ہدایات قانون اور ضابطوں سے متعلق ہیں، وہ عمل کا تزکیہ کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر جب قرآن مجیدشرک کی تردید کرتا ہے تو وہ ذات خداوندی کے بارے میں ہمارے علم کا تزکیہ کرتا ہے اور جب خالص اسی کی عبادت میں سرگرمی کی ترغیب دیتا ہے تو عمل کاتزکیہ کرتا ہے۔ اس سے واضح ہوا کہ تزکیہ دین کرتا ہے، کوئی انسان نہیں کرتا۔ ہر زمانے میں بہت سے اہل علم پیدا ہوتے ہیں۔ ان سے رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اللہ کی کتاب بالکل محفوظ شکل میں ہمارے پاس موجود ہے ، اس کا مطالعہ کر کے یہ طے کیا جا سکتا ہے کہ کون سی بات صحیح اور کون سی بات غلط ہے۔کوئی عالم یا دینی تربیت کرنے والا صرف یہ کام کرتا ہے کہ وہ آپ کو دین کی تعلیمات سے آگاہ کرتا ہے اور دینی ماحول اور اچھی صحبت فراہم کرتا ہے۔گویا وہ بذات خود ہمارا تزکیہ نہیں کرتا ، بلکہ تزکیہ کرنے والے دین سے ہمیں وابستہ کر دیتا ہے،یعنی وہ مزکی (تزکیہ کرنے والا) نہیں ہوتا، بلکہ معلم (تعلیم دینے والا) ہوتا ہے۔ 
جن اصحاب علم پر آپ کو اعتماد ہے ، ان سے دین سیکھیے۔جب آپ دین کو سمجھ لیں گے تو پھر آپ کی فطرت بیدار ہو گی اور آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ آپ کو اپنے علم اور عمل کو کن کن چیزوں سے پاک کرنا ہے۔ جہاں تک اپنے اہل و عیال کا تعلق ہے تو ان کی آخرت کے بارے میں آپ کو لازماً فکر مند ہونا چاہیے۔ ان کو تزکیۂ نفس کی منزل تک پہنچانے کے لیے آپ کو جدوجہد کرنی چاہیے،لیکن اس جدوجہد کا واحد راستہ دینی تعلیم وتربیت اور صالحین کی صحبت ہے۔دینی تعلیم خود بھی حاصل کیجیے اور اپنے اہل خانہ کے لیے بھی اس کا بندوبست کیجیے۔دین کے معلمین کی مجالس میں بیٹھیے اور ان لوگوں کی صحبت اختیار کیجیے جنھوں نے اپنی زند گی کو دین کے سانچے میں ڈھالا ہوا ہے۔ اپنے اہل و عیال اور احباب کو بھی صاحب کردار علماکی صحبت میں بیٹھنے کی ترغیب دیجیے۔ گھر والوں کو نماز کا پابند بنائیے اور ان کے دل و دماغ میں یہ شعور پیدا کیجیے کہ آخرت کی کامیابی ہی اصل کامیابی ہے۔ اس دنیا کی زندگی بہت مختصر ہے اور یہ محض ایک آزمایش ہے۔ان کے ذہنوں میں، ان کے دلوں میں یہ بات ڈال دیجیے کہ آخرت کی کامیابی صرف اور صرف انھی لوگوں کو نصیب ہو گی جو اس دنیا میں خدا کے دین کی طرف متوجہ ہوں گے اور اپنے علم و عمل کو آلایشوں سے پاک کر لیں گے۔

------------------------------

 

بشکریہ سید منظور الحسن
تحریر/اشاعت جون 2007 

مصنف : سید منظور الحسن
Uploaded on : Aug 27, 2016
1406 View