متن حدیث میں علما کے تصرفات - ساجد حمید

متن حدیث میں علما کے تصرفات

 

[یہ مضمون میری ایک تحریر کا جزوہے۔ جسے افادۂ عام کے لیے تحریرکے مکمل ہونے سے پہلے شائع کیا جارہا ہے تاکہ نقد و جرح کے عمل سے گزر جائے ۔ احادیث مبارکہ کے متون میں جو باتیں آئی ہیں، وہ اہل علم کے تصرفات کے نتیجے میں بہت حد تک بدل چکی ہیں۔یہ تحریر اس بات کی سعی ہے کہ متون حدیث کو ان تصرفات سے پاک کرکے دیکھا جائے۔اس تحریر میں ہر ایک تصرف کی چند مثالوں سے بات کو قابل فہم بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان تصرفات سے پاک کرنے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اصل بات کسی حد تک سامنے آجاتی ہے، جس پر پھر عقل ونقل کے اعتراض وارد کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ گویایہ دفاع حدیث کا ایک اسلوب ہے، جسے میں متعارف کرانا چاہتا ہوں۔ یہ مدرسۂ فراہی کا خاص طرز فکر ہے ۔ اس عمل سے چونکہ حدیث کی بنا پر بنی ہوئی ہماری پہلے سے موجود آرا تبدیل ہو جاتی ہیں، جس سے لوگوں کو توحش اوراجنبیت سی محسوس ہوتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ اصل بات کی طرف لوٹنا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس اصل بات کی طرف جو ہمارے تصرفات سے پاک ہو۔یہ بلاشبہ ایک مشکل اور نازک کام ہے۔ خدا سے دعا ہے کہ وہ کوتاہیوں ، خطاؤں، لغزشوں اور نفس کے بہکاووں سے بچائے، آمین۔ مصنف] 

——۱——

حدیث کے ساتھ ہمارے تصرفات کی ایک اہم صورت متن حدیث کو اجزامیں بانٹنا ہے۔ اس کے لیے ہم اس مضمون میں تجزۂ حدیث اور تجزۂ کی اصطلاح استعمال کریں گے۔ تجزۂ کا یہ عمل کئی وجوہات سے ہوا ہے۔ مثلاً یہ کہ راوی نے ،فطری طور پر، برسر موقع، جتنی بات کی ضرورت تھی، اتنی بات بیان کی، باقی بات یا اس سے متعلق دیگر تفصیلات بیان نہیں کیں۔ مصنف محدثین نے اپنی کتاب کی موضوعاتی ترتیب کے لحاظ سے حدیث کا جتنا متن ایک موضوع سے متعلق تھا، وہ ایک جگہ لکھ دیا باقی دوسری جگہ، وغیرہ۔ اس عمل سے حدیث کے ٹکڑے مختلف ابواب میں بکھر گئے ، جس سے پوری بات ہمارے سامنے موجود نہ رہی، اور ہر ٹکڑا الگ الگ حیثیت سے مکمل بات کے طور پر لے لیا گیا۔ تجزۂ حدیث کی ایک مثال ذیل میں دی جاتی ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے درج ذیل حدیث جب اسبال ازار کے باب میں لکھی تو اس کے الفاظ یہ تھے:

عن سالم بن عبد اللّٰہ، عن أبیہ رضی اللّٰہ عنہ عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: ((من جر ثوبہ خیلاء لم ینظر اللّٰہ إلیہ یوم القیامۃ)) قال أبو بکر: یا رسول اللّٰہ، إن أحد شقی إزاری یسترخی، إلا أن أتعاہد ذلک منہ؟ فقال النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم: لست ((ممن یصنعہ خیلاء)).(رقم ۵۷۸۴)

یہی روایت جب ’’کسی دوست یا عزیزکی بربناے علم تعریف کرنے‘‘ سے متعلق باب۱؂ میں درج کی تو انھوں نے اختصار کے لیے روایت کے بعض حصوں کو بیان ہی نہیں کیا، اور حسب ضرورت اس کے الفاظ کو مختصر بھی کردیا۔ حالانکہ دونوں روایتیں سالم اور ان کے والد گرامی عبداللہ ہی سے ہیں:

عن سالم، عن أبیہ: أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم حین ذکر فی الإزار ما ذکر، قال أبو بکر: یا رسول اللّٰہ، إن إزاری یسقط من أحد شقیہ؟ قال: ((إنک لست منہم)).(رقم۶۰۶۲)

ہم نے بدلے ہوئے الفاظ کو دونوں متون میں خط کھینچ کر نمایا ں کردیا ہے۔ یہ تصرف راوی نے کیا ہو، یا امام صاحب نے، دونوں صورتوں میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ابواب کی رعایت یا موقع سے مناسبت پیدا کرنے کے لیے ایسا کیا جاتا تھا۔
یہ طرز عمل آہستہ آہستہ معمول بہ بن گیا ۔ اس میں کوئی عیب محسوس نہیں کیا گیا۔ چنانچہ اسی نہج پر بعد میں ہمارے علما بالعموم مکمل بات کے حصول کے بجائے ایک ایک ٹکڑے کو فرمان نبوی قرار دیتے ہوئے اس پر بناے حکم رکھنے لگے۔اس عمل میں بظاہر یہ خوبی ہے کہ ہم ہر ہر بات کو اپنے لیے حکم شرعی سمجھیں اور اس کی تعمیل کریں، لیکن ساتھ ہی اس میں یہ خرابی ہے کہ ہم اصل بات کو نہیں مان رہے ہوتے، بلکہ یا اس کے ایک جزو کو مان رہے ہوتے ہیں ، یا پھر کوئی اور ہی بات جو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے کہی بھی نہیں ہوتی، اس پر عمل پیرا ہورہے ہوتے ہیں ۔مثلاً میں اپنے بچوں سے کہو ں کہ جس نے دھوپ میں کالا چشمہ نہ لگایا،اسے کھانا نہیں ملے گا ۔ میرا ایک بچہ تابع داری میں یہ کرے کہ والد صاحب نے چشمہ لگانے کو کہا ہے، لہٰذاوہ دھوپ ہو نہ ہو ،دن رات کالاچشمہ لگانے لگے ، تو یہ میرے حکم کی تعمیل نہیں ،کیونکہ میں نے اسے ہر وقت عینک لگانے کا حکم نہیں دیا تھا۔ میرا حکم صرف دھوپ کے ساتھ خاص تھا۔ اس نے میرے حکم کے ایک جزو کو اصل حکم قرار دے کر یہ غلط روش اپنائی۔

اسبال ازار کا حکم اور تجزۂ حدیث

اسی اصول پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان دیکھیے:

من جر ثوبہ من الخیلاء، لم ینظر اللّٰہ إلیہ یوم القیامۃ. (سنن ابن ماجہ، رقم ۳۵۷۱)
’’جس نے اپنا کپڑا تکبر کی بنا پر لٹکایا، قیامت کے دن اللہ اس کی طرف دیکھے گا بھی نہیں۔‘‘

اس فرمان نبوی کے ساتھ بھی ہم نے وہی کیا جو دھوپ کے چشمے والی مثال میں اوپر بیان ہوا ہے کہ حکم کے جزو کو لیتے ہوئے اسے دھوپ کے علاوہ بھی پہناگیا۔ اسی طرح اس حدیث میں پائنچے نیچے کرنے کا عمل صرف تکبر کے ساتھ ہی ممنوع ہوا تھا ، مگر ہم نے تکبر کے بغیر بھی منع کرڈالا،اور اب صورت حال یہ ہو گئی ہے کہ علما بھی اس حکم کو محض ٹخنے ننگے رکھنے کا حکم سمجھتے ہیں۔۲؂ چنانچہ وہ نماز کی اقامت کے وقت اعلان کرتے ہیں کہ ٹخنے ننگے کرلیں ۔چنانچہ جب ایک پابند صوم و صلوٰۃ آدمی کو یہ بتایا جاتا ہے کہ اگر تمھاری شلواریا پاجامہ ٹخنے سے ذرا سے بھی نیچے ہوئے تو تم دوزخ میں جاؤ گے ، تو وہ آگے سے پوچھتا ہے: اتنے چھوٹے سے عمل کی وجہ سے نماز،روزہ اور زکوٰۃ جیسے اتنے بڑے بڑے اعمال کیا سب اکارت چلے جائیں گے؟ یہ کیسی عجیب بات ہے جو آپ کررہے ہیں؟ کیا واقعی یہ حکم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے دیا ہے؟۳؂ اس آدمی کا تردد بجا ہے، اس لیے کہ ہم نے اصل جرم، یعنی تکبر جس کو حدیث نمایا ں کرنا چاہتی تھی، اسے فراموش کردیا، محض ٹخنے ننگے رکھنے کو ایمان و عمل صالح کے لیے سبب حبط قرار دے دیا۔
اگر تمام احادیث کو اکٹھا کیا جائے تو ٹخنے ننگے رکھنے کا حکم ہرگز منشاے حدیث معلوم نہیں ہوتا۔ اصل حکم پر نگاہ ڈالیے تو بات ہی کچھ اور نکلتی ہے۔ مثلا حدیث مبارکہ کے درج ذیل الفاظ پر غور کیجیے:

الإسبال فی الإزار والقمیص والعمامۃ من جر شیءًا خیلاء لم ینظر اللّٰہ تعالٰی إلیہ یوم القیامۃ.(سنن ابن ماجہ، رقم ۳۵۷۶)
’’اسبال تہ بند، قمیض اور پگڑی سب میں ہوتا، جس نے کوئی بھی چیز تکبر سے لٹکائی، اللہ اس کی طرف قیامت کے دن نظر بھی نہیں کرے گا۔‘‘

اس حدیث کے مطابق اسبال کا تعلق تہ بند، عمامہ اور قمیض غرض ہر کپڑے سے ہے،جبکہ ہمارے ہاں یہ حکم ٹخنے سے خاص ہو گیا ۔ اس کی وجہ متون حدیث پر ہمارے تصرفات ہیں کہ کبھی محدثین نے اپنی ضرورت کی بنا پر اور کبھی راویوں نے بیان کے فطری تقاضوں کی وجہ سے حضور اکرم کی بات کو پورا بیان نہیں کیا ، جس کی وجہ سے بات بدل گئی۔ جبکہ حدیث کا اصل مضمون اظہارِ تکبر کی حرمت ہے۔ چنانچہ جس جس چیز سے تکبر ظاہر ہوگا، وہ منع ہو گی۔لباس میں عام طور پر بعض تہذیبوں میں اظہار تکبر کے لیے کپڑے کے پلو کو لٹکانا، تہ بند کا زمین پر گھسٹنا، پگڑی کے شملہ اور طرہ کا بڑا ہونا، پشواز کا لمبا ہونا بڑائی کے اظہار کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا، یا سمجھا جاتا ہے۔بڑائی کے اسی اظہار کو تکبر کہا جاتا ہے ، جس کو قرآن مجید نے بلاشبہ ایسا جرم قرار دیا ہے کہ جس کے مرتکب کے لیے جنت میں داخلہ حرام ہے۔ مثلاً دیکھیے سورۂ اعراف (۷: ۴۰)۔ یہ جرم اس لیے کبیرہ ہے کہ اس سے دوسرے انسانوں کی تحقیر ہوتی ہے، اور یہ قبولیت حق میں رکاوٹ بنتا ہے۔ ۴؂

کفار کی مشابہت اور تجزۂ حدیث

ہمارے دینی احکام میں ایک معروف حکم یہود و نصاریٰ کی مشابہت کی نہی ہے۔ہمارے ہاں اس کے عام معنی یہ سمجھے گئے ہیں کہ اس حدیث میں یہود و نصاریٰ کا لباس وغیرہ پہننے اور ان کے دینی شعار کو اپنانے سے منع کیا گیا ہے۔ مثلاً اس حدیث کی رو سے پتلون اور بوشرٹ جیسی چیزیں پہننا منع ہوں گی، اور اگر الفاظ کا لحا ظ رکھا جائے تو ’من تشبہ بقومٍ فہو منہم‘ کے مطابق جس نے ان کی مشابہت اپنائی تو وہ انھی میں سے ہو گا،یعنی قیامت کے دن ان میں سے اٹھے گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک صاحب ایمان جب عیسائی قوم کا لباس پہن لے تو اپنے ایمان کے باوجود وہ عیسائی قوم میں سے سمجھا جائے گا۔ اس حدیث سے یہی سمجھا گیا ہے، اور اس کا زیادہ تر استعمال اسی ظاہری ہیئت کے لیے ہوا ہے۔ ۵؂ لیکن شاید اس بات پر غور نہیں کیا گیا کہ یہ ایک غلط تصور ہے۔ مثلاً اگر ایک آدمی صوم و صلوٰۃ کا پابندہے، ایمان کا پختہ ہے ،حقوق اللہ اور حقوق العباد کا پورا پورا خیال رکھتے ہوئے زندگی گزارتا ہے ، لیکن مسئلہ صرف یہ ہے کہ وہ عیسائیوں کا لباس پہنتا ہے۔ اس فتویٰ کی روشنی میں وہ قیامت کے دن مذہب کلیسا پر سمجھا جائے گا۔ اب نہ اس کی نمازیں اور روزے کام آئیں گے اور نہ ایمان و عمل، اس لیے کہ حدیث کے الفاظ ہیں:

من تشبہ بقومٍ فہو منہم.
’’جس نے کسی قوم کی مشابہت اپنائی ، وہ انھی میں سے ہو گا۔‘‘

اسوۂ حسنہ کے اعتبار سے بھی یہ بات غلط ہے، کفار مکہ کے مقابلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے یہ نہیں کہا کہ تم قریش کی مشابہت نہ کرو۔ نئی طرز کا لباس سلواؤ۔اس حدیث میں اس معنی کے در آنے کی وجہ صرف یہ ہے کہ ہم نے اس کے ٹکڑے کرکے سمجھا۔اس میں ہونے والے اس تصرف کے شواہد کو ہم ذیل کے حوالوں سے سمجھ سکتے ہیں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی بیان کردہ یہ حدیث مسند احمد بن حنبل رحمہ اللہ میں یوں روایت ہوئی ہے:

عن أبی منیب الجرشی، عن ابن عمر قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: بعثت بالسیف حتی یعبد اللّٰہ لا شریک لہ، وجعل رزقی تحت ظل رمحی، وجعل الذلۃ، والصغار علی من خالف أمری، ومن تشبہ بقوم فہو منہم.(رقم۵۱۱۴)

ابن عمرہی کی روایت سے یہ حدیث جب امام ابو داؤد رحمہ اللہ اپنی سنن کی ’’کتاب اللباس‘‘ میں لائے، تو چونکہ اس کے بعض جملے ’’کتاب اللباس‘‘ سے میل نہیں کھاتے تھے، لہٰذا انھوں نے وہ جملے محذوف کردیے اور آخری جملہ نقل کرنے پر اکتفا کی۔ مذکورہ بالا حدیث کے محذوف الفاظ کو خط کشید کرکے نمایاں کردیا گیا ہے:

عن أبی منیب الجرشی، عن ابن عمر، قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: من تشبہ بقوم فہو منہم.(رقم ۴۰۳۱)

لہٰذا یہ آخری جملہ اپنے سیاق و سباق سے کٹ گیا اور ایک مطلق اصول کی صورت اختیار کرگیا ۔چنانچہ اب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان مبارک ضرب المثل کی طرح بولا جاتا ہے کہ ’من تشبہ بقوم فہو منہم‘، جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ انھی میں سے ہو گا۔یہ حدیث مبارکہ جب اپنے سیاق و سباق سے کٹ گئی تو پھر ایک نئے معنی اس جملے میں آگئے۔ وہ یہ کہ آپ جس قوم کا حلیہ اپنائیں گے آپ کا انجام بھی ان جیسا ہو گا۔ مثلاً آپ نے پتلون اور ٹائی پہنی ہے تو اپنے ایمان اور صوم و صلوٰۃ کی پابندی کے باوجوداب آپ عیسائیوں کے ساتھ اٹھیں گے ، اس لیے کہ آپ نے ان کی مشابہت اختیار کرلی ہے۔ اب آپ کا نہ کلمہ پڑھنا کام آئے گا اور نہ نماز روزہ۔ یہ بات اس لیے زبانوں سے نکلی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری بات کے بجاے ایک جملے کو مدار راے بنایا گیا۔ جبکہ یہ سرتا سر ہمارا اپنا تصرف تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ اس عیب سے بالکل پاک تھے ۔اب اس حدیث کے اس مکمل متن پر دوبارہ نظر ڈال لیں، جس سے اس کا سیاق و سباق واضح ہوتا ہے۔ پھریہ بات سمجھنا آسان ہو گا کہ ہمارے تصرفات سے تجزۂ حدیث کا عمل کیااثرات پیداکرتا ہے، اور ان شاء اللہ یہ بھی معلو م ہوگا کہ اس حدیث کا اصل مدعا کیا تھا ۔ابن شیبہ رحمہ اللہ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:

عن ابن عمر، قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: إن اللّٰہ جعل رزقی تحت رمحی وجعل الذلۃ والصغار علی من خالف أمری، من تشبہ بقومٍ فہو منہم. (رقم ۳۳۰۱۶، ۶/ ۴۷۱)
’’ابن عمر روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا رزق میرے نیزے کے تحت رکھا گیا ہے۔ اور جو میری مخالفت کرے گا اس کے لیے ذلت اور میری ماتحتی لکھ دی ہے، جس نے کسی قوم کی مشابہت کی، وہ ان میں سے ہو گا۔‘‘

مسند احمد بن حنبل کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:

عن ابن عمر قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: بعثت بالسیف حتی یعبد اللّٰہ لا شریک لہ، وجعل رزقی تحت ظل رمحی، وجعل الذلۃ، والصغار علی من خالف أمری، ومن تشبہ بقوم فہو منہم.(رقم۵۱۱۴)
’’ابن عمر کہتے ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، مجھے تلوار کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہے۔کہ میں تلوار کے ساتھ جہاد کروں حتیٰ کہ صرف اللہ ، جس کا کوئی شریک نہیں کی عبادت کی جائے۔ میرا رزق میرے نیزے کے تحت رکھا گیا ہے۔ اور جو میری مخالفت کرے گا، اس کے لیے ذلت اور میری ماتحتی لکھ دی ہے، جس نے کسی قوم کی مشابہت کی، وہ ان میں سے ہو گا۔‘‘

اس روایت میں دیکھیے کہ غالباً ہجرت مدینہ کے بعد کسی موقع پرنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی گفتگو یا تقریر میں دشمنان اسلام کو آگاہ کیا ہے کہ اب میرے کار نبوت کے دوران میں جہاد کا مرحلہ آگیا ہے، اور یہ میرے کام کے لیے ایسا لازم ہے کہ اب میرا رزق ہی میرے نیزے کے تحت رکھ دیا گیا ہے۔ یعنی مال غنیمت کی صورت میں میرا روزگار مقرر کردیا گیا ہے۔ تاریخ و مغازی اور قرآن مجید کی آیات انفال سے آگاہی رکھنے والے جانتے ہیں کہ مال غنیمت میں آپ کا حصہ مقرر کیا گیا تھا، تاکہ آپ اپنے اور اپنے اعزہ پر خرچ کر سکیں۔
اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ ’وجعل الذلۃ والصغار علی من خالف أمری‘ اللہ نے میرے مخالفین کے لیے ذلت اور صغار (پستی)مقدر کردی ہے۔ سورۂ توبہ (۹)، سورۂ نصر(۱۱۰)، اوررسول کے غلبہ و نصرت کی تمام آیات اسی بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ رسول اللہ کا غلبہ لازم ہے اور مخالفین کو ذلت، رسوائی اور صغار کا سامنا کرنا ہوگا۔ اگر آپ دیکھیں تو یہ حدیث جہاد کی فرضیت کے زمانہ کے شروع شروع کی لگتی ہے۔ اس وقت تک قریش کی مخالفت مبرہن تھی ، لیکن یہود اور دیگر قبائل عرب درپردہ مخالفت میں کھڑے تھے۔
آخری جملہ——من تشبہ بقومٍ فہو منہم ——یہود کویا ان کے مماثل لوگوں کو متنبہ کرنے کے لیے کہا گیا ہے کہ جو میرے مخالفین کی مشابہت اختیار کرے گا، ان کا انجام بھی قریش جیسا ہو گا۔ یعنی رسول کی مخالفت میں جو قریش کی طرح ہوا، وہ بھی میرے نیزے اور تلوار کے تحت نہ صرف میرے رزق کا سبب بنے گا، بلکہ میرے مخالفین کے لیے لکھی گئی ذلت کا شکار بھی ہوگا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا جس طرح قریش سے مکہ چھنا اور سورۂ توبہ (۹) کے مطابق دارو گیر اور خزی ہوئی ، ٹھیک یہود کے ساتھ بھی خیبر چھننے اورسورۂ توبہ (۹) کے مطابق ’وہم صاغرون‘ ۶؂ کی حالت میں آنے کا معاملہ ہوا، اور حدیث کے الفاظ میں ’صغار‘ اور ذلت طاری ہوئی۔
اس سباق میں غور کیجیے تو ’من تشبہ بقومٍ فہو منہم‘ سے لباس تراش کی مشابہت کا اصول کیسے نکل سکتا ہے؟ زیادہ سے زیادہ جو بات نکالی جا سکتی ہے، وہ یہ ہے کہ جس نے دین و ملت میں کسی مشرک اور بدعتی قوم کی پیروی کی وہ انھی میں سے ہو گا۔لیکن یہ بات بھی اس قول رسول میں موجود نہیں ہے۔ ۷؂ عام بشری امور میں تو اس حدیث سے استدلال بالکل ہی غلط ہو گا۔ مثلاً ہم صدیوں سے اہل ہند کا لباس بھی پہن رہے ہیں، ان کی طرز کا کھانا کھاتے ہیں اور رہن سہن کے کئی پہلو بھی اپنا رکھے ہیں۔ جو پاجامہ اور کرتااور شلواراور قمیض ہم پہنتے ہیں، یہ لباس ہندو لباس سے بہت مشابہت رکھتے ہیں۔اس لیے تمام پاکستانی اور ہندوستانی مسلمان اپنا انجام سوچ رکھیں!اسی طرح جیسا ہم نے پہلے عرض کیا کہ صحابہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری زندگی قریش مکہ والا لباس پہنا۔حقیقت یہ ہے کہ حدیث کا مدعا یہ تھا ہی نہیں ، لیکن محدثانہ تصرفات یا فقہی تبویب نے حدیث کے اس جملے کو موقع محل سے کاٹ دیا ۔جس سے اس میں نئے معنی پیدا ہوگئے۔جبکہ حدیث اصل میں یہ کہہ رہی تھی کہ جس نے میری مخالفت کرنے والی قوم کاسا رویہ اپنایا ، اس کا انجام میرے دشمنوں جیسا ہوگا، وہ بھی میرے نیزے کا شکار ہوں گے اور میری مخالفت کی بنا پر آنے والی ذلت برداشت کریں گے، اور جس نے میرے صحابہ کا سا رویہ اختیار کیا ، وہ میری طرح جیتے ہوئے مال غنیمت میں سے حصہ پائیں گے اور غالب رہیں گے۔

مخالفت یہود و نصاریٰ اور تجزۂ حدیث

ہمارے تصرفات سے مفہوم حدیث کے بدل جانے کی ایک اور مثال وہ روایات ہیں جو بالوں اورلباس کو رنگنے، چپل پہننے اور ڈاڑھی رکھنے سے متعلق مروی ہوئی ہیں۔ان روایتوں میں جوتے پہننے ، لباس اور بالوں وغیرہ کو رنگنے سے متعلق یہود و نصاریٰ کی مخالفت کا حکم دیا گیا ہے ۔پہلے تصرف کے شواہد دیکھیے ، اس کے بعد اصل مضمون کو جاننے کی کوشش کریں گے ۔ نافع کی ابن عمررضی اللہ عنہما سے یہ دو روایتیں صحیح بخاری میں نقل ہوئی ہیں:

عن نافعٍ، عن ابن عمر رضی اللّٰہ عنہما قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((انہکوا الشوارب، وأعفوا اللحی)).(بخاری، رقم ۵۸۹۳)
’’جناب نافع ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مونچھیں منڈاؤ اور داڑھیوں کو معاف رکھو۔‘‘

اور اسی طرح یہ روایت بھی دیکھیے:

عن نافعٍ، عن ابن عمر، عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: ’’خالفوا المشرکین: وفروا اللحی، وأحفوا الشوارب‘‘(بخاری، رقم ۵۸۹۲)
’’جناب نافع ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مشرکین کی مخالفت کرو، لہٰذا داڑھیوں کو بڑھاؤ اور مونچھیں کٹاؤ۔‘‘

ابن عمر رضی اللہ عنہ کی ان روایات پر اگر نگاہ ڈالیں تو بظاہر تو آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان میں کوئی فرق نہیں ہے، لیکن ایسا نہیں ہے۔ مثلاً پہلی روایت میں دیکھیے کہ قول رسول کا ایک اہم جزو منتقل نہیں ہوا، جبکہ دوسری روایت میں وہ بیان ہو ا ہے۔ اگر فرض کریں کہ پہلی روایت ہی صرف ہم تک پہنچی ہوتی تو ہم ایک اہم اطلاع سے محروم رہ جاتے ۔وہ اطلاع ہے: ’خالفوا المشرکین‘۔
اگر صرف پہلی روایت ہی ہمارے پاس ہو تو یہ حکم مستقل بالذات تعبدی حکم بن جاتا ہے، اور اگر دوسری روایت کامخالفت مشرکین کا جزو ساتھ ملا لیں تو حکم مبنی بر علت ہوکر اپنی نوعیت میں مختلف ہو جاتا ہے۔ ۸؂ مثلاً اگر یہ کہا جائے کہ جنازہ آئے تو کھڑے نہ ہوا کرو، بیٹھ جایا کرو تو یہ مستقل بالذات شرعی حکم بنے گا، اور اگر کہا جائے کہ یہود کی مخالفت میں ایسا کرو، کیونکہ یہود جنازہ کے وقت کھڑے ہوتے ہیں تو حکم کی نوعیت بدل جائے گی۔ ۹؂ کیونکہ اب جنازہ کے وقت قیام و قعود اصل مسئلہ نہیں ہو گا، بلکہ یہود کی مخالفت اصل مسئلہ ہے۔ لہٰذا یہوداگر جنازہ کے آنے پر بیٹھنے لگ جائیں تو ہمیں بیٹھنامنع ہو گا۔
مخالفت یہود کا ایک حکم ابن عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہوا ہے:

عن نافعٍ عن ابن عمر قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اختضبوا وفرقوا وخالفوا الیہود.(التمہید۶:۷۶)
’’جناب نافع ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خضاب لگایا کرو، مانگ نکالا کرو، اور یوں یہود کی مخالفت کرو۔‘‘

ٹھیک یہی دونوں مضمون ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہوئے ہیں:

عن أبی سلمۃ، عن أبی ہریرۃ أن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: إن الیہود والنصارٰی لا یصبغون، فخالفوا علیہم. (رقم ۷۵۴۲)
’’جناب ابی سلمہ ابو ہریرہ سے روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ یہود و نصاریٰ بالوں کو نہیں رنگتے، تو تم ان سے ہٹ کر چلو۔‘‘

دوسری روایت یوں ہے:

عن أبی سلمۃ بن عبد الرحمٰن، عن أبی ہریرۃ، أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، قال: ((إن فطرۃ الإسلام الغسل یوم الجمعۃ، والاستنان، وأخذ الشارب، وإعفاء اللحی، فإن المجوس تعفی شواربہا، وتحفی لحاہا، فخالفوہم، خذوا شواربکم، واعفوا لحاکم)). (صحیح ابن حبان، رقم ۱۲۲۱)
’’جناب ابی سلمہ سے روایت ہے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اسلام کی فطرت جمعہ کے دن کا غسل ، دانتوں کی صفائی، مونچھیں لینا اور داڑھی بڑھانا ہے۔ چونکہ مجوسی مونچھوں کو بڑھاتے، اور داڑھیوں کو منڈاتے ہیں، لہٰذا ان کی مخالفت کرو، مونچھیں کاٹو، اور داڑھیاں بڑھنے دو۔‘‘

عبد اللہ بن عمر اور ابو ہریرہ ۔۔۔۔ اللہ ان دونوں سے راضی ہوا  ۔۔۔۔ کی محولہ بالا سب روایتوں میں یا راویوں نے حسب ضرورت، یا مصنف محدثین نے ابواب کی رعایت کے تحت تصرف کیا ہے۔۱۰؂ دونوں اصحاب رسول کی ان پانچوں روایتوں میں ، حدیث کوحسب مضمون اجزا میں بانٹا گیا ہے۔ خضاب کے باب کے تحت خضاب والا جملہ اور ڈاڑھی کے باب میں ڈاڑھی والا جملہ۔ ان کے یوں بانٹنے سے بظاہر فرق نہیں پڑتا ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ زمین آسمان کا فرق پڑ جاتا ہے۔ بات اپنے محل سے کٹ گئی ہے، اور اس کے معنی کہیں سے کہیں جا نکلے ہیں۔
اپنے سیاق و سباق اور محل سے کٹ جانے کے بعد ان روایتوں سے ایک اہم مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے۔ وہ یہ کہ یہود کی مخالفت کے معنی کیا ہیں؟ نبی اکرم کا اسوہ تو یہ معلوم ہے کہ انھوں نے بہت سے امور میں یہود کی صحیح شریعت کی پیروی کی: ہجرت کے بعد یہودی شریعت کے مطابق قبلہ اختیار کیا ، جب قرآن کا حکم آیا تو آپ نے تبدیل کرلیا۔ جب روزہ فرض ہوا ہے تو صحابہ نے اسے اہل کتاب کے روزے ہی کی طرح رات دن کا خیال کیا۔ عاشورا کا روزہ آیا تو آپ نے یہود کے اس عمل کو اختیار کیا اور ایک دن کا روزہ اور بڑھا دیا۔ یہاں تک کہ قرآن نے اہل کتاب کا ذبیحہ کھانے تک کی اجازت دی،وغیرہ۔ مسند احمد میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ’کان یتشبہ بأہل الکتاب، فلما نہی انتہی‘ ۱۱؂ (رقم۱۲۰۰)، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب کی مشابہت کیا کرتے تھے، جب اللہ کی طرف سے روک دیا جاتا تو رک جاتے۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ قرآن مجید میں اتباع ملت ابراہیم علیہ السلام کا حکم دیا گیا ہے: ’أن اتبع ملۃ إبراہیم‘ (النحل ۱۶:۱۲۳) ملت ابراہیمی کی پیروی کرو۔ ملت ابراہیمی کی دو شاخیں آپ کے عہد میں موجود تھیں: بنی اسماعیل اور اہل کتاب۔ لہٰذا آپ نے اس حکم کی پیروی ہی میں وہ اسوہ اختیار کیا ،جو حضرت علی نے اوپر بیان فرمایا ہے کہ جب تک روکا نہ جاتا، آپ اہل کتاب کا طریقہ اختیار کرتے تھے۔
لہٰذا سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر اہل کتاب کی مخالفت کے کیا معنی ہیں؟ اس کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس حکم کا موقع محل معلوم کیا جائے۔ جس کے لیے ضروری ہے کہ ہم ایسا متن کتب حدیث میں تلاش کریں ، جس میں مکمل بات بیان ہوئی ہو، اورمحدثین کے عمل تبویب یا دیگرتصرفات سے بچی رہی ہو۔اس مقصد کے لیے مسند نام کی کتابیں مفید ہوتی ہیں، کیونکہ ان میں راوی کے لحاظ سے حدیث مدون کی جاتی ہے، موضوع کے اعتبار سے نہیں،خوش قسمتی سے مذکورہ بالا روایات والے موضوع کا تقریباً ایک حد تک مکمل مضمون دست یاب ہے۔ یہ حدیث مبارکہ مسند احمد، مجمع الزاوئد اور بیہقی کی ’’مجمع البیان‘‘ میں وارد ہے، مسند احمد، رقم ۲۲۲۸۳ کے الفاظ یہ ہیں:

أبو أمامۃ یقول: خرج رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم علی مشیخۃ من الأنصار بیض لحاہم فقال: ((یا معشر الأنصار حمروا وصفروا، وخالفوا أہل الکتاب)). قال: فقلنا: یا رسول اللّٰہ، إن أہل الکتاب یتسرولون ولا یأتزرون فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: تسرولوا وائتزروا وخالفوا أہل الکتاب. قال: فقلنا: یا رسول اللّٰہ، إن أہل الکتاب یتخففون ولا ینتعلون. قال: فقال النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((فتخففوا وانتعلوا وخالفوا أہل الکتاب)). قال: فقلنا: یا رسول اللّٰہ إن أہل الکتاب یقصون عثانینہم ویوفرون سبالہم. قال: فقال النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((قصوا سبالکم ووفروا عثانینکم وخالفوا أہل الکتاب)).۱۲؂
’’ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے عمر رسیدہ اصحاب کے پاس آئے ، جن کی ڈاڑھیاں سفید تھیں۔ تو آپ نے ان سے فرمایا: اے گروہ انصار اپنی ڈاڑھیوں کو زرد اور سرخ رنگ سے رنگ لیا کرو، اور اہل کتاب کی مخالفت کرو۔
ابو امامہ کہتے ہیں کہ ہم نے آپ کی خدمت میں عرض کی کہ اے رسول اللہ، یہ اہل کتاب صرف پاجامہ پہنتے ہیں، تہ بند نہیں باندھتے؟ آپ نے سن کر فرمایا، پاجامہ بھی پہنو اور تہ بند بھی باندھو، اور یوں اہل کتاب کی مخالفت کرو۔
کہتے ہیں ہم نے آپ سے یہ بھی پوچھا کہ اہل کتاب بند جوتے (خفین)پہنتے ہیں، لیکن چپل نہیں پہنتے؟ آپ نے فرمایا چپل بھی پہنو اور بند جوتے بھی پہنو، اور یوں اہل کتاب کی مخالفت کرو۔
کہتے ہیں ہم نے اگلی بات پوچھی کہ اہل کتاب ڈاڑھیاں کٹواتے ہیں اور مونچھیں بڑی رکھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا تم مونچھیں پست رکھا کرو اور ڈاڑھیاں بڑھا لو، اور یوں اہل کتاب کی مخالفت کرو۔‘‘

اس روایت میں ہمارے عمومی فہم سے ہٹ کر کچھ اور طرح کی مخالفت سامنے آتی ہے۔ ہمارا عمومی فہم احادیث مبارکہ کے ٹکڑوں سے بنا ہے۔ مثلاً یہ ٹکڑا کہ ’من تشبہ بقوم فہو منہم، یا خالفوا الیہود‘ وغیرہ کے جملے یہی تاثر بناتے ہیں کہ ہر صورت ان کی مخالفت کرو۔جبکہ محولہ بالا روایت میں مخالفت کچھ اور طرح کی ہے۔ الفاظ روایت پر دوبارہ نظر دوڑائیے تو آپ کو یہ بات تمام احکام میں نظر آئے گی کہ آپ مخالفت کا بھی کہہ رہے ہیں اور ساتھ ہی اہل کتاب والے عمل کے کرنے کو بھی کہہ رہے ہیں۔ مثلاً دیکھیے کہ یہود خفین پہنتے، اور چپل سے منع کرتے تھے، تو آپ نے کہا کہ خفین بھی پہنو اور چپل بھی۔ اگر ہمارے عمومی فہم والی مخالفت ہوتی تو پھرخفین پہننے سے روکتے اور صرف چپل پہننے کا کہتے۔ یہ دراصل مخصوص مخالفت ہے۔ میں اپنے ناقص علم سے جو سمجھا ہوں وہ عرض کیے دے رہا ہوں، یقیناًاس بات کا امکان ہے کہ کوئی اور پہلو بھی نکلتا ہو۔لیکن جس پہلو کوہم یہاں بیان کرنا چاہتے، اس سے آپ دیکھیں گے کہ تمام احادیث حل ہوجاتی ہیں اور نصوص کا وہ تناقض بھی زائل ہو جاتا ہے، جس کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے۔
یہود کے احبار (علما)نے بہت سے فتوے دے دے کر نئے نئے احکام دین میں اپنی طرف سے داخل کر دیے ہوئے تھے، جنھیں قرآن ’افترا علی اللّٰہ‘ قرار دیتا ہے۔مندرجہ بالا روایت میں انھی کی کچھ مثالیں زیر بحث آئی ہیں۔ یعنی وہ بالوں کو رنگنے، چپل پہننے اور تہ بند باندھنے کو دینی معنی میں ممنوع کہتے تھے۔ یہ حرمتیں انھوں نے دین میں خود افترا کرکے ڈال دی تھی ۔ آپ نے انھی بدعات کی مخالفت کو اہل کتاب کی مخالفت قرار دیا ہے۔ نہ چپل پہننا حرام تھا اور نہ بند جوتے۔ اس لیے آپ نے دونوں کو جائز قرار دیا اور فرمایا یوں بھی کرو او ر یوں بھی۔دونوں کام کرنے کو یہود کی مخالفت قرار دیا ، حالانکہ اس میں یہود کی مخالفت بھی تھی اور موافقت بھی۔یعنی یہود کے ایک چیز کو حلال اور دوسری کو حرام کہنے کے اس فتوے کی مخالفت کرو۔ مراد یہ کہ جس چیز کو وہ افترا کے طریقے پر دین بنا رہے ہیں اسے دین نہ بناؤ۔
حدیث کے ٹکڑوں سے جو مخالفت سمجھ میں آرہی تھی ، اس سے یہ بہت مختلف مخالفت ہے۔ آپ نے اس فتویٰ کی مخالفت کا حکم دیا ہے، جس نے ایک جائز چیز کو ناجائز اور ایک مباح چیز کو مستحب بنا دیا تھا۔ ۱۳؂ علما و احبار کا یہی وہ طرز عمل ہے جو اصرو اغلال پیدا کرتا ہے، نبی آخر الزماں اسی اصر و اغلال سے دین کو پاک کرنے آئے تھے۔ سو اس حدیث میں اور اہل کتاب اور مجوس کی مخالفت کی تمام روایات میں جو مخالفت کا حکم ہے، وہ دراصل لباس اور ظاہر ی چیزوں کی مخالفت کے لیے نہیں ہے، بلکہ وہ ان فتووں کی مخالفت کا حکم ہے جو نصوص کے بغیر اہل کتاب نے دے رکھے تھے۔ گویا یہود کی مخالفت کا مطلب یہ ہوا کہ جن چیزوں کو انھوں نے اپنے فتووں سے دین بنا رکھا ہے، اسے دین نہ سمجھو۔
بدعات یہود سے بچنے کی ایک اور مثال جنازہ کے آنے پر کھڑے ہونا ہے۔

عن عبادۃ بن الصامت، قال: کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقوم فی الجنازۃ حتی توضع فی اللحد، فمر بہ حبرٌ من الیہود، فقال: ہکذا نفعل، فجلس النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم، وقال: ((اجلسوا خالفوہم)). (سنن ابی داؤد، رقم۳۱۷۶)
’’عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنازے میں میت کو قبر میں اتارنے تک کھڑے رہتے تھے۔ تو ایک یہودی عالم پاس سے گزرا، تو اس نے کہا کہ ہم بھی ایسا ہی کرتے ہیں، تو اس کے ایسا کہنے پر آپ بیٹھ گئے۔ صحابہ سے بھی فرمایا کہ ان کی مخالفت کی غرض سے بیٹھ جاؤ۔‘‘

یہاں بھی دیکھیے کہ آپ جنازے پر کھڑے تھے کہ یہودی عالم دین کے کہنے سے یہ چیز سامنے آئی کہ یہ ان کا خودساختہ دینی عمل ہے۔ لہٰذا آپ نے یہ بتانے کے لیے کہ جنازے میں بیٹھا بھی جا سکتا ہے، آپ خود بھی بیٹھ گئے اور دوسروں کو بھی بیٹھنے کے لیے کہا۔ پاکستا ن میں ہماری امت میں یہ عمل اسی طرح جاری ہے، لوگ نہ جنازہ و تدفین میں کھڑے رہنے کو حرام سمجھتے ہیں نہ واجب۔ یہ بھی اس بات کی مثال ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان امور میں یہود و نصاریٰ کی مخالفت کا حکم دیا ہے، جس میں انھوں نے اپنے فتووں سے خود ہی حرام و حلال یا مندوب و مستحب کی قسم کے اعمال وافعال مقررکررکھے تھے۔قرآن میں نبی اکرم کی بعثت کے مقاصد میں سے ایک یہ ہے کہ آپ ان بدعات کا قلع قمع کرنے آئے تھے۔درج بالا حدیث میں خفین و نعلین، زرد اور سفید لباس، ڈاڑھی کا چھوٹا بڑا ہونا سب دائرۂ مباحات کی چیزیں تھیں جنھیں یہود نے مذہبی رنگ دے رکھا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث مبارکہ میں اس مذہبی رنگ کو ختم کر کے دوبارہ دائرۂ مباحات کی چیز بنادیا ، تاکہ اصرو اغلال زائل ہو اور یہود کی بدعات کا قلع قمع ہو۔
یہ چند مثالیں تھیں، جن میں احادیث کو روات یا محدثین نے بیان کرتے وقت اجزا میں بانٹ دیا ہے جس سے ان کا مضمون بالکل بدل کررہ گیاہے۔ پھر کچھ فقہی اور دینی مسائل پیدا ہوگئے ۔ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ ہر حدیث کے فہم کے وقت اس کے مکمل ترین متن کو تلاش کیا جائے ۔ اس لیے فقہی ترتیب کی کتب بھی مدد دے سکتی ہیں، لیکن مسند قسم کی کتابیں زیادہ مفید مطلب ہوں گی، کیونکہ ان میں حدیثیں مضمون کے تحت نہیں، بلکہ راوی کے تحت لائی جاتی ہیں، جس سے مکمل متن کے آنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
[باقی]

________________________

۱؂ باب من أثنی علی أخیہ بما یعلم۔
۲؂ کوئی یہ کہہ سکتا ہے بعض احادیث میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ لباس ٹخنوں سے اوپر رکھو۔ بلاشبہ یہ الفاظ آئے ہیں، مگر ان کی وجہ بھی تکبر ہی ہے۔ مثلاً ابن ماجہ کی روایت رقم ۳۵۷۳دیکھیے اس حدیث میں آخری لفظ ’بطراً‘ آیا ہے، جس کے معنی بربناے تکبر کے ہیں۔ یہی معاملہ نمازمیں اسبال ازار سے متعلق روایات کا ہے: ’سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول: إزرۃ المؤمن إلی أنصاف ساقیہ، لا جناح علیہ ما بینہ وبین الکعبین، وما أسفل من الکعبین فی النار. یقول ثلاثًا: لا ینظر اللّٰہ إلی من جر إزارہ بطرًا‘۔
۳؂ واضح رہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبر کے نہ ہوتے ہوئے پائنچے لٹکاناممنوع قرار نہیں دیا :دیکھیے صحیح بخاری، رقم: ۶۰۶۲ ’عن سالم، عن أبیہ: أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم حین ذکر فی الإزار ما ذکر، قال أبو بکر: یا رسول اللّٰہ، إن إزاری یسقط من أحد شقیہ؟ قال: إنک لست منہم‘ بعض علما نے تو یہ تک کہا ہے کہ لفظ اسبال کے معنی ہی یہ ہیں کہ غرور و تکبر کی بنا پر کسی کپڑے کو ضرورت سے زیادہ لمبا بنانا ، اور اسے زمین کو لگنے دینا۔ مثلاً ابن الاعرابی کہتے ہیں کہ: ’المسبل الذی یطول ثوبہ ویرسلہ إلی الأرض یفعل ذلک تبخترًا واختیالًا‘ (مرقاۃ المفاتیح ۲/ ۶۳۴)۔
۴؂ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’الْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ، وَغَمْطُ النَّاسِ‘ یعنی تکبر یہ ہے کہ تم اپنے آپ کو بڑا سمجھنے کی وجہ سے حق کا انکار کرو، اور لوگوں کی تحقیر کرو۔(صحیح مسلم، رقم۱۴۷)
۵؂ البتہ ظاہری معنی میں لینے والو ں نے یہ بھی کہا ہے کہ ظاہر ی مشابہت داخلی مشابہت تک لے جاتی ہے۔ بقول صاحبِ تمہید افعال میں مشابہت بھی مراد لی گئی ہے: ’فَقِیلَ مَنْ تَشَبَّہَ بِہِمْ فِیْ اَفْعَالِہِمْ وَقِیلَ مَنْ تَشَبَّہَ بِہِمْ فِی ہَیْءَاتِہِمْ‘ (۸۰:۶) مصباح الزجاجۃ مع إنجاح الحاجۃ میں ہے: ’وَیحْتَمل ان یکون الْمَعْنی حَتَّی یُفَارق الْمُشْرکین فِی زیہم وعادتہم الی زِیّ الْمُسلمین فِی الْعَادَات والمعاملات فَإِن من تشبہ بِقوم فَہُوَ مِنْہُم وَاللّٰہ أعلم‘ (إنْجَاح الْحَاجۃ ۱۸۲) اس میں حلیہ ،عادات اور معاملات تین امور میں مشابہت کو حدیث کی مراد قرار دیا گیا ہے۔
۶؂ سورۂ توبہ (۹:۲۹)، ’صغار صاغرون‘ ہی کی ایک شکل ہے۔
۷؂ اس نوعیت کا مضمون اصلاً مندرجہ ذیل قسم کی روایات میں بیان ہوا ہے، لیکن ان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ انجام کیا کیا ہو گا۔ ’عن أبی سعیدٍ الخدری، قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: لتتبعن سنن الذین من قبلکم، شبرًا بشبرٍ وذراعًا بذراعٍ، حتی لو دخلوا فی جحر ضب لاتبعتموہم قلنا: یا رسول اللّٰہ آلیہود والنصاری؟ قال: ((فمن))‘ (مسلم رقم الحدیث ۲۶۶۹)۔
۸؂ ابن عمر جو اس روایت کے راوی ہیں، وہ اس حدیث کے حقیقی منشا سے واقف ہونے کی وجہ سے اسے دوسرے معنی میں لیتے تھے۔ یعنی اسے مستقل تعبدی حکم نہیں مانتے تھے، یہی وجہ ہے کہ ’وفروا‘ اور ’اعفوا اللحی‘ کے الفاظ میں بات منتقل کرنے والے یہ صحابی خود اس کے ان معنی پر عمل نہیں کرتے، جو یہ الفاظ بظاہر ادا کرتے ہیں۔ ان کا عمل حدیث مبارکہ کی پوری بات سے واقفیت کی بنا پر حدیث کے اس ٹکڑے کے ظاہر سے مختلف ہے۔ لہٰذا وہ حج یا عمرہ کرنے کے بعد سر کے حلق کے ساتھ ڈاڑھی کے بھی مٹھی سے لمبے بالوں کو کٹوا دیتے تھے۔ ’عن نافعٍ، عن ابن عمر، عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: ’’خالفوا المشرکین: وفروا اللحی، وأحفوا الشوارب‘‘ وکان ابن عمر: إذا حج أو اعتمر قبض علی لحیتہ، فما فضل أخذہ‘ (بخاری رقم ۵۸۹۲)۔ (جناب نافع ،ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مشرکین کی مخالفت کرو لہٰذا ڈاڑھیوں کو بڑھاؤ اورمونچھیں کٹاؤ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی ڈاڑھی کو مٹھی میں لیتے، جو حصہ مٹھی سے زیادہ ہوتا اسے کٹوا دیتے۔)
۹؂ ’عن عبادۃ بن الصامت، قال: کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقوم فی الجنازۃ حتی توضع فی اللحد، فمر بہ حبرٌ من الیہود، فقال: ہکذا نفعل، فجلس النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم، وقال: اجلسوا خالفوہم‘ (سنن ابی داؤد، رقم ۳۱۷۶)۔ یہ حدیث آگے مضمون میں زیر بحث آرہی ہے، اس لیے یہاں اس کا ترجمہ نہیں کیا جارہا ہے۔
۱۰؂ یہاں ہم دیگر تصرفات کو زیر بحث نہیں لا رہے، مثلاً خضاب کے حکم میں ایک جگہ صرف یہود اور دوسری جگہ یہود و نصاریٰ دونوں مذکور ہیں ۔ یہ بھی ان تصرفات کے شواہد میں سے ہے ،وغیرہ۔
۱۱؂ مکمل حدیث یوں ہے: ’عن أبی معمرٍ قال: کنا مع علی، فمر بہ جنازۃٌ فقام لہا ناسٌ، فقال علی: من أفتاکم ہذا؟ فقالوا: أبو موسٰی، قال: إنما فعل ذلک رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مرۃً، فکان یتشبہ بأہل الکتاب، فلما نہی انتہی‘۔
۱۲؂ اس روایت کو علامہ ھیثمی مجمع الزوائد میں نقل کرنے کے بعد اسے صحیح قرار دیتے ہوئے رقم فرما ہیں: ’رواہ أحمد، والطبرانی، ورجال أحمد رجال الصحیح خلا القاسم، وہو ثقۃٌ، وفیہ کلامٌ لا یضر‘۔ چنانچہ یہ حدیث صحیح ہے، ویسے بھی اس کے مضامین بکثرت دوسری روایتوں میں آئے ہیں۔
۱۳؂ یعنی مثلاً چپل اور خفین دونوں مباح تھے، لیکن اپنے فتوے سے چپل کو ناجائز بنا دیا اور خفین کومستحب۔

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت جولائی 2013
مصنف : ساجد حمید
Uploaded on : Oct 06, 2017
351 View