ایمان کے تین پہلو - ساجد حمید

ایمان کے تین پہلو

 

عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ، قال: الایمان بضع وسبعون، اوبضع وستون شعبۃ. فافضلھا: قول’ لا الٰہ الا اللّٰہ وادناھا اماطۃ الاذیٰ عن الطریق والحیاء شعبۃ من الایمان. (النسائی، کتاب الایمان، باب ۱۶) 

ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان کی ستر سے زیادہ یا ساٹھ سے زیادہ شاخیں ہیں۔جن میں سب سے افضل، کلمہ لا الٰہ الّااللہ ہے اور رستے سے ضرر رساں چیز کا ہٹا دینا اس کی ادنیٰ ترین شاخ ہے اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔

شرح حدیث

ابو داؤد نے بھی اس روایت کو نقل کیا ہے۔جس میں چند الفاظ کے سوا کوئی فرق نہیں ہے:

عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ عنہ، ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، قال: الایمان بضع وسبعون. افضلھا قول لا الٰہ الا اللّٰہ وادناھا اماطۃ العظم عن الطریق. والحیاء شعبۃ من الایمان.

’’ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان کی سترسے زیادہ شاخیں ہیں۔ افضل ترین لا الٰہ الا اللہ ہے اور ادنیٰ ترین راستے سے تکلیف دہ چیزیں ہٹا دینا ہے اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔‘‘

نسائی ایک اور طریقے سے یہی روایت لائے ہیں۔جس میں ’ادناھا اماطۃ الاذی‘ کے بجائے ’اوضعھا اماطۃ الاذی‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اسی طرح ایک اور روایت ہے جس میں ’لا الٰہ الا اللّٰہ‘ اور ’ادناھا اماطۃ الاذی‘ کے جملے نہیں ہیں:

عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: الایمان بضع وسبعون شعبۃ. والحیاء شعبۃ من الایمان.

’’ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ایمان کی بیسیوں شاخیں ہیں اور حیا ایمان کی ایک شاخ ہے۔‘‘

نسائی ایک اور روایت لائے ہیں جس میں صرف’حیا‘ کا ذکر ہے:

عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: الحیاء شعبۃ من الایمان.

’’ابو ہریرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حیا ایمان کا ایک خاصہ ہے۔‘‘

یہ روایتیں ایک ہی روایت کے حصے معلوم ہوتے ہیں۔غالباً اس طرح ہوا کہ کہیں ایمان کی بات ہو رہی تھی تو ابو ہریرہ نے پوری حدیث بیان کر دی اور جہاں کہیں حیا کے بارے میں گفتگو ہوئی، وہاں انھوں نے صرف حیاکا ذکر کرنے پر اکتفا کی۔

الایمان بضع وسبعون (اوستون): اس میں راوی کو شبہ ہے کہ رسول اللہ نے ’سبعون‘ فرمایا تھا یا ’ستون‘ کہا تھا۔

بضعٌ‘ کے معنی میں اختلاف ہے۔ بعض نے اسے تین سے نو تک کی تعداد کو، بعض نے ایک سے چار تک کی تعداد کو،بعض نے چار سے نو تک کی تعداد کو اور بعض نے صرف سات کے عدد کو ’بضع‘ کہا ہے۔صاحب ’’القاموس المحیط‘‘ لکھتے ہیں:

البضع: ما بین الثلاث الی التسع والی الخمس. اوما بین الواحد الی الاربعۃ او من الاربعۃ الی التسع. او ھو سبع.

’’ ’بضع‘ تین سے نو یا پانچ، ایک سے چار اور یا چار سے نو تک (کی تعداد) کو کہتے ہیں یا ’بضع‘ سے مراد ’سات‘ ہے۔‘‘

مولانا امین احسن اصلاحی نے سورۂ یوسف میں ’بضع سنین‘ کا ترجمہ ’کئی سال‘ کیا ہے۔ صاحب اللسان نے بھی وہی معنی دیے ہیں جو ’’القاموس المحیط‘‘ میں بیان کیے گئے ہیں۔ ’’حماسہ‘‘ کے باب ’’الہجاء‘‘ میں ابو تمام کا شعر ہے:

اقول، حین اری کعبًا ولحیتہ لا بارک اللّٰہ فی بضع وستین.

’’میں جب کعب اور اس کی ڈاڑھی کو دیکھتا ہوں تو کہتا ہوں کہ اللہ اسے ساٹھ باسٹھ سال کی عمر میں برکت نہ دے۔‘‘

اوپر کے حوالوں کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ:

۱۔ ’بضع‘ کسی ایک عدد کے لیے نہیں بولا جاتا، اس لیے اس کے معنی کی تعبیر’کئی‘ اور ’کچھ‘ کے الفاظ سے کی جا سکتی ہے۔اس لیے ہم نے حدیث کے اس جملے کا ترجمہ یوں کیا ہے کہ ایمان کی ستر سے زیادہ شاخیں ہیں۔تقریباً یہ ایسا ہی اسلوب ہے کہ جب ہم سے پوچھا جائے کہ کل کتنے لوگ آئے تھے؟ تو ہم کہیں کہ’بس کوئی بیس بائیس ہوں گے‘یا یوں کہیں کہ ’پچاس سے زیادہ ہوں گے‘۔ اس سے کوئی متعین عدد مراد نہیں ہوتا، بلکہ محض اندازے سے بتانے کا ایک اسلوب ہے۔

۲۔ إماطۃ الاذیٰ عن الطریق: ’إماطۃٌ‘، ’اماط یمیط‘ سے مصدر ہے۔جس کے معنی جدا کرنے کے اور دور کرنے کے بھی آتے ہیں۔ ’اذی‘ ہر ضرر رساں چیز کو کہتے ہیں، مثلاً راستے میں پڑے کانٹے، نوکیلے پتھر، نجاست اور کیچڑ وغیرہ، یعنی وہ چیزیں جو چلنے والے کے لیے تکلیف کا باعث بن سکتی ہیں۔

۳۔ والحیاء شعبۃ من الایمان: حیا کا مفہوم اردو میں’حجاب‘ اور ’لحاظ‘ کے الفاظ سے سمجھا جا سکتا ہے۔

۴۔ ’شعبۃ‘ کے معنی’فرقہ‘اور’شاخ‘ کے بھی آتے ہیں۔

اوپر کے الفاظ اور جملوں کی بحث کے بعد حدیث کا سادہ مفہوم کچھ یوں ہو گا:

’’ایمان کی کئی شاخیں ہیں۔ان میں سے افضل ترین یہ ہے کہ آدمی صرف اللہ ہی کو الٰہ مانے اور اسی کی عبادت کرے۔ ایمان کی ادنیٰ ترین شاخ تکلیف دہ چیزوں کو راستے سے ہٹا دینا ہے اور حجاب و لحاظ سے زندگی بسر کرنا بھی ایمان کی علامت ہے۔‘‘

زیر بحث حدیث میں ایمان کے حوالے سے تین چیزیں بیان ہوئی ہیں:ایک اللہ ہی کو الٰہ ماننا۔ دوسری ضرر رساں چیزوں کو راستے سے ہٹانا اور تیسری یہ کہ حجاب و لحاظ بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔اب ہم ان کی باری باری وضاحت کریں گے۔

اللہ ہی کو الٰہ ماننا: الٰہ سے مراد صرف معبود ماننا ہی نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ یہ یقین رکھا جائے کہ وہ آسمانوں اور زمینوں کا تنہا مالک ہے۔ اس میں اس کا کوئی ساجھی نہیں۔ کائنات کی کوئی چیز اس کے حکم سے باہر نہیں اور دنیا کی کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں۔ شجر، حجر، پہاڑ، جنگل، صحرا، دریا، سورج، چاند، زمین، آسمان، حیوان اور فرشتے اس کے آگے سجدہ ریز رہتے ہیں اور اس کی تسبیح و تہلیل میں مصروف رہتے ہیں۔

سب کمزور ہیں، وہ قوت والا ہے۔ سب جاہل ہیں، علم اسی کے لیے ہے۔ سب فانی ہیں، اسی کو بقا ہے۔ سب محتاج ہیں، وہ بے نیاز ہے۔ سب بندے ہیں، وہ آقا ہے۔ہم کچھ نہیں جانتے، وہ دلوں کے رازوں تک سے واقف ہے۔سب دور ہیں، وہ قریب ہے۔ کوئی سننے والا نہیں، وہ مجیب ہے۔

وہ قہار و جبار ہے اور رحمان بھی ہے۔وہ ذی عقاب ہے اور عادل بھی ہے۔ وہ قادر ہے اور حکیم بھی ہے۔ وہ بے نیاز ہے اور سب کا ملجا و ماویٰ بھی ہے۔ یہ سب کچھ مان لینے کے کچھ لازمی نتائج ہیں کہ آدمی اسے ہی عبادت کا حق دار سمجھے۔کوئی حاجت ہو تو اسی سے مانگے،کوئی تکلیف ہو تو اسی کو پکارے،خوف ہو تو اسی کی پناہ ڈھونڈے۔مقبروں اور لوگوں کے دروازوں پر اپنا ماتھا نہ ٹیکے،بلکہ سیدھا اسی کے پاس جائے، اس صورت میں کہ اس سے خوف بھی ہو اور محبت بھی۔خوف ایسا کہ کانپ اٹھے اور محبت ایسی کہ ٹوٹ پڑے۔

جب ایک ہستی کو اس طرح،ان صفات کے ساتھ پادشاہ مان لیا تو پھر آپ سے آپ، ایک سلیم الفطرت آدمی یہ سوچتا ہے کہ اس کے احکام کیا ہیں؟کیا وہ ان احکام کی نافرمانی پر مواخذہ کرے گا؟ اس مواخذے سے بچنے کا طریقہ کیا ہے؟

اگر اس کی رضا ہی آخرت کے مواخذہ سے بچا سکے گی تو پھر اس کی رضا جوئی کا طریقہ کیا ہے؟کیا اس نے خود کوئی طریقہ بتایا ہے؟ اگر بتایا ہے تو وہ طریقہ کیا ہے؟اس میں وہ ہم سے اپنے ساتھ کس رویے کی توقع رکھتا ہے؟کیا اس نے کسی کو اپنا ہم سر قراردیا ہے؟ وہ لوگوں کے ساتھ ہمیں کس رویے کی اجازت دیتا ہے اور یہ کہ خود ہم اپنے ساتھ کس قسم کا رویہ اختیار کریں؟

اماطۃ الاذی عن الطریق: یہ آدمی پر بندوں کے حقوق کی پاس داری کی ادنیٰ ترین صورت ہے۔ہمارے دین نے رشتہ داروں،پڑوسیوں اور عام لوگوں کے کچھ حقوق مقرر کیے ہیں۔ مثال کے طور پرہم پر ایک دوسرے کی جان اور مال حرام ہے۔اسی طرح یہ بھی کہ ’قولوا للناس حسنًا‘ ،’’بھلائی کے ساتھ بات کرو‘‘۔ کوئی بیمار پڑ جائے تو اس کی تیمارداری کرو۔جھگڑا ہو جائے تو فریقین میں صلح کراؤ۔سب سے بڑھ کر یہ کہ تم ایک دوسرے کے نگران ہو اور تم سے دوسروں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔

ان حقوق کی پاس داری اور انسانی ہمدردی کی یہ انتہائی صورت ہے کہ آدمی راہ میں چلتے ہوئے بھی دوسروں سے ہمدردی اور ان کے حقوق کی پاس داری کا خیال رکھتا ہے، وہ اپنے بھائی کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھتا ہے۔ یہی جذبہ اعلیٰ درجے میں ’قُوْٓا اَنْفُسَکُمْ وَ اَھْلِیْکُمْ نَارًا‘۱؂کی تصویر بن جاتا ہے۔ وہ جب اپنے بھائی کو دوزخ کی راہ پر چلتے ہوئے دیکھتا ہے تو اسی طرح جیسے وہ اس کے راستے سے، اس کی تکلیف کے پیش نظرہر ضرر رساں چیز ہٹا دیتا ہے، وہ اس کی بھی کوشش کرتا ہے کہ اس کا بھائی نار جہنم کی صعوبت سے بھی بچ جائے۔ ’اماطۃ الاذی‘ اسی جذبے کا نام ہے۔

الحیاء شعبۃ من الایمان: ہم نے الفاظ کی بحث میں دیکھا کہ حیا کا اصل مفہوم حجاب اور لحاظ ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی لوگوں کے سامنے آداب کے ساتھ اور محتاط طریقے سے رہے۔اس کی برائی کا دوسروں کو علم ہو جائے، یہ اس کی عزت نفس کا مسئلہ ہو۔ یہ حجاب، لحاظ اور احتیاط آدمی کو خیر کی طرف لے جاتی ہے۔ایسا آدمی اپنے جرائم پر جری اور سرکش نہیں ہوتا، بلکہ رجوع کرنے والا ہوتا ہے۔

یہ حجاب ولحاظ نہ صرف یہ کہ آدمی کو لوگوں کے سامنے گناہوں سے روکتا ہے، بلکہ اس وقت بھی جب خدا کے سوا اسے دیکھنے والا کوئی نہیں ہوتا، یہ جذبہ آدمی کو گناہوں سے دور رکھتا ہے۔ یہ چیز اسے سراپا بندگی بنائے رکھتی ہے۔ وہ گناہ کر تو لیتا ہے، لیکن جب بھی اس کے اثر سے نکلتا ہے تونادم و پریشان اپنے خدا کی طرف لپک پڑتا ہے اور اللہ نے گناہ کے فوراً بعد توبہ کرنے والے دلوں کو کبھی مایوس نہیں لوٹایا۔لیکن اگر یہ حجاب و لحاظ اور ندامت و شرمندگی آدمی کے اندر نہ ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ میں ’کہ اگر تم میں حیا نہیں تو جو جی میں آئے کرو‘۔

اس سے نفس لوامہ کی طرف بھی اشارہ نکلتا ہے جس کی گواہی اللہ نے قیامت کے اثبات میں سورۂ قیامہ میں دی ہے کہ یہ نفس لوامہ کی عدالت اس بڑی عدالت کا پیش خیمہ ہے۔یہ عدالت جس طرح اب نفس آدم میں لگی ہوئی ہے، ویسے ہی بدلے کے دن لگے گی۔فرمایا:

وَلَآ أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَۃِ. أَیَحْسَبُ الْإِنْسَانُ أَلَّنْ نَجْمَعَ عِظَامَہٗ؟ (۷۵: ۲۔۳) 

’’نہیں میں نفس ملامت گر کی شہادت دیتا ہوں (کہ قیامت ہو کے رہے گی)۔ کیا انسان نے گمان کر رکھا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع نہ کر سکیں گے؟‘‘

یہ نفس ملامت گرآدمی کو برائی سے روکتا ہے۔وہ جب برائی کے لیے قدم اٹھاتا ہے تویہ ناصح بن کر اس کی راہ میں کھڑا ہو جاتا ہے۔ جب آدمی اس کی پروا کیے بغیر کوئی برائی کر ڈالتا ہے تو پھر یہ گناہ کااحساس دلاتا ہے۔آدمی اپنے دل میں ندامت محسوس کرتا ہے اور یہ ندامت اسے توبہ و استغفار پر ابھارتی ہے۔یہ چیز ایما ن کی علامت ہے۔

ایمان یہ ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ کو اپنا الٰہ مانے،بندوں کے حقوق کی پاس داری کرے۔ الٰہ ماننے سے مراد اللہ کو اس کی بتائی ہوئی تمام صفات کے ساتھ ماننا ہے۔بندوں کے حقوق میں اعلیٰ ترین چیز یہ ہے کہ وہ دوسروں کو دوزخ کی آگ سے بچانے کی سعی کرے اور کم تر چیز یہ ہے کہ وہ اس کی تکلیف دہ چیزوں کو اس سے دور کردے تاکہ ان سے اسے کوئی تکلیف نہ پہنچے اور وہ آدمی مومن ہے جس کا ضمیر اس کے گناہوں پر ملامت کرے۔

[۱۹۹۳ء] 

 

۱؂’’لوگو، اپنی جانوں اور اپنے اہل کو آگ سے بچاؤ۔‘‘

 

یہ آرٹیکل ساجد حمید کی کتاب ’’نسخہ ہائے ناتمام‘‘ سے لیا گیا ہے۔
مصنف : ساجد حمید
Uploaded on : Nov 06, 2017
141 View