مسلم حکمرانوں کے متعلق ایک پیشین گوئی - معز امجد

مسلم حکمرانوں کے متعلق ایک پیشین گوئی

 

ترجمہ و تدوین: شاہد رضا

أَنَّ حُذَیْفَۃَ بْنَ الْیَمَانِ یَقُوْلُ: یَا أَیُّہَا النَّاسُ أَلاَ تَسْأَلُوْنِیْ فَإِنَّ النَّاسَ کَانُوْا یَسْأَلُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَیْرِ وَکُنْتُ أَسْأَلُہُ عَنِ الشَّرِّ أَنَّ اللّٰہَ بَعَثَ نَبِیَّہُ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَدَعَا النَّاسَ مِنَ الْکُفْرِ إِلَی الْإِیْمَانِ وَمِنَ الضَّلاَلَۃِ إِلَی الْہُدٰی فَاسْتَجَابَ مَنِ اسْتَجَابَ فَحَیَّ مِنَ الْحَقِّ مَا کَانَ مَیِّتًا وَمَاتَ مِنَ الْبَاطِلِ مَا کَانَ حَیًّا ثُمَّ ذَہَبَتِ النُّبُوَّۃُ فَکَانَتِ الْخِلاَفَۃُ عَلٰی مِنْہَاجِ النُّبُوَّۃِ.
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اے لوگو، تم مجھ سے (چیزوں کے متعلق) سوال کیوں نہیں کرتے؟ بے شک، لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے متعلق سوال کرتے تھے، جبکہ میں شر کے متعلق سوال کرتا تھا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھیجا تو آپ نے لوگوں کوکفر سے ایمان کی طرف اور گمراہی سے ہدایت کی طرف دعوت دی، اور آپ کی دعوت قبول کی جس نے قبول کی۔ چنانچہ حق کی برکت سے مردہ چیزیں زندہ ہو گئیں اور باطل کی نحوست سے زندہ چیزیں بھی مردہ ہو گئیں۔ پھر نبوت ختم ہو گئی تو نبوت کے طریقے پر حکومت قائم ہو گئی۔

وضاحت

یہ روایت احمد، رقم ۲۳۴۷۹ میں روایت کی گئی ہے۔ اسے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے۔ یہ روایت ابوبکاّر کے ذریعے سے روایت کی گئی ہے جو کہ خلاد بن عبدالرحمٰن سے روایت کرتے ہیں اور وہ ابوالطفیل عامر بن واثلہ سے روایت کرتے ہیں۔ علم رجال پر لکھی گئی اکثر کتابوں میں ابوبکار کا نام الحکم بن فروخ الغزال ہے۔ علم رجال کی ان کتب کے مطابق، خلاد بن عبدالرحمٰن ان راویوں میں سے نہیں ہیں جو عامر بن واثلہ سے روایت کرتے ہیں اور نہ ہی ابوبکار ان راویوں میں شامل ہیں جو خلاد بن عبدالرحمٰن سے روایت کرتے ہیں۔ اس حقیقت کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس روایت کی سند منقطع ہے اور اس میں تسلسل باقی نہیں رہا ہے۔
احمد، رقم۱۸۴۳۰ میں یہ روایت قدرے مختلف الفاظ میں روایت کی گئی ہے۔ اس روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

تکون النبوۃ فیکم ما شاء اللّٰہ أن تکون، ثم یرفعہا إذا شاء أن یرفعہا. ثم تکون خلافۃ علی منہاج النبوۃ فتکون ما شاء اللّٰہ أن تکون، ثم یرفعہا إذا شاء اللّٰہ أن یرفعہا. ثم تکون ملکًا عاضًا فیکون ما شاء اللّٰہ أن یکون، ثم یرفعہا إذا شاء أن یرفعہا. ثم تکون ملکًا جبریۃ فتکون ما شاء اللّٰہ أن تکون، ثم یرفعہا إذا شاء أن یرفعہا. ثم تکون خلافۃ علی منہاج النبوۃ. ثم سکت.
’’جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا تم میں نبوت رہے گی، پھر جب وہ اسے ختم کرنا چاہے گا، ختم کر دے گا۔ پھر نبوت کے طریقے پر حکومت ہو گی اور وہ تب تک رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا کہ وہ رہے، پھر جب اللہ تعالیٰ اسے ختم کرنا چاہے گا، ختم کر دے گا۔ پھر بادشاہت ہو گی جس میں لوگ آزمایشوں اور فتنوں کا سامنا کریں گے اور وہ تب تک رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا کہ وہ رہے، پھر جب وہ اسے ختم کرنا چاہے گا، ختم کر دے گا۔ پھر ظالمانہ بادشاہت ہو گی اور وہ تب تک رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا کہ وہ رہے، پھر جب وہ اسے ختم کرنا چاہے گا، ختم کر دے گا۔ پھر نبوت کے طریقے پر حکومت ہو گی ۔ پھر آپ خاموش ہو گئے۔‘‘

یہ روایت حضرت حذیفہ بن یمان، نعمان بن بشیر، حبیب بن سالم، داؤد بن ابراہیم الواسطی اور سلیمان بن داؤد الطیالسی کے ذریعے سے روایت کی گئی ہے۔
امام بخاری اپنی کتاب ’’التاریخ الکبیر‘‘ (۲/ ۳۱۸، رقم۲۶۰۶) میں رقم طراز ہیں: ’فیہ نظر‘، یعنی وہ حبیب بن سالم کی روایات کے بارے میں کچھ تحفظات رکھتے ہیں۔ ابو احمد بن عدی اپنی کتاب ’’الکامل فی ضعفاء الرجال‘‘(۲/ ۴۰۵) میں لکھتے ہیں کہ حبیب بن سالم کی روایات کے متون میں کوئی مسئلہ نہیں ہے، یعنی ان میں کوئی روایت منکر نہیں، تاہم جن راویوں سے وہ روایت کرتا ہے، ان کی سند میں وہ مضطرب ہے۔ محدثین کی ان آرا کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کوئی شخص بھی اس روایت کی ثقاہت پر یقین نہیں کر سکتا۔
سنن البیہقی الکبریٰ، رقم ۱۶۴۰۷ میں یہ روایت قدرے مختلف الفاظ میں روایت کی گئی ہے۔ اس روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

إن اللّٰہ بدأ ہذا الأمر نبوۃ ورحمۃ وکائنًا خلافۃ ورحمۃ وکائنًا ملکًا عضوضًا وکائنًا عتوۃ وجبریۃ وفسادًا فی الأمۃ یستحلون الفروج والخمور والحریر وینصرون علی ذلک ویرزقون أبدًا حتی یلقوا اللّٰہ عز و جل.
’’بے شک، اللہ تعالیٰ نے (تمھارے نظم اجتماعی کے) اس معاملے کو نبوت اور رحمت کے ساتھ شروع کیا۔پھر ایک عظیم حکومت اور رحمت ہو گی؛ پھر ایک بادشاہت ہو گی جس میں لوگ آزمایشوں اور فتنوں کا سامنا کریں گے؛ پھر امت میں ایک ظالمانہ بادشاہت اور فساد ہو گا، لوگ شرم گاہوں، شراب اور ریشم کو حلال کریں گے، اس پر ان کی مدد کی جائے گی اور ان کو ہمیشہ ر زق دیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کر لیں۔‘‘

یہ روایت حضرت ابوعبیدہ بن الجراح اور حضرت معاذ بن جبل، ابوثعلبہ الخشنی، عبدالرحمٰن بن سابط، لیث بن ابوسَلِیم یا سُلَیم، جریر بن حازم، ابوداؤد، یونس بن حَبِیب یا حُبَیب، عبداللہ بن جعفر اور ابوبکر بن فورک کے ذریعے سے روایت کی گئی ہے۔
ان راویوں میں سے لیث بن سلیم پر اس کے ضعف حفظ کی وجہ سے بہت جرح کی گئی ہے، اس لیے کہ وہ روایات کو خلط ملط کر دیتا تھا۔ ضعف حفظ کی وجہ سے لیث کی روایات عموماً قابل قبول نہیں ہیں۔
اسی طرح کا متن ابویعلیٰ، رقم ۸۷۳ میں روایت کیا گیا ہے، تاہم اسی سند سے مروی ہونے کی وجہ سے درج بالا روایت کی طرح اس میں بھی وہی ضعف پایا جاتا ہے۔
سنن الدارمی، رقم ۲۱۰۱ میں اس روایت کا مضمون مختلف الفاظ میں روایت کیا گیا ہے۔ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا درج ذیل ارشاد روایت کیا گیا ہے:

أول دینکم نبوۃ ورحمۃ، ثم ملک و رحمۃ، ثم ملک أعفر، ثم ملک وجبروت یستحل فیہا الخمر والحریر.
’’تمھارا پہلا دین نبوت اور رحمت تھی، پھر اہل حکومت ہو گی،پھر ظالمانہ حکومت ہو گی، جس میں شراب اور ریشم حلال کی جائے گی۔‘‘

یہ روایت ابوثعلبہ الخشنی نے مکحول کے ذریعے سے روایت کی ہے، تاہم اسماء الرجال کے ماہرین کی راے یہ ہے کہ مکحول کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ان صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں سے اکثر سے ملاقات ثابت نہیں جن کی طرف وہ اپنی روایات کو منسوب کرتا ہے۔ ’’جامع التحصیل‘‘ میں خاص طور پر یہ بات بیان کی گئی ہے کہ مکحول نے اپنی اکثر روایات ابوثعلبہ الخشنی کی طرف منسوب کی ہیں، جبکہ مکحول کی ابوثعلبہ الخشنی سے براہ راست سماعت ثابت نہیں ہے۔ سند کے اس انقطاع کے سبب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس کی نسبت ناقابل اعتبار ٹھہرتی ہے۔
ترمذی، رقم ۲۲۲۶ میں روایت کیا گیا ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

الخلافۃ فی أمتی ثلاثون سنۃ، ثم ملک بعد ذلک.
’’میری امت میں تیس سال نیک حکومت ہو گی، اس کے بعد بادشاہت ہو گی۔‘‘

اس روایت کو درج کرنے کے بعد امام ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے جو کہ صحیح سے کم درجے کی روایت ہے۔ امام ترمذی یہ بھی لکھتے ہیں کہ یہ روایت صرف سعید بن جمہان ہی کے ذریعے سے روایت کی گئی ہے۔ اسماء الرجال کے علما نے سعید بن جمہان کے بارے میں مختلف آرا کا اظہار کیا ہے۔ بعض علماے رجال ان کو ثقہ اور بعض غیر ثقہ گردانتے ہیں ۱؂۔ سعید بن جمہان ہی سے اسی طرح کی ایک روایت معمولی اختلافات کے ساتھ ابن حبان، رقم ۶۶۵۷، ۶۹۴۳، ابوداؤد، رقم ۴۶۴۶۔ ۴۶۴۷، سنن النسائی الکبریٰ، رقم ۸۱۵۵ اور احمد، رقم ۲۱۹۶۹، ۲۱۹۷۳، ۲۱۹۷۸ میں بھی روایت کی گئی ہے۔
ابوداؤد، رقم ۴۶۳۵ میں روایت کیا گیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

خلافۃ نبوۃ، ثم یؤتی اللّٰہ الملک من یشاء.
’’ایک نبوی حکومت ہو گی، پھر اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا، حکومت دے دے گا۔‘‘

یہ روایت احمد، رقم ۲۰۴۶۳، ۲۰۵۲۲، ۲۰۵۲۴ اور مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۳۰۴۸۲ میں بھی روایت کی گئی ہے۔
اس روایت کی سند میں ایک راوی علی بن زید بن جدعان ہے۔علی بن زید کو ایک ضعیف راوی ، غلطی سے مرفوع سند بیان کرنے اور سند میں تبدیلی کر کے روایات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنے والے کے طور پرگردانا گیا ہے۲؂۔

حاصل بحث

اس بحث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس روایت کی کوئی ایک ایسی سند نہیں ہے جو ثقہ راویوں پر مشتمل ہو کہ ہم اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کر سکیں ۔ اس حقیقت کی روشنی میں اس روایت کو احتیاطاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث قرار نہیں دیا جا سکتا۔

________

۱؂ ملاحظہ کیجیے: المحلیٰ، ابن حزم ۹/ ۱۸۵، مجمع الزوائد، ہیثمی ۱۰/ ۷۲، عون المعبود، شمس الحق العظیم آبادی ۱۰/ ۱۶۳، الکاشف، ذہبی ۱/ ۴۳۳ اور میزان الاعتدال، ذہبی ۳/ ۱۹۳۔
۲ ؂ مزید تفصیلات کے لیے ملاحظہ کیجیے: الضعفاء الکبیر، عقیلی ۳/ ۲۲۹ اور تذکرۃ الحفاظ، ذہبی ۱/ ۱۴۰۔

 

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت دسمبر 2014
مصنف : معز امجد
Uploaded on : Feb 20, 2016
1467 View