انجیل کی زبان؛ یونانی یا سریانی (حصہ دوم) - عبدالستار غوری

انجیل کی زبان؛ یونانی یا سریانی (حصہ دوم)

 

دی لائن ہینڈ بک ٹو دی بائبل نے واضح طور پر لکھا ہے کہ ( حضرت عیسیٰ نے) ابتداءً انجیلی مواد کی تعلیم آرامی زبان میں دی تھی:

‘‘The Gospel material was originally taught in Aramic, the language spoken by Jesus, and in a poetic form which was easy to memorize.’’ (The Lion Hand Book to the Bible, Special Edition, Ed. David and Pat Alexander Herts, England, Lion Publishing, 1973, p. 469)

’’ابتدائی طور پر انجیلی مواد کی تعلیم حضرت عیسیٰ کی طرف سے بولی جانے والی زبان آرامی میں دی گئی تھی اور یہ نظم کی صورت میں تھی جس کا یاد رکھنا آسان تھا۔‘‘

اس طرح متعدد حوالوں سے یہ بات واضح کر دی گئی ہے کہ(۱) حضرت عیسیٰ اگرچہ یونانی زبان سے بھی واقفیت رکھتے تھے، لیکن انھوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجا ہوا پیغام آرامی زبان ہی میں پیش کیا تھااور (۲) اناجیل شروع ہی سے یونانی زبان میں لکھی گئی تھیں۔ مندرجہ بالا حوالوں کے مطالعے کے بعد ’’محدث‘‘ کے محترم مضمون نگار کو یہ کہنے کی ضرورت نہیں رہے گی کہ ’’اگر وہ اس سلسلہ میں کوئی ایک مستند حوالہ یا کوئی ٹھوس تاریخی ثبوت پیش کر دیتے تو قارئین کے لیے تحقیق کی راہ آسان ہو جاتی۔‘‘ امید ہے ان اقتباسات کے مطالعے سے ان ’ کے لیے تحقیق کی راہ آسان ہو‘ جائے گی۔جناب محمد اسلم صدیق لکھتے ہیں:

’’اس کے لیے غوری صاحب کا مولانا مدنی کو علامہ قسطلانی ؒ پر اندھا اعتماد کرنے کا طعنہ دینا بھی درست نہیں ہے، کیونکہ مولانا سے جو سوال کیا گیا تھا، وہ محض اسی قدر تھا کہ ’کیا سریانی نام کی کسی زبان کا وجود ہے؟‘ اور اس سوال کے جواب میں مولانا مدنی نے علامہ قسطلانی کی عبارت سے استدلال کر کے بتایا کہ ہاں سریانی زبان کا وجود ہے۔ اس حد تک آپ کو بھی اختلاف نہیں۔ مولانا کے پیش نظر یہ تحقیق ذکر کرنا تھا ہی نہیں کہ انجیل کی زبان کیا تھی؟ [اگر ’مولانا کے پیش نظر یہ تحقیق ذکر کرنا تھا ہی نہیں کہ انجیل کی زبان کیا تھی؟‘تو پھر انھوں نے علامہ قسطلانی کا حوالہ دینے کی زحمت گوارا ہی کیوں کی تھی؟] پھر انھیں متعلقہ کتب یا اہل علم سے رجوع کا مشورہ چہ معنی دارد۔ اس نوعیت کے سوال جواب سے ایک بحث کا آغاز کر لینا جو سائل کا مطلوب ومقصود بھی نہیں، اشراق کے تحقیق کار کا عجب طرز عمل ہے! ‘‘

جہاں تک اس اقتباس کے پہلے جملے کے حصہ اول کا تعلق ہے تو گزارش یہ ہے کہ اگر میری تحریر سے طعنے کا مفہوم نکلتا ہے، تو میں صمیم قلب سے حضرت مولانا ثنا ء اللہ مدنی سے معافی کا طالب ہوں۔ مولانا مدنی کا میں ذاتی طور پر بہت احترام کرتا ہوں۔ پچھلے دو عشروں سے ان کے فتاویٰ ’’الاعتصام‘‘ اور ’’محدث‘‘ میں بڑے شوق سے دیکھتا رہا ہوں، بلکہ ان موقر جریدوں میں سب سے پہلے مولانا مدنی کے فتاویٰ ہی کا مطالعہ کیا کرتا ہوں۔یہ میری نالائقی ہے کہ ایسے بزرگ جید عالم دین کے متعلق مجھ سے ایسا جملہ لکھا گیاجس سے ان کی شان میں گستاخی کا شائبہ نکلتا ہو۔
جہاں تک جملے کے بقیہ حصے (کیونکہ مولانا سے جو سوال کیا گیا تھا، وہ محض اسی قدر تھا کہ ’کیا سریانی نام کی کسی زبان کا وجود ہے؟‘ اور اس سوال کے جواب میں مولانا مدنی نے علامہ قسطلانی کی عبارت سے استدلال کر کے بتایا کہ ہاں سریانی زبان کا وجود ہے۔) کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں گزارش ہے کہ سائل کے سوال کا مکمل جواب مولانا کے پہلے فقرے میں موجود ہے کہ’ سریانی مستقل زبان کا نام ہے۔‘ آپ نے یہ جو لکھا ہے کہ ’ اس سوال کے جواب میں مولانا مدنی نے علامہ قسطلانی کی عبارت سے استدلال کر کے بتایا کہ ہاں سریانی زبان کا وجود ہے۔‘ تو یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ علامہ قسطلانی کی عبارت سے سریانی زبان کے مستقل وجود کا استدلال کیسے بنتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ مولانا مدنی نے جواب میں ایک زائد بات بیان کی ہے کہ انجیل بھی سریانی زبان میں لکھی گئی تھی۔ یہ انداز تحریر اپنی جگہ بالکل قابل اعتراض نہیں، بلکہ بعض اوقات ایسی زائد معلومات کے ذریعے سے بات کی وضاحت زیادہ بہتر طور سے ہو جاتی ہے۔ وجہ اعتراض تو دراصل یہ بات بنی ہے کہ ’انجیل اصلاً سریانی زبان میں لکھی گئی تھی۔‘ یہ جو کہا گیا ہے کہ’ مولانا کے پیش نظر یہ تحقیق ذکر کرنا تھا ہی نہیں کہ انجیل کی زبان کیاتھی؟ پھر انھیں متعلقہ کتب یا اہل علم سے رجوع کا مشورہ چہ معنی دارد۔‘ تو اس سلسلے میں گزارش یہ ہے کہ اگر ’ مولانا کے پیش نظر یہ تحقیق ذکر کرنا تھا ہی نہیں کہ انجیل کی زبان کیاتھی؟‘ توانھوں نے بلا وجہ ایک بے تحقیق بات لکھنے کی زحمت کیوں فرمائی۔
پیرے کے آخری فقرے میں مضمون نگار رقم طراز ہیں’ اس نوعیت کے سوال جواب سے ایک بحث کا آغاز کر لینا جو سائل کا مطلوب ومقصود بھی نہیں، ’’اشراق‘‘ کے تحقیق کار کا عجب طرز عمل ہے!‘ اس فقرے کے سلسلے میں غالباً ہر قاری یہ محسوس کرے گاکہ اس کا انداز بیان طنز سے خالی نہیں۔ مولانا مدنی سے ایک جملے میں سوال کیا گیا تھا۔ انھوں نے اس کا ایک ہی جملے میں بالکل صحیح جواب دے دیا۔ لیکن اپنی دانست میں انھوں نے اس جواب کی مزید وضاحت کی ضرورت محسوس کی۔ یہ کوئی قابل اعتراض بات نہیں تھی، یہ الگ بات ہے کہ وہ وضاحت صحیح معلومات پر مبنی نہ تھی۔ اور ایسا بڑے بڑے صاحب علم بزرگوں کی تحریروں میں ہو جانا کوئی انہونی بات نہیں۔ ’’اشراق‘‘ میں شائع شدہ مضمون میں بھی کسی بات کی وضاحت کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے جو کچھ لکھا گیاوہ ایک ضروری اور متعلقہ بحث تھی، تا کہ قارئین کو موضوع سے متعلق تفصیلی معلومات سے متعارف کرایا جا سکے۔ اس پر ’’’اشراق‘‘ کے تحقیق کار کا عجب طرز عمل ہے!‘ کی پھبتی سے اگر مضمون نگار کی تسکین ہوتی ہے ، تو میں بھی اس سے محظوظ ہونے سے گریز نہیں کرتا۔ البتہ قارئین دسمبر ۲۰۰۵ کے اشراق والے میرے مضمون کو دیکھ کر جناب مضمون نگار کے طنز کا خود جائزہ لے سکتے ہیں۔ محترم مضمون نگار لکھتے ہیں :

’’اس سے زیادہ افسوس ناک امر یہ ہے کہ غوری صاحب نے اس مسئلہ پر دلائل دینے کی بجائے بات کومزید آگے پھیلاتے ہوئے سا را زور تحقیق اس بات پر صرف کر دیا کہ] حضرت[ عیسیٰ کے جو ارشادات بائبل کے عہدنامۂ جدید کی چاروں انجیلوں اور دیگر تحریروں میں درج ہیں وہ کبھی بھی اپنی اصلی حالت میں نہیں لکھے گئے تھے... ان کی ابتدا ہی یونانی ترجمہ سے ہوئی... وغیرہ وغیرہ حالانکہ نہ علامہ قسطلانی ؒ نے اس بحث کو چھیڑا ہے اور نہ مولانا مدنی نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے اور پھر یہاں بھی وہی بے لچک اور غیر معروضی انداز تحقیق جیسے یہ ایک ’مسلمہ حقیقت‘ ہے اور اس میں کسی دوسری رائے کی گنجائش نہیں ہے۔‘‘

جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ میں نے اس مقام پر اپنا ’سارا زور تحقیق صرف کر دیا ہے‘، تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ میرا مضمون ایک عام سے شذرے یا تبصرے کی نوعیت کا تھا۔ اسی وجہ سے اسے حوالوں سے گراں بار کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی تھی۔ اگر چہ جو کچھ لکھا گیا تھا وہ صرف سنی سنائی باتوں یا ناقص معلومات پر مبنی نہیں تھا۔ میں اب بھی زور دے کر اپنی بات دہراتا ہوں کہ’ ] حضرت[ عیسیٰ کے جو ارشادات بائبل کے عہد نامۂ جدید کی چاروں انجیلوں اور دیگر تحریروں میں درج ہیں وہ کبھی بھی اپنی اصلی حالت میں نہیں لکھے گئے تھے ... ان کی ابتدا ہی یونانی ترجمہ سے ہوئی...‘۔ البتہ اپنے گزشتہ مضمون میں اس پر کوئی ’زور تحقیق ‘ صرف نہیں کیا تھا۔موجودہ مضمون میں کسی حد تک اس کی تلافی کر دی گئی ہے اور اوپر پچیس کے قریب مستند اقتباسات پیش کر دیے گئے ہیں۔ یہ بات چار پانچ اقتباسات کے ذریعے سے بھی بیان کی جا سکتی تھی، لیکن شاید اس طرح فاضل مضمون نگارمطمئن نہ ہو پاتے۔ ان اقتباسات میں جہاں بالجزم یہ بات متفقہ طور پر دہرائی گئی ہے کہ’ حضرت عیسیٰ کی بول چال کی زبان آرامی تھی، لیکن عہد نامہ جدید ابتدا ہی سے یونانی زبان میں ضبط تحریر میں لایا گیا تھا‘، وہیں ان اقتباسات سے کچھ دوسری ضروری معلومات بھی حاصل ہوتی ہیں۔کہا گیا ہے کہ ’حالانکہ نہ علامہ قسطلانی نے اس بحث کو چھیڑا ہے اور نہ مولانا مدنی نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے‘۔ ’’محدث‘‘ کے محترم مضمون نگار کایہ دعویٰ حقائق اور ریکارڈ کے خلاف ہے۔مولانا مدنی نے انجیل کی زبان سریانی ثابت کرنے ہی کے لیے علامہ قسطلانی کی ’’ارشاد الساری‘‘ سے یہ حوالہ نقل کیا ہے کہ ’وقیل أن التورۃ عبرانیۃ والانجیل سریانی‘۔ ’’ کہا جاتا ہے کہ تورات عبرانی اور انجیل سریانی زبان میں تھی۔‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ محترم مضمون نگار نے ’’الاعتصام‘‘(۲تا۸ ستمبر ۲۰۰۵) میں مولانا مدنی کا’ جواب‘ ملاحظہ ہی نہیں فرمایا۔ میں نے جو کچھ لکھا ہے وہ مولانا مدنی کے جواب اور اس میں دیے گئے ’’ارشادالساری‘‘ کے اقتباس ہی کے حوالے سے لکھا ہے۔ باقی رہا مضمون نگار کا یہ ارشاد ’ اور پھر یہاں بھی وہی بے لچک اور غیر معروضی انداز تحقیق جیسے یہ ایک ’مسلمہ حقیقت‘ ہے اور اس میں کسی دوسری رائے کی گنجایش نہیں ہے۔‘ تو میں نے اپنے علم کی حد تک درست معلومات پیش خدمت کرنے کی کوشش کی تھی اور اس میں جہاں لچک ہونی چاہیے تھی وہاں اس کا اظہار کرنے کی بھی کوشش کی گئی تھی، لیکن جہاں کوئی چیز میرے خیال میں یقینی تھی، وہاں اسے خواہ مخواہ مشکوک یا کمزور بنانے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ اس سلسلے میں ’’محدث‘‘ کے فاضل مضمون نگار کی نیت پر کوئی حرف زنی کیے بغیر گزارش ہے کہ بعض جگہ میں نے کوئی بات امکانی انداز میں لکھی تھی، جس کے متعلق کسی ایک پہلو پر میں یقینی بات نہیں کہہ سکتا تھا، وہاں میں نے اپنا فقرہ ’’لیکن غالباً‘‘ جیسے احتمالی الفاظ سے شروع کیا۔ فاضل مضمون نگار نے اسے بالکل حذف کر کے نقل کر دیاجس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آگے بیان کی جانے والی بات میں ایک یقینی مسلمے کے طور پر پیش کر رہا ہوں۔ مثلاً میں نے دسمبر ۲۰۰۵ کے ’’اشراق‘‘ والے مضمون میں صفحہ ۳۴ کی سطر ۱۸ تا۲۰ پر لکھا تھا ’لیکن غالباً یہ اس علاقے میں حضرت عیسیٰ کی آمد سے پہلے بھی رائج تھی۔...کہ وہ اپنے مذہب اور ثقافت کو بازنطینی اثرات سے بچا سکیں‘۔ فاضل مضمون نگار نے مارچ ۲۰۰۶ کے محدث میں صفحہ ۱۲۶، سطر ۱۸ تا ۲۱ پر میری یہی عبارت بطور اقتباس نقل کی ہے، لیکن اس میں سے ’’لیکن غالباً‘‘ کے میرے الفاظ حذف کر کے اقتباس کی یہ شکل بنا دی ہے : ’ یہ (سریانی) اس علاقے میں حضرت عیسیٰ کی آمد سے پہلے بھی رائج تھی۔ ...کہ وہ اپنے مذہب اور ثقافت کو بازنطینی اثرات سے بچا سکیں‘۔اس کے علاوہ بھی بعض مقامات پر احتمالی جملے درج کیے گئے ہیں مثلاًمذکورہ ’’اشراق‘‘ صفحہ ۳۶پر سطر ۵ میں لکھا گیا ہے ’اگر چہ اسے بھی مسلمہ حقیقت کی حیثیت حاصل نہیں۔ ‘ اس کے باوجودبھی ’’ وہی بے لچک اور غیر معروضی انداز تحقیق جیسے یہ ایک ’مسلمہ حقیقت‘ ہے اور اس میں کسی دوسری رائے کی گنجایش نہیں ہے۔‘‘ کا الزام یک طرفہ کارروائی ہی قرار دی جا سکتی ہے۔
میں نے اپنے مضمون کے آخری سے پہلے پیرا گراف میں گزارش کی تھی :

’’مولانا مدنی کے اس جواب کے آخری پیراگراف کا پہلا جملہ ہے ’عربانی زبان کی اصل سریانی ہے‘۔ یہاں کمپوزنگ کی غلطی ہو گئی ہے ، کیونکہ ’عربانی‘ نام کی کوئی زبان کبھی سنی نہیں گئی۔ اصل لفظ غالباً ’عربی‘ ہو گا یا پھر ’عبرانی‘۔ اگر کہا جائے ’عبرانی زبان کی اصل سریانی ہے‘ تو یہ بات محل نظر ہے۔ البتہ یہ بات بالعموم درست مانی جاتی ہے کہ عربی زبان سریانی سے کافی متاثر ہوئی ہے یایہ کہ اس کی اصل سریانی ہے۔ اگرچہ اسے بھی مسلمہ حقیقت کی حیثیت حاصل نہیں۔ مولانا مدنی نے یہ بات ’فاکہی‘ کی ’’اخبار مکہ‘‘ کے حوالے سے لکھی ہے۔ بہتر ہو گا کہ جریدے کی قریبی اشاعت میں اصل ماخذ سے رجوع کرکے اس کی وضاحت کر دی جائے۔‘‘

لیکن فاضل مضمون نگار نے اس سے کوئی تعرض نہیں فرمایا۔
آرامی زبان کے متعلق انسائیکلو پیڈیا آف جوداازم کے مقالہ نگارپال فلیشر(Paul Flesher) نے بڑی عالمانہ تحقیق کی ہے۔ اس کے چند اقتباسات ذیل میں دیے جاتے ہیں:

‘‘The language of Aramaic first became important to Jews during the Assyrian period. From the eighth ecntury B.C.E., to the fall of the Persian Empire, in the fourth century, Aramaic was the language of three empires that dominated the greater Mesopotamian world, namely, Assyria, Babylonia, and Persia. For those four-hundred years, the fortunes of Israel and Judah/Judea were firmly under the control of those empires. Aramaic became so influential within Judaism during this time that even after Greek became the language of Govenment, Aramaic continued to be used among Jews for more than a thousand years. Indeed the most important Jewish writtings in Aramaic the Aramaic Dead Sea Scrolls, parts of the Palestinian and Babylonians Talmuds and other Rabbinic literature, the translations of Scripture called the Targums, and even the Zohar come from the centuries after Aramaic lost its imperial support.
Languages are used by people. They do not exist in a vacuum but in connection with human lives. As such, they are subject to the same historical and cultural forces as other human creations. This article studies the growth of Aramaic and the development of its dialects in the context of the history of the Jews and their geographical locations and migrations. ...
After the destruction of the Jerusalem Temple in 70 C.E., Aramaic-speaking jewry splits into two groups, one remaining in Palestine and the other moving to Babylonia. ...
Aramaic was first spoken by the Aramean tribes who came to historical prominence during the eleventh century B.C.E. in Syria and Upper Mesopotamia several Ararmean tribes established small, independent kingdoms in this region, where they bore the brunt of the later Assyrian expansion to the west. The longest-surviving Aramean state, Aram, had its capital in Damascus, and remained independent until 732 B.C.E., falling to the Assyrians at the same time as the northern kingdom of Israel.
The period of Old Aramaic extends slightly beyond the time of the independent Aramean states, from eleventh century B.C.E. down to the start of the seventh. A few inscriptions and other written texts are known from the tenth century onwards, scattered across this region.
Although there is no evidence Israelites used Aramaic in this period, Northern Palestine, which was frequently under the control of Aram during the 9th and 8th centuries, has produced some Aramaic material. Two recent finds are particularly intriguing. The first is the Tel Dan stele, which tells of the victory of a king of Aram, perhaps Hazael, over Israel and the “king of the house of David” in the 9th century. This is the only known, contemporary reference to the Davidic dynasty outside the Hebrew Bible. The second find is the Deir Alla text from northern Jordan. ...
During the Assyrian Empire (more properly called the Neo-Assyrian Empire), Aramaic replaced Akkadian as the language of the imperial administration. An Eastern dialect of Aramaic was chosen for this role and its spread throughout the Empire brought previously unknown linguistic forms to the Empire’s western reaches, particularly areas on the Mediterranean Sea such as Syria, Palestine and Egypt. This dialect, known to scholars as Imperial Aramaic (also called official Aramaic and Reichsarmaisch), became a standard for both spoken and written communication.
Scholars generally date this period from the start of the 7th century B.C.E. down to about 200 B.C.E. The general process by which Imperial Aramaic became dominant is clear, if not fully known in detail. The Assyrian King Tiglath-Pileser III, who ruled from 744 to 727, first made Aramaic into the language of governance. He brought Aramean scribes into his administration to be in charge of the correspondence across the empire. The spread of Aramaic was assisted by the deportation of conquered Aramean populations throughtout the empire and through its use by imperial administrators and military garrisons.
The first evidence for knowledge of Aramaic among the Israelites comes from the siege of Jerusalem ordered by King Sennacherib in 701 B.C.E. This took place when King Hezekiah ruled Judah (to 2 Kgs. 18:13-27). During the siege, the Assyrian ambassadors stood outside the city and negotiated with Hezekiah’s representatives standing on the city wall by shouting in Hebrew. When Israelite officials asked them to speak in Aramaic because although they knew it, the average citizen did not, the Assyrians refused. They preferred to use their fluency in the local language to enable their threats to be understood by everyone, rather than to negotiate in the language of the empire.’’ (The Encyclopedia Of Judaism, Second Edition, Ed. Jacob Neusner etc., Brill, 2005, Vol. I, pp. 85,86)

’’آرامی زبان نے یہودیوں کے لیے سب سے پہلے اشوریوں کے دور میں اہمیت حاصل کی ۔ آٹھویں صدی قبل مسیح سے چوتھی صدی ق م میں فارسی سلطنت کے زوال تک آرامی زبان ان تین سلطنتوں کی زبان تھی، جن کا عظیم تر میسو پوٹیمیا پر تسلط تھا یعنی اشوری، بابلی، اور فارسی۔ ان چار سو سالوں کے دوران میں اسرائیل اور یہودیہ کی قسمت انھی سلطنتوں کے مکمل کنٹرول میں تھی۔اس عرصے کے دوران میں آرامی زبان کا یہودیت پر اتنا گہرا اثر تھا کہ یونانی کے سرکاری زبان بن جانے کے بعد بھی آرامی زبان یہودیوں میں ایک ہزار سال سے بھی زیادہ عرصے تک رائج رہی۔حقیقت یہ ہے کہ یہودیت کی انتہائی اہم آرامی تحریریں مثلاً بحیرۂ مردار کے آرامی زبان میں لکھے گئے طومار، فلسطینی اور بابلی تالمودوں کے بعض اجزا، ربیوں کی دیگر تحریریں، اور صحائف کے] آرامی زبان میں[ تراجم، جنھیں ’ترجوم‘ کہا جاتا ہے وغیرہ اگرچہ آرامی زبان میں لکھے گئے ہیں، تا ہم یہ اس دور میں لکھے گئے ہیں جب آرامی زبان کو شاہی سرپرستی بالکل حاصل نہیں رہی تھی۔
زبانیں انسان استعمال کرتے ہیں۔ وہ خلا میں نہیں، بلکہ انسانی زندگیوں کے تناظرمیں وجود پذیر ہوتی ہیں۔اس طرح ان پر بھی وہی تاریخی اور ثقافتی قوتیں کارفرما ہوتی ہیں، جو دوسری انسانی تخلیقات پر۔ اس آرٹیکل میں یہودیوں کی تاریخ اور ان کے جغرافیائی محل وقوع اور نقل مکانی کے سیاق وسباق میں آرامی زبان کے ارتقا اور اس کی ذیلی بولیوں کے نشو ونما کا مطالعہ کیا گیا ہے۔
۷۰ عیسوی میں یروشلم کے ہیکل کی تباہی وبربادی کے بعد آرامی بولنے والے یہودی دو گروہوں میں منقسم ہو گئے: ایک تو فلسطین ہی میں رہ گیا اور دوسرا بابل کی طرف نقل مکانی کر گیا۔
آرامی زبان سب سے پہلے ان آرامی قبائل نے بولنی شروع کی تھی، جو تاریخی طور پر گیارھویں صدی قبل از مسیح کے دوران میں شام اور بالائی میسوپوٹیمیا میں ابھر کر سامنے آئے ۔ اس خطے میں متعدد آرامی قبائل نے چھوٹی چھوٹی آزاد بادشاہتیں قائم کر لی تھیں،جہاں وہ متاخرین اشوریوں کے مغرب کی طرف توسیع پسندانہ حملوں کی سختیاں اور مصیبتیں جھیلتے تھے۔ آرامیوں کی سب سے زیادہ مدت تک باقی رہنے والی ریاست، آرام کا دارالحکومت دمشق میں تھا اور یہ ۷۳۲ قبل مسیح تک آزاد رہی۔اسی عرصے کے دوران میں اسرائیل کی شمالی سلطنت کی طرح یہ بھی اشوریوں کے ہاتھوں شکست پذیر ہوئی۔
قدیم آرامی کا دور آزاد آرامی ریاستوں سے کچھ بعد تک پھیلا ہوا ہے: یعنی گیارھویں صدی قبل مسیح سے لے کر ساتویں صدی ق م کے آغاز تک۔دسویں صدی سے لے کر آگے تک چند ایک کتبے اور دوسرے تحریری متن معروف و معلوم ہیں اور یہ سارے خطے میں پھیلے ہوئے ہیں۔
اگر چہ اس بات کی کوئی شہادت موجود نہیں کہ اس دور میں اسرائیلی لوگ آرامی زبان استعمال کرتے ہوں، تاہم شمالی فلسطین نے جو آٹھویں او رنویں صدی ق م کے دوران میں زیادہ تر آرامی سلطنت کے کنٹرول میں رہا ، کچھ آرامی مواد کی تخلیق کی ہے ۔ دو جدید ترین دریافتیں خاص طور پر قابل دلچسپی ہیں:پہلی تو ہے تل دان کی پتھر کی تختی، جونویں صدی ق م میں آرام کے بادشاہ، جس کا نام شاید ’حزائیل‘ تھا ، کی اسرائیل اور ’’داؤد کے گھرانے کے بادشاہ‘‘ پر فتح کے ذکر پر مشتمل ہے۔ عبرانی بائبل سے باہر داؤد کے خاندان کے سلسلے میں یہ واحد معروف معاصرانہ حوالہ ہے ۔اور دوسری دریافت ہے شمالی اردن سے ملنے والا ’دیر الّا‘کا متن۔
اشوری سلطنت (جسے جدید اشوری سلطنت کہنا زیادہ مناسب ہے) کے دوران میں سلطنت کی انتظامیہ کی زبان کے طور پر آرامی زبان نے عکادی زبان کی جگہ لے لی۔اس سلسلے میں آرامی زبان کی ایک مشرقی بولی کا انتخاب کیا گیا تھااور پوری سلطنت میں ہر جگہ اس کے پھیل جانے کی وجہ سے ان لسانی ہیئتوں کو جو پہلے غیرمعلوم تھیں، سلطنت کی مغربی حدود، خصوصاً بحیرۂ روم پر واقع علاقوں مثلاً شام، فلسطین اور مصر تک رسائی حاصل ہو گئی۔ یہ بولی جو اہل علم کے درمیان استعماری آرامی زبان (جسے سرکاری آرامی وغیرہ بھی کہا جاتا ہے) کی حیثیت سے معروف ہے، بول چال اور تحریر، دونوں کے ذریعۂ اظہار کے لیے معیار قرار پائی۔
اہل علم اس دور کو بالعموم ساتویں صدی قبل مسیح کے آغاز سے لے کر قریباً ۲۰۰ ق م تک شمار کرتے ہیں۔ وہ عمومی طریق کار جس کے ذریعے سے استعماری آرامی زبان نے غلبہ وتسلط حاصل کیا، اگر اپنی پوری تفصیل کے ساتھ معلوم نہ بھی ہو، تاہم ایک حد تک واضح ضرور ہے۔ آرامی زبان کو سب سے پہلے حکمرانی کی زبان اشوری بادشاہ تغلث پائلسر سوم(Tiglath Pileser III)نے قرار دیا تھا، جو ۷۴۴ سے ۷۲۷ ق م تک اسیریا (Assyria) پر حکمرانی کرتا رہا۔ اس نے آرامی کاتبوں کو اپنی انتظامیہ میں شامل کیا، تاکہ انھیں پوری سلطنت میں خط کتابت کا نگران بنا دیا جائے۔ آرامی زبان کے پھیلاؤ میں مفتوحہ آرامی آبادی کو اپنے شہروں سے نکال کر پوری سلطنت میں بکھیر دینے اور سامراجی انتظامیہ اور فوجی چھاؤنیوں میں اس کے استعمال سے بڑی مدد ملی۔
اسرائیلیوں کی ارامی زبان سے آشنائی کی اولین شہادت ۷۰۱ ق م میں شاہ سینا کرب (Sennacherib) کے یروشلم کے محاصرے کے فرمان سے ملتی ہے۔ یہ واقعہ اس وقت رونما ہوا جب یہودیہ پر شاہ حزقیاہ کی حکومت تھی (۲۔ سلاطین، ۱۸:۱۳ تا۲۷)۔ اس محاصرے کے دوران میں اشوری ایلچی شہر سے باہر کھڑے تھے اور فصیل شہر پر کھڑے ہوئے حزقیاہ کے نمائندوں کے ساتھ عبرانی زبان میں چیخ چیخ کر گفت وشنید کر رہے تھے، جب اسرائیلی اہل کاروں نے انھیں اس بنا پر آرامی زبان میں گفتگو کرنے کے لیے کہا کہ اگرچہ و ہ اسے سمجھتے تھے، مگر متوسط درجے کا شہری اسے نہیں سمجھتا تھا تو اشوریوں نے نہ مانا۔ انھوں نے اس بات کو ترجیح دی کہ مقامی زبان میں اپنی روانی اور قادر الکلامی کو اس مقصد کے لیے استعمال کریں کہ ہر آدمی ان کی دھمکیاں بآسانی سمجھ جائے، بجائے اس کے کہ سلطنت کی زبان میں گفتگو کریں۔‘‘

انسائیکلو پیڈیا آف جوداازم کے مقالہ نگار نے اس موضوع کے ہر پہلو پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ یوں تو یہ سارا مقالہ ہی قابل مطالعہ ہے، لیکن جتنا کچھ اب تک لکھا گیا ہے بقیہ مقالہ اس سے قریباً دس گنا زیاد ہ ہے۔ یہاں اصل انگریزی عبارت چھوڑتے ہوئے اس کے صرف اہم نکات ہی بیان کیے جاتے ہیں:

’’بابلی سلطنت اسرائیلوں کی آرامی زبان سے واقفیت کے سلسلے میں بہت بڑی حد تک اثر انداز ہوئی ۔۵۸۶ ق م میں اہل بابل نے یروشلم پر قبضہ کر لیا اور وہاں کے طبقۂ اشرافیہ کو اسیر بنا کر اپنے ساتھ بابل میں لے گئے۔ وہاں اسرائیلی ایک ایسی سوسائٹی میں گھر کر رہ گئے تھے جو اپنی روز مرہ کی زندگی میں آرامی زبان کا وسیع استعمال کرتی تھی۔ جب اہل فارس نے بابلی سلطنت ختم کی اور جلا وطن یہودیوں کو یروشلم جانے کی اجازت دی تو وہ بظاہر عبرانی کے مقابلے میں آرامی زبان زیادہ روانی سے بولتے تھے۔ بلکہ وہ عبرانی زبان بھی آرامی رسم الخط میں لکھتے تھے۔موجودہ عبرانی حروف ابجد اسی آرامی رسم الخط سے ماخوذ ہیں ۔
آرامی زبان کا درمیانی دور بالعموم دوسری صدی قبل مسیح سے تیسری صدی عیسوی کے آغاز تک پھیلا ہوا ہے۔ کتبوں اور آثار قدیمہ سے ظاہر ہوتاہے کہ اس دور میں اسرائیل کے قرب وجوار کے ممالک میں تین بولیاں روا ج پا رہی تھیں: (۱) شمال مغربی عرب، صحراے نجف، جنوبی اور جنوب مشرقی فلسطین میں نبطی بولی رائج تھی۔( ۲) شام کے تجارتی شہر پلمائرا (Palmyra) کے زیر اثر علاقوں میں پالمائرین (Palmyrene) بولی کا دور دورہ تھا اور یہ علاقہ بحیرۂ روم کے ساحل اور دریاے فرات دونوں سے نصف فاصلے پر واقع تھا۔ (۳)سریانی زبان کے ظہور کی ابتدائی شہادت شمالی شام میں ایڈیسہ(Edessa) کے اردگرد ملتی ہے۔ یہ تمام بولیاں شاہی آرامی زبان اور علاقے کی مقامی بولیوں کے اختلاط سے وجود میں آئی تھیں اور غالباً مقامی بولیوں کا اثر زیادہ تھا۔‘‘(انسائیکلو پیڈیا آف جوداازم، ایڈیشن دوم، ایڈیٹرجیکب نیوسنروغیرہ، برلّ، ۲۰۰۵ء، جلد اول، صفحہ ۸۶۔۹۴)

اوپر متعدد مستند حوالوں سے یہ واضح کیا گیا کہ حضرت عیسیٰ کی عام بول چال کی زبان آرامی تھی، لیکن اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ یونانی زبان بھی بخوبی جانتے ہوں۔ انھی حوالوں سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ انجیل ابتدائی طور پر یونانی زبان میں لکھی گئی تھی۔ اس کے بعدانسائیکلو پیڈیا آف جودا ازم کے آرامی زبان پر ایک مبسوط مقالے سے آرامی زبان کی تاریخ کے متعلق اقتباسات نقل کیے گئے۔ ذیل میں یہ بات واضح کی جا رہی ہے کہ مسلم علما اور شارحین بخاری نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ انجیل سریانی میں لکھی گئی تھی۔
یونانی انجیل ابتدا میں سریانی زبان میں نہیں لکھی گئی تھی، بلکہ سریانی زبان میں اس کا ترجمہ کیا گیا تھا۔ یہ ترجمہ دوسری اور چوتھی صدی عیسوی میں ہوا تھا اور بعد کی دو تین صدیوں میں بھی یہ عمل جاری رہا۔میک گریگر لکھتاہے:

‘‘The New Testament books, widely circulated in Greek, were translated at a very early date into other languages. ... As early as about A.D. 150 the NT was translated into Syriac and into Latin, ... Syriac is a dialect of Aramaic, Christ’s native tongue, and was the language of Mesopotamia and Syria. It is known that in Edessa, in the valley of Euphrates, between about A.D. 150 and 175, a work was circulating known as the Diatessaron. ... it was the work of a scholar called Tatian who was a native of Euphrates Valley where he was born about A.D. 110. ... His work was probably written in Rome and taken to Syria, where it was translated into Syriac, and it is known that this translation was chief form in which the Gospel story was circulated in Syria till the fourth century.’’ (Geddes MacGregor, The Bible in the Making, London, John Murray, 1961, pp.57f.)

’’عہد نامۂ جدید کی کتابوں کا،جن کی یونانی زبان میں وسیع پیمانے پر اشاعت ہو رہی تھی، بہت ابتدائی دور میں دوسری زبانوں میں ترجمہ ہو گیا تھا۔ ... ۱۵۰ عیسوی ہی تک عہد نامہ جدید کا سریانی اور لاطینی میں ترجمہ ہو چکا ہوا تھا۔... سریانی ارامی زبان کی ایک بولی ہے۔ ارامی زبان حضرت عیسیٰ کی مقامی زبان بھی تھی اور میسوپوٹیمیا اور شام کی بھی۔ یہ بات معروف ہے کہ ۱۵۰ اور ۱۷۵ء کے درمیان وادئ فرات میں واقع عدیسہ شہر میں ایک کتاب مروج تھی، جو ڈایاٹسرون (Diatessaron) کے نام سے مشہور تھی۔... یہ ایک صاحب علم شخص طاشیئن نے لکھی تھی، جو واوئ فرات کا باشندہ تھا جہاں وہ قریباً ۱۱۰ء میں پیدا ہوا تھا۔ ... اس کی یہ کتاب غالباً روم میں لکھی گئی تھی اور پھر اسے شام میں لے جایا گیا۔ وہاں اس کا سریانی میں ترجمہ کیا گیا۔ مشہور یہ ہے کہ یہی ترجمہ وہ بڑی صورت تھی جس میں چوتھی صدی تک انجیل کی کہانی ملک شام میں رائج تھی۔‘‘

بروس ایم میٹزجر نے سریانی تراجم پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ وہ لکھتا ہے:

‘‘Scholars have distinguished five different Syriac versions of all or part of the NT. They are the Old Syriac, The Peshitta (or common version), the Philoxenian, the Harclean, and the Palestinian Syriac version.
(a) The Old Syriac version of the four Gospels is preserved today in two manuscripts, both of which have large gaps. ...
(b) The Peshitta version, or Syriac Vulagate, of the NT was prepared toward the end of the fourth century, probably in order to supplant the divergent, competing Old Syriac translations. ... More than 350 manuscripts of the Peshitta NT are known today, several of which date from the fifth and sixth centuries. ...
(c) The Philoxenian and/or Harclean version(s). ...
(d) The Palestinian Syriac version. The translation into Christian Palestinian Syriac (i.e. Aramaic) is known chiefly from a lectionary of the Gospels, preserved in three manuscripts dating from the eleventh and twelfth centuries.’’ (Bruce M. Metzger, The Text of the New Testament, Oxford at the Clarendon Press, 1964, pp. 68-71)

’’علما نے پورے یا جزوی عہد نامۂ جدیدکے پانچ مختلف سریانی تراجم کو ممتاز قرار دیا ہے۔ وہ ہیں قدیم سریانی، پشیتا یا عوامی ترجمہ، فلوکسینین، ہرقلین اور فلسطینی سریانی ترجمہ۔
ا۔چار انجیلوں کا قدیم سریانی ترجمہ آج دو مسودات کی شکل میں محفوظ ہے، جن دونوں میں بڑے بڑے خلا موجود ہیں۔
ب۔عہد نامۂ جدید کا پشیتا ترجمہ یا سریانی زبان کا ولگیٹ۔ یہ چوتھی صدی کے اختتام کے قریب تیار ہوا تھا۔ اس کا مقصد غالباًیہ تھا کہ یہ اختلافات اورتضادات سے معمور سریانی تراجم کی جگہ لے سکے۔ ... آج پشیتا کے عہد نامۂ جدید کے ۳۵۰ سے زائد مسودات معلوم ہیں، جن میں سے اکثرکی تاریخ پانچویں اور چھٹی صدیوں کی ہے۔
ج۔ فلوکسینین اور /یا ہرقلین ترجمے ۔ ...
د۔اناجیل کا فلسطین والا سریانی ترجمہ مسیحی فلسطینی سریانی(یعنی آرامی) زبان میں بڑی حد تک انجیلوں کے دعاو عبادت کے اسباق کے ان مجموعوں کے ذریعے سے معلوم ہوا، جو ان تین مسودات کی صور ت میں محفوظ ہیں جن کا تعلق گیارھویں اور بارھویں صدیوں سے ہے۔ ‘‘

دی جرنی فرام ٹیکسٹس ٹو ٹرانسلیشنز کا مصنف پال ڈی ویگنر لکھتا ہے :

‘‘... Jesus probably spoke in Aramaic whereas the Evangelists recorded his sayings in Greek.’’ (Paul D. Wegner, The Journey from Texts to Translations, Grand Papids, Michigan, Baker Books, 1999, p.61)

’’... حضر ت عیسیٰ غالباً آرامی زبان میں کلام فرماتے تھے، جب کہ انجیل نگاروں نے ان کے ارشادات یونانی زبان میں ریکارڈ کیے ۔‘‘

‘‘... Christianity spread very early into Syria, and from there the Syriac church took the Gospel as far as China. ... Syriac, generally the name given to Christian Aramaic, is written in distinctive variation of the Aramaic alphabet.
Tatian Diatessaron
Tatian came from Mesopotamia to Rome in about 150; he was converted to Christianity and taught by Justin Martyr. ... His major work was the earliest known harmony of the four Gospels, called the Diatessaron, written in Syriac. The word diatessaron literally means “through four”. That is to say, the work weaves all four Gospel into one continuous narrative. ... It is unknown whether the work was originally written in Greek (the name diatessaron is Greek) or Syriac, but it gained popularity due in large part to Ephraem, a Syrian church father from Edessa (306-373), who wrote a commentary on it. Later the Diatessaron was translated into Persian, Arabic, Latin, Old Dutch, Medieval German, Old Italian, and Middle English.
Syriac Peshitta
For centuries several Syriac translations, as they circulated throughout this Area, competed for superiority. Most were in Old Syriac, but around the fifth century the Syriac Peshitta emerged, perhaps prepared by Rabbula, who was bishop of Edessa from 411 to 435. By about 400 Theodore of Mopsuestia, an early church father, wrote concering the Syriac Peshitta: “it has been translated into the tongue of the Syrians by someone or other, for it has not been learned up to the present day who this was.” In the fifth century the Syriac church split into two groups the Nestorians (East Syriac) and the Jacobites (West Syriac) resulting in two proper recensions [revised editions, compilations] of the Syriac Peshitta.’’ (Paul D. Wegner, The Journey from Texts to Translations, op.cit., pp.242-43)

’’مسیحیت بہت جلدملک شام میں پھیل گئی اور وہاں سے سریانی کلیسیا انجیل کو چین جیسے دور دراز علاقے میں لے گیا۔... سریانی، جو نام بالعموم مسیحیوں کی ارامی زبان کو دیا جاتا تھا، ارامی زبان کے حروف تہجی سے مختلف اور امتیازی انداز میں لکھی جاتی ہے] سریانی ر سم الخط عربی زبان کے رسم الخط سے کافی ملتا جلتا ہے۔ علما کا غالب خیال یہ ہے کہ عربی رسم الخط کی تشکیل پر سریانی رسم الخط کا کافی اثر ہے[
طاشیئن کا ڈایا ٹسران
طاشیئن قریباً ۱۵۰ء میں میسو پٹیمیا(عراق) سے روم میں پہنچا ۔اسے شہید جسٹن نے مسیحی بنایا تھا اور اسی نے اسے مسیحیت کی تعلیم دی تھی۔ ... سب سے پہلے اس نے ’’ چاروں انجیلوں کی یکسانیت اور ہم آہنگی‘‘ نامی کتاب لکھی تھی جو ا س کی سب سے پہلی اور بڑی اہم کتاب ہے اور جو ڈایا ٹسران کے نام سے مشہور ہے۔ یہ سریانی زبان میں لکھی گئی تھی۔ لفظ ڈایا ٹسران کے لغوی معنی ہیں ’چار کے اندرسے‘۔ مطلب اس کا یہ ہے کہ اس کتاب میں چاروں کی چاروں انجیلیں ایک مسلسل حکایت کے طورپر بن دی گئی ہیں۔ ...اس بات کا علم نہیں کہ کیا یہ کتاب ابتداءً یونانی زبان میں لکھی گئی تھی (ڈایاٹسران یونانی زبان ہی کا لفظ ہے)، یا سریانی میں۔ لیکن اس نے بڑی حد تک عدیسہ سے تعلق رکھنے والے سریانی کلیسیا کے ایک بزرگ افرائیم (۳۰۶۔۳۷۳)، کی وجہ سے قبولیت عامہ حاصل کی جس نے اس کی ایک تفسیر لکھی تھی۔ بعد میں ڈایاٹسران کا فارسی، عربی، لاطینی، قدیم ڈچ زبان، درمیانے دور کی جرمن زبان، قدیم اطالوی اور درمیانے دور کی انگریزی میں ترجمہ کیا گیاتھا۔
سریانی پشیتا
’’اس پورے خطے میں جو متعدد سریانی تراجم زیر گردش تھے، وہ صدیوں تک برتری کے حصول کے لیے برسر پیکار رہے۔ ان میں سے زیادہ تر سریانی زبان میں تھے۔ لیکن پانچویں صدی کے قریب سریانی زبان کی پشیتا بائبل کو فروغ حاصل ہوا، جو شاید ربولا نے تیار کی تھی۔ ربولا ۴۱۱ء سے ۴۳۵ء تک عدیسہ کا بشپ رہا تھا۔ ۴۰۰ء کے قریب ایک ابتدائی کلیسیائی فادر، تھیوڈور آف موپسو استیا(Theodore of Mopsuestia) نے سریانی زبان کی پشیتا بائبل کے متعلق لکھا: ’کسی نہ کسی شخص نے اس کا شامی لوگوں کی زبانوں میں ترجمہ کر دیا، لیکن اس بات کا پتا نہیں چل سکا کہ یہ (مترجم) کون تھا۔‘ پانچویں صدی میں سریانی کلیسیا دو گروہوں میں بٹ گیا: (۱) نسطوری (مشرقی سریانی) اور (۲) یعقوبی (مغربی سریانی)۔ جس کے نتیجے میں سریانی پشیتا کے دو موزوں نظر ثانی شدہ ایڈیشن معرض وجود میں آگئے ۔‘‘

یہی مصنف عربی تراجم کے سلسلے میں لکھتا ہے:

‘‘In antiquity Arabia covered the area west of Mesopotamia, south of Syria, and east of Palestine; ... Very little is known about early Christian contacts with this era, ... Little is known about the first translation of the Bible into Arabic, ... The spread of Islam in the seventh century forced Jews and Christians who remained in the conquered lands to adopt Arabic. ... The Scriptures do not seem to have been extant in an Arabic version before the time of Muhammad (570-632), who knew the gospel story only in oral form, and mainly from Syriac sources. ... Evidence suggests that translations into Arabic were made from Greek, Old Syriac, the Syriac Peshitta, Coptic, and Latin versions.’’ (Paul D. Wegner, The Journey from Texts to Translations, op. cit., p.249-50)

’’قدیم ملک عرب میسو پٹیمیا (عراق) کے مغرب، شام کے جنوب اور فلسطین کے مشرق کے علاقوں پر محیط تھا۔ ... اس علاقے کے ساتھ ابتدائی مسیحیوں کے روابط کے متعلق بہت کم باتیں معلوم ہیں۔ ... بائبل کے عربی زبان میں اولین ترجمے کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں۔ ... ساتویں صدی میں اسلام کی اشاعت نے ان یہود ونصاریٰ کو، جو مسلمانوں کے مفتوحہ علاقوں ہی میں رہایش پذیر ہوگئے، اس بات پر مجبور کیا کہ وہ عربی زبان اختیار کریں۔... معلوم یہ ہوتا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم (۵۷۰ء تا۶۳۲ء) سے پہلے کے دور میں صحف بائبل کسی عربی ترجمے کی صورت میں موجود نہ تھے۔ رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم انجیلوں کی کہانی صرف زبانی صورت میں جانتے تھے اور وہ بھی زیادہ تر سریانی ماخذ سے۔ ... شہادت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ انجیل کے عربی زبان میں تراجم یونانی، قدیم سریانی، سریانی پشیتا، قبطی اور لاطینی تراجم سے کیے گئے تھے۔ ‘‘

جان ایل میکنزی اپنی لغت بائبل میں سریانی تراجم کے ذیل میں لکھتا ہے:

‘‘Syriac designates several dialects of Aramaic which arose in the early centuries of the Christian era in Old Aramaic speaking regions, which roughly include the modern Israel and Jordan, Syria, Lebanon, the portion of Turkey adjacent to Syria, and Iraq. The dialects of Syriac fall into two principal groups, eastern and western. As a living language Syriac fell into disuse with the Mohammedan conquests and yielded to Arabic; it now survives as a liturgical language in some dissident eastern churches and in a few isolated pockets. ... The Old Syriac versions are the versions older than the Peshitto NT. These were replaced in common use by the Peshitto and have survived only in fragments.’’ (John L. McKenzie, S.J., Dictonary of The Bible, London, Geoffrey Chapman, 1984, p.860)

’’سریانی حقیقت میں آرامی زبان کی متعدد بولیوں کو ظاہر کرتی ہے، جس نے قدیم ارامی بولنے والے علاقوں میں سن عیسوی کی ابتدائی صدیوں میں فروغ پایا۔ یہ علاقے جدید اسرائیل اور اردن، شام، لبنان، ترکی کے شام سے ملحقہ حصے اور عراق پر مشتمل ہیں۔ سریانی زبان کی بولیوں کے دو بڑے گروپ ہیں: مشرقی اور مغربی۔ اسلامی فتوحات کے نتیجے میں سریانی زندہ زبان کی حیثیت سے استعمال میں نہیں رہی اور عربی نے اس کی جگہ لے لی۔ اب یہ الگ تھلگ ٹکڑوں میں اکثریت سے اختلاف رائے رکھنے والے چند ایک کلیسیاؤں میں مذہبی عبادت کی زبان کے طور پر باقی ہے۔ ... قدیم سریانی تراجم پشیتا سے پہلے کے تراجم ہیں۔ عام استعمال میں پشیتا نے ان کی جگہ لے لی ہے اور اب ان کے کچھ اجزا ہی باقی رہ گئے ہیں۔‘‘

ہارپرز بائبل ڈکشنری میں فلپ ایل شولر نے بھی اس موضوع پریہی نقطۂ نظر پیش کیا ہے کہ عہد نامۂ جدید کی کتابیں رائج الوقت عوامی یونانی زبان میں لکھی گئیں:

‘‘The NT books were written in Koine Greek, the language of that day.’’ (Harper’s B. D., Gen. Ed. Paul J. Achtemeier, Bangalore, Theological Publications in India, 1994, p. 1042)

’’عہد نامۂ جدید کی کتابیں اس دور کی مروجہ زبان یونانی کوائنی میں لکھی گئی تھیں۔ ‘‘

یہی مصنف مزید لکھتا ہے:

‘‘One of the first efforts to render the Greek Gospel into Syriac was that of Tatian, who produced what has come to be called the Diatessaron . ... He wove the four Gospels together into one continuous account. It came to be known in the East as the “mixed” Gospel. The whole work had some fifty-five chapters, and that suggests that the Diatessaron was designed to be read in the churches. The Diatessaron became very popular and was translated into a number of other languages (Persian, Arabic, ... In 1933, a fragment of the Diatessaron in Greek was discovered and so there has been some debate on whether the “harmony” was made first in Greek and then translated into Syriac or whether it was made in Syriac to begin with.
For some time, the Diatessaron circulated side by side with other Syriac translations of the Gospels, known as the Old Syriac vss. ... As time went on, the Old Syriac vs was superseded by the Peshitta.
The Peshitta (Syriac, “simple”) was prepared in the early part of the fifth century and became the standard version of the Syriac church. ...
In A.D. 509, Philoxenus, bishop in eastern Syria, asked a certain Polycarp to revise the Peshitta. His effort was in turn revised again in 616 by Thomas Harkel. ... There is also the Palestinian Syriac vs in the Aramaic dialect of Christians in Palestine.’’ (Harper’s B. D., Gen. Ed. Paul J. Achtemeier, op.cit., pp. 1047, 48)

’’یونانی انجیلوں کا سریانی میں ترجمہ کرنے کی اولین کوششوں میں سے ایک کوشش طاشیئن کی تھی، جس نے ڈایاٹسران نامی کتاب تخلیق کی۔... اس نے چار انجیلوں کو یکجا مربوط کرکے ایک مسلسل بیان کی شکل دے دی۔ مشرق میں اسے ’مخلوط‘ انجیل کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ ساری کتاب کے کوئی پچپن ابواب تھے۔ اس سے ظاہر ہوتاہے کہ ڈایا ٹسران کلیسیاؤں میں تلاوت کے لیے مرتب کی گئی تھی۔ ڈایا ٹسران نے بہت قبولیت عامہ حاصل کی اور اس کا متعدد دوسری زبانوں میں ترجمہ کیا گیا (فارسی، عربی، لاطینی، ولندیزی،عہد وسطی کی جرمن، قدیم اطالوی، اور درمیانے دورکی انگریزی)۔ ۱۹۳۳ء میں ڈایاٹسران کا یونانی زبان میں ایک ٹکڑا دریافت ہوا جس کے نتیجے میں یہ بحث چل نکلی کہ کیا یہ ’ انجیلوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے والی کتاب‘ کا پہلے یونانی میں لکھ کر پھر سریانی میں ترجمہ کیا گیا تھا یا یہ شروع ہی سے سریانی میں لکھی گئی تھی ]واضح رہے کہ ڈایا ٹسٹران بذات خود کوئی ایسی انجیل نہیں جو مسیحیوں کی مسلمہ بائبل (عہد نامۂ جدید) میں باقاعدہ شامل ہو۔ یہ تو چاروں انجیلوں کے بعض اجزا کاایک تقابلی مطالعہ ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ شروع میں یونانی میں لکھا گیا اور بعد میں اس کا سریانی میں ترجمہ کیا گیا، یا یہ شروع ہی سے سریانی میں لکھا گیا۔ اتنی بات صاف واضح ہے کہ اصلاً یہ یونانی زبان میں لکھی گئی اناجیل سے مرتب کیاگیاہے بہرحال یہ یونانی سے ترجمہ ہے اس کی اصل سریانی ہرگز نہیں[۔
کچھ وقت تک تو ڈایاٹسران انجیلوں کے ان دوسرے سریانی تراجم کے پہلو بہ پہلو زیر استعمال رہی جنھیں قدیم سریانی تراجم کے نام سے یاد کیا جاتاہے۔... جوں جوں وقت گزرتا گیا، پشیتا قدیم سریانی تراجم کو ختم کرکے ان کی جگہ لیتی رہی۔
پشیتا پانچویں صدی عیسوی کے ابتدائی حصے میں تیار کی گئی تھی اور یہ سریانی کلیسیا کا اسٹینڈرڈ ورژن (معیاری و مستند ترجمہ) بن گئی۔...
۵۰۹ عیسوی میں مشرقی شام کے بشپ فلوکسینس نے پولی کارپ نامی ایک شخص کو پشیتا کی نظر ثانی کے لیے کہا۔ آگے چل کر اس کی اس کاوش پر ۶۱۶ ء میں تھامس آف ہرقل نے دوبارہ نظر ثانی کی ۔...فلسطینی مسیحیوں کی آرامی بولی میں بھی فلسطینی سریانی کا ایک ترجمہ موجود ہے۔‘‘

سر فریڈرک کینین اپنی کتاب ’ہماری بائبل اور قدیم مسودات‘ میں لکھتے ہیں:

‘‘Several Arabic versions are known to exist, some being translations from the Greek, some from Syriac, and some from Coptic, while others are revisions based upon some or all of these. None is earlier than the seventh century, perhaps none so early; and for crirtical purposes none is of any value.’’ (Sir Frederic Kenyon, Our Bible and the Ancient Manuscripts, NY, Harper and Brothers: Publishers, 1951, p.170)

’’یہ بات معروف ہے کہ متعدد عربی تراجم بھی موجود تھے۔ ان میں سے بعض کا یونانی زبان سے ترجمہ کیا گیا تھا، بعض کا سریانی سے اور بعض کا قبطی سے، جبکہ دوسرے تراجم ان میں سے بعض یا تمام کی نظر ثانی پر مبنی ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی ساتویں صدی سے پہلے کا نہیں،بلکہ شاید کوئی بھی زیادہ قدیم نہیں اور ان میں سے کسی کی بھی تنقیدی مقاصد کے سلسلے میں کوئی قدروقیمت نہیں۔‘‘

ایف ایف بروس اپنی کتاب ’دی بکس اینڈ دی پارچمنٹس‘ میں ر قم طراز ہیں:

‘‘Aramaic remained the vernacular tongue of Palestine, as well as Syria and other adjoining territories, until the Arab conquest of these lands in the seventh century A.D. It was thus the language commonly spoken in Palestine in NT times, the customary language of our Lord and His apostles and the early Palestine church.’’ (F. F. Bruce, The Books and the Parchment, London, Pickering & Inglis Ltd., 1963, p. 56)

’’آرامی زبان فلسطین ، شام اور اس سے ملحق دوسرے علاقوں کی ساتویں صدی عیسوی میں عربوں کے ہاتھوں فتوحات تک ان علاقوں کی روزمرہ کی مقامی زبان کی حیثیت سے موجود رہی ۔ اس طرح یہ ایک ایسی زبان تھی جو عہد نامۂ جدید کے دور میں فلسطین میں عام طور پر بولی جاتی تھی اور ہمارے خداوند (حضرت عیسیٰ )، ان کے حواریوں اور ابتدائی فلسطینی کلیسیا کی روزمرہ کی زبان تھی۔ ‘‘

اوپر جو کچھ پیش کیا گیا ہے،اس سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ ابتداءً کوئی بھی انجیل سریانی زبان میں نہیں لکھی گئی تھی، بلکہ ضرورت کے تحت اولاً دوسری صدی عیسوی میں اس کا سریانی میں ترجمہ کیا گیا تھا۔ بعد میں پانچویں، چھٹی، ساتویں صدی عیسوی میں بھی انجیل /عہد نامۂ جدید کے سریانی زبان میں مختلف تراجم وجود میں آئے۔ ظاہر ہے کہ اگر بائبل کا عہد نامۂ جدید (انجیل وغیرہ) سریانی زبان میں لکھا گیا تھا تو پھر اس کا سریانی میں ’ترجمہ‘کرنے کی کیا ضرورت تھی۔
جناب محمد اسلم صدیق صاحب نے یہ جو لکھا ہے:’حقیقت یہ ہے کہ اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ حضرت عیسیٰ یا ان کے حواری اور ابتدائی متبعین یونانی زبان جانتے تھے۔ ‘ تو اس سلسلے میں گزارش ہے کہ اوپر کوئی تیس چالیس حوالوں سے یہ ثابت کیا جا چکا ہے کہ ’حضرت عیسیٰ، ان کے حواری اور ابتدائی متبعین یونانی زبان جانتے تھے۔‘ اب بھی کوئی شخص یہ کہتا رہے کہ ’’اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ حضرت عیسیٰ یا ان کے حواری اور ابتدائی متبعین یونانی زبان جانتے تھے ‘‘ تو :

کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا!


اور یہ جو فرمایا گیا ہے :

’’اردو دائرۂ معارف اسلامیہ کے مقالہ نگار نے Jewish Ency ۹/۲۴۷ کے حوالے سے ذکر کیا ہے کہ Papias جو دوسری صدی میلادی کے اوائل کا ماخذ ہے، بتاتا ہے کہ متی نے مسیح کے ملفوظات کا مجموعہ کسی تاریخی ترتیب کے بغیر عبرانی (یا آرامی) زبان میں تیار کیا تھا اور مرقس نے متفرق طور پر پطرس حواری سے جو کچھ سنا تھا، اسے مرتب کیا تھا۔ اور ظاہر ہے کہ پطرس کی زبان بھی یونانی نہیں تھی، بلکہ عبرانی اور آرامی آمیز سریانی ہی تھی تو واضح ہوا کہ متی اور مرقس کے صحیفے یونانی زبان میں نہیں لکھے گئے تھے۔ ‘‘

تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ یہ شوشہ صرف پاپیاس نے چھوڑا تھا کہ متی نے اپنی انجیل آرامی زبان میں لکھی تھی۔ آگے چل کر جس نے بھی یہ بات کہی ہے ، اس نے یا تو پاپیاس کے حوالے سے کہی ہے یا اس کا ماخذ پاپیاس ہے۔ لیکن کسی بھی صاحب تحقیق عالم نے پاپیاس کی یہ بات قبول نہیں کی۔ اگر کسی نے پاپیاس کے ساتھ رعایت کا سلوک کیا ہے، تو اس نے بھی بس یہی بات کہی ہے کہ غالباً پاپیاس کی مراد یہ تھی کہ ابتدا میں متی نے حضرت عیسیٰ کے حوالے سے کچھ یادداشتیں مختصر طور پر آرامی زبان میں لکھ لی تھیں ، لیکن بعد میں جب اس نے موجودہ انجیل لکھی ،تو وہ یونانی ہی میں تھی۔ہم اس کی وضاحت اوپر تفصیل سے بیان کر چکے ہیں،اس لیے یہاں اس کے متعلق مزید کچھ لکھنا تحصیل حاصل ہے۔ باقی رہا معاملہ انجیل مرقس کا تو جو کچھ اس سلسلے میں لکھا گیا ہے،وہ محض مغالطہ آرائی ہے۔ یہ بات تو کسی حد تک درست ہے کہ انجیل مرقس کا ماخذ پطرس حواری ہے اور یہ بھی درست ہے کہ پطرس آرامی زبان جانتا تھا ، لیکن یہ بات درست نہیں کہ مرقس نے اپنی انجیل یونانی میں نہیں، بلکہ آرامی میں لکھی تھی۔اس سلسلے میں بھی اوپر حوالہ گزر چکا ہے۔ باقی رہا جناب مضمون نگار کا یہ ارشاد : ’نیز اردو دائرۂ معارف اسلامی کے مقالہ نگار نے The Birth of Christ, Alfred Loisey Religion صفحہ ۳۶۶ تعلیقہ ۶۰ کے حوالے سے لکھا ہے کہ یوحنا کی انجیل آرامی میں تحریر تھی۔ ‘ تو اس سلسلے میں گزارش ہے کہ یہ صرف چند لوگوں کی بے بنیاد اور بے دلیل رائے ہے۔ اس انجیل کی اندرونی اور لسانی شہادت اور معتبر صاحب تحقیق نقادان فن کی دو ٹوک رائے سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ یہ یونانی زبان میں لکھی گئی تھی۔اس سلسلے میں صرف ایک اقتباس پیش کیا جاتا ہے (اگرچہ اوپر سارے عہد نامۂ جدید کے یونانی میں لکھے جانے کے سلسلے میں متعدد اقتباس دیے جا چکے ہیں اور انجیل یوحنا عہد نامۂ جدید کا ایک حصہ ہے، لہٰذا ظاہر ہے کہ وہ بھی یونانی ہی میں لکھی گئی تھی):

‘‘Some (Wellhausen, Burney, Torrey) have suggested that John is a translation of an Aramaic original; the majority of scholars have not accepted this proposal, since the Greek is not evidently a translation. There are some Hebrew and Aramaic words which are interpreted (1:38, 41f; 4:25; 5:2; 9:7; 19:17; 20:16, 24). Boismard cautiously concludes that while it is too much to say that the entire Gospel had an Aramaic orignal, it is possible that parts of it may have been composed in Aramaic.’’ (John L. McKenzie, D.B. op. cit., p. 447).

-------------------------------

 

بشکریہ ماہنامہ اشراق

تحریر/اشاعت جولائی 2006
مصنف : عبدالستار غوری
Uploaded on : Sep 07, 2016
869 View