“اکثریت کی آمریت” - خورشید احمد ندیم

“اکثریت کی آمریت”

 

جمہوریت اکثریت کی آمریت نہیں ہے۔ جو ایسا سمجھتا ہے اسے علمِ سیاسیات کے مبادیات کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ 
جمہوریت کے ناقدین کی عمومی روش یہ ہے کہ وہ اس کے خلاف ایک مقدمہ قائم کرتے ہیں{ پھر اس خود ساختہ مقدمے کا اپنے تئیں رد کرتے ہیں، اس کے بعد فتح کے پھریرے لہراتے میدان میںنکل آتے اور جمہوریت کی شکست کا جشن مناتے ہیں۔ ایسا ہی ایک مقدمہ یہ ہے کہ ''جمہوریت اکثریت کی آمریت ہے‘‘ یا یہ کہ جمہوریت اسلام کے خلاف ہے کیونکہ قرآن مجید کہتا ہے کہ''اکثریت راستے سے بھٹکانے والی ہے‘‘ یا پھر ''پاک اور ناپاک برابر نہیں ہوتے‘‘۔ آج ایک نظر ان دونوں مقدمات پر ڈالتے ہیں۔
جمہوریت ایک سیاسی تصور اور سماجی رویہ ہے‘ جو انسان کی تکریم اور شرف کی اساس پر کھڑا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ نظم اجتماعی کی تشکیل میں فرد کی رائے معتبر ہے۔ یہ تصور جب امرِ واقعہ بنتا ہے تو چند اجزا کی صورت میں متشکل ہوتا ہے۔ اس کا ایک جزو بالغ رائے دہی ہے۔ ایک پارلیمان ہے۔ ایک آئین ہے، جسے اہلِ علم عمرانی معاہدہ کہتے ہیں اور (General will) سے بھی موسوم کرتے ہیں۔ بنیادی انسانی حقوق کا احترام جمہوریت کا حصہ ہے۔ کسی ایسے معاشرے کو جمہوری نہیں کہا جا سکتا‘ جس میں انسانی حقوق پامال ہوتے ہوں۔ جمہوریت میں تمام شہریوں کے بنیادی حقوق مساوی ہوتے ہیں۔ اس باب میں یہ تصور اکثریت اور اقلیت کے فرق کو قبول نہیں کرتا۔ دنیا میں اقلیتوں کے حقوق کی سب سے بڑی علم بردار جمہوری ریاستیں ہیں۔
امریکی انتخابات میں ایک اہم بات یہ سامنے آئی کہ ڈیموکریٹس کے خلاف جو فرد قرارداد جرم مرتب ہوئی، اس میں ایک جریمہ یہ بھی تھا کہ وہ اقلیتوں کے بارے میں زیادہ حساس ہیں۔ معروف امریکی دانش ور فوکویاما نے، ان انتخابات سے پہلے ''فارن افئیرز‘‘ ( جولائی، اگست 2016ء) میں امریکی سیاسی نظام کے زوال پر ایک مضمون لکھا تھا‘ جس میں ایک سروے کا ذکر کیا گیا‘ جو صدر ٹرمپ کے حامیوں سے لیے گئے انٹرویوز پر مشتمل ہے۔ اپریل میںکیے گئے Quinnipiac Universityکے اس سروے کے مطابق ٹرمپ کے اسی فی صد حامیوں کو ایک شکایت یہ تھی کہ ڈیموکریٹس کی حکومت اقلیتوں کی حمایت میں بہت آگے تک چلی گئی۔ ڈیموکریٹس اسی جمہوری عمل کا حصہ ہیں۔ ٹرمپ کے لیے یہ آسان نہیں کہ وہ ایک امریکی آئین کی مخالفت کرے‘ جو اب کالے گورے اور مرد و زن کی تمیز کو قبول نہیں کرتا۔ امریکہ اس مرحلے سے گزر چکا۔ ٹرمپ کے لیے بھی ممکن نہیں کہ وہ تاریخ کے پہیے کو الٹا گھما سکیں۔
پاکستان کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔ اس کا آئین ایک پارلیمنٹ کا منظور کردہ ہے جو پارلیمانی نظام کو ریاست کے بنیادی اصولوں میں شمار کرتا ہے۔ انہی اصولوں میں بنیادی انسانی حقوق اور آزادیوں کا تحفظ بھی شامل ہے۔ یہ آئین اکثریت نے بنایا۔ یہی نہیں، پاکستان مسلم اکثریتی تشخص کی بنیاد پر قائم ہونے والی ایک ریاست تھی لیکن اس کے باوجود، قائد اعظم نے 11 اگست 1947ء ہی کو یہ واضح کر دیا تھا کہ یہاں اکثریت کی آمریت نہیں قائم ہونے جا رہی ہے۔ اکثریت کسی فرد یا گروہ کے بنیادی حقوق سلب نہیں کر سکتی۔ یہ بات جمہوریت کے بنیادی اسباق میں شامل ہے۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کا جھنڈا انہی لوگوں نے اٹھا رکھا ہے‘ جو جمہوریت کے علم بردار ہیں۔ اس لیے اگر کوئی اسے اکثریت کی آمریت کہتا ہے تو یہ جمہوریت کے خلاف قائم ایک خود ساختہ مقدمہ ہے۔
اب آئیے اس مقدمے کی طرف کہ قرآن مجید نے نظم اجتماعی کی تشکیل میں، اکثریت کو بطور بنیاد قبول نہیں کیا۔ یہ کہنا قرآن فہمی کا افسوسناک مظاہرہ ہے۔ اس حوالے سے جو آیات پیش کی جاتی ہیں، اس میں سے کسی ایک کا تعلق سیاسی نظام کی تشکیل سے نہیں ہے۔ قرآن مجید الہامی روایت کے تسلسل میں اپنا مقدمہ پیش کر رہا ہے کہ لوگوں کو مرنا اور ایک دن اپنے رب کے حضور میں پیش ہونا ہے۔ یہ مقدمہ اس لیے حق پر مبنی نہیں ہے کہ لوگوں کی اکثریت اس کو قبول کرتی ہے۔ یہ اس لیے حق ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے بیان کیا گیا ہے۔ اسی کے تناظر میں سورہ انعام میں یہ فرمایا گیا کہ آپ اکثریت کی رائے پر چلیں گے تو یہ حق کے راستے سے بھٹکانے والے ہیں۔ سورہ مائدہ میں پہلے یہ بیان ہوا کہ حالت احرام میں خشکی کا شکار منع ہے۔ اس کے بعد بتایا گیا کہ اﷲ تعالیٰ ہر بات سے باخبر ہے۔ پھر یہ کہا گیا کہ ناپاک کی کثرت کتنی ہی فریفتہ کرنے والی ہو، پاک اور ناپاک برابر نہیں ہو سکتے۔ ان آیات کا تعلق قرآن مجید کے بنیادی مقدمے سے ہے جو سارے انبیاء پیش کرتے رہے ہیں۔ اس کا کسی نظم اجتماعی کی تشکیل سے کوئی تعلق نہیں۔
قرآن مجید اقوال زریں کا مجموعہ نہیں۔ یہ اﷲ کی کتاب ہے جو حسنِ کلام کا شاہکار ہے۔ اس امت کا اجماع ہے کہ قرآن مجید کی موجودہ ترتیب توقیفی یعنی اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ نبیﷺ نے وحی کی راہنمائی میں اس کو ترتیب دیا۔ اس کا ایک نظم ہے جو آیات میں ہے اور سورتوں میں بھی۔ اس کو نظر انداز کرکے آیات کی کوئی تفسیر نہیں کی جا سکتی‘ ورنہ نظمِ کلام کا تصور بے معنی ہو جائے گا۔ پھر تو اسے اسی صورت میں مرتب کر دینا چاہیے تھا‘ جس میں یہ نازل ہوا تھا۔ اس نظم کو سامنے رکھیں تو یہ ممکن نہیں کہ ان آیات کو جمہوریت یا کسی نظم اجتماعی سے متعلق کیا جائے۔
قرآن مجید نے ہمیں اس کتاب پر عمل کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انفرادی اور اجتماعی امور میں ہم اس کی بات مانیں۔ اس نے مختلف آیات میں نکاح و طلاق سے لے کر سیاسی نظم تک، ہمیں ہدایات دی ہیں۔ جہاں جو بات کہی گئی ہے، سخن فہمی کا تقاضا ہے کہ وہاں سے وہی بات اخذ کی جائے۔ نظمِ اجتماعی کیسے تشکیل پائے گا، اس کے لیے اصولی راہنمائی سورہ شوریٰ میں دے دی گئی، ''ان کے معاملات باہمی مشاورت سے چلتے ہیں‘‘۔ اس کا نام جمہوریت ہے۔ مکرر عرض ہے کہ جمہوریت حق و باطل کا فیصلہ نہیں کرتی، یہ فصلِ نزاع کرتی ہے۔ حکومتوں کے قیام کی اصل علت امن کا قیام اور بنیادی حقوق کا احترام ہے۔ تاریخ کی شہادت بھی یہی ہے کہ امن وہی حکومتیں قائم کر سکتی ہیں‘ جنہیں اکثریت کا اعتماد حاصل ہوتا ہے۔ یہ بات میں پہلے لکھ چکا کہ غلطی کا امکان جمہوریت سمیت ہر نظام میں موجود ہوتا ہے۔ جمہوریت کا فیضان یہ ہے کہ اس میں اصلاح کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ عوام چاہیں تو اپنا فیصلہ بدل سکتے ہیں۔
یہ عامیانہ مثال بھی دی جاتی ہے کہ جمہوریت میں سو بچوں کے قاتل جاوید اقبال اور ایک پرہیز گار آدمی کا ووٹ برابر ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ بیس کروڑ کی آبادی میں کتنے جاوید اقبال ہوتے ہیں؟ قانون اور اصول اکثریت کی بنیاد پر بنتے ہیں، استثنا کی بنیاد پر نہیں۔ اگر دنیا میں چند افراد آدم خور پائے جاتے ہوں تو کیا یہ مان لیا جائے کہ اکثریت اسی وجہ سے قابل بھروسہ نہیں رہی کہ ان میں چند افراد آدم خور بھی ہیں؟
جمہوریت کے بارے میں ناقدین کا رویہ وہی ہے جو مذہب بیزار لوگوں کا مذہب کے بارے میں۔ وہ مذہب کی ایک خود ساختہ تعبیر کرتے اور اس کے ساتھ چند اہل مذہب کے قابلِ اعتراض رویے کو بنیاد مان کر، مذہب کی نفی کرنا چاہتے ہیں۔ جس طرح مذہب کا مقدمہ اس رویے سے غلط ثابت نہیں ہو سکا‘ اسی طرح جمہوریت کا مقدمہ بھی خود ساختہ تعبیرات سے غلط ثابت نہیں ہو سکتا۔

-------------------------------

 

بشکریہ روزنامہ دنیا

تحریر/اشاعت 16 نومبر 2016

 

مصنف : خورشید احمد ندیم
Uploaded on : Nov 17, 2016
685 View