الحادِ جدید اور ہم - ساجد حمید

الحادِ جدید اور ہم

 

[یہ مضمون ۲۰۱۳ء میں ایک سمپوزیم میں پڑھا گیا تھا۔ دین کے میدانِ تحقیق میں ہمارے عہد کا سب سے اہم مسئلہ الحاد ہے۔ الحاد کو آج ایک علمی درجہ مل چکاہے، اسے اب تشکیک یا سوفسطائیت کہہ کر رد نہیں کیا جاسکتا۔الحاد کی اسی سنگینی اور سنجیدگی کو اس مقالے میں مسلمان علما و محققین کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں تاکہ وہ اپنے زور تحقیق کو اس میدان میں بھی صرف کریں۔ مصنف]

الحاد کیا ہے؟

کسی ایک خدا یا سب خداؤں کے انکار کو الحاد کہا جاتا ہے۔
جدید الحاد انگریزی زبان میں الحاد کا مترادف atheism ہے۔ اردو میں اسے دہریت بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے معنی خدا کو ماننے کے عقیدے سے انکار کے ہیں ۔ یہ انکار سوچا سمجھا بھی ہو سکتا ہے اور بلاسوچے سمجھے قدرتی طور پر بھی۔لیکن جدید atheism اس انکار خدا سے متعلق نہیں ہے، جو جہالت پر مبنی ہو۔یعنی مذہبی تعلیمات سے نا آشنائی کی بنا پر پیدا ہونے والا الحاد، اصلاً الحاد نہیں ہے۔ محض خدا کے نہ ہونے کا نظریہ کمزور الحاد ہے۔آج کا الحاد یہ ہے کہ آدمی یہ مانے کہ نہ خدا ہے اور نہ خدا ہوسکتا ہے۔ کمزور الحاد محض scepticism یا سو فسطائیت (sophist-ism) ہے۔ جب کہ یہ الحاد دراصل واضح طور پر انکار خدا ہے۔ دیکھیے (mathew 1997)۔ 
سیکولر ہیومن ازم بھی الحاد ہی پر مبنی naturalistic philosophy ہے، جو تقریبا ۱۹۷۳ء کے بعد شروع ہوئی ہے۔ جس کے مطابق انسان غیر مخلوق ہستی ہے، جو خود بخود ارتقا کے نتیجے میں ظاہر یا پیدا ہوئی ہے، جس میں خود شعوری اور اخلاق کی تمییز کی صلاحیت (moral agency) ہے۔سیکولر ہیومن ازم consequentialist ethics پر یقین رکھتا ہے۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ اخلاق نتائج کی بنا پر مانے جاتے ہیں۔اسے atheism اور agnosticism سے اگلی سٹیج مانا جارہا ہے۔ 
اس مقالہ میں ہم الحاد کو واضح معنی میں انکار خدا کے معنی میں لے رہے ہیں۔ اس لیے کہ آج کاالحاد اسی معنی کا حامل ہے۔جیسا ہم نے عرض کیا الحاد کا انگریزی مترادف atheism ہے۔ جو یونانی لفظ atheos سے نکلا ہے، جس کے معنی without god کے ہیں۔ انکارِخدا اسلامی لحاظ سے تو خداے واحد کا انکارہے۔ لیکن تمام مذاہب کا خیال رکھا جائے تو دیوتاؤں اور خداؤں کے انکارکا نام بھی ہے۔ہم اہل اسلام کے لیے ایک اور اصلی خدا کا انکار ہی حقیقی الحاد ہے۔ جھوٹے خداؤں کا انکار اسلام میں توحید کی علامت ہے۔
عصر رواں میں آزادی کے غیر محدود تصورکی وجہ سے پیدا ہونے والی آزاد سوچ ، تشکیک پسند استشکاف (sceptical inquiry) اور مذہب پر پچھلی صدیوں میں بڑھتی ہوئی تنقید کی وجہ سے ملحدین میں اضافہ ہوا ہے۔ الحاد کے حق میں استدلال، سائنس، فلسفہ، عمرانیات، اور تاریخ سے لایا گیا ہے۔ مثلاً یہ کہ خدا کی موجودگی کے بارے میں ہمارے پاس کوئی شاہد (empirical evidence) موجود نہیں ہے، مسئلۂ شر (problem of evil)، اہل مذاہب میں خدا کا مختلف تصور ، اختلافِ شرائع انبیا وغیرہ۔ ۲۰۱۲ء کے سرو ے کے مطابق اس وقت دنیا میں لادین افراد کی تعداد تیرہ سے سولہ فیصد کے درمیان ہے ۔اور اس تعدادمیں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔الحاد، جدید رجحان نہیں زمانۂ قدیم سے چلا آرہا ہے۔ بعض مذاہب نما فلسفے قدیم زمانے میں بھی موجود رہے ہیں جو کم از کم خدا کی بات کرتے دکھائی نہیں دیتے، جیسے جین مت اوربدھ مت، وغیرہ کے بعض مسالک الحادپسند رہے ہیں۔

جدید الحاد کی نوعیت

قدیم الحاد ایک نوعیت میں سادہ تھا۔ مگر آج کا الحاد نیچرل ازم، عمرانیات اور فلسفہ کے زیر سایہ بہت زیادہ مدلل ہو چکا ہے۔ہم ان دلائل کو جتنا بھی بودا کہیں، وہ اپنے اپنے نظام العلم میں مضبوط دلیلیں ہیں۔ مثلاً مسئلۂ شر problem) (of evil فلسفے میں، خاص طور سے مارکس کے بعد ، ایک بڑے مسئلے کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ اسی طرح سائنس میں نظریۂ ارتقا اور بگ بینگ facts کی طرح مانے جا رہے ہیں۔ ان کی بنیاد پر نئے نظریات وجود پذیر ہورہے ہیں، جیسے کہ یہ کائنات لاشئ سے بنی ہے،اور جس طرح سے بنی ہے، اس میں خدا کی موجودگی ماننے کی ضرورت نہیں ہے۔ یعنی خدا کے بغیر اس کی تخلیق اور تدبیر امور کی توجیہ کچھ اس انداز میں کردی گئی ہے کہ اب ہر علت و معلول کا رشتہ مادے سے شروع ہوتا او ر مادے پر ہی ختم ہو جاتا ہے۔ عہد قدیم کا ممکن الوجود مادہ اب واجب الوجودبن چکا ہے، وہی خالق ہے،وہی قدیم ہے۔
پہلے الحاد کو ماننے والوں کو سوفسطائیت کا طعنہ دے کررد کردیا جاتا تھا، اب ایسا کرنا ممکن نہیں ہے،اس لیے کہ الحاد کو اب سائنس اور ٹیکنالوجی کا سہارا حاصل ہے۔سائنس نے زندگی کے ہرہر میدان میں کامیابی حاصل کرلی ہے، جس کی وجہ سے ایک طرف لوگوں کا سائنس اور سائنس دانوں پر اعتماد پیداہوچکا ہے۔ اس قدر کہ ہمارے عہد میں یہ علم کا سب سے معتمد شعبہ بن چکا ہے۔ دوسری طرف سائنس کے اہل مذہب اور مذہبی کتابوں میں مسلسل غلطیاں ثابت کرنے کی وجہ سے ان پر لوگوں کا اعتماد ختم ہو رہا ہے۔ لہٰذا الحاد ایک مضبوط ترین نظریے کے طور پر سامنے آرہا ہے۔ اس کو محض برا کہنے یا سو فسطائیت کا نام دے دینے سے مسئلہ حل ہونے والا نہیں ہے، بلکہ یہ ضروری ہے کہ اب علمی میدان میں اتر کر اس کا مقابلہ کیا جائے اور عقل و برہان کے ذریعے سے الحاد کو رد کیا جائے یا مذہب کو ثابت کیا جائے۔ اگر دونوں کام ہوں تو زیادہ بہتر ہے۔

ملاحدہ کا استدلال

اہل الحاد کا استدلال کئی پہلوؤں سے سامنے آتا ہے۔جن میں نمایاں ترین: مذہبی، تاریخی، عمرانی ، فلسفیانہ اور سائنسی بنیادوں پر کیے جانے والے اعتراض ہیں۔اب ہم ان تمام کو الگ الگ لے کر زیربحث لاتے ہیں:

مذہبی استدلال

مذہبی استدلال کے معنی یہ ہیں کہ الحاد پرستی نے پچھلی ڈیڑھ دو صدی میں تقریباً تمام مذہبی کتابوں کو غلط ثابت کیا ہے۔ سائنسی بنیادوں پر بہت سے جملوں اور آیات کو ہدف تنقید بنایا گیا ہے۔ مثلاً بائیبل کا انسانی تاریخ کو زیادہ سے زیادہ چھ ہزار سال میں بند کرنا، جب کہ سائنس ساٹھ ہزار سال پرانے انسان کا ثبوت رکھتی ہے۔ اسی طرح قرآن مجید ہی کے بارے میں دیکھیں تو پوری پوری ویب سائٹس اس کے لیے موجود ہیں جس میں قرآن کی سائنسی، لسانی، جغرافیائی، تاریخی غلطیاں اور قرآن مجید کے داخلی تضادات بتانے کی کوشش کی گئی ہے۔ غرض ملحدین کی طرف سے ہر مذہبی کتاب کو غلط قرار دینے کی کوششیں جاری ہیں۔قرآن مجید شاید ان میں سب سے زیادہ نشانۂ مشق بنایا جارہا ہے۔مثلاً یہ کہ قرآن مجید یہ کہتا ہے کہ فرعون نے جادو گروں سے کہا کہ میں تمھیں صلیب کر دوں گا۔۱؂ اس پر اعتراض یہ ہے کہ مصر میں صلیب کا رواج نہیں تھا۔یا مثلاً یہ کہ قرآن مجید کسی جگہ کہتا ہے کہ اللہ کے نزدیک دن کی لمبائی ایک ہزار سال کے برابر ہے،۲؂ جب کہ دوسری جگہ خود قرآن ہی ایک دن کو پچاس ہزار سال ۳؂ کے برابر قرار دے دیتا ہے۔ قرآن مجید کہتا ہے کہ پانچ چیزیں اللہ کے سواکوئی نہیں جانتا، اس میں رحم مادرمیں بچہ اور بارش کا وقت شامل تھے۔ اب سائنس دانوں نے کم از کم ان دونوں کو جاننا شروع کردیا تو پہلے مسلمان ان آیتوں کو سادہ معنی میں لیتے تھے اور اب معنی بدل دیے۔ مثلاً رحم مادر میں کیا ہے؟ اس سے مراد وہ یہ لیتے تھے کہ بیٹا یا بیٹی، مگر سائنسی اعتراض کے بعد انھوں نے شقی اور سعید (یعنی خوش بخت اوربد بخت) لینا شروع کردیا۔ وغیرہ۔
اس عمل سے دراصل الحاد پرستوں نے مذہب کی بنیادیں ڈھانے کی کوشش کی ہے۔ ان کا مقصود یہ ہے کہ خدا تو وہ ذات ہے، جس میں غلطی نہیں پائی جاتی، اس کا علم کامل ہوتا ہے۔جب ان کتب میں غلطی پائی گئی ، تو اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ اللہ کی کتابیں نہیں ہیں۔جب تمام کتب جن کے الہامی ہونے کا دعویٰ تھا، غلطیوں سے بھری ہوئی پائی گئیں، تویہ بات ملحدین کی حد تک پایۂ ثبوت کو پہنچ گئی کہ اللہ موجود نہیں ہے،کیونکہ اگر اللہ ہوتے تو ان کتب میں ایسی واضح غلطیاں نہ ہوتیں۔ (أعوذ باللّٰہ أن أکون من الجاہلین
تمام اہل مذہب اس چیلنج کی شدت کو صحیح طرح سے محسوس نہیں کررہے ہیں، بلکہ سارے معاملے کو محض ایک سادہ روی سے لیا جارہا ہے۔ شایدیہ سب معجزات کا انتظارکررہے ہیں کہ یہ مصیبت خود ہی ٹل جائے گی، جب کہ ایسا ہو نے والا نہیں ہے۔
مذہبی استدلال کا دوسرا حصہ مذہب پرستوں کا اخلاقی اور سماجی زوال ہے۔اس وقت بدقسمتی سے مسلمانوں سمیت تمام مذہبی اقوام اپنے خدا کے ایمان کے باوجودناکام و نامراد دکھائی دیتی ہیں۔خود مغرب کے غلبہ کی وجہ عیسائیت کو نہیں، بلکہ سائنس ، ٹیکنالوجی اور آزادی فکر کو قرار دیا جاتا ہے، جب کہ مذاہب بالعموم ان تینوں سے بیر رکھتے ہیں، یا کم از کم ان میں سے بعض کو پسند نہیں کرتے۔مثلاً اسلام ہی کو دیکھیں تو وہ سائنس اور ٹیکنالوجی کو تو پسند کرتا ہے مگرمادر پدر آزادی فکر کو وہ بھی پسند نہیں کرتا۔لہٰذا ایک پکا مہذب ترین مسلمان بھی ایک ایسے سائنس دان کو تنگ کرسکتا ہے، جو غلط قسم کے نظریات کا حامل ہوگا۔اس تنگ کرنے کے عمل کو وہ مذہب کی طرف سے سکھائی ہوئی بری اخلاقیات قرار دیتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ اگر مذہب یہی کچھ سکھاتا ہے تو اس کو بہتر ہے نہ مانا جائے۔ ہم دیکھو کتنے اچھے ہیں کہ ہر کسی کو سوچنے سمجھنے اور جینے کی پوری آزادی دیتے ہیں۔ وغیرہ۔
ایک بات یہ کہی جاتی ہے کہ معجزات اور کرامات اگر اللہ تعالیٰ کرتے تھے تو اب کیوں نہیں ہوتیں۔ اب تو ہر کام اس طریقے سے ہور ہا ہے، جو سائنس کے مطابق طبعی قوانین کے ماتحت ہونا کہلاتا ہے۔آج بھی اہل مذہب کو چاہیے کہ وہ جب بھوک لگے تو خود کھانے کے پاس جانے کے بجاے، کھانے کو اپنے پاس بلائیں۔
مذہبی استدلال کا ایک اہم حصہ یہ بھی ہے کہ الہامی کتابیں ایک دوسرے سے بہت سے امور میں مختلف ہیں۔ تورات، انجیل اور قرآن ہی کو دیکھ لیجیے کہ شریعت کے بہت سے امور میں مختلف ہیں۔ اس کو بھی مذہب کے خلاف دلیل بنایا جارہا ہے کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ کتابیں اللہ کی نہیں ہیں ۔ اگر اس کی ہوتیں تو ایک ہی خدا کی کتابیں ہونے کی وجہ سے ایک جیسی باتیں ہی کرتیں۔

تاریخی استدلال

تاریخ انسانی کو اس رنگ میں پیش کیا جاتا ہے کہ جس سے یہ بات ثابت کی جاتی ہے کہ مذہب کی وجہ سے انسانوں نے انسانوں پر بے انتہا ظلم ڈھائے ہیں۔ عہد عتیق سے لے کر بوسنیا اور چیچنیا کے حالیہ واقعات تک کی تاریخ اس بات پر وہ شاہد بناتے ہیں کہ مذہب ایک خون ریزی کی تحریک ہے، جس نے نسلوں کی نسلیں خداؤں کے بھینٹ چڑھا دی ہیں۔ اگر مذہب حقیقی خدا یا خداؤں کا دیا ہوا ہوتا تو ایسا ہر گز نہ ہوتا، اور مذہب کی اس بے رحمانہ تاریخ کی روشنی میں ہم اسے مان ہی نہیں سکتے۔
وہ کہتے ہیں کہ اسلامی تاریخ بھی جنگ و جدل سے بھری ہوئی ہے۔ مسلمانوں نے غزوۂ بدر سے لے کرسلطنت عثمانیہ کے آخری دن تک معرکے جاری رکھے ہیں۔اسلام تلوار کے ذریعے سے پھیلا ہے۔ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) مکہ میں ایک رحم دل اور شریف انسان دکھائی دیتے ہیں، مگر مدینہ میں آکر اپنے ہی بھائیوں کے خلاف نبرد آزما ہوئے،اور ایک سے زیادہ شادیاں کیں ، جو عام بادشاہوں کی طرح کی زندگی لگتی ہے۔ بلکہ مدینہ میں آکر ایک نابالغ بچی سے شادی رچائی اور غلام بنائے اور انسانیت کی تذلیل کی۔(اللہ مجھے اس کفر کے نقل کے گناہ سے معاف کرے)۔ دیکھیے منٹگمری واٹ کی محمد ایٹ مدینہ(صلی اللہ علیہ وسلم) (WATT 1956) صفحہ ۳۲۷ اور اس سے آگے۔

عمرانی استدلال

اس کے معنی یہ ہیں کہ انسانی معاشرے کے مطالعہ سے یہ ثابت کیا جائے کہ مذہب انسانوں کی اپنی پیدا کردہ چیز ہے۔اس کی تفصیل وہ یوں کرتے ہیں کہ شروع شروع میں انسان کو جن حالات کا سامنا کرنا پڑا، وہ کچھ اس طرح کے تھے کہ وہ جنگل میں ہوتا، سورج کی تیز شعائیں اس کو جلا کررکھ دیتیں، آندھیا ں طوفان اس کو ادھر ادھر پٹختے ، زلزلے اس کو دہشت زدہ کردیتے، شیر چیتے اس جیسے آدم زادوں کو نوچ ڈالتے ،بھنبھوڑتے اور بسا اوقات کھا بھی جاتے، آسمانی بجلی گرتی اور سب کچھ جلا کررکھ دیتی،بارش آتی کبھی ساز گاری لاتی اور کبھی تباہی کا سامان بنتی۔ انسان ان چیزوں کے خوف میں مبتلا ہوا، ان کی توجیہ کرتا، بالآخر وہ اس نتیجہ پر پہنچا کہ یا یہ تمام چیزیں خود صاحب ارادہ ہیں یا ان کے پیچھے کوئی صاحب ارادہ ہستی ہے جو ان کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرتی ہے۔ جن لوگوں نے یہ توجیہ کی کہ یہ تمام چیزیں خود صاحب ارادہ ہیں، انھوں نے ان سب کو خدا مان لیا،اور جن لوگوں نے ان کے ماورا کسی ہستی کو صاحب ارادہ مانا، انھوں نے ان کو تو خدا نہیں مانا، مگر غیر مرئی کسی ذات یا کئی ذاتوں کو خدا مان لیا۔ پھر جیسے جیسے انسانوں کے تجربات سے چیزوں کی حقیقت واضح ہوتی گئی، ویسے ویسے خدا کی تعداد بھی کم ہوتی گئی۔ بعض قوموں نے تین ، بعض نے دو اور بعض نے ایک خدا کا تصور قائم کرلیا۔ گویا جیسے جیسے انسان کا علم بہتر ہوتا گیا، ویسے ویسے چیزوں کی حقیقت واضح ہوتی گئی اور وہ چیزوں کو خدا سے غیر خدا کی فہرست میں ڈالتا گیا۔ اب انسان کا علم جس جگہ پہنچ گیا ہے، اس نے کائنات کو اچھی طرح سمجھ لیا ہے۔ اب اس ارتقا کی اگلی اسٹیج الحاد ہے۔ یعنی یہ ماننا کہ کوئی خدا موجود نہیں ہے۔ مثلاً Diettrich Bonhoeffer (Capitan 1972) کہتا ہے:

We are proceeding towards a time of no religion at all; men as they are now simply cannot be religious any more. (p 194)
’’یعنی ہم ایک لادین وقت کی طرف بڑھ رہے ہیں، آج کا انسان اب مذہبی رہنے والا نہیں ہے۔‘‘

اس استدلال کو یوں بھی بیان کیا جاتا ہے:
پروٹو۔ہیومن سے مکمل انسان بنتے بنتے، انسانوں کے دل میں اپنے بارے میں درج ذیل سوالات ابھرے:
o موسم کو کون کنٹرول کرتا ہے؟ سورج کو کون لاتا ہے، ستارے کس کی وجہ سے حرکت میں ہیں؟
o یہ طوفان کون لاتا ہے؟ بارش کس کے کہنے پر برستی ہے، قحط کون بھیجتا ہے؟سیلاب کس کے حکم کے تابع ہیں؟ 
o زرخیزی کس کے حکم سے قبیلے کی فصلوں اور بھیڑوں اور گائیوں میں برکت دیتی ہے؟
o قبیلے کے نظام کو چلانے کے لیے کیا اصول و ضوابط ہوں کہ قبیلہ پرامن طریقے سے رہ سکے؟
o سب سے بڑھ کر یہ کہ مرنے کے بعد کیا ہوتا ہے؟
سائنس سے پہلے کی دنیا میں یہ سوالات جس قدر اہم تھے، اسی قدر ان کے جواب دینے کے لیے کوئی راستہ سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔ وہ موسموں اور طوفانوں کے پیچھے کے اسباب و علل کو جان ہی نہیں سکتے تھے۔ آج بھی سائنس کی اتنی ترقی کے باوجود ہم آخری دو سوالوں کا جواب دینے سے قاصر ہیں۔ لہٰذا جو ان سوالات کے ساتھ آج ہو رہا ہے ، وہ باقی تمام کے ساتھ ماضی میں ہوا۔ قبیلے کے بعض طبع آزما لوگوں نے خود اپنے خیال و وہم سے ان سوالات کے جواب دینے شروع کیے ۔ یوں پہلا پہلا مذہبی تصور وجود میں آیا ہو گا۔
یہ وہ عمرانی استدلال ہے ، جسے اختیار کرکے مذہب کے بارے میں یہ بات منوانے کی کوشش کی جار ہی ہے کہ مذہب انسانی ذہن کی پیدا وار ہے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ لہٰذا یہ قدیم انسان کے ذہنی وہم سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا، تو جس طرح پرانے انسان کی یہ بات غلط ثابت ہوئی کہ زمین کسی بیل کے سینگ پر نہیں ٹکی ہوئی ہے، بلکہ خلا میں تیر رہی ہے، اسی طرح مذہب بھی غلط تصور ہے، اس لیے کہ اسے انسان ہی نے تراشا ہے، اوراس کے تراشنے کے لیے کوئی حتمی دلیل یا شاہد ان کے پاس نہیں تھا، لہٰذا یہ بھی غلط ہے۔

فلسفیانہ استدلال

اس استدلال کے دو حصے ہیں: ایک ان دلائل کا رد جنھیں اہل مذہب فلسفہ کے طرزواسلوب میں پیش کرتے رہے ہیں۔ مثلاً ڈیزائن سے ڈیزائنر پر استدلال سسٹم سے سسٹم بنانے اور چلانے والے پر استدلال۔ دوسرا حصہ وہ ہے جس میں فلسفہ ہی کے کچھ سوالات ہیں جن کا جواب دینا ناممکن سمجھا گیا ہے۔ اس ضمن میں ایک اہم سوال problem of evil ہے۔ اس کو فلسفی یوں بیان کرتے ہیں:
مذہب میں یہ ماناجاتا ہے کہ خدا اچھا ہے۔ خدا کو اچھا ماننا نہایت مشکل ہے، کیونکہ دنیا میں مصیبت ہی مصیبت ہے۔ برائی اپنی دونوں صورتوں(یعنی شر اور مصیبت کی صورت) میں بہت زیادہ پائی جاتی ہے۔ اگر خدا اچھا ہے، اور وہ ہماراخیال رکھتا ہے، وہ لمحہ لمحہ ہمیں دیکھ رہا ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے تو ذیل کی سطور پر غور کریں:
o خدا قادر مطلق ہے۔
o خدا ہر چیز کو جانتا ہے، خواہ ظاہر ہو یا پوشیدہ۔
o خدا اچھا ہے۔
لیکن چونکہ دنیا میں برائی اور مصیبت موجود ہے، اس لیے تین میں سے کوئی ایک بات غلط ہوگی۔ مثلاً ایک بڑھیا کو گاؤں کے چودھری نے اس کے مرحوم شوہر کی زمینیں چھین کر گاؤں بدر کردیاہے۔ وہ ایک درخت کی کھو میں رہ رہی ہے۔ بھوک پیاس سے بے حال ہے۔ خدا کو پکارتی ہے، لیکن خدا اس کی نہیں سنتا۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ 
o خدا اس برائی اور مصیبت کے لیے کچھ نہیں کرسکتا۔یا
o اسے پتا ہی نہیں کہ برائی دنیا میں ہو رہی ہے۔یا
o اسے پتا تو چل چکا ہے وہ سب کچھ کرسکتا ہے، لیکن وہ اچھا نہیں ہے ۔اسے بڑھیا جیسی انسانی تکالیف سے کوئی پروا نہیں ہے۔ (نعوذ باللہ)
یہ تینوں باتیں خدا کے بارے میں ہمارے تصور سے ٹکراتی ہیں، جو پہلے تین نکات کی صورت میں ہم نے بیان کیں۔ لہٰذا اس بات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یا ہمارا خدا کے بارے میں تصور غلط ہے یا خدا ہے ہی نہیں۔

ایک جواب اور اس کا رد

مذہب کی طرف سے اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ خدا نے یہ سب ہمارے امتحان کے لیے بنایا ہے۔اس دنیا میں برائی کا وجود ہمارے امتحان کے لیے ہے۔ اس پر اعتراض یہ کیا گیا کہ بچے سے کس بات کا امتحان؟ اس کو اتنی اتنی شدید تکالیف سے کیوں گزارا جاتا ہے؟ اس کے جواب میں اہل مذہب کہتے ہیں کہ اس سے ماں باپ کا امتحان ہوتا ہے۔فلسفی یہ کہتے ہیں کہ اللہ کو کوئی اور اچھا طریقہ کیوں نہ مل سکا کہ والدین کو آزمائے؟ اسے اتنے معصوم کو تکلیف دینے ہی کا راستہ ملا، جب کہ وہ علم و حکمت والا مانا جاتا ہے؟
غرض اس طرح سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ یہ دنیا مادے کی غیر شعوری حرکات سے اندھے طریقے پر پیدا ہوئی ہے۔ مصیبت اور برائی کی وجہ یہی ہے کہ یہ کائنات کسی ذاتِ حق کے ارادے سے نہیں، بلکہ مادے کی اندھی حرکات سے پیدا ہوئی ہے ۔ لہٰذااتفاق سے کبھی کام اچھا ہو گیا اور کبھی ناقص رہ گیا۔ اس دنیا کا یہ نقص بتا رہا ہے کہ نہ یہ دنیا خدا نے بنائی ہے نہ خدا موجود ہی ہے۔

سائنسی استدلال

سائنس خود مذہب کی دشمن نہیں ہے، لیکن کچھ فلسفی قسم کے لوگ، اس سے کچھ ایسے نتائج نکال رہے ہیں جو مذہب کو ڈھانے والے ہیں۔

طبعی قوانین کی حاکمیت

سائنس پچھلی ڈیڑھ صدی سے اس بات پر مصر ہے کہ یہ دنیا حکم الٰہی سے نہیں، بلکہ طبعی قوانین سے چل رہی ہے۔ غزالی اور ابن رشد کی لڑائی سے لے کر آج ہیوم اور کانٹ کی لڑائی کے بعد بھی یہ سوال پوری شدت سے موجود ہے ۔ اگر ہم عام فہم زبان میں بات کریں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ بگ بینگ کے وقت سے جو خصائص مادے میں پیدا ہوئے، یہ دنیا انھی کی تال میل سے بنی ہے اور انھی کے توافق و مخالفت سے چل بھی رہی ہے۔مثلاً نمک کی خاصیت یہ ہے کہ وہ چیزوں کونمکین کرے گا، اور نمک سوڈے کے ساتھ مل کر جھاگ بنائے گا اور جوش دکھائے گا، جیسے سوڈا واٹر کی بوتل میں نمک ڈالنے سے ہوتا ہے۔جب بھی سوڈا، پانی اور نمک اکٹھے ہوں گے، یہ جوش ان میں آئے گا۔خواہ یہ تینوں چیزیں ہوا سے اڑ کر اکٹھی ہو جائیں یا ایک انسان ایسا کرے۔غرض یہ کہ سوڈے کے جوش مارنے کے لیے ایک عاقل کی مداخلت ہر گزضروری نہیں ہے۔
مادے کے یہ خصائص بگ بینگ کے وقت خود ہی پیدا ہو گئے تھے،کیونکہ جس طرح دھماکا ہوا اور اس میں جس طرح سے ٹھنڈا ہونے پر پہلے مادے کے پارٹیکل بنے اور پھر ان کے بے ترتیب جڑنے پر ایٹم بنے۔اس سے مختلف النوع مادے بنتے چلے گئے۔ان کے اندر خود بخود جڑنے کی وجہ سے پروٹانوں اور نیوٹرانوں اور الیکٹرانوں کی تعداد مختلف تھی، ان کے اختلاف کی وجہ سے مادے کے ذرات کی خصوصیات مختلف ہوتی چلی گئیں ۔ کئی قسم کے مختلف مادے وجود میں آگئے ۔ جنھیں ایلیمنٹس یا عناصر کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد انھی کے باہمی تعامل سے باقی کام ہوتے چلے گئے۔ مادہ ٹھنڈا ہوتا گیا اور اس کے کئی روپ سامنے آتے چلے گئے۔ مختلف درجہ حرارت، مختلف مادوں کی موجودگی، پانی وغیرہ کی موجودگی یہ وہ امور تھے، جن کے مختلف ہونے کی وجہ سے چیزیں بھی مختلف بنتی چلی گئیں۔ غرض Stephen Hawking کے بقول یہ کائنات نہ ہونے سے ہونے میں خودبخود آگئی،اور چل بھی رہی ہے۔ جس طرح اس کے بننے میں مادے کے خصائص کی کارفرمائی ہے، ویسے ہی اس کے چلنے میں مادے ہی کی کارفرمائی ہے۔ مثلاً زمین و سورج اور چاند ستاروں کی باہمی کشش اور ان کی قوتِ حرکت جو بگ بینگ کے دھماکے سے وجود میں آئی تھی، اس نظام کے قیام کا ذریعہ ہے جسے سولر سسٹم اور بڑے پیمانے پر کائنات کہتے ہیں۔
زندگی کے اسی مادے نے اپنی خاصیتوں کی بنا پر کاربن، نائٹروجن اور بجلی کی قوت سے وہ ابتدائی خلیے بنائے جو پروٹین وغیرہ کے بننے میں کام آتے ہیں۔ یوں سمندر کے کسی گوشے میں اچانک زندگی نے جنم لے لیا ہوگا، اور اربوں سالوں کا سفر کرکے وہ مختلف ارتقائی مراحل طے کرتی ہوئی انسان کے روپ میں ظاہر ہوئی، جو ابھی تک زندگی کی سب سے ترقی یافتہ صورت ہے۔
ان دونوں کے لیے سائنس دانوں کے پاس ناقابل تردید شواہد ہیں۔وہ ان شواہدکو اس رنگ سے پیش کرتے ہیں، جس سے کائنات کا خودبخود پیدا ہونا، اور چلتے رہنا ثابت ہوتا ہے۔ اسی طرح fossils کی شکل میں موجود زندگی کی باقیات کو وہ اس ترتیب اور تناظر میں پیش کرتے ہیں کہ نظریۂ ارتقا ثابت ہوتا ہے۔

نفسیات سے استدلال

فرائڈ کی نفسیاتی دریافتوں سے لے کر آج تک جو نظریات بھی پیدا ہوئے ہیں، ان میں یہ تصور کافی غلبہ پائے ہوئے ہے کہ انسانوں کے اندر نیکی بدی کا تصور پیدایشی طور پر موجود نہیں ہے، بلکہ یہ صدیوں کی اجتماعی زندگی ہے، جس نے کچھ اصولوں کی شکل اختیار کی اور اخلاقیات وجود پذیر ہوئی۔یہ کوئی خدائی فیصلہ نہیں ہے، بلکہ سماجی تصور ہے، جسے نسل در نسل انسان اپنے بڑوں سے سنتے آئے ہیں، یہ بھی اساطیر الاولین ہیں۔ انسان چونکہ سیکھنے والا جانور ہے، لہٰذا اس نے ماں باپ سے اس سبق کو سیکھ سیکھ کر اپنے مافی الضمیر کا حصہ بنا لیا ہے، حالاں کہ یہ اس کے ضمیر میں نہیں تھا۔ یہ super-ego ہے، جسے ہمارا سماج ہمیں سکھاتا ہے۔ اس تصور کو مانتے ہی تمام اخلاقیات ٹریفک کے قانون کی طرح سے غیر الٰہی، غیر ضروری اور غیر ابدی قانون بن کر رہ جاتی ہے۔ جس کی ضرورت صرف ٹریفک کے چلنے کی صورت میں ہے ویسے اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے کہ اس کے لیے دین کو تخلیق کیا جائے۔
اسی غیر اخلاقی قانون کو پرانے وقتوں میں مذہب کا رنگ دے دیا گیا تھا۔اب یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ اس اخلاق کی حیثیت اب روسو کے معاہدۂ عمرانی سے کچھ زیادہ نہیں ہے۔اسے نہ دین سمجھو، نہ دین کی طرح خیال کرو کہ یہ کوئی اخروی نجات کا ذریعہ ہے۔ یہ تو محض زندگی گزارنے کا ایک ایسا طریقہ ہے، جس میں انسان باہمی ہم آہنگی کے ساتھ زندگی گزار سکتے ہیں۔ مذہب بھی اسی سوپر ایگو کا حصہ ہے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔

ذرائع علم کا مسئلہ

دورِ حاضر میں ذرائع علم کو مادی تجربیت کے تحت محدود کردیا گیا ہے۔ایسے کسی ذریعۂ علم کو نہیں مانا جارہا ، جس میں دوسروں کو منواناناممکن ہو۔ مثلاً وجدان میں ایک شخص اگر ایک چیز محسوس کررہا ہے، تو وہ دوسرے کو کیسے بتائے۔ مثلاً سیدنا یعقوب علیہ السلام کے بیٹے جب ان کے پاس قمیصِ یوسف لے کرآتے ہیں ، تو ان کو محسوس ہوتا ہے کہ گویا یوسف آرہے ہیں، تو اس احساس کے تحت وہ فرماتے ہیں کہ (اِنِّیْ لَاَجِدُ رِیْحَ یُوْسُفَ) * میں یوسف کی مہک کو محسوس کررہا ہوں۔ اس کو بعض علما وجدان کی مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ بلاشبہ یہ اچھی مثال ہے ، مگر اس کو دوسروں کو کیسے منوائیں۔ حضرت یعقوب جیسا بزرگ، نبی اور سچا انسان بھی اپنے گھر والوں کو یہ بات نہ منوا سکا۔ لہٰذا وہ بولے: ’تَاللّٰہِ اِنَّکَ لَفِیْ ضَلٰلِکَ الْقَدِیْمِ‘ ** (باخدا آپ تو وہی پرانی بھٹکی بات میں پڑے ہوئے ہیں)۔ گویا ان کے اہل خانہ نے بھی اس وقت بات مانی ہوگی جب برادران یوسف ان کا کرتہ لے آئے۔
رہا وحی کے بطور ماخذ علم ہونے کا مسئلہ تو انھوں نے، جیسا ہم نے اوپر عرض کیا، الہامی کتب میں اپنے طور پر غلطیاں بتا کر یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ وحی کے نام سے پیش کی جانے والی کتب غلطیوں اور تضادات سے مملو ہیں، چونکہ خدا غلطی نہیں کر سکتا، اس لیے یہ اللہ کی کتب نہیں ہیں۔ چنانچہ نہ خدا ہے، نہ خدانے وحی کبھی نازل کی ہے، اس لیے یہ کوئی ماخذ علم نہیں ہے، اگر یہ کتابیں ماخذ علم ہیں بھی تو ان میں غلطیاں ہیں۔ لہٰذا ان سے یقینی معنی میں سچا علم حاصل نہیں ہوتا۔ مثلاً وہ قرآن مجید فرقان الحمید کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ پرانے انسان کے فہم کے مطابق زمین کے ساکن ہونے اور سورج کے گردش میں ہونے کا قائل ہے۔یہی وجہ ہے کہ پورے قرآن مجید میں زمین کے چلنے کا کہیں ذکر نہیں ہے۔ وغیرہ۔مختصر یہ کہ الحادِ نو اس بات کو پوری قوت کے ساتھ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ وحی کے نام سے موجود کتب قابل استناد نہیں ہیں،بلکہ (نعوذ باللہ ) وہ اغلاط و تضادات کا مجموعہ ہیں۔

مذہب کے متبادلات

مذہب کا انکارکرکے ایک خلا پیدا ہوتا ہے۔ الحاد نے اپنے پر پرزے کچھ اس شکل میں نکالے ہیں کہ اس نے یہ خلا پیدا نہیں ہونے دیاہے، بلکہ انسانوں کو غیر شعوری طور پرپچھلے دوسوسال سے ایسے نظریات دیے ہیں جو مذہب کی جگہ پر انسانی فطرت کے خلا کو پر کرتے ہیں۔یوں مذہب کے متبادل کے طور پر انسانی وجود کو سامانِ تشفی فراہم کرتے ہیں۔ ان متبادلات کا فائدہ الحاد کو یہ ہے کہ انسان کی فطرت اگر مذہب کی پیاس محسوس کرے تو اصل پانی پلانے کے بجاے مصنوعی پانی سے اس کی پیاس بجھا دی جائے، تاکہ وہ اصل پانی، یعنی مذہب کا مطالبہ نہ کرے۔ اس اصول پر کہ انسان کوجو پیاس اصل میں صحیح مذہب کی ہے ، لیکن وہ باطل مذاہب سے بھی اپنی یہ پیاس بجھا لیتارہا ہے۔اگر بت پرستی انسان کی دینی پیاس بجھا سکتی ہے تو پھریہ تازہ افکاربھی انسان کی مذہبی پیاس کو بجھا سکتے ہیں۔ لہٰذا اس مقصد کے تحت درج ذیل نظریات کو شمار کیا جاسکتا ہے، جو مذہب کی پیاس کوبجھاتے ہیں، اوران کے ہوتے ہوئے انسان کسی مذہب کی ضرورت محسوس نہیں کرتا:

قومیت یا وطنیت

ملت کا جو شعور ایک مذہب دیتا ہے، اس کی اگر کوئی چیز متبادل ہوسکتی ہے، تو وہ وطنیت یا قومیت ہے۔اس چیز کا احساس علامہ اقبال رحمہ اللہ کو بھی ہوا چنانچہ ان کی زبانِ فصاحت بیان سے یہ شعر صادر ہوا:

ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اس کا ہے مذہب کا کفن ہے

اقبال کا یہ احساس غلط نہیں ہے، اس لیے کہ اقبال کے ساٹھ ستر سال بعد اب یہ حقیقت واضح ہو کر سامنے آگئی ہے کہ بہت سے افکار نے مل کر مذہب کے متبادلات فراہم کیے ہیں۔جن میں سے ایک یہی وطنیت ہے۔بظاہر حب الوطنی ہر قوم اور ہر نسل کے لیے ایک جذبہ و تحریک کا سامان ہے۔ قومیت کے نام پر حکومتیں اور ملک چلیں تو اس میں کوئی حرج نہیں، بلکہ یہ بھی حب الوطنی کی طرح کی ایک فطری اپچ ہے۔ مگر اس کی لے اگر اتنی بڑھا دی جائے کہ وہ مذہب کی جگہ لے لے تو اس کے معنی کچھ اور ہیں۔

معاہدۂ عمرانی اور حقوق انسانی کا چارٹر

دین معاملات میں حقوق و فرائض کی بات کرتا ہے۔اسلام، یہودیت اور عیسائیت چونکہ الہامی مذاہب ہیں، اس لیے ان میں ان حقوق کاتذکرہ سب مذاہب کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ روسو کا معاہدۂ عمرانی اور اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر جیسی چیزیں دراصل اس ضمانت کا متبادل ہیں، جو مذہب کی طرف سے حاصل ہوتی تھی۔خدا کی ضمانت کو اقوام متحدہ اور معاہدۂ عمرانی کے تحت عوام کے لیے حکومت کی طرف سے یہ ضمانت دراصل مذہب سے بے نیاز کرتی ہے۔ جس مقصد کے لیے لوگ مذہب اور آیاتِ الٰہی کا حوالہ دیا کرتے تھے، اب اس کی جگہ اقوام متحدہ کے چارٹر کا حوالہ دیا جاتا ہے۔

قانون

تمام ادیان اپنے ماننے والوں کے لیے شرائع تشکیل کرتے ہیں، تاکہ ان کی روزہ مرہ کی زندگی کو منظم کرے اور ان کو حدود وقیود کا پابند کرکے ان کو پرامن انسان بنایا جائے، تاکہ وہ ایک اچھاباپ، شوہر ، بھائی، ہمسایہ، افسر، اور حکمران وغیرہ بنائے۔اہل مغرب نے ان تمام چیزوں کے حل کے لیے قانون کا سہارا حاصل کیا ہے۔اب باپ اپنے بچوں پر شفقت اس لیے کرے گا فطری محبت کے ساتھ ساتھ کہ کہیں قانون اسے گرفت میں نہ لے اور اس کی اولاد اس سے چھین نہ لی جائے، اور بیٹا اب دین کی تلقین کے مطابق باپ کی ڈانٹ کو نہیں سنے گا، بلکہ وہ اس کے خلاف قانون کا سہارا لے سکے گا۔تمام آداب و شرائع سے حاصل ہونے والے تحفظ کی جگہ اب قانونی تحفظ کو حاصل ہو گی۔

انسان مرکزیت (humanism)

انسان کے اندر نیکی کا جذبہ فاطرِ ارض وسما نے رکھا ہے۔اسی وجہ سے وہ نیکی کو پسند کرتا اور برائی سے اصلاً نفرت کرتا ہے۔ انسان اپنی اس فطری اپچ کی تسکین کئی طریقوں سے کرتا ہے۔اسلام نے اس کے لیے حقوق اللہ اور حقوق العباد کا ایک متوازن نظام دیا ہے۔ لیکن اب تمام نیکی کو ایک ہی نام دیا جارہا ہے ، وہ ہے انسان کا تحفظ و فلاح جس کو انفرادی اور اجتماعی سطح پر مرکزی حیثیت دی جارہی ہے۔

سوشل ورک

نیکیوں میں انسانوں کی خدمت ہر مذہب میں موجود رہی ہے۔ بھوکے کو کھلانا، مسافر کی مدد، غریب سے تعاون، بیمار کی تیمارداری وعلاج یہ ہمیشہ سے ادیان میں اور بالخصوص ادیان براہیمی میں پوری آب و تاب سے موجود رہی ہے۔ لیکن انسانوں کے ساتھ اس ہمدردی کے ساتھ ساتھ حقوق اللہ اور عبادات کا ایک نظام بھی موجود رہا ہے۔اب سوشل ورک کو بین الاقوامی سطح پر بہت اہمیت دی جارہی ہے۔ اس نیکی کے کرنے کے لحاظ سے ابھی بھی یہ اہمیت کم ہے، لیکن ہم جس پہلو سے بات کرنا چاہتے ہیں، وہ یہ ہے کہ انسان کے نیکی کے جذبے کی تسکین اب اسی سے کی جائے گی۔ انسانی فطرت کا یہ خاصہ ہے کہ وہ غیر متوازن طریقے سے بھی اپنے جذبہ کی تسکین کرکے مطمئن ہو جاتا ہے۔ مثلاً اگر وہ حقوق العباد پورے کرتا رہے تو ہو سکتا ہے کہ اس کی فطرت اسی پر اتنی مطمئن ہو جائے کہ وہ حقوق اللہ یا عبادتِ خدا کی ضرورت ہی محسوس نہ کرے۔اس کی ایک عام مثال ہمارے معاشرے میں پائی جاتی ہے کہ بالعموم نماز روزے کا اہتمام کرنے والے سماجی نیکیوں میں کمزور ہوتے ہیں۔ وہ معاشرتی اصلاحی کاموں میں کم ہی حصہ لیتے ہیں۔بسا اوقات ان کو اخلاقی میدان میں بھی کمزور پایا گیا ہے۔ اس اصول پر سوشل ورک کرنے والے لوگ اپنے جذبۂ عبادت میں کمزور ہوتے ہیں، اس لیے کہ اس نیکی کا احساس ان کی دوسری نیکیوں کی پیاس کے لیے پانی کا کام کرتا رہتا ہے۔ لہٰذا NGOsدراصل معابد کی جگہ لیتی جارہی ہیں، اور سوشل ورک عبادت کی۔ بلکہ بعضے تو یہ تک کہتے ہیں کہ یہی اصل نیکی ہے۔ عبادت ریاضت تو قدیم انسان کے توہمات نے پیدا کی تھی۔

سیاسی جدوجہد

انسانی حقوق کی جنگ کے میدان میں جو جدو جہد سیاسی میدان میں کی جاتی ہے یا انقلابی نوجوانوں کی جدوجہد بھی سوشل ورک کی طرح عبادت کے جذبے کی تسکین بھی کرتی ہے۔

اصنام پرستی نو( neo-paganism)

انسان کی فطری تشکیل کچھ اس قسم کی ہے کہ وہ غیبی چیزوں کو مانتا ہے ۔ لوگ اسی فطرت کی بنا پر توہمات کا شکار ہو جاتے ہیں۔بھوت پریت ، جادو، اور غیبی قوتوں اور ان پر قابو پانا وغیرہ اسی فطرت سے پیدا ہونے والے باطل امور ہیں۔ اسی سے لوک اور مذہبی داستانیں وجود میں آتی تھیں۔انسان کا یہی وہ رخ ہے جو (mythology) کو وجود پذیر کرتا ہے۔لیکن انسان کی یہی فطرت ہے جس کی وجہ سے وہ عقیدہ کو ماننے کے قابل ہوتا ہے۔انسانی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ انسان کی یہ فطرت بھی باطل امور پر یقین رکھ کر مطمئن ہو جاتی رہی ہے،بلکہ لگتا یہی ہے کہ عجوبہ قسم کی باتوں سے اس کی اس فطرت کی تسکین زیادہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب امریکا اور یورپ میں ایساادب تخلیق کیا جارہا ہے جو ان چیزوں کو mythology بنائے بغیر انسان کی اس عجوبہ پسندی کی تسکین کرے گا۔اس مقصد کے لیے فلمیں ،ناول، ڈرامے وغیرہ تیار کیے جارہے ہیں۔
اس کے علاوہ قدیم زمانے کے باطل خداؤں کو دوبارہ نئی صورتوں میں سامنے لایا جارہا ہے۔
یہ ایک مختصر فہرست ہے، جو ابھی نامکمل ہے۔اس میں بہت سی باتیں یقیناًاور بھی ہوں گی۔جو انھی متبادلات کا کردار ادا کرتی ہوں گی۔لیکن ہم یہاں اسی بات پر اکتفا کریں گے کہ انھیں بطور مثال سمجھا جائے کہ کس طرح کی چیزیں انسان کو مذہب کی ضرورت سے بے نیاز کرتی ہیں۔

الحاد کا جواب

ہمارے ادھر کم، مگر عیسائیت میں اس کا جواب دینے کی کوششیں بہت ہو رہی ہیں، اس لیے کہ یہ ان کے معاشرے کا اس وقت کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ہمارے ہاں ابھی الحاد چھپا ہوا ہے۔لوگ اس کا برملا اظہار نہیں کرتے، مگر وہاں اب ملحد ہونے کو بیان کیا جاتا ہے، اس وقت ان کے معاشرے میں رجسٹرڈ ملحد ۱۶ فی صد سے زیادہ ہیں، اور ان کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاں اس پر کام بھی زیادہ ہورہا ہے۔
ہمارے ہاں جو کام ہوا ہے، اب وہ پرانا ہو گیا ۔ وہ کام دراصل روس میں اشتراکیت کے غلبے کے پس منظر میں تھا۔ لیکن اب سائنس کے پس منظر میں بننے والے اس الحادکا جواب دینا ابھی باقی ہے۔ قرآن مجید چونکہ فرقان اور میزان کی حیثیت سے نازل کیا گیا ہے، اس لیے مجھے یقین ہے کہ ہم مسلمان اگر قرآن و سنت کو بنیاد بنا کر اس مسئلے سے نبٹنے کی کوشش کریں تو زیادہ بہتر جواب لا سکیں گے۔

الحاد ایک ظن 

قرآن مجید کے مخاطب دراصل وہ لوگ تھے، جو کسی نہ کسی صورت میں خدا کو مانتے تھے۔ بہت تھوڑے لوگ ایسے تھے، جو خدا کو نہیں مانتے تھے۔ ان کا ذکر بھی قرآن مجید میں کیا گیا ہے۔سورۂ جاثیہ (۴۵) میں ہے:

وَقَالُوْا مَا ھِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَنَحْیَا وَمَا یُھْلِکُنَآ اِلَّا الدَّھْرُ وَمَا لَھُمْ بِذٰلِکَ مِنْ عِلْمٍ اِنْ ھُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ.(۲۴)

اللہ رب العزت نے اس دہریت کا جواب یہاں صرف یہ دیا ہے کہ ان کے پاس اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے، یہ محض اٹکل سے باتیں کررہے ہیں۔اس بات کے معنی یہ ہیں کہ انکارِ خدا کی کوئی دلیل دہریوں کے پاس موجود نہیں ہے۔البتہ بلاثبوت راے کوئی بھی بناسکتا ہے،جیسا کہ عہدِ نبوی کے دہریوں نے بنا رکھی تھی۔اس وقت کی دہریت کی حقیقت بھی یہی ہے ۔اگلی سطور میں ہم اس دہریت کے ظنی ہونے کو واضح کریں گے۔
انکار خدا پر دلیل کا فقدان
ابھی تک کوئی ایسی دلیل اہل الحاد کے پاس نہیں ہے کہ جس سے انکارِ خدا لازم آتا ہو۔ صرف اتنا ہو ا ہے کہ بہت سے امور کی مادی توجیہات مزید معلوم ہو گئی ہیں۔ مثلاً اہل مذہب ہر چیز کے لیے کہہ دیتے تھے کہ یہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے۔ لیکن سائنس دان کہتے ہیں کہ یہ اس سبب سے ہوا ہے، اور وہ اُس سبب سے ہوا۔ لیکن بہت سے کاموں کے اسباب کا علم ہونا خدا کی نفی کو مستلزم نہیں ہے۔
اسلام بھی سبب اور مسبب کے اس کھیل کو مانتا ہے۔ لیکن آخر الامر خداے عظیم و برتر کی مداخلت کا قائل ہے۔ اسی لیے علماے متکلمین بھی علت و معلول کے رشتے کو دیکھتے رہے، لیکن وہ تسلسل کے قائل نہیں تھے، اول سبب حکم الٰہی کو ہی قرار دیتے تھے، ورنہ تسلسل کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ قائم رہے گا۔ متکلمین کی یہ بات نہ صرف عقلی ہے، بلکہ نقل کے معیار پر بھی پوری اترتی ہے۔ مثلاً قرآن مجید میں آیا ہے:

وَھُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًام بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِہٖ حَتّٰٓی اِذَآ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰہٗ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِہِ الْمَآءَ فَاَخْرَجْنَا بِہٖ مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ کَذٰلِکَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰی لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ.۴؂

اس آیت میں دیکھیے کہ کس طرح ظاہر ی اسباب اور حقیقی سبب، یعنی مشیت الٰہی کو ساتھ ساتھ بیان کردیا ہے۔بارش سے پہلے ہواؤں کی کارفرمائی، ان کا پانی کے بوجھ سے بھاری ہونا، اور پھر ان کا کسی بے آب و گیا ہ زمین پر جا کر برسنا، اور پھر پانی ملنے کے سبب وہاں پودوں اور پھل پھولوں کا پیدا ہونا، سب ظاہری اسباب گنوائے گئے ہیں۔ لیکن ان ظاہری اسباب کے ساتھ ساتھ ایک اور چیز ہے جو ان کا اصل سبب ہے، وہ جمع متکلم کے صیغے یا ’ہُوَ الَّذِیْ‘ کے الفاظ میں بیان ہوئی ہے،یعنی الٰہ العالمین کی ذات۔
ان اسباب کے ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مشیت الٰہی موجود نہیں ہے۔یہ ایسی ہی بات ہے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ گنے کے رس نکالنے کی وجہ ان دو پلیوں (pulley) کے درمیان میں سے گزرنا ہے اور وہ یہ بھول جائے کہ ان پلیوں کو یوں رکھنے میں کسی انجینئر کا ہاتھ ہے۔یہ دونوں پلیاں ایسا کام خود نہیں کررہی ہیں، بلکہ ان کے یوں رکھے جانے (positions) کی وجہ سے ایسا کرپاتی ہیں ۔

الہامی کتب پر اعتراضات کا جواب

یہ مضمون اس کی گنجایش تو نہیں رکھتا کہ یہاں تمام اعتراضات کا جواب دے دیا جائے، جو دینی کتابوں بالخصوص قرآن و حدیث پر وارد کیے گئے ہیں، البتہ میں اتنی بات اصولی طور پر کہہ سکتا ہوں کہ قرآن پر جتنے اعتراضات ہوئے ہیں، ان میں ہمارے تراجم، تفاسیر کا زیادہ دخل ہے۔ براہ راست جوقرآن پر اعتراضات ہوئے ہیں ، وہ محض نکتہ چینی ہے، قرآن مجید کے سیاق و سباق اور الفاظ واسالیب وغیرہ کا خیال کیے بغیر کیے گئے ہیں۔ یہاں ہم چند ایک مثالیں بیان کریں گے جس سے وہ نہج واضح ہو جائے گی کہ میری راے میں الحاد کا جواب کیوں کر دیا جاسکتا ہے۔

اعتراض

قرآن مجید پر بہت سے اعتراضات میں سے ایک یہ ہے کہ اس میں بہت سے تضادات ہیں۔خود قرآن مجید اس بات کو دلیل کے طور پر پیش کرتا ہے کہ:

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ وَلَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰہِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا.۵؂

یعنی وہ کتاب جس میں تضادات ہوں وہ اللہ کی کتاب نہیں ہے۔تضادات کی بہت سی مثالوں میں سے ایک یہ کہ اللہ کے دن کی لمبائی مختلف جگہوں پر مختلف بیان کی گئی ہے، اس لیے کہ تیئس سال میں تیار ہونے والی کتاب کا مصنف (نعوذ باللہ) بھول گیا کہ پہلے اس نے کیا بات کہی اور بعد میں کیا کہنا چاہیے۔چنانچہ دیکھیے ایک مقام پر کہا گیا ہے کہ اللہ کا دن ہمارے ایک ہزار سال کے برابر ہے:

وَاِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّکَ کَاَلْفِ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ.۶؂

دوسرے مقام پر قرآن مجید ہی کہتا ہے کہ ایک دن کی لمبائی پچاس ہزارسال ہے:

تَعْرُجُ الْمَلآءِکَۃُ وَالرُّوْحُ اِلَیْہِ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ.۷؂

جواب

یہ اعتراض محض عجلت میں کیا گیا ہے۔قرآن مجید کے الفاظ پر دھیان دیاجائے تو یہ اعتراض معترض کے لیے شرمندگی کا باعث ہو گا۔پہلے مقام میں الفاظ ہیں ’وَاِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّکَ‘، یعنی اللہ کے نزدیک یا اللہ کے شمار میں ایک دن کتنا لمبا ہے: جب کہ دوسرے مقام میں اللہ کے دن کی لمبائی بتائی ہی نہیں جارہی ہے، وہ تو صرف ایک عرصہ بتایا جارہا ہے کہ جس میں فرشتے زمین سے خداے پاک کے دربار میں پہنچیں گے۔دونوں کا مضمون بالکل الگ الگ ہے۔ تضاد تو اس صورت میں ہوتا کہ دونوں جگہ یہ کہا جاتا کہ دن کی مقدار اللہ کے نزدیک اتنی اور اتنی ہے۔
اصل میں عربی زبان میں دن بمعنی یوم بھی بولا جاتا ہے، اور بمعنی عرصہ بھی۔ جتنی زبانیں میں جانتا ہوں، ان سب میں لفظِ ’دن‘ ان دونوں معنی میں بولا جاتا ہے۔ مثلاً اردو میں دیکھیے:

عمرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن 
دو آرزو میں کٹ گئے، دو انتظار میں

اگر کوئی اس شعر میں چار دن واقعی بارہ بارہ گھنٹے یا چوبیس چوبیس گھنٹے کے دن سمجھے تو شعر اس کے لیے عجیب و غریب معنی دے گا۔اسی طرح انگلش میں کہا جاتا ہے: At the end of the day، اس کا مطلب ہے کسی کام کے اختتام پرخواہ اس کی لمبائی کتنی ہی لمبی کیوں نہ ہو۔ اسی طرح کہا جاتا ہے: in this day and age، اس کے معنی ہیں: اس زمانے میں، یعنی عہد حاضر میں یا آج کل۔غرض ’دن‘ کا لفظ زمانے اور وقت کے معنی میں آتا ہے۔ اسی معنی میں قرآن مجید نے بھی استعمال کیا ہے۔

ایک اور اعتراض

تضاد ہی کی قسم کا ایک اور اعتراض لفظِ ’یوم‘ ہی کے حوالے سے کیا گیا ہے۔ قوم عاد کے بارے میں قرآن مجید میں آیا ہے:

کَذَّبَتْ عَادٌ فَکَیْفَ کَانَ عَذَابِیْ وَنُذُرِ اِنَّآ اَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّ.۸؂

یہاں ایک دن کے عذاب کا ذکر کیا گیا ہے۔ جب کہ دوسرے مقام پر اسے یوں بیان کیا گیا ہے:

وَاَمَّا عَادٌ فَاُھْلِکُوْا بِرِیْحٍ صَرْصَرٍعَاتِیَۃٍ سَخَّرَھَا عَلَیْھِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّ ثَمٰنِیَۃَ اَیَّامٍ حُسُوْمًا فَتَرَی الْقَوْمَ فِیْھَا صَرْعٰی کَاَنَّھُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَۃٍ. ۹؂

یہاں ایک دن کے بجاے واضح طور پر سات راتیں اور آٹھ دن بتایا گیا ہے۔ یہ بھی معترضین کے نزدیک ایک اعتراض ہے۔ ایک ہی عذاب کو ایک جگہ ایک دن کا کہا گیا ہے اوردوسری جگہ سات راتوں اور آٹھ دنوں کا ۔ یہاں بھی وہی یوم کے معنی کا مسئلہ ہے۔ یوم پہلے مقام میں عرصہ کے معنی میں آیا ہے اور دوسرے مقام میں دن کے معنی میں۔ اسی لیے قرآن مجید نے پہلے مقام پر یوم کی ایک صفت مستمربیان کی جو کہ ایک قرینہ تھا، اس بات کا کہ یہ یہاں نہار یا دن کے معنی میں نہیں، بلکہ عرصہ کے معنی میں آیا ہے۔
قرآن مجید پر ہونے والے تمام اعتراضات کی نوعیت یہی ہے۔اس لیے اگر ان تمام اعتراضات کا جواب دے دیا جائے تو الحاد کی ایک بڑی دلیل بالکل بودی ثابت ہو کررہ جائے گی۔ اور یقینی بات یہ ہے کہ اس وقت ان کا سب سے بڑا سہارا یہی دلیل ہے، لہٰذا اس کے ٹوٹتے ہی الحاد کو ایک کاری دھچکا لگے گا۔

قرآن اور سائنس کا ٹکراؤ

ملحدین کا یہ اعتراض کہ قرآن مجید میں کہیں بھی زمین کوسورج کے گرد گردش کرتے نہیں بتایا گیا، صرف سورج اور چاند وغیرہ کی گردش کا ذکر ہے۔ اس لیے قرآن قدیم علم ہیئت کے مطابق ہی باتیں کررہا ہے، اس لیے وہ اللہ کی کتاب نہیں ہے۔ کیونکہ حقیقت تو یہ واضح ہوئی ہے کہ زمین گردش کررہی ہے ۔یہی حقیقت سات آسمانوں کی ہے، بدھ ازم اور دوسرے علاقوں کے تصوراتِ ارض و سما میں آسمان سات ہی تھے، اس لیے قرآن مجید نے بھی سات ہی کا ذکر کردیا۔ گویا یہی حق ہو۔ اس طرح کی اور بھی بے شمار چیزیں ہیں۔ جو معترضین نے گنوائی ہیں۔ ان سب کااس مضمون میں ذکر کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔لہٰذا بطور مثال انھی دو کے جواب تک محدود رہتے ہیں، جس سے یہ بات واضح ہو جائے گی کہ سب کے جواب ممکن ہیں۔
پہلی بات یہ کہ قرآن مجید سائنس کی کتاب نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ مسلمانوں کے لیے میری یہ بات ناگوار ہو۔ لیکن یہ اصولی بات واضح رہنی چاہیے۔ یہ ہدایت کی کتاب ہے۔ اس میں مظاہر قدرت صرف بطور دلیل بیان ہوئے ہیں۔ سائنسی دریافت کے بیان کے لیے نہیں۔مثلاً قرآن مجید نے جہاں ارض و سما کا ذکر کئی اعتبار سے کیا ہے۔ کہیں صرف ہمیں دکھائی دینے والے ستاروں سیاروں کے لیے ، کہیں پوری کائنات کے لیے ۔ البتہ جہاں سات آسمانوں کا ذکر ہے۔ وہ میرے خیال میں نظام شمسی ہی کا ذکر ہے۔ نظام شمسی آٹھ سیاروں اور ایک ستارے پر مشتمل ہے۔زمین کو اگر نکال دیا جائے تو باقی سات سیارے بچتے ہیں۔ لیکن چونکہ اس سے علما نے پوری کائنات بھی مراد لیا ہے، اس لیے میں اس تفسیری امکان کو رد نہیں کرتا۔ علما کی تفسیر کی رو سے ملحدین کا اعتراض قائم تو رہتا ہے اور جواب بھی ساتھ ہی موجود رہتا ہے کہ تم سائنس دانوں نے کون سی پوری کائنات دریافت کرلی ہے کہ مذاہب کے ساتھ آسمانوں والی کائنات کاانکار کرو۔ 
اب رہا زمین کی گردش کا مسئلہ ، تو اگر قرآن نے زمین کی گردش کا ذکر نہیں کیا تو یہ بھی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اس میں زمین کے ساکن ہونے کا ذکر بھی نہیں ہے۔ قرآن کا نقص تو اس صورت میں تھا کہ وہ زمین کو ساکن کہہ دیتاجیسا اس زمانے کا نظریہ تھا۔ یہ بھی حیرت انگیز بات ہے کہ وہ سورج چاند ستاروں کی گردش کا ذکر کرتا، جو اس زمانے کے لوگوں کا نظریہ تھا۔ لیکن کمال مہارت سے زمین کی گردش کے ساکن ہونے کا ذکربھی نہیں کرتا۔ اس لیے کہ مظاہر قدرت کی ایسی باتیں جو اس وقت کے نظریات سے ٹکراتی تھیں ، ان کا ذکر کرکے اصل دعوت کو پس پشت ڈالنے کے برابر تھا۔ قرآن کا سارا زور تنقید عقائد ، بدعات اور غلط قسم کے دینی تصورات پر تھا۔ اس لیے کہ وہ دین ہی کی اصلاح کے لیے آیا تھا، سائنسی علوم کی اصلاح کے لیے نہیں۔ یہاں تک کہ جنگوں میں اسلحہ کی ضرورت پڑی تو اس کا اشارہ تک نہیں کیا کہ آؤ میں تمھیں بتاتا ہوں کہ کوئی تیز قسم کا ہتھیار یوں بنا لو، لیکن یہ بتا دیا کہ رسول کی موجودگی میں میدان جنگ میں نماز کیسے پڑھو گے۱۰؂یا ایسے مواقع پر نماز قصر کرلو گے ۔اسی سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن کا موضوع سائنس نہیں ہے۔ اس نے دین کی تو جزئیات تک بتائی ہیں، لیکن سائنس کی نہیں۔ اسی طرح کی مثال وہ آیت ہے جس میں پانچ چیزوں کے علم کا ذکر ہے کہ قیامت کے آنے کا وقت، بارش کے نازل ہونے کا وقت ، رحم مادر میں کیا ہے، کل کوئی کیا کیا کمائی کرے گا، اور کون کس جگہ مرے گا کوئی نہیں جانتا ۔ یہ آیت کا مفہوم نہیں، بلکہ تفسیر ہے۔ قرآن مجید میں اس آیت کے الفاظ کا استعمال ۱۴۰۰ برس پہلے جس چابک دستی سے کیا گیا ہے معجزانہ ہے۔اس زمانے میں پانچ کی پانچ چیزوں پر وہی الفاظ بولے جاسکتے تھے۔ لیکن خداے علیم و خبیر نے دو چیزوں کے ساتھ الفاظ تبدیل کر دیے ہیں۔ اب مفسرین کی تفسیر پر تو اعتراض باقی ہے، مگر قرآن پر باقی نہیں رہا۔ ذیل میں آیت پیش کرتے ہیں تاکہ بات پوری طرح واضح ہوجائے:

اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ وَیَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَکْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌم بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ.(لقمان ۳۱: ۳۴)
’’بے شک اللہ کے پاس ہے قیامت کی خبر اور اتارتا ہے مینہ اور جانتا ہے جو کچھ ہے ماں کے پیٹ میں اور کسی جی کو معلوم نہیں کہ کل کو کیا کرے گا اور کسی جی کو خبر نہیں کہ کس زمین میں مرے گا۔ تحقیق اللہ سب کچھ جاننے والا خبر دار ہے۔‘‘

آیت کے ذیل میں مرقوم ترجمہ شبیر احمد عثمانی صاحب کی تفسیر عثمانی سے لیا گیا ہے یہ ترجمہ محمود الحسن صاحب کا ہے۔ مولانا۱۹۲۰ء میں وفات پا گئے تھے۔ یہ وہ زمانہ ہے جب ابھی سائنس اتنی ترقی یافتہ نہیں تھی اور ابھی الٹرا ساؤنڈ وغیرہ ایجاد نہیں ہوا تھا۔ لیکن ان کا ترجمہ بھی وہی ہے جو قرآن کے الفاظ کے مطابق درست ہے۔ جب کہ تفسیر میں یہی بات لکھی ہے کہ یہ پانچ غیب ایسے ہیں جن سے اللہ نے کسی کو آگاہ نہیں کیا۔ 
ترجمہ کے خط کشیدہ الفاظ پر نگاہ ڈالیں اور دیکھیں کہ اللہ نے یہ بات ہرگز نہیں کی کہ بارش ہونے کا وقت صرف اللہ جانتا ہے اوریہ بھی صرف اللہ جانتا ہے کہ رحم مادر میں کیا ہے۔بلکہ صاف الفاظ میں بس اتنا کہا گیا ہے کہ ’’وہ بارش اتارتا ہے‘‘ اور ’’جانتا ہے جو کچھ ماں کے پیٹ میں ہے‘‘۔ ان دونوں کے معاملے میں دوسروں کے جاننے کی نفی نہیں کی گئی۔ خواہ ان دونوں چیزوں میں سائنس دانوں کا علم نہایت تھوڑا ہے۔ مثلاً وہ بلاشبہ نہیں جان سکتے کہ وہ ذہین ہوگا یا کند ذہن، نیک ہو گا یا بد، لیکن وہ یہ جاننے لگے ہیں کہ بیٹا ہوگا یا بیٹی اور جسمانی طور پر نارمل ہو گا یا نہیں۔وہ شاید ایک ایک قطرے کا حساب نہ رکھتے ہوں، مگر کافی حد تک بارش کے ہونے اور زیادہ یاکم ہونے کے صحیح اندازے لگانے لگے ہیں۔ جس سے قرآن پر حرف آسکتا تھا ۔ لیکن قرآن نے نہایت عمدہ الفاظ چنے ہیں۔ جس پر ذرا بھی اعتراض نہیں ہو سکتا۔ کسی تاویل کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے۔

ایک مثال عیسائیت سے

رچرڈ ڈاکن۱۱؂ نے ایک عیسائی سے مناظرے میں کہا: کیا عیسیٰ اللہ کے بیٹے تھے؟
پادری: ہاں
ڈاکن: اللہ نے اپنے بیٹے کو کیوں مروادیا۔ کون سا باپ ہے جو اپنے بیٹے کو مروانا چاہے گا؟
پادری: اللہ نے ایسا انسان کے بھلے کے لیے کیا اور اپنے بیٹے کو صلیب پر چڑھایا تاکہ انسان اس ازلی گناہ سے جان چھڑالے، جو آدم سے اس کے کھاتے میں لکھا چلا آرہا ہے۔
ڈاکن: اللہ عقل مند ہے یا نہیں؟
پادری: ہاں اللہ اپنی عقل میں کامل ترین ہے۔
ڈاکن: تو اللہ اگر عقل میں کامل ہے تو اس کی عقل نے کوئی اور اچھا راستہ کیوں نہ نکالا ؟۱۲؂ 
ڈاکن کی بات کا کوئی جواب نہیں ہے۔جب تک پادری اپنے خودساختہ دین پر جما رہے گا ڈاکن کو جواب نہیں دے سکے گا۔ یہاں پادری کو فوراً یہ کہنا چاہیے تھا کہ یہ بات نہ تورات میں ہے اور نہ انجیل میں۔ یہ تو عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ کے بہت بعد عیسائیت میں خود ہی شامل کر لی تھی۔ حضرت عیسیٰ کی تعلیمات ایسی ہیں ہی نہیں کہ ان پر یہ اعتراض کیا جا سکے۔مراد یہ ہے کہ جو باتیں خود انسانوں نے مذاہب میں اپنی طرف سے اضافہ کردی ہیں، انھیں حق پسندی کے تحت دین سے نکال دینا ہو گا، وگرنہ ان انسانی اضافوں کی وجہ سے اللہ کے دین کا دفاع مشکل ہو جائے گا۔ اس لیے کہ انسان خطا کے پتلے ہیں، غلطی کرسکتے ہیں، جب کہ اللہ اور اس کے تمام رسول غلطی سے پاک ہیں، اس لیے صرف ان کا بے آمیز دین ہی قابل دفاع ہے۔

ایک احتیاط کا مشورہ

ان اعتراضات کا جواب دیتے وقت ،ہمارے عہد میں سائنس کے مقابلے کے لیے ایک غلط روش اپنائی گئی ہے۔ سرسید احمد خان سے لے کر جناب ذاکر نائیک صاحب تک کے بہت سے علما کے ہاں یہ طرز عمل اپنا یا گیا ہے کہ قرآن کو سائنس کے مطابق ثابت کرکے یہ بتایا جائے کہ دیکھو قرآن یہ کہتا ہے اور یہ بات سائنس نے آج کہی ہے۔ اس طرز عمل کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے سائنس کو حاکم مان لیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن حاکم ہے۔ اور سائنس ایک انسانی علم ہے جس کو انسانوں نے سمجھا ہے، لہٰذا غلطی کا امکان ہے۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ قرآن مجیدکی بہت سی تفسیریں اس طرح سے کی گئیں کہ جس میں قرآن کی بات کو بدل دیا گیا۔
مثلاً، ایک مفسر نے سورۂ آل عمران اور سورۂ مریم کی ان آیتوں کی تفسیر کرتے ہوئے ، جن میں سیدنا مسیح کے بن باپ پیدا ہونے کا ذکر تھا، ایسے معنی کیے کہ جس سے انھیں سیدہ مریم کی شادی یوسف نجار سے کرانی پڑی اور اس آیت سے استدلال کیا کہ ’وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلًا‘، یعنی اللہ کی سنت یہ ہے کہ انسان ایک مردو عورت سے پیدا ہوتا ہے، اس لیے سیدنا عیسیٰ کی پیدایش میں اس سنت کی خلاف ورزی ہو ہی نہیں سکتی، کیونکہ خود اللہ تعالیٰ کہہ رہے ہیں کہ تم اللہ کی سنت میں تبدیلی نہیں پاؤ گے۔
اس تفسیر کے پچیس تیس سال بعد ہی یہ ہوا کہ کلوننگ اور ٹیسٹ ٹیوب بے بی کے اصول پر صرف ایک رحم مادر کو استعمال کرتے ہوئے، آپ کسی بھی انسان یا جانور کو پیدا کرسکتے ہیں، جس میں شوہر والا کردار کسی نے بھی ادا نہ کیا ہو۔ اور تو اور ایک کنواری کے بطن میں بکارت کے زائل کیے بغیر نطفہ کو انجیکٹ کرکے اولاد جنوائی جاسکتی ہے۔
اس لیے لازم یہ ہے کہ یہ احتیاط کی جائے کہ قرآن کے الفاظ کا احترام کیا جائے اور کوئی ایسی تفسیری کوششیں نہ کی جائیں جن کے بعد ہمیں بار بار قرآن کے ترجمے اور تفسیریں ہی بدلنی پڑیں۔

سائنس کا جواب یا رد

خدا کے ثبوت کا طریقہ؟

پرانے زمانے میں بھی الحاد تھا، مگر اسے سائنس کا سہارا حاصل نہ تھا۔جو کچھ تھا وہ محض الفاظ و تصورات کا گورکھ دھندہ تھا۔ مثلاً کسی امام کے نسبت یہ واقعہ سنایا جاتا ہے کہ انھیں کسی ملحدوں کے مناظرے میں جانا تھا، اور جان بوجھ کر دیر سے آئے۔ ملحدوں نے ان سے کہا کہ ہم آپ سے کیا مناظرہ کریں ، آپ تو وقت کے ہی پابند نہیں ہیں۔ امام صاحب نے آگے سے فرمایا: دراصل اس جگہ آنے کے لیے میرے راستے میں ایک دریا پڑتا ہے، جسے عبور کرنا پڑتا ہے۔ میں آج جب دریا کے کنارے پہنچا تو وہاں دریا پار کرانے والا کوئی ملاح موجود نہیں تھا۔ میں کافی دیر ملاح کا انتظار کرتا رہا، پھر اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ ایک درخت خودبخود کٹا، اس کے تنے سے تختے بھی خودبخود بن گئے۔ پھر میں اور حیران ہوا کہ وہ تختے پانی پر تیرتے تیرتے ایک ساتھ اکٹھے ہوئے اور درخت سے بننے والے دِلے (لکڑی کے کیل)خودہی ان تختوں کو جوڑنے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک کشتی تیار ہو گئی۔ وہ کشتی آکر میرے پاؤں کے پاس رک گئی اور میں اس میں سوار ہو کر دریا کے پار آلگا اور پھر یہاں پہنچا ہوں۔ اس سارے عمل کی وجہ سے مجھے دیر ہوگئی۔ 
ملحد مناظر نے کہا: امام صاحب، ایک آپ تاخیر سے آئے ، آپ نے وعدہ خلافی کی اور دوسرے آپ اب جھوٹ بھی بول رہے ہیں!
امام صاحب نے کہا: یہ جھوٹ کیسے ہے؟ 
مناظر بولے: اتنا کچھ خودبخود نہیں ہو سکتا۔ امام صاحب نے کہا: اگر یہ چھوٹا سا کام خودبخود نہیں ہو سکتا تو اتنی بڑی کائنات خودبخود کیسے بن سکتی ہے۔ 
یہ سن کر مناظر بے بس ہو کر خاموش ہو گیا۔
پرانے زمانے میں یہ نہایت مسکت جواب تھا۔ لیکن آج یہ عوام کے لیے تو مسکت ہے، لیکن بڑے بڑے سائنس دانوں اور ملحدوں کے لیے ایسا نہیں ہے، کیونکہ اب وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ والے کام تو آج بھی خود بخود نہیں ہوتے ، لیکن کائنات خود بخود بنی ہے، ان کے پاس اس کے شواہد ہیں۔ان کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے باورچی خانے میں تو ہنڈیا خودبخود نہیں پکتی ، مگر باہر باغ میں سیب خودبخود پک جاتا ہے۔آپ کے نہانے کے لیے غسل خانے میں پانی خودبخود نہیں آئے گا، لیکن سبزہ اگانے کے لیے بارش خودبخود آرہی ہے۔کائنات جس طرح اس وقت طبعی اصولوں پر چل رہی ہے، اسی طرح طبعی اصولوں پر بنی تھی۔ لیکن کشتی کا بننا، ہنڈیا کا پکنا، نہانے کے لیے آپ کی ٹینکی میں پانی کا بھرنا طبعی اصولوں کے تحت نہیں آتا، اس لیے یہ کام تو خودبخود نہیں ہو ں گے۔لیکن وہ کام البتہ خودبخود ضرور ہوتے رہتے ہیں جوطبعی اصولوں پر ہوتے ہیں۔آپ کے کچے صحن میں ہو سکتا ہے کہ کسی وقت آم کا ایک درخت اچانک اگ آئے۔لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک آم آپ کی فریج میں اچانک آموجود ہو۔

اصل استدلال کیا ہو؟

اب اصل استدلال صرف یہ ہوسکتا ہے کہ ہم کائنات میں ان کاموں کو موجود ثابت کردیں جو طبعی اصولوں کے تحت ممکن ہی نہیں ہیں۔مثلاً ایک مثال سے اپنی بات کو واضح کرتا ہوں ۔ جیسا کہ تصویر سے واضح ہے ، ہماری زبان پر مختلف ذائقے چکھنے کی صلاحیت مختلف مقامات پررکھی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری زبان کا ڈیزائن اس نے بنایا ہے جو یہ جانتا تھا کہ چیزوں میں ذائقہ ہوتا ہے اور اس کی کچھ مختلف صورتیں ہیں۔ اگر یہی مادہ اور طبعی قوانین ہی ہمارے اور ہماری زبان کے خالق ہیں، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کس مادی یا طبعی اصول سے ایسا ہوا ہے۔ صاف لگتا ہے کہ زبان پر ذائقے کے یہ حصے اس ذات نے مقرر کیے ہیں، جو نہ صرف یہ جانتی تھی کہ مادے کی مختلف چیزوں میں ذائقہ ہوتا ہے، بلکہ وہ یہ بھی جانتی تھی کہ انسان کو کون کون سے ذائقے دیے جائیں، تاکہ وہ ایک مناسب حد تک زندگی گزار سکے۔اس طرح کی وہ تمام چیزیں دریافت کی جانی چاہییں، جو مادی اصولوں کے تحت ناممکن ہیں۔

ثبوت کے دو طریقے: آفاق کی صحیح توجیہ

اوپر ہم نے یہ بات جو بیان کی ہے، اس کے پیچھے ایک مانا ہوا اصول کارفرما ہے۔ وہ یہ کہ empiricismکے اصول کے تحت صرف دو ہی طریقوں سے کسی چیز کو ثابت کیا جاسکتا ہے: ایک حواس کے ذریعے سے اور دوسرے inductiveطریق استدلال اور تجربے کے ذریعے سے۔مثلاً اگر میں ایک چیز کو خود اپنی جاگتی آنکھوں سے دیکھ لوں، تویوں بھی ایک چیز ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن اس میں شک رہتا ہے، اس لیے کہ حواس دھوکا کھا جاتے ہیں۔مثلاً اے سی والے کمرے سے نکل کر آنے والے کو عام درجۂ حرارت والا کمرا گرم لگے گا، اور دھوپ سے آنے والے کو وہی کمرا ٹھنڈا لگے گا۔ تو آیا جب ہم کسی چیز کو دیکھ رہے ہوتے ہیں تو کہیں ایسا تو نہیں تھا کہ ہماری آنکھ دھوکا کھا گئی ہو یا کسی اثر میں آگئی ہو۔ قرآن مجید نے بھی حواس کے بارے میں اس امکان کو مانا ہے: ’مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰی‘۱۳؂ ۔ یعنی آنکھ کے مشاہدے کے وقت آنکھ بھٹک بھی سکتی تھی اور وہ حقیقت سے متجاوز بھی کچھ تصور کرسکتی تھی، لیکن محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہِ پاک بین نے اس مشاہدہ میں ایسی کوئی چوک نہیں کی۔اسے ایک اور مثال سے سمجھیے ۔ ذیل میں اس لائن کو فٹ (scale) کے بغیر صرف حواس کے ذریعے سے ماپیں:


____________

اپنے نگاہ کے اندازے بتائیں کہ یہ لائن کتنی لمبی ہے؟ مثلاً آپ کا خیال ہے یہ ایک انچ ہے، تو کسی کا خیال ہو گا کہ سوا انچ ہے، کوئی اسے دو انچ کی قرار دے دے گا۔ غرض جتنے لوگ ہوں گے، شاید اتنے ہی مختلف سائز اس کے قرار دیے جائیں۔اب ان تمام آرا میں فیصلہ کیسے کیا جائے گا؟ کیا کسی بڑے کی بات مان لی جائے، یا فلسفی کی یا سیانے کی؟ نہیں، ان میں سے کسی کی نہیں۔ empiricism کہے گا کہ فٹے کی بات ماننا ہوگی۔پانچ روپے کا ایک فُٹا ہی صرف اس کی صحیح لمبائی بتا سکتا ہے۔اس مثال سے یہ بتانا پیش نظر ہے کہ اب کے چیزیں اس طرح ثابت نہیں ہوتیں کہ صرف ارسطو کے کہنے پرمان لیا جائے کہ عورت کے دانت مرد کے مقابلے میں زیادہ ہوتے ہیں۔یا چچا جان بڑے ہیں، اس لیے ان کے کہنے پر مان لیا جائے کہ اس وقت ان کو جو سردی لگ رہی ہے، وہی اصل موسمی حالت ہے۔

اصل طریقۂ استدلال

اوپر کی مثال سے یہ بات واضح ہے کہ محض حواس کی بات نہیں مانی جائے گی،بلکہ ایک معیاری پیمایش کا آلہ ہوگا جس کے تحت فیصلے کیے جائیں گے۔یہ تجربہ و امتحان کے معیار پر پورا اترنا ہے۔ بعض قدرتی اعمال کے لیے پیشین گوئیاں کی جاتی ہیں کہ اگر یہ نظریہ صحیح ہے تو پھر فلاں تاریخ کو مثلاً سورج گرہن ہو گا۔دوسرا طریقہ یہ ہے کہ inductive logic کے طریقے پر آثار سے ایسا نظریہ قائم کیا جائے جو تمام مواد (data) کو صحیح معنی میں سمجھا دے۔ پہلے ایک سادہ مثال سے بات کو سمجھتے ہیں: آپ صحرا میں جارہے ہوں، اور یکایک ریت پر کسی کے پاؤں کے نشان نظر آجائیں تو ہم ان نشانوں سے ایک اَن دیکھے انسان کو مان لیتے ہیں، اور اگر وہیں ایک سلگتا ہوا سگریٹ کا ٹکڑا بھی پڑا ہو، تو یہ بھی ثابت ہوجائے گا کہ وہ ان دیکھا انسان ابھی تھوڑی دیر پہلے یہاں پر ہی تھا۔
اب ایک ذرا پیچیدہ مثال لیتے ہیں، ایک سراغ رساں جس طرح مجرم تک پہنچتا ہے، اسی طرح ایک سائنس دان ایک نظریہ قائم کرتا ہے۔مثلاً ایک علاقے میں قتل ہوا، مقتول کے پاس ایک جوتا ملا، وہ جوتا کسی مرد کا ہے۔کسی محلے والے نے بتایا کہ فلاں شخص کو قتل کی رات مقتول کے گھر سے نکلتے ہوئے دیکھا تھا۔مگر جب وہ جوتا اس شخص کو پہنایا گیا تو وہ اسے پورا نہیں آیا۔مزید تلاش و جستجو کے بعد مقتول کے ہاتھ سے کچھ بال ملتے ہیں، جو شایدبوقت قتل اپنے دفاع میں نوچے گئے تھے۔یہ بال اسی شخص کے ہیں، جسے اس رات وہاں دیکھا گیا تھا۔آلۂ قتل شاید چھری ہے، جس کے دندانے ہونے چاہیں، کیونکہ مقتول کے زخم والی جگہ کچھ ایسا منظر پیش کررہی ہے، جیسے اسے کسی آری سے کاٹا گیا ہو۔مزید تلاش کے بعد وہ آلۂ قتل کوڑے دان سے ملتا ہے۔جس پرقاتل کے بجاے مقتول کے فنگرپرنٹس ہیں۔ جوتے کے ایک پاؤں کی تلاش میں مذکورہ آدمی کا گھر اور مقتول کا گھر پوری طرح چھانا جاتا ہے، مگر وہ نہیں ملتا۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ میں معلوم ہوتا ہے کہ مقتول کی موت اس رات نہیں ہوئی جس رات اس شخص کو وہاں دیکھا گیا تھا۔ مقتول کے لباس میں کپڑے میں اٹکا ہوا ایک ناخن ملتا ہے جس پر ناخن پالش لگی ہوئی تھی، یہ ناخن اصلی تھا ، اور جیسے کسی چیز میں پھنس کر ٹوٹ کر الگ ہو گیا ہو۔ پہلے ہی دن ایک ہمسائے سے معلوم ہوا تھاکہ مقتول کے پاس ایک عورت بھی آیا کرتی تھی۔اس عورت کی تلاش شروع ہوتی ہے، ایک دفعہ پھر مقتول کے گھر میں تلاش ہوتی ہے ایک کتاب میں سے ایک خط ملتا ہے، جس پر کسی کا پتا ہوتا ہے، وہ نام پتا اسی شخص کا ہے، جس کو مقتول کے گھر کے پاس دیکھا گیا تھا۔ خط کا مضمون دوستانہ ہے۔نئی تلاش میں ایک گلاس ہاتھ لگتا ہے، جس پر مقتول اور مذکورہ شخص کے علاوہ کسی اور کے فنگر پرنٹس ملتے ہیں۔یہ گلاس صوفے کے نیچے ہوتا ہے۔ فنگر پرنٹس کے ریکارڈ سے پتا چلتا ہے کہ یہ ایک عورت کے ہیں۔ عورت کے گھر کی تلاش میں جوتے کا ایک پاؤں مل جاتا ہے، جس کاتلوا کاٹ دیا گیا ہے۔کوڑے دان کی تلاش میں ایک خالی پیکٹ ملتا ہے،جس میں آلۂ قتل فٹ بیٹھتا ہے۔
یہ سب معلومات ایک data ہے، جس میں ایک مقتول ہے اور data دو قاتلوں کی طرف امکانات کا اظہار کررہا ہے۔ اب ایک ایسا حل ڈھونڈنا ہے، جو ان ساری باتوں کو ایسے حل کردے کہ ہر چیز کا جواب مل جائے،اور حقیقی قاتل کا پتا بھی چل جائے۔ ان آثار کو جوڑ کر صحیح حل تک پہنچنا ہی inductive استدلال ہے۔
سائنس دانوں نے ڈھیروں اورٹنوں (tons) کے حساب سے جو مواد اکٹھا کیا ہے، اسے جوڑ کر انھوں نے بگ بینگ کا خودبخود کائنات کے پیدا ہونے کا حل دیا ہے۔اوپر دوقاتلوں والی مثال ہی یہاں فٹ بیٹھتی ہے کہ کائنات کے بارے میں اکٹھے کیے گئے اس مواد کا صحیح حل خالق ہے یا حادثہ ہے؟
میں صرف یہاں اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ مسلمان سائنس دانوں کو آگے بڑھ کر اس سارے مواد کی نئی توجیہ کرنی ہے جو سارے موادکو نہ صرف حل کردے، بلکہ کائنات کے حقیقی خالق تک بھی لے جائے۔ میں نے اوپر جو ذائقے کی مثال دی ہے، وہ ان مثالوں میں سے ایک ہے جو حادثے والی توجیہ کو ناقص قرار دیتی ہے، اس لیے کہ حادثہ صاحب علم نہیں ہوتا، جب کہ ذائقہ کے لیے زبان پر ان حاسوں کا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ چیزوں کے ذائقے جاننے والے نے یہ حاسے بنائے ہیں۔جب کہ بے روح مادہ ، اور بے عقل حادثہ اس کا علم کیسے رکھ سکتا تھا، جب کہ انسان جیسا ذی شعور بھی چکھے بغیر ان کے ذائقے سے واقف نہیں ہو سکتا۔ اس کے معنی بس یہی ہیں کہ یا مادے کو ذی علم ماننا پڑے گا یا مادے کے علاوہ کسی ایسے خالق کو ماننا پڑے گا جو ذی علم ہے۔ بگ بینگ یا نظریۂ ارتقا کے عملِ فطری چناؤ اس قابل نہیں کہ اس طرح کے اقدامات کرسکے ، جو چناؤ کے بجاے کسی اور چیز کا پتا دیتے ہوں۔
آج کی آفاقی دلیل یہی ہے کہ سائنس کے اکٹھے کیے ہوئے مواد کی ایسی توجیہ (interpretation)کر دیں کہ تمام مواد حل (explain) ہو جائے، اور کوئی پہلو اس کا تشنہ نہ رہ جائے۔

انفس کی دلیل

علم نفسیات کو مغرب نے اس نہج پر پروان چڑھایا ہے جس کی بساط فرائڈ اور اس کے مابعد ماہرین نے بچھائی تھی۔ ہمیں اس وقت اس علم میں بھی آگے بڑھنا ہے، طریقۂ کار بھی بدلا جاسکتا ہے، لیکن میری ناقص راے میں ان کا طریقۂ کار بھی نہایت سود مند ہے۔ اس میں مختلف پہلوؤں سے انسانوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ ہمارے مسلمان نفسیات دان آگے بڑھ کر اس علم کی بنیاد پر بہت سی چیزیں ثابت کرسکتے ہیں۔ مثلاً ایک نفسیات دان نے تحقیقی طور پر یہ بتایا ہے کہ مذہبی اور مافوق الطبعی تصورات ہمارے دماغ میں پیدایش کے وقت ہی ڈال دیے جاتے ہیں، جس سے مذہب ہمیں ایک نفسیاتی قوت عطا کرتا ہے۔ایک ویب سائٹ پر اس بات کو یوں بیان کیا گیا ہے:

برسٹل یونیورسٹی میں ڈویلپ مینٹل سائیکالوجی کے پروفیسر بروس ہُڈ کی تحقیقات یہ بتاتی ہیں کہ مافوق الفطرت قسم کے عقائد اور جادو قسم کے تصورات کی ہماری پیدایش کے وقت ہی سے ہمارے ذہن میں وائرنگ کردی جاتی ہے۔ لہٰذا مذہب ایک نہایت قوی نفسیاتی قوت سے فیض پاتا ہے۔
The findings of Bruce Hood, professor of developmental psychology at Bristol University, suggest that magical and supernatural beliefs are hardwired into our brains from birth, and that religions are therefore tapping into a powerful psychological force .۱۴؂
(اس لیے )پروفیسر ہڈ یہ یقین رکھتا ہے کہ لوگوں کو عقائد ترک کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش بے سود ہے، اس لیے کہ عقائد انسانوں کی فطرت سے اٹھتے ہیں۔
Professor Hood believes it is futile to try to get people to abandon their beliefs because these come from such a 'fundamental level'. 

اسی ویب سائٹ پر پروفیسر hoodکی طرف سے یہ باتیں بھی لکھی گئی ہیں کہ:

پروفیسر کہتا ہے: ہماری تحقیقات یہ بتاتی ہیں کہ بچے طبعی طور پر ایک وجدانی طرز فکر رکھتے ہیں جو انھیں مافوق الفطرت چیزوں کو ماننے کی طرف دھکیلتے ہیں کہ وہ کائنات کے بارے میں سوچیں کہ وہ کیسے چل رہی ہے۔ 
'Our research shows children have a natural, intuitive way of reasoning that leads them to all kinds of supernatural beliefs about how the world works,' he said. 
اگرچہ وہ بڑے ہوکر ان عقائد کو عقلی روپ دینے لگتے ہیں ، لیکن غیر منطقی طریقے سے مافوق الفطرت وجود کو ماننے کا عقیدہ مذہب کی حیثیت سے پھر بھی موجود رہتا ہے۔ 
'As they grow up they overlay these beliefs with more rational approaches but the tendency to illogical supernatural beliefs remains as religion.' 
پروفیسر جو اس ہفتے برٹش سائنس ایسوسی ایشن کی سالانہ میٹنگ میں یہ تحقیق پیش کرنے جارہے ہیں ، وہ مدون قسم کے مذاہب کو اسی مافوق الفطرت چیزوں کو ماننے کے ہالے ہی کا حصہ مانتے ہیں۔
The professor, who will present his findings at the British Science Association's annual meeting this week, sees organized religion as just part of a spectrum of supernatural beliefs.

اس دریافت کے بعد tabula rasa کا فلسفیانہ نظریہ کہ انسان کا ذہن پیدایش کے وقت خالی سلیٹ کی طرح ہوتا ہے، دم توڑ جائے گا۔ ابراہیمی مذاہب کا یہ نظریہ محکم ہو گا کہ ہم نے خدا کا تصور انسان کو عہد الست کے وقت ذہن نشین کرادیا تھا۔ میرے خیال میں علم نفسیات نے بچوں پر جو کام کیے ہیں، وہ مذہب کے حق میں نہایت محکم جگہ پر لے جارہے ہیں۔ بچہ اپنی پیدایش کے دن ہی سے قلب و ذہن میں ذکی اور ایک صاحب علم ہستی ہوتا ہے۔ اس دراز گوئی کا مقصد یہ عرض کرنا ہے کہ اب ہم سائنسی معنی میں آفاقی اورانفسی دلائل سے یہ ثابت کرسکتے ہیں کہ خدا ہے۔ جب خدا ہے تو مذہب یا دین ہے۔اور جب دین ہے تو اسلام سب سے زیادہ صحیح اور organized مذہب ہے۔

کتابیات

Capitan, William H. Philosophy of Religion An introduction. New York: Pegasus, 1972. mathew. http://infidels.org. 1997. 
http://infidels.org/library/modern/mathew/intro.ht... (accessed January 20, 
Adler, Margot (2006) (First published 1979). Drawing Down the Moon: Witches, Druids, Goddess-Worshippers and Other Pagans in America (Revised Edition ed.). London: Penguin Books. ISBN 978-0-14-303819-1. 
Berger, Helen (1999). A Community of Witches: Contemporary Neo-Paganism and Witchcraft in the United States. Columbia, South Carolina: The University of South Carolina Press. ISBN 1-57003-246-7. 
Berger, Helen; Ezzy, Douglas (2007). Teenage Witches: Magical Youth and the Search for the Self. New Brunswick, New Jersey and London: Rutgers International Press. ISBN 978-0813540207. 
Blain, Jenny; Ezzy, Douglas; Harvey, Graham (2004). Researching Paganisms. Oxford and Lanham: AltaMira Press. ISBN 978-0-7591-0522-5. 
Clifton, Chas; Harvey, Graham (2004). The Paganism Reader. Routledge. ISBN 978-0-415-30352-1. 
Gardell, Mattias (2003). Gods of the Blood: The Pagan Revival and White Separatism. Durham, North Carolina: Duke University Press. ISBN 978-0822330714. 
Hanegraaff, Wouter J. (1996). New Age Religion and Western Culture: Esotericism in the Mirror of Secular Thought. Leiden: Brill Academic Publishers. ISBN 90-04-10696-0. 2014).
WATT, W. MONTGOMERY. "Muhammad at Median." London: OXFORD, AT THE CLARENDON PRESS, 1956.

______
۱؂ الاعراف ۷: ۱۲۴۔ ’لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَکُمْ وَاَرْجُلَکُمْ مِّنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّکُمْ اَجْمَعِیْنَ‘۔
۲؂ السجدہ ۳۲: ۵۔ ’یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَی الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْہِ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٗٓ اَلْفَ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ‘۔
۳؂ المعارج ۷۰: ۴۔ ’تَعْرُجُ الْمَآٰءِکَۃُ وَالرُّوْحُ اِلَیْہِ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ‘۔
* یوسف ۱۲: ۹۴۔
** یوسف ۱۲: ۹۵۔

۴؂ الاعراف ۷: ۵۷۔
۵؂ النساء ۴: ۸۲۔
۶؂ الحج ۲۲: ۴۷۔
۷؂ المعارج ۷۰: ۴۔
۸؂ القمر ۵۴: ۱۸۔۱۹۔
۹؂ الحاقہ ۶۹: ۶۔۷۔
۱۰؂ واضح رہے کہ اس طریقہ کی ضرورت شاید تین چار مواقع سے زیادہ نہیں پڑی۔
۱۱؂ ’’The God Delusion‘‘ کا مصنف۔
۱۲؂ واضح رہے کہ یہ ایک وڈیو میں موجود گفتگو کو اپنے الفاظ اور انداز میں بیان کیا گیا ہے، بات یہی ہے، مگر الفاظ اور پیرائے کا فرق ہے۔
۱۳؂ النجم ۵۳: ۱۷۔
۱۴؂ http://www.dailymail.co.uk/news/article-1211511/Wh...

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت جولائی 2017
مصنف : ساجد حمید
Uploaded on : May 09, 2018
320 View