روز جزا اللہ کی رحمت کا تقاضا ہے - امین احسن اصلاحی

روز جزا اللہ کی رحمت کا تقاضا ہے

 

انسان جب خدا کی پروردگاری کے اہتمام کو دیکھتا ہے تو یہیں سے اس پر علم و معرفت کا ایک اور دروازہ کھلتا ہے ۔ یہ دروازہ ایک روز جزا و سزا کی آمد کا دروازہ ہے ۔ جس دن تنہا وہی ، پورے اختیار کے ساتھ انصاف کی کرسی پر بیٹھے گا اور نافرمانوں کو ان کی نافرمانیوں کی انصاف کے ساتھ سزا دے گا اور نیکوں کو ان کی نیکیوں کا فضل و رحمت کے ساتھ صلہ دے گا۔
خدا کی پروردگاری اور اس کی رحمانیت اور رحیمیت کی نشانیاں ایک روزِ جزا و سزا کی آمد کو کس طرح لازم کرتی ہیں ؟ اس سوال کا جواب تھوڑی سی وضاحت کا طالب ہے ۔
خدا کی پروردگاری سے روزِ جزا پر استدلال قرآنِ مجید نے جگہ جگہ اس طرح کیا ہے کہ جس خدا نے تمھارے لیے زمین کا فرش بچھایا اور آسمان کا شامیانہ تانا ، جس نے تمھارے لیے سورج اور چاند چمکائے ، جس نے ابرو ہوا جیسی چیزوں کو تمھاری خدمت میں لگایا ، جس نے تمھارے تمام ظاہری اور باطنی ، روحانی اور مادی مطالبات کا بہتر سے بہتر جواب مہیاکیا ، کیا اس خدا کے متعلق تم یہ گمان کرتے ہو کہ بس اس نے تمھیں یوں ہی پیدا کر دیا ہے اور پیدا کر کے بس یوں ہی چھوڑ دے گا ؟ یہ تمام کارخانہ محض کسی کھلنڈرے کا ایک کھیل ہے جس کے پیچھے کوئی غایت و مقصد نہیں ہے ؟ تم ایک شتر بے مہار کی طرح اس سر سبز و شاداب چراگاہ میں بس چرنے کے لیے چھوڑ دیے گئے ہو ، نہ تم پر کوئی ذمہ داری ہے اور نہ تم سے کوئی پرسش ہو گی ؟ اگر تم نے یہ سمجھ رکھا ہے تو نہایت غلط سمجھ رکھا ہے ۔ پرورش کا یہ سارا اہتمام پکار پکار کر شہادت دے رہا ہے کہ یہ اہتمام کسی اہم غایت و مقصد کے لیے ہے اور یہ ان لوگوں پر نہایت بھاری ذمہ داریاں عاید کرتا ہے جو بغیر کسی استحقاق کے اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔ ایک دن ان ذمہ داریوں کی بابت ایک ایک شخص سے پرسش ہو گی اور وہی دن فیصلہ کا ہو گا ۔ جنھوں نے اپنی ذمہ داریاں ادا کی ہوں گی ،وہ سرخ رو اور فائز المرام ہوں گے اور جنھوں نے ان کو نظر انداز کیا ہو گا ،وہ ذلیل اور نامراد ہوں گے ۔ یہ مضمون قرآنِ مجید میں مختلف اسلوبوں سے بیان ہوا ہے ،لیکن اختصار کے خیال سے صرف ایک مثال نقل کرتے ہیں :

’’کیا ہم نے زمین کو تمھارے لیے گہوارا نہیں بنایا اور اس میں پہاڑوں کی میخیں نہیں ٹھونکیں؟ اور ہم نے تم کو جوڑا جوڑا پیدا کیا ۔ اور تمھاری نیند کو دافعِ کلفت بنایا ۔ رات کو تمھارے لیے پردہ پوش بنایا اور دن کو حصولِ معاش کا وقت ٹھیرایا اور ہم نے تمھارے اوپر سات مضبوط آسمان بلند کیے اور روشن چراغ بنایا اور ہم نے بدلیوں سے دھڑا دھڑ پانی برسایا تاکہ اس سے ہم غلے اور بناتات اگائیں اور گھنے باغ پیداکریں ۔ بے شک فیصلہ کا دن مقرر ہے۔‘‘ (الانبا ۷۸: ۶۔۷)

’’بے شک فیصلہ کا دن مقرر ہے ۔‘‘ یعنی یہ چیزیں اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ جس نے یہ اہتمام انسان کے لیے کیا ہے ،وہ انسانوں کو یوں ہی شتر بے مہار کی طرح چھوڑے نہیں رکھے گا ، بلکہ اس کی نیکی یا بدی کے فیصلے کے لیے فیصلہ کا ایک دن بھی لائے گا ۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے رحمان اور رحیم ہونے کا یہ لازمی نتیجہ قرار دیا ہے کہ ایک ایسا دن بھی وہ لائے جس میں اچھوں اور بروں کے درمیان انصاف کرے ، نیکو کاروں کو ان کی نیکیوں کا صلہ دے ، اور بدکاروں کو ان کی برائیوں کی سزا دے۔ ایک رحمان اور رحیم ہستی کے لیے یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ ظالم اور مظلوم ، نیکو کار اور بد ،باغی اور وفادار ، دونوں کے ساتھ ایک ہی طرح کا معاملہ کرے ، ان کے درمیان ان کے اعمال کی بنا پر کوئی فرق نہ کرے ۔ نہ ظالم کو اس کے ظلم کی سزا دے نہ مظلوم کی مظلومیت کا ظالم سے انتقام لے ۔ اگر زندگی کا یہ کارخانہ اسی طرح ختم ہو جاتا ہے ، اس کے بعد جزا و سزا اور انعام و انتقام کا کوئی دن آتا نہیں ہے تو اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ العیاذ باللہ اس دنیا کے پیدا کرنے والے کی نگاہوں میں متقی اور مجرم ، دونوں برابر ہیں ، بلکہ مجرم نسبتاً اچھے ہیں جن کو جرم کرنے اور فساد برپا کرنے کے لیے اس نے بالکل آزاد چھوڑ رکھا ہے ۔ یہ چیز بداہتہً غلط اور اس کے رحمان اور رحیم ہونے کے بالکل منافی ہے ۔ چنانچہ اس نے نہایت واضح الفاظ میں اس کی تردید فرمائی۔ مثلاً:

’’کیا ہم اطاعت کرنے والوں کو مجرموں کی طرح کر دیں گے ،تمھیں کیا ہو گیا ہے ، تم کیسا فیصلہ کرتے ہو؟‘‘(القلم ۶۷: ۳۶)

اور اپنے رحمان اور رحیم ہونے کا یہ لازمی نتیجہ بتایا ہے کہ ایک دن وہ سب کو جمع کر کے انصاف کرے گا اور ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق بدلہ دے گا ۔ چنانچہ فرمایا ہے :

’’اس نے اپنے اوپر رحمت واجب کر لی ہے ،وہ قیامت تک ، جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں ہے ، تم کو ضرور جمع کر کے رہے گا ۔ ‘‘ (الانعام ۶: ۱۲)

اس سے صاف واضح ہے کہ قیامت دراصل خدا کی رحمت کا مظہر ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر رحمت واجب کر رکھی ہے۔ اس وجہ سے وہ فیصلے کا ایک دن ضرور لائے گا جس میں وہ سب کو اکٹھا کر کے ان کے درمیان انصاف فرمائے گا ۔ اور یہ بھی عین اس کی اس رحمت ہی کا تقاضا ہے کہ اس دن کسی کو مجال نہ ہو گی کہ اس کے فیصلوں میں کوئی مداخلت کر سکے اور اپنی سفارشوں سے حق کو باطل یا باطل کو حق بنا سکے ، بلکہ ہر ایک کے لیے بالکل بے لاگ اور پورا پورا انصاف ہو گا۔
اس سے یہ نکتہ بھی واضح ہوا کہ عدل اور رحمت میں کوئی تضاد نہیں ہے ، بلکہ عدل عین رحمت ہی کا تقاضا ہے ۔

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت اکتوبر 2002
مصنف : امین احسن اصلاحی
Uploaded on : May 04, 2018
696 View