اختلاف اور علمی رویے - طالب محسن

اختلاف اور علمی رویے

  

ہمارے ہاں، علمی مذاکرے کے لیے، فضا سازگار نہیں ہے۔ علمی تنقید وتجزیہ، اختلاف کے بجائے، بالعموم، مخالفت پر محمول کیا جاتا۔ بطور خاص، وہ لوگ، جو کسی خاص فکر کے داعی ہوتے ہیں، اور اسی حوالے سے، معاشرے میں ان کی ایک شناخت ہوتی ہے، ان کی طرف سے اکثروبیش تر، صحیح رویہ سامنے نہیں آتا۔ وہ جو کچھ بھی کسی نقدواعتراض کے سلسلے میں لکھتے یا کہتے ہیں، وہ محض ایک جوابی کارروائی ہوتی ہے۔اسے کسی طرح بھی علمی تنقید نہیں کہا جا سکتا، اس لیے کہ علمی تنقید کے کچھ مسلمہ اصول ہیں اور اس طرح کی تحریروں یا تقریروں میں یہ اصول کم ہی ملحوظ رکھے جاتے ہیں۔ ایک اہم اصول ، جسے ہم علمی تنقید کا اصل الاصول قرار دے سکتے ہیں، وہ بھی اس سلسلے میں دیے گئے جوابات میں پیش نظر نہیں رکھا جاتا۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ مخاطب کے نقطۂ نظر کی اصل وفرع کو متعین کرنے کے بعد، پہلے اصل اور بعد میں فروع کو زیر بحث لایا جائے،اس لیے کہ ہر علمی نقطۂ نظر کسی بنیاد پر قائم ہوتا ہے، لہٰذا، اگر بنیادی غلطی کی نشان دہی نہیں کی جائے گی، تو فروع پر چلائے گئے تیشے کوئی حقیقی نتیجہ پیدا نہیں کر سکیں گے۔ اور دوسری طرف اصل وبنیاد کو نظر انداز کر کے محض اجزا کو زیر بحث لانے سے یہ تاثر ہوتا ہے کہ جواب دیتے وقت اصل حقیقت سے گریز کر کے محض الجھاؤ پیدا کرنا مقصود ہے۔ چنانچہ قارئین، بسا اوقات، یہ رائے قائم کر لیتے ہیں کہ تنقید کرنے والے کے پاس پیش آنے والے سوالات کا کوئی جواب نہیں ہے۔ درآں حالیکہ، دین کا ایک عالم جس کی قرآن و سنت پر نظرہو، اور اس نے دوسرے اہل علم سے فیض صحبت بھی پایا ہو، وہ جو نقطۂ نظر بھی اختیار کرتا ہے، اس کے بارے میں یہی سمجھنا چاہیے کہ اس کی بنیاد کسی خواہش پر نہیں، بلکہ قرآن و سنت پر ہوتی ہے۔ اس وجہ سے اس کی رائے کو قبول یا رد کرنے میں عجلت یا جذباتیت سے گریز لازم ہے۔ اگرچہ صاحب علم جس درجے کا بھی ہو، ضروری نہیں کہ اپنی ہر تحقیقی کاوش میں صحیح نتیجہ ہی اخذ کرے۔ اور یہ ایک ایسی واقعی حقیقت ہے کہ علمی دنیا سے متعلق کوئی بھی شخص، اس کا انکار نہیں کر سکتا۔
ایک اور اہم حقیقت بھی پیش نظر رکھنی چاہیے کہ بسا اوقات، کسی رائے میں غلطی بہت دور بنیاد میں واقع ہوتی ہے۔ اس طرح کی صورت حال میں تنقید ، بالعموم ، غیر حقیقی محسوس ہوتی ہے اور آدمی کو باور نہیں آتا کہ ’محکم بنیادوں‘ پر قائم کسی کا فکری نظام ایسا غلط بھی ہو سکتا ہے۔
دعوت کا کام کرنے والوں کو جاننا چاہیے کہ اپنے عقیدے یا عمل میں غلطی مان لینا، اس دارالامتحان کی ایک بڑی آزمایش ہے۔ لیکن، اس میں بھی شبہ نہیں کہ ہر بڑی آزمایش کی طرح اس میں بھی پورا اترنے والے کے لیے بڑا اجر ہے۔ چنانچہ تنقید کے جواب میں ایک ہی رویہ ایسا ہے جو روز آخر میزان کو بھاری کرے گا اور وہ یہ ہے کہ اپنی رائے میں غلطی کا امکان مان کر تنقید کودیکھا جائے اور دل میں بھی یہی خیال رہے کہ ہو سکتا ہے تنقید کسی حق کو دریافت کر لینے میں مددگار ثابت ہو۔ ہر صاحب حق کے لیے یہی ایک راستہ ہے جو اسے بہرحال ، اختیار کرنا چاہیے۔ دوسری طرف تنقید کرنے والے کا اصل محرک بھی دین کے لیے خیر خواہی اور فرد سے ہمدردی پر مبنی ہونا چاہیے اور اسے یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اس کی تنقید بھی غلط ہو سکتی ہے۔ اس لیے اس کے پیش نظر ہمیشہ احقاق حق ہو اور اس کی غرض دوسرے کو، ہرحال میں غلط ثابت کرنا نہ ہو۔
یہ ایک عالم گیر سچائی ہے کہ آخری کامیابی حق ہی کو حاصل ہوتی ہے۔ چنانچہ اگر حق سے گریز کی جائے گی، تو آدمی کامیابی سے یقیناً محروم ہی رہے گا، خواہ یہ حق کسی ایسے آدمی کے پاس ہو جو ، ہمارے نزدیک، پسندیدہ نہیں ہے، اور خواہ ہماری آرا برسوں کی سوچ بچار کا نتیجہ ہی کیوں نہ ہوں۔

 

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت دسمبر 2012
مصنف : طالب محسن
Uploaded on : Feb 13, 2016
1232 View