نقد حدیث - امین احسن اصلاحی

نقد حدیث

 

سوال: کیا حدیث میں مزید ریسرچ کی ضرورت ہے یا جتنی احادیث ہم تک پہنچی ہیں، سب درست ہیں؟ آج کل کے دور میں ہم عقیدہ کو لے کر کوئی انقلاب برپا نہیں کر سکتے اور نہ ہی کوئی اصولی آئیڈیالوجی پیش کر سکتے ہیں جو دوسرے نظام ہاے زندگی کو شکست دے سکے۔ احادیث بہت سی ایسی ملتی ہیں جو ایک دوسرے سے ٹکراتی ہیں، قرآن سے ٹکراتی ہیں اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت سے ٹکراتی ہیں۔ اس سلسلہ میں میں نے بعض بزرگوں سے سوالات کیے۔ وہ میرے سوالات کا تشفی بخش جواب تو نہ دے سکے، البتہ یہ کہا کہ حدیث میں شک کرنا کفر کے مترادف ہے۔ ہمارے ان بزرگوں میں یہ انتہا پسندی مغرب زدہ طبقہ کو حدیث، بلکہ مذہب سے بہت دور لے جا رہی ہے۔ ڈر ہے کہ یہ انتہا پسندی اس طبقہ کو قطعی طور پر مذہب سے انکار پر مجبور نہ کر دے، اس لیے حدیث کو سائنٹیفک طریق پر پیش کرنے کی جتنی ضرورت آج ہے، شاید پہلے کبھی نہ تھی، کیونکہ مغرب زدہ طبقہ کو صرف عقیدہ پیش کر کے خاموش نہیں کر سکتے۔ ایسی احادیث بہت تھوڑی تعداد میں ہیں جن سے شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ میں چند مثالیں دینے کی کوشش کروں گا:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھ کر اپنی ازواج کے بوسے لیتے اور ان سے مباشرت فرمایا کرتے تھے (بخاری)۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھ کر مجھے چومتے اور میری زبان چوستے (ابوداؤد)، حالاں کہ قرآن نے روزہ کی حالت میں ان حرکات سے سخت منع کیا ہے۔ پھر کیا زبان چوسنے سے روزہ نہیں ٹوٹ جاتا؟
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حیض کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے تہ پوش پہننے کا حکم دیتے اور اس کے بعد مجھ سے مباشرت کرتے (بخاری)۔ اس معاملہ میں قرآن مجید یہ کہتا ہے کہ ’’لوگ آپ سے حیض کے متعلق پوچھتے ہیں تو کہہ دیجیے کہ حیض ایک قسم کی غلاظت ہے، اس لیے دوران حیض میں بیویوں سے دور رہیے۔‘‘ اب فرمائیے حدیث پر عمل کیا جائے یا قرآن پر؟
احادیث کے مزید تضاد ذیل کی مثالوں سے سامنے آتے ہیں:

۱۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ عورت، گدھا اور کتا سامنے آ جائیں تو نماز ٹوٹ جاتی ہے (مسلم)، لیکن دوسری طرف حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ارشاد ہے کہ ’’میں نماز میں حضور کے سامنے پاؤں پھیلا کر لیٹ جاتی تھی۔ جب وہ سجدہ کرتے تو مجھے آنکھ سے اشارہ کرتے، چنانچہ میں پاؤں سمیٹ لیتی اور جب وہ اٹھتے تو پھر پھیلا لیتی اور گھر میں چراغ موجود نہ تھا (بخاری)۔
پہلی حدیث میں عورت کے سامنے آ جانے سے نماز کا ٹوٹنا بتایا گیا ہے اور دوسری میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سامنے لیٹ کر کبھی پاؤں پھیلا دیتی ہیں اور کبھی سمیٹ لیتی ہیں، لیکن حضور منع نہیں فرماتے۔
۲۔ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت تمھاری ماں کے پاؤں تلے ہے، لیکن دوسری طرف یہ بھی فرمایا کہ میں نے جہنم کو دیکھا تو اس میں اکثر آبادی عورتوں کی نظر آئی۔ عورت کو اتنا اونچا درجہ دینے کے بعد فوراً ہی گرا دیا۔
پھر احادیث میں ایسی باتیں بھی ملتی ہیں جنھیں عقل انسانی قبول نہیں کر سکتی۔ مثلاً:

ا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ سورج نکلتے اور ڈوبتے وقت نماز نہ پڑھا کرو، اس لیے کہ سورج بوقت طلوع شیطان کے دو سینگوں کے درمیان پھنسا ہوا ہوتا ہے (بخاری)۔ کیا کوئی یورپین اس حدیث کو پڑھنے کے بعد قبول اسلام پر آمادہ ہو سکتا ہے؟
ب۔ ابوزر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ غروب آفتاب کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ غروب کے بعد آفتاب کہاں چلا جاتا ہے؟ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، آپ نے فرمایا کہ سورج بعد از غروب خدائی تخت کے نیچے سجدہ میں گر جاتا ہے۔ رات بھر اسی حالت میں پڑا دوبارہ طلوع ہونے کی اجازت مانگتا رہتا ہے، چنانچہ اسے مشرق سے نکلنے کی دوبارہ اجازت مل جاتی ہے، لیکن ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ اسے اجازت نہیں ملے گی اور حکم ہو گا لوٹ جاؤ جس طرف سے آئے ہو، چنانچہ وہ مغرب کی طرف سے نکلنا شروع کر دے گا (بخاری)۔
ج۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول بنا کر بھیجا اور اس پر ایک کتاب نازل کی جس میں آیت رجم موجود تھی (بخاری)۔
ایسی احادیث کو پیش نظر رکھ کر کیا علما حضرات حق بہ جانب ہیں کہ کوئی ذرا سا بھی شک کا اظہار کرے یا یہ کہے کہ تحقیق ضروری ہے تو کفر کا فتویٰ صادر کر دیں۔
نیز اس چیز کی بھی تشریح کیجیے کہ اگر حدیث میں تحقیق کی جائے تو کس معیار کو سامنے رکھا جائے گا؟ صحیح یا غلط حدیث کو آپ کس کسوٹی پر پرکھیں گے؟ کیا صرف راوی کی سند پر ہی اکتفا کیا جائے گا یا اور کوئی کسوٹی بھی پیش نظر ہو گی؟

    جواب: آپ نے حدیث کو سائنٹیفک طور پر پیش کرنے کی جس ضرورت کا اظہار فرمایا ہے، اس کی اہمیت سے کوئی عقل مند مسلمان انکار نہیں کر سکتا۔ یہ کام کرنے کا ہے اور اس میں ذرا شبہ نہیں ہے کہ صحیح اسلامی انقلاب پیدا کرنے کے لیے اس کام کا ہونا بہت ضروری ہے۔ ہم اس کی اہمیت کو اچھی طرح محسوس کرتے ہیں اور اپنے وسائل کے محدود ہونے کے باوجود اس کے کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اگرچہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ موجودہ مشکلات و موانع کے اندر یہ کام کب تک ہو سکے گا۔
مجھے اس امر واقع کا پوری طرح احساس ہے کہ بعض لوگ حدیث کے معاملہ میں ضرورت سے زیادہ حساس واقع ہوئے ہیں۔ وہ اس پر کسی تنقید کو برداشت کرنے پر تیار نہیں ہوتے۔ ہر حدیث جو حدیث کی کسی کتاب میں داخل ہو گئی ہے، ان کے نزدیک ہم پایۂ وحی بن گئی ہے، لیکن آپ یقین رکھیں کہ یہ حال صرف ان لوگوں کا ہے جو حدیث کے لیے اپنے اندر تعصب تو رکھتے ہیں، لیکن حدیث کا علم نہیں رکھتے۔ حدیث کا علم رکھنے والے علما ہمیشہ جرح و تنقید کے عادی رہے ہیں، بلکہ یہ کہنا ذرا مبالغہ نہیں ہے کہ حدیثوں کو جانچنے پرکھنے کے لیے جو اہتمام انھوں نے کیا ہے، وہ اہتمام کسی اور چیز کے لیے کسی گروہ نے بھی نہیں کیا۔ تاہم احادیث کی مزید جانچ پرکھ کی ضرورت ہوتی ہے، اس ضرورت سے ہرگز انکار نہیں کیا جا سکتا۔
لیکن جہاں مجھے اس ضرورت کا اعتراف ہے، وہاں میں اس امر کا اظہار بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ آج جو لوگ حدیثوں پر مخالفانہ تنقید کرتے ہیں، ان میں بلااستثنا ایک شخص بھی ایسا نہیں ہے جس نے اس فن کا باقاعدہ مطالعہ کیا ہو یا جس کے اندر اس کے سمجھنے کی معمولی صلاحیت بھی موجود ہو۔ کچھ غیر ذمہ دار قسم کے لوگ جن کو نہ حدیث کی خبر ہے نہ قرآن کی، محض سنی سنائی باتوں کو لے کر آج حدیث پر تنقید کرنے بیٹھے ہیں اور گمراہ کر رہے ہیں، ان بے چاروں کو جو اپنے علم و مطالعہ کی کمی کی وجہ سے حق و باطل میں امتیاز کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ مجھے افسوس ہے کہ آپ بھی اس طرح کے فتنہ پھیلانے والوں سے متاثر ہو کر حدیث کے خلاف بدگمانیوں میں مبتلا ہو گئے ہیں، ورنہ جن باتوں کا آپ نے حوالہ دیا ہے، اگر آپ خود ان پر غور کرتے تو بڑی آسانی سے ان کا صحیح پہلو معین کر لیتے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ آپ جتنا شوق حدیث پر اعتراض کرنے کا رکھتے ہیں، اتنا ان کے سمجھنے کا نہیں رکھتے۔
آپ نے جن حدیثوں کو قرآن کے خلاف ہونے کے ثبوت میں پیش کیا ہے، وہ ہرگز قرآن کے خلاف نہیں ہیں۔ قرآن مجید میں کوئی ایسی آیت نہیں ہے جس سے یہ مفہوم نکلتا ہو کہ روزہ رکھ کر میاں بیوی ایک دوسرے کو چھو نہیں سکتے یا ایک بستر میں لیٹ نہیں سکتے یا ایک دوسرے کا بوسہ نہیں لے سکتے یا دونوں ہم آغوش نہیں ہو سکتے۔ ممانعت جس چیز کی ہے، وہ وطی کی ہے۔ باقی چیزیں شوہر کے لیے مباح ہیں، بشرطیکہ وہ اتنا کمزور آدمی نہ ہو کہ ذرا سی تحریک سے آپے سے باہر ہو جانے والا ہو اور اندیشہ ہو کہ اس کے قدم حرام کے حدود میں جا پڑیں۔ اگر کوئی شخص اپنے اندر یہ کمزوری محسوس کرتا ہے تو اس کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ روزے کی حالت میں بیوی سے دور ہی دور رہے، جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک روایت میں اس کی تشریح فرما دی ہے۔ لیکن اگر ایک شخص اپنے نفس پر قابو رکھتا ہے تو اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ وہ روزہ رکھ کر اپنی بیوی کو پیار کر لے۔ قرآن نے بیوی کو کہیں بھی نواقض روزہ میں سے شمار نہیں کیا ہے۔ مذکورہ حدیثوں میں ’’مباشرت‘‘ کا جو لفظ آیا ہے، اس سے آپ کو کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے۔ اس سے مراد یہاں جماع نہیں ہے، بلکہ مجرد پاس سونا، بیٹھنا اور ظاہری افعال محبت ہیں۔
اسی طرح قرآن میں کہیں بھی یہ بات نہیں لکھی ہے کہ حیض کے ایام میں عورت کو اچھوت بنا کے رکھ دیا جائے کہ نہ میاں کو اس کو ہاتھ لگانے کی اجازت ہواور نہ وہ میاں کو ہاتھ لگا سکے۔ یہودیوں کے ہاں، بلاشبہ ایام حیض میں میاں بیوی کے لیے اس طرح کی پابندیاں تھیں، لیکن یہ ان کے اصل مذہب سے زیادہ ان کے فقہ کی پیدا کردہ تھیں۔ اسلام نے جو ایک دین فطرت ہے، اس طرح کی تمام خلاف فطرت پابندیوں کو ختم کر دیا ہے۔ صرف اتنی پابندی رکھی ہے کہ مرد ایام حیض میں عورت کے ساتھ جماع نہیں کر سکتا۔ آپ نے حیض کے زمانہ میں عورت سے دور رہنے کی بابت جس آیت کا حوالہ دیا ہے، اس میں ’’دور رہنے‘‘ سے مراد مجامعت سے پرہیز کرنے کے ہیں۔ یہ معنی نہیں ہیں کہ اس زمانہ میں عورت نجاست کا ایک ڈھیر بن جاتی ہے، جس کو گھر سے نکال باہر پھینک دینا چاہیے۔ آپ حضرات پر یہ تعجب ہوتا ہے کہ انکار حدیث کے جوش میں آپ لوگوں کو اپنی اس روشن خیالی پر بھی رحم نہیں آتا جس کا اظہار آپ جیسے لوگ عورت کے بارہ میں اکثر فرمایا کرتے ہیں۔ یا تو قرآن و حدیث سب کا انکار کر کے عورت کی وہ شان بڑھاتے ہیں کہ مرد بھی اس کے آگے گرد ہو کر رہ جاتا ہے یا پھر ایک حدیث کے انکار کے شوق میں اس کو اس درجہ گراتے ہیں کہ مرد اس کے پاس سے بھی گزر جائے تو آپ لوگوں کے نزدیک گندا اور نجس ہو جاتا ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی جن روایتوں کو آپ نے تضاد کی مثال میں پیش کیا ہے، اس تضاد کو آپ بڑی آسانی کے ساتھ رفع کر سکتے تھے، بشرطیکہ آپ اس فن سے کچھ واقف ہوتے۔ ان دونوں روایتوں میں آپ ترجیح کا اصول استعمال کر کے ایک کو راجح اور دوسری کو مرجوح بھی قرار دے سکتے ہیں اور اگر ذرا تامل سے کام لیں تو بڑی آسانی سے ان میں جمع و تطبیق کا قاعدہ بھی چل سکتا ہے۔
ترجیح کا پہلو یہ ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں اور وہ خود اپنا معاملہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیان کرتی ہیں اور محض ایک دو مرتبہ کا کوئی اتفاقی واقعہ پیش نہیں کرتی ہیں، بلکہ اپنا ایک ایسا تجربہ بیان کرتی ہیں جو ان کو بار بار پیش آیا ہے اور جس میں بظاہر کسی غلط فہمی کا امکان نہیں ہے۔ دوسری طرف حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے جس میں متعدد پہلو اس امکان کے موجود ہیں کہ ان کو کوئی غلط فہمی ہو گئی ہو، اس وجہ سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی روایت اس معاملہ میں ترجیح کے لائق ہے۔
دوسرا پہلو جمع و توفیق کا ہے۔ اس کی شکل یہ ہے کہ آپ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی روایت کو اس حالت کے ساتھ مخصوص کر دیں، جبکہ کوئی اجنبی غیر محرم عورت بے حجابانہ نمازی کے سامنے آ جائے۔ ایک اجنبی عورت کے بے حجابانہ سامنے آ جانے سے اس سکون طبیعت اور توجہ الی اللہ کے درہم برہم ہو جانے کا اندیشہ ہے جو نماز میں مطلوب ہے۔ اس حدیث کو اس حالت کے ساتھ مخصوص کر دینے کے بعد دونوں حدیثوں کے الگ الگ محل متعین ہو جاتے ہیں اور وہ تضاد رفع ہو جاتا ہے جس سے پریشان ہو کر آپ پورے ذخیرۂ حدیث کو دریا برد کر دینا چاہتے ہیں۔
جنت کے ماں کے پاؤں کے نیچے ہونے اور پھر دوزخ میں عورتوں کی کثرت سے متعلق آپ نے جو روایات نقل کی ہیں، ان میں تضاد کا پہلو میری سمجھ میں نہیں آیا۔ پہلی حدیث میں ماں کی خدمت اور اس کے ساتھ حسن سلوک کی تشویق و ترغیب ہے اور اس کا اجر جنت بیان کیا گیا ہے اور اس میں شک نہیں کہ ایک مسلم بیٹے کے لیے ماں کی خدمت کا یہی صلہ ہے، عام اس سے کہ ماں کافرہ ہو یا مومنہ۔ دوسری حدیث میں عورتوں کی بعض عام بیماریوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو مردوں کے بالمقابل عورتوں میں زیادہ پائی جاتی ہیں اور جن کے سبب سے دوزخ میں ان کی تعداد زیادہ ہو گی۔ ان دونوں حدیثوں میں دو بالکل الگ الگ حقیقتیں بیان ہوئی ہیں، ان میں تضاد کا کیا سوال ہے؟ کہیں آپ نے جنت کو ماں کے پاؤں کے نیچے ہونے کا یہ مطلب تو نہیں سمجھا ہے کہ جنت عورت کی تحویل میں دے دی گئی ہے، وہ جس کو چاہے جنت میں داخل کرے اور جس کو چاہے جنت سے محروم کر دے۔ اور یہ مطلب لے کر آپ اس میں اور دوسری حدیث میں تضاد پیدا کر رہے ہوں؟ اگر یہ بات ہے تو اس میں حدیث کا کوئی قصور نہیں ہے، سارا قصور آپ کے فہم کا ہے۔
جن حدیثوں کو آپ نے خلاف عقل قرار دیا ہے، ان میں بھی کوئی بات خلاف عقل نہیں ہے، ہر بات بالکل عقل کے مطابق ہے، بشرطیکہ ایک شخص کے پاس خود اپنی گرہ کی عقل ہو اور وہ اس کو تعبیرات حقائق کے سمجھنے کے لیے استعمال کرنے کا ذوق اور سلیقہ رکھتا ہو۔ میں پورا اطمینان رکھتا ہوں کہ اگر کوئی عقل مند یورپین ان حدیثوں کو پڑھے گا تو ان کا کوئی نہ کوئی صحیح محل وہ ضرور نکال لے گا۔ البتہ ہمارے اندر کے جو یورپ زدہ ہیں، وہ بے سمجھے بوجھے اس طرح کی باتوں پر اعتراض کرتے ہیں۔
میں بعینہٖ ان حدیثوں پر بحث کرنے کے بجاے یہ مناسب خیال کرتا ہوں کہ آپ کے سامنے چند اصولی باتیں رکھوں جن سے آپ اگر چاہیں گے تو اس طرح کی حدیثوں کو سمجھنے میں مدد لے سکتے ہیں۔
پہلی بات یہ ہے کہ ان میں بعض اہم حقائق کی تعبیر کی گئی ہے، اس وجہ سے ان کو ظاہر پر محمول کرنا صحیح نہیں ہے۔
دوسری یہ کہ جس طرح قرآن میں بعض باتیں از قبیل متشابہات ہیں، اسی طرح حدیث میں بھی بعض باتیں ازقبیل متشابہات ہیں، اور ان کی حقیقت معلوم کرنے کے درپے ہونا فتنہ سے خالی نہیں۔ اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ان کی نسبت پر اطمینان ہے تو محض اس وجہ سے ان کا انکار کرنا صحیح نہیں ہے کہ وہ آپ کے علم و ادراک سے مافوق ہیں۔
تیسری یہ کہ ہمارا علم محدود ہے، اس وجہ سے ایک شے کے ایک پہلو کو دیکھ کر ہم یہ سمجھ لیتے ہیں کہ بس اس کا یہی ایک پہلو ہے، حالاں کہ اس کے بے شمار پہلو ہو سکتے ہیں جن سے ہم بے خبر ہو سکتے ہیں اور تنہا وہی ان کا احاطہ کر سکتا ہے جس کا علم ہر چیز کو محیط ہے۔
ان باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے اب حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ والی حدیث پر غور فرمائیے کہ اس میں کون سی بات ہے جس کا انکار کیا جا سکتا ہے؟ کیا اس حقیقت سے انکار کیا جا سکتا ہے کہ غروب کے بعد سورج خدا کے تخت جلال کے آگے سجدہ میں گر جاتا ہے؟ کیا قرآن میں یہ حقیقت بیان نہیں ہوئی ہے کہ کائنات کی ہر چیز خدا کے آگے سجدہ کرتی ہے اور یہ کہ رات میں ہر چیز کا سایہ خدا کے آگے سربسجود رہتا ہے اور آفتاب کے طلوع کے ساتھ ہی اٹھنا شروع ہوتا ہے اور پھر اس کے رکوع و سجود کے ساتھ ہر چیز رکوع و سجود کی حالت میں ہو جاتی ہے؟ کیا آپ اس حقیقت سے انکار کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جب چاہے گا سورج کو مشرق سے طلوع ہونے کی اجازت دینے سے انکار کر دے گا اور سورج کو اس حکم کی تعمیل کرنی پڑے گی؟ آخر آپ کو ان حقائق سے کن وجوہ کی بنا پر انکار ہے؟ کیا محض اس بنا پر کہ آپ ظاہر میں ایسا نہیں دیکھ رہے ہیں؟ اگر یہ بات ہے تو یہ محض ایک منفی پہلو ہے، اثباتی طور پر آپ نے اس سلسلہ میں کیا تحقیقات فرمائی ہیں؟
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی جس روایت کا آپ نے حوالہ دیا ہے، اس میں کچھ اضطراب ہے، اور اس کو ماہرین فن نے خود محسوس کیا ہے، لیکن یہ اضطراب پورے ذخیرۂ حدیث کی بے اعتباری کا ثبوت نہیں ہے، بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ احادیث کو نقد و نظر کے ساتھ قبول کرنا چاہیے۔
احادیث کے نقد و نظر میں اہل فن نے صرف سند ہی کو معیار نہیں قرار دیا ہے، بلکہ متعدد چیزوں کو بھی قرار دیا ہے۔ لیکن میں ان چیزوں کا بیان کرنا یہاں غیر ضروری سمجھتا ہوں، اس لیے کہ ان چیزوں کا علم ان لوگوں کے لیے مفید ہے جو باقاعدہ فن حدیث سے واقف ہوں۔ جن لوگوں کا حال یہ ہے کہ فن حدیث تو درکنار سرے سے عربی زبان ہی سے ناواقف ہیں، محض سنی سنائی باتوں کی بنا پر حدیث پر تنقید کرنے بیٹھ گئے ہیں، ان کو تنقید حدیث کے معیارات معلوم ہونے سے پہلے عربی زبان، قرآن مجید اور حدیث کی واقفیت ضروری ہے اور میں آپ کو یہ مشورہ دوں گا کہ آپ پہلے یہ واقفیت بہم پہنچائیں۔

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت اپریل 2014
مصنف : امین احسن اصلاحی
Uploaded on : Mar 29, 2017
732 View