غیر مسلم اقوام میں روزہ - محمد رفیع مفتی

غیر مسلم اقوام میں روزہ

 

قرآنِ مجید میں روزے کا حکم نازل ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ ہی اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کر دیا کہ تم پر روزوں کا یہ فرض کیا جانا کوئی نئی بات نہیں ہے، ہم نے تم سے پہلی امتوں پر بھی روزے اسی طرح فرض کیے تھے جیسے تم پر کیے جا رہے ہیں۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ روزے کی یہ عبادت تقریباً دنیا کے تمام مذاہب میں پائی جاتی ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کی تردید ممکن نہیں۔ روزے کے بارے میں اسی پہلو کی وضاحت کرتے ہوئے ‘Encyclopedia of Religion’ میں لفظ روزہ (Fasting) کے تحت مضمون نگار لکھتا ہے:
’’روزہ یعنی غذا سے مکمل یا جزوی پرہیز ایک ایسا آفاقی عمل ہے جو مشرق و مغرب کی تقریباً سبھی تہذیبوں میں پایا جاتا ہے۔‘‘
‘Encyclopedia Britannica’ میں روزہ کے تحت اسی پہلو کو بیان کرتے ہوئے مضمون نگار لکھتا ہے:

’’خاص مقاصد کے لیے یا اہم مقدس اوقات کے دوران میں یا ان سے قبل روزہ رکھنا دنیا کے بڑے بڑے مذاہب کا خاصہ ہے۔‘‘

‘Jewish Encyclopedia’میں ’’روزہ اور روزہ کے ایام‘‘ (Fasting and Fast days)کے تحت مضمون نگار نے اس حقیقت کو یوں واضح کیا ہے:

’’روزے کی تعریف عموماً یہ کی جاتی ہے کہ مذہبی اور اخلاقی مقاصد کے حصول کے لیے خوش دلی سے جسم کو ایک مقررہ مدت کے لیے تمام قدرتی غذاؤں سے محروم رکھنا۔ روزے کے اس دستور کو دنیا کے تمام مذاہب میں بہت مقبولیت حاصل رہی ہے۔ اگرچہ یہ حقیقت بھی ہے کہ مختلف مذاہب اور قوموں میں اس کے محرکات اور اس کی شکلیں مختلف رہی ہیں۔‘‘

مذہبی معلومات کی لغت “Theological Dictionary by Rev. Charlas Buck”میں روزہ کے تحت یہی بات ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے:

’’کوئی آدمی مذہبی روزوں کو کتنی ہی کم اہمیت کیوں نہ دے۔ یہ بات صاف محسوس ہوتی ہے کہ اکثر قدیم اقوام نے بھی اس مذہبی دستور کو اپنایا ہے۔ مصریوں، فونیشیوں اور آشوریوں کے ہاں بھی ایسے ہی روزے پائے جاتے ہیں، جیسے یہودیوں کے ہاں پائے جاتے ہیں۔‘‘

دنیا میں آج جتنے مذاہب بھی ہمیں نظر آتے ہیں، ان کے بارے میں یہ بات تو نہیں کہی جا سکتی کہ یہ سب کے سب الہامی ہیں البتہ، یہ حقیقت ہے کہ اسلام کے علاوہ ان میں سے دو اور مذاہب یعنی یہودیت اور نصرانیت کی ابتدا خدا کے سچے پیغمبروں سے ہوئی تھی۔ رہے باقی مذاہب تو ان کے مطالعے سے بھی یہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ حقیقت میں آسمانی ہدایت ہی کی بگڑی ہوئی شکلیں یا اس کی وہ بھونڈی نقالی ہیں جسے پیش کرنے والوں نے خدائی شریعت کے رنگ ڈھنگ میں پیش کیا ہے۔ بہرحال، ان سب مذاہب میں جہاں اور بہت سی عبادات پائی جاتی ہیں وہاں روزے کی عبادت بھی موجود ہے۔ اس تحریر میں ہمارے پیشِ نظر یہ ہے کہ ہم مختلف اقوام اور مختلف مذاہب میں روزہ کی عبادت اور اس کے مختلف طریقوں کا مطالعہ کریں۔ اس ضمن میں سب سے پہلے ہم ہندوستان اور اس کے گرد و پیش میں پائے جانے والے مذاہب کا مطالعہ کرتے ہیں۔

ہندوستان اور اس کے گرد و پیش کے مذاہب

پہلے ہندوستان میں پائے جانے والے قدیم مذہب ہندومت کو دیکھتے ہیں۔ ہندومت کا مختصر تعارف یہ ہے کہ یہ وہ مذہب ہے جو آریاؤں نے آج سے تقریباً پونے چار ہزار برس پہلے ہندوستان میں آ کر اختیار کیا۔
ہندومت کی تعریف ہی یوں کی گئی ہے کہ یہ درحقیقت روزوں، دعوتوں اور تہواروں کا مذہب ہے ۱؂ ۔ اس مذہب کے ایک نمائندے ٹی ایم مہادیون صدر شعبۂ فلسفہ مدراس یونیورسٹی ہندو مذہب اور ہندو سماج میں روزہ کی حقیقت پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ان تہواروں میں، جن کو سالانہ منایا جاتا ہے بعض تہوار روزہ (برت) کے لیے مخصوص ہیں، جو تزکیۂ نفس کے لیے رکھا جاتا ہے۔ ہر ہندو فرقے نے دعا و عبادت کے لیے کچھ دن مقرر کر لیے ہیں۔ جن میں اکثر افراد روزہ رکھتے ہیں، کھانے پینے سے باز رہتے ہیں۔ رات بھر جاگ کر اپنی مذہبی کتابوں کی تلاوت کرتے اور مراقبہ کرتے ہیں، ان میں سے سب سے اہم اور مشہور تہوار جو مختلف فرقوں میں رائج ہے، ’’ویکنتا ایکاوشی‘‘ کا تہوار ہے، جو ’’وشنو‘‘ کی طرف منسوب ہے، لیکن اس میں صرف وشنو ہی کے ماننے والے نہیں بلکہ دوسرے بہت سے لوگ بھی روزہ رکھتے ہیں، اس تہوار میں وہ دن میں روزہ رکھتے ہیں اور رات کو پوجا کرتے ہیں۔
بعض دن ایسے ہیں جو عورتوں کے ساتھ مخصوص ہیں (ان دنوں میں) وہ ان دیبیوں (دیویوں) سے دعائیں کرتی ہیں، جو ایشور کی ان نسوانی صفات کا مظہر ہیں، جو مختلف اشکال میں ظاہر ہوئی ہیں۔ ان دنوں کو ان کی مخصوص اہمیت کے پیشِ نظر ’’برت‘‘ یا عہد و معاہدہ کہا جاتا ہے اور یہ روح کے تزکیے کے لیے مخصوص ہیں۔ ان کا مقصد روح کو معنوی غذا پہنچانا ہے ۲؂ ۔‘‘

مختلف تہواروں پر اس طرح سے روزہ رکھنا عوام کا طریقہ ہے۔ خواص ان مواقع پر تو روزے رکھتے ہیں لیکن وہ ان کے علاوہ اور روزے بھی رکھتے ہیں۔ مثلاً ہندو جوگی چلہ کشی کرتے ہیں یعنی چالیس دن تک اکل و شرب سے پرہیز کرتے ہیں ۳؂ ۔ اس کے علاوہ یہ جوگی اور بھی کئی روزے رکھتے ہیں اور اپنے اس عمل کی وجہ سے عوام میں بہت عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں ۴؂ ۔
ہندوؤں میں بعض روزے ایسے بھی ہیں جو برہمنوں (ہندوؤں کی برتر ذات) کے ساتھ خاص ہیں۔ مثلاً ہر ہندی مہینے کی گیارہ اور بارہ تاریخ کو برہمنوں پر اکاوشی کا روزہ فرض ہے۔ اس کے علاوہ بعض برہمن ہندی مہینے ’کاتک‘ کے ہر پیر کو روزہ رکھتے ہیں ۵؂ ۔ ہندو سنیاسیوں کا طریقہ ہے کہ وہ یاترا یعنی مقدس مقامات کی زیارت کے دوران میں بھی روزے رکھتے ہیں ۶؂ ۔
ہندوؤں میں نئے اور پورے چاند کے د نوں میں بھی روزہ رکھنے کا رواج ہے۔ “Sacred Books of the East”میں ویدوں کے حوالے سے ان روزوں کی ترغیب یوں دی گئی ہے کہ:

’’صاحبِ خانہ اور اس کی بیوی کو نئے اور پورے چاند کے دنوں میں روزہ رکھنا چاہیے۔‘‘ (ج۲، ص۱۰۰)

’’پورے چاند کے دن جبکہ رات اور دن کے ملاپ کے وقت چاند طلوع ہوتا ہے تو آدمی کو چاہیے کہ وہ روزہ رکھے۔‘‘ (ج۳۰، ص۲۵)

اس کے علاوہ ان کے ہاں قریبی عزیز یا بزرگ کی وفات پر بھی روزے رکھنے کا رواج ہے۔ “Sacred Books of the East” میں ویدوں کے حوالے سے اس کے بارے میں اس طرح بیان کیا گیا ہے:

اگر آدمی کی بیوی، بڑا گرو یا باپ انتقال کر جائے تو موت کے دن سے لے کر اگلے دن اسی وقت تک روزہ رکھنا چاہیے۔‘‘ (ج۲، ص۱۳۷)

گناہوں کے کفارے کے طور پر بھی روزہ رکھا جاتا ہے۔ “Sacred Books of the East”میں کفارے کے روزے کو اس طرح بیان کیا گیا ہے:

’’اگر کوئی شودر کسی دودھیل گائے یا جوان بیل کو بغیر کسی وجہ کے مار ڈالے یا کسی کو بے وجہ گالی دے تو اس پر کفارے کے طور پر لازم ہے کہ سات دن کے روزے رکھے۔‘‘ (ج۲، ص۸۴)

’’کھانے کے دوران میں اگر میزبان کو یاد آ جائے کہ اس نے مہمان کو خوش آمدید نہیں کہا تو اسے فوراً کھانا چھوڑ کر روزہ رکھنا چاہیے۔‘‘ (ج۲، ص۱۲۱)

ہندوؤں میں یہ عقیدہ پایا جاتا ہے کہ کسی کی وفات یا پیدایش کی بعض صورتیں انسان کے لیے ناپاکی کا باعث بنتی ہیں۔ یہ ناپاکی برہمن کولاحق ہو تو دس دن میں خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔ کھتری کو لاحق ہو تو پندرہ دنوں میں ختم ہو جاتی ہے۔ ویش کو لاحق ہو تو بیس دنوں میں ختم ہو تی ہے اور شودر کو یہ ناپاکی لاحق ہو تو ایک مہینے کے بعد ختم ہوتی ہے۔ شودر کی ناپاکی کے اس عرصے میں اگر کوئی آدمی جو پہلے ہی دو بار جنم لے چکا ہو، اس کے ہاں کھانا کھائے تو سخت گناہ گار ہو جاتا ہے۔ اس گناہ کے کفارے کی صورت “Sacred Books of East”کے مصنف نے یہ بیان کیا ہے:

’’ایسا گناہ گار بارہ ماہ تک وید کی سمتھا کی تلاوت کرنے سے یا پھر بارہ نصف مہینوں کے روزے رکھنے سے اپنے گناہ سے پاک ہو جاتا ہے۔‘‘ (ج۱۴، ص۳۰)

گرو (استاد) کے ساتھ آداب کو ملحوظ نہ رکھنے کے جرم کا کفارہ بیان کرتے ہوئے “Sacred Books of the East” کا مصنف لکھتا ہے:

اگر کسی نے اپنے اساتذہ کو بے ادبی کرتے ہوئے ناراض کر دیا تو اسے روزہ رکھنا ہو گا اور اس وقت تک کھانے سے پرہیز کرنا ہو گا جب تک اسے معافی نہ مل جائے۔‘‘ (ج۷، ص۱۳۰)

ہندوؤں میں بعض عمومی واقعات سے برا شگون لینے کا بہت رواج ہے۔ ان کی مذہبی کتابوں میں ایسی بدشگونیوں کے اثرات سے بچنے کا طریقہ بتایا گیا ہے۔ “Sacred Books of the East” کا مصنف بیان کرتا ہے:

’’اگر استاد اور شاگرد کے درمیان سے کتا، نیولا، سانپ، مینڈک یا بلی گزر جائے تو ان کے لیے تین دن کا روزہ اور سفر ضروری ہے۔‘‘ (ج۲، ص۱۸۴)

ان سب روزوں کے علاوہ ہندوؤں میں منت اور نذر کے روزے رکھنے کا بھی رواج ہے۔ ویدوں کی تلاوت کے اختتام پر روزہ رکھنے کا بھی رواج ہے، شکرانے کے روزوں کا بھی رواج ہے۔ چنانچہ ہندومت کے بارے میں یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ اس مذہب میں روزے بہت نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔
اس کے بعد ہم ہندوستان کے ایک دوسرے مذہب ’’جین مت‘‘ کا روزوں ہی کے حوالے سے مطالعہ کرتے ہیں۔ جین مت کا مختصر تعارف یہ ہے کہ اس کی ابتدا آج سے تقریباً ۲۵۵۰ سال پہلے ہندوستان کے علاقے اتر پردیش میں ہوئی۔ مہاویر اس مذہب کے بانی ہیں۔
جین مت میں یہ عقیدہ پایا جاتا ہے کہ راہبانہ ریاضتیں انسان کے باطن کی اصلاح کرتی ہیں۔ وہ انھی ریاضتوں میں روزے کو بھی شامل کرتے ہیں۔ یہ اصلاح اس طرح ہوتی ہے کہ ان سے کرمن ۷؂ کے وہ انبار نہیں لگتے، جو زندگی کے جوہر کو بوجھل کر دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک روزہ انسانوں کو کرمن سے آزاد ہونے کی راہ پر لے جاتا ہے ۸؂ ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے سنیاسی مرد اور عورتیں اپنی روز مرہ زندگی میں تعلیم، مراقبوں اور ان جسمانی ریاضتوں میں مصروف رہتے ہیں، جن میں سے ایک روزہ بھی ہے۔ یہ ریاضتیں اسی لیے بنائی گئی ہیں کہ یہ روح (Jiva)کے کرمن سے آزاد ہونے کے عمل کو بڑھاتی چلی جائیں ۹؂ اور اسے آگے آنے والی روحانی منازل کی طرف لے چلیں۔ اس مقصد کے حصول کی خاطر بہت سے راہبانہ ضابطے زندگی بھر کے لیے اپنانے ضروری ہیں، کیونکہ ان کے بغیر ان مراحل سے گزرا نہیں جا سکتا۔ ان ریاضتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ سنیاسی جب ریاضتیں کرتے کرتے بوڑھا ہو جاتا ہے تو وہ اپنی روحانی ترقی کے لیے چاہے تو رضا کارانہ طور پر اپنے لیے تامرگ روزے کا انتخاب کر سکتاہے۔ یعنی وہ سنیاسی روزہ رکھ لے گا اور افطار نہیں کرے گا، حتیٰ کہ وہ مر جائے۱۰؂ ۔
جین دھرم میں سنیاسی حضرات بعض مقررہ قواعد کے تحت روزہ رکھتے اور مراقبوں کی بعض ایسی مشقیں کرتے ہیں جن کے نتیجے میں انسان پر بے خودی کی ایسی حالت طاری ہو جاتی ہے جس میں اس کا رابطہ اس دنیا سے کٹ جاتا ہے اور وہ کسی ماورائی حالت میں پہنچ جاتا ہے ۱۱؂ ۔ اس ماورائی حالت میں پہنچ جانے ہی کو وہ روحانی منزلوں کا حصول قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ اس کے لیے انھیں روزوں کی سخت مشقیں کرائی جاتی ہیں۔
مولانا سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ ’’سیرت النبی‘‘ میں جین دھرم کے ہاں روزوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

“ہندوستان کے تمام مذاہب میں جینی دھرم میں روزہ کی سخت شرائط ہیں، چالیس دن تک کا ان کے یہاں ایک روزہ ہوتا ہے۔ گجرات و دکن میں ہر سال جینی کئی کئی ہفتہ کا روزہ رکھتے ہیں۔‘‘(ج۵، ص۲۴۲)

ہندومت کی طرح جین مت میں بھی سنیاسی یاترا (مقدس مقامات کی زیارت) کے دوران میں روزے رکھتے ہیں اور اسی طرح بعض خاص تہواروں سے پہلے ۱۲؂ روزے رکھنے کا دستور بھی ان میں پایا جاتا ہے ۱۳؂ ۔ ان کے مذہب میں مشہور تہوار وہ ہیں جو ان کے مذہب کے بانی مہاویر کی زندگی کے مختلف ایام کی یاد میں منائے جاتے ہیں۔ اس حوالے سے ان کا پہلا تہوار سال کے اس دن منایا جاتا ہے جس دن مہاویر عالمِ بالا سے بطنِ مادر میں منتقل ہوئے تھے۔ دوسرا تہوار ان کے یومِ پیدایش پر منایا جاتا ہے۔ تیسرا تہوار اس دن منایا جاتا ہے جس دن انھوں نے دنیا سے تیاگ اختیار کیا تھا، یعنی ترکِ دنیا کی راہ اختیار کی تھی۔ چوتھا تہوار اس دن منایا جاتا ہے جس دن انھوں نے الہام پا لیا تھا۔ اور پانچواں تہوار اس دن منایا جاتا ہے جس دن ان کی وفات ہوئی تھی اور ان کی روح نے جسم سے مکمل آزادی حاصل کر لی تھی ۱۴؂ ۔ ان تہواروں میں سب سے نمایاں تہوار پرسنا کے نام سے موسوم ہے۔ یہ تہوار بھادرا پاوا (اگست۔ ستمبر) کے مہینے میں منایا جاتا ہے۔ جین مت کے بعض فرقوں میں یہ تہوار آٹھ دن تک اور بعض میں دس دن تک جاری رہتا ہے۔ اس تہوار کا چوتھا دن مہاویر کا یوم پیدایش ہے۔ اس تہوار کے موقع پر عام لوگ زاہدوں کے طرز پر روزے رکھتے، ریاضتوں کی سختیاں جھیلتے اور خانقاہوں میں اپنے مذہبی پیشواؤں کے ساتھ روحانی ترقی کی خاطر وقت گزارتے ہیں ۱۵؂ ۔ وہ اس موقع پر اپنے پچھلے گناہوں کی معافی مانگتے اور توبہ کرتے ہیں ۱۶؂ ۔
جینیوں کے ہاں یہ رواج بھی ہے کہ ان کی لڑکیاں شادی سے پہلے روزے رکھتی اور قوتِ اعلیٰ سے یہ درخواست کرتی ہیں کہ وہ اچھے شوہر کے انتخاب اور خوش گوار زندگی کے حصول میں ان کی مدد کرے ۱۷؂ ۔
اس سب کچھ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جینیوں کے ہاں بھی روزہ ایک بہت معروف چیز ہے اور وہ اسے ایک اہم مذہبی عمل کے طور پر اختیار کیے ہوئے ہیں۔
اس کے بعد ہم ہندوستان میں موجود پارسی مذہب کی طرف آتے ہیں۔ اور روزوں کے حوالے سے اس کے نظریات کا مطالعہ کرتے ہیں۔ پارسی مذہب کا مختصر تعارف یہ ہے کہ اس کے بانی زرتشت تھے۔ اس کی ابتدا چھٹی صدی قبل مسیح ،ایران میں ہوئی۔ جب مسلمانوں نے ایران فتح کر لیا تو اس کے بعد پارسی ہندوستان ہجرت کر گئے۔
قدیم پارسی مذہب میں اگرچہ کبھی کبھار روزہ رکھا جاتا ہے، لیکن عام طور پر روزہ رکھنا پسند نہیں کیا جاتا۔ اس مذہب کے پیروؤں کا خیال ہے کہ روح کی ترقی کے لیے جسم کو روزے کی مشقتوں میں ڈالنا درست نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارا روزہ یہ ہے کہ ہم اپنی زبان، آنکھوں، کانوں اور ہاتھوں سے کوئی گناہ نہ سرزد ہونے دیں۔ دوسرے مذاہب میں جو روزہ نہ کھانے پینے سے ہوتاہے ہمارے ہاں وہ روزہ گناہ نہ کرنے سے ہوتا ہے ۱۸؂ ۔
مولانا سید سلیمان ندوی ’’سیرت النبی‘‘ میں پارسیوں کے ہاں روزے کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’پارسی مذہب میں گو عام پیروؤں پر روزہ فرض نہیں لیکن ان کی الہامی کتاب کی ایک آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ روزہ کا حکم ان کے ہاں موجود تھا۔ خصوصاً مذہبی پیشواؤں کے لیے تو پنج سالہ روزہ ضروری تھا۔‘‘ (ج۵، ص۲۴۲)

پارسیوں کے بارے میں ان معلومات سے پتا چلتا ہے کہ وہ ابتدا میں روزے سے نہ صرف واقف تھے بلکہ اسے ایک مذہبی عمل کے طور پر اپنائے ہوئے تھے لیکن بعد کے ادوار میں غالباً جب دوسرے مذاہب کے حوالے سے سخت روزوں کا تصور سامنے آیا تو اس کے خلاف رد عمل پیداہوا اور ان کے ہاں روزے مفقود ہو گئے۔ ہماری اس بات کی دلیل ان کے ہاں مخالفت کے باوجود روزے کا موجود ہونا ہے۔ اگر ان کے مذہب میں اصلاً اسے برائی تصور کیا جاتا تو پھر ہم اس کی یکسر نفی پاتے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ روزے کی روح فی الواقع یہی ہے کہ آدمی گناہوں سے باز رہے اور پارسی اسی روح کو روزہ قرار دے رہے ہیں۔ یہ بات بھی اس طرف متوجہ کرتی ہے کہ روزہ ان کے ہاں کبھی اپنے پورے تصور کے ساتھ رہا ہے۔
اب ہم ہندوستان کے چوتھے مذہب، بدھ مت کا روزوں ہی کے حوالے سے مطالعہ کرتے ہیں۔ بدھ مت کا مختصر تعارف یہ ہے کہ ا س کے بانی مہاتما بدھ تھے۔ اس مذہب کی ابتدا چھٹی صدی قبل مسح کے لگ بھگ ہندوستان کے شمال مشرقی حصہ میں ہوئی۔
بدھ مت کے بھکشو (تارک الدنیا) بھی ہندوؤں اور جینیوں کی طرح کچھ خاص دنوں میں روزے رکھتے اور اپنے گناہوں سے توبہ کرتے ہیں ۱۹؂ ۔ بدھ مت میں روزے کو ان تیرہ اعمال میں شمار کیا گیا ہے، جو ان کے نزدیک خوش گوار زندگی اپنانے میں مدد دیتے ہیں۔ وہ روزے کو باطن کی پاکیزگی کا ایک ذریعہ سمجھتے ہیں۔ چنانچہ بدھ مت میں جن دس چیزوں سے اجتناب کا حکم دیا گیا ہے ان میں سے ایک ممنوع اوقات میں کھانا ہے۔ ان کی تعلیم یہ ہے کہ بھکشوؤں کو ضرور کھانا چاہیے لیکن دن میں صرف ایک دفعہ، اس کے بعد وہ دن بھر کچھ نہ کھائیں۔ان روزوں کے علاوہ ان کے ہاں بھی ہندومت کی طرح نئے چاند اور پورے چاند کے دنوں میں روزہ رکھنا لازم ہے۔ مزید یہ کہ وہ ہر مہینے میں بھی چار روزے رکھتے ہیں اور روزے کی حالت میں گناہوں کا اعتراف کرتے اور توبہ کرتے ہیں۔ بدھ مت میں مذہبی پیشواؤں کو یہ ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ ہر مہینے کی چودہ پندرہ اور انتیس تیس کو جزوی روزہ رکھیں۔ لیکن مخلصین ان دنوں میں جزوی نہیں ۲۰؂ بلکہ مکمل روزہ رکھتے ہیں۔
تبت کے علاقے میں بدھا کے پیروؤں کے ہاں چار دن کا مسلسل روزہ رکھنے کی ایک تقریب منعقد کی جاتی ہے۔ پہلے دو دنوں میں روزے کی شرائط قدرے نرم ہوتی ہیں۔ یہ دن تیاری کے ہوتے ہیں ان میں روزہ دار بڑے اخلاص سے اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے اور توبہ کرتے ہیں۔ ان دنوں میں عبادت کا اہتمام بھی کیا جاتاہے اور مذہبی کتابوں کا درس بھی ہوتا ہے۔ یہ اعمال رات گئے تک جاری رہتے ہیں۔ تیسرے دن روزہ سخت ہو جاتا ہے اور کسی کو تھوک نگلنے کی اجازت بھی نہیں ہوتی۔ عبادت اور گناہوں کا اعتراف اس روز مکمل خاموشی کی حالت میں کیا جاتا ہے۔ چوتھے دن صبح سورج طلوع ہونے تک یہ روزہ جاری رہتا ہے۔
اس کے علاوہ بدھا کے یومِ وفات سے متصل پہلے پانچ روزے رکھے جاتے ہیں۔ یہ روزے بدھ مت کے بھکشو رکھتے ہیں لیکن عوام بھی ان روزوں میں گوشت کھانے سے پرہیز کرتے ہیں۔ یعنی وہ ایک نوعیت کے جزوی روزے رکھتے ہیں۔ ماہایانہ فرقے کے بدھوں کے ہاں یہ رواج بھی پایا جاتا ہے کہ وہ اگلے جنم میں بہتر مقام پانے کے لیے روزے رکھتے ہیں۔ بدھ مت میں روزے کی ترغیب کے ساتھ اس کے بارے میں یہ تعلیم بھی دی جاتی ہے کہ روزہ اس شخص کو پاک نہیں کر سکتا جس نے اپنے نفس پر قابو نہ پایا ہو۔
بدھ مت اگرچہ ترک دنیا کا مذہب ہے اور یہ جسم کو ایک بری چیز تصور کرتا ہے لیکن بدھا کے ہاں روزوں کی اس تعلیم کے باوجود ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ وہ ان میں حد درجہ اشتعال کو ناگوار سمجھتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے نزدیک ہر چیز میں اعتدال اختیار کرنا ہی صحت مندانہ رویہ تھا۔ چنانچہ وہ حد سے متجاوز زاہدانہ رسوم کے خلاف تھے۔ ان کے نزدیک روزوں میں بھی اعتدال ہی کا رویہ اختیار کرنا ضروری تھا ۲۱؂ ۔
ہندوستان سے باہر نکل کر ہمالیہ کے اس پار چین کی طرف آئیے۔ چین کے کلاسیکی ۲۲؂ مذہب میں ہمیں روزوں کا واضح تصور ملتا ہے اس کے علاوہ کنفیوشزم ۲۳؂ اور تاؤ ازم ۲۴؂ ،جنھیں ہم مذہب و اخلاق کے حوالے سے اصلاحی تحریکوں کا نام دے سکتے ہیں، ان میں بھی روزوں کو ایک گونہ اہمیت دی گئی ہے۔
چینی کلاسیکی مذہبی رسوم میں ایک رسم ’’چائی‘‘ کہلاتی ہے۔ اس رسم میں قربانی سے پہلے روزے رکھے جاتے ہیں ۲۵؂ ۔ ان کے ہاں آباؤ اجداد کی روحوں کو قربانی پیش کی جاتی ہے۔ اس قربانی سے پہلے بھی روزے رکھنے کا رواج ہے۔ ان روزوں سے ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ ان ارواح سے بذریعہ کشف رابطہ کریں۔ اس کشف کے حصول کے لیے وہ اپنے ذہنوں کو ان ارواح کے بارے میں مختلف خیالات سے معمور کیے رکھتے ہیں۔ یہ عمل روزے کی حالت میں کیا جاتا ہے۔ ان کے ہاں آباؤ اجداد کی ارواح کی عبادت بھی کی جاتی ہے۔ چنانچہ عبادت سے پہلے تیاری کے طور پر سات دن روزے رکھے جاتے اور شب بیداری کی جاتی ہے ۲۶؂ ۔
اس کے علاوہ چینیوں کے ہاں ماتمی روزوں کا تصور بھی ملتا ہے۔ یہ روزے مرنے والے آدمی کے رشتے دار رکھتے ہیں۔ جتنا ان کا مرنے والے شخص سے قریبی رشتہ ہوتا ہے، اتنا ہی روزے میں سختی کرتے ہیں۔ اس روزے میں عموماً ان کھانوں سے پرہیز کیا جاتا ہے جو روح کو نذرانے کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں ۲۷؂ ۔
چین میں کنفیوشزم کے پیروکار بھی ان دنوں میں روزے رکھتے ہیں جن میں آباؤ اجداد کی ارواح کی عبادت کی جاتی ہے ۲۸؂ ۔ تاؤ ازم میں جسمانی روزوں کے بجائے روحانی روزوں کی اہمیت پر زور دیا جاتا ہے، اسے ان لوگوں نے دل کے روزے کا نام دے رکھا ہے، البتہ الہام پانے کے لیے ان کے ہاں جسمانی روزوں کا اہتمام بھی پایا جاتا ہے۔ ان روزوں کے ذریعے سے وہ ایسی یکسوئی حاصل کرتے ہیں جس کے نتیجے میں آدمی اپنے بارے میں سب کچھ بھول جاتا ہے۔ جب آدمی اس کیفیت کو پا لیتا ہے تو ان کے خیال میں وہ شخص خدائی پیغام وصول کرنے کے لیے بالکل تیار ہو جاتا ہے ۲۹؂ ۔
ان مذاہب کے علاوہ دنیا کے بہت سے علاقوں میں بعض چھوٹے مذاہب بھی رائج ہیں۔ جو ان علاقوں ہی تک محدود ہیں۔ انھیں ہم علاقائی مذہب کہہ سکتے ہیں۔ اب ہم ان کی طرف آتے ہیں۔ اس کے بعد آخر پر ان مذاہب کو دیکھیں گے جن کا الہامی ہونا تاریخی طور پر ثابت ہے۔

دیگر علاقوں کے مذاہب

قدیم جاپانی تہذیب کو دیکھیے: وہاں بھی ہمیں روزے کا تصور ملتا ہے۔ جاپان میں وفات کے موقع پر یہ رواج تھا کہ عام لوگ جزوی روزہ رکھیں گے اور سبزیوں پر مشتمل ایک بہت ہی سستی غذا کھائی جائے گی۔ والدین اپنی اولاد کی وفات پر مسلسل پچاس دن یہی خوراک استعمال کرتے تھے۔ یعنی کھانے پینے کی عام چیزوں کے حوالے سے یہ پچاس دن پر پھیلے ہوئے جزوی روزے ہوتے تھے ۳۰؂ ۔
جاپان کے قریبی ملک کوریا میں بھی یہ رواج ہے کہ مرنے والے کے رشتہ دار ایک دن کا روزہ رکھتے ہیں، لیکن اس کے بیٹے اور پوتے تین دن کے روزے رکھتے ہیں ۳۱؂ ۔
قدیم ایران میں اگرچہ روزہ عام نہیں تھا لیکن موت کے بعد تین راتوں تک روزہ رکھا جاتا تھا۔ اس دوران میں تازہ گوشت پکایا اور کھایا نہیں جاتا تھا ۳۲؂ ۔
روس کے انتہائی شمالی علاقے سائبیریا میں اسکیموز کے ہاں بھی روزہ ایک خاص عبادت کی حیثیت رکھتا ہے۔ جو اسکیمو نوجوان، ‘Angekok’ (ارواح سے تعلق قائم کرنے والا) بننا چاہتا ہے وہ دنیوی کاموں سے ہاتھ اٹھا لیتا ہے اور اس وقت تک روزے رکھتا ہے جب تک اسے ارواح اپنے پاس آتی ہوئی دکھائی نہ دیں ۳۳؂ ۔
برازیل (جنوبی امریکہ) میں وہ لوگ جو ‘Paje’ (عالم اور استاد )بننے کی خواہش رکھتے انھیں دو سال تک تنہائی میں رہ کر روزے رکھنے پڑتے ہیں۔ بعد ازاں انھیں ‘Paje’ مان لیا جاتا ہے۔ اسی طرح ان کے ہاں فنِ طب سیکھنے کے لیے بھی بہت سخت روزے رکھوائے جاتے ہیں جن روزوں کے نتیجے میں طالب علم کو بہت واضح خواب دکھائی دینے لگتے ہیں۔ اس ریاضت کو وہ فنِ طب کا ایک ضروری حصہ سمجھتے ہیں۔ جو لوگ روحوں سے گفتگو کرنے خواہش مند ہوتے ہیں انھیں بھی ایک لمبے عرصے کے لیے سخت روزے رکھوائے جاتے ہیں۔
ایبی پونز (Abipones) کے علاقے میں ‘Kecbit’ بننے کے خواہش مند حضرت کو روزے کی حالت میں کسی جھیل کے کنارے ایک ایسے درخت پر بیٹھنے کے لیے کہا جاتا ہے جس کی شاخ پانی کے اوپر جھکی ہو۔ وہ آدمی وہاں بیٹھا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ مستقبل میں جھانکنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ زولس قبیلے میں روحوں کے ساتھ تعلق قائم کرنے کے لیے بھی روزے رکھتے جاتے ہیں۔
ایسی مشقیں کرنے والے عجیب و غریب خواب دیکھتے ہیں اور یہ خواب ان کی زندگی کو اس طرح گھیر لیتے ہیں کہ وہ ان خوابوں ہی کی آماج گاہ بن جاتی ہے ۳۴؂ ۔
براعظم آسٹریلیا میں جو قبائل آباد ہیں ان میں سے بعض کے نزدیک عظیم قوتوں یعنی دیوتاؤں سے اجر حاصل کرنے کے لیے روزہ پسندیدہ عمل ہے۔ وسطی آسٹریلوی قبائل میں دیوتاؤں سے مدد اور پیداوار میں برکت کے لیے روزہ رکھا جاتا ہے ۳۵؂ ۔ نیو ساؤتھ ویلز کے قبائل میں ’’بورا‘‘ نامی ایک تقریب منعقد کی جاتی ہے جس میں نو عمر لڑکوں کو روزہ رکھوایا جاتا ہے۔ یہ روزہ دو دن پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس میں خوراک تو ممنوع ہوتی ہے لیکن تھوڑا بہت پانی پینے کی اجازت ہوتی ہے۔ ان کے ہاں اس روزے کا مقصد لڑکوں کی اخلاقی اور معاشرتی تربیت ہے ۳۶؂ ۔
متعدد افریقی قبائل کے ہاں بھی روزہ موجود ہے۔ یہ قبائل عموماً اموات پر روزہ رکھتے ہیں۔ یوروبا قبیلے میں بیوہ اور اس کی بیٹی کو چوبیس گھنٹوں کے لیے کمرے میں بند کر دیا جاتا ہے اور ان کا کھانا پینا روک دیا جاتا ہے۔ گویا انھیں جبراً روزہ رکھوایا جاتا ہے۔ گولڈ کوسٹ کے قبائل میں موت کے طویل عرصہ تک سخت روزے رکھے جاتے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے زولو قبیلے کے لوگ خدائی الہام پانے کے لیے روزے رکھتے ہیں۔ ان کے ہاں یہ روزے کئی کئی دنوں پر محیط ہوتے ہیں ۳۷؂ ۔
افریقہ سے نکل کر یورپ کے علاقوں میں چلے آئیے تو یہاں بھی روزوں کا تصور پوری شان سے پایا جاتا ہے۔
رومی تہذیب کے بعض مذاہب کو ‘Mystery Religions میں شمار کیا جاتا ہے، انھیں ماننے والوں کا یہ عقیدہ ہے کہ دیوی دیوتاؤں کی قربت حاصل کرنے یا ان سے دانائی پانے کے لیے روزے کا عمل بہت معاون ثابت ہوتا ہے۔ ان مذاہب میں داخل ہونے والا جب ا س کے اسرار و رموز سے واقفیت حاصل کرنا چاہتا ہے تو پھر اس کے لیے روزے رکھنے ضروری ہیں ۳۸؂ ۔ سیرس کی رومی مذہبی رسول میں بھی روزے کا وجود پایاجاتا ہے۔ ان کے ہاں ۲۴ مارچ کو ایک روزہ رکھا جاتا اور اس سے اگلے دن ایک عظیم تہوار منایا جاتا ہے ۳۹؂ ۔
قدیم رومیوں میں بادشاہ اور سلاطین خود بھی روزے رکھتے تھے۔ ویسپاسین (Vespasian)، آگسٹس (Augustus)، جیولیس قیصر (Julius Casear)، نیوما پانیپلیس (Numa Pounpiplius)، ان سب شاہانِ روم کے روزوں کے دن مقرر تھے۔ ‘Julius the apostate’تو روزے کا اتنا پابند تھا کہ اس نے مذہبی پیشواؤں کو بھی مات دے دی تھی ۴۰؂ ۔
قدیم یونان علم و فلسفہ کا گھر تھا۔ یہاں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ روزہ ایک مذہبی عمل کے طور پر پایا جاتا ہے۔ رومیوں کی طرح یونانیوں میں بھی ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جن کا مذہب ‘Mystry Religions’میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ دیوی دیوتاؤں کی قربت حاصل کرنے اور ان سے بصیرت پانے کے لیے روزہ ایک اچھا معاون ثابت ہوتا ہے۔ چنانچہ مذہب کے اسرار و رموز جاننے کے لیے تمام غذاؤں یا کچھ غذاؤں اور مشروبات سے پرہیز کرنا پڑتا ہے ۴۱؂ ۔
قدیم یونانیوں کے ہاں یہ دستور تھا کہ وہ قربانی سے قبل روزہ رکھا کرتے۔ اسی طرح وفات پر روزے رکھنے کا رواج بھی ان کے ہاں پایا جاتا تھا۔ وہ عبادت اور توبہ کے لیے بھی روزے رکھتے تھے۔ اکارا کا غار ،جس کے اندر پائے جانے والے بخارات میں طبی فوائد پائے جاتے ہیں، اسے انھوں نے ’دارالاستخارہ‘ کا نام دے رکھا تھا۔ کہ القا پانے کی اس جگہ پر روزے رکھنے سے آدمی کو الہامی مشاہدات ہوتے ہیں ۴۲؂ ۔
فیثا غورثی مکتبِ فکر میں روزہ، تقویٰ اور پرہیز گاری اختیار کرنے کی ایک شکل تھی۔ ان کا یہ عقیدہ تھا کہ ابتداً انسانیت کامل تھی۔ گناہ کی آمیزش سے اس کی یہ پرہیز گاری باقی نہ رہی۔ اب روزے رکھنے اور دوسری زاہدانہ ریاضتیں کرنے سے اس کی وہ پہلی پرہیز گاری بحال ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روزہ وہ وجدانی کیفیت لاتا ہے جس میں روزہ دار پر حقائق منکشف ہوتے ہیں ۴۳؂ ۔ چنانچہ یہ اس کے بعد ہی ممکن ہو گا کہ وہ خدائی قوتوں سے رابطہ کرے اور ان کا قرب حاصل کرے۔
فیثا غورث کا اپنا طریقہ یہ تھا کہ وہ مسلسل چالیس روزے رکھا کرتا ۴۴؂ ۔ غرض یونانیوں میں بھی دوسری اقوام کی طرح روزہ ایک اہم مذہبی عمل کی صورت میں پایا جاتا تھا۔
یونان کے بعد قدیم مصری تہذیب کو دیکھیے۔ مصر میں گناہوں سے توبہ کرنے اور خدا کے عذاب سے بچنے کے لیے روزے رکھے جاتے تھے۔ توبہ کے ان روزوں کے لیے باقاعدہ دن مقرر کیے گئے تھے۔ ان روزوں کے دوران میں ہر طرح کی آسایش ممنوع تھی اور خواہشات کو پورا کرنے والی چیزوں کا استعمال بھی ناجائز تھا۔
مصریوں کے ہاں وفات پر روزے رکھنے کا رواج بھی پایا جاتا تھا۔ چنانچہ بادشاہوں کی وفات پر عوام روزہ رکھا کرتے تھے۔
قربانی سے قبل روزہ رکھنے کا رواج بھی ان کے ہاں پایا جاتا تھا۔ وہ اپنی قربانی سے قبل بعض اوقات چھ چھ ہفتوں تک کے روزے رکھتے تھے ۴۵؂ ۔ آئسز (Isis)دیوی کے رازوں کو جاننے والے کے لیے بھی خاص طرح کے روزے ضروری تھے ۴۶؂ ۔
امریکن انڈین جنھیں امریکہ کے قدیم اور اصل باشندے سمجھا جاتا ہے ان کے مختلف قبائل کو دیکھیے، روزہ آپ کو وہاں بھی ملے گا۔
ان قبائل میں یہ عقیدہ راسخ تھا کہ روحِ اکبر (Great Spirit) سے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے روزہ بہت موثر ذریعہ ہے۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے کسی بہادر آدمی کو روزہ رکھوا کر اجاڑ بیابان میں تنہا بھیج دیا جاتا، وہ وہیں رہتا حتیٰ کہ خواب یا کشف میں اس پر آسمانی حکمت کا نزول ہوتا اور محافظ روح (Guardian Spirit) کی جانب سے اسے اس کے مستقبل کے بارے میں ضروری رہنمائی مل جاتی۔ چنانچہ جب ‘Lokata’ قبیلے کے لوگوں نے اپنے مذہبی پیشواؤں کے سامنے خدا سے ملاقات کے لیے جانے کا ارادہ ظاہر کیاتو انھوں نے کہا کہ آپ لوگ روزے کی حالت میں خدا کا مسلسل ذکر کرتے ہوئے بیابانوں میں پھریں ۔اس طرح سے آپ اپنا مقصود پا لیں گے۔
قدیم امریکن انڈین تہذیب میں جو شخص مذہبی عالم بننے کا قصد کرتا اس کی تربیت کا ایک اہم عنصر روزہ ہوتا تھا ۴۷؂ ۔ اس کے علاوہ لڑکوں کو نو سال کی مذہبی تربیت دی جاتی جس میں انھیں سخت روزے رکھوائے جاتے تھے۔
ان کے ہاں خوابوں کے ذریعے سے روحوں کے پیغامات اور علمِ غیب حاصل کرنے کے لیے بھی روزے رکھے جاتے تھے۔ شکاری شکار کے لیے نکلنے سے پہلے روزے رکھتا۔ ان روزوں کے دوران میں جب اسے اپنی مہم کی کامیابی کے بارے میں خواب آ جاتا تو وہ شکار پر روانہ ہوتا۔ شوہر اس وقت تک روزے رکھتا چلا جاتا جب تک اسے باپ بننے کی خواہش پوری ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں خواب دکھائی نہ دیتا۔ ان کا یہ عقیدہ تھا کہ آدمی کا روزہ جتنا سخت ہو گا اتنے ہی واضح خواب دکھائی دیں گے۔چنانچہ ایسے شخص کو جو سخت روزوں کی بنا پر واضح خواب دیکھتا بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا ۴۸؂ ۔
ان کے ہاں مختلف مقاصد کے حصول کے لیے بھی روزے رکھے جاتے۔ مثلاً وہ جسمانی قوت میں اضافے، مچھلی کے شکار اور جنگ میں کامیابی کی خاطر روزے رکھتے تھے ۴۹؂ ۔
ان کے ہاں یہ عقیدہ بھی پایا جاتا تھا کہ سخت روزے رکھنے سے خدا کو اس پر مجبور کیا جا سکتا ہے وہ ہماری مرادیں پوری کرے۔ چنانچہ ان کے ہاں یہ رواج تھا کہ وہ سات روز تک کچھ نہ کھاتے پیتے، بستر پر لیٹے رہتے اور اس دوران میں سخت ضبطِ نفس کا مظاہرہ کرتے۔
کولمبیا کے انڈین قبائل کو جب خدا کی مدد درکار ہوتی تو وہ کئی روز تک روزے کی حالت میں رہ کر خدا سے معافی مانگتے اور مدد کی درخواست کرتے۔
برٹش کولمبیا (شمالی امریکہ) میں یہ رواج ہے کہ لوگ جنازے کے موقع پر ہونے والے کھانے کے بعد چار دن کے لیے روزے رکھتے ہیں ۵۰؂ ۔
میکسیکو کے باشندوں میں بھی توبہ کرنے اور قلب (باطن) کو پاک کرنے کے لیے روزے رکھے جاتے تھے۔ مختلف مواقع پر ان کی مدت مختلف ہوتی۔ یعنی ایک دن کا روزہ بھی ہوتا اور کئی کئی دنوں کے روزے بھی ہوتے تھے۔ یہ روزے قبیلے کا کبھی کوئی ایک فرد رکھتا اور کبھی پورا قبیلہ روزہ رکھتا تھا۔ قوم پر نازل ہونے والی آفات سے بچنے کے لیے بڑا مذہبی پیشوا روزہ رکھ کر تنہائی میں لیٹ جاتا، کئی دیگر سختیاں، جھیلتا اور خدا سے دعائیں کرتا رہتا ۵۱؂ ۔
‘Cherokee Indeans’ کا یہ عقیدہ تھا کہ عقاب کا شکار کرنے سے پہلے ایک طویل عرصے تک روزہ اور دعا ضروری ہے، کیونکہ روزے سے جسم گناہوں سے پاک ہو کر مقابلے کے لیے تیار ہو جاتا ہے ۵۲؂ ۔
بحرالکاہل کے جنوب مغربی حصے میں کئی جزیرے پائے جاتے ہیں۔ جن میں نیوگنی، فیجی اور سالمن شامل ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ روزہ یہاں بھی موجود ہے۔
نیوگنی کے قبائل میں جزوی روزے رکھنے کے لیے کھانے کی متعدد اشیا سے پرہیز کیا جاتا ہے۔ ان کے ہاں روزے کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ آدمی اپنے پسند کی چیزیں کچھ عرصہ کے لیے ترک کر دیتا ہے۔ رورو (Roro) زبان بولنے والے قبائل میں ‘Seclusion Period’کے اختتام پر ایک دن کا روزہ رکھنے کا طریقہ عام رائج ہے۔ جنوبی ماسم میں بیوہ ان سب کھانوں سے اجتناب کرتی ہے جو اس کے خاوند نے مرض الموت میں کھائے تھے۔ فیجی (Fiji) میں دس بیس دن کے روزے رکھے جاتے ہیں۔ ان کے ہاں عقاب ایک مقدس پرندہ مانا جاتا ہے۔ چنانچہ اس کا شکار کرنے سے قبل شکاری ایک طویل عرصے تک روزے رکھتا اور دعائیں کرتا ہے۔ ‘Teligintis’ قبیلے کے لوگ دوسرے جنم پر یقین رکھتے ہیں۔ چنانچہ ان کے ہاں یہ رواج ہے کہ بعض اموات پر لڑکیاں اس لیے روزے رکھتی ہیں کہ یہ روح دوبارہ ان کے ذریعے سے جنم لے ۵۳؂ ۔
بابل اور نینوا کی تہذیب قدیم تہذیبوں میں سے تھیں۔ یہاں آشوری قوم آباد تھی۔ ان کی طرف حضرت یونس علیہ السلام کی بعثت ہوئی تھی۔ آشوریوں کے ہاں بھی ہمیں روزے کا رواج ملتا ہے۔ یہ لوگ روزے کو خدا کے عذاب سے بچنے کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ بابل میں گناہوں کے کفارے سے متعلق جو اصول و قوانین ہمیں ملتے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ہاں روزہ کفارے کی ایک رسمی شکل کی حیثیت رکھتا تھا۔ چنانچہ توبہ کرنے والا اپنے گناہ پر افسوس و ندامت کے اظہار کے ساتھ روزے کی حالت میں کھانا نہ کھانے اور پانی نہ پینے کا ذکر کیا کرتا تھا۔ یہ لوگ آلام و آفات کے دنوں میں بھی روزے رکھا کرتے تھے ۵۴؂ ۔
یونس علیہ السلام نینوا میں آشوریوں کی طرف مبعوث ہوئے۔ ان لوگوں نے پہلے ان کی تکذیب کی لیکن بعد میں ایمان لے آئے تو اس موقع پر انھوں نے جو توبہ کی تھی، تورات میں اسے ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:
’’نینوا کے باشندے خدا پر ایمان لائے اور روزے کا اعلان کر کے سب کے سب کیا ادنیٰ کیا اعلیٰ ٹاٹ سے ملبس ہوئے اور یہ بات شاہِ نینوا کو بھی پہنچ گئی تو اس نے تخت سے اٹھ کر شاہی لباس اتار ڈالا اور ٹاٹ اوڑھ کر راکھ پر بیٹھ گیا اور فرمان صادر کیا کہ ’’بادشاہ اور ارکان دولت کے حکم سے نینو امیں یہ اعلان ہو کہ کوئی انسان یا حیوان یا گائے بیل یا بھیڑ بکری نہ کچھ چکھے نہ کھائے اور نہ پانی پیے۔ علاوہ اس کے انسان و حیوان ٹاٹ اوڑھیں اور خداوند کے حضور گریہ زاری کریں اور ہر ایک اپنی بری پرورش اور اپنے ہاتھ کے ظلم سے توبہ کرے۔‘‘ (کتابِ یونس، )

یہودیت

ابراہیم علیہ السلام کی جو نسل ان کے پوتے یعقوب علیہ السلام سے آگے چلی وہ بنی اسرائیل کہلاتی ہے۔ بنی اسرائیل میں آج سے تقریباً ساڑھے تین ہزار سال پہلے موسیٰ علیہ السلام کی بعثت ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعے سے بنی اسرائیل کو اپنی شریعت سے نوازا۔ موسیٰ علیہ السلام خدا سے ملاقات کے لیے کوہِ طور پر گئے تو وہاں انھوں نے چالیس دن کا روزہ رکھا تھا۔ تورات میں موسیٰ علیہ السلام کے اس روزے کا ذکر اس طرح سے آیا ہے:

’’اور موسیٰ خدا وند کے پاس چالیس دن اور چالیس رات رہا۔ نہ روٹی کھائی اور نہ پانی پیا۔ اور اس نے عہد کا کلام، دس احکام دو لوحوں پر لکھے۔‘‘ (خروج باب ۳۴، آیات ۲۸)

تورات میں یہودیوں پر عاشورے کے روزے کا ذکر ان الفاظ میں ہے:

’’یہ تمھارے لیے ابدی فرض ہو گا کہ ساتویں مہینے کی دسویں تاریخ کو تم میں سے ہر ایک، کیا دیسی کیا پردیسی، نفس کشی کرے (روزہ رکھے) اورکوئی کام نہ کرو۔ کیونکہ ہ اس روز تمھاری پاکیزگی کے لیے تمھارے واسطے کفارہ دیا جائے گا۔ تب تم اپنے سارے گناہوں سے خداوند کے آگے پاک ہو جاؤ گے۔ یہ تمھارے لیے تعطیل کا سبت ہو گا۔ اس دن تم نفس کشی کرو (روزہ رکھنا) یہ ابدی فرض ہو گا۔‘‘ (الاحبار باب ۱۶، آیت ۲۹۔۳۱)

بعض یہودیوں کے ہاں سال نیسان سے شروع ہوتا ہے اور بعض کے ہاں تشری مہینے سے۔ عاشورہ کا یہ روزہ اس تشری مہینے کی دس تاریخ کو رکھا جاتا ہے۔ یہ ستمبر کے آخری ایام بنتے ہیں۔ یہ روزہ غروبِ آفتاب سے شروع ہوتا ہے اور تقریباً ۲۶ گھنٹے اگلے روز رات کے شروع ہونے تک رہتا ہے۔ اس روزے کے دوران میں کھانے پینے اور میاں بیوی کے درمیان جنسی تعلق سے مکمل پرہیز کیا جاتا ہے۔ چمڑے کے جوتے جوآرام اور آسایش کی علامت ہیں، ان کا پہننا بھی اس روزے میں ممنوع ہے۔ یہودی اپنا وقت صومعہ میں گزارتے ہیں اوردن کے آخر پر خاص کر خدا سے توبہ و استغفار کرتے ہیں۔ روزے کے دوران خمسہ موسیٰ، یونس کی کتاب اور دیگر احوال و واقعات پڑھے جاتے ہیں ۵۵؂ ۔
یہودیوں پر موسوی شریعت میں فرض روزہ صرف ایک ہی تھا، یعنی کفارے کا روزہ، جس کا اوپر ذکر آ گیا ہے۔ لیکن بنی اسرائیل میں پے در پے نبی آتے رہے ہیں۔ انھوں نے کئی روزے خود بھی رکھے اور عوام کو بھی ان کی ترغیب دی۔ چنانچہ یہودیوں کے ہاں یومِ کفارہ کے روزے کے علاوہ ہم بہت سے دوسرے روزے بھی دیکھتے ہیں۔ مثلاً زکریا علیہ السلام یوں فرماتے ہیں:

’’اور میں نے رب الافواج کا کلمہ پایا۔ اس نے کہا کہ رب الافواج یوں فرماتا ہے: چوتھے مہینے کا روزہ اور پانچویں کا روزہ اور ساتویں کا روزہ اور دسویں کا روزہ یہودہ کے گھرانے کے لیے خوشی اور خرمی کا موقع اور شادمانی کی عید ہو گا۔ تم فقط سچائی اور سلامتی کو عزیز جانو۔‘‘ (زکریا باب۸، آیت ۱۸۔۱۹)

تورات میں یہ ان روزوں کا ذکر ہے جو بابل کی اسیری کے دوران میں مقرر کیے گئے تھے۔ یہود پر ٹوٹنے والی مصیبتوں کی یاد میں وقت کے ساتھ ان روزوں میں اور بھی بہت سے روزے شامل ہو گئے۔ لیکن چونکہ یہ روزے نفلی تھے لہٰذا انھیں مقبولیتِ عام حاصل نہیں ہو سکی ۵۶؂ ۔
یہودیوں کے ہاں وبا، قحط اور مصیبت کے موقع پر بھی روزہ رکھنے کا رواج ہے۔ مثلاً جب خزاں کی بارشیں بروقت شروع نہ ہوتیں اور فصلیں خراب ہونے کا خدشہ ہو جاتا تو فلسطین کے حکمران عوام کو روزہ رکھنے کی تاکید کرتے تھے ۵۷؂ ۔
اس کے علاوہ یہود میں اپنے بڑے لوگوں کے یومِ وفات پر روزہ رکھنے کا رواج بھی پایا جاتا ہے۔ مثلاً آذار کے مہینے کی سات تاریخ کو موسیٰ علیہ السلام کا انتقال ہوا۔ یہودی اس دن روزہ رکھتے ہیں ۵۸؂ ۔ اسی طرح نیسان مہینے کی چوبیس، ایار کی دسویں، سیواں کی پچیسویں اور آب کی پہلی تاریخوں میں یہود کے بڑے مذہبی پیشواؤں کا انتقال ہوا تھا۔ چنانچہ ان سب دنوں میں روزے رکھنے کا رواج ہے، ان کے علاوہ اور بھی بہت سے مذہبی پیشواؤں کے یومِ وفات پر روزے رکھے گئے ہیں۔ اسی طرح ان کے ہاں اہم حوادث و واقعات کے دنوں میں روزے رکھے جاتے ہیں ۵۹؂ ۔
یہود میں اس سب کے علاوہ بعض دوسرے نفلی روزے رکھنے کا بھی رواج ہے۔ مثلاً تہواروں کے موقع پر ہونے والے ہنگامے کی تلافی کے لیے بعض نیک یہودی روزہ رکھتے ہیں۔ اسی طرح نئے سال اور کفارے کے دن تک کے درمیانی نو دنوں میں سے اکثر میں وہ روزہ رکھتے ہیں۔ لیکن کفارے سے ایک دن قبل کا روزہ رکھنے کی ممانعت ہے ۶۰؂ ۔
بائیبل میں روزہ کی ترغیب ان الفاظ میں دی گئی ہے۔ یو ایل نبی فرماتے ہیں:
’’یقیناًخداوند کا دن عظیم نہایت ہول ناک ہے۔ کون اس کی برداشت کر سکے گا۔ لیکن اب بھی خداوند کا فرمان ہے روزہ رکھ کر گریہ و زاری کرتے ہوئے اپنے سارے دل سے میری طرف رجوع لاؤ ،اپنے کپڑوں کو نہیں بلکہ دلوں کو چاک کر کے خداوند اپنے خدا کی طرف متوجہ ہو کیونکہ وہ رحیم اور مہربان ہے۔ وہ طویل الصبر اور نہایت شفیق ہے۔‘‘ (یو ایل باب۲، آیت ۱۱۔ ۱۳)
روزوں کے حوالے سے تورات کی اسی تعلیم کا عکس ہم بعض یہودی گروہوں میں دیکھتے ہیں۔ فیلو جوڈیس کے مطابق یہودی مفکرین کا ایک گروہ اپنی روحوں کو گناہوں سے پاک کرنے کے لیے روزے رکھتا تھا تاکہ یہ لوگ اپنے آپ کو مطالعہ اور تحقیق جیسی روحانی سرگرمیوں کی طرف بہتر طور پر مائل کر سکیں۔ اسی طرح ‘Essences’نامی یہودیوں کا وہ گروہ جو اپنے پارسا استاد کے نقشِ قدم پر بیابانوں کی طرف چلا گیا تھا اس کی کتاب “Manual of Dscipline” میں گناہوں سے پاکیزگی اور یومِ آخرت کی تیاری کے لیے روزے پر زور دیا گیا ہے ۶۱؂ ۔

مسیحیت

یہود کے بعد اب نصاریٰ کو دیکھیے تو یہاں بھی ہمیں روزے کا وجود پوری شان سے ملتا ہے۔جیسے موسیٰ علیہ السلام نے کوہِ طور پر چالیس دن کا روزہ رکھا تھا۔ متی کی انجیل بتاتی ہے کہ اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام نے بھی چالیس دن رات کا روزہ رکھا تھا۔
متی میں لکھا ہے:

’’اور جب وہ چالیس دن اور چالیس رات روزہ رکھ چکا، آخر کار بھوکا ہوا۔‘‘ (متی باب۴، آیت۲)

عیسیٰ علیہ السلام نے روزے کے بارے میں اپنے حواریوں کو یہ ہدایت دی ہے:۔

’’اور جب تم روزہ رکھو تو ریاکاروں کی مانند اپنا چہرہ اداس نہ بناؤ کیونکہ وہ منہ بگاڑتے ہیں تاکہ لوگ انھیں روزہ دار جانیں۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ وہ اپنا اجر پا چکے۔ لیکن جب تو روزہ رکھے، سر پر تیل لگا اور منہ دھو تاکہ آدمی نہیں بلکہ تیرا باپ جو پوشیدگی میں ہے، تجھے روزہ دار جانے اور تیرا باپ جو پوشیدگی میں دیکھتا ہے تجھے بدلہ دے گا۔‘‘ (متی باب۶، آیت۱۶۔۱۸)

ایک موقع پر جب حواری ایک بد روح نہ نکال سکے تو انھوں نے پوچھا:

’’اس کے شاگردوں نے پوشیدگی میں اس سے پوچھا کہ ہم اسے کیوں نہ نکال سکے۔ اس نے ان سے کہا کہ یہ جنس سوائے دعا اور روزہ کے کسی طرح سے نہیں نکل سکتی۔‘‘ (مرقس باب۹، آیت۲۷۔۲۸)

عیسیٰ علیہ السلام پر اعتراض کیا گیا کہ تمھارے شاگرد روزہ کیوں نہیں رکھتے تو اس کے جواب میں انھوں نے فرمایا:

’’اور یوحنا کے شاگرد اور فریسی روزہ سے تھے۔ انھوں نے آ کر اس سے کہا کہ اس کا کیا سبب ہے کہ یوحنا کے شاگرد اور فریسیوں کے شاگرد تو روزہ رکھتے ہیں لیکن تیرے شاگرد روزہ نہیں رکھتے۔ یسوع نے ان سے کہا کہ کیا براتی جب تک کہ دولہا ان کے ساتھ ہے ،روزہ رکھ سکتے ہیں؟ جب تک کہ وہ دولہا کے ساتھ ہیں وہ روزہ نہیں رکھ سکتے۔ لیکن وہ دن آئیں گے جب دولہا ان سے جدا کیا جائے گا۔ اس وقت وہ روزہ رکھیں گے۔‘‘ (مرقس باب۲، آیت۱۸۔ ۲۰)

روزے کے حوالے سے یہ وہ تعلیم تھی جو عیسیٰ علیہ السلام کے پیرو کاروں نے ابتداً پائی۔ اس کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہمسیحیت میں روزے کو جو اہمیت ملی ہے وہ شایدکسی دوسری قوم میں نہیں ملی۔ پہلی اور دوسری صدی میں مسیحیوں کے ہاں روزے کا شمار ان متعدد رسوم میں عملاً ہونے لگا تھا جن کا مقصد تقویٰ اور پرہیز گاری کاحصول تھا۔ بعد ازاں اس پر ازمنۂ وسطی (Middle Age) تک عمل ہوتا رہا۔ ‘Asectics movements’ کے عروج کے زمانے میں جب یونانی عقیدہ ثنویت بھی ان کے فکری سانچے میں ڈھلنے لگا تو اس وقت انسان کو مادی خوشیوں اور دنیوی مال و متاع سے بچا کر نیکی کی راہ پر چلانے کے لیے اور عیسیٰ علیہ السلام کی محبت کے حصول اور ان کی تعلیمات کی پیروی کے لیے روزے کو بہت مفید سمجھا گیا اور اسے ان مقاصد کے لیے ایک اہم ذریعے کی حیثیت حاصل ہو گئی۔
مسیحیت کے بعض گروہوں میں روزہ مقصدِ حیات تک پہنچنے کا ایک ذریعہ ہونے کے بجائے خود مقصدِ حیات بنا دیا گیا تھا۔ اس روش کو اعتدال پر لانے کے لیے بیشتر راہبانہ کتابوں میں راہبوں کو ضرورت سے زیادہ روزے رکھنے سے منع کیا گیا ہے۔
آج کل مسیحیوں کے مختلف فرقے روزے کے بارے میں مختلف نقطۂ نظر کے حامل ہیں اور اس پر عمل کا طریقہ بھی ان کے ہاں مختلف ہے۔ پروٹسٹنٹ فرقے میں سوائے ان ایک دو گروہوں کے جن کا رجحان عمل سے زیادہ ایمان کی طرف ہے، روزے کو انسان کی مرضی پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ رومن کیتھولک اور آرتھوڈاکس تحریک کے گرجوں میں اگرچہ انفرادی اور اجتماعی مذہبی رسوم کے ضمن میں روزے پر بہت زور دیا گیا ہے لیکن عملی طور پر روزے کی سخت رسوم کو خیر باد کہہ دیا گیا۔ رومن کیتھولک کے ہاں ‘Good Friday’ اور ‘Ash Wednesday’ کے موقعوں پر جزوی روزے رکھنے کا رجحان اب بھی پایا جاتا ہے ۶۲؂ ۔
بدھ اور جمعہ کے ان روزوں کا پس منظر یہ ہے کہمسیحی روایات کے مطابق بدھ کے دن صبح عیسیٰ علیہ السلام کو گرفتار کیا گیا تھا اور جمعے کے دن سولی پر لٹکایا گیا تھا۔
مسیحیوں کے ہاں اور روزے بھی پائے جاتے تھے۔ مثلاً ایسٹر سے قبل وہ چالیس دنوں کے روزے رکھتے تھے۔ بہار کے موسم میں اچھی فصل کے لیے بھی روزے رکھے جاتے تھے۔ چاروں موسموں میں ‘Ember’ کے نام سے دعا اور روزے مخصوص کیے گئے تھے۔ اسی طرح فرد یا قوم کی زندگی کے اہم مواقع، بپتسمہ، پادریوں کا تقرر، سر کا خطاب اور مقدس عشائے ربانی کو منانے کے لیے روزے رکھنے کا رجحان بھی ان میں پایا جاتا تھا۔

عربوں کا دورِ جاہلی

اب ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل اہلِ عرب کو دیکھتے ہیں۔ ان کے ہاں بھی روزے کا واضح تصور ہمیں ملتا ہے۔
’’المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام‘‘ میں ’’صوم‘‘ کے تحت مضمون نگار لکھتا ہے:

’’عربوں سے متعلق روایات میں یہ ہے کہ قریش یومِ عاشورہ کا روزہ رکھا کرتے تھے۔ اس دن وہ جمع ہوتے، عید مناتے اور کعبہ کو غلاف پہناتے تھے۔ اس روزے کی توجیہ انھوں نے یہ بیان کی ہے کہ قریش اپنے دورِ جاہلیت میں کوئی بڑا گناہ کر بیٹھے تھے۔ اس گناہ کا انھوں نے بڑا بوجھ محسوس کیا تو انھوں نے اس گناہ کا کفارہ دینے کا ارادہ کیا۔ چنانچہ انھوں نے اپنے لیے یومِ عاشورہ کا روزہ مقرر کیا۔ وہ اس دن یہ روزہ اس بات پر شکرانے کے طور پر رکھتے تھے کہ خدا نے ان کو اس گناہ کے نتائجِ بد سے بچا لیا۔ یہ بات بھی روایت کی گئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی نبوت سے پہلے یہ روزہ رکھا کرتے تھے۔
ایک دوسری روایت میں اس روزے کی توجیہ یہ بیان کی گئی ہے کہ قریش کو ایک زمانے میں قحط نے آ لیا پھر اللہ نے اس قحط سے انھیں نکال لیا تو انھوں نے خدا کاشکر ادا کرنے کے لیے روزہ رکھنا شروع کیا۔
عربوں میں روزے کے رواج ہی سے متعلق ایک واقعہ 

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت ستمبر 2009
مصنف : محمد رفیع مفتی
Uploaded on : Feb 07, 2017
1078 View