مذاہب پر غور کا طریقہ - حمید الدین فراہی

مذاہب پر غور کا طریقہ

  

مذاہب میں عبادت کا تصور

تمام امتوں کے درمیان اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں کہ دین نام ہے رب کی بندگی اور اطاعت کا۔ ان کے درمیان جس باب میں اختلاف ہوا، وہ اسی حقیقت کی تفصیل میں اس وقت ہوا جب لوگوں نے اس میں اپنے ظن اور اپنی خواہشات کو شامل کر لیا۔ لہٰذا سب سے زیادہ اہمیت عبادت یا بندگی کی حقیقت کے صحیح فہم کو حاصل ہے۔
یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ عبادت کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ چار چیزیں اس میں شامل ہوں:

ا۔ رب کریم کے لیے اخلاص

یہ اخلاص توحید پر ایما ن کے ساتھ مطلوب ہے اور اس امر کی وضاحت قرآن مجید میں بہ کثرت ہوئی ہے۔ عبادت کے درست ہونے کا بڑا انحصار اسی پر ہے اور عملی و علمی کج روی جو عبادت میں بگاڑ پیدا کرتی ہے، اس کی نفی بھی اخلاص سے ہوتی ہے۔ اس کی تفصیلات بہت طولانی ہیں جن کو ہم قاری کے فہم پر چھوڑتے ہیں۔ ان کو قرآن کی تصریحات کے مطالعہ سے سمجھا جا سکتا ہے۔

ب۔ مغز عبادت کی معرفت

عبادت کا مغز رب کی طرف رجوع، اس کی پسند کو خوشی کے ساتھ اختیار کرنا، اس کے آگے عاجزی کرنا، اس کے سامنے اپنی حاجتیں بیان کرنا اور اس سے اچھی توقعات وابستہ کرنا ہے۔ یہ ساری باتیں دو عبادتوں نماز اور قربانی میں جمع ہو گئی ہیں۔ اسی لیے کوئی بھی صحیح دین نماز اور قربانی کی عبادات سے کبھی خالی نہیں رہا۔ یہ لازم ہے کہ نماز اور قربانی اخلاص اور عاجزی کے ساتھ ہوں۔ جہاں تک نماز کا تعلق ہے، اس کی تو ظاہری شکل ہی عاجزی کی تصویر ہے۔ رہی قربانی تو اس کے پیش کرنے والے پر یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ وہ جو کچھ پیش کر رہا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے بے نیاز ہے۔ لہٰذا اگر اس کی عبادت خدا کے آگے انتہائی عاجزی اور محتاجی کے انداز میں پیش نہ ہو گی اور اس میں اس کی خوش نودی حاصل کرنے کا جذبہ شامل نہ ہو گا تو خدا اس کی قربانی کو حقارت سے ٹھکرا دے گا۔ اس بات کی وضاحت قرآن مجید نے ایک سے زیادہ آیات میں کر دی ہے۔

ج۔ اللہ کی رضا کے رستہ پر چلنا

یہ جن صفات پر مشتمل ہے، ان کو ہم تقویٰ اور اعمال خیر سے تعبیر کر سکتے ہیں، یعنی وہ اعمال جن کی ہدایت فطرت انسانی میں ہے یا جن کی تعلیم رب نے دی ہے، انھی سے بندے کی اس سعی کا اظہار ہوتا ہے جو وہ ایک کام کے کرنے اور دوسرے کو چھوڑنے میں کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی راہ کو پانے کی جستجو اور اس کی رضا کے مطابق رویہ اختیار کرنے کی کوشش، اسی قبیل سے ہیں۔
جس شخص کے اندر اخلاص، نماز اور زکوٰۃ درست ہو جائیں تو لازم ہے کہ اس کے تمام اعمال درست ہو جائیں گے۔ ان تینوں میں غایت درجہ باہمی موافقت اور ایک ترتیب نظر آتی اور انھی کی بدولت دین کے اجزا کی شیرازہ بندی ہوتی ہے۔ ان کے بعد جو کچھ باقی رہ جاتا ہے، وہ اجزاے دین کی صورت ترکیب ہے جس پر ان کی حقیقت کی تکمیل ہو جاتی ہے۔

د۔ اجزاے دین کی ترکیب

کسی بھی شے کی تکمیل اس کے نظام اور اس کی ترکیب سے ہوتی ہے۔ یہی اس کا کمال اور اس کی خوب صورتی کی انتہا ہوتی ہے۔ یہ چیز اسی وقت حاصل ہو سکتی ہے جب اس شے کے تمام اجزا موجود ہوں۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ بندہ اپنے اندر سب سے پہلے اخلاص کو، جو رب تعالیٰ پر ایمان سے حاصل ہوتا ہے، پھر دعاؤں اور نذروں کے ذریعے سے اس کی فطرت رجوع اور انابت کو اور پھر تمام اعمال میں اللہ کی رضا کی طلب کو اس طرح جمع کرے کہ وہ اپنے نفس اور اس کی خواہشات کی غلامی سے چھوٹ کر اپنے دین کو اپنے رب ہی کے لیے خالص کر لے۔ اس کے بعد یہ ضروری ہوتا ہے کہ بندہ میانہ روی کی روش کا خیال رکھتے ہوئے ان میں کمال حاصل کرے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ کسی ایک جانب سے غفلت کر کے دوسری جانب جھک جائے۔ یہ کمال اسی شخص کو حاصل ہو سکتا ہے جو عالم بھی ہو اور اجزاے دین کی ایک دوسرے کے ساتھ نسبتوں سے بھی واقف ہو، پھر وہ اپنے ارادے پر اس قدر مضبوط گرفت رکھتا ہو کہ اس کا ارادہ اور اس کی پسند اس کے علم کے مطابق ہو جائے اور اس سے اس کے وجود کو ایسا اطمینان حاصل ہوتا ہو جس کے بعد اس کی عقل اور قلب کے درمیان، اس کے علم اور عمل کے درمیان، اس کے ظاہر اور باطن کے درمیان اور اس کی خواہش اور اس کے مولد کے درمیان کوئی مغائرت باقی نہ رہ جائے۔ جب کسی بندے کی عبادت میں پہلی تین خصوصیات کے ساتھ اجزا کی ترکیب کی یہ چوتھی خصوصیت شامل ہو جاتی ہے تو اس کی عبودیت کامل ہو جاتی ہے۔ وہ ایک حکیم مرد مومن بن جاتا ہے۔ اس کا دین مضبوط اور اس کی راہ سیدھی ہو جاتی ہے جس میں کوئی کجی نہیں ہوتی۔

مذاہب میں گمراہی کے داخل ہونے کے اسباب

مختلف مذاہب کے ماننے والوں کی گمراہی کا سبب نفس اور رب کے پہچاننے میں ان کی غلطی ہے۔ انھوں نے ایک صحیح بنیاد پر پوری نگاہ نہیں ڈالی اور دوسری صحیح بنیاد سے اغماض برت لیا، کیونکہ وہ ان مختلف بنیادوں کے مابین موافقت نہیں کر پائے۔ ہندومت، بدھ مت، مجوسیت، یہودیت اور نصرانیت جیسے عام مذاہب میں گمراہی شاید ان کے غلو، بدعات اور خواہشات نفس کی راہ سے داخل ہوئی ہے۔
جہاں تک ہندومت کا تعلق ہے، اس کے ماننے والوں نے توحید کے معاملے میں غلو سے کام لیا۔ ان کا گمان یہ تھا کہ وجود ذات کو ہم قدیم سے تعبیر کریں یا ’مَیں‘ سے، یہ ایک ہی بات ہے۔ اس گمان کے نتیجہ میں ان کا دعویٰ یہ ہو گیا کہ ’اہم برہم‘، یعنی ’میں اللہ ہوں‘۔ اس حقیقت تک رسائی کے لیے ضروری سمجھا گیا کہ دنیا کو تیاگ دیا جائے اور ذات کو فنا کیا جائے۔ انھوں نے اپنی ہمت کے مرکز کو حقیقت کی صورت دے لی۔ یہی ’مَیں‘ کی حقیقت ہے۔ اس کے بعد انھوں نے یقین کر لیا کہ اس حقیقت کو پانے کے محکم قواعد موجود ہیں۔ جو شخص ان پر عمل کرنے کی مشقت اٹھائے گا، وہ مراد کو پالے گا۔ رب کی طرف سے کسی رسول کے آنے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ رب تو خود آدمی کی اپنی ذات ہے۔ چنانچہ ان لوگوں نے نہایت مشکل مجاہدوں کا طریقہ اختیار کیا اور نفس کے انوار اور اس کی قوت کی بدولت وہ دھوکے میں پڑ گئے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندومت میں یہ جو کچھ ہوا، یہ ان کے رشیوں کے غلو کے سبب سے ہوا، کیونکہ ان میں بعض ایسے ہندو بھی ہیں جو ایک قدیم معبود، جو ہر چیز کا خالق اور انسان کو ہدایت عطا فرمانے والا ہے، پر یقین رکھتے رہے ہیں۔ بعد کے ادوار میں ہندو چھ فرقوں میں تقسیم ہو گئے اور ان کے عوام پر بت پرستی غالب آ گئی۔
ہمارے اندر صوفیا کی گمراہی ہندوؤں کی گمراہی کے عین مطابق ہے۔ البتہ یہ ہوا کہ ان کے اندر بعض صوفیا نے کتاب و سنت کا دامن نہیں چھوڑا۔ وہ ان سے رہنمائی حاصل کرنے پر زور دیتے رہے اور غیبی انوار سے کسی دھوکے میں مبتلا نہیں ہوئے۔ انھوں نے یہی سبق دیا کہ اللہ تعالیٰ وراء الوراء ثم وراء الوراء، یعنی ہر چیز سے آگے اور آگے ہی آگے ہے۔

ایک حکیم کا مذاہب پر غور کرنے کا طریقہ

ایک حکیم کسی مذہب پر غور کرتا ہے تو اس کے پیش نظر تین چیزیں ہوتی ہیں:
اولاً، مذہب کا وجود اور اس کا نظام۔ اس میں حکیم مذہب کے اجزا اور مقصود کے ساتھ اس کے تعلق کو دیکھتا ہے اور یہ معلوم کرتا ہے کہ ان اجزا میں اس مقصود کو حاصل کرنے کی صلاحیت کس قدر ہے۔ پھر وہ اس مذہب کے اندر حق اور بدعات پر نگاہ ڈالتا اور ان میں امتیاز کرتا ہے۔ یہ بات اس کے لیے اس بنا پر ممکن ہوتی ہے کہ وہ خود حق کا حامل ہوتا ہے اور وہ کسوٹی اس کے پاس ہوتی ہے جس کے ذریعے سے وہ اصل اور فرع کے درمیان امتیاز کر سکے۔
ثانیاً، دوسرے مذاہب کے ساتھ اس کی نسبت۔ اس پہلو سے ایک حکیم یہ دیکھتا ہے کہ مختلف مذاہب میں کس قدر مشابہت ہے۔ ایک نے دوسرے کا کتنا حصہ جذب کیا ہوا ہے اور اصل اور فرع کے لحاظ سے ان میں کیا تعلق ہے۔
ثالثاً، ثابت شدہ حقائق کے ساتھ اس کی نسبت۔ ایسے حقائق میں فطرت انسانی اپنے وسیع مفہوم کے ساتھ شامل ہے۔

تحقیق میں حکیم کی بناے استدلال

ہر مذہب میں کسی نہ کسی کتاب، نقل یا علمی ورثہ کو یہ حیثیت حاصل ہے کہ اس کے ماننے والے اس کے آگے سر جھکا دیتے ہیں اور اس کے احکام کو مانتے ہیں۔ کہیں کہیں یہ بھی ہوا ہے کہ اس مذہبی کتاب یا علم میں تبدیلی یا تحریف ہو چکی ہے۔ لیکن ایک حکیم پر اس تبدیلی یا تحریف کے باعث مذہب کا معاملہ گڑبڑ نہیں ہوتا، کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ تمام مذاہب فطرت انسانی پر مبنی ہیں۔ وہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ ان کے ابتدائی صحیفوں کا باہمی اختلاف بہت کم ہے۔ وہ ان میں موافقت تلاش کر لیتا ہے۔ اس کا سبب اس کی اپنی عادت اور حق کی خصوصیت ہوتی ہے۔ حکیم کے اندر جانچ اور حق کی جستجو کا مادہ ہوتا ہے۔ اس کی مدد سے وہ محض منسوب کردہ تعلیمات اور باطل علم میں سے بھی سچی بات کو الگ کر لیتا ہے۔ وہ خزف ریزوں میں سے جواہر کو نکال لیتا ہے۔ اس عمل میں اس کا انحصار دو بنیادوں پر ہوتا ہے: ایک یہ کہ حق میں ایک طرح کی نورانیت اور فطرت میں ایک بصیرت ہوتی ہے۔ ان دونوں میں ایسی موافقت ہوتی ہے، جیسے فطرت حق ہی کا آئینہ ہو۔ دوسری یہ کہ کسی معاملے میں شہادتوں کا پے در پے جمع ہونا بہت بڑی بات ہے جس پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔ پس جب کسی معاملے میں فطرت کی تمام حسیات کی شہادت موجود ہو، اللہ تعالیٰ نے جو وحی اتاری ہے، وہ معاملہ اس سے موافقت رکھتا ہو اور سلف کی عقلیں اس پر متفق رہی ہوں تو اس بارے میں کسی شک کا احتمال نہیں رہ جاتا۔

(حکمت قرآن ۱۱۸۔۱۲۳)

 

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت اکتوبر 2015
مصنف : حمید الدین فراہی
Uploaded on : Jan 26, 2016
900 View