سود سے نجات کی خوش خبری - خورشید احمد ندیم

سود سے نجات کی خوش خبری
ایک ڈیڑھ ماہ پہلے، مجھے ایک ویڈیو موصول ہوئی۔
یہ پاکستان کے نامور عالمِ دین مولانا تقی عثمانی کا ایک کمرشل بینک کی تقریب سے خطاب ہے۔ اس بینک کو پاکستان کا بہترین بینک ہونے کا اعزاز ملا تھا اور یہ اُس پر اظہارِ تشکر کی تقریب تھی۔ شیخ الاسلام نے ذمہ داران کو اس پر مبارک باد پیش کی کہ ایک اسلامی بینک ہوتے ہوئے، اس نے پیشہ ورانہ اعتبار سے بھی اپنی برتری کو ثابت کیا ہے۔ انہوں نے بینک کے اس کردار کو سراہا کہ اس نے شریعت اور دین کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے، اسلامی بینک کاری کو فروغ دیا اور یہ بات صرف پاکستان کے لیے نہیں، پورے عالمِ اسلام کے لیے باعثِ فخر ہے۔
میں نے یہ گفتگو سنی تو میرا دھیان اس بحث کی طرف گیا جو سود سے پاک معیشت کے لیے، اس ملک میں ہمہ وقت جاری رہتی ہے۔ خیال ہوا کہ کبھی اس کے سماجی تناظر پر بات کروں گا۔ آج صبح، میں ایک بازار سے گزرا تو میری نگاہ ایک دوسرے بڑے بینک کے سائن بورڈ پر پڑی‘ جس میں بینک کے اسلامی ہونے کی خبر بھی دی گئی تھی۔ ذہن فوراً مولانا کی وڈیو کی طرف چلا گیا۔
پاکستان میں یہ ایک سدا بہار موضوع ہے۔ اِن دنوں بھی فیڈرل شریعت کورٹ میں ایک مقدمہ زیرِ بحث ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل بھی گاہے اسے موضوع بناتی رہتی ہے۔ کونسل کا دعویٰ ہے کہ وہ اس پر ایک شاندار رپورٹ مرتب کر چکی۔ اربابِ اقتدار، ریاست مدینہ کے ماڈل پر پاکستان کے نظمِ حکومت کی تشکیل چاہتے ہیں لیکن ابھی تک انہوں نے سود کے مسئلے کو نہیں چھیڑا؛ تاہم کئی فورمز پر اس موضوع پر بات جاری ہے۔
میں معیشت کا ماہر نہیں۔ سیاسیات، سماجیات اور مذہب کا ایک طالب علم ہوں۔ اس طرح کے مباحث کو میں سماجی تناظر میں سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ معاشی ادارے بھی خاص سماجی پس منظر میں قائم ہوتے ہیں۔ ایک سماجی ضرورت ہے جو کسی ادارے کو جنم دیتی اور اس کے استحکام کی ضمانت بنتی ہے۔ مثال کے طور پر بینک کیوں وجود میں آئے؟ سماج میں سرمایے کے عدم تحفظ کا احساس بڑھا تو ایسے ادارے کا خیال پیدا ہوا جو تحفظ کی ضمانت بن سکے۔ بینک کے قیام کی بنیاد نفع یا سود کی لالچ نہیں، احساسِ تحفظ تھا۔
دورِ جدید میں، بینک کا کردار تبدیل ہو چکا۔ اب یہ ایک کاروباری سہولت کار ہے اور اس کے ساتھ خود کاروباری ادارہ بھی ہے۔ یہ لوگوں کی بچت کو محفوظ بناتا اور ان کے ساتھ مل کر تجارت بھی کرتا ہے۔ یوں اپنے روایتی کردار کو نبھاتے ہوئے، اب یہ ایک بڑی کاروباری سرگرمی کا مرکز بھی ہے۔ یہ اب حکومتوں کو بھی امداد اور قرض دیتا اور ان سے کاروباری رفاقت رکھتا ہے۔ ریاست اس معاشی عمل کو ایک نظام کے تابع رکھتی ہے کہ مسابقت کے عمل میں کوئی دوسرے کے حقوق پامال نہ کرے۔
وقت کے ساتھ ساتھ، ریاست کا کردار بھی تبدیل ہو رہا ہے۔ جیسے کھلی منڈی کی معیشت میں، اب اشیائے صرف کی قیمتوں کا تعین حکومت نہیں، وہ عوامل کرتے ہیں جو بازار کی تجارت کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ یہ ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے۔ اگر ریاست نے کبھی اس عمل کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی تو اس کا نقصان ہوا۔ معیشت جب عالمی ہوئی تو عالمگیر قوتوں کا کردار بھی معاشی عمل کا حصہ بن گیا۔ یہ عالمی مارکیٹ کو کنٹرول کر رہی ہیں۔ مثال کے طور پر آج ہی ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ یہ اضافہ حکومت کی خواہش سے نہیں، ان عوامل اور قوتوں کے جبر کے نتیجے میں ہوا جو اس کاروبار کو کنٹرول کر رہی ہیں۔
اگر معیشت کا یہ پس منظر سامنے رہے تو پھر یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ بینک اپنی حکمتِ عملی کا تعین، سماج اور حالات کو سامنے رکھتے ہوئے کرتے ہیں۔ ایک مسلمان معاشرے میں، جب وہ دیکھتے ہیں کہ سود کے بارے میں حساسیت ہے تو وہ صارف کی نفسیات کے پیشِ نظر حکمتِ عملی بناتے ہیں۔ اسی کے تحت یہاں بلا سود بینک کاری کا امکان پیدا ہوا۔
یہ طلب چونکہ ہر اس معاشرے میں موجود ہے جہاں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے، اس لیے برطانیہ وغیرہ میں ان بینکوں نے بھی بلا سود بینکاری شروع کر دی جن کا کوئی تعلق اسلام یا مذہب سے نہیں ہے۔ ان کے نزدیک یہ ایک متبادل معاشی عمل ہے جو صارفین کی ایک بڑی تعداد کو اپنی طرف متوجہ کر سکتا ہے۔ پاکستان میں بینکوں نے اُن علما کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا جو معاشرے میں دینی عصبیت یا وجاہت رکھتے ہیں۔ جب ان کی طرف سے یہ تائید آ گئی کہ ایک بینک کا نظام، اسلام کے اصولوں کے مطابق اور سود سے پاک ہے توگویا انہیں دینی لائسنس حاصل ہو گیا۔ عامۃ الناس کو بھی اطمینان ہو گیا کہ وہ جن علما پر اعتماد رکھتے ہیں، انہوں نے اس کے حق میں فتویٰ دے دیا۔
میں اس پیش رفت سے چند نتائج اخذکرتا ہوں:
1۔ پاکستان میں اس وقت ایسے بینک موجود ہیں جہاں سود سے پاک اور اسلامی تعلیمات کے مطابق لین دین ہو رہا ہے۔ جو لوگ خود کو سود کی لعنت سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں، انہیں بینکوں سے معاملہ کرتے وقت، کسی احساسِ گناہ میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔ اس میں علما کے ایک طبقے کے مطابق، انشورنس وغیرہ شامل ہیں۔ 
2۔ معاشرے میں اس حوالے سے اضطراب پیدا کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ جب سود سے پاک نظام وجود میں آ چکا تو پھر اس کی نوعیت اور افادیت کو کسی علمی مکالمے کا موضوع تو بنایا جا سکتا ہے، کسی سیاسی مقدمے کا حصہ نہیں۔
3۔ ریاست کو عالمی قوتوں سے معاملات کرنے ہیں۔ وہ یہ کام اپنی شرائط پر نہیں کر سکتی۔ اس کے لیے فریقِ ثانی کا اتفاق ضروری ہے۔ یوں اسے کوئی الزام نہیں دیا جا سکتا۔
4 ۔ اب صرف ایک سوال باقی ہے: کیا غیر سودی بینکاری کے ساتھ، بینکوں کو سود کی بنیاد پر لین دین کی اجازت ہونی چاہیے؟ یہ ایک فنی سوال ہے جس کا کوئی تعلق کسی نظریاتی بحث سے نہیں ہے۔ اس کا فیصلہ حکومت معروضی حالات کے پیشِ نظر کرے گی۔ ہمارے سامنے صدرِ اوّل کی مثال موجود ہے کہ جب حالات کا تقاضا تھا، سود کو گوارا کیا گیا۔ گویا یہ حق حکومت کے پاس ہے اور اسے چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔
علم کی دنیا میں بحثیں ہو رہی ہیں۔ وفاقی شرعی عدالت میں آج بھی سود کی تعریف پر بات ہو رہی ہے۔ گویا ہم ابھی تک اس کی تعریف ہی پر متفق نہیں ہو سکے۔ ہمارے ہاں اس باب میں بہت کچھ لکھا گیا۔ حال ہی میں محمد اکرم صاحب اور انور عباسی صاحب نے اپنا اپنا نقطہ نظر بیان کیا۔ زاہد صدیق مغل صاحب نے لکھا: ایک بڑی تعداد اس سارے عمل کو حیلہ قرار دیتی ہے۔ ایک گروہ اسے عین اسلامی سمجھتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ جب ایک معاملے میں ایک سے زیادہ آرا موجود ہوں تو ایک مسلمان معاشرے کو کسی ایک رائے کا پابند نہیں کیا جا سکتا۔ پھر سوادِ اعظم جسے درست مان لے، وہ رائے بالفعل اختیار کر لی جاتی ہے۔ جیسے ایک دور میں عباسی ریاست نے فقہ حنفی کو اختیار کر لیا۔ علم کے میدان میں البتہ بحث جاری رہتی ہے اور اس میں کوئی حرج بھی نہیں۔ یہ ممکن ہے کہ کچھ عرصہ بعد ریاست کا نظم کسی دوسری رائے کو قبول کر لے۔
یہ بات بھی طے ہے کہ ہم ایک عالمی سرمایہ دارانہ نظام کا حصہ ہیں جو کسی نظامِ اخلاق کا پابند نہیں۔ یا یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کا اپنا نظامِ اخلاق ہے۔ آج ریاست اور معاشرے کے ایک قابلِ ذکر طبقے نے جاری بینکاری اور معاشی عمل کے ایک بڑے حصے کو، اگر سود سے پاک اور قرآن و سنت کے مطابق قرار دے دیا ہے تو اسلامی یا غیر اسلامی کی بحث کو سیاسی یا عوامی مسئلہ نہیں بنایا جا سکتا۔ پھر یہ کہنا درست نہیں کہ حکومت یا عوام کی ایک بڑی تعداد معاذاللہ، اللہ اور رسول کے خلاف اعلانِ جنگ پر آمادہ ہے۔
اس باب میں شدت، مذہبی انتہا پسندی ہی کی ایک صورت ہے۔ اگر کسی کو ایک رائے سے اختلاف ہے تو وہ مہذب طریقے سے اپنی رائے دے دے۔ یہ معاشرہ ہی ہے جو کسی رائے کو بالفعل قبول یا مسترد کرتا ہے۔ 
بشکریہ روزنامہ دنیا، تحریر/اشاعت 12 جنوری 2019
مصنف : خورشید احمد ندیم
Uploaded on : Jan 12, 2019
314 View